No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
“یاسمین… ” رخسانہ نے انہیں آواز دے کر بلایا
“حمزہ کہاں ہے ؟” انہوں نے پوچھا
“پتہ نہیں بھابھی… رات سے نظر نہیں آیا” وہ بولیں
“کل رات وہ اوپر تو نہیں تھا جب رملہ اوپر گئی تھی ؟” انہوں نے پوچھا
“نہیں بھابھی… وہ مجھے کہہ کر نکلا تھا کہ باہر جا رہا ہے”یاسمین نے کہا
“مجھے بھی اس بے غیرت نے یہ ہی کہا تھا کہ میں باہر جا رہا ہوں, چھت پر سے کپڑے اتروا دیں, میری چارپائی بھری پڑی ہے… لیکن پھر گھر کیوں نہیں آیا؟” وہ بولیں
“یاسمین کہیں حمزہ نے تو کچھ… ” وہ کہتے کہتے رکیں
“بھابھی ضروری تو نہیں کہ ہر دفعہ قصوروار میرا ہی بیٹا ہو, ہو سکتا ہے رملہ اکیلی ڈر گئی ہو اوپر ” یاسمین نے کہا
“خدا کرے ایسا ہی ہو” وہ نہایت پریشان تھیں
……………….
اسے تین دن بعد ہوش آیا تھا… کلائی کی ہڈی اور ٹخنے کی ہڈی فریکچر ہوئی تھی, سر پر شدید چوٹ آئی تھی, پورا جسم جگہ جگہ سے زخموں اور خراشوں سے بھر گیا تھا, چہرے پر بھی زخم آۓ تھے, اور سب سے بڑا نقصان کہ وہ ماں بننے کا شرف فی الوقت کھو بیٹھی تھی, اس کی ایچ بی چھ پر پہنچی ہوئی تھی, بلڈ مسلسل لگ رہا تھا, اب جا کہ کہیں حالت تشویش سے باہر آئی تھی, ہوش میں آنے پر اس نے پاس کھڑے زبیر کو پہچان لیا تھا
“رملہ… وہ اس کے سرہانے بیٹھ کر آنسوؤں سے رو دیا
“اوۓ کملیا… بس کر, پریشان ہو جاۓ گی وہ” رفیق صاحب نے اسے وہاں سے اٹھانا چاہا… وہ اٹھ ہی نہیں رہا تھا, بس اس کا برنالہ لگا ہاتھ آنکھوں سے لگا کر بیٹھا تھا, تھوڑی دیر بعد وہ پھر بے ہوش ہو گئی,
اگلا پورا دن وہ بے ہوش رہی, شام کے قریب دوبارہ ہوش آیا تو صورتحال خطرے سے باہر تھی, اسے وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا, اس نے پوری آنکھیں کھول کر سب کو دیکھا تھا
“زبیر… میرا پتر اٹھ کر کچھ کھالے, چار دن ہو گئے ہیں صرف پانی اور چاۓ پر گزارہ کر رہا ہے, بالکل ٹھیک ہے وہ اب, شکر ہے مالک کا… اٹھ میرا پتر” رخسانہ اسے کہتے ہوئے رو ہی پڑیں تھیں, وہ ہنوز رملہ کا ہاتھ تھامے بیٹھا تھا
“رملہ اسے کہہ اٹھ کر کچھ کھاۓ… ” وہ بولیں, رملہ نے دھیرے سے اپنا ہاتھ ہلایا تھا, زبیر روتے ہوئے اس کے بازو پر سر رکھ کر ڈھے سا گیا, رملہ نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا تھا
“گھر ہو آئیں… ” وہ بمشکل بولی تھی
“جائیں… ” زبیر کو اس کے سرہانے بیٹھے آج چوتھا دن تھا, سب نے زور زبردستی اسے اویس کے ساتھ گھر بھیج دیا, اس نے شاور لیا, کپڑے بدلے اور تھوڑا بہت کھانا کھا کر دوبارہ ہسپتال چلا آیا
“امی گھر چلی جائیں… ناعمہ بیچاری شرمین سے بہت تنگ ہے, بیچاری رونے والی ہوئی ہوئی ہے” زبیر نے واپس آ کر رخسانہ سے کہا تھا, وہ بادل نخواستہ سی واپس چلی گئیں, ہسپتال میں بس زبیر اور یاسر ہی تھے, اور ساتھ پہلے دن سے رملہ کی امی تھیں
…………………………
“آج کیا بہانہ ہے تمہارے پاس میرے قریب نہ آنے کا ؟” اویس شاور لیکر باہر نکلا تھا, گیلے جسم پر ٹی شرٹ پہنتے ہوئے اس نے شرمین کی طرف دیکھا جو بیڈ پر بیٹھی نہ جانے کون کون سا لوشن جگہ جگہ تھوپ رہی تھی
“اویس آپ کو لگتا ہے میں جھوٹ بول رہی ہوں… میری واقعی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اور اب ویسے بھی ایک ہفتہ مزید صبر کریں” وہ بولی
“ایک ہفتہ ؟” اویس کی آنکھیں پھیل گئیں
“مجھے مسئلہ ہے تھوڑا سا… ” وہ بولی, اویس چند لمحے کھڑا اسے دیکھتا رہا پھر اس کے پاس چلا آیا
“شرمین یہ سب کرنے سے کیا ہو گا ؟” اویس نے پوچھا
“کیا مطلب ؟” وہ انجان بن گئی
“میری ایک بات کان کھول کر سن لو… میں بظاہر دیکھنے میں تمہیں کاٹھ کا الو لگتا ہوں گا لیکن در حقیقت ہوں نہیں… میں اگر تمہاری خاطر عین نکاح والے دن انکار کر سکتا ہوں, گھر والوں کے خلاف کھڑا ہو سکتا ہوں, تم سے کورٹ میرج کر سکتا ہوں… تو تم سے اپنا حق بھی وصول کر سکتا ہوں…صرف چند لمحوں میں ” وہ اس پر جھکا اس کی آنکھوں میں جھانک کر کہتا چلا گیا, شرمین بول نہ سکی
“تمہیں جتنا بھاگنا ہے بھاگ لو… آخر میں آؤ گی تو میرے پاس ہی نا” وہ دھیرے سے اس کے شربتی لبوں کو چھو کر پیچھے کو ہو گیا تھا
…………………………….
آج رات بھی وہی اس کے پاس تھا, دفتر سے چھٹی لیکر سیدھا ہسپتال ہی چلا آیا, بڑی مشکلوں سے اس نے رملہ کی امی کو یاسر کے ساتھ گھر واپس بھیجا تھا, وہ خود جوڑوں کے درد میں مبتلا تھیں, بیٹھے بیٹھے ہی اکڑ جاتی تھیں, دوپہر میں تھوڑی دیر کے لئے یاسمین نے چکر لگایا اور زبیر کے ساتھ مل کر اس کے کپڑے اور بستر کی چادر تبدیل کر دی, وہ ذرا سا بھی حرکت کرتی تھی تو مارے درد کے کراہ اٹھتی تھی, شام میں یاسمین بھی واپس چلی گئیں, یاسر اس کے لئے سوپ بنوا کر لیکر آیا تھا, زبیر نے اس کے پاس بیٹھ کر خود اسے چمچ چمچ کر کے سوپ پلایا…پھر اس کا یورین بیگ خالی کیا, مغرب کے بعد اس کا پلستر تبدیل ہوا تھا, تکلیف کی شدت سے وہ مرنے والی ہو گئ, نرس اسے پین کلرز اور ڈرپ لگا کر چلی گئی, زبیر نے اس کے بالکل پاس بیٹھتے ہوئے اپنے ہاتھوں سے اس کا گیلا چہرہ خشک کیا تھا, چند ہی دنوں میں وہ سوکھ کر کانٹا ہو گئی تھی, چہرے کی سفیدیوں میں زردیاں سی گھل گئی تھیں, ہونٹ ہمہ وقت خشک ہی رہتے تھے, زبیر نے دھیرے سے اپنی انگلیاں اس کے چہرے پر پھیریں
“کل کو دفتر سے آ کر تمہارے بالوں میں کنگھی کروں گا, دیکھو کیسے الجھے پڑے ہیں” اس نے اپنی انگلیاں رملہ کے بالوں میں پھنساتے ہوۓ کہا
“رہنے دیں, پہلے ہی آس پاس والی ساری عورتیں مجھے یوں دیکھتی ہیں جیسے میں شاید دنیا کی کوئی انوکھی عورت ہوں” وہ دھیرے سے بولی
“کیوں بھلا… ؟” وہ دھیرے دھیرے اس کے الجھے ہوئے بال سلجھا رہا تھا
“آپ ہر وقت میرے آگے پیچھے جو پھرتے رہتے ہیں… کوئی اپنی بیوی کے لئے اتنا کچھ نہیں کرتا زبیر… ” رملہ کی آنکھیں بھر آئیں
“کوئی نہیں کرتا تو نہ کرے… میں تو کروں گا” اس نے رملہ کی آنکھ کے گوشے میں پڑا آنسو اپنی پور پر چن لیا
“رملہ… میری جان… ” زبیر دھیرے سے اس کے اور قریب ہوا تھا
“ادھر دیکھو میری طرف… ” اس نے رملہ کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں کے پیالے میں بھرا تھا
“اس رات کون تھا چھت پر ؟” زبیر نے پوچھا, رملہ بس سن آنکھوں سے اسے دیکھتی رہ گئی, لمحہ لگا اور آنکھیں لبا لب بھر گئیں
“زبیر… مجھے یہاں سے اس گھر میں واپس نہیں جانا پلیز… پلیز” آنسو اس کے گالوں پر روانی سے بہہ نکلے تھے
“میں اس گھر میں رہی تو… ایک دن یونہی جیتے جی مر جاؤں گی… پلیز مجھے وہاں واپس نہیں جانا” وہ سسکیوں سے کہہ رہی تھی, زبیر سب سمجھ گیا, بہت محبت سے اس کے گالوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے اس نے بنا آس پاس کی پرواہ کیے رملہ کے ماتھے پر اپنے لب رکھے تھے
……………………………
رخسانہ اور اویس بالکل آمنے سامنے بیٹھے تھے, ساتھ والی چارپائی پر رفیق صاحب بیٹھے تھے, دیوار کے ساتھ زرینہ اور یاسمین کھڑی تھیں
“منڈیا یہ کونسا نیا تماشہ ہے اب ؟” رخسانہ نے اسے کڑے تیوروں سے گھورا
“کیا مطلب ؟” وہ انجان بن گیا
“پنرہ دن ہونے کو آۓ ہیں تیرے ویاہ کو… اور تیری وہ راجکماری دن کے بارہ بجے اٹھ کے اشنان کرتی ہے, سارا کچھ ڈھپ ڈپھا کے” رخسانہ نے کہا
“امی میں روزانہ صبح نہا کر فیکٹری جاتا ہوں…. ” اویس گڑبڑا گیا
“تیری تو بات ہی نہیں ہو رہی… تو, زبیر اور حمزہ شروع سے ہی تازہ پانی سے نہانے کے عادی ہو مجھے پتہ ہے… پمپ چلایا اور نہا لئے, گرمی, سردی صبح نہا کر ہی ناشتہ کر کے جاتے ہو… رملہ ویاہ کے آئی تو اتنا محسوس نہیں ہوا تھا ہمیں کہ گرمیاں تھیں لیکن…” وہ بولتے بولتے رکیں
“اب تو سردیاں ہیں… شرمین جی تو کبھی بھی ٹھنڈے پانی سے نہ نہاۓ… تو وہ غسل کیے بنا ہی کھا پی لیتی ہے کیا ؟” رخسانہ نے کہا, اویس ان کی ساری بات سمجھ رہا تھا لیکن بس انجان بن رہا تھا
“کی مسئلہ ہو گیا ہن… ؟” رفیق نے پوچھا
“کچھ نہیں ابو ” وہ بوکھلا گیا
“فیر نیڑے کیوں نہیں جاندا اودے ؟” ان کے پوچھتے ہی اس کا سر شرم سے جھک گیا
“زبیر ہر چوتھے دن اوپر جا کر گیزر چلا کر آتا تھا, پھر رملہ جا کر بند کر کے آتی تھی, اس کی شادی کو آج پندرہ دن ہو گئے ہیں لیکن ایک بار بھی گیزر نہیں چلایا اس نے… نا اس کی میڈم نے… وہ تو نوابوں کی طرح بارہ بجے اٹھ کر نہاتی ہے” زرینہ پھٹ پڑی
“کوئی رشتہ نہیں بنا نا ابھی تک تم دونوں کے بیچ ؟” رخسانہ نے اسے گھورا
“امی اس کی طبیعت ٹھیک نہیں… “
“اویس میرے نال بکواس نہ کر… ” وہ تڑخ گئیں
“زرینہ جا ذرا اس چھمک چھلو کو بلا کر لا.. ” رفیق کے کہتے ہی اویس اچھل پڑا
“بس کر دیں… میری مرضی میں جب مرضی اس سے رشتہ بناؤں ” وہ غصے سے کہتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا تھا
……………………….
آج پندرہ دن ہو گئے تھے… سواۓ یاسمین اور ناعمہ کے کسی کو بھی حمزہ کی شکل دیکھے… رات کو انتہائی رازداری سے گیٹ پھلانگ کر آتا اور سیدھا اپنے کمرے میں گھس جاتا, صبح منہ اندھیرے ہی اٹھ کر نہاتا, یاسمین ناشتہ بنا دیتیں اور باقی گھر والوں کے اٹھنے سے پہلے ہی ہسپتال چلا جاتا… باقی کی نیند وہاں جا کر پوری کرتا تھا
رخسانہ نے یاسمین سے اس کا پوچھا بھی لیکن انہوں نے ٹال دیا… حمزہ نے یاسمین کو بھی کچھ نہیں بتایا تھا, بس اتنا کہا کہ ہسپتال میں آجکل ڈبل شفٹ لگاتا ہوں اسلئے رات کو دیر ہو جاتی ہے, رخسانہ اور یاسمین کو اس نے یہ کہہ کر بھی مطمئن کر دیا کہ وہ ہسپتال کا چکر بھی لگا آیا ہے
اس دن بھی وہ رات گئے واپس آیا تو ناعمہ جاگ رہی تھی, اس کے پیچھے پیچھے کمرے تک چلی آئی
“یہ کونسا نیا تماشا ہے حمزہ ؟” اس نے پوچھا
“مطلب ؟” وہ چونک گیا
“کس سے منہ چھپا رہے ہو ؟” اس نے پوچھا
“میں کیوں منہ چھپاؤں گا ؟” وہ بولا
“پھر ایسے چوروں کی طرح گھر کیوں آنے لگا ہے ؟” وہ اس سے دو سال چھوٹی ہو کر بھی اسے سرزنش کر رہی تھی, حمزہ چپ چاپ اپنا بستر درست کرتا رہا
“حمزہ… تو اس رات چھت پر تھا نا…. ؟” ناعمہ آگے کو آئی
“ناعمہ میرے کمرے سے دفع ہو جا” وہ بولا
“محبت اپنی جگہ حمزہ لیکن… تو اس کے ساتھ زیادتی کرنے لگا تھا نا ؟” ناعمہ کی آنکھیں بھر آئیں
“میں نے دیکھا ہے اسے… اور خدا کی قسم اسے دیکھا نہیں جاتا, وہ پوری کی پوری سفید پٹیوں میں جکڑی پڑی ہے, ذرا سا ہلتی ہے تو چیخیں مارتی ہے اور اوپر سے… ” وہ ذرا سا رکی, حمزہ نے مڑ کر اسے دیکھا
“وہ ماں بننے والی تھی حمزہ… ” ناعمہ نے اس کے سر پر بم پھوڑا تھا, حمزہ ساکت رہ گیا
یہ تو وہ جانتا ہی نہیں تھا
“زبیر تجھے زندہ نہیں چھوڑے گا… جب تک وہ ہسپتال میں ہے اپنی خیر منا لے… جس دن وہ ڈسچارج ہو کر گھر آ گئی وہ شاید تیرا اس گھر میں آخری دن ہو گا” ناعمہ اسے ڈراۓ جا رہی تھی
“سونے دے… جا چلی جا” حمزہ نے اسے بازو سے پکڑ کر باہر کو دھکیل دیا اور دروازہ بند کر لیا, شرٹ اتار کر وہ چارپائی پر گر سا گیا
اب پوری رات نیند کہاں آنی تھیں
بستر پر لیٹتے ہی رملہ کا ٹوٹا پھوٹا وجود اس کی نگاہوں کے سامنے آ گیا, وہ ناعمہ سے کہہ نہیں سکا تھا کہ وہ تو روز اسے دیکھنے جاتا تھا.. چھپ چھپ کر.. کبھی کبھار تو دن میں دو, تین دفعہ… بس اس کا پٹیوں میں جکڑا وجود دور سے ہی دیکھ کر واپس آ جاتا تھا
آج اسے ادراک ہوا تھا کہ اس کی وجہ سے وہ اپنا شرف بھی کھو بیٹھی تھی… ماں بننے کا شرف
واقعی… زبیر اگر اسے گولی بھی مار دے تو اس پر کوئی گناہ نہیں…
……………………….
وہ اس کے پہلو میں آ کر لیٹی تھی, اویس بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگاۓ موبائل دیکھ رہا تھا, وہ بڑے مزے سے کمبل تان کر لیٹ گئی, اویس نے موبائل ایک طرف رکھتے ہوئے اس کی طرف رخ موڑا اور اس کا کمبل کھینچ دیا
“کیا ہے ؟” وہ تڑخ کر بولی تھی, اویس نے اس کی کمر کے گرد بازو ڈال کر اسے ایک دم اپنی طرف کھینچ لیا تھا, وہ اس کے سینے سے آ لگی
“اویس یہ کیا بدتمیزی ہے ؟” شرمین نے خود کو اس کے چنگل سے چھڑوانا چاہا
“اچھا… شادی سے پہلے یہ رومینس تھا… اب بدتمیزی ہو گئی ” اویس نے اس کے گرد حلقہ تنگ کر دیا
“اویس چھوڑیں مجھے…. ” وہ بدکی
“تمہیں میں نکاح کر کے اس کمرے میں بیوی بنا کر لایا ہوں سمجھی…اگر مجھے بس صبح و شام آئی لو یو کے میسیج کرنے والی ایک محبوبہ ہی چاہیے ہوتی تو تم سے شادی نہیں کرتا ” وہ ایک دم اسے نیچے کرتے ہوئے خود اس کے اوپر ہو گیا
“اویس آخر اتنی جلدی کیا ہے آپ کو ؟” وہ بے بس ہو کر بولی تھی
“واہ… پندرہ دن تمہارے پہلو میں بس نیند پوری کرتے ہوئے گزار دئیے میں نے اور تم کہہ رہی ہو کہ جلدی کیا ہے… شرمین مجھے کھل کر بتاؤ کہ تمہارے ساتھ مسئلہ کیا ہے ؟” وہ پوری طرح اس پر حاوی ہو چکا تھا, شرمین نے کھلا سا نائیٹ ڈریس پہن رکھا تھا, اویس نے اس کے دونوں بازو اس کے سر کے اوپر کر کے کلائیوں سے جکڑ دیئے
“کوئی مسئلہ نہیں ہے… ” شرمین نے تھوگ نگلتے ہوۓ کہا
“پھر بھاگ کیوں رہی ہو مجھ سے” اویس نے اپنی شرٹ اتارتے ہوئے پوچھا اور لائیٹ آف کر دی
“نہیں تو… اویس دیکھیں میاں بیوی کا رشتہ بس ایک چارم ہی تو ہوتا ہے… کیوں نا اس چارم کو ایسے ہی بناۓ رکھیں… اگر آپ روز مجھ سے اپنا حق وصول کرنے لگ گئے تو سارا چارم ہی ختم ہو جاۓ گا ” وہ بولتی چلی گئی
“بس یہ ہی مسئلہ ہے ؟” اویس اس پر جھکا اور اپنی انگلیاں اس کی شرٹ کے بٹنوں پر رکھ دیں
“ہاں بس…. ” وہ بولی
“اور تو کوئی مسئلہ نہیں ہے نا… ؟” اویس نے یقین دہانی چاہی تھی
“نہیں.. ” وہ بولی, اویس نے دھیرے سے اس کے لبوں کو چھوا تھا اور اس کی شرٹ کے بٹن کھولتا چلا گیا
“میری جان آج رات کے بعد تمہارا یہ سو کالڈ چارم پہلے سے دو گنا ہو جاۓ گا دیکھنا” وہ اس کی ہر مزاحمت کو توڑتا اس سے اپنا ہر حق وصول کرتا چلا گیا تھا… کاٹھ کا الو تھوڑی نا تھا وہ
آپ سب لوگ سوچیں گے کہ آخر یہ کیا ہے… ؟ یہ کیا لکھ رہی ہے ؟ لیکن خدا کی قسم یہ حقیقت ہے, دنیا بھری پڑی ہے ایسی عورتوں سے جنہیں شادی کے بعد بھی اپنا چارم, اپنا جسم, اپنی سکن, اپنی ہیلتھ, اپنا فگر…سب سے زیادہ عزیز ہوتا ہے, یہ وہ عوام ہے جن کی استانی انٹر نیٹ ہے… بقول ان کے شادی کے بعد بس ایک بیوی نام کا غلام بن جانے کا کوئی فائدہ نہیں… اور یہ عورتیں بیچاری عام عورتوں کے کان بھر بھر کر انہیں خوامخواہ ہی احساس کمتری کا شکار کر دیتی ہیں… توبہ توبہ… شادی کے تین ماہ بعد ہی پریگنینسی…. توبہ شادی کے اگلے سال ہی بچہ.. جان بوجھ کر شوہر سے دور بھاگتی ہیں, اپنی اہمیت جتانے کے لئے, اپنا آپ مینٹن رکھنے کے لئے, جلدی ماں نہ بننے کے لئے…. اور اس چکر میں اپنا کام خراب کر لیتی ہیں, شوہر باہر منہ مارنے لگتا ہے, سسرال والے بچہ بچہ کرتے رہ جاتے ہیں, جب تک بچے کی بات آتی ہے تب تک پیچیدگیاں شروع ہو جاتی ہیں, بات زیادہ بڑی نہیں ہے… یہ ہی ہے وہ قسم جو شوہر کا حق ادا نہیں کرتی… اور اس قسم کی عورتوں کے لئے بھی وعید ہے… کڑی وعید
……………………….
صبح اس نے پورا گھر سر پر اٹھایا ہوا تھا, سب سے پہلے تو اویس کی ماں بہن ایک ہوئی
“مجھے آج شام تک انسٹینٹ گیزر لگوا کر دیں… مجھے نہیں پتہ” وہ اس کے سر پر کھڑے ہو کر چیخی تھی
“جو لگا ہوا ہے اسے کیا ہوا ؟” اویس ابھی تک رات کے نشے میں تھا
“وہ قبل مسیح کا گیزر ہے… ایک تو اس کا بٹن وہ آخری چھت پر ہے جہاں آتے جاتے ہی بندے کا فالودہ نکل جاۓ” وہ چیخی
“دو گھنٹے ہو گئے ہیں ابھی تک پانی گرم نہیں ہوا, بھوک سے جان نکل رہی ہے میری” وہ مسلسل چیخ رہی تھی, اویس بادل نخواستہ اٹھا اور ٹونٹی چلائی, تھوڑی دیر بعد ہی گرم پانی آ گیا
“آ تو رہا ہے… ” وہ بولا
مجھے کیا پتہ یہ والی ٹونٹی چلانی ہے ” وہ بولی
“تمہیں بس اندھوں کی طرح صبح صبح چیخنے کا پتہ ہے” اویس اسے گھرک کر دوبارہ بستر میں گھس گیا
“اندھا کسے کہا… ؟” وہ اس پر چڑھ دوڑی
“جسے ٹونٹی نظر نہیں آئی” وہ کمبل تان کر بولا تھا, شرمین بکتی جھکتی واش روم میں گھس گئی, آدھے پونے گھنٹے بعد تیار شیار ہو کر بال بکھرا کر کمرے سے باہر نکلی اور کچن میں آئی, وہاں صرف ناعمہ کھڑی تھی
“ہمارا ناشتہ بنا دو… ” حکم جاری ہوا
“میں تو زبیر بھائی کا ناشتہ اور رملہ کا سوپ بنا رہی ہوں, آج آپ خود ہی بنا لیں” اس نے کورا جواب دے دیا, شرمین کے سر پر لگی اور تلوؤں پر بجھی, قہر برساتی آنکھوں سے وہ اندر آئی تھی, اویس نہا رہا تھا, باہر نکلا تو شروع ہو گئی, وہ اس کی ساری رام کتھا سن کر باہر نکل گیا
“امی میرا اور شرمین کا ناشتہ بنا دیں… ” اس نے کہا
“پتر میں تو جا رہی ہوں ہسپتال… زبیر نے دفتر جانا ہے, شرمین سے کہہ اپنا اور تیرا دونوں کا ناشتہ بنا لے, دو ہفتے ہو گئے ہیں اسے بیڈ پر بیٹھ کر کھاتے اب بس کرے” رخسانہ نے کہا, ناعمہ چپ چاپ سیڑھیاں چڑھ گئی, وہ ہزار منتیں کر کہ زرینہ کو لیکر آیا, اس نے سو باتیں سنا کر ناشتہ بنا کر دیا
“برتنوں میں بھی ڈال دے ” اویس نے کہا
“اس نوابزادی کو کہہ آ کر ڈال لے” وہ اسے گھورتی ہوئی اوپر چلی گئی, اویس نے خود ہی ٹرے بنائی اور اندر لے گیا
“چلو آؤ… ” وہ ایک نظر اس کے سرخ چہرے کو دیکھتے ہوئے بولا
“اب اپنے نخرے ذرا کم کر دو اور کل سے اپنا اور میرا دونوں کا ناشتہ بنایا کرنا” اویس نے کہا
“مجھے بالکل عادت نہیں ہے کچن کے کام کرنے کی” وہ تڑخی
“تو پھر بھوکی رہ لیا کرنا…” اویس نے کہا
“تمہیں پتہ بھی ہے رملہ ہسپتال میں پڑی ہے… سارا گھر وہاں کے چکر لگاتا رہتا ہے, تھوڑا سا تو خیال کر لو” اویس نے کہا
“وہ بھی وہاں جا کر لم لیٹ ہی ہو گئی ہے, کام چور کہیں کی…” وہ پھنکار کر بولی تھی
…………………………..
وہ بھی ایسی ہی ایک سیاہ رات تھی, سرد برفیلی ہوا جسم کے آر پار ہو رہی تھی, رات کے گیارہ بج رہے تھے جب حمزہ ہسپتال سے واپس آیا, موٹر سائیکل گھر کے ساتھ منسلک احاطے میں کھڑی کر دی اور خود بنا کوئی آہٹ کئے گیٹ پر چڑھ کر اسے پھلانگ کر اندر آ گیا, ادھر ادھر دیکھتے ہوئے اس نے اپنی جیکیٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اور اندر کی طرف بڑھ گیا, بیرونی دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھا اور لائیٹ جلا کر دروازہ بند کر دیا… زبیر اس کی چارپائی پر ایستادہ تھا
حمزہ یکدم ٹھٹھک گیا, زبیر دھیرے سے کھڑا ہوا اور اس کے سامنے آ گیا
“تو اب چور بن گیا ہے تو… ہے نا ؟” وہ بولا
“اور چوروں کو پکڑنے کے لئے چور ہی بننا پڑتا ہے” زبیر نے ہاتھ میں پکڑا ریوالور اس پر تان لیا, وہ حمزہ کا ہی پرسنل ریوالور تھا جو اس نے بنا لائسینس کے ہی رکھا ہوا تھا
“میں نے اس بار کوئی واویلا نہیں کرنا حمزہ… کسی بھی گھر والے سے کچھ نہیں کہنا… کوئی فائدہ ہی نہیں, تجھ جیسوں پر تھپڑوں اور لفظوں کی مار کا کوئی اثر نہیں ہوتا… بس ایک گولی اور قصہ ختم… حمزہ شفیق نے اپنے ہی ریوالور سے خود کو گولی مار لی… خس کم جہاں پاک” زبیر نے دھیرے سے ٹریگر پر انگلی رکھی تھی, حمزہ کے چھکے چھوٹ گئے
“زبیر… پلیز” وہ بس اتنا ہی کہہ سکا
“حمزہ… وہ میری بیوی ہے, اس کے وجود میں میرا دو ماہ کا بچہ تھا” زبیر کی آنکھوں میں نفرت ابھر آئی
“زبیر… مجھ سے بیت بڑی غلطی ہو گئی…. ” حمزہ تھوک نگلتے ہوۓ بولا تو بولا ہی نہ گیا, لب کپکپا اٹھے تھے
“اسے غلطی نہیں کہتے حرامزادے… اسے گناہ کہتے ہیں” زبیر نے ٹریگر پر ہلکا سا دباؤ ڈالا
“مجھے معاف کر دے…. ” حمزہ نے دونوں ہاتھ اس کے آگے جوڑ دئے
“بس ایک بار… میں آئیندہ نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھوں گا اسے” حمزہ کی آواز بھرا گئی
“چل پھر کھیل کا رخ موڑ دیتے ہیں… ” زبیر نے ریوالور یکدم اس کی طرف اچھال دیا جسے اس نے بمشکل پکڑا تھا
“مجھے گولی مار دے اور بھاگ جا… گھر والوں سے کہہ دیں کہ زبیر نے خود کشی کر لی” وہ بولا, حمزہ ریوالور پکڑے کھڑا رہ گیا
“مار دے مجھے… بہت فائدہ ہو گا تجھے حمزہ, تیرے دل میں مچلتی خواہش لمحوں میں پوری ہو جاۓ گی, بس اس کے بعد چار ماہ اور دس دن ہی مشکل ہیں…پھر وہ تیری ہو گی, اب تو بچے کا بھی کوئی چکر نہیں… وہ بھی خدا کو پیارا ہو گیا, کتنے دن سوگ مناۓ گی وہ میرا… آخر میں میری قبر پر چند پھول ڈال کر تیرے سنگ رخصت ہو ہی جاۓ گی… مار دے مجھے” وہ کہتا چلا گیا, حمزہ یونہی کھڑا رہا
“مار مجھے حمزہ… کیونکہ اس کے زندہ رہنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم دونوں میں سے ایک مر جاۓ… ” زبیر اس کے قریب آیا تھا
“مار مجھے… ” زبیر نے اس کا ریوالور والا ہاتھ پکڑا اور نال اپنے ماتھے سے لگا دی
“میں اپنا خون اسی دنیا میں تجھے معاف کرتا ہوں.. ” زبیر نے کہا, حمزہ چند لمحے اس کی طرف دیکھتا رہا پھر ریوالور کی نال اپنی کنپٹی سے لگا لی
“جب کسی ایک کو مرنا ہی ہے توپھر میں ہی کیوں نہیں… ؟” وہ بولا, اس کا چہرہ پسینے سے شرابور ہو چکا تھا, ہاتھ کپکپا اٹھا
“چل پھر دبا ٹریگر… دفع ہو جا اس دنیا سے اور جان چھوڑ ہماری” زبیر نے کہا, حمزہ نے آنکھیں بند کرتے ہوئے ٹریگر دبا دیا تھا
……………………………
جاری ہے
