581.1K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 14)

Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar

”مہندی اسپیشل 😍😍

ل۔لالہ و۔وہ لالہ وہ ۔۔۔

مہر اپنی میٹنگ میں بزی تھا جب اسے امن کی کال آی تھی جو روتی بول رہی ۔۔

کیا ہوا سب ٹھیک ہے ۔۔

لا۔لالہ وہ نہیں ٹھیک لالہ اسے بچا لے وانیہ اکیلی ہے گھر میں نے دیکھی ابھی لیپ ٹاپ میں ۔۔

مہر پریشان ہوتا بول رہا تھا جب امن مسلسل روتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

کیا ہوا مہررانی کو ۔۔

وہ پریشان ہوتا بولا تھا۔۔۔

ل۔لالہ وہ آی اہتشام وانی کے پاس آپ کچھ کرے۔۔۔

وہ کافی دیر بعد مہر کے روم میں آتی لیپ ٹاپ آن کیا تھا جب وانیہ کے روم کا سامنے کا منظر دیکھ وہ جلدی سے مہر کو کال ملاتی بولی تھی ۔۔۔

ریلکس کچھ نہیں ہو گا میں دیکھتا ہو تم آغا کو فون کرو ۔۔

مہر اس کی سنتا تن فن کرتا وہاں سے بھاگا تھا۔۔۔

جبکہ امن بھی مسلسل احمد کو کال کرنے میں بزی تھی جس کا نمبر بند جا رہا تھا۔۔۔۔

کدھر ہے آغا فون نہیں اٹھا رہی۔۔۔

امن پریشان ہوتی خود بھی گھر سے نکلی تھی ۔۔۔

چ۔چھوڑو مجھے لالہ بابا مامممممم۔۔۔۔

وانیہ کو اہتشام بازوں سے پکڑ چکا تھا جب وہ چلا رہی تھی اہتشام نے اس کی آواز اپنا ہاتھ رکھتے دبای تھی ۔۔۔

کتنے دن سے ویٹ کر رہا تھا تم اکیلے میں ملو پر وہ مہر زرجان خان نے ایک منٹ کے لیے تمہاری سکیوڑٹی نہیں ہٹای رہی سہی کثر تمہارے آغا نے پوری کی تمہارے روم میں رات کو وہ پہرہ دینے آتا تھا ۔۔۔۔

کون بتاے تم بچی نہیں رہی ایک لڑکی ہو ۔۔۔

ویسے بتاٶ تم سب لڑکیاں کیا حسن تحفے میں لے کر آی ہو سب ایک سے بڑ کر ایک ۔۔

آنسو بہاتی وانیہ کے گال کو ایک ہاتھ سے چھوتے وہ خباثت سے بولا تھا۔۔

وانیہ نے نفرت سے اسے گھورا تھا ۔۔۔

چھوڑو مجھے جانور ہو تم ۔۔

ہمت جمع کرتی وانیہ اس کے ہاتھ پر کاٹتی باہر کو بھاگی تھی۔۔۔

اہتشام مسکراتا اس کے پیچھے گیا تھا۔۔۔

ایول نے مال انٹر ہوتے فائر الارم آن کیا تھا جس کی وجہ سے سب لوگ ہی ہلچل مچاتے باہر نکلے تھے ۔۔۔

وہ پاگلوں کی طرح مال کے فلور پر بھاگ رہا تھا مسلسل بھاگتے وہ کسی نہ کسی سے ٹکرا رہا تھا ۔۔

ایول کو کوئ ہوش نہیں تھی بلکہ اس کے آدمی بھی ساتھ جا رہے تھے ۔۔۔

س۔سر آپ روک جاۓ ہم دیکھ۔۔۔

اس کے آدمی بول رہے تھے جب وہ اگنور کیے تھرڈ فلور کی لفٹ میں انٹر ہوا تھا۔۔۔۔

ڈیول کو بچانا ہے کیسے بھی کر کے ۔۔۔

لفٹ سے نکلتے وہ جلدی سے ساری جگہ دیکھ رہا تھا۔۔۔

وہ اپنے بھاری قدم لیتا آس پاس دیکھتا جا رہا تھا ۔۔

ہر طرف خاموشی ہی تھی ۔۔۔۔

س۔سر صرف پانچ منٹ ۔۔۔

ایول کے کان سے لگے بیلو توتھ میں آواز گونجی تھی ۔۔۔

ایول الرٹ ہوا تھا ۔۔۔

مسلسل دیکھتے اسے ایک شاپ میں کھڑے صام آفندی دیکھے تھے جو فون پر بات کر رہے ۔۔۔

چلے۔۔

جلدی سے بھاگتے وہ اکیلے کھڑے صام کا ہاتھ پکڑے بھاگتا بولا تھا۔۔۔

ارے ہڈ حرام روکو تو سہی تم جانتے وہ شرٹ لینی تھی حازم کے لی۔۔

ایول کے ساتھ جاتے وہ اسے حدید سمجھتے بول رہے تھے جب ایول نے انہیں پکڑے اپنے سامنے کیا تھا اس کی سرد گرین آنکھوں میں دیکھتے وہ چپ ہو گے تھے ۔۔۔

ح۔ح۔۔

جان کو خطرہ ہے چلے جلدی ۔۔

صام شوک ہوتے اس کا گال چھوتے بول رہے تھے جب وہ اپنی ہڈی اتارے انہیں پہناۓ بولا تھا۔۔۔

صام اب بلکل چپ ساتھ جا رہے تھے ۔۔۔

انہیں ابھی بھی یقین نہیں آ رہا تھا ان کا حازم ان کے ساتھ جا رہا ہے ۔۔۔

س۔سر راستہ بند ہے ۔۔۔

ایول ابھی لفٹ میں انٹر ہونے والا تھا جب کان میں آواز گونجی تھی ۔۔۔

واٹ۔۔

ایول دھاڑا تھا۔۔۔

س۔سر آرمی والوں نے پورے مال کو گھیرا ہوا ہے انہیں اطلاع ملی یہ یہاں دھماکہ ہونے والا ہے ۔۔

و۔وہ سر جنرل صام آفندی اسی مال میں ہے یہ نیوز آگ کی طرح پھیل گی ہے تبھی ساری آرمی باہر الرٹ ک۔۔۔

اوپر آو سارے جلدی ۔۔۔۔

وہ آدمی مسلسل بول رہا تھا جب ایول نے شدید غصے سے لفٹ پر مکہ مارا تھا ۔۔۔

بلاسٹ ہونے میں صرف تین منٹ رہ چکے تھے ۔۔۔

صام تو بس اپنے بیٹے کو دیکھنے میں بزی تھے جو ان کے لیے سوچ رہا تھا کیا کرے ۔۔۔

م۔مہ۔مہر وہ اند۔۔۔۔

وانیہ بھاگتی باہر آی تھی جب سیڑھیاں چرتے مہر کے سینے سے لگی وہ روتی بول رہی تھی جب اسے چپ کروایا تھا۔۔۔

وانیہ کی شرٹ کا بازو ایک طرف سے پھٹا ہوا تھا۔۔۔

مہر نے اپنی سرخ گرے آنکھوں سے اہتشام کو گھورا تھا جو اسے سامنے دیکھ ڈرا تھا۔۔۔

امن لے کر جاٶ روم میں اسے ۔۔

پیچھے آتی امن کو وانیہ اس کے حوالے کیے وہ غرایا تھا۔۔۔

و۔وہ میں نے بس آہان انکل سے م۔۔۔

اہتشام قریب آتا ہکلاتا بول رہا تھا جب مہر نے اسے گربیان سے پکڑے منہ پر مکہ مارا تھا۔۔۔

دل تو کر رہا جان سے مار دو لیکن ابھی نہیں تھوڑی سی تڑپ تم میں بھی ہونی چاہے ۔۔۔

مہر شیطانی مسکراہٹ لاۓ اسے ساتھ گھیسٹے بولا تھا۔۔۔

گربیان سے پکڑے وہ اسے ویسے ہی سیڑھیوں سے نیچے لے کر جا رہا تھا۔۔۔

م۔معاف ک۔۔

سوری والا لفظ ہمارے پاس نہیں ہوتا تم باز نہ آے اپنی حرکیتوں سے ۔۔۔

مہر اسے لان میں لایا تھا جب وہ ہکلاتا بول رہا تھا جب چار ہڈی والوں کے اسے حوالے کرتا وہ غرایا تھا ۔۔

وہ چاروں آدمی اہتشام کو اپنے ساتھ لے گے تھے ۔۔۔

اہتشام انجان تھا اپنی موت سے کس کے ہاتھوں وہ مرنے والا تھا۔۔۔

وانیہ کا یاد آتے مہر اندر کی طرف بھاگا تھا۔۔۔

آپ کو بچانا ہے ہر حال میں ڈیول ۔۔

جب کچھ سمجھ نہ آیا ایول کو تبھی وہ فلور کی ایک شیشے کی ونڈو پاس آے وہ بولا تھا ۔۔۔

ایول کے بندے اندر آ چکے تھے ۔۔

ان کے ہاتھوں میں مضبوط کیبل تار تھی۔۔۔

ایول نے پہلے خود کو اس تار سے باندھا پھر صام کو کمر سے باندھے پکڑا تھا ۔۔۔

اپنے آدمیوں کو وہ اشارہ کر چکا تھا ۔۔

جب سب نے اس تار کو ہینڈل کیا تھا۔۔۔

ایول نے صام کو کمر سے پکڑے سینے سے لگاتے سرگوشی کرتے کہا تھا۔۔۔

ڈیول ایول کے بنا ادھورہ ہے تمہارا بچان۔۔۔

ایول ڈیول کی وجہ سے ہے آپ بچ جاۓ ہم بھی بچ جاۓ گے۔۔۔

صام ایول کے گال کو چومتے پیار سے بول رہے تھے جب وہ ونڈو اوپن کرتا سب کو نیچے دیکھتا بولا تھا جہاں پوری آرمی فورس نیچے کھڑی صام کا ویٹ کر رہی تھی ۔۔۔

بیٹا ت۔۔۔

ایول ہے ہم امید ہے کبھی ملے نہ ہم ۔۔

فورتھ فلور کی ونڈو سے نیچے گرتے صام ایول کی آنکھوں میں دیکھا بول رہے تھے جب وہ طنزیہ مسکراہٹ لاۓ بولا تھا ۔۔۔

دھماکے کا سن کر باہر کھڑی رعنا بھی پریشان ہو چکی مسلسل آنسو بہاتے وہ یہی دعا کر رہی تھی صام بچ جاۓ ۔۔۔

دھماکہ تو نہ ہوا لیکن اتنی ساری آرمی کو دیکھ وہ ڈر ضرور تھی ۔۔

ان سب کے ساتھ وہ کھڑی تھی جب منہ اوپر کیے ونڈو کی طرف دیکھ نقاب میں ہی منہ پورا کھل چکی تھی۔۔۔

کیونکہ صام آفندی ایک ایسے شخص کی گرفت میں نیچے آ رہے تھے جس کے کسرتی جسم پر صرف بلیک پینٹ تھی جبکہ وہ شرٹ لیس اور بنا ماسک لیے اس تار سے نیچے اتر رہا تھا ۔۔

سب کی آنکھیں شوک سے کھلی تھی کتنی اونچائ سے وہ نیچے آ رہا تھا۔۔۔

و۔وہ ۔وہ کون ہے ۔۔

پاس کھڑے ایک آرمی آفسر سے اس نے ہکلاتے پوچھا تھا ۔۔۔

کیونکہ وہ دیکھ رہی ایول کی گرفت میں ہڈی لیے صام کو نیچے آتے دیکھ آرمی فورس اپنی گنز لوڈ کیے کھڑی ہو چکی تھی۔۔۔

صام کی آنکھوں پر اب ہڈی کی ہوئ تھی ایول نے تاکہ وہ دیکھ نہ سکے ۔۔۔

ایول ہے یہ گینگسٹر ۔۔۔

وہ آرمی آفسر گن کا رخ اس کے ہاتھ پر کرتا بولا تھا جس کا ہاتھ صام کی کمر پر تھا۔۔۔

“”Shot him..

کرنل بہرام صام کے دوست اپنی پوری فورس کو آڈر دیتے غراے تھے ۔۔۔

کیونکہ ایول صام کو لیے کافی نیچے آ چکا تھا ۔۔۔

یہ آواز سنتے صام تڑپے تھے ۔۔

نہ۔نہیں ا۔۔۔

کچھ سال پہلے بھی ڈیول نے انصاف کیا تھا ظاہر سی بات ہے آرمی پکی ہوتی اپنی ہر بات پر ۔۔۔

نہ پہلے شکایت تھی ڈیول نہ ہی اب ۔۔۔

گڈ باۓ ۔۔۔

اپنے شولڈر پر گولی لگتے ایول طنزیہ مسکراہٹ لاۓ ان کی بات کاٹتے کہتا ہوا میں انہیں چھوڑ چکا تھا۔۔۔۔

آرمی والوں نے اسے شوٹ اس وجہ سے کیا تھا شاہد صام آفندی کو نقصان پہنچاے لیکن سہی صام آفندی کو نیچے آے دیکھ وہ سارے شوک تھے۔۔۔

نیچے پڑے سوفٹ گدوں پر وہ گرے تھے ۔۔۔

ای۔ایول ایولللللللل۔۔۔

جلدی سے ہڈی اتارے وہ اوپر دیکھتے دھاڑے تھے جو خون آلود شولڈر سے واپس اوپر جا رہا تھا۔۔۔

سب ہی صام کی طرف متوجہ ہوے تھے۔۔۔

جنرل ص۔۔

کیوں شوٹ کیا اسے کیوںننن۔۔

آرمی کے آفسرز پاس آتے بول رہے تھے جب وہ دھاڑے تھے سب پر ۔۔۔

و۔وہ سر ہمیں اطلاع ملی تھ۔۔

ہیڈ کوائٹر آو سب۔۔۔

رعنا کو لے وہ ان سب کی طرف دیکھتے بولے تھے۔۔۔

آ۔انکل آپ ٹھیک ہے او۔اور یہ۔۔

ہاں یہ ایول ہے میرا ایول ۔۔۔

رعنا آنسو بہاۓ بول رہی تھی جب وہ مسکراتے بولے تھے ۔۔۔۔۔

ب۔برفانی ریچھ۔۔۔

ایول کا نام سنتے وہ ہکلاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

صام مسکراے تھے اس کی سرگوشی پر ۔۔

کیسی ہو مہررانی ۔۔

مہر جلدی سے روم میں آتا بولا تھا جہاں وہ بیٹھی مسلسل رو رہی تھی۔۔۔

ت۔تم نہ آتے م۔میرا کیا ہوتا مہر ۔۔

لالہ بھی نہیں تھے گھر ۔۔۔

وانیہ اپنے پاس بیٹھے مہر کے گلے لگتی پھوٹ پھوٹ کر روتی بولی تھی ۔۔

امن نے نظریں چڑہاۓ روم سے باہر گی تھی۔۔۔

کچھ نہیں ہوا دیکھو تم ٹھیک ہو ۔۔

مہر اس کا چہرہ ہاتھوں میں لیتا آنسو صاف کرتا بولا تھا۔۔۔

و۔وہ چلا ۔۔۔

اچھا میں اگر کچھ کرو تم چلاٶ گی تو نہیں مطلب کوئ ہنگامہ۔۔

اس کا ذہین بدلتے وہ کچھ سوچتا بولا تھا۔۔

وانیہ نے بچوں کی طرح ہاں میں سر ہلایا تھا۔۔۔

مہر مسکراتے دوبارہ اسے اپنے سینے سے لگا چکا تھا۔۔۔

کدھر ہے وانی کیا ہوا اسے امن ۔۔

امن باہر ہی تھی جب پاگلوں کی طرح احمد بھاگتا آتے غرایا تھا۔۔

و۔وہ لالہ آی ہے و۔۔۔

امن نے گھبراہٹ کے مارے غلط بول لیا تھا جب وہ

اگنور کیے اندر گیا تھا جہاں مہر وانیہ کو سینے سے لگاۓ بیٹھا تھا۔۔۔

تجھے میں نے کہا تھا میری بہن سے دور رہ میں اس کی حفاظت کر سکتا ہو نکلو باہر بچی ہے وہ ابھی تم دماغ خراب کر رہ۔۔۔۔

احمد جلدی سے طش میں جاتا مہر کو گربیان سے پکڑے چلا رہا تھا جب امن بھی طش سے چلای تھی۔۔۔

وانی بڑی ہو گی ہے بیوی ہے کسی کی ۔۔

کیا حفاظت کرے گی آپ میری لالہ نے بچایا وانی کو اس اہتشام سے آپ اسی کی انسلٹ کر رہی ہے ۔۔۔۔

آغا اپنے بارے میں کچھ بھی سن سکتی ہو لیکن اپنی لالہ کے بارے میں نہیں جیسے آپ کو بہن عزیز ہے ویسے مجھے اپنی لالہ ۔۔

آپ کی بہن کی شادی اس سے ہوئ ہے تو اس کی بہن کی شادی آپ سے ہوئ ہے ۔۔۔

میری لالہ چاہے آپ کی بھی ایسی انسلٹ کرسکتی ہے لیکن انہیں پتہ ہے مجھے محبت ہے آپ سے ۔۔۔

کاش آپ کے دل میں بھی ایسی محبت ہوتی جیسے لالہ کی وانی کے لیے ۔۔

مہر کا گریبان احمد کے ہاتھ میں پکڑے دیکھ امن بنا کوئ لحاظ کیے بولی تھی ۔۔۔

گھر کے سب افراد بھی منان کے گھر سے آے تھے جب اوپر شور سنتے سب ہی وہاں آے سامنے کا منظر دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔

کیا ہوا وانی کو۔۔۔

احمد حیران ہوتا بولا تھا ۔۔

جب مہر نے سکون سے سب بتایا تھا ۔۔۔

کہاں ہے وہ اسے کتوں کے آگے ڈال دو گا میں ہمت کیسے ہوئ اس کی ۔۔۔

تم مجھے معاف کر دو مہر م۔۔

ارے آغا ایسی بات نہیں ہے ہم سب جانتے ہے آپ سب سے پیار کرتے ہے مہررانی کے تو سگے والے بھای ہے ایسے ہی بھای ہوتے ہے ۔۔

آحمد غصے سے چلاتا مہر کے سامنے ہاتھ باندھے بول رہا تھا جب وہ تحمل سے بولا تھا۔۔

میں اچھا لالہ نہ بن سکا میں نے اپنی بہن کی حفاظت نہیں کی امن ٹھیک کہتی ہے تم شوہر ہو اسے ہینڈل کر سکتے ہو تم لے جاٶ وانی کو ۔۔۔

احمد وانی کے پاس آتے اس کے پھٹے کپڑے دیکھ اس کا ماتھا چومتے آبدیدہ ہوتا بولا تھا۔۔۔

آغا میری با۔۔۔

لے جاٶ مہر اپنی مہررانی کو کبھی تمہارا دل کرے اپنے لالہ سے ملنے کا تو آ جانا میری بیٹی ۔۔۔

امن پریشان ہوتی بول رہی تھی جب احمد وانیہ کے سر پر ہاتھ رکھتے بولا تھا۔۔۔

لالہ آپ ۔بہت اچھے ہے مجھے نہیں ج۔۔۔۔

خیال رکھنا میری بیٹی کا ۔۔۔

وانیہ روتی احمد کا ہاتھ پکڑے چومتے بول رہی تھی جب وہ اس کا ہاتھ مہر کے ہاتھ میں دیتا کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔۔

بابا لالہ کو روکے میں نے ابھی ن۔۔۔

بیٹا تم جانتی ہو تمہارے لیے وہ کتنا پوزیسو ہے بس اسے تھوڑا سا ملال ہے تمہاری حفاظت نہیں کر سکا باقی وہ ٹھیک ہو جاۓ گا ۔۔۔

وانی روتے بول رہی تھی جب آہان اندر آتے بولے تھے ۔۔۔

کل فارس سوہا زینب وقار احمد امن کی مہندی ہے پرسوں ان سب کی رخصتی ہو گی ۔۔

یہ میرا فصیلہ ہے سب بچے اپنے گھر کے ہو جاۓ تو ہی اچھا ہے ۔۔۔

ودرہ بیگم نے اپنا فصیلہ سنایا تھا کسی کو اعتراض نہیں تھا ۔۔

امن کے ہاتھوں کے طوطے اُڑے تھے ۔۔۔

ارے تم کیوں کھڑے ہو بیٹی کو گھر لے کر جاٶ وانی ہماری ہے اب ۔۔۔

لالہ اجازت دے ۔۔۔

یافی مسکراتے آہان کی طرف دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

جیو پھپھو ہو تو ایسی دبنگ ٹائپپپپپپپپپ۔۔

کیا پھپھو میں نے تعریف کرنی تھی اتنا حق ہمارا بھی ہے اب زرجان انکل بھی تھک جاتے ہہہہہہہہ۔۔۔اہہہہہہہ۔۔۔

حدید دانت نکالے اپنی فر فر چلتی زبان سٹارٹ کر چکا تھا جب یافی کا مکہ کھاتے وہ چلایا تھا ۔۔۔

لیکن اپنے شولڈر پر زرجان کا مکہ کھاتے وہ درد سے تڑپا تھا ۔۔۔

کیا ڈیڈ آپ مسکرا رہے ہے آپ کی معصوم سی بیٹی پر یہ لوگ ظلم کر رہے ہے ۔۔۔

حدید کی شرراتوں پر سب ہی مسکرا رہے تھے جب وہ اب صام کے قریب آتا بچوں جیسی شکل بناۓ بولا تھا۔۔۔

یار مت کرو یہ میری پیاری سی بیٹی ہے کم مارا کرو اسے آگے جا کر اس نے اپنی بیوی سے بھی مار کھانی ہے ۔۔۔

ہااہاہااااااہاہاہہاہاہا۔۔۔

صام حدید کو اپنے شولڈر سے لگاے بولے تھے جب سب کا قہقہ گونجا تھا ۔۔۔

ارے مہر تم اٹھاٶ وانیہ کو اتنی بھی موٹی نہیں ہے لے جاٶ اس کو ایک چڑیل کو کم ہو ہمارے گھر سے پھر میری شادی ہو گی ۔۔۔

مہر کو چپ کھڑے دیکھ وہ ایک بار پھر بولا تھا ۔۔۔

مہر نے یافی اور زرجان کی طرف دیکھا تھا تبھی انہوں نے ہاں میں سر ہلایا تھا۔۔۔۔

خوش رہو ہمیشہ میری بیٹی ۔۔۔

آہان اور ہیر وانیہ کے سر پر ہاتھ رکھتے بولے تھے۔۔۔

بابا اتنی جلدی م۔۔۔

وانیہ رونی شکل بناۓ بول رہی تھی جب مہر نے قریب جاتے اسے باہوں میں اٹھایا تھا۔۔۔

یاہہہوہہہہہہوووو۔۔۔

زینب سوہا روشانے امن حدید سب کی ہوئٹنگ تھی روم میں جب وانیہ نے شرماتے اپنا چہرہ اس کے سینے میں چھیاپا تھا۔۔۔

چلو نکلو تم بھی دو دن بعد یہی ہو گی ۔۔۔

افففف میں کس کس کو سمجھاٶوووووو۔۔۔۔

امن کو مسکراتا دیکھ حدید اسے بول رہا تھا جب پیچھے سے سوہا کی لات اپنی کمر پر پڑتے وہ چلایا تھا۔۔۔

جہاں پہلے ہر کوئ دکھی تھا اب سب ہی مسکرا رہے تھے۔۔۔۔

ای۔ایول ۔۔

بولو ۔۔۔

ایول اپنے سرد روم میں بیٹھا شراب

پی رہا تھا جب اس کا آدمی اندر آتا بول رہا تھا جب وہ بولا تھا۔۔۔

س۔سر وہ آ گیا کیا کر۔۔۔۔

جیری کا مجرم ہے وہ ہنیڈل کرے گا۔۔۔

وہ بول رہا تھا جب ایول سکون سے بولا تھا۔۔۔

لیکن س۔سر وہ تو ابھی نہیں آیا ا۔۔۔

آ جاۓ گا وہ جلد ہی تم بین کا پتہ کرو وہ کہاں ہے آج کل ۔۔۔

ایول اپنی گود میں رکھے صام کے بوٹ کو چھوتا پھر بولا تھا۔۔۔

جی سر۔۔۔

وہ تابعداری سے سر جھکاتا وہاں سے گیا تھا۔۔۔

وہ کون ہے روشنی ۔۔۔

لان میں ساری مہندی کا سیٹ اپ کیا گیا تھا رات کو سب ہی مہمان وہاں آ چکے تھے جب تیار سی روشانے تقی کا ویلکم کے لیے انٹرس میں آی تھی ۔۔۔

جب اپنے سامنے تیار سے حدید کو وہ دیکھ بولا تھا۔۔۔

جو مسلسل فون میں بزی تھا۔۔۔

میرا کزن ہے صام چاچو کا بیٹا نام کا بیٹا ہے ورنہ حرکتیں بچوں والی ہے تم آو ۔۔۔

یلیو ٹاپ ساتھ پنک شرارہ پہنے بالوں کو ہلکے سے کرل کیے میک اپ میں تیار روشانے تقی کو بہکانے کا سامان بنی ہوئ تھی ۔۔۔

جو مسلسل اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔

اپنے ماما بابا سے بات کرو شادی کی اس کے بعد ایسے ہی دیکھتے رہنا لیکن ابھی نہیں ۔۔

روشانے اس سے شرماتی ہوئ کہتی اندر گی تھی۔۔۔

یار تھوڑا سا شرما لو مجھے اچھا لگے گا ۔۔۔

سوہا کی فرمائش پر مہندی کی رسم سے پہلے سوہا اور فارس کا نکاح ہو چکا تھا ۔۔

تبھی مہندی کے لہنگے میں سجی ہلکے میک اپ میں سوہا پاس بیٹھے یلیو کرتا شلوار میں تیار فارس کے سامنے ہی دانت نکال رہی تھی ۔۔۔

سوہا فارس وقار زینب احمد امن سب نے ہی مہندی کی ڈریسنگ سیم کی تھی۔۔۔

اسیٹج پر تین صوفوں پر وہ سارے بیٹھے تھے۔۔۔

کیا کرو مجھے تمہارے سامنے شرم نہیں آتی ۔۔۔

سوہا اس کے گال پر لب رکھتی شرارتی انداز سے بولی تھی وہ بے حد خوش تھی فارس کا ساتھ پا کر بچپن کا عشق تھا وہ اس کا ۔۔۔

سوہا کیا ہو گیا یار سب دیکھ رہے ہے ۔۔۔

فارس سب کو دیکھتے اس کے ہاتھ پکڑے نرمی سے بولا تھا۔۔۔

سب ہی حیرت سے سوہا کے ساتھ معذور فارس کو دیکھ باتیں کر رہے تھے تبھی وہ شرمندہ بھی ہو رہا تھا۔۔۔۔

شوہر ہو میرے میں جو مرضی کرو سمجھے۔۔۔

سوہا چہکتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

فارس جانتا تھا اس کا ذہین بدلنے کے لیے وہ ایسی حرکتیں کر رہی تھی۔۔۔

آ۔آغا ۔۔۔

امن اپنے قریب بیٹھے احمد کو سیریس دیکھ وہ بولی تھی۔۔۔

ہممم۔۔

احمد اپنے لب دباۓ سنجیدگی سے بولا تھا۔۔۔

اس کا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے امن نے شرارت سوچی تھی کیونکہ وانیہ اور مہر ابھی نہیں آے تھے تبھی احمد اداس تھا۔۔۔۔

و۔وہ میں کہا رہی تھی میری آنکھ میں کچھ چلا گیا ہے آپ دیکھ لیے۔۔۔

امن اس کے کان میں سرگوشی کرتی بولی تھی۔۔۔

ان تینوں نے سر پر یلیو نیٹ کا ڈوپٹہ لیا تھا۔۔۔

اچھا۔۔۔

سب کا لحاظ کرتے وہ اپنی گردن اس کی طرف کرتا بولا تھا۔۔۔

بہت پیارے لگ رہے ہے آپ سچی میں آغا ۔۔۔

احمد نے جیسے ہی اس کی آنکھ میں دیکھنے کی کوشش کی جب امن جلدی سے اس کا گال چومتی شرماتی بولی تھی۔۔۔۔

احمد اس کی شرارت سمجھتا مسکرایا تھا جب اس کے ڈمپل شو ہوۓ تھے ۔۔۔۔

اداس مت ہو آتی ہو گی وانی ۔۔۔

امن ڈرتے اس کا بھاری سیفد ہاتھ پکڑے بولی تھی۔۔۔

ہمممم۔۔۔

اپنے دونوں ہاتھوں کے درمیان اس کا نازک ہاتھ دباے وہ بولا تھا۔۔۔

امن اس کی گرفت اپنے ہاتھ پر پاتی شرمای تھی۔۔۔

ن۔نہ کرے خان ۔۔

زینب سیریس ہو کر بیٹھی تھی جب اپنی کمر پر وقار کا ہاتھ محسوس کرتے وہ ہکلای تھی۔۔۔۔

کیا کر رہا میں ۔۔

وقار انجان بنتا ہوا بولا تھا۔۔۔

ک۔کچھ نہیں ۔۔

زینب اپنا وہم سمجھتی بولی تھی ۔۔۔

اسے پہلے ہی گھبراہٹ محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔

لالہ پتہ نہیں کدھر ہے آ ہ۔۔۔

زینب آس پاس حدید کو ڈھونڈتی بول رہی تھی جب وقار نے اس کا گال چوما تھا۔۔۔

وہ دیکھو آ گیا لالہ تمہارا ۔۔۔

زینب کا شوک سے منہ کھولا تھا جب وقار مسکراتا منہ کرواتا سامنے دیکھتا بولا تھا۔۔۔

جہاں حدید اور رعنا اسیٹچ پر آ رہے تھے ۔۔۔

یلیو فل فراک پہنے مہندی کلر کا حجاب کیے ہلکے میک اپ نیلی آنکھوں میں اداسی لیے رعنا بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔

وہ ایول کا سوچ کر پریشان تھی لیکن اپنے بھای کی شادی پر خوش تھی تبھی وہ شامل تھی مہندی پر ۔۔۔

مہندی کلر کا کرتا پہنے ساتھ کریم کلر کی شال بلیو جینز پہنے بالوں کا سٹائل بناۓ اپنے خوبصورت مسکراہٹ سجاۓ حدید بھی شہزدوں سے کم نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔

سارے فکشن میں حدید نے رونق لگا رکھی تھی۔۔۔۔

ہاے خان یہ دونوں کتنے پیارے لگ رہے ہے میرے لالہ تو بیسٹ ہے ۔۔۔

زینب دونوں کو دیکھ چہکتی ہوئ سب بھولتی بولی تھی۔۔۔

جب وقار مسکرایا تھا ۔۔۔

ہاں پیارے ہے لیکن ہم سب جانتے ہے رعنا کا عشق کون ہے لٹل ڈول ۔۔۔

وقار سامنے حدید اور رعنا کو دیکھ بولا تھا۔۔۔

ل۔لیکن وہ مر چکے ہے م۔میرے فیورٹ تھے وہ پتہ جب وہ اپنی گرین آنکھوں سے گھورتے مجھے کہتے تھے گڑیا مٹی مت کھاٶ تب میں انہیں تنگ کرنے کے

لیے مٹی کھا جاتی تھی پھر وہ اپنی شرٹ سے میرا چھوٹا سا منہ صاف کرتے تھے ۔۔۔

اچانک زینب حازم کو یاد کرتی آنسو بہاۓ بولی تھی ۔۔۔

ریلکس لٹل ڈول اب اگر ایک آنسو گرا تو یہی سے اٹھا کر لے جاٶ گا آج تم یہی سمجھو حدید ہی حازم ہے ۔۔۔

وقار سیریس ہوتا اس کے آنسو صاف کرتا سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔۔

م۔میں چاہتی تھی وہ زندہ ہوتے میرے ہاتھوں پر پہلے وہ منہدی لگاتے گڑیا نام لکھتے وہ ۔۔

زینب اپنے ننھے سے ہاتھ دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

ا۔۔۔

کیا باتیں ہو رہی ہے نیو کپل کے درمیان ۔۔۔

حدید اور رعنا پاس آتے بولے تھے وقار وہی چپ ہو گیا تھا۔۔۔

کچھ نہیں تم آو ۔۔۔

وقار مسکراتا بولا تھا۔۔۔

رعنا جلدی سے وقار کے ساتھ بیٹھ چکی تھی۔۔۔

چلو چوزے نکلو یہاں سے میرے لالہ میں پہلے رسم کرو گی ۔۔۔

رعنا چہکتی ہوئ حدید سے بولی تھی۔۔۔۔

بیٹھ جاٶ تم ویسے بھی روشن دان کو دیکھ لو وہ کہاں ہے نظر نہیں آ رہی تنگ نہیں کیا اسے آج میں نے ۔۔

حدید دانت نکالے کہتا وہاں سے بھاگا تھا ۔۔۔

وہ ایسا ہی تھا ۔۔۔

مت چھوا کرو مجھے کتنی دفعہ کہا ہے تم شوہر نہیں ہو میرے ۔۔۔

روشانے تقی کے ساتھ کھڑی باتیں کر رہی تھی جب اس نے کمر سے پکڑا تھا ۔۔۔

روشانے اپنی برہنہ کمر پر تقی کی گرفت پاتے طش سے چلای تھی۔۔۔

بے بی شوہر بن جاٶ گا تم چھونے ت۔۔۔

جس دن شوہر بنے تب چھو لینا سمجھے۔۔۔

روشانے چاہے کتنی روشن خیال والی لڑکی تھی لیکن مرحا نے اسے سمجھایا تھا لڑکی کی عزت کتنی ضروری ہوتی ہے یہی بات ہے آج تک تقی کے ساتھ پیار کرنے کے بادجو اس نے لمنٹ کراس نہیں کی تھی۔۔۔

تبھی آج وہ طش سے چلای تھی۔۔۔۔

اچھا بے بی سوری ۔۔

تقی مانتا اس کا گال چھوتا بولا تھا جب اس نے برا سا منہ بنایا تھا۔۔۔

ایک کال آ رہی میں ابھی آتا ہو ۔۔۔

تقی فون کال لیتا کہتا وہاں سے گیا تھا۔۔۔

کیا ہو رہا روشن دان ۔۔

حدید دور سے دیکھ چکا تھا تقی کا روشانے کو چھونا لیکن غصہ کنٹرول کیے وہ مسکراتا پاس آتا بولا تھا۔۔

ناچ رہی ہو دیکھو ۔۔

روشانے بگڑے تیور لیتی بولی تھی۔۔۔

ارے واہ مجھے بھی سکھاٶ ڈانس ۔۔

حدید دانت نکالے بولا تھا۔۔۔

بکواس بند کرو ۔۔۔

اچھا ڈریس پیارا پہنا ہے لیکن ایک کمی ہے ۔۔

اس کی بات اگنور کیے وہ بولا تھا۔۔۔

کیا کمی ہے جلدی بتاٶ۔۔۔

روشانے فکر مند ہوتی بولی تھی۔۔۔

سب جانتے تھے اپنی لک کے معملے میں وہ کافی سیریس تھی ۔۔۔

یہ تم نے ٹاپ پہنا ہے اس کے ساتھ جکیٹ اچھی لگتی ہے ۔۔

حدید اپنے کندھوں سے شال اتارے روشانے پر دیتا بولا تھا۔۔۔

شال لیتے ہی روشانے کا سارا جسم کور ہو گیا تھا۔۔۔

سفٹی پنز چاہے میں تمہیں اسی کی جکیٹ بنا دیتا ہو ورنہ پلیس کے اندر جانا ہو گا۔۔۔

حدید اچھے سے شال اس پر سیٹ کرتا بولا تھا۔۔۔

یہ لو ۔۔

روشانے اس کی باتوں میں آتی پرس سے کافی سیفٹی پنز نکالے بولی تھی۔۔۔

اس نے مسکراہٹ روکی تھی کیونکہ اگر وہ کہتا اسے یہ لک میں اچھی نہیں لگتی تو روشانے ضد میں ڈریس چینج نہیں کرتی تبھی وہ شال دے چکا تھا ۔۔

کافی دیر بعد حدید شال کی جکیٹ سیٹ کرنے کامیاب ہو گیا تھا۔۔۔

اففف کتنی پیاری لگ رہی ہے پہلی دفعہ مجھے تم اچھے لگے ہو ۔۔۔

اپنے اوپر شال کی بنی جیکٹ دیکھ روشانے خوشی سے چہکتے بولی تھی۔۔۔

شال سے آتی دھمیی دھمی خوشبو روشانے کے دماغ کو سن کر رہی تھی۔۔۔

ہر کام آتا مجھے روشن دان ۔۔۔

حدید مسکراتے بولا تھا۔۔۔

چلو دوست بنتے ہے۔۔۔

روشانے بے خودی میں بول چکی تھی ۔۔۔

دشمن کب تھے ویسے میں نے بدلہ لینا ہے اس تپھڑ کا پھر دوست بنے گے ۔۔۔

روشانے کی ناک کو چھوتے وہ مسکراتے بولا تھا۔۔۔

یہ مجھے اب عیجب کیوں نہیں لگا اس کا چھونا ۔۔

روشانے دل میں سوچا تھا ۔۔۔

اس کا دماغ الجھ چکا تھا بری طرح سے ۔۔۔

اووو لائٹ ہو کیا ہوا ہے ۔۔۔

اچانک پورے لان کی لائٹس آف ہو چکی تھی جب سب ہی چلاے تھے ۔۔

اسیٹچ پر بیٹھی رعنا بھی گھبرای تھی لائٹ آف ہوتے دیکھ ۔۔۔

جانا مت یہاں سے وکی۔۔۔

رعنا اور زینب دونوں نے وقار کا بازو پکڑتے کہا تھا۔۔۔

کوئ نہیں جانتا تھا ان دونوں کے درمیان وقار نہیں کوئ اور بیٹھا تھا۔۔۔

جس نے آہستہ سے زینب کا ننھا سا ہاتھ پکڑا تھا۔۔۔