Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar Readelle50328 Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 10)
No Download Link
Rate this Novel
Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 10)
Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar
““نکاح اسپشیل ![]()
آپ کو کیا ہوا اتنے غصے میں آ رہے ہے ۔۔
سوہا اپنے سامنے سرخ چہرہ لیے احمد کو آتا دیکھ سکون سے بولی تھی ۔۔۔
اسے پتہ تھا منٹوں میں احمد کو غصہ آتا تھا وہ یہی سمجھی تھی کسی بات کا غصہ ہو گا۔۔
ام۔امن نے خودکشی کی ہے ہمیں ہاسپٹل جانا ہو گا۔۔۔
احمد پہلے ہکلایا پھر خود پر قابو پاۓ وہ بولا تھا۔۔۔
کیااااا لیکن کیوں م۔مطلب م۔۔۔
میں نے بتا دیا ہے تم سب کو بتا دو میں جا رہا مہر کے پاس وہ ہاسپٹل ہی ہے امن کے پاس۔۔
سوہا گھبراتی بول رہی تھی جب اس کی سرخ گرین آنکھوں کی گھوری سے وہی رک گی تبھی وہ اپنی کہتا وہاں سے کار کی چابیاں لیے چلا گیا تھا۔۔۔۔
یافی تو امن کی حالت سن وہی پر رونا سٹارٹ کر چکی تھی۔۔۔۔
سب حیران تھے امن جیسی شرارتی بچی نے یہ کام کیوں کیا تھا۔۔۔
م۔میری بچی جان میری بچی کیا ایسی بات ہوئ جو اس نے ایسا کیا۔۔۔۔
یافی زرجان کی باہوں میں آتی پھوٹ پھوٹ کر روتی بولی تھی۔۔۔
سب ہی پریشان تھے ہوا کیا ہے آفندی صاحب تو اپنے دل کو پکڑ کر بیٹھ چکے تھے ۔۔
ص۔صام م۔میں اپنے ۔پوتے حازم کی طرح اپنی نواسی کھونا نہیں چاہتا کچھ کرو تم ۔۔۔
آفندی صاحب وہی صوفے پر بیٹھتے اپنے دل پر ہاتھ رکھتے گہرے گہرے سانس لیتے بولے تھے۔۔۔
جب صام جلدی سے ان کے قریب آۓ تھے ۔۔۔
ریلکس بابا کچھ نہیں ہوا آپ جانتے ہے امن کتنی شرراتی ہے یہ بس ویسے ہی ہم سب کو ڈرانے کے لیے کیا ہو گا سب ٹھیک ہے ۔۔۔
صام آہان مستقیم تینوں ان کے قریب بیٹھتے بولے تھے ۔۔
ن۔نہیں ت۔تم نے تب بھی یہی کہا تھا جب حازم ہم یہاں سے بھیجا تھا کیا ہوا تمہارے سامنے ہی تھا وہ چلا گیا ہم سب سے اتنا دور چلا گیا جہاں سے وہ واپس نہیں آ سکتا تم دیکھنا میں بھی اپنے پوتے کے پاس چلا جاٶ گا ۔۔۔
تم سب جھوٹ بولتے ہو اب میری شکل کیا دیکھ رہے ہو سارے دفع ہو جاٶ یہاں سے میری نواسی کو کچھ نہیں ہونا چاہے ۔۔
آفندی صاحب اب شدید غصے سے چلاتے بولے تھے ۔۔
حازم کے جانے کے بعد وہ ہارٹ پیشنٹ بن چکے تھے ہر چھوٹی بات پر وہ غصہ کر جاتے تھے سب بچوں کے معملے میں وہ حد سے زیادہ سیریس ہو چکے تھے تبھی اب بھی وہ ان کی وہی حالت تھی ۔۔۔
یافی بابا کا بلڈپریشر چیک کرو ہم آتے ہے ۔۔۔
آہان روتی یافی کا ہاتھ پکڑے بولے تھے آفندی صاحب کی حالت کافی بگڑ رہی تھی۔۔۔
————————————————————
کدھر ہے امن ۔۔
کیا ہوا اسے اور یہ سب بچوں والی کیا حرکت ہے ۔۔
دیکھو مہر اگر یہ ڈرامہ ہے تو اسے کہو ایسا مت کرے دادا جان کی حالت نہیں ٹھ۔۔۔
آغا آغا آپ اسے بچا سکتے ہے میں نہیں جانتا اس نے اپنی بازوں کی نس کیوں کاٹی ہے ۔۔۔
مج۔مجھے لگتا میری وجہ سے کاٹی میں پاکستان چھوڑ کر جا رہا تھا ۔میں اچھا لالہ نہ بن سکا اس کا ۔۔۔
احمد ہاسپٹل آتا پریشان سے مہر کے پاس آتا بول رہا تھا جب اسی کے سینے سے لگے وہ آبدیدہ ہوتا بولا تھا۔۔۔
احمد جانتا تھا اس نے ایسی حرکت کیوں کی تھی۔۔۔
ڈا۔ڈاکٹر کیا کہتے ۔۔
احمد نے ہکلاتے پوچھا تھا ۔۔
وہ ابھی کچھ نہیں بتا رہے کہتے ہے حالت کافی ناساز ہے امن کی۔۔۔
مہر اپنی سرخ گرے آنکھوں سے اسے دیکھتا بولا تھا۔۔۔
ہممم ۔۔
احمد چپ ہو گیا تھا۔۔۔
”””ایک دن پہلے ۔۔۔
کیا حرکت ہے امن کچھ شرم ہے تمہارے اندر۔۔۔
احمد اپنے روم میں کپڑے چینج کرنے آیا تھا باہر سارے ہمدانی لوگوں کے پاس بیٹھے تھے ۔۔
جب امن سب سے چھپتی ہوئ اس کے روم میں آی تھی جہاں شرٹ لیس احمد اپنی شرٹ اتارے دوسری پہن رہا تھا تبھی اسے آتا دیکھ وہ غرایا تھا۔۔۔
جب تم سامنے ہو مجھے شرم نہیں آتا ۔۔
میں کیا کہہ رہی تھا وانی سے بڑی تم ہو تمہاری شادی ہونی چاہے ۔۔
پھر کب میرے بابا کے پاس آ کر رشتہ مانگو گی ۔۔
امن سب اگنور کرتی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔
احمد کا غصہ حد سے بڑھ گیا تھا۔۔
نکلو باہر تم زرا آرام سے بات کر لو تم سر چڑ گی ہو تمہاری جیسی لڑکیوں کو عزت راس نہیں آتی ۔۔
شرم کرو تم سے کافی بڑا ہو باقی لڑکیوں کی طرح تم بھی میری نظر میں بچی تھی لیکن تمہاری سوچ افففف۔۔۔
احمد اسے بازوں سے پکڑے روم سے باہر لے کر جاتا منہ میں جو آیا بول رہا تھا۔۔۔
لیکن آغا میں نے صرف محبت ہی کی ہے تم سزا ک۔۔۔
پہلی بات آپ کہو مجھے دوسری بات میں تم سے شادی نہیں کرنی تمہاری جیسی لڑکی سے بلکل نہیں جس کی نظروں میں شرم و حیا نہیں ۔۔۔
امن گھبراتی بول رہی تھی وہ تو بس تنگ کرنے آی تھی لیکن احمد کا غصہ دیکھ وہ بول رہی تھی جب احمد اسے روم سے باہر نکالے بولا تھا۔۔۔
شادی آپ کی مجھ سے ہو گی دیکھنا ورنہ جان لے لو گی ا۔۔۔
ہاہااہاہاااا ہاہہاہاہہا ہاہہاہاہااہا۔۔۔
ایسی باتیں بس ناولز یا ڈراموں میں اچھی لگتی
ہے میں جانتا ہو مجھ سے اچھا لڑکا تمہیں مل گیا تم اس کے گلے کا ہار بن جاٶ گی اب جاٶ یہاں سے ۔۔
امن آنسو بہاتی بول رہی تھی جب وہ طنزیہ قہقہ لگاتا ہوا بولا تھا۔۔۔
مجھے صرف آپ چاہے صرف آپ اگر آپ کو پانے کے لیے مجھے اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے میں ایسا ہی کرو گا۔۔۔۔
امن طش میں آتی دانت پیستے ہوۓ بولی تھی۔۔
انہہہ۔۔
احمد نے حقارت سے کہتے روم کا ڈور بند کر دیا تھا۔۔۔
جب امن روتی ہوئ وہاں سے بھاگی تھی۔۔۔
آغا ڈاکٹر آ گیا۔۔۔
مہر احمد کو ہوش کی دنیا میں لاتے بولا تھا۔۔
کیسی ہے وہ اب ۔۔۔
احمد ڈاکٹر کو دیکھتے بولا تھا۔۔۔
حالت کافی خراب تھی بچی کی کافی خون بہہ گیا تھا ہم نے پوری کوشش کی ہے اس کی جان بچانے کی وہ تو اللہٌکا کرم ہے بچی بلکل ٹھیک ہے بس اب خیال رکھے اس کا کافی ویک بچی ہے ۔۔۔
کوشش کرے خوش رہے وہ ۔۔
ڈاکٹر ساری تفصیل سے ساری بات بتا چکا تھا۔۔۔
ہوش آیا اسے۔۔
احمد سب سنتا ضبط سے بولا تھا کیونکہ وہ خود بھی اس کی حالت سنتا دکھی ہوا تھا۔۔۔
جی بہتر ہے کچھ دیر میں ہوش آ جاۓ گا آپ لے جانا گھر اسے ۔۔۔
ڈاکٹر اپنی کہتا وہاں سے گیا تھا۔۔۔
تم نے تو اسے دیکھا نہیں ہے پھر کیسے مان گے شادی کے لیے ۔۔
مسز ہمدانی اہتشام کے پاس آتی زرا شوک ہوتی بولی تھی وہ اپنے بیٹے کی خصلیت سے واقف تھی۔۔
جانتی تھی ان کا بیٹا کتنا عیاش پسند تھا۔۔۔
ارے ماما ان کے گھر کی ساری بیٹیاں حد سے زیادہ خوبصورت ہے خاص کر وہ نیلی آنکھوں والی جو صرف نقاب سے دیکھتی ہے ۔۔۔
وہ سوہا آفندی دیکھی اففف اس کی گرین آنکھیں آگ اگلتی ہے بلکل اپنے باپ جیسی ہے ۔۔
تم وانیہ بھی پیاری ہو گی پتہ نہیں کس نے ڈرامہ کیا ہے ورنہ آج وانیہ کو دیکھ ہی لیتا مہندی نہیں ہو پائ ۔۔
اہتشام اپنا کرتا اتارے خباثت سے بولا تھا۔۔۔
نہ کرو بیٹا تم نہیں جانتے وہ کتنے امیر اور طاقت والے ہے اگر تم نے ان کی بیٹی کے ساتھ برا کیا وہ تمہارے ٹکڑے کر کے کتوں کو ڈال دے گے تم ایسا م۔۔۔
ارے موم وانیہ احمد آہان افندی کی بہن ہے بلکہ بیٹی کی طرح پالا ہے اس انسان نے آپ جانتی ہے انتیس سال ایج میں احمد آہان آفندی نے مین آف دی بزنس مین کے پورے بیس ایورڈ جیت چکا ہے ۔۔۔
سوچے اس کے پاس کتنی دولت ہو گی جو وہ اپنی بہن کو دے گا وہی دولت میری ہو گی ۔۔۔
ہاہہاہاہاہ ہاہااہاہاہا۔۔۔
مسز ہمدانی اس کی منت کرتی بول رہی تھی جب وہ اپنا پورا پلان بتاۓ قہقہ لگاتا بولا تھا۔۔۔
————————————————————
آغ۔آغا آپ آ گے میں جانتی تھی آپ میری فکر کرتا ہے ۔۔۔
دیک۔دیکھے میں نے اپنی محبت کا یقین دلایا ہے امن صرف احمد کی ہے ۔۔۔
امن کو ہوش آ چکا تھا جب اس نے احمد سے ملنے کو کہا تھا جیسے ہی وہ اندر آیا تھا وہ بیڈ سے اترتی اپنے ہاتھ پر لگی ڈراپ ہٹاے بھاگ کر اس کے قریب جاتی کمزور لہجے سے بول رہی تھی۔۔۔
آرام کرو تم پہلے باتیں بعد م۔۔۔
کیا آر۔آرام کرو میں یہ سب آپ کو پانے کے لیے کیا ہے میں نے دیکھی میری حالت کیا بنا گیا ۔۔۔
آپ کیوں نہیں سمجھتے یہ خودکشی بھی آپ کے لیے کی ہے محبت ہے مجھے آپ سے پلیز مان جاۓ آپ آغا پلیز۔۔۔
بکھرے بال زردی مائل رنگ خشک ہونٹ یہ کمزور سی امن احمد کو وہ لگی ہی نہیں جو گلاب کی طرح ہر وقت مسکراتی شرارتیں کرتے تھی۔۔
تبھی وہ اسے پکڑے بیڈ کی طرف جاتا بول رہا تھا جب اسی کا کالر پکڑے وہ چلای تھی۔۔۔
بچی ہو ابھی تم یہ سب زیب نہیں دیتا تمہیں آرام ک۔۔۔
نہیں کرنا مجھے آرام صرف آپ چاہے مجھے آپ اگر اتنی بری لگتی ہو ابھی جان لے میری میں ایسی زندگی نہیں جینا چاہتی جس میں احمد نہ ہ ۔۔۔
امن امن ڈاکٹر ڈاکٹر ۔۔۔
امن اپنی بازوں سے پٹی ہٹاۓ پورے زخم کو کھولتی روتی ہوئ اس کیا بات کاٹتی طش سے چلائ تھی ۔۔۔
جب زیادہ خون بہنے سے وہ اسی کی باہوں میں جھول گی تھی۔۔۔
احمد نے گھبراتے ڈاکٹر کو بلایا تھا لیکن روم کے ڈور کے پاس آہان مستقیم صام کو دیکھ وہ شوک ہوا تھا ۔۔۔
چٹاخ چٹاخخ ۔۔
کیا ایسی تربیت کی تھی تمہاری جو اپنے ہی گھر کی بچی جان لینے کے لیے تیار ہو گی۔۔۔۔
آہان مستقیم احمد کو لیے گھر آے تھے پورے راستے اس نے کوشش کی تھی بات بتانے کی جب گھر آے آہان نے سب کے سامنے اسے تھپڑ مارا تھا۔۔۔
لالہ ۔آہاننن۔۔
روحا اور ہیر دونوں تڑپی تھی۔۔
پوچھو اس سے کیا کیا ایسا جس کی وجہ سے امن نے یہ کام کیا ۔۔۔
آہان طش سے چلاۓ تھے ۔۔۔
لالہ ریلکس رہے آپ جانتے ہے ڈمپل بواۓ ایسا نہیں ہے امن بچی ہے کچھ ہو ۔۔۔
وہ محبت کرتی ہے اس سے لیکن یہ نواب زادے اکڑ دیکھا رہا ہے انیجل تم جانتی ہو لڑکیاں کتنی نازک ہوتی ہے ۔۔۔
آہان اب روحا پر برستے بولے تھے۔۔۔
زینب وقار سوہا فارس حدید روشانے رعنا سب ہی خاموش کھڑے تھے جبکہ وانیہ اپنے لالہ کے لیے رو رہی تھی۔۔۔
ن۔نہ کرے بابا پلیز لالہ ایسے نہیں ہے معاف کر دے امن
بھی نادان ہے بس و۔۔۔
بسسسس اب کوئ نہ بولے مجھے یہ گنوارا نہیں ہمارے گھر کی بچی اپنی جان لے لے میں نے فصیلہ کیا ہے امن اور احمد کا نکاح ابھی ہو گا ۔۔۔
وانیہ پاس آتی بول رہی تھی جب وہ غصے سے دھاڑے تھے۔۔۔
نہیں بابا وہ میری نیچر کی نہیں ہ۔۔۔
ہیر اور میری نیچر بھی ایک جیسی نہیں تھی لیکن دیکھو آج تک ہم ساتھ ہے اپنے اس دماغ سے فتور نکالو کہ یہ سب چھوٹی بچیاں ہے تبھی امن کو اپنی بیوی کے روپ میں قبول کرو گے ۔۔۔
اس عمر میں بچیاں ایسی ہی ہوتی ہے امن مجھے ویسے ہی پسند ہے میری یافی جیسی ہے۔۔۔
آہان احمد کی طرف اور یافی کو اپنے سینے سے لگاۓ بولتے وہاں سے گے تھے ۔۔۔
سارے بچے خاموش اپنے اپنے رومز میں چلے گے تھے۔۔۔
ر۔رکو بیٹا یہ لو مٹھائ کھاٶ ۔۔
ایول اپنے کسی کام سے آدھی رات کو ہاسپٹل ماسک لگاے آیا تھا ۔۔۔
یہاں ہاسپٹل میں ایک ڈاکٹر ایسا تھا جو انسانی جسم کے اعضا بیرون ملک بھیجتا تھا ۔۔
اسی کا کام تمام کرنے وہ آیا تھا ابھی بھی وہ خون سے بھرے ہاتھ لیے واپس جا رہا تھا جب ایک روم سے گزارتے وہ کسی کی آواز سنتا رکا تھا ۔۔۔
جب وہ شخص مسکراتا اس کے سامنے آتے بولا تھا ۔۔۔
د۔دادا جان۔۔۔
ایول اتنے سالوں بعد آفندی صاحب کو سامنے دیکھ سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔
جو مسکراتے ہوۓ اس کی گرین آنکھیں دیکھ رہے تھے۔۔۔
یہ لو میرے بڑے پوتے کا نکاح ہو گیا میری نواسی کے ساتھ۔۔۔
آفندی صاحب اس کی طرف مٹھائ کرتے مسکراتے بولے تھے ۔۔
احمد اور امن کا نکاح ہاسپٹل میں ہی ہو چکا تھا ۔۔
ایول نے نہ میں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔
اچھا تم ڈاکٹر ہو شاہد تبھی ہاتھ خراب ہے ۔۔۔
آفندی صاحب اس کا ہاتھ پکڑے وہی بینج پر بیٹھتے اس کے خون آلود ہاتھ دیکھ بولے تھے جہاں وہ ماسک لگاۓ ڈاکٹر کے گیٹ اپ میں تھا۔۔۔
ایول نے ہاں میں سر ہلایا تھا ۔۔۔
میرا ایک پوتا بھی تمہارے جیسا تھا کبھی نہیں بولتا تھا تمہارے جیسی سرد برف جیسی گرین آنکھیں ۔۔
سب سمجھتے تھے وہ گھونگا ہے جو بولتا نہیں لیکن وہ تو میرے کھوتے بیٹے صام جیسا تھا وہی لک وہی ایٹیٹیوڈ ۔۔
لیکن وہ چلا گیا مجھے چھوڑ کر میں بھی اس کے پاس جانا چاہتا ہو
تم کوئ میرے انچکیشن لگاٶ جو میں مر جاٶ مجھے اپنے پوتے پاس جانا ہے یہاں درد کافی ہ۔۔۔۔
آفندی صاحب اس کے چہرے کو چھوتے آبدیدہ ہوتے بول رہے تھے جب ایول نے انہیں اپنے سینے سے لگایا تھا ۔۔۔۔
ہاں ایسے ہی وہ مجھے سینے سے لگاتا تھا دل کو ٹھنڈک پڑتی تھی اور پتہ وہ یہاں کس بھی کرتا تھا مجھے اپنی جانو کہتا تھا اس کا فیورٹ دادا جان تھا میں ۔۔۔۔
آفندی صاحب ایول کے سینے سے لگے آنسو بہاۓ بولتے اپنے ماتھے کی طرف اشارہ کرتے بولے تھے۔۔۔
جب ایول نے ان کا ماتھا چومتے کھڑا ہوتے وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔۔
ارے رکو تم میرے حازم ہو حازم حازم حاز۔۔۔
بابا کیا ہوا آپ کو ۔۔۔
نوفل باہر آتے ان کو پکڑتے بولے تھے جو اندھیرے کی طرف دیکھتے چلا رہے تھے۔۔۔
میرا حازم آیا تھا وہ دیکھو چلا گیا یہ میرا ماتھا دیکھو کتنا ٹھنڈا ہے اس نے کس کیا ہے ۔۔۔
آفندی صاحب سامنے اشارہ کرتے بولے تھے ۔۔
سب جانتے تھے وہ اکثر اکیلے بیٹھ کر باتیں کرتے تھے ایسی۔۔۔
کبھی کبھی تو وہ صام کو ہی حازم سمجھ لیتے تھے۔۔۔
جی وہ اندر ہی بیٹھا ہے انیجل کے پاس ۔۔۔
نوفل انہیں اندر لے کر جاتے کہا تھا ۔۔۔
حازم کے جانے دکھ وہ اپنے دماغ پر کافی سوار کر چکے تھے تبھی وہ ایسے بول کر اپنا دل بہلا لیتے تھے۔۔۔
حازم تم نے یہ مٹھائ نہیں کھائ باہر یہ لو کھاٶ۔۔۔
وہ اندر آتے سنجیدہ شکل بناۓ صام کے پاس بیٹھتے بولے تھے ۔۔۔
صام نے ضبط سے آنکھیں بند کی تھی وہ انہیں اب کیا بتاۓ حازم نہیں ہے اس دنیا میں۔۔۔
دادا میں حازم ہو آپ بھول جاتے ہے ۔۔۔
ایسی حالت میں حدید مسکراتا ان کے پاس آتا بولا تھا ۔۔۔
وہی شرمندہ سی کھڑی رعنا نے اپنا سر جھکایا تھا ۔۔۔۔
وہ خود کو قصوروار سمجھتی تھی اسی کی وجہ سے حازم ان سب سے دور ہوا تھا ۔۔۔
یہ سب کیا ہے خان مجھے اچھا نہیں لگتا جب بھی ان سب کو حازم کی یاد آتی ہے تب ہی رعنا شرمندہ ہو جاتی ہے پھر وہ نہ کھاتی ہے نہ ہی پیتی ہے ۔۔۔
صبح ناشتے پر آتی رانیہ زرا غصہ سے بولی تھی۔۔۔
ٹھیک ہو جاۓ گی وہ ریلکس رہو وہ اس لیے شرمندہ ہے کیونکہ وہ سمجھتی ہے اس کی گواہی سے حازم کو سزا ملی تھی اسی کی وجہ سے حازم ایک قاتل بنا تھا وہ۔۔۔
شعیب انہیں پرسکون کرتا بولا تھا۔۔۔
حازم نہیں رہا اس دنیا میں وہ مر چکا ہے لیکن سالوں سے رعنا اپنی ایسی حالت کر کے خود کی زندگی تباہ کر رہی ہے میں ترس گی ہو اپنی بیٹی کی ہنسی شرارتیں اس کا مسلسل بولنا سب کے لیے ترس گیا ہے ہمارا گھر۔۔۔
مجھے تو ایسے لگتا جیسے وہ بھی حازم کی طرح اسی دن مر گی تھی یہ تو کوئ لاش ہے جو بس یہاں وہاں گھومتی ہے ۔۔۔
شعیب بول رہے تھے جب رانیہ پھوٹ پھوٹ کر روتی بولی تھی۔۔۔
وہ بھی پریشان رہتے تھے اس کے لیے ۔۔
اچھا میں سمجھاٶ گا اس۔۔۔
نہیں سنے گی وہ خود کو سزا دیتی ہے ایسے حرکتیں کر کے اتنا تیز بخار ہوا ہے اسے نہ میڈیسن لے رہی نہ ہی بول رہی ہے ۔۔۔
وہ بولے تھے جب وہ پھر ٹوکتی بولی تھی۔۔۔
ہادی سے بات کرتے ہے ایک وہی ہے جو اسے سمجھا سکتا ہے ورنہ تم جانتی ہو رعنا موت کے منہ سے واپس آئ ہے ہمارے پاس۔۔۔
شعیب کچھ سوچتے ہوۓ بولے تھے۔۔۔
مجھے مزہ نہیں آ رہا یار۔۔۔
برئیڈل روم میں دلہن بنی وانیہ کے کان میں زینب سرگوشی کرتی بولی تھی۔۔۔
آفندی صاحب کے کہنے پر وانیہ کی بارات رات کو بجاۓ دوپہر میں لانے کو کہا تھا۔۔۔
تبھی سب تیار ہوۓ ہال میں آ چکے تھے۔۔۔
یافی کے مطابق آفندی صاحب کی حالت بگڑ رہی تھی۔۔۔
ہممم ۔۔۔
وانیہ اداس دل سے بولی تھی ۔۔۔
بارات آ گی بارات آگی۔۔۔
حدید نے ہال میں انٹر ہوتے شور مچاتے کہا تھا۔۔۔
سب نے بہت اچھے سے ویلکم کیا تھا۔۔۔
امن اور مہر بھی آے تھے بارات پر احمد اور امن دونوں نے ایک دوسرے سے بات نہیں کی تھی۔۔۔
جہاں امن کو نکاح کی خوشی تھی وہی اہتشام سے وانیہ کی شادی دیکھ وہ دکھی تھی ۔۔۔
اسے اپنے لالہ کے لیے برا لگا تھا۔۔۔
اہتشام مولوی کو جواب دو وہ پوچھ رہے نکاح کا۔۔۔
مسٹر ہمدانی دلہا بنے اہتشام کو ڈانٹتے بولے تھے جہاں نکاح کی رسم ہو رہی تھی مولوی دو بار پوچھ چکا تھا جبکہ وہ خاموش بیٹھا تھا ۔۔
م۔میں یہ شادی نہیں کر سکتا سوری ۔۔۔
اچانک اہتشام وہاں سے اٹھتا سرد پن سے بولا تھا۔۔۔
لیکن بیٹا کیوں ۔۔۔
آفندی صاحب تڑپ کر بولے تھے۔۔۔
میں ایسی لڑکی کو بیوی نہیں بنا سکتا جس کے دل میں اپنا محبوب بستا ہو ۔۔۔
میں انکار کر چکا ہو اب اپنا فصیلہ نہیں بدلو گا ۔۔۔
وہ اپنی کہتا وہاں سے جانے والا تھا جب احمد نے اسے گردن سے پکڑا تھا۔۔۔
تو جانتا ہے کیا بکواس کر رہا اگر یہ شادی نہیں کرنی نہ کر یہ بکواس مت کر ۔۔۔
میری بیٹی ایسی نہیں ہے ۔۔
میں تیری جان لے لو گا ۔۔
بہن ہے میری کوئ لاورث نہیں جو سب کے سامنے انکار کر رہے ہو ۔۔۔
احمد اسے دبوچتے غراتے بولا تھا۔۔۔۔
سب ہی پریشان ہو چکے تھے یہ ہوا کیا ہے ۔۔۔
نظر لگ گی میرے گھر کو پھر سے ایسے ہی میرے گھر کو تب لگی تھی جب بچے چھوٹے تھے ۔۔۔
آفندی صاحب وہی صوفے پر گرے روتے بولے تھے ۔۔۔
چلو میرے ساتھ وانی سے بات کرو تم اسے بتاٶ کیٶں نہیں کرنا چاہتے ۔۔
میں تجھے چھوڑو گا نہیں ۔۔۔
احمد اسے گردن سے پکڑے برئیڈل روم کی طرف لے کر جاتا بولا تھا۔۔۔
پ۔پلیز مجھ۔مجھ سے شادی کر لو ۔۔
وانیہ دلہن بنی اہتشام کی منت کرتی بولی تھی ۔۔
میں نے انکار کر دیا ہے ۔۔
وہ سکون سے بولا تھا۔۔۔
باہر کھڑا احمد سب سن رہا تھا۔۔۔
ت۔تم جو کہو گے میں وہی کرو گی رحم کرو مجھ پر۔۔۔
وانیہ دلہن کا لہنگا پہنے اپنے برائیڈل روم میں اس کے سامنے ہاتھ جھوڑتی ہوئ روتی بولی تھی ۔۔
ت ۔تمہیں پیسے چاہے تب بھی بتا دو میں دینے کو تیار ہو ۔۔
جبکہ اس کی براٶن آنکھیں سرخ ہو چکی تھی ۔۔۔
ہاہاہہاہاہ تم جیسی لڑکیوں کی عزت نہیں ہوتی کیا افففف میں تم جیسی لڑکی کے ساتھ شادی نہیں کر سکتا شکل سے کتنی معصوم ہو اور کرتوت دیکھو اپنے ۔۔۔
وہ طنزیہ مسکراہٹ لاۓ اس کا ہوشربا حسن سے نظریں چرہاۓ بولا تھا۔۔۔
د۔دیکھو میں تمہارے پاٶں
پکڑتی ہو پلی۔۔
ٹھاہہہہہ ٹھاہہہہ۔۔
اہہہہ اہہہہہ۔۔۔
وہ جو اس کے پاوں پکڑے زمین پر بیٹھی تھی ۔۔۔
وہ بھول چکی تھی کس کی بہن ہے کس کی بیٹی اگر یاد رہا اسے اپنی عزت بچانی تھی اپنے بابا کی عزت بچانی تھی ۔۔۔
جس بھای کی وہ لاڈلی بہن تھی آج کیسے ایک شخص کے قدموں میں بیٹھی منت کر رہی تھی ۔۔
وہ جو خوش ہوتا مسکرا رہا تھا جب وہ اندر آتا اپنے بہن کی ایسی حالت دیکھ بنا کسی کی پرواہ کیے چار گولیاں اس کی ٹانگوں پر ماری تھی۔۔۔
ہمت بھی کیسے ہوئ ایسے بولنے کی تو شاہد بھول گیا ہے میرے غصے کو ابھی بتاتا ہو تجھے۔۔۔
احمد غصے سے لال ہوتی گرین آنکھوں سے اسے کالر سے پکڑتے غرایا تھا۔۔۔
ل۔لالہ ی۔۔۔
شششش ۔۔۔
لالہ لالہ دادا جان کو ہارٹ اٹیک آ گیا۔۔۔
وہ جو اتنا خون دیکھتی اپنے لالہ کی سرخ گرین آنکھیں دیکھ بول رہی تھی جب حدید پریشان سا اندر آتا بولا تھا۔۔۔
د۔دادا جان۔۔۔
اپنے جان سے زیادہ عزیز دادا جان کی حالت سنتے وہ وہی اپنے لالہ کی باہوں میں جھول گی تھی۔۔
وانی وانی میرا بچہ ۔۔۔
احمد اپنے باہوں میں جھولتی وانیہ کو لے کر باہر کی طرف بھاگا چلایا تھا۔۔۔۔
پلی۔پلیز بابا آپ مان جاۓ جانے کو ہاسپٹل ۔۔
آفندی صاحب اپنا درد برداشت کرتے وہی ہال کے بنے روم میں لیٹ چکے تھے یافی نے اپنے ڈاکٹروں کی ٹیم بلا لی تھی جب سب نے چیک کے بعد یہی کہا تھا انہین فوری سرجری کی ضرورت ہے ۔۔۔
لیکن وہ ضدی پر اٹکے تھے وانیہ کا نکاح دیکھ کر ہی ہاسپٹل جاۓ گے ۔۔۔
ابھی بھی یافی روتی بولی تھی۔۔۔
و۔ا۔وانیہ کا نکاح دیکھنا ہے ۔۔
وہ ایک بار پھر سے بولے تھے ۔۔
اب ان کو کون بتاۓ وہ تو بارات لے کر چلے گے وانیہ سے کون نکاح کرے گا ۔۔۔
بابا ای۔۔۔
دادا جان ہماری وانی کا نکاح ہو گا ابھی آپ کے سامنے ۔۔۔
صام ان کا ہاتھ پکڑے بولنے والے تھے جب اندر آتا احمد نے وانیہ اور مہر کا ہاتھ پکڑے کہا تھا۔۔۔
پھوپھو جان میں وانیہ کا نکاح آپ کے بیٹے مہر سے کروانا چاہتا ہو آپ راضی ہے تو اجازت دے۔۔۔
احمد یافی کے پاس آتا بولا تھا۔۔
جب انھوں نے ہاں میں سر ہلایا تھا۔۔۔
سب ہی جانتے تھے مہر وانیہ سے محبت کرتا ہے تبھی کسی کو اعتزاض نہیں تھا۔۔۔
مہر اور وانیہ کو کیسے منایا تھا وہ صرف احمد جانتا تھا۔۔۔۔
آفندی صاحب کا ایک ہاتھ یافی کے ہاتھ میں تھا جبکہ دوسرا ہاتھ وانیہ کے ہاتھ میں جب اندر آتے مولوی صاحب نے وانیہ اور مہر کا نکاح کروا دیا تھا۔۔۔۔
وانیہ نے یہ سب اپنا نصیب سمجھ کر اپنے سارے حقوق مہر زرجان خان کے نام کر دے تھے ۔۔
آپ خوش ہے بابا اب ۔۔۔
نیند میں جاتے آفندی صاحب کو دیکھ یافی ان کی طرف دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
جب وہ مسکراتے بولے تھے ۔۔۔
بہ۔بہت زیادہ ۔اب میں س۔سکون سے سونا چاہتا ہو۔کوئ تنگ ن۔۔۔۔
آفندی صاحب مسکراتے کہتے اپنی آنکھیں بند کرتے بولے تھے ۔۔۔
وانیہ اور یافی کے ہاتھوں سے ان کا ہاتھ چھوٹ کر بیڈ پر گرا تھا۔۔۔
ب۔بابا ۔بابا ۔لالہ دیکھے بابا آنکھیں نہیں کھول رہے ۔۔
باببابااباااباابااببااب۔۔۔۔
یافی ان کی سانسیں چیک کرتی چیختی بولی تھی جب ڈاکٹر کے نہ میں سر ہلانے پر سب کی چیخیں گونجی تھی ۔۔۔۔
آفندی صاحب کی موت کا غم سب سے زیادہ وانیہ اور مہر کو تھا۔۔۔۔
ایک بار پھر آفندی پیلس پر قیامت گزاری تھی ۔۔۔
جہاں پہلے ہنگامہ ہو رہا تھا وہاں اب ماتم منایا جا رہا تھا۔۔۔
آہان مستقیم صام فیا سب ہی اپنے باپ کے جانے پر آبدیدہ تھے۔۔۔
