63K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

آٹھویں قسط
وہ فجر کی نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تھی , زبیر کروٹ لئے ہوش و حواس سے بیگانہ ہوا سو رہا تھا, وہ دھیرے سے دروازہ کھول باہر نکل آئی, سفیدی ابھی پوری طرح نہیں پھیلی تھی, چڑیوں کی چوں چوں کا راگ ہر درخت پر جاری تھا, باہر کوئی بھی نہیں تھا, وہ جوتے اتارتے ہوئے گھاس پر چلنے لگی, ٹھنڈی ٹھنڈی گھاس پیروں کو نہایت سکون بخش رہی تھی, کافی دیر وہ ننگے پاؤں گھاس پر واک کرتی رہی, چہل پہل ہونے لگی تو اندر آ گئی, دور دراز سے آۓ مہمان آج واپس جا رہے تھے, کچن میں کھٹر پٹر جاری تھی, وہ رخسانہ کو سلام کرتی ہوئی اندر آ گئی
“اٹھنا نہیں ہے ؟” اس نے زبیر کے اوپر سے کمبل کھینچا تھا, وہ کسمسا کر سیدھا ہوا اور گھڑی کی طرف دیکھا… پھر اس کی طرف دیکھا اور ہاتھ بڑھا دیا, رملہ نے مسکراتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام لیا, زبیر نے اسے کھینچ کر اپنے ساتھ بٹھایا اور بڑے حق سے اپنا سر اس کی گود میں رکھ دیا
“رملہ… یار ایک کام تو کر دو” وہ اس کے گیلے بالوں کو اپنے چہرے پر گراتے ہوئے بولا
“سو کام کروائیں… ” وہ بولی
“میری ایک پینٹ اور شرٹ استری کر دو… دفتر جانا ہے” وہ بولا
“کیوں ؟” وہ چونک گئی
“یار میں نے تو بس تین چھٹیاں لی تھیں, تینوں فنکشنز کے لئے, اب مجھے کیا خبر تھی کہ یہاں تو پورا فنکشن ہی میرے نام ہو جانا ہے” وہ دھیرے سے مسکراتے ہوئے بولا
“اب آج تو جانا پڑے گا, پھر کوئی جگاڑ لگا کر دو, چار چھٹیاں لیکر آتا ہوں” وہ اس کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
“اٹھیں پھر… میں کر دیتی ہوں ” وہ بولی, زبیر نے اٹھتے اٹھتے بھی اس کے لبوں کو چھو لیا تھا, وہ بس تمتما کر بستر سے اتر گئی
“میں شاور لے لوں” زبیر تولیہ اٹھا کر واش روم میں گھس گیا, رملہ اس کی پینٹ شرٹ اٹھا کر باہر نکل آئی, استری سٹینڈ کچن کے ساتھ رکھا تھا, وہ اس کے کپڑے استری کرنے لگی, ناعمہ کچن سے نکلی تھی, اس کے پاس سے گزری تو رک گئی, رملہ کی کمر پر بکھرے بالوں سے ابھی تک پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے…وہ سلگ سی گئی
“تو سیٹ ہو ہی گئیں آپ ؟” وہ بولی
“کیا مطلب ؟” رملہ نے اس کی طرف دیکھا
“میرا مطلب زبیر کے ساتھ انڈر سٹینڈنگ ہو ہی گئ آپ کی ؟” ناعمہ نے دوبارہ کہا
“ہاں… میری اپنے شوہر سے بہت اچھی انڈر سٹینڈنگ ہو گئی ہے” رملہ نے مسکراتے ہوئے کہا
“کمال ہے… ایک رات میں ہی” ناعمہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس کے بال کھینچ دیتی
“میرے خیال سے تمہیں مجھ سے یہ سب پوچھنے کا کوئی حق نہیں ہے, اس گھر میں سب سے چھوٹی ہو تم… سو چھوٹی ہی رہو” رملہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کپڑے اٹھا کر اندر چلی گئی تھی
وہ بس جل بھن کر رہ گئی
……………………………..
دن کے دس بج رہے تھے جب وہ سو کر اٹھا اور نیچے اترا, زیادہ تر مہمانوں کی واپسی ہوچکی تھی سو گہماگہمی ذرا کم تھی, وہ اپنی شرٹ کندھے پر ڈالے موبائل اور چارجر ہاتھوں میں لیے کچن کے آگے سے گزرا اور سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا, بس ایک نظر اس نے رملہ کے کمرے کے بند دروازے کو دیکھا تھا, “مجھے کوئی ڈسٹرب نہ کرے “زور سے کہتے ہوئے اس نے دروازہ بند کر دیا
ناعمہ, زرینہ اور یاسمین اپنے اپنے کاموں میں جت گئی تھیں, زبیر دفتر چلا گیا تھا اور اویس کا کوئی پتہ نہیں تھا, بارہ بجے تھے جب یاسمین نے اس کے کمرے کا دروازہ دھڑدھڑایا
“حمزہ کوئی خدا کا خوف کر لے… دن چڑھ کے ختم بھی ہونے والا ہو گیا اور تو نے ابھی تک ناشتہ بھی نہیں کیا, دروازہ کھول…” وہ مسلسل اس کے کمرے کا دروازہ بجا رہی تھیں, حمزہ نے بادل نخواستہ اٹھ کر دروازہ کھولا
” کیا مصیبت آ گئی ہے…” وہ سرخ بوٹی جیسی آنکھوں کو مسلتے ہوئے بولا
“مصیبت کے کچھ لگتے اٹھ کے ناشتہ کر…”یاسمین نے بازو سے پکڑ کر اسے کمرے سے باہر دھکیلا
“میرا دل نہیں کر رہا…” وہ بولا
“مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی کہ تجھے ہو کیا گیا ہے, پچھلے دو دن سے تیری یہی صورتحال ہے, نہ ڈھنگ سے کچھ کھاتا ہے اور نہ سوتا ہے… آنکھیں دیکھ اپنی… ایسے جیسے ساری رات چھت پر بیٹھا نشہ پیتا رہا ہو” یاسمین اس پر برس پڑیں, وہ نظریں چرا گیا “امی صبح میں نے اس کی چارپائی کے اردگرد سے سگریٹوں کے نو ٹکڑے اکٹھے کئے ہیں, تایا جی کی پوری ڈبی اس نے رات رات میں ختم کر دی, اس کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے یہ بتا نہیں رہا” علینہ نے کہا
“حمزہ پتر کیا ہوا ہے ؟” یاسمین نے پریشانی سے پوچھا
“امی کچھ نہیں ہوا…”وہ جھلا کر دوبارہ کمرے میں چلا گیا
“میں نہانے لگا ہوں, اس کے بعد ناشتہ کرتا ہوں” اس نے کمرے کا دروازہ دوبارہ بند کر دیا تھا
………………………………
وہ کافی دیر سے بیڈ پر لیپ ٹاپ کھولے بیٹھا تھا, اسے دفتر سے چار عدد چھٹیاں مل تو گئی تھیں لیکن بدلے میں تھوڑا سا آن لائن کام کرنا تھا, جتنی دیر رملہ نے اس کے اور اپنے کپڑے استری کیے, وہ مسلسل لیپ ٹاپ میں سر دییے بیٹھا رہا , رملہ عشاء کی نماز پڑھ کر اس کے پاس آ بیٹھی
“اتنی دیر سے اس پر جھکے کیا کیا کر رہے ہیں آپ…؟” وہ سکرین کو دیکھتے ہوئے بولی
“یار ایک ڈیٹا آن لائن کرنا ہے…پندرہ سو لوگوں کا ڈیٹا ہے, ایک ایک کرکے کر رہا ہوں, ابھی صرف اسی ہوئے ہیں, چار چھٹیاں کیا دے دیں بدلے میں 14 دنوں کا کام پر تھوپ دیا ہے” وہ عاجز آیا پڑا تھا
“کون سا ڈیٹا ہے…؟” اس نے پوچھا, زبیر نے ایکسل کی ایک شیٹ کھول کر اس کے سامنے کردی
“ادھر لائیں… “وہ لیپ ٹاپ کا رخ اپنی طرف کرتے ہوئے بولی
“تم کر لو گی…؟” زبیر نے پوچھا
“بس آپ دیکھتے جائیں… ایم اے اکنامکس ہوں میں” رملہ کی انگلیاں لیپ ٹاپ کے کی بورڈ پر رینگنے لگی تھیں, زبیر نے بڑی فرصت سے اپنے سے بے حد قریب اس کے صبیح چہرے کو دیکھا, دوپٹہ گلے میں تھا اور بالوں کو فولڈ کر کے کیچر لگایا ہوا تھا, وہ چند لمحے تو یوں ہی اسے دیکھتا رہا, پھر اس کے بالوں سے کیچر کھینچ دیا, کالے سیاہ بال اس کی پشت پر بکھرتے چلے گئے
“دیکھ لیں اب اپنے کام…” اس نے مصنوعی خفت سے زبیر کی طرف دیکھا
“میں نے کیا کہا ہے تمہیں…؟ تم اپنا کام کرو میں اپنا کام کر رہا ہوں ” وہ اپنا چہرہ اس کے بالوں میں چھپاتے ہوئے بولا, رملہ دوبارہ لیپ ٹاپ کی سکرین کی طرف متوجہ ہوگئی
“زبیر آپ سے ایک بات پوچھوں…؟” اس نے کہا
“ہنہ… ” زبیر آنکھیں بند کیے اس کے بالوں کی مہک کو اپنی سانسوں میں اتار رہا تھا
“ناعمہ کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے کیا….؟” اس نے پوچھا “نہیں تو… کیا ہوا…؟” زبیر نے کہا
“میں جس دن سے اس گھر میں آئی ہو تب سے لے کر آج تک میری اس سے جب بھی بات ہوئی ہے, میرے اوپر طنز ہی کیا ہے اس نے… عجیب سے لہجے میں بات کرتی ہے… لگاوٹ سے, آپ کا اور اس کا کوئی رشتہ وغیرہ تو طے نہیں ہوا تھا” رملا نے تاک کر تکا مارا تھا
“بالکل بھی نہیں…” زبیر ایک دم چونک گیا
“کوئی چکر وکر تو نہیں چل رہا تھا آپ دونوں کے بیچ…؟” اس نے نظریں گھما کر زبیر کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا کر پوچھا
“ابھی ہماری شادی کو چار دن بھی نہیں ہوۓ اور تم مجھ پر شک کرنے لگ گئی ہو” وہ ناراضگی سے بولا
“ہو سکتا ہے آپ کی طرف سے کچھ بھی نہ ہو لیکن اس کی طرف سے کوئی دلی وابستگی ہو…” وہ آخر کو پڑھی لکھی تھی, بات کی تہہ تک تو پہنچ ہی گئی تھی
“یار ایسا کچھ بھی نہیں ہے, ناعمہ تو بہت اچھی لڑکی ہے…گھر کے آدھے سے زیادہ کام وہی کرتی ہے, ہو سکتا ہے شادی کے دنوں کی وجہ سے تھک گئی ہو” زبیر نے کہا
یہ لیں… آپ کا کام ہو گیا ” رملہ نے اینٹر کی کی پریس کرتے ہوئے لیپ ٹاپ اس کے آگے کر دیا, زبیر کی آنکھیں پھیل گئیں
“یہ کیسے کیا تم نے…؟” اس نے پوچھا
“آپ کو کیا لگتا ہے سارے گن بس آپ میں ہی ہیں” رملہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرائی تھی, زبیر نے لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے اسے اپنی طرف کھینچا, وہ ایک دم اس کے سینے پر گر سی گئی
“ہاں مجھے پتا ہے گن تو تمہارے اندر بھی بہت ہیں.. وہ اور بات ہے کہ آہستہ آہستہ کھلیں گے”وہ اسے اپنی بانہوں میں بھرتے ہوئے بولا تھا
……………………
اویس کے کمرے میں ایک دھما چوکڑی مچی ہوئی تھی, اس نے اپنا مدعا رفیق صاحب کے سامنے رکھ دیا تھا, وہ مرنے مارنے پر تلے ہوئے تھے, رخسانہ خاموش بیٹھیں دونوں باپ بیٹے کا تماشہ دیکھ رہی تھیں, زرینہ اور یاسمین بھی وہیں تھیں, حمزہ بیٹھا کھانا کھا رہا تھا, رملہ اپنے کمرے میں تھی
“اویس کوئی خدا کا خوف کر لے, تیری عقل کہاں گھاس چرنے چلی گئی ہے, کوئی ہوش کے ناخن لے اس گھر میں بیٹی دی ہوئی ہے ہم نے” رفیق صاحب دھاڑے
“پھر کیا ہوا ؟” وہ بولا
“وٹہ سٹہ ہو جاۓ گا” وہ بولے
“ابو یہ وٹہ سٹہ کچھ نہیں ہوتا, سمجھیں تو ہوتا ہے ورنہ نہیں ” اس کے نزدیک یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا
“اویس… میں تیرا رشتہ لیکر اس گھر میں نہیں جاؤں گا” وہ بولے
“اور نا ہی تیری ماں جاۓ گی… ہم سے وادو (اپنے طور) ہو کر کرنا ہے تو کر لے” رفیق نے کہا
“اویس آخر تجھے اس چڑیل میں نظر کیا آتا ہے ؟” زرینہ کی زبان میں خارش ہوئی
“سب سے پہلے تو اسے چڑیل کہنا بند کرو سب لوگ” وہ تڑخا
“تو اور کیا کہیں… چڑیل ہی ہے جو تیرے سے چمٹ گئی ہے, پیچھا ہی نہیں چھوڑ رہی” زرینہ نے کہا
“مجھے تو لگتا اس نے کچھ گھول کر پلا دیا ہے اسے ” یاسمین کا دم درود اور تعویذ گنڈوں پر پورا اعتقاد تھا
“چچی خدا کا واسطہ… بس کر دیں” اویس جھلا گیا
“تو بس کر دے… تو کیوں نہیں بس کر دیتا” رفیق صاحب تڑخ کر بولے
“میں کیا بس کروں ؟ شادی نہ کرواؤں ؟” وہ بولا
“تیری شادی ہی کر رہے تھے ہم… شمشان گھاٹ تو نہیں بھیج رہے تھے تجھے” وہ شروع ہو گئے
“ابو میرے لیے وہ شادی شمشان گھاٹ جانے کے برابر ہی تھی, نہیں دل مان رہا تھا میرا, ساری زندگی برباد ہو جاتی, اتنی دفعہ تو کہا تھا کہ منع کر دیں, میں نے نہیں کروانی وہاں شادی” اویس برس ہی پڑا
“نہیں… کیا تھا اس کڑی کو… ؟ ٹھگنی تھی , لکوا تھا اسے, یا لنگڑی تھی… لولی تھی ؟” وہ بولے
“میں نے کب کہا ابو… ؟” اویس بولا
“زبیر نے بھی تو نکاح کیا ہی ہے نا اس سے…ماشاءاللہ دونوں کتنے خوش ہیں ” رفیق صاحب کے کہتے ہی حمزہ نے زور سے چمچ پلیٹ میں پھینکا
“خدا کی قسم کھانا کھانا دوبھر کر دیا آپ لوگوں نے, ہر وقت کی چخ چخ, بندہ دو دنوں میں پاگل ہو جاۓ” وہ چیخا
“تو تو ابھی تک نہیں ہوا” اویس نے اسے گھورا
“زبان بند رکھیں اور مجھ سے زیادہ بکواس نہ کریں” وہ بھڑک گیا
“حمزہ تو اتنا کیوں اچھل رہا ہے ؟” یاسمین نے اسے گھرکا
“لوگ چھلانگیں مار سکتے ہیں… میں اچھل بھی نہیں سکتا” اسے بلا وجہ ہی غصہ آیا تھا
“حمزہ… چل باہر دفع ہو, بات کرنے دے” اویس نے کہا
“بھاڑ میں گیا سب کچھ” وہ بکتا جھکتا باہر نکل گیا
“ابو کب جائیں گے پھر ؟” اویس نے پوچھا
“قیامت کے بعد ” وہ کہہ کر باہر نکل گئے, اس سے پہلے کہ وہ رخسانہ کی طرف مڑتا, وہ رفیق صاحب سے پہلے باہر نکل گئیں
“چچی آپ ہی سمجھائیں انہیں.. جو ہونا تھا سو ہو گیا” اویس نے کہا
“اویس پتر بات یہ نہیں ہے کہ تو نے رملہ سے شادی سے انکار کیا ہے, بات یہ ہے کہ تو نے شرمین کی وجہ سے انکار کیا ہے, بھائی اور بھابھی کسی صورت نہیں مانیں گے” یاسمین نے کہا تھا
……………………………
ہر ہفتے ناعمہ اور زرینہ واشنگ مشین لگا کر کپڑے دھوتی تھیں, پھر اتوار والے دن استری کر لیتی تھیں, ظاہر ہے اویس کی نوکری تھی, حمزہ اور زبیر کو بھی روز نئے کپڑے چاہیے ہوتے تھے, رفیق اور شمس کے الگ سے… زرینہ کے بچوں کے یونیفارم الگ سے… ایک انبار ہوتا تھا جو وہ دونوں مل کر دھوتی تھیں, اس دن بھی ناعمہ نے مشین لگائی تو رخسانہ نے کہا کہ رملہ سے بھی کہہ کہ اپنے اور زبیر کے کپڑے نکال دے, ناعمہ کے کان پر جوں بھی نہ رینگی, وہ صبح سویرے کپڑے دھو کر فارغ ہو گئی
زبیر دفتر چلا گیا تو رملہ اپنا کمرہ صاف کرنے لگ گئی, اگلے دن اتوار تھا, زبیر نے اسے بارہ بجے تک تو بستر سے ہی نہ اٹھنے دیا, ناشتہ کرتے کرتے دو بج گئے, شام کو جب وہ زبیر کے کپڑے استری کرنے لگی تو خیال آیا کہ کپڑے تو میلے پڑے ہیں
“زبیر کپڑے تو سارے دھونے والے پڑے ہیں” وہ پریشان ہو گئی
“کل ناعمہ نے مشین لگائی تھی, اسے نہیں دییے ؟” زبیر نے پوچھا
“مجھے تو پتہ ہی نہیں… نہ اس نے بتایا” وہ بولی
“اچھا میں امی سے کہتا ہوں وہ دھو دیتی ہیں ” وہ بستر سے اترتے ہوئے بولا
“نہیں… رہنے دیں, میں خود ہی دھو لیتی ہوں” اس نے زبیر کے سارے کپرے جمع کر کے ٹوکری میں بھرے اور باہر نکل آئی, مغرب کے بعد کا وقت تھا
“آنٹی واشنگ مشین کہاں لگاتے ہیں ؟” اس نے پوچھا
“کپڑے دھونے لگی ہے ؟” رخسانہ حیرانی سے بولیں, اس نے اثبات میں سر ہلا دیا
“اے ناعمہ کی بچی, تجھے میں نے کل کہا تھا کہ رملہ سے بھی کپڑے لے لے” رخسانہ نے اسے گھرکا
“ان کا دروازہ بند تھا صبح… ” وہ بولی
“میں صبح ساڑھے پانچ بجے اٹھ جاتی ہوں, دروازہ تب سے کھلا ہی ہوتا ہے” رملہ کو اچھا نہیں لگا
“تو آپ مجھے دے دیتیں کپڑے ” ناعمہ نے کہا
“مجھے کیا خبر کہ تم نے مشین لگانی ہے, میں دو دفعہ باہر آئی تو کچھ بھی نہیں تھا” وہ بولی, ناعمہ نے صرف حسد میں آ کر مشین بھی اس بار اوپر لگائی تھی
“چل اٹھ… بہن کے کپڑے دھو کر دے” رخسانہ نے کہا
“مجھ سے تو نہیں دھوۓ جاتے” ناعمہ نے صاف منع کر دیا, رملہ کو اچھی خاصی بے عزتی محسوس ہوئی تھی
“آنٹی میں خود دھو لوں گی, اپنے گھر بھی تو دھوتی ہی تھی…بس مجھے بتا دیں کہ مشین کہاں ہے” وہ رسان سے بولی تھی, زرینہ اٹھ کر اسے لانڈری تک چھوڑ آئی
“بے غیرت نہ ہو تو… اے یاسمین, سمجھا لے اسے, میرے ہاتھوں مر جاۓ گی یہ کسی دن” رخسانہ نے اس کے دو لگائیں
“جب سے وہ اس گھر میں آئی ہے یہ انتہائی بدتمیز ہو گئی ہے, ہر کام کو صاف کورا انکار کر دیتی ہے” وہ بولیں, یاسمین نے ناعمہ کو گھورا
اب وہ رخسانہ کو کیا کہتیں کہ جس دن سے وہ اس گھر میں آئی ہے ان کے دونوں بچے ہی منہ پھٹ اور بد تمیز ہو گئے ہیں
رملہ نے لانڈری میں آکر مشین کھینچ کر آگے کی, پانی بھرا, صرف ڈالا اور کپڑے ڈال کر گھما دی, لانڈری بالکل گیراج کے سامنے تھی, حمزہ کہیں باہر سے آیا تھا, اسے لانڈری میں کھڑا دیکھ کر نظر انداز نہ کر سکا, دبے قدموں وہ اس کے پیچھے جا کھڑا ہوا
اس نے گہرے نیلے رنگ کا سوٹ پہن رکھا تھا, دوپٹہ کندھوں پر ڈالا ہوا تھا اور بالوں کو اوپر کو کر کہ کیچر لگایا ہوا تھا
“بڑی خوش لگ رہی ہیں ؟” وہ بولا تو رملہ چونک گئی
“تم یہاں کیا کر ہے ہو ؟” اسے غصہ آ گیا
“میرا گھر ہے… جہاں مرضی, جو مرضی کروں ” وہ کندھے اچکا کر بولا
“فی الفور یہاں سے اندر چلے جاؤ” رملہ نے کہا
“نہیں جاتا… کیا کر لیں گی؟” وہ دو قدم آگے کو آیا تھا
“حمزہ تمہارے ساتھ مسئلہ کیا ہے ؟” وہ بولی
“میرا سب سے بڑا مسئلہ آپ ہیں ” وہ بولا, رملہ سمجھ نہ سکی
“رملہ… ” وہ اسے دیکھتا ہوا آگے بڑھا, رملہ لڑکھڑا کر پیچھے مشین سے جا لگی
“میں آپ سے بہت… ” اس سے پہلے کے وہ اپنی بات مکمل کرتا, زبیر اسے پکارتا ہوا وہاں آ گیا
“رملہ… یار بس ایک پینٹ, شرٹ دھو دیتیں, باقی کل دھو لیتے” وہ بولا
“کوئی بات نہیں… ” وہ ایک نظر حمزہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولی
“ہسپتال نہیں گیا آج ؟” زبیر کے ہاتھ میں چاۓ کا کپ تھا
“جلدی آ گیا تھا” حمزہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے وہاں سے چلا گیا, زبیر نے ایک کونے میں رکھیں پلاسٹک کی کرسیوں میں سے ایک کرسی کھینچی اور وہیں رملہ کے پاس ہی بیٹھ گیا
“میرا ریکارڈ لگوائیں گے آپ ؟” رملہ کو اس کے پاس بیٹھنے سے سکھ کا سانس آیا تھا
“وہ کیسے ؟” وہ بولا
“آپ کی بہنیں کہیں گی کہ کپڑے دھوتے وقت بھی میاں کو ساتھ بٹھاتی ہے مہارانی ” وہ دھیرے سے مسکرائی تھی
اور اس کا یہ کہنا بالکل سوفیصد درست تھا, زرینہ آنے بہانے سے باہر نکلی اور زبیر کو اس کے ساتھ بیٹھا دیکھ کر واپس اندر چلی گئی, ناعمہ کے پیروں میں خارش ہوئی تو وہ بھی اٹھ کر باہر آئی اور پھر منہ بناتے ہوئے واپس چلی گئی
“آج کل کی لڑکیوں سے بھی اللہ بچائے, شوہر کو یوں پیچھے لگاتی ہیں کہ حد نہیں اور ایک میں ہوں… جس سے چھ سالوں میں ایک شمس الدین قابو نہیں آ سکا, پتہ نہیں کس مٹی کا بنا ہے جس پر تعویذ گنڈے بھی اثر نہیں کرتے… اور ایک یہ ہے رملہ رانی… کپڑے بھی اکیلی نہیں دھو سکتی…؟ میاں کو کاٹھ کا الو سمجھ کے ساتھ بٹھایا ہوا ہے” زرینہ کی زبان چلنا شروع ہو گئی تھی
“میں نے کہا تھا نا دنیا میں صرف شرمین ہی ایک اکیلی ڈائن نہیں ہے” ناعمہ نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی تھی
“دیکھو ذرا چہرے سے کتنی میسنی نظر آتی ہے لیکن ہے پورے گنوں کی… چار دن میں لڑکا قابو کر لیا” زرینہ کی زبان چلتی جا رہی تھی
” اب تو اپنی زبان بند کرے گی کہ میں کرواؤں” رخسانہ نے اسے رکھ کے گھورا تھا
………………………..
وہ علینہ سے ملنے کے بہانے حاتم کے گھر آیا تھا, حاتم اس وقت فیکٹری میں تھا سو ایک گھنٹے کی چھٹی لے کر اس کے گھر چلا آیا, دروازہ نسرین نے کھولا تھا, سلام دعا کے بعد وہ اسے علینہ کے کمرے تک چھوڑ گئی,
“اویس بھائی… آپ یہاں ؟” علینہ اسے دیکھ کر یک دم پریشان سی ہوگئی
“کیوں…؟ میں تم سے ملنے نہیں آسکتا” وہ بولا
“نہیں میں نے ایسا تو نہیں کہا, آئیں… اندر آ جائیں” علینہ اسے لے کر اندر آ گئی, وہ ایک نظر کمرے کو دیکھتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گیا
“علینہ میری تھوڑی سی ہیلپ کر دے یار…” اویس نے کہا
“کیسی ہیلپ…؟” علینہ نے پوچھا
“امی اور ابو میری بات نہیں مان رہے” وہ بے بس ہو کر بولا
” آپ کی بات ماننے والی ہے بھی نہیں اویس بھائی…” علینہ نے کہا
“میں صرف پسند کی شادی ہی تو کر رہا ہوں, کون سا کوئی گناہ کر رہا ہوں” وہ بولا
“اویس بھائی…” علینہ دھیرے سے کہتے ہوئے اس کے ذرا قریب ہوگئی
“میرا یقین کریں وہ لڑکی آپ کے قابل نہیں ہے…” اس نے سرگوشی میں کہا تھا
“کیا مطلب ؟” اویس سمجھ نہ سکا
“آٹھ گز لمبی زبان ہے اس کی, کتوں کی طرح حاتم اور نسرین کو کاٹ کھانے کو دوڑتی ہے وہ, انتہائی بدتمیز اور بد لحاظ… اسقدر فضول خرچ کے خدا کی پناہ… ” وہ کہتی چلی گئی
“بعد میں سیٹ ہو جاۓ گی خود ہی” اویس کی آنکھوں کے آگے پردے پڑ چکے تھے
“اویس بھائی آپ کو ہو کیا گیا یے…حاتم کبھی بھی اس کا رشتہ آپ سے نہیں کریں گے, شرمین کی وجہ سے اب کہیں جا کر ان کی شادی ہوئی ہے, اس کو پہلے بھی اسی وجہ سے طلاق ہوئی ہے…اویس بھائی وہ ایک مرد پر ٹکنے والی عورت نہیں ہے” علینہ نے اسے سمجھانے کا ہر جتن کر لیا
“علینہ یار یہ میری ہیلپ تو نہ ہوئی… ” وہ بولا
“یقین کریں یہ آپ کی ہیلپ ہی ہے اویس بھائی… ابھی بھی وقت ہے, آنکھیں بند کر کے اس کے پیچھے کنویں میں چھلانگ نہ لگائیں… اور ایک بات اور اویس بھائی, اس سے شادی کر کہ آپ میرے لیے نئی مصیبت پیدا کر دیں گے, اگر وہ آپ کے ساتھ ایڈجسٹ نہ ہو سکی تو سمجھو میرا گھر بھی گیا” علینہ نے کہا
“مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتا کہ سب آخر اتنی دور تک کیوں سوچ رہے ہیں, یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ میرے ساتھ بہت خوش رہے” اویس نے کہا
“تو یہ بھی تو بس ایک فرضی خیال ہی یے… اگر خوش نہ رہ سکی تو… ؟” علینہ نے کہا
“علینہ یار… ” اویس جھلا گیا
“اویس بھائی میں صرف اتنا کر سکتی ہوں کہ آپ کی بات امی اور ابو کے کانوں تک پہنچا دوں… بس اور کچھ نہیں کر سکتی, میں ان دونوں کو بالکل فورس نہیں کروں گی” علینہ نے کہا, تبھی وہ گل بدن چاۓ لیکر آئی تھی
ہمیشہ کی طرح خوشبوؤں کے جھونکوں کے ساتھ اندر داخل ہوئی تھی
“کیسے ہیں اویس آپ ؟” وہ بڑی بے تکلفی سے بولی تھی
“الحمد اللہ شرمین جی آپ سنائیں ” وہ جیسے ہر دکھ ہی بھول گیا, شرمین نے اسے چاۓ کا کپ پکڑایا تھا, اویس کے ہزار اشاروں کی باوجود علینہ وہاں سے ٹس سے مس نہ ہوئی
“گھر والے تو آپ سے بہت ناراض ہوں گے نا اویس… ؟” شرمین نے پوچھا, وہ اویس کے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھ گئی تھی
“کب تک ناراض رہیں گے, مان ہی جائیں گے… دھیرے دھیرے ” وہ بولا
“کتنا دھیرے ؟” اس نے معنی خیز انداز سے پوچھا تھا, اویس بس اس کے چاند چہرے کی طرف دیکھتا رہ گیا
………………………….
جاری ہے