Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar Readelle50328 Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 16)
No Download Link
Rate this Novel
Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 16)
Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar
وکی اداس ہو گا میں اب اپنی وجہ سے اسے اداس نہیں کر سکتی ایسے ہی چلی جاتی ہو ۔۔۔
بابا کے ساتھ واپس آ جاٶ گی۔۔۔
کافی دیر اکیلے روم میں رہتے رعنا گاٶن پہنے بولی تھی کیونکہ شعیب نے بھی کافی منتیں کی تھی اس کی لیکن وہ نہیں مانی تھی۔۔۔
تم لوگ یہی رہنا میں جلد ہی آ جاٶ گی باۓ۔۔۔
اپنے روم میں پرندوں کے پنچرے کے پاس کھڑی وہ نقاب کیے مسکراتی بولی تھی۔۔
ی۔یہ لائٹ کو کیا ہوا افففف ۔۔۔
گارڈ ان۔۔۔
رعنا روم میں ہی تھی جب اچانک لائٹ جاتے وہ ہکلاتے بول رہی تھی جب ایول نے اسے کمر سے پکڑے اسے دیوار سے پن کیے لبوں پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔۔
مولانی ۔۔۔
ایول اس کے کان میں سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔۔
ب۔برفانی ریچھ۔۔۔۔
رعنا اس کی آواز سنتی گھبراتی بولی تھی۔۔۔
نہیں دشمن ہو تیار ہو جاٶ دشمنی نبھانے کے لیے ۔۔۔
اس کی سرگوشی سنتے وہ ایک ہی جھٹکے میں شولڈر پر ڈالے وہ اندھیرے میں ہی ونڈو سے نکلتا بولا تھا۔۔۔
د۔دیکھو تم ایسا نہیں کر سکتے ممی۔۔۔
اگر ہمیں تمہاری سانسوں کی آواز بھی زیادہ آی تو ہم وہ کرے گے جو سالوں پہلے کرنے والے تھے۔۔۔۔
رعنا روتی بول رہی تھی جب ایول اسے کار میں دھکا دیتے بیٹھتا بولا تھا۔۔۔۔
سیس۔۔۔
اپنے شولڈر پر رعنا کے دانتوں کی گرفت محسوس کرتے ایول سسکا تھا۔۔۔۔
تمہاری یہ عادت نہیں گی جنگلی بلی ۔۔۔۔
اسے گردن سے دبوچے وہ اس کی نیلی پانی سے بھری آنکھوں میں دیکھ غرایا تھا ۔۔۔
جب رعنا نے بھی شدید غصے سے اس کے ناک پر اپنے دانت گاڑھے تھے اب ۔۔۔
نقاب کے بادجوو بھی ایول کو اس کے دانتوں اپنے ناک پر محسوس ہو رہے تھے۔۔۔
چ۔چھوڑو تم م۔مجھے م۔۔۔
ایول اسے اٹھاۓ رات کے اندھیرے میں اپنے پرسنل فارم ہاوس لایا تھا۔۔۔۔
روم میں آتے اسے بیڈ پر گرایا تھا جب وہ درد سے چلاتی بولی تھی۔۔۔۔
بلکل نہیں جنگلی بلی اب تو ہم تمہاری ان سانسوں کو ختم کرے گے جلدی۔۔۔
ایول ٹیبل پر پڑے بوکس کو اٹھاۓ اس کی نیلی آنکھوں کی طرف دیکھتا بولا تھا۔۔۔
ن۔ہ ن۔نہیں ایسا مت کرو م۔میں جانتی ہو میری وجہ سے تم نے سزا کاٹی ہے لیکن میں تمہارے قدموں میں پڑتے معافی مانگنے کو ت۔۔۔۔
بوکس کے اندر سے نکلتے سانپ اور بچھو کو اپنے اوپر گرتے دیکھ وہ جلدی سے اٹھتی اس کے قریب جاتی قدموں میں بیٹھتے بولی تھی۔۔۔۔
ہماری ڈکیشڑی میں سوری ولڈ نہیں ہے ۔۔۔
رعنا کو کندھوں سے پکڑے دوبارہ بیڈ سے رسیوں سے باندھے بولا تھا۔۔۔۔
رعنا کی آنکھیں شوک سے کھلی تھی ۔۔۔
اچھا بتاٶ میں کیسی لگ رہی ہو فادی۔۔۔
سوہا فارس کے شولڈر پر سر رکھتے لاڈ سے بولی تھی۔۔۔
بہت خوبصورت لگ رہی ہو حد سے زیادہ۔۔۔
فارس اس کے کان میں سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔۔
سوہا شرمای تھی اس کے لفظ پر ۔۔۔
اچھا سنو آو سلیفی لے ۔۔۔
سوہا موبائل نکالے مسکراتے بولی تھی۔۔۔۔
جنرل صام آفندی کی بیٹی کا ایسا شوہر ۔۔۔
اففف کیا زمانہ آ گیا ہے اتنے خوبصورت لڑکی کی شادی ایک معذور انسان سے کر دی ہے ۔۔۔
فارس اور سوہا سلیفی لینے میں بزی تھے جب اسیٹچ پر آتی کچھ عورتیں بولی تھی۔۔۔
فارس وہ بات سنتا اچانک اداس ہوا تھا۔۔۔
آنٹی اگر آپ کی ابھی ٹانگیں ٹوٹ جاۓ یا معذور ہو جاۓ تب آپ کے شوہر چھوڑ دے گے آپ کو ۔۔
فارس کا اداس چہرہ دیکھ سوہا آپے سے باہر ہوتی کھڑی ہوتے چلائ تھی۔۔۔
اسے کیسے برداشت ہوتا فارس کا اداس ہونا۔۔۔
کیا بکواس ہے لڑکی می۔۔
ارے آنٹی بکواس کہاں پوچھ رہی تھی اگر آپ کے ساتھ ایسا ہو جاۓ تب کیا ہو گا ۔۔۔
انسان کو نہیں پتہ ہوتا اگلے لمحہ اس کے ساتھ کیا ہوسکتا ہے ۔۔۔
کل آپ کی یا میری بھی ٹانگیں مفلوج ہو جاۓ تب کیا ہمیں سب چھوڑ دے گے ۔۔۔
یہ دماغ کا فتور ہے بس ہمارا ۔
اچھا سوچے کل کو آپ کی بیٹی کے شوہر کی ایسی حالت ہو جاۓ تب کیا طلاق دلاواۓ گی اس کی ۔۔۔
معذور فادی نہیں معذور آپ سب کے دماغ ہے ۔۔۔
حد ہے ایسی بے حسی پر اب جاۓ یہاں سے منہ کیا دیکھ رہی ۔۔۔۔
سوہا آگ بگولہ ہوتی چلای تھی سب ہی ہکا بکا رہ چکے تھے۔۔۔۔
توبہ توبہ کتنی لمبی زبان ہ۔۔۔
آنٹی آپ شادی انجواۓ کرنے آی تھی وہی کرے تو بہتر ہے فارس کس کا شوہر بنا ہے اسے ہی اعتراض نہیں تو آپ سب کو بھی نہیں ہونا چاہے ۔۔۔
وہ عورتیں بول رہی تھی جب حدید اسیٹچ پر آتا سنجیدگی سے بولا تھا۔۔۔۔
کیا ہوا سب ٹھیک ہے ہادی ۔۔۔
احمد اسے سیریس دیکھتا فکرمند ہوتا بولا تھا۔۔۔
جی آغا میں بس ویسے ہی اداس تھا تھوڑا سا۔۔۔
حدید روشانے کی وجہ سے پریشان تھا جیسے وہ کب سے ڈھونڈ رہا تھا جو مل ہی نہیں رہی تھی۔۔۔
تبھی وہ منہ بناۓ بولا تھا۔۔۔
اہہہہ میرا کیوٹ سا چوزہ میری وجہ سے اداس ہو میں جانتی ہو ا۔۔۔
کس خوش فہمی میں مبتلا ہو بہن میں اداس ہو میری شادی
کب ہو گی ہاےےےے۔۔۔
سوہا اس کے گال کو چومتی پیار سے بول رہی تھی جب حدید اپنی ٹون میں واپس آتا دل پر ہاتھ رکھتا مہر کے اوپر گرتا بولا تھا۔۔۔
صبر کرو تمہیں کبھی نہیں ملے گی لڑکی شدید کنوارے۔۔
مہر اسے کمر سے پکڑتے مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔
دیکھو وانی تم اپنے شوہر کو مجھ پر ڈورے ڈال رہا ہہہہہہہہہہہ۔۔۔
مہر نے جس طرح اسے پکڑا تھا تبھی وہ دانت نکالے بول رہا تھا جب مہر نے اسے چھوڑا تھا ۔۔
تبھی وہ دھڑام کرتا اسٹیچ پر گرتا چلایا تھا۔۔۔
ہاہہاہاہاہاااااااا لالہ یہاں آے میرے پاس خبردار کسی نے میرے لالہ کو کچھ کہا۔۔۔۔
سب کا قہقہ گونجا تھا تبھی زینب روٹھا سا منہ بناۓ اٹھتی اسے پکڑتی بولی تھی۔۔۔۔
جہاں وہ بکھرے بالوں کے ساتھ وہی لیٹا ہوا تھا۔۔۔
لالہ روشنی آپی کدھر ہے ۔۔۔
سوہا زینب امن کی رخصتی ہونے والی تھی جب سب سے ملتی زینب حدید سے ملتی بولی تھی۔۔۔
اسے پورے فکیشن میں روشانے نہیں دیکھی تھی۔۔۔۔
و۔وہ ہاں اس کا سر درد کر رہا تھا میں نے کہا تھا گھر چلی جاۓ وہ تو کہہ رہی تھی تم سے مل کر جاۓ گی لیکن میں نے بھیج دیا ۔۔۔
ویسے بھی میں تمہارا لالہ بھی ہو اور بڑی بہن بھی چلو خوشی سے جاٶ ۔۔۔
حدید بہانہ بناتا جلدی سے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے بولا تھا۔۔۔
لالہ آپ بہت زیادہ اچھے ہے پتہ میری خواہش تھی روشنی آپی کو آپ ملے ۔۔
زینب سمجھ گی تھی اس کا جھوٹ سن کر تبھی آنسو بہاۓ اس کے سینے پر سر رکھے بولی تھی۔۔۔۔
نہ بہن وہ جنگلی روشن دان نہیں چاہے مجھے معاف کرو ۔۔
حدید جلدی سے پریشان ہوتا بولا تھا۔۔۔
ہاہااہاہاہاہاا ۔۔
سب کا قہقہ گونجا تھا۔۔۔
سوہا زینب امن سب کی دعائیں لیتی رخصت ہو چکی تھی۔۔۔
ت۔تم برفانی ریچھ نہیں ہو وہ اتنا بے رحم نہیں تھا۔۔۔
اپنے اوپر ریگنتے سانپ بچھو کو دیکھ وہ روتی چلای تھی۔۔۔
وہ تو مر چکا۔۔
ایول سکون سے اس کی حالت انجواۓ کرتا بولا تھا۔۔۔
ک۔کون۔ہو تم د۔دیکھو م۔مجھے چھوڑ دو۔۔
پورے بلیک گاٶن پہنے رعنا نقاب کیے بیڈ پر ریسوں سے بندھی روتی سامنے دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
ویسے ہمیں لڑکیاں پسند نہیں لیکن تم میں الگ بات ہے ۔۔۔
وہ اسے طنزیہ نظروں سے دیکھتا اس کے قریب آیا تھا۔۔۔
اہہہہ اہہہہہ اہہہہہ ۔۔۔
اپنے اوپر سانپ بچھو گرتا دیکھ وہ چلای تھی ۔۔
ایول نے اور زیادہ اس پر سانپ بچھو گرے تھے۔۔۔
کیا ہوا جنگلی بلی ابھی تو بہت کچھ باقی ہے ۔۔
اس کے گاٶن کے اوپر سے ریگنتے سانپ بچھو کو دیکھ وہ مسکراتا بولا تھا۔۔۔
۔ک۔ک۔کون ہو تم دیکھو می۔میرے ساتھ ایسا۔مت کرو ۔۔
م۔می۔میں شادی شدہ ہو۔۔۔
اب مسلسل روتی ہوئ وہ جھوٹ بول چکی تھی کہ شاہد اس کی جان بچ جاۓ ۔۔۔ لیکن بھول گی تھی جھوٹ بھی اس انسان کے سامنے بول رہی تھی جس نے سالوں سے اس پر نظر رکھی تھی۔۔۔
ہمیں کوئ مسئلہ نہیں ہم تمہارے ساتھ اپنا بدلہ پورا کر سکتے ہے ویسے ۔۔
تمہاری عزت بچانے کے لیے ہم نے سزا پائ تم نے جھوٹ بولا لیکن وہی عزت اب ہم خراب کرے گے ۔۔۔
بہت شوق تھا تمہیں ہم سے دوستی کرنے کا ۔۔
جبکہ تم جانتی تھی ہم نے مدد کی تھی تمہاری ۔۔
وہ اپنی شرٹ اتارے اس پر جھکتا ہوا بولا تھا۔۔۔
اسے بس اس کی گرین آنکھیں نظر آ رہی تھی۔۔۔
کو۔۔
تمممممممم۔۔۔۔
ابھی وہ بولتی جب آہستہ سے اس نے اپنا ماسک اتارا تبھی وہ ہکابکا اپنے اتنا قریب اسے دیکھ چلای تھی۔۔۔
ہمممم ۔۔۔
رعنا کے جسم کو جھٹکا لگا تھا پہلے وہ غلط فہمی سمجھی تھی لیکن دوسری بار اپنے قریب دیکھ وہ ہکلاتی چلای تھی۔۔۔
وہ بنا کچھ کہے اس پر جھکے اس کا نقاب اتار رہا تھا۔۔۔
دیکھو دو آپشن ہے یا تو چپ رہو ہمیں اپنا کام کرنے دو یا نکاح کر لو ۔۔۔
نکاح کے بنا بھی ہم اپنا بدلہ لے سکتے ہے کیونکہ تم ہمیں اچھے سے جانتی ہو ۔۔
اسے روتا دیکھ وہ اس کے اوپر سے سانپ بچھو ہٹاتے سکون سے بولا تھا۔۔۔
م۔معاف ک۔کر د۔۔۔
جلدی بولو ۔۔
وہ روتی ہوئ بول رہی تھی جب وہ دھاڑا تھا۔۔۔
رعنا مسلسل رونے میں بزی رہی ۔۔
ہممممم۔۔
ایول اس کی خاموشی دیکھ مسکراتا ہوا اس کے گاٶن کا بازو اپنے دانتوں سے پھاڑا تھا۔۔۔
پل۔پلیز حازم ایسا م۔مت کرو میں مانتی ہو میرے جھوٹ کی وجہ سے تمہیں سزا ملی تم یقین کرو میں اس دن کے بعد سے تڑپتی رہی ہو سزا ۔تم ۔نے پائ تھی تو سزا میں نے بھی سہی تھی۔۔۔
ایول اپنے کام میں بزی اس کا سارا گاٶن پھاڑ چکا تھا۔۔۔
اب وہ سادہ سے بلیک شرٹ اور کیپری میں ملبوس تھی چہرے پر نقاب ویسے ہی موجود تھا۔۔
تبھی وہ روتی بولی تھی۔۔۔
دوسروں کی زندگی برباد کر کے تم سکون سے رہی ہو تمہارے باپ اور بھای نے بہت حفاظت سے رکھا ہم سے بچا کر۔۔۔
لیکن افسوس سب بھول گے تھے
جو نو سالہ بچہ ایک دہشتگرد کا قتل کر سکتا ہے وہ چوبیس سالہ ایول کچھ بھی کر سکتا ہے ۔۔۔
کاش اسی دن تمہیں بھی شوٹ کر دیتے ہم کاش کاش ۔۔۔
ایول نے اس کی شرٹ درمیان سے پھاڑی تھی جب اسے اس کا سیفد پیٹ نظر آیا تھا تبھی وہ نظریں چڑہاے اس کے بازو پکڑے وہاں سے پھاڑ رہا تھا۔۔۔
تبھی وہ سکون سے بولا تھا۔۔۔
ن۔نکاح ک ۔کر لو م۔مجھے سے۔۔۔
اپنے دل پر پتھر رکھتے وہ بامشکل یہ لفظ ادا کر پائ تھی ۔۔
اپنی عزت کا جنازہ ایول کے ہاتھوں سے نکلنے سے اچھا تھا وہ اس کی قید میں آتی بیوی بن جاتی پتہ تو اسے بھی تھا کہ ایک دن آے گا جب وہ واپس آ کر اپنا بدلہ ضرور لے گا ۔۔
تبھی وہ اپنی دلی رضامندی سے بولی تھی۔۔۔
جس انسان کو پوری زندگی چاہا اسے امید نہیں تھی کہ اس سے ایسا نکاح کرتی وہ ۔۔۔
ہممم بڑی چالاک ہو ہونا بھی چاہے اتنی سی عمر میں بھی چالاک تھی ۔۔
ایول جو اس کی گردن کو چھو رہا تھا جب اس کا جواب سنتا طنزیہ مسکراہٹ لاۓ بولا تھا۔۔۔
رعنا بس رونے میں بزی تھی۔۔۔
یہ پکڑو کپڑے ہے تیار ہو جانا نکاح کے بعد ہی تمہاری شکل دیکھو گا ۔۔۔
ایول وڈراب روم سے اپنی شرٹ لاتا اسے دیتا بولا تھا۔۔۔
رسیوں کو وہ کھول چکا تھا۔۔۔
کیا بکواس ہے یہ ایول تم جان۔۔
ہم سب جانتے ہے بس آپ نکاح کروا دے ۔۔
ایول فون پر بات کر رہا تھا جب دوسری طرف وہ اپنی گرین آنکھوں میں جلال لاے غراے تھے جب وہ بولا تھا۔۔۔
بچی ہے ظلم مت کرو اس کے ساتھ تم نہیں جانتے زندہ لاش بنی رہی ہے وہ ات۔۔۔
آپ ہمارا کام کر رہے یا پھر اپنی بدنامی سہنے کو تیار رہے گا کیونکہ ایول اپنا بدلہ ہر حال میں لے کر رہے گا۔۔
وہ غصہ کنٹرول کرتے بول رہے تھے جب وہ بولے تھے۔۔۔
بہت ضدی ہو ۔۔
وہ ہار مانتے بولے تھے۔۔۔
ضدی نہیں جنونی ہو اپنے دشموں کو کیسے اور کب وار کرنا یہ ہم بہتر جانتے تھے آ جاۓ نکاح کروانے ۔
آنے کے لیے صرف دس منٹ ہے اس کے بعد ہم وہ کرے گے جو کبھی کسی نے نہیں کیا ہو گا ۔۔
ایول طنزیہ مسکراہٹ لاۓ کہتا فون بند کر چکا تھا۔۔
وہ افسوس سے موبائل پکڑے بیٹھ چکے تھے اسے اتنا جنونی بنانے والے بھی وہ خود تھے ۔۔۔
اب وہ سوچ رہے چالیس منٹ کا سفر وہ دس منٹ میں کیسے پورا کرے ۔۔۔
س۔سر حکم۔۔۔
ان کا آدمی اندر آتا گھبراتا بولا تھا۔۔۔
مولوی کا انتظام کرو اور گاڑی نکالو ہم ایول کے پاس جا رہے ۔۔
وہ اپنی شال شولڈر پر ڈالے ڈراک گرین آنکھوں میں سنجیدگی لاۓ کہتے وہاں سے روم کی طرف گے تھے۔۔۔
جبکہ ان کا آدمی گہرے گہرے سانس لے رہا تھا اس نے صرف ایول کا نام سنا تھا پہلی دفعہ وہ اسے سامنے دیکھے گا۔۔۔
“““ماضی ۔۔۔
آ۔آپ دیکھ رہے صام ہمارے بچے کی حالت ۔۔
روحا بیڈ پر لیٹے اپنے بیٹے کو دیکھ تڑپتی روتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
صام بھی خاموشی سے ان کے پاس بیٹھے تھے۔۔۔
ہمیں یہ اچھا نہیں لگ رہا صام ۔۔
آ۔آپ کچھ کرے کتنے سالوں سے ہم اسے ایسا ہی دیکھ رہے ص۔صام۔۔۔
روحا اب پھوٹ پھوٹ کر روتی بولی تھی۔۔۔
انیجل اپنی حالت پر قابو پاٶ ڈاکٹر نے کہا ہے یہ ٹھیک ہو جا۔۔۔۔
ٹھیک ہونا ہوتا تو تب کا ہو جاتا سب آپ کا قصور ہے صام ۔۔
سب کچھ آپ کے ہاتھ میں تھا لیکن ۔۔۔
نفرت ہے ہمیں آپ سے شدید نفرت ہم آپ کو بھی کبھی معاف نہیں کرے گے۔۔
وہ اسے سمجھا رہا تھا جب روحا طش سے چلاتی کہتی ہوئ وہاں سے چلی گی تھی۔۔۔
صام بےبس بیٹھا تھا جبکہ سامنے جان سے عزیز بیٹے کو دیکھ رہے تھے جو گہری نیند سو رہا تھا۔۔۔
““حال ۔۔۔
چٹاخخخ۔۔۔
ہمت بھی کیسے ہوئ میرے ساتھ یہ سب کرنے کی ۔۔
ت۔ت۔م۔تمہیں شرم نہ آی یہ سب کرتے ۔۔
ت۔تم نے تو اپنے باپ کے نام کی لاج نہ رکھی ۔۔۔
جس انسان کو پوری دنیا جانتی ہے عزت دیتی ہے اس کا ایسا بیٹا چچچچ۔۔
نفرت ہے تم سے بے پناہ نفرت سنا تم نے ۔۔۔
روشانے گہری نیند سے جاگی تھی جب خود کو حدید کے بیڈ پر اسی کی شرٹ میں ملبوس وہ شوک ہوئ تھی ۔۔
وہ اسی کی ٹی شرٹ پہنے بیڈ روم میں کھڑی اسے ہی تھپڑ مارتی چلائ تھی ۔۔۔
جبکہ وہ شرٹ لیس ویسے ہی اپنا سر جھکاۓ اس سے تھپڑ خاموشی سے کھا رہا تھا۔۔۔
بولو اب بولتے کیوں نہیں ہو ۔۔۔ ویسے تو تمہاری زبان ایک منٹ کے لیے نہیں روکتی آج کیا ہوا۔۔۔
اپنی ہوس مٹانے کے لیے تم نے مجھ سے دوستی کی ۔۔۔
افففف میں تو تمہیں گالی بھی نہیں دے سکتی تم تو اس انسان کے بیٹے ہو جو میرا آئیڈیل ہے ۔۔۔
تمہارے باپ نے ہمیشہ لڑکیوں کی عزت کی لیکن تم نے لڑکیوں کو ٹشوز پیپر سمجھا ۔۔۔
حدید کو خاموش کھڑا دیکھ اس کو گردن سے پکڑے سرخ چہرہ زخمی ہونٹ اور گردن لیے دھاڑ رہی تھی۔۔۔
ی۔یہ دیکھو تمہاری حیوانیت شکل سے اتنے خوبصورت لگتے ہو پر افسوس دل کے کالے نکلے ۔۔
تمہارے بھای کی جگہ تم مر جاتے کاش کاش۔۔۔
ح۔حازم تم سے اچھا تھا کم از کم کسی لڑکی کو اتنی کم ایج میں نہیں دیکھتا تھا لیکن تم تب بھی اپنی ٹھرکی کرتے تھے ۔۔۔
اب روشانے اپنی ٹی شرٹ کو شولڈر سے نیچے کرتی وہاں بنے زخم دیکھاتی بولی تھی۔۔۔
م۔میں م۔۔۔
اس کے زخم دیکھ کر حدید تڑپتے بول رہا تھا پر ہمت نہیں تھی کہ کیا بولے ۔۔
ت۔تم نے مجھے کہی کا نہیں چھوڑا ہماری لڑائ ہوتی تھی لیکن ایسی بھی کیا دشمنی کہ م۔میری عزت ہی چ۔لی۔گی ۔۔۔
مر جاٶ تم م۔میں تمہیں خود شوٹ کرو گی ۔۔۔
وہ پھر سے اسے مارتی ہار تھک کہ وہی اس کے قدموں میں بیٹھتی پھوٹ پھوٹ کر روی تھی ۔۔
ر۔روشانے ہمت ک۔کرو تم م۔م۔۔۔
سب کچھ تو لیے لیا میرا اب کیا کھانا ہے مجھے حیوان ۔۔۔
حدید اس کے قریب بیٹھتا اس کے بکھرے بالوں کو اپنے بالوں سے پونی نکالے اس کے بال باندھ رہا تھا جب وہ بے بس ہوتی اسی کے سینے پر سر رکھے بولی تھی۔۔۔
ہ۔ہم سب ہنیڈل ک۔کر لے گے روشنی۔۔۔
حدید اس کے سر پر ہاتھ رکھتا ہکلاتا بولا تھا ۔۔۔
جبکہ ایک آنسو اس کی آنکھ سے بھی گرا تھا۔۔
روشانے جانتی تھی حدید جب شدید غصے میں ہوتا تھا تبھی وہ روشنی کہتا تھا اسے لیکن روشانے کو کوئ ہوش نہیں تھا جو اس کی بات پر توجہ دیتی ۔۔
دفع ہو جاٶ تم یہاں سے ۔۔
روشانے اسے دھکا دیتی چلای تھی جب وہ واپس کھڑا ہو چکا تھا۔۔
م۔۔
نکاح کرو ابھی اس سے ۔۔
اس سے پہلے وہ نیچے دوبارہ بیٹھتا اس کے قریب ہوتا بولتا جب روم کے دروازے کے اندر آتی دو شخصیات سکون سے بولی تھی ۔۔۔
صام اور مستقیم دونوں ہی اندر آتے بولے تھے۔۔۔
ڈ۔ڈیڈ۔۔۔
دونوں ہکابکا سامنے دیکھتے بولے تھے ۔۔۔
جہاں مستقیم کی گہری کالی آنکھوں میں شرمندگی تھی وہی ڈراک گرین آنکھیں صام کی شعلہ اُگل رہی تھی ۔۔۔۔
دونوں کی سانسیں اٹکی تھی ۔۔۔
بابا ایسا ن۔۔۔
روشانے اٹھتی بھاگ کر مستقیم کے سینے سے لگی بول رہی تھی جب وہ صام کی طرف دیکھتے بولے تھے۔۔۔
صامے نکاح کرواٶ دونوں کا حدید اپنی امانت لے جانا لیکن کوئ شور شرابا نہ ہو ۔۔
آرام سے کر لینا سب میں ماما سے بات کرتا ہو ۔۔
مستقیم روشانے کو لیے اپنی سناتے وہاں سے گے تھے جبکہ روشانے تو اپنی اوپر پڑی آفت پر شوک تھی۔۔۔
ڈ۔ڈیڈ وہ م۔میں۔۔
آٶ تمہیں اپنے روم میں لے کر جاٶ۔۔۔
حدید پریشان ہوتا ان کے پاس آتا بول رہا تھا جب وہ اسے شولڈر سے پکڑے ساتھ لے کر جاتے بولے تھے ۔۔
وہ چپ ہو گیا تھا۔۔۔
تھوڑی سی بھی تکلیف ہوئ اسے تو جان سے جاٶ گے جانتے نہیں ہو ڈیول کے قہر کو ا۔۔۔
جانتے ہے سب ہم اب یہ ہماری ہے قید میں ہے باقی درد ہو دے گے ہم آپ بس جاے اب ۔۔
نکاح کروانے کے بعد وہ روم سے باہر آتے ایول کے پاس کھڑے بول رہے تھے جب وہ سگریٹ پیتا ہوا بولا تھا وہ ویسے ہی شرٹ لیس کھڑا تھا۔۔۔
اس کی بات سنتے وہ طش سے وہاں سے چلے گے تھے۔۔۔
ہاں تو ہماری قید میں آ کر کیسا محسوس کر رہی ہو ۔۔
رعنا ایول کی شرٹ پہنے بیڈ سے اٹھی ہی تھی نکاح کرنے کے بعد جب وہ اندر آتا طنزیہ مسکراہٹ لاۓ بولا تھا۔۔۔
رعنا نے روتے ہوۓ اپنے حقوق ایول کے نام کر دے تھے وہ نہیں جانتی تھی روم میں ایک ایسی شخصیت بھی موجود تھی جن کی رضامندی پر یہ نکاح ہوا تھا۔۔۔
ایول اپنے سامنے گرین شرٹ پہنے رعنا کی کمر دیکھ رہا تھا جس پر اس کے سنہری لمبے بال جو کمر پر کھلے جھول رہے تھے۔۔۔
ایول کی آواز سنتے وہ پوری جان سے کانپی تھی۔۔۔
اچھا تو بیوی بن گی ہو تو ہم آگے کا کام کرے۔۔۔
ایول اس کے قریب جاتا کمر سے پکڑے اپنی طرف رخ کیے بولا تھا۔۔۔
ت۔تم جو کہو گے میں و۔۔
اب صرف ہمارا بدلہ پورا ہو گا اور کچھ نہیں جنگلی بلی ۔۔
رعنا گھبراتی بول رہی تھی جب اسے بیڈ پر دھکا دیتے گراے اس پر جکھے وہ بولا تھا۔۔۔
پ۔پلیزززز برفانی ریچھ۔۔۔
بڑی بڑی نیلی سوجی آنکھیں گلابی خشک ہونٹ جیسے برسوں کے سوکھے ہوۓ ہو ۔۔۔سنہری بالوں کی کچھ آوارہ لیٹیں اس کے خوبصورت چہرے کا طواف کر رہی تھی ۔۔۔
ناک میں پہنی نوز پن اور لبوں کے قریب بنا تل ایول کو بار بار الجھا رہا تھا ۔۔۔
وہ اس کے حیسن چہرے کو دیکھنے میں مشغول تھا جب اس کی آواز سنتے وہ ہوش میں آیا تھا۔۔۔
رعنا کی سرسراہتی سرگوشی پر ایول کا پورا فوکس اس کے کانپتے ہوٹنوں پر تھی اب۔۔۔
سزا کے لیے تیار رہو ۔۔۔
اس کے لبوں پر جھکتے وہ بھاری سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔۔
ڈر کے مارے رعنا نے زور سے آنکھیں بند کی تھی ۔۔
