No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
آج اویس کی بارات تھی, صبح سے ہی پورے گھر میں افراتفری کا عالم تھا, دور دراز کے سبھی رشتے دار آ چکے تھے, تمام مہمانوں کو ناشتہ کروایا جا رہا تھا
“اے ناعمہ… سات پلیٹیں اور بنا… ” زرینہ بھاگتی ہوئی اندر آئی تھی, ناعمہ دھڑا دھڑ آملیٹ اتار رہی تھی اور زرینہ چوہدری پھرتی سے پیش کرتی جا رہی تھی
“تے چاچی تسی اے جگ بھرو… ” یاسمین نے میٹھی لسی کا پورا ٹب تیار کیا ہوا تھا جس میں وہ مسلسل ڈونگا پھیر رہی تھیں
“پوریاں کدھر ہیں… پوریاں… ؟” حمزہ بھاگتا ہوا اندر آیا تھا
“اور پراٹھے ؟” وہ چیخا
رخسانہ نے باہر ایک کونے میں توی لگائی ہوئی تھی اور ایک کے بعد ایک تہہ دار پراٹھے اتار رہی تھیں
“امی میں نے دس بجے کے بعد کچن میں پیر بھی نہیں رکھنا…جو کروانا ہے اس سے پہلے کروا لیں” ناعمہ صبح سے کوئی دس دفعہ یہ دھمکی دے چکی تھی
“اوۓ زبیر… علینہ اور ناعمہ کو پارلر کس نے چھوڑنا ہے ؟” رخسانہ تھوڑی دیر بعد ہی فارغ ہو کر کچن میں آ گئیں, وہ پوری کی پوری پسینے میں ڈوبی ہوئی تھیں, زبیر اندر آیا تو انہوں نے پوچھا
“میں چھوڑ آؤں گا… تھوڑی دیر تک… پھر میں نے بھی سیلون جانا ہے” وہ لسی کا گلاس بھرتے ہوئے بولا
“اویس کہاں ہے ؟” رخسانہ نے پوچھا
“باہر ہیں… ماموں لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہیں” اس نے کہا
“اس پر نظر رکھیں پتر…. ” رخسانہ تشویش سے بولیں
“ان پر تو نظر رکھ لیں گے… لیکن ان کے موبائل پر نظر کیسے رکھیں گے, چلیں کال نہ سہی میسیج تو کر سکتے ہیں نا اسے” وہ بولا
“تو مجھے اور پریشان نہ کر… ناعمہ جا مجھے دو پینا ڈول لا کر دے, سارا دن پتہ نہیں کیسے گزرے گا” وہ سر کو دونوں ہاتھوں سے تھام کر وہیں سٹول پر بیٹھ گئیں
“جس جس نے پارلر جانا ہے ریڈی رہنا… دس بجے کے بعد مجھے کوئی تنگ نہ کرے ” وہ باہر جاتے ہوئے بولا
“حمزہ کہاں ہے… اسے کہہ مٹھائی اور بد لینے چلا جاۓ” رخسانہ نے کہا
“بس جانے لگا ہے” وہ بولا, کچھ ہی دیر بعد زبیر نے علینہ, زرینہ اور ناعمہ کو پارلر چھوڑا اور خود اویس کو لیکر سیلون چلا گیا
سہرا بندی کا وقت گیارہ بجے کا تھا, صد شکر کہ سیلون جاتے ہوئے اویس اپنا سیل گھر ہی بھول گیا… (یا پھر کسی نے چھپا دیا…کس نے ؟)
پارلر والیاں بھی سہرا بندی سے پہلے حمزہ کے ساتھ ہی واپس آ گئیں تھیں, آخری وقت تک رخسانہ کی نظریں دروازے کا طواف کرتی رہیں کہ اب قیامت آئی کہ اب آئی لیکن صد شکر کہ حاتم اکیلا ہی آیا
“پتر دونوں بہنیں نہیں آئیں… ؟” رخسانہ نے شکر کا کلمہ پڑھتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا
“وہ دونوں طاہر بھائی کے ساتھ آ رہی ہیں آنٹی, راستے میں مل جائیں گی ہمارے ساتھ” حاتم نے کہا, رخسانہ کو سکھ کا سانس آیا تھا
سہرا بندی ختم ہوتے ہی وہ لوگ گھر سے نکل پڑے,دن کے بارہ بج رہے تھے
“حمزہ انہیں کال کر دے کہ ہم چل پڑے ہیں” رخسانہ نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے حمزہ سے کہا تھا
تقریباً بیس منٹ کی مسافت تھی, رملہ کی بارات کا فنکشن میرج ہال میں ہی رکھا گیا تھا, ہال کے مین دروازے پر رملہ کا بھائی یاسر اور دیگر رشتے دار کھڑے تھے
“خواتین اس طرف… ” یاسر نے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
تبھی شرمین گاڑی سے باہر نکلی
وہ گلابی رنگ کی ساڑھی پہنے ہوۓ تھی, اس بار لمبے بالوں کا اونچا سا جوڑا بنایا ہوا تھا, بلاؤز کا اگلا گلا تو جو گہرا تھا سو تھا… پچھلا اس کی کمر تک پہنچا ہوا تھا, ساڑھی کی پیٹی نے بمشکل بلاؤز کے نیچے کی جگہ پر کی تھی, ہاف سلیوز آستینوں سے اس کے دودھیا بازو دمک رہے تھے… فل میک اپ اور جیولری…
گاڑی سے اترتے ہوئے اس نے فوراً اویس کی طرف دیکھا, وہ ہال کے دروازے کے قریب تھا, یاسر نے اس کے گلے میں ہار ڈالا, وہ سر جھکاتے ہوئے ذرا سا مڑا اور اسے دیکھا… وہ دوسری طرف جاتے ہوئے اسے ہی دیکھ رہی تھی, اویس زبیر اور شمس کے ساتھ آگے بڑھ گیا, صوفے پر بیٹھتے ہی اسے شرمین کا میسیج آ گیا
“میں آپ کے ساتھ ہوں اویس… ” وہ بس ساکت سی نظروں سے سکرین دیکھتا رہ گیا تھا
عورتوں والی طرف بھی کافی گہما گہمی تھی, رملہ کی امی اور چھوٹی بہن نائلہ نے سب کا ایک دوسرے سے تعارف کروایا
“یہ کون ہے ؟” ہزاروں نظریں شرمین جی طرف اٹھی تھیں
“یہ علینہ کی نند ہے” رخسانہ نے اس کا تعارف کروایا, وہ بڑی خوش دلی سے سب سے مل رہی تھی, زرینہ جونک بن کر شرمین سے چپک گئی, تابڑ توڑ اس کی تعریفیں کر کر کہ ہلکان ہوۓ جا رہی تھی, وہ جیسے ہی ادھر ادھر ہونے کی کوشش کرتی , فٹ کسی نہ کسی بہانے اس کے پاس چلی جاتی, اس کا موبائل بجتا تو آنے بہانے اس کے ارد گرد چکر کاٹے جاتی
“زرینہ باجی… میں نے ذرا واش روم تک جانا ہے” وہ کچھ دیر بعد بولی
“میں نے بھی جانا ہے… آ جا ایک ساتھ چلتے ہیں” زرینہ نے کہا, وہ اپنا موبائل اٹھا کر واش روم کی طرف چل دی, شرمین نے اندر جا کر کنڈی لگائی اور دو منٹ بعد ہی کھول دی
“زرینہ باجی پلیز میرے بیگ میں سے میرا ہینڈ واش تو لا کر دینا ” وہ بولی, زرینہ ناچار وہاں سے ہٹ گئی اور شرمین اس کی نظر بچا کر ہال سے باہر نکل آئی
“کدھر ہیں ؟” اس نے اویس کو کال کی تھی
“ادھر ویٹنگ روم میں… ” وہ بولا
“اور کون ہے… ؟” وہ بولی
“کوئی بھی نہیں… واش روم استعمال کرنے کے بہانے آیا ہوں” وہ بولا, شرمین نا محسوس سے انداز سے ادھر چلی گئی
اویس اندر اکیلا ہی تھا… نیوی بلو شیروانی کے ساتھ سفید رنگ کی لٹھے کی شلوار پہنے وہ انتہائی گریس فل لگ رہا تھا, شرمین کو دیکھ کر جیسے نظریں ہٹانا ہی بھول گیا
“بہت خوبصورت لگ رہی ہو” آپ جناب تو کب کے ختم ہو چکے تھے
“اویس… خود پر ظلم کیوں کر رہے ہیں آپ…؟” وہ اس کے قریب آتے ہوئے بولی
“میں کیا کروں ؟ کوئی میری بات ہی نہیں سمجھتا” وہ ہار سا گیا
“اویس… اگر آج ہمت نہیں کی نا تو ساری عمر زندگی کو ایک بوجھ کی طرح ڈھوتے رہیں گے آپ” وہ اس کے عین سامنے آ گئی
“لوگوں کا کیا ہے… ؟ آج باتیں کریں گے کل بھول جائیں گے لیکن آپ اویس… آپ کی پوری زندگی تباہ ہو جاۓ گی”وہ بولی, اویس نے بے خود ہو کر اسے دیکھا, وہ اس کی خوشبوؤں کا اسیر ہوا جا رہا تھا, شرمین اس کے اور قریب ہوئی تھی اور بڑی بے باکی سے اپنا مرمریں ہاتھ اس کے چہرے پر رکھا, دائیں ہاتھ سے اس نے اویس کا ہاتھ تھاما تھا
“ابھی بھی وقت ہے اویس… اگر قبول ہے پر سر جھکا دیا تو سمجھیں سب کچھ ختم” وہ دھیرے سے کہتی ہوئی اس کے مزید قریب ہوئی تھی, اویس نے اپنے چہرے پر رکھے اس کے ہاتھ کے اوپر اپنا ہاتھ رکھا اور آنکھیں بند کر لیں, شرمین نے بڑے حق سے اس کے کان میں سرگوشی کی تھی
“ذرا سوچیں اویس… اگر آج آپ نے ہمت کر لی تو پھر بس آپ اور میں… تیسرا کوئی نہیں” وہ مدھم سی سرگوشی کرتے ہوئے اس سے الگ ہوئی اور باہر نکل گئی, واپس ہال میں آئی تو زرینہ تیر کی طرح اس کی طرف آئی
“گھنٹہ ہو گیا ہے مجھے یہاں یہ ہینڈ واش لیکر کھڑے ہوۓ… ” وہ بولی
“سوری باجی… مجھے ایک کال آ گئی تھی” شرمین نے کہا
“کس کی کال ؟” زرینہ نے پوچھا
“ایک دوست کی… ” وہ آنکھ دبا کر ہنسی, زرینہ کے چاروں طرف گھنٹیاں بجنے لگی تھیں
کچھ ہی دیر بعد رملہ آ گئی, حمزہ نے اسے سٹیج کے پاس کھڑے ہوۓ بس گاڑی سے اترتے ہوئے دیکھا تھا, اس کے ساتھ والی دو محافظ عورتوں نے اس پر ایک بڑی سی چادر ڈالی ہوئی تھی, اسے تھام کر برائیڈل روم میں لے گئے, رخسانہ اور یاسمین اسے وہیں آ کر ملیں
“ماشاءاللہ ,ماشاءاللہ… بہت سوہنی لگ رہی ہے” رخسانہ نے اس کی بلائیں لی تھیں, وہ واقعی بہت خوبصورت لگ رہی تھی, روایتی سرخ لہنگے میں ملبوس, نفیس سا میک اپ کئے ساتھ گولڈن جیولری پہن رکھی تھی, زرینہ شوق کے باوجود اس سے ملنے نہیں آ سکی کیونکہ… اپنے تئیں وہ شرمین پر پہرہ دے رہی تھی
یونہی کچھ دیر میں نکاح کا وقت ہو گیا, حمزہ جا کر نکاح خواں کو لیکر آیا
“اویس بھائی کدھر گئے ؟” اس نے سٹیج خالی دیکھ کر زبیر سے پوچھا
“واش روم گئے تھے” وہ بولا
“کتنی دیر ہو گئی ؟” حمزہ کا ماتھا ٹھنکا
“ہو تو کافی دیر گئی… ” زبیر نے کہا
“چل آ دیکھیں… کہہ کر بھی گیا ہوں کہ ان کے ساتھ رہنا” حمزہ نے اسے گھرکا
“او یار میں ان کے ساتھ ہی تھا, اب واش روم میں بھی ساتھ چلا جاتا… ؟” زبیر اس کے برابر چلتے ہوئے بولا
“جو سچوایشن چل رہی ہے نا… اس میں تو یہ ہی موزوں تھا” وہ دونوں ویٹنگ روم کی طرف آ گئے
“اویس بھائی… مولوی صاحب آ گئے ہیں” حمزہ نے واش روم کا دروازہ ناک کیا
“اویس بھائی.. ” کوئی جواب نا پا کر اس نے دوبارہ ناک کرنا چاہا لیکن اس کے ذرا سے زور لگانے پر ہی دروازہ کھل گیا… اندر کوئی بھی نہیں تھا
“کدھر گئے… ؟” زبیر کی آنکھیں پھیل گئیں
“شٹ یار… ” وہ دونوں سر پر پیر رکھ کر باہر کو بھاگے, دونوں نے لمحوں میں پورا ہال چھان مارا لیکن اویس کا کچھ پتہ نہیں چلا
“کال کر انہیں… ” حمزہ انتہائی پریشانی سے بولا, زبیر نے کال کی تو نمبر بند
“سیل آف جا رہا” وہ اس سے زیادہ پریشان تھا
“اب کیا ہو گا زبیر ؟” حمزہ کو قیامت نظر آ رہی تھی
“اوۓ… مولوی کہندا چھیتی کرو, اس نے جانا ہے, یہ اویس کدھر گیا ؟” شمس انہیں ڈھونڈتا ہوا باہر آیا تھا, وہ دونوں بس ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے
“او میں نے پوچھا اویس کدھر ہے… نکاح شروع کرائیں” وہ آگے کو آیا
“اویس بھائی کہیں نکل گئے ہیں شمس بھائی…” قیامت تو سمجھو آ گئی تھی
“ہن کی ہوؤ گا… ؟” شمس کو ہول ہونے لگے
“چلیں ابو کو بتائیں… ” زبیر نے کہا
“تم دونوں چلو میں ذرا آیا… پیٹ میں مروڑ ہونے لگے ہیں” شمس کو واقعی ہول اٹھنے لگے تھے
“ابو ادھر آئیں… ” زبیر نے رفیق کا بازو پکڑ کر کھینچا, ادھر سے حمزہ رخسانہ اور یاسمین کو بلا لایا, سبھی ویٹنگ روم میں جمع ہو گئے
“کیا ہو گیا ؟” رخسانہ پریشان ہو گئیں
“اویس بھائی بھاگ گئے ہیں امی… ” زبیر نے بم پھوڑا تھا
“ہاۓ اللہ… ” رخسانہ نے دہل کر سینے پر ہاتھ رکھا
“پورا ہال چھان مارا… کہیں نہیں ہیں, موبائل آف… دوست سارے یہاں ہیں سو کوئی پتہ نہیں کہاں گئے ہوں گے” حمزہ نے سارا قصہ سنا دیا, رخسانہ تو صوفے پر ڈھے گئیں, زرینہ بھی آ گئی تھی, کچھ دیر بعد ناعمہ اور علینہ بھی آ گئیں, شفیق صاحب بھی ایک طرف پریشان کھڑے تھے
“شمس میرا پتر تسی مہماناں کول جاؤ… لوگ کہیں گے پتہ نہیں کی ہو گیا… حمزہ تو بھی جا میرا پتر ” شفیق نے صورتحال تھوڑی قابو کرنی چاہی, وہ دونوں بادل نخواستہ سے باہر چلے گئے
“زرینہ تو بھی جا… علینہ, ناعمہ بچے چلو باہر” شفیق نے انہیں بھی باہر بھیجا, زرینہ اور ناعمہ تو چلی گئیں لیکن علینہ وہیں رخسانہ کے پاس بیٹھ گئی
“اب کیا ہو گا چوہدری… ؟” رخسانہ کا چہرہ متغیر ہو رہا تھا
“ابھی رات اس لڑکے کو اتنا سمجھا کر آئی تھی میں لیکن… سر میں کھے ڈال دی اس نے, ذلیل کروا دیا, کیا منہ دکھاؤں میں اس لڑکی کی ماں کو… اس شریف عورت کو پکا ہارٹ اٹیک آ جاۓ گا” وہ رونے والی ہو گئیں
باہر زرینہ نے جاتے ہی شرمین کو پکڑ لیا
“کہاں گئی تھی تو بتا مجھے… ؟” اویس سے ملی تھی نا… ؟” وہ اسے بازو سے کھینچتے ہوۓ ایک طرف لے آئی
“چھوڑیں مجھے… کیا بدتمیزی ہے ؟” شرمین چیخی
“زرینہ باجی چھوڑیں اسے… ساری عورتیں دیکھ رہی ہیں” ناعمہ نے اس کا بازو چھڑوایا
“پیچھے ہو ذرا… مجھے اس چڑیل سے پوچھ لینے دے کہ اس نے اویس کو کہاں بھیجا ہے؟” زرینہ آپے سے باہر ہو رہی تھی
“کیا بکواس ہے یہ… ؟” شرمین تڑخ گئی
“اچھا… اب یہ بکواس ہو گئی, سب پتہ ہے ہمیں, کیسے تو اویس پر ڈورے ڈال رہی تھی” زرینہ چیخی
“بس کریں زرینہ باجی… ” ناعمہ نے اسے پیچھے کو کھینچا, شرمین کی بڑی بہن بھی اٹھ کر آ گئی
“کیا ہو گیا ؟” وہ بولی
“اس چھنال سے پوچھیں کہ ہمارے سروں میں مٹی کیوں ڈالی اس نے ؟” زرینہ کو بھلا کون چپ کرواتا, نسرین نے فوراً شرمین کی طرف دیکھا
“آخری دفعہ اسی نے کال کی ہے اویس کو… اور اس کے بعد وہ کہیں چلا گیا ہے” زرینہ رو ہی پڑی, نسرین نے انتہائی تشویش سے شرمین کی طرف دیکھا
“جتنا تیرا دل کرے… اتنی بکواس کرتی رہ” شرمین زرینہ کو گھورتے ہوۓ وہاں سے چلی گئی
“کیا ہو گیا… ؟” عورتوں کی چہ میگوئیاں
“زرینہ تیری امی کہاں ہے ؟” رملہ کی امی اٹھ کر ان دونوں کی طرف آئیں, زرینہ مسلسل رو رہی تھی, ناعمہ نے بادل نخواستہ ویٹنگ روم کی طرف اشارہ کر دیا, وہ جیسے ہی اندر داخل ہوئیں, ایکدم ٹھٹھک گئیں, رخسانہ رو رہی تھیں اور علینہ ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بیٹھی تھی
“کیا ہوا بہن… ؟” وہ خود ڈر گئیں
“قیامت لے آیا میرا بیٹا تمہارے اوپر میری بہن… ” رخسانہ اٹھ کر ان کے قدموں میں بیٹھنے لگیں تو انہوں نے روکا, ان کا نام شمیم تھا
“ہوا کیا ہے ؟” وہ بولیں
“اویس بھائی کہیں چلے گئے ہیں آنٹی… اور ان کا موبائل بھی بند ہے” زبیر نے کہا, شمیم حق دق رہ گئیں
“اب… ؟” ان کا چہرہ تاریک ہو گیا
“یاسر کو بلاؤ… ” وہ صوفے پر گر گئیں
“بہن ذرا حوصلے سے… ” یاسمین ان کے برابر میں بیٹھ گئیں
“حوصلہ… وہاں میری بیٹی دلہن بنی بیٹھی ہے اور آپ کہہ رہے ہیں دلہا کہیں چلا گیا ہے, اور پھر حوصلہ بھی کروں ؟” وہ بولیں
“اویس راضی نہیں تھا… ؟” انہوں نے پوچھا
“راضی تو تھا لیکن… ” رخسانہ بول نہ سکیں, یاسر بوکھلایا ہوا اندر آیا تھا
“یاسر… ” شمیم رو پڑیں
“امی بس… حوصلہ کریں” پریشان تو وہ بھی تھا
“انکل جی اچھا نہیں کیا آپ لوگوں نے… ؟ اگر وہ راضی نہیں تھا تو وقت پر بتا دیتے, جتنی بھی شرمندگی ہوتی وہ کم از کم آج کے مقابلے تو کم ہی ہوتی” یاسر کو غصہ آ گیا
“پتر تیرے مجرم ہیں ہم… جو سزا سنانی ہے سنا دے” رفیق نے کہا
“سزا تو انکل آپ کا بیٹا سنا گیا ہمیں… ” وہ بولا
“اور سزا بھی پھانسی کی سنا کر گیا ہے, سولی پر چڑھا گیا ہے ہمیں ” یاسر نے شمیم کو اپنے ساتھ لگایا ہوا تھا
“میں کر لوں گا رملہ سے نکاح … ” زبیر کی بات پر سب نے چونک کر اسے دیکھا
“اگر آج نکاح کر کے کل کو طلاق دے دینی ہے تو بخش دے ہمیں… تیری مہربانی” یاسر زور سے بولا
“اللہ کی قسم تا عمر نبھاؤں گا…آپ پر کوئی احسان نہیں, مجھ پر کوئی زبردستی نہیں… میں اپنی مرضی سے یہ نکاح کر رہا ہوں” زبیر نے کہا, رخسانہ کے گرتے حوصلوں کو سہارا ملا تھا
پرفیکٹ بیٹے نے ان کے سر میں جو خاک ڈالی تھی… اسے وہ امپرفیکٹ بیٹا چننے کے لئے تیار تھا
“امی… ” یاسر نے شمیم کی طرف دیکھا
“لڑکی یونہی واپس لے گئے تو ساری عمر لوگوں کو کیا منہ دکھائیں گے یاسر… ؟” وہ بولیں
“بہن میری بات سنیں… آپ کی عزت ہماری عزت ہے, اگر اچھلے گی تو دونوں گھروں کی اچھلے گی, اویس کی جگہ زبیر کو بیٹھا دیکھ کر باتیں تو بہت بنیں گی لیکن… آپ کی بچی داغ لگنے سے بچ جاۓ گی, اللہ کی قسم بہن مجھے اپنی کی عزت کی اتنی پرواہ نہیں ہے لیکن میں بھی دو بیٹیوں کی ماں ہوں… مجھے پتہ ہے بیٹی پر لگا داغ تا عمر نہیں دھل پاتا, پچھلے چھ سالوں سے میں اس اذیت کے ساتھ جی رہی ہوں…اللہ کے واسطے بہن رملہ پر یہ داغ نہ لگائیں, زبیر سے اس کا نکاح کر دیں” رخسانہ نے کہا
“اور رملہ … ” شمیم نے اپنے آنسو خشک کئے تھے
“اسے فی الحال نہ بتائیں… مولوی صاحب کو اس کے پاس نہیں بھیجیں گے بس دستخط کروا لیں گے” یاسر نے کہا
“یاسر پتر ایسے نکاح نہیں ہوتا, لڑکی یا لڑکے کو لا علمی میں رکھ کر نکاح نہیں ہوتا, وہ تو سمجھے گی اویس سے ہو رہا ہے” شفیق نے کہا
“اسے بتانا پڑے گا… ” انہوں نے یاسر کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا
“جا یاسر… میرا پتر وہ برائیڈل روم میں بیٹھی ہے, اسے بتا کر آ, سمجھا کر آ… میرے میں تو بالکل ہمت نہیں ہے اس کا سامنا کرنے کی” شمیم نے کہا
“میرے ساتھ آؤ.. ” یاسر نے زبیر کو اشارہ کیا تھا, وہ ایک نظر سب کو دیکھتے ہوئے اس کے ساتھ باہر نکل گیا
برائیڈل روم میں رملہ کے ارد گرد کافی خواتین اور لڑکیاں بیٹھی تھیں, یاسر نے ان سب کو باہر بھیج دیا
“کیا ہوا یاسر بھائی ؟” اسے کچھ پتہ ہی نہیں تھا
“رملہ بیٹے… میری بات سن, صبر اور حوصلے سے” یاسر نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے اپنا ایک بازو اس کے کندھوں کے گرد باندھ دیا, رملہ نے اچنبھے سے پہلے یاسر اور پھر زبیر کی طرف دیکھا
“کیا بات ہے ؟” وہ بولی
“اویس بنا بتاۓ کہیں چلا گیا ہے… وہ راضی نہیں تھا” یاسر نے دھیرے سے کہا
“تھوڑی دیر میں تمہارا اور زبیر کا نکاح ہو گا ” وہ بولا, رملہ بس پتھرائی ہوئی نظروں سے یاسر کو دیکھتی رہ گئی
“میں جانتا ہوں بیٹے کہ یہ تیرے اوپر ظلم ہے لیکن… یہ اس ظلم سے شاید کم ہو گا جو ہم تجھے کنواری کو واپس لے جا کر کریں گے, ساری عمر کے لئے داغ لگ جاۓ گا رملہ کہ لڑکے نے عین شادی والے دن آخر کیوں انکار کیا تھا… ؟” یاسر کہتا چلا گیا, رملہ نے سن ہوتے وجود کے ساتھ زبیر کی طرف دیکھا
“کل کو جب یہ طلاق دے گا تب نہیں لگے گا داغ.. ؟” وہ بولی تو لگا آواز کہیں دور سے آ رہی ہو
“مجھے میرے رب کی قسم… نہیں دوں گا طلاق” زبیر نے قسم کھا کر کہا, وہ بس نظریں جھکا گئی, آنکھیں لبا لب بھر گئی تھیں
“حوصلہ کر میرا شیر پتر… ” یاسر اس کا سر تھپتھپاتے ہوۓ اٹھ کھڑا ہوا اور باہر نکل گیا, زبیر بھی ایک نظر رملہ کے جھکے ہوئے سر کو دیکھتے ہوئے باہر نکل گیا
“مولوی صاحب نکاح شروع کریں…” ان دونوں کو باہر آتا دیکھ کر رفیق صاحب نے کہا
“نکاح… کس کا ؟” حمزہ سمجھ نہ سکا
“چل پتر… بیٹھ” شفیق نے زبیر کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
“زبیر کا نکاح… ؟” حمزہ حق دق رہ گیا
“ہاں… زبیر کہتا میں کر لوں گا رملہ سے نکاح ” شفیق صاحب نے اب کے اس کے سر پر بم پھوڑا تھا
“ابو میری بات سنیں… زبیر کا نکاح نہ کروائیں… میں کر لیتا …” اس کی بات ادھوری رہ گئی, شفیق کو کسی نے آواز دی تھی, وہ دونوں بھائی مسلسل لوگوں کے سوالوں کے جواب دے رہے تھے, حمزہ نے بے بسی سے سٹیج کی طرف دیکھا
قسمت کیسے اس کے ہاتھوں میں موقع دے کر چھین گئی تھی, مولوی صاحب نکاح پڑھا رہے تھے, زبیر قبول ہے کہتے ہوئے سر ہلا رہا تھا
وہ بس ساکت نظروں سے اسے دیکھتا رہ گیا, گواہوں میں شفیق اور شمس کا نام لکھ دیا گیا, دعا کے بعد سب سے پہلے یاسر اس سے گلے ملا تھا
“زبیر وہ لڑکی قدرت کی طرف سے ایک تحفہ ہے تیرے لئے… اس کی قدر کرنا” وہ بولا, زبیر نے سر ہلا دیا, مولوی صاحب یاسر کو لیکر رملہ کی طرف چلے گئے تھے
عورتوں والی سائیڈ پر بھی خبر پھیل گئی تھی, نکاح کے وقت رخسانہ اور شمیم بھی وہیں تھیں, رملہ بس چپ چاپ سر ہلاتی چلی گئی, سر جھکا کر سائن کرتی چلی گئی… شمیم کو روتا دیکھ کر بھی اس کی آنکھوں سے ایک آنسو نہ نکلا
ہر دل پر قیامت آئی تھی…اپنی اپنی طرز سے
رملہ پر, زبیر پر, رخسانہ پر, شمیم پر
اور ایک قیامت آئی تھی حمزہ پر… اور ایک قیامت ایسی بھی آئی تھی جس کا کسی کو علم ہی نہ ہو سکا, انجانے میں ہی ایک معصوم سا دل چھناکے سے ٹوٹ گیا, دو خوابناک آنکھوں کے سامنے ان کے خواب چکنا چور ہو گئے تھے
زبیر رملہ کا ہاتھ تھام کر اسے سٹیج تک لایا تھا… سی گرین کلر کے سٹائلش سے کرتے اور شلوار میں ملبوس اوپر سے واسکٹ پہنے وہ دلہا تھا
شرمین کے چہرے پر ایک پر اسرار سی مسکراہٹ کھیل رہی تھی
رملہ کو زبیر کے برابر میں بیٹھے دیکھ کر کسی کے سپنوں کا خون ہوا تھا, وہ بس ساکت سی نظروں سے سٹیج کی طرف دیکھے جا رہی تھی
وہ… ناعمہ شفیق
جس پر یوں قیامت آئی تھی کہ اس سے زبیر چھن گیا تھا
……………………….
جاری ہے
