581.1K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 15)

Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar

“”شادی اسپشیل 😍😍

اسیٹچ پر بیٹھی رعنا بھی گھبرای تھی لائٹ آف ہوتے دیکھ ۔۔۔

جانا مت یہاں سے وکی۔۔۔

رعنا اور زینب دونوں نے وقار کا بازو پکڑتے کہا تھا۔۔۔

کوئ نہیں جانتا تھا ان دونوں کے درمیان وقار نہیں کوئ اور بیٹھا تھا۔۔۔

جس نے آہستہ سے زینب کا ننھا سا ہاتھ پکڑا تھا۔۔۔

زینب اپنا ہاتھ وقار کے ہاتھ میں پاتے گھبرای تھی۔۔۔

اندھیرے میں اس نے اپنا ہاتھ چھڑوایا تھا جب پاس بیٹھے ایول نے گرفت مضبوط کی تھی۔۔۔

لائٹ بند ہوتے ہی وقار وہاں سے اٹھا تھا فون سنے جب ایول خاموشی سے اندھیرے کو چھیرتا ہوا ان دونوں کے پاس بیٹھا تھا۔۔۔۔

تم یہاں کیوں بیٹھے ہو جاٶ دیکھو لائٹ کیوں نہیں آی ۔۔

اندھیرے میں رعنا ڈرتی ہوئ ایول کے ساتھ لگتی بولی تھی۔۔۔

ایول جو زینب کے ہاتھ پر مہندی سے گڑیا لکھنے میں بزی تھا اپنے قریب رعنا کی آواز سنتے جھٹکے سے گردن موڑی تھی اس کی طرف ۔۔

لان میں بہت کم روشنی تھی جو سب نے اپنے موبائلز سے جلای تھی۔۔۔

لٹل ڈول تمہاری ہی رہے گی یہ نہیں دیکھ رہے بہن ساتھ بیٹھی ہے ۔۔۔

ایول کا رخ زینب کی طرف دیکھ وہ اس کا رخ اپنی طرف کرتی بولی تھی۔۔۔

زینب اپنے ہاتھ پر گیلا سا محسوس کر رہی تھی لیکن چپ تھی ایک تو اندھیرے میں اسے کچھ دیکھای نہیں دے رہا تھا۔۔۔

اچھا منہ کھولو میں مٹھائ کھلاو بعد میں ہادی شور مچاۓ گا اس نے رسم شروع کرنی ہے ۔۔۔

رعنا کم روشنی سے پلیٹ سے مٹھائ اٹھاۓ ایول کے لبوں پر رکھتی بولی تھی۔۔۔

اففف کیا ایلفی لگا لی ہے لبوں پر جلدی کھاٶ۔۔۔

رعنا مسلسل بول رہی تھی اسے ڈر تھا حدید آ کر شور نہ ڈال دے اسے رسم کرنی ہے ۔۔۔

ایول خاموشی سے اپنے چہرے پر پڑتی اس کی سانسوں کو محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔

اہہہہ گڈ بواۓ بلکل مجھ پر گے ہو اچھا اب میں زرا اس ہادی کو دیکھ لو ۔۔۔

ادھا رس گلا ایول کے منہ میں ڈالے اس نے نرمی سے ایول کا گال چومتے کہا تھا۔۔۔

ایول کی دل کی دھڑکن تیز ہوئ تھی اپنے گال پر اس کے لبوں کا لمس پاتے ۔۔

رعنا کو نہیں پتہ تھا وہ ایول کو وقار سمجھ کر چوم چکی ہے ۔۔

ایول اس کے جانے کے بعد وہاں سے اٹھ گیا تھا۔۔۔

ارے آغا یہ کس نے کیا ۔۔۔

ہااہہاہااہاہاہا ہااہاہااہاہا آپ کو پتہ ہے ایسا کام صرف ایک کرتا تھی ۔۔

امن اپنا موبائل آن کیا تھا جب احمد کے گال پر نشان دیکھ وہ قہقہ لگاے بولی تھی۔۔۔

جہاں مہندی سے چپکلی بنای گی تھی ۔۔

جو کہ اس کے خوبصورت سے چہرے پر ٹیٹو لگ رہا تھا۔۔۔

ہاں یہ ایول کے کام ہوتے تھے اسے ایسے جانور پسند تھے۔۔۔

موبائل سے دیکھتے احمد اپنی گال پر ہاتھ رکھے مسکراتے بولا تھا۔۔۔۔

مط۔مطلب وہ یہی ہے آغا وہ یہی ہے ۔۔۔

امن اچانک کچھ سوچتی بے تاب ہوتی چیخی تھی جب احمد بھی شوک ہوتا کھڑا ہو چکا تھا اسے کسی بھی حال میں ایول سے ملنا تھا۔۔۔

اففف ہادی کہاں تھے کب سے اندھیرے میں ڈھونڈ رہی ہو شکر ہے مل گے ۔۔۔

لان کے ایک درخت کے پاس وہ کھڑی موبائل سے ڈھونڈ رہی تھی جب اسیٹچ سے اترتے ایول جو اب جلدی سے بھاری قدم اٹھاۓ واپس جا رہا تھا اس سے ٹکراتی بولی تھی ۔۔۔

تمہیں پتہ ہے میں نے رسم کی پہلے ا۔۔۔

ایول کے پاس کھڑے وہ چہکتی موبائل کی روشنی اس کی طرف کرتی بول رہی تھی جب اپنے اتنے قریب کھڑے ایول کو دیکھ روکی تھی۔۔۔

ب۔برفانی ریچھ۔۔۔

اہہہہ۔سیی۔۔

رعنا ہکلاتی بول رہی تھی جب ایول نے اسے کمر سے پکڑے اپنے سینے سے لگایا تھا۔۔۔

بہت خوش ہو اس سب سے مل کر کتنا مسکراتی ہو اس سب کے ساتھ بہت جلد بہت جلد تمہیں ان سب سے دور لے جاٶ گا جیسے ہم ترسے ہے اس سب کے لیے ویسے تم ترسو گی ۔۔۔

ہم نے پہلے ہی کہا تھا دوستی ہماری فطرت میں نہیں دشمنی دل وجان سے نبھاتے ہے اب ٹائم آ گیا ہے تمہیں سزا دینے کا ۔۔۔

بہت شوق تھا تمہیں ہم سے دوستی کا جنگلی بلی تیار رہنا ہماری دشمنی سہنے کے لیے ۔۔۔

رعنا کے منہ میں رس گلا تھا جب وہ اس کا منہ ہاتھوں سے دبوچتے وہ غرایا تھا۔۔۔

تمہاری عزت بچای تھی ہم نے لیکن تم۔۔۔

چلو اب تمہیں بتاٶ گا عزت ہوتی کیا ہے جس عزت کو بچانے کے لیے ہم نے سزا پائ اس کا حساب بھی تم سے لینا ہے جنگلی بلی ۔۔۔

رعنا کے لبوں سے لگے رس گلے کے شیرے کو اپنے انگوٹھے سے صاف کیے وہ بھاری سرگوشی کرتا بولا تھا جبکہ اپنا انگوٹھا وہ منہ لے چکا تھا۔۔۔

ایول کی بار بار نظر اس کے لبوں کے قریب بنے چھوٹے سے تل سے الجھ رہی تھی جو روشنی میں تارے کی طرح چمک رہا تھا۔۔۔

ا۔۔۔

اہہہہہ اہہہہ بابا بابابا ماماما ہادی ہادی ۔۔۔

اس سے پہلے ایول کچھ کہتا جب سوہا کی چلانے کی آواز گونجی تھی سب ہی اس کی طرف متوجہ ہوۓ تھے۔۔۔

ایول رعنا کو چھوڑے وہاں سے بھاگ گیا تھا جانتا تھا اس کی مس کھڑوس کیوں چلا رہی تھی۔۔

کیا ہوا بیٹا ۔۔۔

لان کی ساری لائٹ آ چکی تھی جب صام لوگ اسیٹچ پر آے بولے تھے۔۔۔

بابا وہ وہ آیا تھا بابا یہی تھا بابا روکے اسے ۔۔

سوہا صام کے سینے سے لگتی پھوٹ پھوٹ کر روتی بولی تھی۔۔۔

کون آیا تھا ۔۔

صام نے پریشان ہوتے پوچھا تھا۔۔۔

بابا وہ میرا لالہ بابا آپ کو پتہ یہاں کس کیا اس نے دیکھے مجھے ابھی تک یہاں اس کا لمس محسوس ہو رہا اس نے مجھے کہا ہماری مس کھڑوس خوش رہے ہمیشہ ۔۔

آپ جانتے ہے وہ سب سے کتنا پیار کرتا تھا ۔۔۔

سوہا مسلسل روتی بول رہی تھی ۔۔۔

امن روشانے زینب سوہا سب ہی رو رہی تھی ۔۔

مہندی میں حازم کی آمد کا سن کر ۔۔

یہ دیکھو لالہ یہ کھڑوس جن بھوت لالہ نے نام لکھا ہے میری خواہش تھی یہ۔۔

زینب بھی اپنا ہاتھ دیکھتی بولی تھی جہاں مہندی سے گڑیا نام چمک رہا تھا ۔۔

احمد کو یقین ہو گیا تھا ایول کے یہاں آنے کا ۔۔۔

سیکوڑٹی سب مہمانوں کو روکو کوئ بھی یہاں سے مت جاۓ ۔۔

تلاش کرو ایول یہی کہی ہو گا ۔۔۔

اسیٹچ پر کھڑا احمد غرایا تھا جب سب ہی گارڈز آڈر پاتے اپنے کام میں بزی ہو چکے تھے۔۔۔

ک۔کیا ہوا ا۔۔۔

اسی کی وجہ سے میرے لالہ ہم سے دور ہوۓ اگر وہ نہیں ہمارے پاس تم بھی مت آیا کرو نفرت ہے مجھے تم سے ۔۔۔

میرے جان سے پیارے لالہ کو چھین لیا تم نے ۔۔

بابا اسے کہے جاۓ یہاں سے دفع ہو جا ۔۔۔۔

اسٹیچ پر آتی رعنا کو دیکھ سوہا شیرنی کی طرح روتی ہوئ دھاڑی تھی ۔۔

رعنا کے کانوں میں ابھی بھی ایول کی باتیں گونج رہی تھی جب وہ سب کے سامنے بے ہوش ہوتی زمین بوس ہوئ تھی۔۔۔۔

تبھی سوہا چپ ہوئ تھی۔۔۔

رعنا کو ی۔۔

نہیں اسے ہم گھر لے جاتے ہے ویسے بھی ماحول کافی خراب ہو گیا ہے ۔۔۔

وقار نے بے ہوش رعنا کو باہوں میں آٹھایا تھا جب صام پریشان ہوتے بول رہے تھے جب شعیب بولے تھے۔۔۔

حدید پریشان تھا اسے خود سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کرے اپنی بہن کو ہنیڈل کرے یا اپنی دوست کو ۔۔۔

ہادی۔۔۔

رات کو سب ہی اپنے رومز میں چلے گے تھے جب روشانے حدید کے روم میں آتی بولی تھی جو اکیلا بیڈ پر بیٹھا تھا۔۔۔

کیا ہوا سب ٹھیک ہے ۔۔

حدید اس کی طرف دیکھ بولا تھا جو نائٹ ڈریس میں کھڑی تھی۔۔۔

ہاں بات کرنی تھی ب۔۔

یہاں نہیں ہم دونوں اکیلے ہے روم میں تم ہال میں آ جاٶ کافی لے کر۔۔

وہ بول رہی تھی جب حدید اٹھاتا باہر جاتا بولا تھا۔۔۔

روشانے اس کی حرکت پر مسکرائ تھی وہ ایسا ہی تھا سب کی عزت کا خیال رکھنے والا ۔۔

ہاں بولو کیا کام تھا۔۔

ہال میں صوفے پر بیٹھتے وہ بولا تھا۔۔

جب کچھ فاصلے پر روشانے بیٹھی تھی۔۔

وہ سمجھ نہیں آ ر۔۔۔

تم تقی سے شادی کرنا چاہتی ہو میں جانتا ہو لیکن کیا مدد کر سکتا یہ نہیں جانتا ۔۔

وہ سوچتی بول رہی تھی جب وہ سکون سے بولا تھا۔۔

تم کیسے جانتے ہ۔۔

سب جانتا ہو تم کام کی بات کرو ۔۔

وہ شوک ہوتی بول رہی تھی جب وہ بولا تھا۔۔

بابا کو تم منا سکتے ہو تقی کے لیے میں اس سے شادی کرنا چاہتی ہو ۔۔

روشانے جلدی سے بولی تھی۔۔۔

اچھا میں منا لو گا لیکن میری ایک شرط ہے ۔۔

وہ کچھ سوچتا بولا تھا۔۔۔

ہاں بولو اس سے شادی کرنے کے لیے میں ہر شرط مان سکتی ہو۔۔۔

اس کی بات پر وہ طنزیہ مسکرایا تھا۔۔۔

جب تک شادی کی بات نہ ہو جاۓ تم اکیلے میں اس سے نہیں ملو گی اگے تم سمجھ گی ہو گی میری بات بڑی ہو چکی ہو۔۔۔

مہندی کے سارے فیکشن میں حدید نے دیکھا تھا کیسے وہ بہانے بہانے سے روشانے کو چھو رہا تھا۔۔۔

ہممم میں مان گی شرط جب تک شادی نہیں ہو گی میں اسے اپنے قریب نہیں آنے دو گی۔۔۔

روشانے شرمندہ ہوے بولی تھی۔۔

وہ سمجھ گی تھی اس کی بات کا مطلب ۔۔

لڑکیوں کو اپنی عزت کی حفاظت کرنی چاہے محبت کرنا گناہ نہیں لیکن ایک لمنٹ بھی ہونی چاہے اچھا لگا تمہاری وش سن کر ۔۔

چلو سو جاٶ ویسے بھی بکواس کافی بنای ہے ۔۔۔

حدید اب اٹھتا ہوا کہتا سیڑھیاں چڑتا بولا تھا۔۔

دفع ہو جاٶ زرافے گنڈے۔۔

اس کی لاسٹ والی بات سنتے روشانے کشن اٹھاۓ اسے مارتی غرای تھی۔۔۔

سیم۔۔

حدید اس کی طرف دیکھتا اپنے دل جلا دینے والی مسکراہٹ اچھلاۓ کہتا وہاں سے گیا تھا۔۔

””ماضی ۔۔۔

کون ہو تم ۔۔

اپنے سامنے بیٹھے نو سالہ بچے کو دیکھے وہ بولا تھا۔۔

پتہ نہیں ۔۔

جب وہ اپنی گرین آنکھیں اٹھاۓ بولا تھا۔۔۔

لاورث ہو کیا مطلب تمہیں یہاں کوئ نہیں ملنے آتا ۔۔۔

وہ اس کے خوبصورت چہرے کو دیکھ بولا تھا جو خاموشی سے کھانا کھا رہا تھا۔۔۔

““شاہد۔۔۔

وہ کھانا چھوڑتا اپنی جگہ سے اٹھتا ہوا بولا تھا۔۔۔

ابے رکو یہ بتاٶ کون ہے یہ بچہ۔۔۔

گروجی اپنے قریب سے جاتے سپاہی کو روکتے غرایا تھا۔۔۔

پرسوں آیا ہے بس یہی پتہ قتل کیا اس نے ۔۔۔

سپاہی جلدی سے کہتا وہاں سے گیا تھا۔۔۔

ہمممم اتنے سے بچے نے قتل کیا زبردست ایسے ہی بچہ چاہے مجھے ۔۔۔

ہاہہاہاہااہا ہاہااہاہااہاہا

دور جاتے حازم کو دیکھ وہ قہقہ لگاتا بولا تھا۔۔۔

“”حال۔۔۔

ایول اپنے روم میں بیٹھا سگریٹ پیے سوچ رہا تھا جب گروجی کے آدمی اندر آے تھے۔۔۔

بلا رہے گرو ۔۔۔

ایول آواز سنتا اپنے خیالوں سے واپس آیا تھا۔۔۔

بولے ۔۔

گرو کے روم میں آتے وہ نظریں چڑہاۓ بولا تھا ۔۔

جہاں گرو شراب میں مدہوش ہوۓ اپنے پاس بیٹھی لڑکیوں کی قربت انجواے کر رہے تھے ۔۔

مال پر دھماکہ کیوں نہیں کروایا ۔۔۔

گروجی طش سے بولے تھے ۔۔۔

کیوں آپ کو پتہ نہیں چلا ہمیں زحمت دی اتنی ۔۔

وہ سکون سے بولا تھا۔۔

مجھے یہ پتہ چلا ہے جنرل صام کو بچانے کی خاطر تم بھی زخمی ہوۓ ہو ۔۔

کیا رشتہ ہے اس کے ساتھ جو ہر دفعہ تم بچا لیتے ہو اسے ۔۔۔

وہ شراب پیتے بولے تھے ۔۔۔

ڈیول اور ایول کا رشتہ ہے ویسے بھی آرمی نے بچایا ان کو ہم نے نہیں ۔۔۔

آپ کے سوال کا جواب مل گیا ہم چلتے ہے ۔۔۔

ایول اپنی کہتا وہاں سے نکلا تھا۔۔۔

صام آفندی تجھے تو موت ملے گی پکا ۔۔۔

گرو غصے سے بولتے اب اپنے کام میں مشغول ہو چکے تھے۔۔۔

مجھے ایسا کیوں لگتا ہے میری انیجل ناراض ہے ڈیول سے ۔۔

روحا بارات کے لیے تیار ہو رہی تھی جب صام روم میں آتے مسکراتے بولے تھے۔۔۔۔

انہہہ۔۔

روحا نے ایک دفعہ انہیں دیکھا تھا پھر نظریں چڑہاتے وہ بولی تھی ۔

آج بھی صام کی پرسلینٹی ویسی کی ویسی تھی ۔۔

جو بلیک کرتے شلوار پہنے اپنے خوبصورت گرین آنکھوں پر گلاسز لگاۓ وہ روحا کو پہلے دن والے صام لگے تھے۔۔۔۔

تم چاہتی ہو ڈیول اپنی انیجل کو مناۓ ۔۔۔

صام انہیں کمر سے پکڑتے اپنے سینے سے لگاۓ مسکراتے بولے تھے۔۔۔

ن۔نہیں وہ ہم کہاں ناراض آپ سے صام۔۔

روحا جلدی سے گھبراتی بولی تھی ۔۔۔

جب وہ مسکراے تھے آج بھی ان کی انیجل ان کی قربت پر گھبراتی تھی۔۔۔

انیجل ۔۔۔۔

صام روحا کے کان میں بہکتے سرگوشی کرتے بولے تھے۔۔

ج۔جی ۔۔۔

روحا ہکلاتی بولی تھی۔۔۔

مجھے یقین نہیں آ رہا میرے یہ تین دشمن ایلفیاں اتنی بڑی ہو گی ہے ۔۔۔

میرا سکون بڑا ہو گیا آج وہ دلہن بن کر بیٹھی ہے ۔۔۔

صام اپنی تھوڑی روحا کے سر پر رکھتے مسکراتے بولے تھے ۔۔۔

وقت کتنی جلدی گزار گیا صام لیکن ایک انسان کا وقت نہیں گزارا ۔۔۔

اچانک روحا آبدیدہ ہوتی بولی تھی ۔۔۔

اس کا وقت بھی گزارے گا انیجل دیکھنا تم ۔۔۔

صام ان کے آنسو صاف کرتے بولے تھے۔۔۔۔

آ۔آپ بہ۔بہت برے ہے صا۔صام آپ کچھ بھی کر سکتے تھے ڈیول تھے آپ ل۔لیکن آپ نے کچھ نہیں کیا ہمارا بچہ تھا وہ صام آپ کا ایول ۔۔۔

آپ جانتے تھے وہ سب کے بنا رہ لیتا تھا لیکن وہ ہر رات آپ کے ساتھ سوتا تھا ورنہ اسے نیند نہیں آتی تھی ۔۔۔

کتنے سالوں سے ہمارا بیٹا سویا بھی ہو گا بھی یا نہیں یہ سب آپ کی وجہ سے ہوا صام ۔۔۔

روحا ان کے سینے پر مکہ مارتی پھوٹ پھوٹ کر روتی چلای تھی۔۔۔۔

شششش تم جانتی ہو ڈیول کو اپنی انیجل کے آنسو نہیں پسند ۔۔۔

سب جانتا ہو ہر شخص کو انصاف دلانے والا ڈیول اگر اپنے بیٹے کے لیے اصول بدل لیتا تو فائدہ کچھ نہیں تھا ۔۔۔۔

میری مجبوری سمجھو انیجل میں باپ ہو اس کا مجھے بھی ترپ ہے اپنے بیٹے کی ۔۔۔۔

پوری آرمی فورس ڈھونڈ رہی اسے مجھے شدت سے انتظار ہے اس کا ۔۔۔

تم جانتی ہو کچھ دن پہلے ملا وہ ۔۔۔

انہیں پکڑے بیڈ پر بیٹھاۓ وہ ہمت جمع کرتے بولے تھے شدید ضبط سے ان کی گرین آنکھیں سرخ ہو چکی تھی۔۔۔۔

ک۔کب ملا آپ کو۔۔۔

روحا بے تاب ہوتی بولی تھی جب صام مسکراتے بولے تھے۔۔۔

ہاے خ۔خون آپ کو د۔۔۔۔

میرا ایول ہے وہ انیجل تم جانتی ہو بچپن سے وہ خون خرابے سے نہیں ڈرتا تھا ۔۔۔

اب تو جوان ہو گیا آج بھی اس کی آنکھیں برف جیسی سرد ہے ویسے کا ویسا ہے ۔۔۔

لیکن پہلی دفعہ اس دن اس کی آنکھوں میں نمی دیکھی تھی ۔۔۔۔

آپ ۔کیسے جانتے وہی تھا کوئ اور بھی ہوسکتا ہے ۔۔۔

اچانک روحا سوچتی ان کی بات کاٹتے بولی تھی۔۔۔

میرا ہی ایول تھا جو اتنے خطرے میں اپنے باپ کو بچانے آیا تھا ورنہ اتنی آرمی فورس دیکھ کر وہ بزدل ہوتا تو وہی سے بھاگ جاتا ۔۔۔۔

صام ایول کا ذکر کرتے مسکراے تھے ۔۔۔

اچھا بس کرے ہمارے بیٹے کو اکیلے مل لیا ہم بھی ملے گے اپنے بیٹے سے انہہہ ٹھرکی ۔۔۔

روحا جلدی سے ان کا گال چومتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

ہاہہاہاہاہااا ہاے تمہیں آج بھی لگتا میں ٹھرکی ہو انیجل بتاٶ پھر تمہیں ۔۔۔

دور جاتی روحا کو بازو سے پکڑے وہ بیڈ پر گراے ان پر جھکتے قہقہ لگاے بولے تھے۔۔۔۔

توبہ ہے صام مہمانوں سے گھر بھرا پڑا ہے آپ بھی حد کرتے ہے بچے جوان ہو گ۔۔۔۔

اوپسسسس سوری ڈیول ڈیڈ مجھے ناک کرنا چاہے تھا لیکن سچی کچھ نہیں دیکھا میں نے ۔۔

روحا بول رہی تھی جب دھڑام کرتے حدید روم کے اندر گرتا بولا تھا۔۔۔۔

جنرل صام آفندی کے بیٹے ہو لیکن جب دیکھو گرتے پڑتے رہتے ہو شرم کرو قد دیکھو اپنا اور حرکتیں دس سالہ بچے والی ہے ایلفی ۔۔۔۔

صام بنا شرمندہ ہوتے مسکراتے اٹھتے حدید کو اٹھاۓ بولے تھے۔۔۔

جو کھڑا دانت نکال رہا تھا۔۔۔

شادی کروا دے میری پھر دیکھنا کیسے بڑا بنتا میں ۔۔۔

حدید ان کے سینے سے لگتے مسکراتے بولا تھا۔۔۔

تمہیں دس روپے کوئ ادھار نہ دے لڑکی کون دے گا زرافے ۔۔۔

اس سے پہلے کوئ بولتا جب روشانے روم میں انٹر ہوتی بولی تھی۔۔۔۔

چلو بیس روپے دے کوئ مجھے پھر تو لڑکی مل جاۓ گی انہہہ جل ککڑی ۔۔۔

حدید روشانے کو بالوں سے پکڑتے بولا تھا۔۔۔۔

اہہہہ چاچو دیکھے میرے بال خراب کر دے زرافے جان لے لو گی تمہاری میں تمہیں عزت راس نہیں ۔۔۔۔

روشانے صام کو شکایت لگاتی حدید کو بالوں سے پکڑے بولی تھی۔۔۔۔

جل ککڑی روشن دان چھوڑو مجھے ۔۔۔

اہہہہہ بابا بچاۓ مجھے ہاے ۔۔۔۔

حدید چیخ رہا تھا جب اندر آتے نوفل کو دیکھ وہ مدد کے لیے بولا تھا۔۔۔

اچھا بس کرو بیٹا چھوڑو اسے تم سوہا امن زینب کو دیکھو ۔۔۔

نوفل مسکراتے ہوے بولے تھے۔۔۔

اچھا بابا یہ بتاۓ انس آ گیا ۔۔۔

حدید انس کا پوچھتا بولا تھا۔۔۔

ہاں آ گیا ہے باہر احمد سے مل رہا ہے ۔۔۔

انس کا نام سنتے روشانے نے منہ بنایا تھا۔۔۔۔

تم تیار نہیں ہوئ ۔۔۔

وقار رعنا کے روم میں آتے بولا تھا جو اپنے پرندوں کے پنچرے کے پاس بیٹھی تھی۔۔۔۔

آ جاٶ گی لیکن ابھی نہیں ۔۔۔

رعنا دو ٹوک بولی تھی۔۔۔۔

آپی ہو میری شادی پر نہ آی تو فائدہ اگر تم کہتی ہو م۔۔۔

نہیں میں بہت خوش ہو وکی لیکن رات سوہا کی حالت دیکھ میں شرمندہ ہو آج وہ دلہن بنی ہو گی میرے جانے سے اسے حازم یاد آ جاۓ گا تم جانتے ہو بہنوں کو اپنے بھای کتنے عزیز ہوتے ہے بھای بھی اگر حازم جیسا ہو ۔۔۔

ہم سب جانتے تھے سوہا حدید اور حازم کی لاڈلی بیٹی تھی حازم تو اس کا ہر کام خود کرتا تھا چاہے وہ ہوم ورک ہی کیوں نہ ہوتا ۔۔۔

تم چلے جاٶ میں یہی مل لو گی لٹل ڈول کو اگر دل کیا تب آ جاٶ گی ۔۔۔

اب جاٶ۔۔۔

رعنا سب کہتی اچانک سیریس ہوتی بولی تھی۔۔۔

وقار چپ ہو گیا تھا وہ نہیں چاہتا تھا اسے کوئ پریشانی ہو ۔۔

یہ غلط بات ہے لالہ مجھے بھول گے آپ ۔۔۔

ہال میں سب ہی مہمان آ چکے تھے بارات بھی آ چکی تھی جب اسٹیچ پر دلہے بنے احمد کے پاس آتی وانیہ روٹھے لہجے سے بولی تھی۔۔۔۔

وانیہ روشانے نے سیم ڈرسینگ کی تھی گولڈن کلر کی فل فراک پہنی تھی ۔۔۔

مہر نے بھی گولڈن کلر کا شلوار کرتا پہنا ہوا تھا۔۔۔۔

سوہا زینب امن تینوں نے ریڈ کلر کا فل بھاری لہنگا پہنا تھا جو بے حد خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔

احمد نے بلیک شروانی ۔وقار نے ڈراک بیلو ۔فارس نے گرے شروانی پہنی تھی ۔۔۔

تینوں جوڑیاں اسٹیچ پر بے حد خوبصورت لگ رہی تھی ہر کوئ ان کی تعریف کر رہا تھا۔۔۔۔

احمد وانیہ کو دیکھ اٹھ کھڑا ہو چکا تھا لیکن بولا کچھ نہیں ۔۔۔

کیا ہوا لالہ اپنی بیٹی کو سینے سے نہیں لگاۓ گے یہ غلط بات ہے ۔۔۔

وانیہ مسکراتی ہوئ اس کے سینے سے لگی بولی تھی ۔۔۔

احمد نے کرب سے آنکھیں بند کی تھی وہ شرمندہ تھا اپنی بہن کی حفاظت نہ کر سکا ۔۔۔

میرا بچہ کیسا ہے نیند اچھے سے آی کھانا کھایا ٹائم سے سونا ٹائم سے تھا تم لیٹ سو جاٶ تب تمہاری آنکھیں درد کرتی ہے ا۔۔۔۔

اففففف آغا کتنی باتیں کر لی ہے آپ کی وانیہ اور میری مہررانی بلکل ٹھیک ہے آپ بس میری بہن کا خیال رکھے۔۔۔۔

احمد کے سینے سے لگی وانیہ کو دیکھ مہر جلیس ہوتا جلدی سے بنا کسی کا لحاظ کیے کمر سے پکڑے اپنے سینے سے لگاۓ مسکراے بولا تھا۔۔۔۔

مہر کی اتنی کیئر اور جیلس پر احمد مسکرایا تھا۔۔۔

جبکہ وانیہ شرمای تھی سب کے سامنے ۔۔۔

کچھ شرم حیا کر لو تم سب کا معصوم شریف شدید کنوارہ کزن ویسے ہی بیٹھا ہے تم سب رومینس کر رہے ہو حد ہے ۔۔۔۔

حدید اسیٹچ پر آتا روٹھے پن سے بولا تھا۔۔۔۔

ہاہاہہاہاہاہاہ ۔۔۔۔

اس کی بات پر سب کا قہقہ گونجا تھا۔۔۔

تم بھی شادی کر لو ۔۔۔

فارس قہقہ لگاۓ بولا تھا۔۔۔

زخم پر مرچ مت چھڑکاٶ ۔۔۔

حدید رونی شکل بناۓ بولا تھا۔۔۔

اہہہ میرا معصوم بھای ۔۔۔

سوہا اس کا گال چومتے بولی تھی۔۔۔

ہاے اللہٌمجھے ڈوپٹہ دو شرم آ رہی ہے ۔۔۔

ہاہہاہااہاہا افففف اففففف لالہ ۔۔۔

حدید کی حرکت پر چپ بیٹھی زینب نے قہقہ لگاتے بولی تھی جب وقار نے مسکراتے اپنی لٹل ڈول کو دیکھا تھا جو اب مسکرا رہی تھی۔۔۔

کیا تمہیں واقعی سکون چاہے ۔۔

وہ اس کے سامنے کھڑی پیار سے بولی تھی ۔۔

جہاں وہ اپنا سر پکڑے تنہا بیٹھا تھا۔۔۔

ہاں ہمیں چاہے ۔۔

وہ اپنی وحشت بھری گرین آنکھیں اٹھاتے اس کی نیلی آنکھوں میں دیکھتا بولا تھا ۔۔

اسے صرف اس کی نیلی آنکھیں دیکھ رہی تھی باقی چہرہ نقاب سے کور کیا گیا تھا۔۔۔

تھام لو میرا ہاتھ میں تم سے بے پناہ عشق کرتی ہو تمہارا سکون میرے پاس ہے ۔۔۔

وہ اپنی مٹیھی سریلی آواز سے اسے دیکھتی اپنا سفید سرخ ہاتھ سامنے کرتی بولی تھی ۔۔۔

اہہہہہ اہہہہہہ ۔۔۔

نہیں ہے تمہیں عشق ہم سے ہم دونوں صرف نفرت کے لیے بنے ہے ۔۔

ایسی نفرت جو بے پناہ ہے بے حد ہے جس کی کوئ پمائش نہیں ۔۔۔

لوگوں کی رگوں میں عشق ہوتا ہو گا لیکن ہماری رگوں میں نفرت ہے ایسی نفرت جس کی وجہ سے آج تک ہم زندہ رہے ہیں ۔۔۔

بہت جلد تمہیں ہم اپنی اس جہنم میں لے کر آۓ گے ۔۔

تمہاری وجہ سے ہم اپنوں سے دور ہو گے ۔۔۔

وہ شراب پیے آرام سے شرٹ اتارے برف کی بنی چھوٹی سا بیڈ نما چیز پر سو رہا تھا جب اسے یہ خواب آیا تھا ۔۔۔

ایول مسلسل پریشان تھا اپنے خواب سے ۔۔

تبھی وہ برف سے اٹھتا ایک دھاڑ سے مکہ مارے وہ چیز توڑتا غرایا تھا۔۔۔

یہ خواب اسے کچھ دنوں سے آ رہا تھا جس سے وہ بے حد تنگ تھا۔۔۔

نہیں چاہے ہمیں سکون ۔۔۔ سکون صرف ہمیں تب ملے گا جب تمہاری سانسوں کو ختم کرے گے ۔۔

تمہاری عزت بچای تھی لیکن وہی عزت ہم خراب کرے گے ۔

تب تمہیں بچانے ہم آ گے تھے لیکن اب تمہیں بچانے کوئ نہیں آے گا ۔۔۔

بہت رہ لیا تم نے اپنی فمیلی کے ساتھ اب تم ہمارے پاس آٶ گی آخر تم نے سزا بھی تو جھلینی ہے ۔۔

ہاہہاہااہاہاہہاہاہاا۔۔۔

وہ اب ویسے ہی اس روم سے باہر نکلتا اپنے روم کی طرف جاتا قہقہ لگاتا بول رہا تھا۔۔

جہاں سے وہ گزار کے اپنے روم میں گیا تھا وہاں بے شمار لڑکیاں کھڑی اسے شرٹ لیس اور ہیوی باڈی دیکھ ٹھنڈی آہیں بھر رہی تھی ۔۔۔۔

وہ کسی کی طرف نہیں دیکھتا تھا صرف اپنا کام کرتا تھا جبکہ وہاں کی ہر لڑکی اس کی ایک نظر کے لیے ترس جاتی تھی ۔۔۔

ہاے کاش جس لڑکی سے یہ نفرت کرتا ہے وہ میں ہوتی کم از کم اس کے پاس تو رہتی میں اس کی قربت کو محسوس کرتی ۔۔۔

افففف کتنی خوش نصیب ہے وہ لڑکی جس سے یہ نفرت کرتا ہے ۔۔۔

ایول نفرت اتنی شدت سے کرتا ہے جب یہ عشق کرے گا تو کمال ہو جاۓ گا ۔۔۔۔

ہاے ایک نظر بس ایک نظر ایول ۔۔۔۔

اپنے روم کی بیک ڈور سے نکلتا اب وہ گرین ہڈی پہنے پیچھے بنے گھنے جنگل کی روش پر وہ بھاری قدم اٹھاۓ کہی دور جا رہا تھا جہاں صرف گہرے اندھیرے میں وہ گم ہو چکا تھا ۔۔۔

جب اسی بنگلے کی دوسری ونڈو کے قریب کھڑی لڑکیوں میں سے روبی اپنی نیٹ ریڈ نائٹی پہنے بولی تھی ۔۔۔

ایول ایول ایول ۔۔۔

افففف کب وہ دن آے گا جب تم میرے پاس آو گے ۔۔۔

اب وہ خوشی سے جھومتی ہوئ خودی بولی

تھی ۔۔۔

جبکہ وہ سب لڑکیاں اس لڑکی پر رشک کر رہی تھی جس سے وہ نفرت کرتا تھا۔۔۔

رعنا انجان تھی اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے ۔۔

تقی تمہاری شرٹ خراب ہے تو چینج کر لو ۔۔

ہال میں تقی تیار ہوتا آیا تھا جب جوس گرتے ہی اس کی شرٹ خراب ہو چکی تھی تبھی روشانے فکر مند ہوتی بولی تھی۔۔۔

یار یہاں شرٹ نہیں ہو گی میں گھر ہی چلا جاتا ہو صبح ملے گے ۔۔۔

اووو شیٹ یاد آیا میری کار خراب تھی میں تو کیپ سے آیا تھا چلو میں پھر چلتا ہو۔۔۔

تقی پریشان ہوتے بولتا ہال سے باہر چلا گیا تھا۔۔۔

اسٹیچ پر سب ہی ہنسی مذاق کر رہے تھے لیکن روشانے سب کو بھلاۓ تقی کے پاس کھڑی تھی۔۔۔

تم گھر کیسے جاٶ گے ایسا کرو میرے پلیس چلے جاٶ قریب ہی ہے ا۔۔۔

تم بھی ساتھ آ جاٶ مطلب مجھے شرٹ کہاں سے ملے گی اور تمہارے پیلس میں اتنے گارڈز سے وہ کیسے جانے دے گے۔۔۔

تقی روشانے کا ہاتھ پکڑے اس کی بات ٹوکتا بولا تھا۔۔۔

م۔میں کیسے مطلب زینی کی رخصتی ہونے والی ہے ویسے بھی رات کافی ہ۔۔۔

رہنے دو تم پھر میں ایسے ہی چلا جاتا ہو ۔۔۔

روشانے حدید کی بات یاد کرتے کہ تقی سے اکیلے میں نہیں ملنا بول رہی تھی جب وہ روٹھے پن سے بولا تھا۔۔۔

ہممم۔۔۔

سب کی باتوں کو بھلاۓ روشانے اس کے ساتھ آفندی پلیس چلی گی تھی۔۔۔

یہ ہادی کا روم ہے باقی رومز بند ہے میں تمہیں شرٹ دیتی ہو پہن کر نیچے آ جانا ۔۔۔

روشانے پیلس آتی ہال سے سیڑھیاں چڑتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

تم آج بہت حیسن لگ رہی ت۔۔۔۔

پلیز تقی تم شادی کر لو پھر چاہے قریب آ جانا یہ گناہ ہے میں نہیں چاہتی میری محبت گناہ بنے ۔۔۔

یہی روکو میں تمہیں شرٹ دیتی ہو ۔۔۔

دور جاتی روشانے کو کمر سے پکڑے تقی بہکتا اس پر جکھتا ہوا بول رہا تھا جب وہ شدید غصے میں دور جاتی چلای تھی۔۔۔

باہر آ جانا جلدی ۔۔

روشانے برا سا منہ بناۓ حدید کی شرٹ اسے دیتی روم سے باہر چلی گی تھی۔۔۔۔

تقی نے بھی برا سا منہ بناے باہر جاتی روشانے کو دیکھ

شرٹ اتاری تھی۔۔۔

روشانے کو جلدی تھی یہاں سے جانے کی جلدی سے ۔۔۔

وکی اداس ہو گا میں اب اپنی وجہ سے اسے اداس نہیں کر سکتی ایسے ہی چلی جاتی ہو ۔۔۔

بابا کے ساتھ واپس آ جاٶ گی۔۔۔

کافی دیر اکیلے روم میں رہتے رعنا گاٶن پہنے بولی تھی کیونکہ شعیب نے بھی کافی منتیں کی تھی اس کی لیکن وہ نہیں مانی تھی۔۔۔

تم لوگ یہی رہنا میں جلد ہی آ جاٶ گی باۓ۔۔۔

اپنے روم میں پرندوں کے پنچرے کے پاس کھڑی وہ نقاب کیے مسکراتی بولی تھی۔۔

ی۔یہ لائٹ کو کیا ہوا افففف ۔۔۔

گارڈ ان۔۔۔

رعنا روم میں ہی تھی جب اچانک لائٹ جاتے وہ ہکلاتے بول رہی تھی جب ایول نے اسے کمر سے پکڑے اسے دیوار سے پن کیے لبوں پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔۔

مولانی ۔۔۔

ایول اس کے کان میں سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔۔

ب۔برفانی ریچھ۔۔۔۔

رعنا اس کی آواز سنتی گھبراتی بولی تھی۔۔۔

نہیں دشمن ہو تیار ہو جاٶ دشمنی نبھانے کے لیے ۔۔۔

اس کی سرگوشی سنتے وہ ایک ہی جھٹکے میں شولڈر پر ڈالے وہ اندھیرے میں ہی ونڈو سے نکلتا بولا تھا۔۔۔

د۔دیکھو تم ایسا نہیں کر سکتے ممی۔۔۔

اگر ہمیں تمہاری سانسوں کی آواز بھی زیادہ آی تو ہم وہ کرے گے جو سالوں پہلے کرنے والے تھے۔۔۔۔

رعنا روتی بول رہی تھی جب ایول اسے کار میں دھکا دیتے بیٹھتا بولا تھا۔۔۔۔

سیس۔۔۔

اپنے شولڈر پر رعنا کے دانتوں کی گرفت محسوس کرتے ایول سسکا تھا۔۔۔۔

تمہاری یہ عادت نہیں گی جنگلی بلی ۔۔۔۔

اسے گردن سے دبوچے وہ اس کی نیلی پانی سے بھری آنکھوں میں دیکھ غرایا تھا ۔۔۔

جب رعنا نے بھی شدید غصے سے اس کے ناک پر اپنے دانت گاڑھے تھے اب ۔۔۔

نقاب کے بادجوو بھی ایول کو اس کے دانتوں اپنے ناک پر محسوس ہو رہے تھے۔۔۔