63K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

آخری قسط
وہ عشاء کے وقت دوبارہ کمرے میں آیا تھا, کمرہ ہنوز لاکڈ تھا, دروازہ کھول کر وہ اندر آ گیا, پورا کمرہ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا, اس نے لائیٹ جلائی… شرمین کمبل لپیٹے بیڈ کے ایک کونے میں سمٹ کر لیٹی تھی, وہ کچھ دیر کھڑا اسے دیکھتا رہا پھر کچن میں آیا, کھانے کی ٹرے بنائی اور کمرے میں آ گیا
“شرمین… ” اس نے دھیرے سے شرمین کے اوپر سے کمبل کھینچا, وہ سوتی بن گئی
“مجھے پتہ ہے تم جاگ رہی ہو… اٹھو ” وہ بولا, شرمین ٹس سے مس نہ ہوئی
“شرمین… یار بس بھی کرو” اویس نے سارا کمبل کھینچ کر ایک طرف پھینک دیا
“میری جان… ” وہ اس کے پاس بیٹھتے ہوئے دھیرے سے بولا تھا, شرمین نے اپنا بازو آنکھوں پر رکھ لیا
“چل بس کر دے نا… ” اویس نے دھیرے سے اس کا بازو ہٹایا, شرمین نے مندی مندی سی آنکھوں سے اسے دیکھا, اویس نے بہت محبت سے اس کے چہرے اور ماتھے پر بکھرے بال ہٹاۓ تھے
“اچھا ایم سوری… چلو اب صلح کر لیتے ہیں ” وہ بولا
“آئی ہیٹ یو… ” وہ کروٹ بدل گئی
“بٹ آئی لو یو… ” اویس اس کے اوپر جھکا تھا
“جن سے پیار کرتے ہیں انہیں جانوروں کی طرح باندھ کر نہیں رکھتے… آزاد چھوڑ دیتے ہیں ” وہ تڑخ کر بولی
“کہاں جاؤ گی آزاد ہو کر ؟” اویس نے پوچھا
“تمہاری بلا سے… جہاں مرضی جاؤں ” وہ بولی
“شرمین تمہارے میکے کے دروازے تم پر ہمیشہ کے لئے بند ہو گئے ہیں… اس کے علاوہ اور کیا ٹھکانہ ہے تمہارے پاس ؟” اویس نے پوچھا
“اویس میں جو مرضی کروں, چاہے کسی بس کے نیچے آ کر مر جاؤں, یا گلے میں پھانسی کا پھندا ڈال لوں.. تم بس میری جان چھوڑ دو, مجھے نہیں رہنا تمہارے ساتھ ” وہ ایک دم اٹھ بیٹھی, دماغ ابھی بھی سیٹ نہیں ہوا تھا
“حرام موت مر جاؤ گی لیکن…. میرے ساتھ خوش ہو کر نہیں رہو گی… شرمین آخر میں نے کیا کیا ہے تمہارے ساتھ ؟ کوئی ایک وجہ تو دو مجھے چھوڑنے کی ؟” اویس تنگ آ گیا
“مجھے نفرت ہے گئی ہے تم سے.. زہر لگنے لگی ہے تمہاری شکل…بس… یہ وجہ ہے” وہ چیخ کر بولی تھی,اویس تاسف سے اسے دیکھتا رہ گیا, پھر چند لمحوں بعد اٹھا اور کھانے کی ٹرے اس کے سامنے رکھ دی
“اچھا کھانا تو کھا لو.. ” وہ اسقدر بے عزتی بھی ہضم کر گیا تھا
“مجھے نہیں کھانا… ” وہ تنک کر بولی
“کھا لو… مجھ سے نفرت ہے… کھانے سے تو نہیں ہے نا… ” اویس نے کہا اور لقمہ بنا کر اس کی طرف بڑھایا
“یہ لو… منہ کھولو” وہ بولا, شرمین نے قہر آلود نظروں سے اس کی طرف دیکھا اور زور سے ہاتھ مار کر ٹرے الٹا دی, سارا سالن بستر کی چادر خراب کر گیا, پانی کا گلاس کمبل پر الٹ گیا, اویس کی برداشت یکلخت ختم ہوئی تھی…اس نے شرمین کی گردن دبوچ لی
“تم دراصل لاتوں کی بھوت ہو جسے میری باتیں سمجھ نہیں آتیں… ” اس نے ایک جھٹکے سے اسے بستر پر پھینکا تھا
“چھوڑ دو مجھے… وحشی انسان” وہ چلائی
“تمہیں وحشی بن کر ہی دکھاتا ہوں آج” اویس کو غصہ آ گیا تھا, شرمین ہاتھ پاؤں مارتی رہ گئی لیکن اویس نے اسے ہلنے نہ دیا
“تمہیں ضرورت ہی کیا ہے کسی بس کے نیچے آنے کی… میرے ہاتھوں سے بچو گی تو اس کمرے سے نکلو گی نا تم” اویس واقعی وحشی بن گیا تھا
“میری محبت کا تماشہ بنا دیا تم نے… ” وہ اس سے اپنا ہر ہر حق وصول کرتا چلا گیا تھا, شرمین کی سسکیاں گھٹ گھٹ کر ہی مر گئیں لیکن اسے رحم نہ آیا
“پھر تم پوچھتے ہو کہ کوئی ایک وجہ دو مجھے چھوڑنے کی ؟” شرمین نے بند ہوتی آنکھوں کے ساتھ سرگوشی کی تھی
“چلو آج کے بعد کم از کم تمہارے پاس وجہ تو ہو گی نا… ” اویس نے اس کا شکستہ وجود رہا کرتے ہوئے کہا تھا
……………………….
اس پورے کمرے میں کسی موت کی سی خاموشی چھائی ہوئی تھی, رخسانہ اور یاسمین چپ چاپ ایک چارپائی پر بیٹھی تھیں, رفیق صاحب دوسری طرف اپنا حقہ لیے بیٹھے تھے, شفیق صوفے پر بیٹھا تھا…اس کے ساتھ اویس بیٹھا تھا, حمزہ اور زبیر دیوار کے ساتھ ٹیک لگاۓ کھڑے تھے…اور وہ… ناعمہ شفیق… وہ سہمی ہوئی سی دروازے کے ساتھ کھڑی تھی, بس وقفے وقفے سے حقہ گڑگڑانے کی آواز آ رہی تھی
“ہن کی کرنا چوہدری… ؟” رخسانہ کی نحیف سی آواز رفیق کے کانوں تک پہنچی تھی
“میری گل سنو… میں تو کہتا ہوں اس سارے معاملے کو سرے سے ختم ہی ہو جانے دو, زبیر پتر تھوڑے کو دن بیوی بچوں کی یاد آۓ گی پھر آہستہ آہستہ بھول جائیں گے, دوسرا ویاہ کر لیں… اللہ اور بچے دے دے گا تجھے… زندگی کونسا ایک عورت پر ختم ہو جاتی ہے” رفیق نے کہا
“اور اگر اللہ نے میری قسمت میں بس یہ ہی ایک عورت لکھی ہوئی تو… ؟ میری اولاد اسی کے بطن سے لکھی ہوئی تو ؟ اس کے بعد میری قسمت میں کسی ٹرک کے نیچے آ کر مر جانا لکھا ہوا تو ؟ ٹھیک ہے پھر… ؟” وہ بولا تو رخسانہ کے کلیجے پر ہاتھ پڑا
“تے فیر کی کراں ؟ شفیق اور یاسمین نے ہمیشہ اپنی اولاد میری اولاد پر قربان کر دینے کا ٹھیکہ تو نہیں لے رکھا… ” رخسانہ نے کہا, آواز بھیگ رہی تھی
“زرینہ کی دفعہ بھی ان کے آگے ہی ہاتھ جوڑے تھے ہم نے… وہ بھی جب اس نامراد کے ساتھ رات کے اندھیرے میں گھر کی چوکھٹ پار کر کے صرف دو دن بعد ہی واپس آ گئی تو ان دونوں کے آگے ہی جھولی پھیلائی تھی ہم نے… تب بھی انہیں کی منت کی تھی کہ ہماری عزت بچا لو… چلو شفیق کو تو کہیں کہ تیرے باپ کا سگا بھائی تھا… خون تھا… لیکن یاسمین تو پرائی تھی نا.. پرائی ہونے کے باوجود اس نے اپنا بیٹا میری جھولی میں ڈال دیا تھا…” وہ رو رہی تھیں
“اور اگر شمس نہ ہوتا… تو زرینہ کہاں جاتی ؟ کیا بنتا اس کا… ؟ کون اپناتا اسے ؟” وہ بولیں
“اور آج آٹھ سال پعد پھر وہی رات آن کھڑی ہوئ ہے… زبیر پتر میں ان دونوں سے کیسے کہوں کہ آج اپنا دوسرا بیٹا بھی میری جھولی میں ڈال دو… تاکہ وہ میرے بیٹے کی خوشیوں کی بھینٹ چڑھ جاۓ… کیسے کہوں ؟” وہ سسکیاں بھر رہی تھیں, شمس بھی ایک طرف خاموش کھڑا تھا لیکن زرینہ خاموش نہ رہ سکی
“بس کر دے امی… پچھلے آٹھ سالوں سے اس شخص کا جو احسان آپ دونوں نے اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہے اس کا بدلہ میں ہزاروں بار چکا ہٹی ہوں, کاش… کاش امی تو نے اس رات چاچا اور چاچی کے سامنے جھولی نہ پھیلائی ہوتی… ؟ کاش تو نے مجھے اس شخص کے ساتھ بیاہنے کی بجاۓ زندہ گاڑھ دیا ہوتا… وہ مرنا ایک دفعہ کا ہوتا… اب پچھلے آٹھ سالوں سے آٹھ سو دفعہ مر چکی ہوں میں… میری کوئی رات ایسی نہیں گزرتی جس رات میں اس کالی رات کا ذکر نہ آتا ہو… جب جب اس شخص نے مجھ سے اپنا حق لیا ہے تب تب مجھے یاد کروایا ہے کہ میں بدکار ہوں… میں نے بدکاری کی تھی… ” زرینہ یکدم رو پڑی
“خدا کی قسم امی میں نے ہزاروں بار شمس کے پیروں میں اپنا چہرہ رکھا ہے, سینکڑوں بار اس سے معافی مانگی ہے, آٹھ سالوں میں کوئی ایسی رات نہیں گزری جس میں مجھے لگا ہو کہ یہ شوہر بن کر مجھے زیر کرتا ہے… ہر بار یہ ایک فاتح بن کر مجھے مغلوب کرتا ہے… آٹھ سال ہو گئے اس کے منہ سے اپنے لئے بدمعاش کا لفظ سنتے, آٹھ سال ہو گئے اس کے تھپڑ کھاتے, ٹھڈے کھاتے, آٹھ سالوں میں اس شخص نے ایک میٹھا بول نہیں بولا, ہمیشہ گالی ہی دی, ہمیشہ طعنہ ہی دیا… آٹھ سالوں سے یہ صرف مجھے اسلئے بیوی مان رہا ہے کیونکہ میں اس کے بچوں کی ماں ہوں” وہ آج پھٹ پڑی تھی
“اللہ نے فرمایا میں شرک علاوہ جو گناہ چاہوں گا معاف کر دوں گا… پھر بندے کیوں نہیں کرتے… ؟ آٹھ سالوں سے میرے دونوں ہاتھ جڑے ہیں… ہر ایک کے سامنے…. لیکن معافی نہیں ہے… اور اگر میرے گناہ کے لئے کسی کے پاس معافی نہیں ہے تو حمزہ کے لئے معافی کیوں ؟ اس کے لئے اتنا نرم گوشہ کیوں ؟ اس نے بھی تو وہی گناہ کیا ہے نا امی… جو میں نے کیا تھا…” وہ کہتی چلی گئی, سبھی خاموش تھے
“میں اپنی معصوم بچی کسی صورت قربان نہیں کروں گا…. ” شفیق نے کہا
“تو کیا کریں گے پھر ؟ جوان بیٹا قتل کروا دیں گے؟” یاسمین تڑخ کر بولیں
“اس جوان بیٹے نے ایک شادی شدہ لڑکی کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کی… وہ بھی دو بار…اس جوان لڑکے نے ایک ننھی جان کو اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی قتل کر دیا… اور میں اس بدکار کے لئے اپنی بیٹی داؤ پر نہیں لگاؤں گا” شفیق نے فیصلہ سنا دیا تھا
“کوشش ہی کی تھی نا… زیادتی کی تو نہیں تھی ” یاسمین سب سے پہلے ایک ماں تھیں
“تو وہ بھی تمہاری بیٹی کے ساتھ زیادتی تھوڑی نا کرے گا… بس وہی کرے گا جو تمہارے بیٹے نے اس کی بہن کے ساتھ کیا ہے… بس اکیلے میں اس کا دوپٹہ کھینچے گا, اسے گلے سے لگاۓ گا, اسے چارپائی پر گراۓ گا, پھر اس پر…. ” حمزہ نے شفیق کی بات کاٹ دی
“ابو بس… بس کریں… ” وہ چیخا تھا
“مجھے یاسر کی شرط منظور ہے… میں اس کے پاس جانے کے لئے تیار ہوں, گناہ میں نے کیا ہے تو سزا ناعمہ کے حصے کیوں آۓ… ؟” حمزہ نے دھیرے سے کہا
“وہ گولی مار دے گا تجھے… “یاسمین رو پڑیں
“امی اگر مقدر میں یونہی لکھا ہے تو یونہی سہی” وہ بولا
“تایا جی تسی مکان دا قبضہ لے لو, زبیر کا سامان وہاں شفٹ کریں اور… رملہ کو لینے میں اس کے ساتھ جاؤں گا” وہ فیصلہ کن لحجے میں بولا تھا, یاسمین روتے ہوئے باہر نکل گئیں, ناعمہ ایک طرف خاموش کھڑی آنسو بہا رہی تھی
……………………….
یاسر اور شمیم باہر صحن میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے, نائلہ انہیں چاۓ دے کر اندر چلی گئی, وہ دونوں بچوں کو سلا کر, نائلہ کو ان کے پاس بٹھا کر باہر نکلی تھی
“آ جا میرا پتر… ” شمیم نے اسے برآمدے میں کھڑے دیکھ لیا تھا, وہ چلتی ہوئی ان کے قریب آ گئی
“کیسا ہے میرا شیر ؟” یاسر نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا
“ٹھیک ہوں ” وہ چارپائی کے ایک کونے پر ٹک گئی
“یاسر بھائی… جب میں نے معاف ہی کر دیا تو بدلے کی کیا ضرورت ہے ” وہ دھیرے سے بولی تھی
“تو نے صرف اپنے شوہر کو معاف کیا ہے… ” یاسر نے کہا
“اگر میں حمزہ کو بھی معاف کر دوں تو ؟” رملہ نے کہا
“وہ تیری مرضی… لیکن میں اسے معاف نہیں کروں گا” یاسر نے کہا
“رملہ… پتہ ہے ابو جاتے ہوئے مجھے کیا کہہ کر گئے تھے… انہوں نے یہ نہیں کہا کہ یاسر اب تو میری بچیوں کا باپ ہے… ان کا خیال رکھنا… بلکہ یہ کہا کہ یاسر ہمیشہ میری دونوں بچیوں کا بھائی بن کر رہنا, بھلا کیوں ؟ کیونکہ باپ کمزور ہوتا ہے رملہ… بالکل ویسے جیسے اس کی بیٹی کمزور ہوتی ہے… نرم دل, رحم دل… باپ کی آنکھوں میں آنسو جلدی آ جاتے ہیں, باپ کا دل جلدی نرم پڑ جاتا ہے… بالکل ویسے جیسے اس کی بیٹی کا… اسی لئے انہوں نے مجھے تم دونوں کا باپ بننے کو نہیں کہا… بھائی بننے کو کہا… کیونکہ بھائی مضبوط ہوتا ہے…اس کا دل چند آنسوؤں سے نرم نہیں پڑتا, وہ اپنی بہنوں کے لئے تن کر کھڑا ہو جاتا ہے…” یاسر کہتا چلا گیا
“میں تیرا بھائی ہوں رملہ… اور میں اتنی جلدی نرم نہیں پڑوں گا جتنی جلدی تو نرم پڑ گئ ہے” یاسر نے کہا
“اور تو نے ہی تو کہا تھا نا… کہ شرائط میں رکھوں گا… تو بس پھر میں نے رکھ دیں” وہ بولا
“ایک لڑکی کو بے عزت کرنے کی شرط یاسر بھائی… اس کا کیا قصور ؟” وہ بولی
“تیرا کیا قصور تھا ؟” یاسر کی آواز اونچی ہو گئی
“میں اس کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کروں گا… بس اتنا ہی جتنا اس کے بھائی نے تیرے ساتھ کیا, بس اس گھر کی چھت پر وہ اکیلی میرے سامنے ہو گی, بس میں بھی یونہی اس کا دوپٹہ کھینچوں گا جیسے اس نے میری بہن کا کھینچا…میں بھی اسے یونہی… ” رملہ نے اس کی بات کاٹ دی, وہ رو رہی تھی
“جرم بھائی کرے… تو سزا بہن کیوں بھگتے ؟” وہ بولی
“میں نے اسے نہیں کہا کہ اس کے حصے کی سزا اس کی بہن بھگتے… وہ غیرت مند ہوا تو خود ہی آۓ گا” یاسر نے کہا, رملہ نے اپنے آنسو خشک کیے تھے
“یاسر بھائی… مجھے نا تو اپنا بھائی ایک خونی کی شکل میں قبول ہے اور نا ہی ایک بدکار کی شکل میں… اگر آپ اسے معاف نہیں کر سکتے تو بس پھر کھیل ختم کریں… میری اور زبیر کی طلاق ہو لینے دیں” رملہ نے کہا
“وہ تیرے بچے کا قاتل ہے رملہ… ” یاسر نے کہا
“خدا نے مجھے اسے معاف کرنے کے بدلے دو دو بچے عطا کر دیئے ہیں” وہ بولی تھی
“مجھے بس یہ ہی کہنا تھا… نہ تو آپ حمزہ کو گولی ماریں گے… اور نا ہی ناعمہ سے بدلہ لیں گے, میری اور زبیر کی علیحدگی ہی ٹھیک ہے” وہ فیصلہ سناتے ہوئے بولی تھی
………………………..
وہ کچن سمیٹ کر کمرے میں آئی تو شمس جاگ رہا تھا, زرینہ نے بس ایک نظر اسے دیکھا اور دونوں بچوں پر کمبل ڈالنے لگی, شمس اٹھ کر اس کے قریب آ گیا
“میری گل سن… ” وہ اسے کلائی سے پکڑ کر دوسرے کمرے میں لے آیا تھا
“چھوڑ مجھے… ” زرینہ نے کہا
“مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ تو میرے سے اتنی تنگ ہے, ابھی کوئی بات رہ گئی تھی تو وہ بھی سنا دیتی اپنے بھائیوں کو, کوئی رونا رہ گیا تھا تو وہ بھی رو لیتی اپنے باپ کے سامنے… ” شمس نے اسے بالوں سے جکڑ لیا
“شمس… بہت ہو گیا, چھوڑ دے مجھے” وہ تڑپی
“آوارہ کہتا ہوں نا میں تجھے… بتا تو آوارہ نہیں ہے تو پھر کیا ہے ؟ تو نے بدمعاشی نہیں کی تو پھر کیا کیا ؟ شادی سے پہلے کسی مرد کے ساتھ چکر چلانے کو بدکاری کرنا ہی کہتے ہیں زرینہ بی بی اور تو بدکار ہی ہے… ” شمس نے اسے بالوں سے جھٹکا دے کر چارپائی پر اوندھے منہ گرایا تھا
“شمس بس کر دے… آٹھ سال ہو گئے ہیں مجھے تیرے آگے یوں جانور بنے… ” وہ روئی تھی
“اور پھر کہتی ہے کیسا احسان… ؟ تجھ جیسی گناہ کی پوٹلی کو میں نے ساری عمر کے لئے اپنے سر پر رکھ لیا… ابھی کوئی احسان ہی نہیں کیا…؟” شمس نے اس کا دوپٹہ کھینچ کر ایک طرف پھینکا اور پھر اپنی قمیض اتارتے ہوئے لائیٹ بند کر کے دروازہ بھی بند کر دیا
“شمس… مجھے معاف کر دے” زرینہ روتے ہوئے اس کے قدموں میں گری تھی, شمس نے اسے بالوں سے جکڑ کر بستر پر اوندھا کیا اور زور سے اس کا منہ دبوچ لیا
“شمس… ” وہ بلک رہی تھی
آٹھ سال پہلے اسے محبت ہو گئی تھی… کسی لڑکے سے, اسی گاؤں کا تھا… اس نے ورغلایا اور زرینہ اس کے ورغلانے میں آ کر رات کے اندھیرے گھر کی دہلیز پار کر گئی… اس نے دو, چار دن استعمال کیا پھر غائب ہو گیا…اور زرینہ بیچاری اپنا آپ لٹوا کر واپس آ گئی… اسی دہلیز پر
اور یہ ہی اس کی غلطی تھی… واپس کیوں آئی ؟ کسی ٹرک کے نیچے آ کر مر کیوں نہیں گئی… ؟ گلے میں پھندا ڈال کر لٹک کیوں نہیں گئی…. ؟ واپس کیوں آئی ؟ کیونکہ اسے لگا کہ شاید…. شاید اسے معافی مل جاۓ… شاید ماں باپ کو ترس آ جاۓ, لیکن وہ بھول گئی تھی کہ… خدا تو معاف کر دیتا یے… اس کے بندے معاف نہیں کرتے… قبر میں اترتے ہوئے مردے تک کو معاف نہیں کرتے
ہاں… وہ ایک لڑکا ہوتا تو اسے ضرور معافی مل جاتی, کیونکہ ہمارے معاشرے میں مردوں کو اکثر جرم معاف ہو جاتے ہیں… جیسے شادی سے پہلے کی محبت, جیسے فلرٹ, جیسے دھوکہ, جیسے جھوٹ, جیسے زیادتی… اور جیسے بیوفائی
وہ درد سے بلکتی رہ گئی لیکن شمس کو ترس نہیں آیا, اپنا سارا غصہ زرینہ پر نکال کر اس نے سانس لیا تھا, وہ دھڑام سے فرش پر گر گئی تھی, وہ اس کے ٹوٹے پھوٹے وجود کو ٹھوکر مار کر باہر نکل گیا, زرینہ کی آنکھیں خون ہو رہی تھیں
“تجھے ساری عمر معافی نہیں ملے گی زرینہ….مرتے دم تک نہیں ” کوئی اس کے اندر سے بولا تھا, وہ اپنی پوری ہمت جمع کر کے اٹھی اور لڑکھڑاتی ہوئی باہر نکل آئی
“دفع مار اس گھر کو… شوہر کو… بچوں کو” آواز اونچی ہو گئی تھی
“جان چھڑا لے زرینہ…. جان چھڑا لے” اس نے کھرے میں پڑی تیزاب کی پوری بوتل اپنے اندر انڈیل لی تھی
………………………..
رات کے نو بج رہے تھے جب وہ کمرے میں آیا, شرمین بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگاۓ بیٹھی تھی, اویس نے اس کا موبائل بھی ضبط کر رکھا تھا, وہ پچھلے دو دنوں سے کمرے سے باہر نہیں نکلی تھی, ناعمہ روز اس کے آگے کھانے کی ٹرے رکھ جاتی تھی, جب بھوک کی انت ہو جاتی تو چند لقمے کھا لیتی, ورنہ ٹرے یونہی پڑی رہتی, دو دنوں سے اس نے سواۓ واش روم جانے کے بیڈ سے پیر نیچے نہیں اتارا تھا, منہ سے بول کے نہیں دی تھی, اب بھی اویس اندر آیا تو وہ یونہی بیٹھی رہی…. کھانے کی ٹرے ہنوز میز پر پڑی تھی, اویس نے ایک نظر اسے دیکھا
ملگجا س حلیہ… بکھرے سے بال… بے رونق سا چہرہ… وہ ایسی تو نہیں تھی جیسی ہو گئی تھی, اویس کو اس پر بے پناہ ترس آیا.. آخر کو بیوی تھی وہ اس کی…جھنڈے گاڑھ کر محبت کی تھی اس سے, ڈنکے کی چوٹ پر شادی کی تھی…دل سے چاہا تھا اسے, سارے زمانے سے لڑ کر حاصل کیا تھا اسے… اس نے شیدھیرے سے کھانے کی ٹرے اٹھائی اور اس کے سامنے آ بیٹھا,
“شرمین… ” وہ دھیرے سے بولا تھا, شرمین یونہی خاموش بیٹھی رہی
“میری جان بس کر دے نا… ” اویس نے اس کے کندھوں کے گرد بازو لپیٹ کر اسے اپنے سینے سے لگایا تھا, پھر دھیرے دھیرے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا
“شرمین… یار میں نے الگ گھر لے لیا ہے, میرا اور تمہارا… وہاں اور کوئی نہیں ہو گا ہم دونوں کے سوا, کوئی جھگڑا نہیں… کوئی فساد نہیں… کچھ دنوں تک شفٹ ہو جائیں گے… ٹھیک ہے ؟” اویس نے کہا, شرمین کچھ نہ بولی
“یار میں بہت محبت کرتا ہوں تم سے… مجھے پتہ ہے تم بھی مجھ سے اتنی ہی محبت کرتی ہو… چلو بس کرو اب… ایک فضول سی ضد کے پیچھے ساری زندگی برباد کرنے پر تلی ہوئی ہو” وہ بولا اور اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھے دیئے
“آئی ہیٹ یو… ” شرمین روتے ہوئے بولی تھی
“بٹ آئی لو یو… ” اویس نے اس کی گیلی گیلی آنکھوں کو چوما تھا, پھر لقمہ بنا کر اس کی طرف بڑھایا, لقمہ منہ میں رکھتے ہی شرمین کا دل متلایا تھا
“کیا ہوا ؟” اویس نے پوچھا, وہ بس اٹھ کر واش روم کی طرف بھاگی
اسے قے آئی تھی… اگلی صبح وہ فیکٹری سے شارٹ لیو لیکر اسے زبردستی ہسپتال لے گیا
وہ امید سے تھی
“مجھے نسرین باجی سے ملنا ہے… ” واپسی پر اس کی یہ ہی رٹ شروع ہو گئی, اویس ناچار اسے وہاں لے آیا
“بس تھوڑی دیر رکنا ہے اور پھر میرے ساتھ ہی واپس جانا ہے” وہ بولا تھا
رہ نسرین کے گلے لگ کر یوں روئی جیسے پتہ نہیں کیا ہو گیا ہو
“کیا ہو گیا شرمین… ؟” وہ بیچاری ہول گئی
“خوشی سے رو رہی ہے نسرین باجی… والدہ محترمہ جو بننے والی ہے” اویس دھیرے سے مسکرا کر بولا
“یا خدا تیرا شکر ہے… ” نسرین اس کا سارا رونا دھونا بھول گئی تھی
اویس بس ایک گھنٹہ وہاں رکا… حاتم بھی بریک میں گھر آیا تھا
“نسرین باجی… میں نے نہیں جانا” شرمین کی وہی رٹ
“شرمین… بس کر دے, خدا کا واسطہ بس کر دے, اب تو خدا نے امید سے کر دیا ہے اب تو بس کر دے” نسرین بھی تنگ آ گئی
“امی ابو ہوتے تو آج میرا یہ حال نہ ہوتا… ؟” وہ رو پڑی
“کیا حال ہو گیا ہے تیرا… ؟ ہیں…. کیا ہوا ہے تجھے ؟ اچھا بھلا شوہر ہے… گھر ہے, ماں بننے والی ہے… کیا کمی ہے تجھے… ؟ شرمین حاتم ٹھیک کہتا ہے, تجھے عادت پڑ گئی ہے ادھر ادھر منہ مارنے کی… طلاق کو کھیل سمجھ لیا ہے تو نے… چپ چاپ اپنے شوہر کے ساتھ اپنے گھر جا…سمجھی, آج امی ابو ہوتے تو وہ بھی یہ ہی کرتے ” نسرین کہتی چلی گئی
“میں خود کشی کر لوں گی ” وہ چیخی تھی
“جا کر لے… ابھی تک تو کی نا…” نسرین نے کہا, وہ آنسو پونچھتی ہوئی باہر نکل گئی, علینہ سے تو اس نے کوئی بات ہی نہیں کی… واپسی پر حاتم اس کے سر پر ہاتھ رکھنے لگا تو اس نے بری طرح اس کا ہاتھ جھٹک دیا
“بس کرو یہ ڈرامے… پتہ چل گیا مجھے کہ کون میرا کتنا سگا ہے ؟” وہ انتہائی بدتمیزی سے بولی تھی, حاتم بس سر جھٹک کر رہ گیا تھا
……………………………….
اسے صبح سب سے پہلے یاسمین نے دیکھا, منہ سے جھاگ نکل نکل کر فرش پر پھیل رہا تھا, ان کی چیخیں سن کر شمس باہر نکلا تھا
بھاگم بھاگ اسے ایمبولینس میں ڈال کر ہسپتال لے کر گئے, ایمرجنسی پر موجود ڈاکٹر نے صاف کہہ دیا کہ حالت انتہائی خطرے میں ہے, حمزہ اور شمس دونوں ہسپتال تھے, ساتھ رخسانہ آئی تھیں
اس کا معدہ واش کیا گیا تھا
پورا دن اس نے آنکھ نہیں کھولی… رات کے قریب جا کر ہوش آیا
وہ بچ گئی تھی… نہ جانے کیوں ؟
“زرینہ…. میری دھی” رخسانہ آخر کو ماں تھیں, زرینہ نے بس چپ چاپ اپنے ماتھے پر رکھا ان کا ہاتھ ایک طرف کر دیا تھا
دونوں بچے اس کے سرہانے کھڑے امی امی کر رہے تھے
“زرینہ پتر…. تجھے سب نے معاف کر دیا, آج کے بعد تجھے کوئی بندہ بھی غلط بات نہیں کرے گا…میری دھی اب نہ ایسا کریں” رخسانہ کہتی چلی گئیں
لیکن کیا واقعی اب اسے اس معافی سے کوئی فرق پڑتا تھا… ؟
اگلے دن وہ ڈسچارج ہو گئی
“امی… ” اس نے دھیرے سے رخسانہ کو پکارا تھا
“اب مجھے سمجھ آ گئی ہے کہ معافی کیسے ملتی ہے… ” وہ انتہائی سرد لحجے میں بولی, رخسانہ دم بخود رہ گئیں تھیں
گھر آ کر بھی وہ چپ چپ ہی رہی, بس خاموشی سے اپنے کمرے میں چلی گئی, جاتے جاتے اس کی نظر کھرے پر پڑی… وہاں ایک نئی تیزاب کی بوتل رکھی تھی
…………………………..
آج رملہ اور شرمین کا سامان شفٹ کر دیا گیا تھا, اویس نے دونوں گھروں کی پانی اور بجلی کی مینٹینینس بھی کروا لی تھی, شفیق اور یاسمین اپنا سامان پہلے ہی شفٹ کر چکے تھے, زرینہ اور شمس کو نیچے اور حمزہ کو اوپر کا پورشن دے دیا تھا, سب کچھ سیٹ کروا کر اس شام اویس شرمین کو لے جانے لگا تھا, اس کا منہ ہنوز سوجا ہوا تھا, تیوری پر جا بجا بل اور گردن میں ایک ہی بل…
“شرمین پتر ہم لوگ تیرے دشمن نہیں ہیں, میں نے اسی دن جس دن تو اویس سے نکاح کر کے اس گھر میں آئی تھی تیرے بھائی کو کہہ دیا تھا کہ میرے لئے تو بالکل رملہ کی طرح ہے لیکن… پتر سسرال میں ایسے
گزارے نہیں ہوتے جیسا تو سوچ کر آئی تھی… سسرال میں تو بہو بن کر آئی تھی… کہیں کہ مہارانی نہیں… بالکل ویسے جیسے علینہ بہو بن کر گئی ہے, پتر کام ہر جگہ ہی کرنے پڑتے ہیں, اور کام کرنے سے کوئی چھوٹا نہیں ہو جاتا, آج تیرے سارے جھنجھٹ ہی ختم ہو گئے ہیں, نہ کسی سے لڑائی…. نہ جھگڑا… بس تو اور تیرا شوہر… اللہ بچہ بھی دے دے گا, جا میرا پتر… سکھی ہو کر رہ… تیرا دل کرے گا تو ہم سے مل لیا کرنا نہیں تو نا سہی, تیرا دل کرے تو ہمیں اپنے گھر آ لینے دینا نہیں تو تیری مرضی, اویس میرا پتر ہے… ناخن سے ماس جدا نہیں کر سکتی میں… اس سے ملنا نہیں چھوڑ سکتی… ” وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھے کہتی چلی گئی تھیں, ان دونوں میاں بیوی نے زبیر کے ساتھ رہنا تھا, گاؤں والے گھر کی قیمت لگ چکی تھی, اسے بھی بس کچھ دنوں تک خالی کرنا تھا
شرمین چپ چاپ اویس کے ساتھ باہر نکل گئی
“مجھے پہلے ایک بار حاتم سے ملنا ہے… ” وہ اس کے پیچھے موٹر سائیکل پر بیٹھتے ہوئے بولی تھی, اویس اسے چپ چاپ حاتم کی طرف لے آیا, وہ گھر پر ہی تھا
“خیر ہے ؟” وہ جب جب آئی تھی تب تب خیر نہیں ہوئی تھی
“میں دو, تین دن یہاں رہ لوں ؟” اس نے پوچھا, حاتم نے اویس کی طرف دیکھا, وہ اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کر گیا تھا
“دیکھ شرمین… یہ تیرا بھی اتنا ہی گھر ہے جتنا میرا… یہ تیرا میکہ ہے, تیرے ماں باپ کا گھر… مجھے تو اتنی ہی عزیز ہے جتنی نسرین باجی… میکہ سمجھ کر رکنا ہے تو رک جا… جتنے مرضی دن تک رک جا… لیکن اگر پھر سے کوئی نئی چال چلنی ہے تو یہ دیکھ میرے جڑے ہاتھ…. چلی جا اپنے گھر, خود بھی سکون سے گھر بسا اور ہم دونوں کا بھی بسا رہنے دے” حاتم نے کہا
“یعنی میں اپنی زندگی…اپنی مرضی سے نہیں گزار سکتی ؟” وہ بولی
“تو نے ایف اے کے بعد پڑھائی چھوڑ دی… اپنی مرضی سے, چار سال بعد دوبارہ بی اے کیا, اپنی مرضی سے, بائیس سال کی عمر تک اپنی مرضی سے پہنا, اپنی مرضی سے کھایا, اپنی مرضی سے سوئی… وقاص سے شادی کروائی… اپنی مرضی سے… دو سال بعد طلاق لے لی… اپنی مرضی سے, چھ, چھ ماہ پھپھو کے گھر گزارے … اپنی مرضی سے, اویس سے عشق رچایا….اپنی مرضی سے, کورٹ میریج کی… اپنی مرضی سے… اس کے سنگ رخصت ہو کر اس گھر میں گئی اپنی مرضی سے… کب تو نے اپنی مرضی نہیں کی شرمین… ؟” حاتم کہتا چلا گیا
“بس ایک بار اور…. حاتم ایک بار اور مجھے میری مرضی کر لینے دے, پھر چاہے ساری عمر نہ کرنے دینا” وہ رونے لگ گئی تھی
“کیا کرے گی طلاق لیکر ؟” اس نے پوچھا, شرمین بول نہ سکی
“میں بتاتا ہوں تو کیا کرے گی…. چار, چھ مہینے سکون سے گھر بیٹھے گی پھر ایک نئے مشن کو شروع ہو جاۓ گی, پھر کوئی اور اچھا لگ جاۓ گا تجھے… پھر اس کے پیچھے لگ کے مجھے ذلیل کرے گی تو… ” حاتم نے کہا
“تجھے بس ایک ضد چڑھ گئی ہے شرمین…. کہ تجھے طلاق چاہئیے, بنا کسی جواز کے, بنا کسی وجہ کے…. بس طلاق چائیے, ایسے نہیں ہوتیں طلاقیں.. وہ جو پیچھے کھڑا ہے نا…. وہی اب تیرا ہے, ساری عمر کے لئے, میرے سے کوئی امید نہ رکھ… میں نہ تیرے ساتھ ہوں… نہ پیچھے… میں سرے سے ہوں ہی نہیں شرمین…. ” وہ بولا, شرمین نے زور سے ہاتھوں کی پشت سے گالوں کو رگڑا تھ, وہ اور حاتم گیٹ کے بالکل سامنے کھڑے تھے, شرمین نے نسرین کی طرف دیکھا… وہ چپ چاپ اندر چلی گئی
“میں اب کبھی یہاں نہیں آؤں گی…” وہ چیخی
“تیری مرضی… ” حاتم نے کہا
“میں مر گئی تو میری شکل بھی نہ دیکھنا تو…. ” وہ اور زور سے چیخی
“ٹھیک ہے… ” حاتم نے کہا
“اپنا بچہ بھی نہیں دیکھنے دوں گی, ترسے گا تو اب میری شکل دیکھنے کو… ” اس نے زور سے کہہ کر دروازے کو ٹھوکر ماری اور باہر نکل گئی, حاتم نے اویس کی طرف دیکھا
“چھوٹی بہن ہے میری… میں نے تجھ پر یقین کے اس کا خود پر یقین توڑا ہے… اب خیال رکھنا اس کا” وہ بولا تھا
“فکر مت کر… ” اویس اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر باہر نکل آیا تھا
………………………….
وہ آج رملہ کو لینے آیا تھا, حمزہ اس کے ساتھ تھا, یاسمین اور شفیق بھی آۓ تھے… شاید ان دونوں کو اب بھی رحم کی ہلکی سی امید تھی, دروازہ نائلہ نے کھولا تھا
“یاسر ہے ؟” زبیر نے پوچھا
“جی… آ جائیں ” وہ بولی, زبیر اندر آ گیا, یاسر اور شمیم صحن میں بیٹھے تھے, رملہ نے دونوں بچوں کو باہر لا کر لٹایا ہوا تھا, انہیں اندر آتا دیکھ کر یاسر کھڑا ہو گیا, زبیر نے پوری نظر بھر کر رملہ کو دیکھا… یوں لگ رہا تھا جیسے اسے دور ہوۓ نہ جانے کتنی ہی صدیاں بیت گئی ہوں…حمزہ نے دیکھا ہی نہیں… دل نے لاکھ پکارا کہ ایک بار… صرف ایک بار لیکن وہ نظریں اٹھا نہ سکا
“میں رملہ کو لینے آیا ہوں ” زبیر نے کہا, یاسر نے اس سے دو قدم پیچھے کھڑے حمزہ کو دیکھا
“میں حاضر ہوں, جیسے تیرا دل کرے ویسے مار دے” حمزہ نے کہا, یاسر بڑے طنز سے مسکرایا تھا
“اب پتہ چلا… کہ بہنیں بھائیوں کو کتنی پیاری ہوتی ہیں.. ” وہ بولا, شفیق اور یاسمین دروازے کے پاس کھڑے تھے
“رملہ نے انکار کر دیا ہے… ” یاسر نے بم پھوڑا تھا
“کس بات سے… ؟” زبیر نے پوچھا
“وہ نا تو حمزہ کا قتل چاہتی ہے…. اور نا ہی ناعمہ کی بے حرمتی… اس نے صاف کہہ دیا ہے کہ میری طلاق ہوتی ہے تو ہو جانے دیں ” یاسر نے کہا, زبیر نے بڑی زخمی نظروں سے رملہ کو دیکھا تھا
“آنٹی جی… آپ اپنا بیٹا لے جائیں, میں نے اسے معاف کیا, مجھے آپ کی بیٹی سے بھی کوئی بدلہ نہیں لینا…میرے ساتھ جس جس نے جو بھی برا کیا… اس کا مواخذہ میں نے اپنے رب پر چھوڑا, وہ ہی انصاف کرے گا, آج خدا نے مجھے سب کے سامنے سرخرو کیا ہے, مجھے دو بچوں سے نوازا ہے, ہر نعمت عطا کی ہے… سو میں نے بھی اپنا معاملہ اس پر چھوڑا… نہ مجھے کسی کی جان لینی ہے اور نہ عزت… اگر میرے مقدر میں یہ ہی لکھا ہے کہ میں اپنے دو بچے اکیلے ہی پالوں… تو یونہی سہی…” وہ کہتی چلی گئی, آنکھوں سے آنسو رسنا شروع ہو گئے تھے, زبیر خاموش کھڑا رہ گیا
“میرا بھائی میرے باپ کی جگہ پر ہے… اور مجھے اس کا سر نہیں جھکانا… ” اس نے فیصلہ سنا دیا تھا
“رملہ اندر جاؤ… ” یاسر نے کہا, شمیم بھی نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھیں, رملہ چپ چاپ اندر چلی گئی
“یاسر… پتر بس کر دے, اتنا پتھر نہ بن” یاسمین رو پڑی تھیں, یاسر دھیرے سے زبیر اور حمزہ کی طرف مڑا
“کیا ضمانت ہے اس بات کی کہ آئیندہ میری بہن کے ساتھ یہ سب نہیں ہو گا ؟” اس نے زبیر سے پوچھا
“یاسر مجھے میرے بچوں کی قسم… آئیندہ اس کی آنکھ میں ایک بھی آنسو آ گیا تو مجھے گولی مار دینا… بنا کوئی سوال جواب کیے…. مجھے میرے رب کی قسم میں آئیندہ اسے کبھی تکلیف نہیں دوں گا, مجھے میری ماں کی قسم یاسر… میں ہمیشہ اسے سر آنکھوں پر رکھوں گا” زبیر روتا جا رہا تھا
“یاسر… وہ میری بیوی ہے, میرے بچوں کی ماں ہے, اللہ کی قسم مجھے اس سے بہت محبت ہے…جو چاہے ضمانت لے لے , جو لکھوانا ہے لکھوا لے… لیکن خدا کے لئے… مجھے معاف کر دے… بلا لے رملہ کو… اسے کہہ کہ مجھے سب کے سامنے تھپڑ مار لے… جتنے دل چاہے, ٹھڈے مار لے, دھکے دے لے, تھوک دے میرے اوپر… لیکن معاف کر دے” وہ ہاتھ جوڑ کر بولا تھا
“وہ اگر یہ سب کر سکتی تو تجھ جیسا بے غیرت یہاں نہ کھڑا ہوتا…یہ ہی تو فرق ہے زبیر… تجھ میں اور اس میں… میں اسے کہوں گا بھی تو وہ تجھے تھپڑ نہیں مارے گی, وہ طلاق گوارہ کر لے گی لیکن تجھ پر ہاتھ نہیں اٹھاۓ گی…کیونکہ وہ ایک عورت ہے, کیونکہ وہ ایک بیوی ہے… خدا کی قسم اگر بیوی کا بس چلے تو وہ ساری عمر اپنے شوہر کی آنکھوں سے آنسو نہ گرنے سے… بیوی کے دل پر ہاتھ پڑتا ہے سالے جب اس کا شوہر اس کے سامنے کھڑا ہو کر سر جھکاۓ… ہاتھ جوڑے… معافی مانگے” یاسر نے کہا اور حمزہ کی طرف مڑا
“اور تو… تو کیا ضمانت دے گا اپنی ؟” یاسر نے کہا, حمزہ فوری طور پر بول نہ سکا
“تیرے ملک بدر ہونے کا کوئی فائدہ نہیں… تو اگلے ہی سال واپس آیا سمجھ, شہر بدری بھی فضول ہے, ہر ہفتے تو یہاں ہی دھمکا رہا کرے گا, گولی تجھے مار نہیں سکتا… بہن تجھے پیاری بہت ہے…. اب بتا اپنی کیا ضمانت دے گا ؟” یاسر کہتا چلا گیا, حمزہ خاموش تھا
“میں بتاؤں ؟” یاسر نے کہا
“حمزہ تو میرا سالا بن جا… تجھ پر ویسے بھی لفظ سالا بہت سوٹ کرتا ہے” یاسر نے کہا, یاسمین اور شفیق چونک گئے
“کیا کہتا ہے… ؟ وٹہ سٹہ کرتے ہیں… رملہ تم لوگوں کے گھر اور ناعمہ میرے گھر… میری بیوی بن کر… کل کلاں کو تو نے اگر رملہ کا حیا نہ بھی کیا… تو کم از کم اپنی بہن کا تو ضرور کرے گا… کیوں ؟” یاسر نے صاف الفاظ میں کہا تھا
“یاسر… ” شمیم نے اسے ٹوکا
“امی یہ ہی ٹھیک ہے… ایسے ہی قابو آۓ گا یہ, جب جب اس کے دل میں رملہ کے لئے شیطان سر اٹھاۓ گا تب تب اسے اپنی بہن یاد آۓ گی…اور صرف اسے ہی نہیں… ان سب کو آۓ گی, پھر میں دیکھوں گا کہ رملہ کو گزند کیسے پہنچتا ہے” وہ فیصلہ سنا چکا تھا
“ہمیں نکاح کی تاریخ دے دو… اور رملہ کو لے جاؤ” یاسر نے کہا, یاسمین نے شفیق کی طرف دیکھا
“انکل… میں غرور نہیں کر رہا لیکن…. خدا کی قسم مجھے عورت کی عزت کرنا شاید آپ کے بیٹوں سے زیادہ اچھی طرح آتا ہے… میں ساری عمر آپ کی بیٹی کو کوئی دکھ نہیں دوں گا لیکن … جہاں رملہ کی آنکھ میں آنسو آیا… وہاں ناعمہ کی آنکھوں سے دریا نکلیں گے” یاسر نے مضبوط لحجے میں کہا تھا
………………………….
وہ سارا کام سمیٹ کر اوپر آئی تھی, شمس جاگ رہا تھا, جب سے وہ ہسپتال سے واپس آئی تھی… انتہائی خاموش ہو گئی تھی… نہ کوئی چیخ و پکار, نہ کوئی پنگا, نہ کوئی بحث…اب بھی وہ خاموشی سے دونوں بچوں پر کمبل ڈال کر اپنی چارپائی کی طرف بڑھ گئی
“زرینہ… ” شمس نے اس کی کلائی پکڑی تھی, وہ چپ چاپ اس کی طرف مڑ گئی
“تیزاب کیوں پیا ؟” اس نے پوچھا
“میری مرضی… ” وہ بولی, شمس کھڑا ہوا اور دو قدم چل کر اس کی طرف آیا
“اگر تو اپنا وہی پرانا کھیل کھیلنا ہے تو یاد رکھنا شمس… میں نے اس کمرے سے نکل کر دوبارہ تیزاب والی بوتل پی لینی ہے… جتنی بار تو میرے ساتھ زیادتی کرے گا میں اتنی بار اپنے حلق میں تیزاب انڈیلوں گی… آخر کبھی تو جان چھوٹے گی نا میری بھی” وہ کہتی چلی گئی, شمس کا سر جھک گیا
“زرینہ… ” اس نے دھیرے سے کہا اور اسے دونوں بازوؤں سے تھام لیا
“چل جو ہوا اسے بھول جاتے ہیں… ” وہ بولا
“یہ تجھے اب یاد آیا… آٹھ سال بعد ” زرینہ کی آنکھیں بھی خشک ہو گئی تھیں, شمس کیا کہتا… کچھ بھی نہ کہہ سکا, بس دھیرے سے اس نے زرینہ کو گلے سے لگایا تھا
“معاف کر دے… ؟” شمس نے اس کے کانوں میں سرگوشی کی تھی اور اس وفا کی مورت نے ایک بار بھی نہیں کہا کہ کہ میں پچھلے آٹھ سالوں سے تجھ سے معافی مانگ رہی ہوں… تو نے تو آج تک معاف نہیں کیا… میں ایک رات میں ہی کر دوں ؟
بس چپ چاپ دو آنسو بہاۓ اور مزید اس کے بازوؤں میں سمٹ گئی… عورت ایسے ہی معاف کر دیتی ہے
……………………….
وہ اسے اور اپنے دونوں بچوں کو لیکر گھر میں داخل ہوا تھا, رفیق اور رخسانہ فی الحال پرانے گھر میں ہی تھے, رخسانہ نے صبح آ جانا تھا, زبیر نے گھر کو اچھا خاصا سیٹ کروایا ہوا تھا, کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے دھیرے سے دونوں بچے بیڈ پر لٹا دیئے, زبیر اس کے پیچھے ہی بیگ اٹھا کر اندر آیا تھا, اس نے خاموشی سے بیگ لا کر کمرے میں ایک کونے میں رکھ دیئے, رملہ دونوں بچوں کو تھپک کر سیدھی ہوئی تھی, تبھی اسے اپنے بالکل پیچھے زبیر کی موجودگی کا احساس ہوا, لیکن اس سے پہلے کہ وہ پلٹتی…وہ اپنے دونوں بازو اس کے گرد باندھتے ہوئے اپنا چہرہ اس کے کندھے پر رکھ گیا تھا, رملہ بس ساکت سی کھڑی رہ گئی, وہ رو رہا تھا, اس کے آنسو رملہ کو اپنی گردن گیلی کرتے محسوس ہو رہے تھے, وہ کچھ بھی نہ بولی, بس چپ چاپ کھڑی رہ گئی
“ایم سوری… ” اس کی سرگوشی مسلسل رملہ کے کانوں میں گونج رہی تھی, ضبط کے باوجود اس کی آنکھوں کا اختیار کھو گیا
“میں ایسا کیا کر جاتی زبیر کہ آپ آنکھ بند کر کے مجھ پر یقین کرنے لگتے… ؟” وہ رندھی ہوئی آواز سے بولی
“خدا کی قسم میں تا عمر تم پر آنکھ بند کر کہ یقین کروں گا… اس رات کو میری آخری غلطی سمجھ کر معاف کر دو رملہ… اس تھپڑ کو میرا آخری تھپڑ سمجھ کر معاف کر دو” وہ بولا اور اپنے لب اس کی گردن پر رکھ دیئے
“زبیر میری کیا مکاری دیکھی تھی آپ نے… ؟ میری کیا بے راہروی دیکھی تھی آپ نے… ؟ پورے گھر کے سامنے آپ نے مجھے مارا… بے دریغ مارا…تھپڑوں سے, ٹھڈوں سے… زبیر میرے وجود میں پلتی دو جانوں کا بھی خیال نہیں کیا… ” وہ بھول نہیں پا رہی تھی
“رملہ… ” زبیر کی حد ختم ہو گئی, اس نے دھیرے سے اسے اپنی طرف موڑا تھا
“رملہ آئی لو یو یار… میں بہت پیار کرتا ہوں تم سے” زبیر نے اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں کے پیالے میں تھام لیا
“میں کیسے رہتا تمہارے بغیر… ؟ میں ہوں ہی کیا تمہارے بغیر.. ؟ خدا کی قسم تمہارے بنا میری دنیا اندھیر ہے… گھپ اندھیر ” اس نے بہت محبت سے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے اس کا ماتھا چوما تھا, رملہ زور سے اس کے گلے لگ گئی, زبیر نے بڑی مضبوطی سے اس کے گرد گھیرا تنگ کیا تھا
……………………………
رات کے دس بج رہے تھے جب یاسر کمرے میں داخل ہوا, نائلہ اور رملہ دونوں ناعمہ کے پاس بیٹھی تھیں, اسے دیکھ کر اٹھ کھڑی ہوئیں…آج یاسر اور ناعمہ کا نکاح تھا, شفیق اسے اپنی بیٹی دینے کے لئے راضی ہو گیا تھا…کیسے ؟؟؟ وہ ایک الگ بحث ہے
“یاسر بھائی… ” رملہ نے اس کی طرف دیکھا, وہ اس کی آنکھوں کے اشارے سمجھ گیا تھا
“فکر نہ کرو… جان سے نہیں ماروں گا اسے” وہ دھیرے سے مسکرایا تھا, سرخ جوڑے میں ملبوس بیڈ کے وسط میں بیٹھی ناعمہ شفیق کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا تھا, وہ دونوں کمرے سے باہر نکل گئیں اور دروازہ بند ہو گیا, یاسر دھیرے سے اس کے عین سامنے آ بیٹھا, ناعمہ کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں, یاسر نے جیب سے اپنا موبائل نکالا اور بازو تھوڑا لمبا کر کے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا, اس کے قریب ہوتے ہی ناعمہ کی جان پر بنی تھی, پھر اس نے چارجر کی تلاش میں نظریں گھمائیں, وہ ناعمہ دوسری جانب بیڈ کے کونے میں پڑا تھا, یاسر زور سے آگے کو ہوا اور ناعمہ کے انتہائی قریب سے ہاتھ بڑھا کر چارجر اٹھایا… مارے خوف کے اس کی منہ سے چیخ نکل گئی تھی جس کا گلا اس نے خود ہی اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر گھونٹا تھا… یاسر نے نظر بھر کر اسے دیکھا
خوف سے پھیلی ہوئی آنکھیں… کپکپاتے لب… لرزتی انگلیاں… کسی پتے کی طرح کانپتا ہوا وجود… اس کے لبوں پر دھیمی سی مسکراہٹ بکھر گئی
“ابھی تو میں نے تمہیں انگلی بھی نہیں لگائی… اور تم چیخیں بھی مارنے لگ گئیں ” یاسر نے کہا, ناعمہ کا چہرہ پسینے سے شرابور ہو گیا تھا, یاسر کھسک کر اس کے اور قریب ہو گیا یوں کے اس کے اور ناعمہ کے درمیان بس چند انچ کی ہی دوری رہ گئی, ناعمہ کے سرخ کپکپاتے ہوۓ لب اسے صاف نظر آ رہے تھے
“جب حمزہ نے پہلی بار رملہ پر الزام لگایا تھا تو تم بھی اس کام میں ملوث تھیں نا… ؟” یاسر نے سرد سے لحجے میں پوچھا
“مم… مم… مجھے….معاف کر دیں…. مم… میں نے… رملہ سے بھی… معافی مانگ…. لی… تھی… میں.. بہت… شرمندہ تھی… وہ… ” اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو تڑوڑ مروڑ کر اس نے ہکلاتے ہوۓ کہا تھا, آنسو دھڑا دھڑ گالوں پر بہے چلے جا رہے تھے, نگاہیں جھکی ہوئی تھیں… یاسر نے بڑے حق سے اس کے لرزتے ہوۓ وجود کی رعنائیاں دیکھی تھیں
“اگر آپ… کہتے ہیں تو…. میں آپ سے… ہاتھ… جوڑ کر معافی… ” ناعمہ نے کہتے ہوئے اس کے سامنے ہاتھ بھی جوڑ دیئے… یاسر کی حد ختم ہوئی تھی, اس کے جڑے ہوئے ہاتھوں کو کھولتے ہوئے اس نے انہی ہاتھوں سے اسے کھینچ کر گلے سے لگایا تھا…. خوشبوؤں کے جھونکے تھے جو اس کے روم روم میں سرائیت کرتے چلے گئے تھے, ناعمہ نے خود پر فاتحہ پڑھتے ہوۓ آنکھیں بند کر لیں
“یہ مت سمجھنا کہ تمہارے بھائی کے جرم کے بدلے تم سے شادی اسلئے کی کہ سزا تمہیں دوں گا… نہیں…کبھی نہیں… بس تمہیں میری دسترس میں دیکھ کر وہ انسان ضرور بن جاۓ گا” یاسر نے اس کا گلاب سا وجود خود میں سمیٹتے ہوئے لائیٹ بند کی تھی
“تم میری بیوی ہو… اور میں اپنی بیوی سے ساری عمر محبت کروں ا” وہ اس میں گم ہوتا چلا گیا تھا
…………………….
بس… کہانی ختم…. ارے نہیں نہیں… ایک کہانی تو ابھی اور بھی ہے
دو ماہ بعد….
وہ کلاس لیکر نکلی تھی جب اسے چوکیدار کا پیغام ملا, کوئی اس سے ملنے آیا تھا
“مجھ سے کون ملنے آیا ہے… ؟” اس نے حیرانی سے سوچا
“سارہ… ذرا میرے ساتھ آنا… ” ایک ساتھی کولیگ سے کہتے ہوئے وہ سٹاف روم سے باہر نکل آئی, گیٹ کے بالکل ساتھ ایک چھوٹا سا وزیٹنگ روم تھا
“کون ہے شریف بابا… ؟” اسللل نے گیٹ کی طرف آتے ہوئے چوکیدار سے پوچھا
“کوئی لڑکا ہے میڈم صاحب… ” چوکیدار نے کہا, وہ حیرانی سے سوچتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی اور ٹھٹھک گئی
وہ اسے اندر آتا دیکھ کر کرسی سے کھڑا ہوا تھا
“میں آپ کے پچھلے سکول گیا تھا… وہاں سے پتہ چلا کہ آپ کا یہاں ٹرانسفر ہو گیا ہے, تو میں یہاں آ گیا… نمبر ڈیلیٹ ہو گیا تھا اسلئے کال نہیں کر سکا… ” وہ ہینڈسم سا لیب ٹیکنیشن کہتا چلا گیا
“نمبر ڈیلیٹ نہیں ہوا آپ سے…. وہ نمبر آپ نے کبھی سیو ہی نہیں کیا حمزہ شفیق… ” ندا نے دونوں ہاتھ سینے ے پر باندھتے ہوئے کہا تھا
“یہ کون ہے ندا ؟” کولیگ نے کہنی مار کر پوچھا تھا, ندا بس خاموش سی نظروں سے حمزہ کو دیکھتی رہ گئی…بھلا کون تھا وہ ؟
“آپ سے ضروری بات کرنی ہے… میڈم ندا” وہ بولا
“سارہ میں آتی ہوں… تم جاؤ” وہ بولی, سارہ چپ چاپ کمرے سے باہر نکل گئی
“فرمائیں… ” ندا نے آگے کو آتے ہوئے پوچھا, حمزہ نے پینٹ کی پاکٹ سے اس کی رنگ نکالی اور دھیرے سے اس کے سامنے پڑی میز پر رکھ دی
“کیا یہ ممکن ہو سکتا ہے ؟” حمزہ نے پوچھا, ندا ساکت رہ گئی تھی, دل نے سینے کے اندر ایک طوفان کھڑا کر دیا تھا
“آپ کی فرسٹ چوائس کدھر گئی ؟” ندا نے پوچھا
“نہیں مل سکی… قیامت تک نہیں مل سکتی…” حمزہ نے کہا
“اور آپ نے سوچا کہ اگر وہ نہیں ملی تو اسے کیوں گنواؤں ” ندا نے کہا, حمزہ نے ایک لمبی سانس بھری تھی
“ندا میں اور آپ شاید وقت سے پہلے ایک دوسرے کو مل گئے تھے…بس اتنی سی بات ہے… آپ میری فرسٹ چوائس نہ سہی… لیکن میری لاسٹ چوائس ضرور ہیں… خدا کی قسم اگر آپ یہ رنگ اٹھا لیتی ہیں تو میں اپنی پوری زندگی آپ کے نام کرنے کو تیار ہوں” حمزہ نے کہا
“سوری… مجھے نہیں بننا کسی کی لاسٹ چوائس ” وہ بولی تو آواز جیسے اندر کو اتر گئی, بڑی مشکلوں سے اس نے بے قابو دل کو قابو کیا تھا, حمزہ دھیرے سے مسکرایا
“وہ آنسو جو اس دن آپ کی آنکھوں کے گوشوں میں چمک رہے تھے… وہ آج بھی وہیں چمک رہے ہیں ندا جاوید… آپ میری فرسٹ چوائس نہ سہی… میں تو آپ فرسٹ چوائس ہوں نا… ؟” وہ بڑے حق سے بولا تھا, جان چکا تھا کہ وہ دل لگا بیٹھی تھی
عورت کا سب سے بڑا المیہ یہ ہی ہے کہ کسی عادی مجرم سے بھی دل لگا لے تو اسے محبت کے صدقے سارے گناہ معاف کر دے
حمزہ چند لمحے اس کے چہرے کی طرف دیکھتا رہا… پھر رنگ اٹھا کر باہر کی طرف بڑھا, وہ دروازے میں تھا جب ندا نے اسے پکارا…
“یہ رنگ اپنی امی اور ابو کے ہاتھ بھجواییے گا” وہ دھیرے سے بولی تھی, آنکھوں کے گوشوں سے پانی کے قطرے باہر پھسل آۓ تھے, حمزہ بس سر جھکا کر باہر نکل گیا تھا
…………………………..
نو ماہ بعد…
“اویس… اویس… ” وہ بری طرح چیخی تھی, اویس واش روم میں تھا, اس کی چیخیں سن کر بوکھلایا ہوا باہر نکلا… جسم پر بس ایک تولیہ ہی باندھ رکھا تھا
“کیا ہو گیا…. ؟” وہ ہاتھوں میں صابن لئے کھڑا تھا
“مجھے درد ہو رہا ہے… بہت شدید, مجھے ہسپتال لے چلو, ٹائم ہو گیا ہے” وہ بیڈ پر آڑی ترچھی سی ہو کر حلق کے بل چلائی تھی
“شرمین کوئی خدا کا خوف کرو, پچھلے ایک مہینے میں میں تمہیں چار دفعہ ہسپتال لیکر جا چکا ہوں لیکن وہاں جا کر پتہ چلتا ہے کہ یہ تو لیبر پین ہے ہی نہیں… تمہیں گیس پرابلم ہو رہی ہے” اویس جھلا کر بولا
“اویس اب لیبر پین ہی ہے… میری جان نکل رہی یے, مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا” وہ دھم سے پیچھے کو گر گئی
“اچھا نہا تو لوں… ” وہ بولا
“تمہارے نہانے کے دوران چاہے یہیں میرا بچہ اس دنیا میں آ جاۓ… ” وہ چیخی
“چلو اچھا ہے…. ہسپتال جانے سے بچ جائیں گے”اویس کے کہتے ہی شرمین نے اسے کشن اٹھا کر مارا
“ابھی چلو… جلدی” وہ بے تحاشا چیخ رہی تھی, اس کی پریگنینسی کے نو ماہ جس طرح گزرے تھے… وہ اویس ہی جانتا تھا
اب بھی وہ اسے ہسپتال لیکر بھاگا… ڈلیوری نارمل ہی تھی لیکن وہ تو اسقدر گلا پھاڑ کر چیخی کہ پورا ہسپتال سر پر اٹھا لیا, اویس نے کال کر کے رخسانہ اور نسرین کو بھی بلا لیا تھا
“میرا آپریٹ کروا دیں… میں مر جاؤں گی… اویس میں مر جاؤں گی” اس کی ہاہا کار سے مجبور ہو کر لیڈی ڈاکٹر نے آپریشن کر دیا
خدا نے اسے بیٹے سے نوازا تھا
“شرمین نے بھی بچہ پیدا کر ہی لیا… ” نسرین کو یقین نہیں آ رہا تھا, اس کے بیٹے کو گود میں اٹھاۓ بس چومے جا رہی تھی
“بس کریں… جراثیم لگ جائیں گے اسے” وہ ادھ موئی ہو کر بھی چپ نہیں ہوئی تھی
“حاتم نہیں آیا.. ؟” اس نے پوچھا
“تم نے ہی تو کہا تھا کہ میں اپنا بچہ بھی نہیں دیکھنے دوں گی” اویس نے مسکراتے ہوئے کہا
“حاتم کو بلاؤ… جلدی… میرے بچے کا اکلوتا ماموں ہے وہ, وہی گڑھتی دے گا اسے… خبردار جو تم نے اسے گڑھتی دی تو… ؟” وہ بولے جا رہی تھی
“اویس… کسی نرس سے کہہ کر اسے نیند کا انجیکشن لگوا دے… ایویں فضول ہانکے جا رہی ہے” رخسانہ تنگ آ گئیں تھیں, اویس بس مسکرا کر رہ گیا تھا
…………………………..
چلیں بس… میں تھک گئی ہوں لکھ لکھ کر… کہانی ختم ہوئی… سب ہنسی خوشی رہنے لگے
ختم شد