63K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

وہ کچن میں کھڑی ہنڈیا بنا رہی تھی جب باہر سے شور کی آواز سنائی دی, اس نے پیاز میں چمچ چلایا اور کچن کے دروازے میں کھڑے ہو کر باہر دیکھا, بیرونی دروازے سے شفیق اندر داخل ہوا تھا, اس کے بالکل پیچھے حمزہ تھا, رملہ بس ایک نظر ان دونوں کو دیکھ کر واپس کچن میں گھس گئی, یاسمین بڑی دیر تک اسے گلے سے لگاۓ کھڑی رہیں
“اے یاسمین بس کر دے… سیاچن سے نہیں لوٹا تیرا پتر جو یوں ڈرامے کر رہی ہے” رخسانہ نے دونوں کو الگ کیا تھا, وہ بس اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے پیچھے کو ہٹ گئیں
“پہلی بار مجھ سے اتنی دور گیا ہے میرا بچہ…. وہ بھی اکیلا “یاسمین نے کہا
“کیوں… اسکا کیا باپ نہیں ہے وہاں ؟” رخسانہ نے اسے گھرکا
“مجھے تو لگتا یہ منڈا پہلے سے بھی ایک دو انچ لمبا ہو کر آیا ہے لاہور سے”رخسانہ نے اسے گلے سے لگاتے ہوئے کہا تھا
“یاسمین… اسے اور اس کے بیگ کو سیدھا اوپر لے جا… کل جب اسے دیکھنے والے آئیں گے بس تبھی یہ نیچے اترے گا” شفیق نے کہا
“ابو یار میں کچھ نہیں کرتا… “وہ شرمندہ سا ہو گیا, اپنا بیگ اٹھا کر وہ یاسمین کے پیچھے ہو لیا
کچن کے سامنے سے گزرتے ہوئے بس لمحہ بھر کو اس کے قدم سست پڑے تھے لیکن وہ نگاہیں پھیر کر اسے دیکھ نہیں سکا تھا, بس چپ چاپ اوپر چڑھتا چلا گیا, زبیر اس سے نہیں ملا تھا
اگلے دن ان لوگوں نے آنا تھا, یاسمین اور ناعمہ نے خود ہی رملہ کو کچن میں نہ آنے دیا
“پتر تیرا بازو ابھی پوری طرح ٹھیک نہیں ہوا… اتنا کھانا کیسے پکاۓ گی ؟ ناعمہ خود ہی کر لے گی” یاسمین نے رسان سے کہا تھا, وہ بھی سر جھکا کر کمرے میں بند ہو گئی تھی, گھر کی ستھرائیاں زرینہ کے ذمے تھیں, وہ آج کل بالکل ایک بم کے مشابہ ہو رہی تھی… ہاتھ لگاؤ تو پھٹ جاۓ
ناعمہ سارا کام ختم کر کے روٹیاں بنانے لگی تو گیس ندارد… اس نے تو سارا کچن سر پر اٹھا لیا
“جس نے پکانی ہے پکا لو توی پر… مجھ سے تو نہیں پکائی جاتیں… ” وہ آٹا سلیب پر رکھ کر باہر نکل گئی, یاسمین نے بمشکل زرینہ کی لیپا پوتی کر کہ اسے ساتھ لیا اور باہر توی رکھ کر روٹیاں پکانے لگی, یاسمین توی پر ڈال رہی تھیں اور زرینہ سینک رہی تھی, تبھی شرمین جی چلی آئیں
سٹائلش سا سوٹ… کھلے بال… دل میک اپ…. ٹک ٹک کرتی ہیل
“توبہ ہے… کتنی گرمی ہے یہاں ؟” وہ بولی پھر جھک کر روٹیاں دیکھنے لگی
“اوۓ ہوۓ, یہ کیسی روٹیاں پکا رہی ہیں آپ دونوں ؟ اف اس کا نخرہ
“کیا ہوا ہے انہیں ؟” یاسمین نے پوچھا, زرینہ نے ٹھاں کر کے سینکہ توی پر مارا, سارا غصہ اب توی پر ہی اتر سکتا تھا
“دیکھیں ذرا… نہ گول نہ چوکور… اس میں سوراخ ہے, یہ کناروں سے موٹی… یہ ویسے جل گئی” وہ کہتی چلی گئی, سینکہ دوبارہ توی پر پڑا
“اے زرینہ ہولی… ہولی کر…توی گر جاۓ گی” یاسمین نے کہا
“چاچی اس حرافہ کو کہیں یہاں سے دفع ہو جاۓ” وہ پھنکاری اعر روٹی سینکے پر رکھی
“حرافہ ہو گی تو خود… ” شرمین نے بالوں کو جھٹکا مارا تھا, زرینہ کے تن بدن میں آگ لگ گئی
“زرینہ روٹی جل گئی ساری… ” یاسمین چیخیں, زرینہ نے سینکا ٹھاں سے توی پر مارا اور اس سے پہلے کہ کچھ بولتی, توی دھڑام سے الٹ گئی, ساری روٹیاں چولہے میں اور گرم گرم راکھ کا وہ ہلہ اٹھا کہ وہ دونوں چیخیں مارتی ہوئی دور بھاگ گئیں, آٹے کے پیڑے ادھر ادھر بکھر گئے اور اسی بھاگم دوڑ میں یاسمین کا پاؤں سوکھے آٹے کی پرات میں جا پڑا, وہ جو الٹی تو ایک بگولہ سوکھے آٹے کا چل پڑا
“مرن جوگی… یہ کیا کیا… ” یاسمین کی آنکھوں میں بھی آٹا چلا گیا تھا
اور رہ گئی شرمین… وہ تو بس حق دق وہاں کھڑی رہ گئی تھی, سارے کپڑے راکھ اور مٹی سے اٹ گئے, سلک کا شرارہ جگہ جگہ سے سوراخ دار ہو گیا, چہرے پر سوکھے آٹے نے لیپ کر دیا, بالوں میں بھی راکھ پر گئی اور اسے کھانسی کا وہ دورہ پڑا کہ توبہ…
“کتی… کمینی نہ ہو تو… ” وہ بکتی جھکتی اندر کو چلی گئی تھی, یاسمین, زرینہ کو گھور کر رہ گئیں
“خدا کرے کہیں پوری کی پوری ہی سڑ جاتی… ” زرینہ کے دل کو ٹھنڈ پڑی تھی
…………………..
وہ لوگ بارہ بجے آۓ تھے, لڑکی کا باپ, ماں, بہن اور بہنوئی… زبیر کچھ دیر بیٹھا پھر اٹھ کر کمرے میں چلا آیا… رملہ بھی بس سلام دعا کر کے واپس آ گئی, حمزہ کو شفیق اپنے ساتھ نیچے لیکر اترا تھا
“یہ میرا چھوٹا بیٹا ہے… حمزہ, لیب ٹیکنیشن کا کام کرتا ہے” یاسمین نے تعارف کروایا تھا
کیا کمی تھی بھلا حمزہ میں… اویس اور زبیر دونوں سے ہی نکلتا ہوا قد تھا, رنگت بھی زبیر کی نسبت قدرے صاف تھی, اوپر سے پہننے اوڑھنے کا سلیقہ تھا… اب بھی وہ ڈارک گرے سیلف پرنٹ کے سٹائلش سے کرتے کے ساتھ وائیٹ شلوار پہنے پیروں میں گرے لیدر سینڈل ڈالے مہمانوں کے پاس آ کر بیٹھا تو ستائش تو سبھی کی نظروں میں ابھری تھی… ایک عدد خوبصورت لڑکا اور وہ بھی کماؤ.. ہر قسم کے پان, سگریٹ اور نشے سے پاک… پھر بلا اعتراض کرنے والی کیا بات رہ جاتی ہے
کچھ دیر وہ وہاں بیٹھا ان کے سوالوں کے جواب دیتا رہا پھر اٹھ کر باہر آ گیا
“اسے کہہ اوپر چلا جاۓ… ” شفیق نے دھیرے سے ناعمہ کو کہا تھا لیکن اس سے پہلے کہ وہ باہر نکلتی, حمزہ چپ چاپ مین دروازے سے باہر نکل گیا
یہ بھی انسانی سرشت ہے کہ اسے جس کام سے جتنا روکو… ہمک ہمک کر اسی کی طرف بھاگتا ہے, اب بھی اسے جتنی شدت سے رملہ کو دیکھنے کی طلب ہو رہی تھی وہ ناقابل برداشت تھی
رخسانہ نے حتی المکان شرمین کو ان لوگوں کے پاس اکیلا نہ بیٹھنے دیا, شام چار بجے کے قریب وہ لوگ واپس چلے گئے, حمزہ انہیں دروازے پر ہی مل گیا تھا
“چل حمزہ سامان باندھ… ” ان کے جاتے ہی شفیق نے کہا
“ابو میں نے نہیں جانا لاہور…. مجھے ہسپتال سے دس فون آ چکے ہیں, وہ لوگ واپس آنے کا کہہ رہے ہیں, ڈاکٹر کہہ رہا تھا کہ سیلیری بھی بڑھا دے گا” حمزہ نے کہا
“چپ چاپ اپنا بیگ باندھ… جب منگنی ہو جاۓ گی تب واپس آ جانا” شفیق نے کہا
“ابو یار بس بھی کریں… کچھ نہیں کرتا میں” وہ تنگ آ گیا
“مجھے پتہ ہے تو اب کچھ نہیں کرے گا لیکن یہ جو بال ہیں میرے یہ دھوپ میں سفید نہیں ہوۓ حمزہ… آجکل جو تیرے حالات ہیں ان میں تیرا بس اسے دیکھ لینا ہی کام خراب کر دے گا” شفیق نے اس کی ایک نا سنی
“یاسمین انہیں ہاں کر دے… اور میں رفیق بھائی سے کہتا ہوں کہ اچھی طرح ان لوگوں کی چھان بین کروا لیں… بس پھر اس کی منگنی کر دینی ہے” شفیق اسی شام اسے واپس لاہور لے گیا تھا, حمزہ اسے دیکھ بھی نہ سکا… دل ایسے جیسے ماتم کر رہا ہو
رفیق صاحب نے لڑکی والوں کی ساری چھان بین کروا لی…کافی اچھے اور شریف لوگ تھے, انہوں نے بھی حمزہ کو اوکے کر دیا… لڑکی کا نام ندا تھا, اگلے مہینے حمزہ کی منگنی طے ہو گئی تھی
……………………….
وہ اس دن کالج سے واپس آئی تھی, بیگ کندھے پر ڈالتے ہوئے وہ رخسانہ کے کمرے کے آگے سے سلام کرتے ہوئے گزر گئی, اپنا کمرہ کھولا اور اندر آ گئی, کپڑے چینج کر کہ ریسٹ کرنے لگی تھی جب باہر ایک شور عظیم مچ گیا, وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکلی
شرمین اور زرینہ کی چونچ اڑ گئی تھی…اور شرمین نے زرینہ نامی اس بم کو چھو لیا تھا
“آج کے بعد تو مجھے نیچے نظر آئی تو ٹانگیں توڑ دوں گی تیری ” شرمین چیخی
“تیرے باپ کا گھر نہیں ہے سمجھی… میں روز نیچے نظر آؤں گی تجھے, کیا اکھاڑے گی میرا ؟” زرینہ اس کے سامنے آ گئی
“تیرے جیسیاں ہوتی ہیں جو ساری زندگی بھابھیوں کے سروں پر ناچتی ہیں, خدا جانے کہاں منہ کالا کیا تھا جو ماں نے گھر کی گھر میں ہی رکھ لی” شرمین نے کہا
“میں کہہ رہی ہوں بکواس بند کر اپنی… میں نے تو چلو منہ کالا کیا… تو نے کیا کیا… ؟ شادی کے بعد بھی ایک مرد پر نہ ٹکی” زرینہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس کے تھپڑ جڑ دیتی
“اے زرینہ …بس کر دے, چل اوپر” رخسانہ نے اسے اوپر دھکیلا
“میں نے تو چلو شادی کی نا… تو نے تو شادی کے بغیر ہی سب کچھ کر لیا”شرمین کے کہتے ہی زرینہ اس پر جھپٹ پڑی, رملہ اور رخسانہ چھڑواتی ہی رہ گئیں, دونوں نے ایک دوسرے کے وہ بال کھینچے کہ خدا کی پناہ…
عین وقت پر اویس آ گیا
“اویس… دیکھیں یہ عزت ہے میری اس گھر میں” وہ چیخیں مار مار کر رو رہی تھی, اویس کو قہر چڑھ گیا, بالوں سے گھسیٹتے ہوئے وہ زرینہ کو اوپر چھوڑ کر آیا تھا
“میں نے تجھے گولی مار دینی ہے اب نیچے اتری تو ” وہ چنگھاڑتے ہوۓ بولا تھا, شام ہوتے ہوتے شرمین نے اچھا خاصا بخار چڑھا لیا تھا
……………………….
حمزہ اپنی منگنی سے ایک روز پہلے آیا تھا, ندا کے گھر والوں نے منگنی کا فنکشن جوائنٹ ہی میرج ہال میں رکھ لیا تھا, اس رات بھی شرمین کچن سے باہر نکلی تو رملہ اور زبیر دونوں کھانا کھا رہے تھے, رملہ نے کھانا ڈائیننگ ٹیبل پر ہی لگا دیا تھا, وہ مسکراتے ہوئے اپنا کپ لیکر وہیں ان دونوں کے پاس بیٹھ گئی
“زبیر تو نظر ہی نہیں آتا…” وہ ہنستے ہوئے بولی
“اچھا ہی ہے نا بھابھی… آپ کو اویس ہی نظر آۓ تو اچھا ہے” زبیر نے کہا
“اب تو دو دن نظر آؤ گے نا… حمزہ کی منگنی ہے آخر”شرمین نے تاک کر کہتے ہوۓ رملہ کی طرف دیکھا, وہ چپ چاپ کھانا کھا رہی تھی
“ہاں جی… دو چھٹیاں لی ہیں” زبیر نے کہا
“لینی بھی چاہیے, آخر کو اپنی لیکچرار بیوی پر پہرہ بھی تو دینا ہے نا تم نے ” شرمین نے کہا, رملہ کے ہاتھ لمحہ بھر کو ساکت ہوۓ تھے
“اگر آپ نے یہاں بیٹھ کر یہ ہی فضول گوئیاں کرنی ہیں تو براہ مہربانی اپنے کمرے میں چلی جائیں ” زبیر نے کہا, رملہ پانی کا گلاس ختم کرتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی تھی
“ارے تم تو برا منا گئے…میں تو ازراہ مذاق کہہ رہی تھی, بلکہ اچھا ہوا جو حمزہ کو یہاں سے جلا وطن کر دیا, یہاں رہتا تو نہ جانے اور کتنے نقصان ہو جاتے ” شرمین نے کہا
“شرمین… آخر آپ اپنی یہ من گھڑت کہانیاں بنانا چھوڑ کیوں نہیں دیتیں… ایسا کچھ بھی نہیں ہے جیسا آپ نے سوچ رکھا ہے, حمزہ صرف کام کے سلسلے میں لاہور گیا ہے, رملہ کو اس کے یہاں ہونے یا نا ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا” زبیر کو غصہ آ گیا
“چلو ٹھیک ہے… کہانی تو بندہ کوئی بھی گھڑ لے, جیسے ابھی تم نے گھڑ لی” شرمین مسکراتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی تھی
…………………………….
حمزہ دھیرے سے ندا کے برابر میں بیٹھا تھا, ہلکے گلابی رنگ کی نفیس سی میکسی میں وہ اچھی خاصی خوبصورت لگ رہی تھی, حمزہ نے بس ایک نظر اسے دیکھا تھا
دل میں کوئی جذبہ نہیں تھا… خوشی کی کوئی رمق نہیں تھی…کوئی سرشاری نہیں تھی
دل اپنے پہلو میں بیٹھی اس حور کی طرف نہیں ہمک رہا تھا, آنکھیں اسے دیکھنے کی خواہش میں نہیں مچل رہی تھیں
وہ تو بس دیوانہ وار اسے ڈھونڈ رہا تھا جو چپ چاپ نظریں جھکاۓ اس کی طرف سے ذرا سا رخ موڑے کرسی پر بیٹھی تھی, کوشش کے باوجود وہ اسے کھوج نہ سکا
“چلو جی رسم شروع کرو…” ندا کے باپ نے کہا تھا, شفیق نے انگوٹھی حمزہ کے آگے کر دی, اس نے ایک آخری بار ہال پر نظریں دوڑائیں, رملہ ذرا سا زبیر کے پیچھے کو ہو گئی تھی
“پہنا دے حمزہ ؟” شفیق نے کہا, اس نے دھیرے سے ندا کا ہاتھ پکڑ کر انگوٹھی پہنا دی, تالیوں کے شور میں ندا نے مسکراتے ہوئے اسے انگوٹھی پہنائی تھی, مبارک سلامت کی آوازیں گونجنے لگیں, سب باری باری ان دونوں کے پاس آ کر بیٹھ رہے تھے
“آ جا زبیر پتر… “رخسانہ نے اسے آواز دی تھی, تبھی حمزہ نے اسے دیکھا, وہ زبیر کے ساتھ سٹیج تک آئی تھی
گولڈن شرٹ کے ساتھ چاکلیٹ براؤن شرارہ پہنے وہ ہلکے ہلکے میک اپ میں بس… بس ایک بار پھر اس کے دل کی دنیا ہلا گئی تھی
شفیق نے ٹھیک کہا تھا… اس کا بس رملہ کو دیکھ لینا ہی کافی تھا… اسی سے کام بگڑ جانا تھا… اور شائد بگڑ بھی گیا تھا
بس دو منٹ ندا کے ساتھ بیٹھ کر وہ واپس سٹیج سے نیچے اتر گئی تھی
حمزہ خالی خالی نظروں سے اسے دیکھتا رہ گیا
……………………….
“ابو… پلیز… مجھے لاہور نہیں جانا” رات کو وہ شفیق کے سامنے منتیں کرنے بیٹھ گیا
“حمزہ یہاں کیا ہے ؟” اس نے پوچھا
“ابو سب کچھ یہاں ہی تو ہے… میری نوکری ہے یہاں ہے, گھر یہاں ہے, اب تو سسرال بھی یہاں ہی ہے” وہ بولا
“ابو پلیز یار… اب تو منگنی بھی کروا دی ہے آپ نے میری…. میں نے نہیں جانا لاہور, میرا دل نہیں لگتا وہاں” وہ رونے والا ہو گیا
“چلیں بس کریں ناعمہ کے ابو… منگنی شدہ ہو گیا ہے اب تو, نہیں کرتا اب کچھ…میرا بچہ سنبھل گیا ہے اب”یاسمین آخر کو ماں تھیں
“دیکھ لو… “شفیق نے کہا
“ابو پکا وعدہ… کچھ نہیں کروں گا” وہ بولا, شفیق بس اسے دیکھ کر رہ گیا تھا
…………………….
اس دن بھی وہ کالج سے آئی تو سیدھا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی, کچن کے آگے سے گزری تو شرمین برنر کے آگے کھڑی تھی, وہ بس ایک نظر اسے دیکھ کر آگے کو چلی گئی
“بات سنو… یہ کونسا نیا تماشہ شروع کر رکھا ہے تم نے ؟” وہ اس پر چڑھ دوڑی, رملہ نے ابھی چادر بھی نہیں اتاری تھی
“کیا ہوا ہے اب ؟” وہ بولی
” خود تو منہ اٹھا کر کالج چلی جاتی ہو… پیچھے سے ہانڈی روٹی کس نے کرنی ہوتی ہے” وہ بولی
“دن کے بارہ بجے کونسی ہانڈی پکانی ہوتی ہے ؟” رملہ نے پوچھا
“میں صبح سے بھوکی بیٹھی ہوں, نہ سالن ہے نہ انڈے… اب نوڈلز بنا کر کھانے لگی ہوں, وقت پر گھر آؤ تو ہانڈی پکے” وہ بولی
“شرمین… میرے ساتھ زیادہ بکواس کرنے کی ضرورت نہیں ہے سمجھیں, میں تمہاری نوکر نہیں ہوں, سالن نہیں تھا تو یہ میرا قصور ہے… صبح وقت پر اٹھ کر ناشتہ کر لیا کرو, میں نے ایک بجے ہانڈی پکانی ہوتی ہے ” رملہ نے کہا
“ہاں… تب تک ہم لوگ بھوکے مریں” وہ ہاتھ نچا کر بولی
“نہ مرو بھوکے… خدا نے دو ہاتھ کیوں دیئے ہیں, پکا کر کھا لو” رملہ نے کہا
“سب پتہ ہے مجھے, یہ کالج کے بہانے کس قسم کی آوارہ گردیاں کرتی پھرتی ہو تم…. صبح وہ کاٹھ کا الو تمہیں کالج چھوڑ آتا ہے, اس کے بعد نہ جانے سارا دن وہاں کیا کرتی رہتی ہو… کالج بس سڑک پر اتار جاتی ہے, راستے میں نہ جانے کس قسم کے لوگوں سے ٹاکرا کر کے آتی ہو تم…. ” شرمین کہتی چلی گئی
بکواس بند کرو اپنی… ” رملہ سے بولا بھی نہ گیا, آنکھیں یکلخت آنسوؤں سے بھر گئیں, رخسانہ کا کمرہ سامنے ہی تھا
“یہ بکواس نہیں ہے رملہ بی بی … یہ سچ ہے, جب ادھر ادھر منہ مارنے کی عادت پڑ جاۓ پھر کہاں چھوٹتی ہے… ابھی تو ایک حمزہ ہی منظر عام پر آیا ہے… اور نہ جانے کتنے ہوں گے” وہ کہتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی, رملہ ساکت کھڑی رہ گئی تھی
یہ ہوتا ہے سسرال… اوریہ ہوتے ہیں سسرالی رشتے… سسرال میں رہ کر آپ کو پتہ چلتا ہے کہ آپ کی اب تک کی ساری پڑھاییاں, ساری تہذیب, ساری اچھائیاں, سارا رکھ رکھاؤ, سارے سلیقے… سب غارت ہیں, وہاں جو سبق سیکھنے کو ملتا ہے وہ میکے میں کوئی نہیں سکھاتا
اور اس لمحے وہاں کھڑے کھڑے اس نے اپنے سسرال کا پہلا سبق سیکھا تھا
خاموشی ہر بحث کا حل نہیں ہوتی, ہر مسئلے کا حل نہیں ہوتی… خاموشی ہمیشہ اچھی نہیں ہوتی
سسرال میں ناگن بن کر رہنا پڑتا ہے… بیشک کسی کو نہ ڈسو… لیکن جہاں ضرورت پڑے وہاں پھنکار ضرور مارو
اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے اس نے شرمین کے کمرے کا دروازہ کھولا تھا
“میری ایک بات کان کھول کر سن لو خبیث عورت… اگر آج کے بعد تم نے میرے کردار پر انگلی اٹھائی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا سمجھیں… مجھ پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکو کہ تم کیا ہو ؟ ایک ٹھکرائی ہوئی طلاق یافتہ عورت جس کا کام صرف دوسرے مردوں پر ڈورے ڈالنے کا ہے” وہ چیخی تھی
“بکواس بند کرو… “شرمین دہاڑی
“یہ ہی تو میں کہہ رہی ہوں کہ.. بکواس بند کرو ” خونخوار نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے وہ اپنے کمرے میں آ گئی, اور پھر بیڈ پر بیٹھ کر خوب ہی روئی, ظہر کی نماز پڑھ کر ہنڈیا بنائی, روٹیاں بنائیں اور پھر کمرے میں آ کر بستر پر گر گئی
شام تک اس کا جسم آگ میں جل رہا تھا, زبیر نے دفتر سے آ کر ہلایا تو نیم بے ہوشی کی حالت میں پڑی تھی, وہ ہسپتال کو لیکر بھاگا
اس کی پریگنینسی رپورٹ پازیٹو تھی
………………………….
“زبیر میں باہر ہوں… جلدی آ جائیں” وہ اپنا بیگ اور چادر اٹھا کر باہر نکل آئی, زبیر نے جلدی سے چاۓ کا کپ ختم کیا اور اٹھ کھڑا ہوا
حمزہ سو کر اٹھا تھا, کمروں میں حبس بھرنے لگا تھا سو وہ اوپر ہی سونے لگا تھا, موبائل اور چارجر اٹھا کر وہ نیچے جانے لگا تو ریلنگ کے قریب ٹھٹھک گیا
وہ زبیر کی موٹر سائیکل کے قریب کھڑی تھی… دوپٹہ تہہ لگا کر بیگ میں ڈالا تھا اور خود چادر لینے لگی تھی
حمزہ بس بنا پلکیں جھپکاۓ اسے دیکھتا رہ گیا
“میں کیسے بھولوں گا تمہارا خسارہ… رملہ حسین” اس نے جیسے خود سے سرگوشی کی تھی, رملہ نے چادر لیکر بیگ کندھے پر ڈالا, زبیر نے موٹر سائیکل سٹارٹ کی تھی, وہ اس کے پیچھے بیٹھ گئی, موٹر سائیکل دروازے سے باہر نکلی تو وہ سر جھٹک کر نیچے اتر آیا, ٹی وی لاؤنج میں شرمین مل گئی
“کیسے ہو حمزہ ؟” وہ اسے دیکھ کر مسکرائی
“ٹھیک ہوں… “وہ اپنے کمرے میں جانے لگا تھا
“تو شہر بدری ختم ہو گئی تمہاری ؟” شرمین نے پوچھا
“کیا مطلب ؟” وہ چونک گیا
“مطلب یہ کہ پلان اچھا ہے تمہارا…. منگنی کا ٹیگ لگا کر محبوبہ کے قریب قریب رہنا” شرمین نے آنکھ دبا کر کہا
“ایسا کچھ نہیں ہے” وہ دوبارہ کمرے کی طرف بڑھا
“یعنی کچھ تو ہے… ” وہ ہنسی تھی
“ہاۓ حمزہ… کوئی کمی تو نہیں تھی تم میں پھر کیوں ٹھکرا دیا اس نے تمہیں ؟” کمرے میں جاتے جاتے بھی شرمین کی آواز اس کے کانوں میں اتر گئی تھی
………………………..
وہ کہتے ہیں نا… کہ مرد کانوں کا کچا ہوتا ہے, بالکل درست کہتے ہیں
مرد صرف کانوں کا کچا ہی نہیں ہوتا …لائی لگ بھی ہوتا ہے, بھلے خود کو کتنا ہی ماڈررن تصور کرے لیکن دل کا شکی بھی ہوتا ہے
وقت دھیرے دھیرے سرکا… شرمین نے رملہ کے لئے اپنے دل میں حسد اور جلن کا ایک الاؤ جلا لیا تھا, زبیر پوری طرح رملہ کے ساتھ تھا اور یہ ہی بات شرمین کو بری طرح کھلتی تھی… سو اس نے دھیرے دھیرے زبیر کے کانوں میں زہر گھولن شروع کر دیا, جہاں اسے تنہا دیکھتی… وہیں ضرب لگا دیتی
“حمزہ نے واپس آ کر اچھا نہیں کیا… اسے لاہور ہی رہنا چاہیئے تھا, پرانی محبتیں تو سو سالوں میں بھی نہیں بھولتیں… حمزہ کے لئے تو یہ پھر کل کی بات ہے” صبح کوئی نہ کوئی موقع دیکھ کر اسے چوٹ لگا دیتی
“حمزہ نے بڑے پلان کے تحت منگنی کروائی ہے… وہ بس کسی بھی طرح اس گھر میں رہنا چاہتا ہے تاکہ رملہ اس کی نظروں کے سامنے رہے ” شام کو اس کے واپس آتے ہی شعلہ بھڑکا دیتی
“مجھ سے شرط لگا لو زبیر… اگر حمزہ اس رشتے کو پروان چڑھا دے تو… دیکھ لینا وہ ایک نہ ایک دن یہ منگنی توڑ ہی دے گا” وہ اس کے دل میں زہر بھرتی جا رہی تھی
اور دوسری طرف وہ فل ٹائم حمزہ کے کان بھر رہی تھی, آتے جاتے اسے کچوکا سا لگا دیتی
“افسوس یہ بھی کیا زندگی ہے نا حمزہ…محبت نظروں کے سامنے رہ کر بھی تمہاری نہیں ہے… وہ کسی اور کے ساتھ خوش ہے”
“تمہاری منگیتر کو پتہ چل گیا تو کیا ہو گا… ؟ کہ تم ماضی میں اس لڑکی سے محبت کرتے تھے جو تمہاری آنکھوں کے سامنے تمہاری بھابھی بن کر گھومتی تھی” ہمہ وقت اس کے سر پر سوار ہوئی رہتی
ہر وقت اس نے ان دونوں لڑکوں کا ٹارگٹ پر رکھا ہوا تھا, اور دوسری طرف اس کی بے جا فرمائشوں اور نخروں کے بوجھ تلے اویس کی بس ہوتی جا رہی تھی
گرمیاں شروع ہوتے ہی اس نے اے سی فرمائش داغ دی تھی
“واہ… تم نے کہہ دیا اور میں نے تمہیں اے سی لگوا دیا… زبان بند کر لو” وہ اس پر برس ہی پڑا
“مجھ سے نہیں سویا جاتا اندر اتنے حبس میں ؟” وہ چیخی
“تو باہر سو جایا کرو… ویسے بھی تم نے کونسا مجھ سے ساری رات پیار محبت جتانی ہوتی ہے” اویس نے طنز کیا تھا
“پتہ ہے باہر کتنا مچھر ہوتا ہے, ساتھ رات کاٹتا ہے, بھلا نیند آتی ہے ایسے میں” وہ تڑخی
“مچھر دانی لگا لیا کرو” ایک اور مشورہ
“اویس… مجھے اے سی چاہیے بس” وہ بولی
“سوری… اگلے سات سالوں تک کے لئے اے سی کو بھول جاؤ, یہ ایئر کولر ہے نا… اسے لگا لیا کرو باہر” اویس نے صاف انکار کر دیا تھا, وہ خوب بولی… اور بول بول کر رات کو ائیر کولر چلا لیا, تھوڑی دیر بعد لائیٹ آف ہو گئی, یو پی ایس ایک گھنٹہ چل کر بند ہو گیا
“اویس… میری چارپائی باہر نکال کر دیں” وہ س کے سر پر آ کر چیخی تھی, اویس باہر ہی سوتا تھا, وہ بادل نخواستہ اٹھا اور اس کی چارپائی باہر نکال دی
“توبہ ہے… کتنی گرمی ہے یہاں ؟” وہ مسلسل بول رہی تھی
“یا خدا… کتنا مچھر ہے” وہ رونے والی ہو گئی
“بھابھی جی موس پیل لوشن لگا لیں… ” ذرا فاصلے پر لیٹے زبیر نے ہنسی دباتے ہوۓ مشورہ دیا تھا, رخسانہ, رفیق, رملہ اور زبیر نیچے ہی سوتے تھے, زرینہ اور باقی کی فوج اوپر… حمزہ سب سے اوپر
“مجھے سکن الرجی ہو جاتی ہے اس سے” وہ بولی
“دیکھ لیں.. بڑا موٹا موٹا مچھر ہے” زبیر فل ٹائم اس کی جھنجھلاہٹ انجواۓ کر رہا تھا, رملہ نے بھی ہنستے ہوئے کروٹ بدل لی
“چاہیے بھابھی… ؟” وہ پھر بولا تھا
“زبیر بکواس بند کر لے” اویس کو تاؤ آ گیا
“تم نے سونا ہے تو چپ چاپ سو جاؤ ورنہ تمہیں چارپائی سمیت اندر پھینک آؤں گا” وہ تڑخا
“لوگ اپنی بیویوں کے لئے تاج محل بنوا دیتے ہیں, آپ سے مجھے ایک اے سی نہیں لگوا کر دیا جاتا, ہاۓ اللہ… کتنی زور سے کاٹا ہے مچھر نے… زبیر دو مجھے لوشن” وہ چیخ کر بولی تھی, زبیر نے ہنستے ہوئے تاک کر لوشن اویس کے اوپر پھینکا تھا
“بے غیرت, خبیث نہ ہو تو… ” وہ بھڑک اٹھا
“یہ پکڑو.. اور گونگی ہو جاؤ اب” وہ بولا تھا
………………………
وہ کالج سے آئی تو پسلیوں میں درد ہو رہا تھا, اس کا ساتواں مہینہ شروع ہو گیا تھا, دوپہر میں آ کر ہنڈیا پکائی… پھر اکیلی نے روٹیاں بنائیں, شام میں مشین لگا لی
زبیر چار بجے واپس آ جاتا تھا
“زبیر مجھے یہ والی پینٹ شرٹ بھی اتار کر دے دیں جلدی… ” رملہ نے کہا تھا, تھوڑی دیر بعد وہ ٹوکری بھر کر پلاٹ کی طرف آ گئی, ظاہر ہے اتنی سیڑھیاں تو چڑھ نہیں سکتی تھی سو باہر ہی پھیلانے شروع کر دیئے, تار کافی اونچی تھی, وہ بار بار پلاسٹک کی کرسی پر پاؤں رکھ کر اوپر چڑھتی اور پھر کپڑے پھیلاتی, دوسرے پلاٹ میں حمزہ گھاس پر اپنے کاغذ بکھراۓ بیٹھا تھا, اس کا کوئی ٹیسٹ تھا جس کی تیاری کر رہا تھا, اس نے یونہی نظر گھما کر رملہ کی طرف دیکھا… پسینوں پسین چہرے کے ساتھ اس کی سانس بھی پھول رہی تھی, دوپٹہ کندھوں کی اطراف سے گزارا ہوا تھا, بالوں کو اونچا سا کیچر لگا رکھا تھا, تبھی رملہ نے کرسی پر پیر رکھا, حمزہ کی نظر کرسی کی اگلی ٹانگ پر پڑی, وہ ٹیڑھی ہو رہی تھی… رملہ پھر اتری.. کپڑا اٹھایا اور پھر چڑھی, کرسی کی ٹانگ مڑتی جا رہی تھی, حمزہ مسلسل اسے دیکھ رہا تھا
“کرسی کی ٹانگ ٹیڑھی ہو رہی ہے… ” اس نے زور سے کہا لیکن اپنے کام میں مگن رملہ کو سنائی نہ دیا, تبھی شرمین باہر آئی تھی, اس نے بس حمزہ کو مسلسل رملہ کو تاڑٹے ہوۓ دیکھا تھا, وہ الٹے قدموں اندر چلی گئی
“ذرا باہر تو آؤ… ” اس نے زبیر کے کمرے میں جھانکا
“کیا ہوا ؟” وہ کولر چلا کر لیٹا تھا
“میری باتوں پر یقین نہیں کرتے ہو نا تم… باہر نکل کر دیکھو ذرا تمہاری بیوی اور سو کالڈ بھائی نے کیا تماشہ شروع کر رکھا ہے” وہ بولی, زبیر اٹھ کر باہر نکل آیا
عین اسی لمحے رملہ پھر کرسی پر چڑھی تھی, کرسی کی ٹانگ ایک دم نیچے کو بیٹھ گئی, حمزہ سرعت سے اٹھا اور اس کی طرف بھاگا, اس سے پہلے کہ وہ دھڑام سے زمین بوس ہوتی, حمزہ نے اسے تھام لیا تھا
دور کھڑے زبیر کی آنکھوں میں قہر بھرا تھا, تیر کی طرح وہ رملہ کی طرف آیا, حمزہ اسے چھوڑ کر ایک نظر زبیر کو دیکھتا ہوا دوبارہ اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گیا
“یہ کیا بیہودگی ہو رہی تھی ؟” زبیر چیخا
“کرسی ایک دم ٹوٹ گئی… مجھے پتہ نہیں چلا” وہ ماتھے پر آیا پسینہ صاف کرتے ہوئے بولی
“اور تمہیں بانہوں میں سمٹنے کے لئے وہ مل گیا” زبیر تڑخا
“زبیر… ” رملہ ساکت ہوئی تھی
“جب تمہیں پتہ تھا کہ وہ خبیث باہر بیٹھا ہے تو کیوں آئیں یہاں کپڑے ڈالنے ؟” زبیر کو غصہ آ گیا
“میں سینکڑوں سیڑھیاں چل کر اوپر کیسے جاتی ؟” اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے
“زبیر میں نے کہا تھا اسے کہ کپڑے میں اوپر ڈال آتی ہوں لیکن یہ کہتی کہ میں نے باہر ہی ڈالنے ہیں” شرمین نے جلتی پر تیل چھڑکا تھا
“تمہیں شرم نہیں آتی جھوٹ بولتے ہوۓ… ” رملہ کو بھی غصہ آ گیا, حمزہ چپ چاپ سب کچھ سن رہا تھا, اسے پتہ تھا کہ اگر وہ اس وقت ایک لفظ بھی رملہ کی فیور میں بول گیا تو زبیر اس کا سر پھاڑ دے گا
“میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے تمہیں اس کی بانہوں میں جھولتے… رملہ آخر تم چاہتی کیا ہو ؟ آخر کیوں تم سے اسے اگنور نہیں کیا جاتا… ؟ ہمیشہ وہ تمہارے آس پاس ہی کیوں پایا جاتا ہے” زبیر کہتا چلا گیا
“زبیر آپ یوں کریں… مجھے ایک دفعہ ہی گولی مار دیں…یہ جو روز کی چخ چخ اور پخ پخ ہے اس سے میری جان چھوٹے… ” رملہ زور سے چیخی تھی, اس کی تھکن, کلفت, درد, غصہ, دکھ… سب ایک دم نکل گیا اور شادی کے ڈیڑھ سال بعد زبیر کا اس پر ہاتھ اٹھ گیا, حمزہ دم بخود بیٹھا رہ گیا تھا, رملہ کی آنکھیں بھر آئیں, انتہائی بے یقین نظروں سے اس نے زبیر کی طرف دیکھا…شرمین نے بمشکل اپنی مسکراہٹ دبائی تھی
“آئیندہ مجھے تم اس خبیث کے آس پاس بھی نظر آئیں تو میں تمہارا منہ توڑ دوں گا” وہ انگلی اٹھا کر بولا تھا
“آج آپ کے لئے میں جھوٹی ہو گئی زبیر اور یہ عورت سچی… ” وہ بمشکل اپنے آنسوؤں کو روکتی اندر چلی گئی تھی
…………………….
جاری ہے