No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
حاتم کے والد کو دنیا سے گئے آج ایک ہفتہ ہو گیا تھا, وہ شرمین کی شکل دیکھتے ہی ہتھے سے اکھڑ جاتا تھا
“اس عورت نے میری ماں اور میرے باپ دونوں کو کھا لیا… ” وہ اپنے ابو کے جنازے پر دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا, شرمین بس اپنے کمرے میں بند تھی
اس نہج تک تو سوچا ہی نہیں تھا
وہ کہتے ہیں نا کہ بڑے فیصلوں کے لیے قربانی کا لیول بھی بڑا ہی ہوتا ہے
رخسانہ نے اویس کو ان کے جنازے میں شامل نہیں ہونے دیا تھا, کیا خبر حاتم اسے جان سے ہی مار دیتا, دن گزرتے گئے اور ان کے چالیسویں کی برسی آ گئی
“آنٹی جی اگلے مہینے کی کسی بھی تاریخ کو آ کر شرمین کو رخصت کر کے لے جائیں, مجھے اس کی شکل دیکھتے ہی ابا کا چہرہ یاد آ جاتا یے” حاتم نے واپسی پر رخسانہ سے کہا تھا, انہوں نے بس اثبات میں سر ہلا دیا
“اس کا فرنیچر اور باقی چیزیں میں کچھ دنوں تک… ” رخسانہ نے اس کی بات کاٹ دی
“نہ پتر… نظریں تو پہلے ہی تیرے آگے جھکی ہوئی ہیں, اب ہمیں اور شرمندہ نہ کر… تیرے گھر سے صرف شرمین جاۓ گی ہمارے ساتھ بس… اور کچھ بھی نہیں, وہ جس نے ضد کر کہ نکاح کیا ہے اس سے وہی پورا کرے گا سب کچھ, تو نے کچھ نہیں کرنا” رخسانہ نے رسان سے کہا تھا
اسی رات انہوں نے اویس کو اپنے سامنے بٹھا لیا
“جس طرح نکاح وکھرے سٹائل سے کیا ہے نا تو نے…اب رخصتی بھی ویسے ہی ہو گی سمجھا… میں نے صرف گھر کے اور قریبی رشتے داروں کے چند لوگ لیکر جانے ہیں اور اسے لے آنا ہے بس, کوئی بارات نہیں, کوئی ڈھول ڈھماکا نہیں, کوئی ویڈیو کیمرہ نہیں… اگلے دن یہیں صحن میں قناط لگا کر تیرا ولیمہ کر دینا ہے, ابھی چند مہینے پہلے ہم لوگ زبیر اور علینہ کی شادی کر کہ بیٹھے ہیں, پیسے کونسا ہمارے گھر کے درختوں پر اگتے ہیں… ؟” وہ کہتی چلی گئیں, اویس سر جھکاۓ سنتا رہا
“اپنا کمرہ تیار کروا, واش روم سیٹ کروا اور فرنیچر لا کر رکھ اس میں, زبیر اور حمزہ کو میں نے کچھ نہیں کہنا وہ پہلے ہی خالی ہو کر بیٹھے ہیں, تیرے ابو سے کہا ہے نہر کے ساتھ والے پانچ مرلے بیچ دیں اور تیرا کمرہ اور فرنیچر تیار کروا دیں… شفیق کہتا کہ کھانا وہ دے دے گا, شرمین کو کپڑے اور جوتے بھی بنا کر دینے ہیں” وہ بولیں
“جب کمرہ سیٹ ہو گیا… تو اسے لے آئیں گے” رخسانہ رسان سے کہہ کر اٹھ گئیں, اویس نے بیس, پچیس دنوں میں اپنا کمرہ تیار کروا لیا, رفیق صاحب نے سارے پیسے ہی اس کے ہاتھ پر رکھ دیئے تھے
“اس کے بعد میری جیب میں کچھ بھی نہیں ہے” وہ ہاتھ جھاڑ کر بولے تھے, باقی گھر والوں نے بھی ایک ایک جوڑا بنا لیا, اویس اور شرمین کے جھمیلے میں حمزہ اور ناعمہ کا کانڈ (غلط حرکت) پس پردہ ہی چلا گیا تھا, یاسمین نے بھی شفیق سے بات کرنا مناسب نہ سمجھا, وہ سمجھیں ہو سکتا ہے ایک جھٹکے کے بعد وہ سدھر ہی گیا ہو, رملہ اور زبیر کا رشتہ ویسے ہی قائم دائم تھا…
رخسانہ اور رفیق جا کر رخصتی کی تاریخ طے کر کے آۓ تھے, واپسی پر علینہ نے چپکے سے ماں کے کان میں سرگوشی کی تھی
“حاتم بابا بننے والے ہیں ” وہ بس نم آنکھوں سے بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھ کر رہ گئیں لیکن گھر آ کر انہیں یاد آیا کہ ان کے گھر بھی ایک عدد بہو ہے جس کی شادی کو چھ ماہ ہونے کو آۓ ہیں… اس سے پوچھ تاچھ تو وہ بھول ہی گئیں تھیں
“رملہ پتر… ” وہ چاۓ دینے آئی تو انہوں نے پوچھ ہی لیا
“پتر… کوئی خوشی دی خبر نہیں ہے ابھی تک ؟” وہ ہونقوں کی طرح انہیں دیکھنے لگی, ذہن پورے کا پورا اویس والے معاملے پر لگا ہوا تھا
“کیسی خبر آنٹی ؟” وہ بولی
“علینہ تو اپنی خیر سے امید سے ہو گئی ہے” انہوں نے بتایا
“اچھا اچھا… مبارک ہو آنٹی” وہ بولی
“اور تو پتر ؟” انہوں نے پوچھا
“آنٹی میں نے جانا تھا ڈاکٹر کے پاس… مجھے پکا نہیں ہے ابھی لیکن… ہو سکتا ہے کہ… ” وہ سر جھکا کر بولی تھی
“اچھا… میں ذرا اویس کی شادی سے فارغ ہو جاؤں پھر ہم دونوں چلیں گے, اللہ خیر کرے گا” وہ مسکراتے ہوئے بولی تھیں
……………………………
رات نو بجے کا وقت تھا جب وہ ہسپتال سے واپس آیا, رخسانہ, رفیق اور دادا جی باہر چارپایوں پر بیٹھے تھے, موٹر سائیکل کھڑی کرتے ہوئے اس کی نظر زبیر کی موٹر سائیکل پر پڑی… وہ آج ذرا جلدی آ گیا تھا, رخسانہ اور رفیق کو سلام کرتا ہوا وہ اندر آ گیا, بیگ کندھے پر سے گزار کر سائیڈ پر ڈالا ہوا تھا, اویس اپنے کمرے میں لیٹا تھا, کچن کے سامنے سے گزرتے ہوئے وہ ایک دم رک گیا, رملہ اکیلی ہی چولہے کے آگے کھڑی تھی, شاید زبیر کے لیے کھانا گرم کر رہی تھی, اس نے ایک نظر زبیر کے کمرے کی طرف دیکھا, اس کے کپڑے اور بیگ بیڈ پر پڑے تھے اور خود وہ واش روم میں گھسا ہوا تھا, پانی گرنے کی آواز آ رہی تھی, آس پاس اور کوئی بھی نہیں تھا
اس کے اندر کا شیطان پوری طرح انگڑائی لیکر اٹھ کھڑا ہوا, لبوں پر دھیمی سی مسکراہٹ سجا کر وہ دبے پاؤں کچن میں داخل ہو گیا, رملہ سالن گرم کر رہی تھی, بالوں کی لمبی سی چٹیا کمر پر رینگ رہی تھی, دوپٹہ کندھوں پر ڈالا ہوا تھا, اس نے یونہی اس کی بے دھیانی سے فائدہ اٹھاتے ہوٍۓ دھیرے سے اپنے دونوں بازو اس کی نازک سی کمر کے گرد باندھے اور اپنا چہرہ اس کے کندھے پر رکھ دیا
“آج کیا بنایا ہے سرکار نے… ” اس کے بولتے ہی رملہ ایک جھٹکے سے مڑی اور ہاتھ میں پکڑا سٹیل کا سالن والا چمچ زور سے اس کے ماتھے پر دے مارا, وہ ایک دم اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پیچھے کو ہوا تھا, لمحوں میں اس کے ماتھے سے خون کے قطرے نکل آۓ, رملہ نے اسے قہر بار نظروں سے گھورا
“تم کام دیکھ لو اپنے… ” حمزہ نے اسے مصنوعی خفت سے گھورا, سر ابھی تک چکرا رہا تھا
“کاش اس لمحے میرے ہاتھ میں کوئی کلہاڑی یا چھرا ہوتا… کم از کم تمہارا تو کام تمام ہو جاتا ” وہ بولی
“دفع ہو جاؤ کچن سے باہر… ” اس نے دوبارہ چمچ لہرایا تھا
“اچھا نہیں کیا تم نے ؟” وہ بیگ سے کاٹن نکال کر ماتھے پر رکھتے ہوۓ بولا اور اسے دیکھتا ہو کچن سے باہر نکل گیا, زبیر نے بس اسے ماتھے پر روئی رکھے اپنے کمرے میں جاتے دیکھا تھا
………………………………
دو دن بعد شرمین کی رخصتی تھی, بس گنے چنے افراد ہی گئے تھے
“شرمین اگر کبھی اویس سے, اس گھر سے یا اس گھر والوں سے دل بھر جاۓ تو گلے میں پھندا ڈال کر وہیں مر جائیں… واپس میرے گھر کی چوکھٹ پر نہ آئیں سمجھی” حاتم بس اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر پیچھے ہٹ گیا تھا, شام کے چار بج رہے تھے جب اسے رخصت کروا کر گھر لے آۓ
سب سے پہلا اعتراض اسے اپنے استقبال پر ہوا تھا… رخسانہ اور یاسمین نے اسے سیدھا لیجا کر اس کے بیڈ پر بٹھا دیا, رخسانہ کے قلق کی کوئی انتہا نہیں تھی کہ وہ دو بہوئیں لیکر آئیں اور دونوں کی دفعہ ہی وہ کوئی رسم ادا نہیں کر سکیں
“ایسا لگ رہا ہے جیسے اللہ معافی دے کوئی مرگ والا گھر ہو, نہ کوئی پھول, نہ کوئی پتیاں… مردوں کی طرح لا کر بیڈ پر بٹھا دیا, نہ کوئی بیڈ کی سجاوٹ, نہ کوئی کمرے کی سجاوٹ” وہ مسلسل بیڈ پر بیٹھی بول رہی تھی
“شرمین آپی بیڈ سجایا تو ہے آپ کا ” ناعمہ چپ نہ رہ سکی
“بہت زبردست سجایا ہے, اس سے زیادہ پھول تو بندہ قبر پر ڈال دیتا ہے” وہ بھڑکی
“چل تیری قبر تے وی اس توں زیادہ پا دیاں گے” زرینہ کو وہ ایک آنکھ نہیں بھا رہی تھی
“میرے کپڑے نکال کر دو… مجھے چینج کرنا ہے” اس نے زرینہ کو گھورتے ہوۓ کہا
“ابھی کیوں چینج کرنا ہے….؟” اپنے میاں کو تو درشن کروا دے اپنے پھر کر لینا چینج, آخر کو لو میرج کی ہے اس نے تیرے سے” زرینہ نے کہا
“تو میرے کمرے سے باہر دفع ہو جا… ایک منٹ میں ” شرمین چیخی تھی, ناعمہ نے اسے بازو سے کھینچ کر باہر نکالا
رات کے کھانے پر پھر سے واویلا… رملہ نے قورمہ, بریانی اور روٹیاں رکھ کر ٹرے بنا دی, رخسانہ اٹھا کر اس کے کمرے میں دے آئیں, اویس بھی وہیں تھا
“یہ کیا ہے ؟” وہ بولی
“شرمین پتر یہ ڈنر ہے… ” رخسانہ نے حتی المکان اپنے لحجے کو عام سا ہی رکھا
“مجھے نہیں کھانا یہ باسی سالن… اور یہ برسیوں جیسے چاول, آملیٹ بنا کر دیں” فرمائش داغی گئی تھی, رملہ نے جز بز ہوتے ہوئے آملیٹ بنا دیا, پھر اس میں سو سو نقص… رخسانہ تو چپ چاپ اٹھ کر باہر نکل گئیں
ناعمہ چاۓ لیکر گئی تو.. دودھ پینا ہے… گرم دودھ آیا تو ٹھنڈا پینا تھا… ٹھنڈا مطلب دودھ سوڈا مراد تھا… سوڈا بنایا تو برف کیوں ڈالی ؟ اتنا میٹھا کیوں ڈالا ؟
رملہ تو کانوں کو ہاتھ لگا کر اپنے کمرے میں چلی گئی تھی
……………………………..
وہ رات گیارہ بجے اپنے کمرے میں آیا, سردیاں شروع ہو گئ تھیں, وہ اب نیچے ہی سوتا تھا, پنکھا ذرا سا ہلکا کر کہ اس نے کرتا اتارا اور موبائل چارجنگ سے اتار کر کھڑکی کی طرف آ گیا, وہ ذرا سی کھلی تھی, اس نے ہاتھ بڑھا کر بند کرنی چاہی تو وہ اڑ گئ, اس نے پردہ اٹھا کر ایک طرف کیا اور کھڑکی بند کر دی, دفعتاً اس کی نظر زبیر کے کمرے کی کھڑکی پر پڑی تھی, وہ بند تو تھی لیکن پردہ ہلا ہوا تھا, لابی میں گھپ اندھیرا تھا, اس نے اپنے کمرے کی لائیٹ بھی آف کر دی, اب ونڈو کے شیشے سے نظر آتا منظر واضح ہوا تھا, زبیر ٹراؤزر اور بنیان میں ملبوس بیڈ پر آڑا ترچھا سا لیٹا تھا, رملہ اس سے ذرا سا دور کھڑی تھی, اسے کھڑکی سے دکھائی نہ دے سکی
تبھی زبیر نے مسکراتے ہوئے اسے کچھ کہا, وہ کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس کے پاس آ کھڑی ہوئی
حالانکہ اس لمحے حمزہ شفیق کو نگاہیں جھکا لینی چاہیے تھیں, ونڈو سے دور ہٹ جانا چاہئے تھا, پردہ برابر کر دینا چاہیے تھا, کان بند کر لینے چاہیے تھے لیکن… وہ کچھ بھی نہ کر سکا
بس ساکت ساکت سی آنکھوں سے شیشے کے اس پار نظر آتے رملہ کے عکس کو دیکھتا رہ گیا
وہ سیاہ رنگ کی شارٹ سی ریشمی شرٹ پہنے ہوئے تھی, آدھی آستینوں سے گورے گورے بازو عیاں ہو رہے تھے, دوپٹہ گلے میں جھول رہا تھا, ساتھ سرخ رنگ کا بیل باٹم ٹراؤزر تھا, زبیر کی کہی بات کے جواب میں اس کے چہرے پر کئی رنگ بکھرے تھے, زبیر نے پھر کچھ کہا… وہ بیڈ کے قریب ہوئی اور مسکراتے ہوئے اپنا دوپٹہ گلے سے اتار کر زبیر کے اوپر پھینک دیا, وہ اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ اس کے سامنے کھڑی تھی
حمزہ پلکیں بھی نہ جھپک سکا, دھیرے سے اپنے ریشمی بالوں سے کیچر کھینچتے ہوۓ وہ زبیر کے اوپر گری تھی اور زبیر اسے بانہوں میں بھر کر پاگل ہوتا چلا گیا تھا
ایک سنسنی سی تھی جو حمزہ کی ریڑھ کی ہڈی میں دوڑ گئی… وہ اس کی محبت تھی, وہ اس کی بھی تو ہو سکتی تھی…؟ آخر کیوں وہ اسے بھول نہیں پا رہا… ؟
“حمزہ وہ تیری محبت ہے… اسے اور رسوا نہ کرنا ” دل نے فریاد کی تھی
“دیکھ وہ کتنی خوش ہے… ؟ دل کہے جا رہ تھا
“میں بھی تو اسے اتنا ہی خوش رکھتا… ” دماغ نے کہا تھا
“اور یاد رکھو اس نے تمہیں تھپڑ مارا… سب کے سامنے… کئی مرتبہ” دل اور دماغ میں جنگ جاری تھی, وہ ونڈو سے پرے ہٹ گیا
“حمزہ وہ تیری ہے… وہ تیری ہو سکتی ہے ” کوئی تھا جو اسے ورغلا رہا تھا
کافی دیر بعد وہ کمرے کا دروازہ کھول کر باہر نکل آیا
……………………………
اویس اس کے سامنے آ کر بیٹھا تھا, دھیرے سے اس نے شرمین کے آگے ہاتھ پھیلایا… اس نے بس ایک نظر اویس کو دیکھتے ہوئے منہ موڑ لیا
“ناراض ہو ؟” اویس نے پوچھا
“اویس چاہے جیسے بھی سہی… لیکن نکاح تو ہوا ہے نا ہمارا, دیکھا کیسا سلوک کر رہے ہیں آپ کے گھر والے میرے ساتھ ؟” اس نے منٹوں میں آنکھیں بھر لیں
“کیا ہوا ہے ؟” اویس نے پوچھا
“یہ پوچھیں کیا نہیں ہوا… ؟ وہ دیکھیں… میں نے آج تک اس قسم کا جوڑا نہیں پہنا جیسا آپ کی بہن رکھ کر گئی ہے, نہ کوئی رسم, نہ کوئی تحفہ… بس لا کر یہاں بٹھا دیا… اور یہ فرنیچر دیکھنا ذرا اویس… ؟ سچ سچ بتانا اپنی امی کا اٹھا کر یہاں رکھ دیا ہے نا… ؟” وہ بولتی چلی گئی
“شرمین یار بالکل نیا فرنیچر بنوایا ہے میں نے ” اویس تڑپ گیا
“لگ تو نہیں رہا… مشورہ ہی کر لیتے مجھ سے, اور ذرا یہ کمرہ دیکھنا اویس… مرغی کا ڈربہ بھی اس سے بڑا ہوتا ہو گا” ہر ہر شے میں نقص نکل رہے تھے, اویس ایک لمبی سانس بھر کر رہ گیا
“اب چیزیں اہم ہو گئی تمہارے لیے… ؟ اور میں… ؟” وہ اس کے قریب ہوا اور اس کا چہرہ اپنی طرف موڑا
“سب ٹھیک ہو جاۓ گا… دھیرے دھیرے ” وہ بولا تھا, شرمین نے مصنوعی خفت سے اسے دیکھا اور ہاتھ اس کے سامنے کر دیا, اویس نے سونے کا ایک خوبصورت سا کنگن اسے پہنایا تھا
“آئی لو یو… ” اویس نے دھیمے سے کہہ کر اسے بڑے حق سے گلے لگا لیا
“اویس میں چینج کر لوں ؟” شرمین اس کی آغوش میں مچل کر بولی
“جلدی کر آؤ” وہ اسے رہا کرتے ہوئے بولا, وہ جلدی سے بستر سے اتر گئی
………………………
بند قبا کھلنے کی دیر تھی اس کے بعد…
وہ جاں حیا ایسا کھلا, ایسا کھلا
زبیر نے بڑے حق سے اس کے لبوں پر نشان بناۓ تھے, رملہ نے مسکراتے ہوئے اپنے لب اس کی گردن پر رکھ دیئے اور اس سے پہلے کہ زبیر کی حد ختم ہوتی, رخسانہ نے دروازہ بجایا
“رملہ اوپر سے کپڑے تو اتار لاتی ؟” وہ بولیں
“آنٹی میں اتار لائی تھی” وہ زبیر سے الگ ہوتے ہوئے بولی تھی
“پتر ابھی اور ہیں اوپر… جا اتار لا, حمزہ بول رہا ہے کہ اس نے اوپر سونا ہے اور چارپائی کپڑوں سے بھری پڑی ہے” وہ بولیں, رملہ دوپٹہ لپیٹ کر باہر نکل آئی
“آنٹی میرا تو خیال ہے میں سارے اتار لائی تھی” وہ سیڑھیوں کی طرف جاتے ہوئے بولی
“پتہ نہیں… وہی ابھی بول بول کر گیا ہے, جا میری دھی ایک دفعہ دیکھ آ, میرے سے تو اتنی سیڑھیاں چڑھی ہی نہیں جاتیں” وہ بولیں
“حمزہ کہاں ہے اب ؟” اس نے پوچھا
“باہر نکل گیا ہے شاید” وہ بولیں, رملہ سر ہلاتے ہوئے اوپر آ گئی
اوپر کوئی ہے تو نہیں آنٹی ؟” اس نے فرسٹ فلور پر آ کر یاسمین سے پوچھا, انہوں نے نفی میں سر ہلا دیا, وہ ایک بار پھر دوپٹہ کندھوں کے گرد لپیٹ کر اوپر آ گئی
پوری چھت صفا چٹ پڑی تھی, کہیں کوئی بھی دھلا ہوا کپڑا نہیں تھا, وہ ذرا سا آگے کو آئی اور حمزہ کی چارپائی کی طرف دیکھا, وہ بالکل خالی تھی, اس سے پہلے کہ اس کا ذہن اسے متوقع سازش سے خبردار کرتا… کسی نے پشت سے آ کر اسے زور سے جکڑا اور دیوار کے بالکل ساتھ لگا دیا
“حمزہ… “اس کے لبوں سے سرگوشی میں نکلا تھا
………………………
وہ واش روم سے باہر نکلی تو اویس بیڈ پر لیٹا تھا, شرمین نے ایک نظر سے دیکھا, وہ بلیک ایزی سے ٹراؤزر کے اوپر وائیٹ ٹی شرٹ پہنے ہوئے تھا
“اب تم نے ساری رات امتحان لینا ہے میرا ؟” وہ اس کی طرف کروٹ لیتے ہوئے بولا
“توبہ… یہاں نہ کوئی کریم, نی کوئی نائیٹ لوشن… بندہ کیا لگاۓ؟” وہ تپ گئی, پھر بالوں میں کنگھا پھیرنے لگی
بڑے نخروں سے وہ اس کے پہلو میں آ کر لیٹی تھی
“اویس… میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے” وہ اس کی طرف منہ کرتے ہوئے بولی
“اب کیا ہوا ہے ؟” اویس چونک گیا
“کل سے بخار ہے, ہلکا ہلکا… مجھے اپنی میڈیسن بھی لانی یاد نہیں رہی” وہ بولی, اویس نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا… وہ برف ٹھنڈا تھا
“ٹمپریچر تو نارمل ہے تمہارا….” وہ بولا
“سر دکھ رہا ہے… اور پورا جسم بھی” وہ منہ لٹکا کر بولی
“آؤ میں اتار دیتا ہوں ساری تھکن ” اویس نے اسے اپنی طرف کھینچا
“اویس میں نے کہا نا میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے, میں کونسا بس آج رات کی مہمان ہوں, پوری زندگی اب تو اسی گھر میں گزارنی ہے… اسی کمرے میں… آپ کے ساتھ” وہ بولی
“پھر اب… ؟” اویس تلملا گیا
“آج رات میں تھوڑ آرام کر لوں”وہ بولی, اویس نے تاسف سے اسے دیکھا
“پلیز… ” اس نے آنکھیں گھمائیں
“زیادتی ہے ویسے یہ… ” اویس نے اسے گھورا, وہ بس دھیرے سے اس کے گالوں کو تھپتھپاتے ہوۓ کروٹ لیکر لیٹ گئی تھی
……………………..
“حمزہ کیا بدتمیزی ہے یہ ؟” وہ زور سے بولی
“تم نے اس دن پوچھا تھا نا کہ میں تمہیں اپنا کیسے بناؤں گا…چلو آج رات بتاتا ہوں تمہیں ” حمزہ نے اس کے گلے میں پڑا ریشمی دوپٹہ زور سے کھینچا اور دور پھینک دیا
“حمزہ چھوڑو مجھے, کیا بے ہودگی ہے یہ… زبیر… زبیر” حمزہ نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا تھا
“مجھ سے نہیں ہوتا صبر تمہیں گنوا کر رملہ… بہت سمجھا کر دیکھ لیا میں نے خود کو, راتوں کی نیند اڑ گئی ہے میری” وہ ایک ہاتھ سے اس کا منہ دبوچے, دوسرے سے اس کا ہاتھ موڑے کھڑا تھا, رملہ نے اس کی گرفت سے نکلنے کے لیے پورا زور لگایا لیکن حمزہ نے اسے دونوں بازوؤں سے اٹھا کر چارپائی پر گرا لیا, اس سے پہلے کہ وہ چیختی, دوبارہ ایک ہاتھ اس کے منہ پر رکھ دیا
“تم میری تھیں رملہ… تمہاری ان گھنی زلفوں کی چھاؤں بس میری تھی… تمہارا یہ خوشبو جیسا بدن صرف میرے لئے تھا… وہ سالا کیوں آیا بیچ میں ؟” حمزہ پر شیطان پوری طرح حاوی ہو چکا تھا,وہ اس کا منہ باندھنے کے لئے اس کا زمین پر گرا دوپٹہ اٹھانے کے لئے ذرا سا جھکا… اور رملہ نے اس نازک وقت میں پورا زور لگا کر اسے دھکا دیا, حمزہ ڈگمگا گیا, وہ زور سے چارپائی سے نیچے گری تھی, اس سے پہلے کہ حمزہ اسے قابو کرتا, وہ سیڑھیوں کی طرف بھاگی
حمزہ نے اس کی قمیض پکڑ کر کھینچی, وہ پھٹتی چلی گئی لیکن رملہ رکی نہیں, قمیض کا چیتھڑا پھٹ کر حمزہ کے ہاتھ میں رہ گیا, وہ اندھا دھند سیڑھیاں اتری تھی, فرسٹ فلور پر آ کر زور سے پھسلی اور گر گئی
“زبیر…. ” اس نے بمشکل حلق سے آواز نکالی اور سیڑھیوں کی طرف بھاگی, حمزہ وہیں سے واپس مڑ گیا تھا
“زبیر… ” اس نے پھر آواز دی تھی
………………………..
اسے لگا جیسے رملہ نے آواز دی ہو, لیکن اس سے پہلے کہ وہ اٹھتا, چھت پر دوڑتے قدموں کی آواز آئی, وہ یکدم ہڑبڑا کر اٹھا اور کمرے سے باہر نکلا
“زبیر… ” وہ رملہ کی ہی آواز تھی, زبیر بھاگتا ہوا ٹی وی لاؤنج میں آیا اور اس سے پہلے کہ سیڑھیوں کی طرف بڑھتا… وہ دھڑ دھڑ کرتی نیچے اترتی دکھائی دی, ابھی سیڑھیاں آدھی بھی نہیں ہوئی تھیں جب اس کا پیر دوبارہ پھسلا…
“رملہ… ” بس لمحوں کا کھیل تھا, وہ آٹھ دس سیڑھیاں قلابازیوں کی طرح عبور کرتی ہوئی دھم سے نیچے فرش پر آ گری
لمحوں میں اس کے گرد خون پھیل گیا تھا
“رملہ… ” زبیر تیر کی طرح اس تک پہنچا, اویس بھی چیخیں سن کر کمرے سے نکل آیا, فرسٹ فلور پر سے یاسمین اور زرینہ بھی بوکھلائی ہوئی نیچے آئی تھیں
وہ خون کے تالاب میں ساکت پڑی تھی…
……………………………..
اسے فوری طور پر ایمرجنسی میں داخل کر لیا گیا تھا
“خون کا بندوبست کریں… فوراً ” ایمرجنسی ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے کہا
زبیر نے ادھر ادھر کال کر کہ او پوزیٹیو خون کا بندوبست کیا تھا, اویس اور شمس دونوں اس کے ساتھ تھے, رخسانہ بھی آئی تھیں
تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر پھر باہر آیا
“یہ رپورٹس کروائیں… ” زبیر نے ساری رپورٹس کروائیں, پھر رزلٹس آۓ, وہ دوبارہ ایمر جنسی میں بھاگا آیا
“ڈاکٹر نے ساری رپورٹس چیک کیں
“انہیں سر اور جسم پر شدید چوٹیں آئی ہیں, دایاں بازو کلائی پر سے فریکچر ہو گیا ہے, لیکن سب سے بڑا مسئلہ اس وقت ان کے مس کیریج کا ہے” ڈاکٹر نے کہا
“مس کیریج ؟” زبیر چونک گیا
“جی ہاں… ان کی دو ماہ کی پریگنینسی تھی جو کہ سیڑھیوں سے گرنے کی وجہ سے ضائع ہو گئی ہے” ڈاکٹر نے ان کے سروں پر بم پھوڑا تھا, زبیر دم بخود رہ گیا
“فی الحال ان کے زخموں کی پٹی کر کہ انہیں گائینی یونٹ میں شفٹ کر رہے ہیں وہاں ان کی ڈی این سی ہو گی تاکہ خون بہنا بند ہو… اس وقت ان کی حالت انتہائی نازک یے” ڈاکٹر کہہ کر دوبارہ اندر گھس گیا تھا
“اس کے بھائی کو کال کر دو” رخسانہ رونے لگ گئی تھیں, زبیر بس تھکا ہارا سا بینچ پر گر گیا
“حمزہ کہاں ہے ؟” اس نے انتہائی سرد لحجے میں رخسانہ سے پوچھا, وہ نفی میں سر ہلا کر رہ گئیں
“امی خدا کی قسم اگر اس سب میں اس حرامزادے کا ذرا سا بھی ہاتھ ہوا تو میں اسے گولی مار دوں گا” زبیر نے بمشکل اپنے آنسوؤں پر قابو پایا تھا
کچھ ہی دیر میں یاسر اور شمیم بھی آ گئے, رملہ کو گائنی میں شفٹ کر دیا گیا تھا, اس کی ڈی این سی کے راضی نامے پر سائن کرتے ہوئے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیا, پوری رات انہیں ہسپتال میں جاگتے گزر گئ
صبح کے قریب لیڈی ڈاکٹر باہر نکلی تھی
“ڈی این سی کر دی ہے… لیکن حالت ابھی بھی نازک ہے, انہیں دوبارہ آرتھو میں شفٹ کر رہے ہیں” لیڈی ڈاکٹر نے کہا تھا, رملہ ہنوز بے ہوش تھی, بلڈ لگ رہا تھا, صبح ہوتے ہی انہوں نے رخسانہ کو واپس گھر بھیج دیا, یاسمین اور رفیق صاحب آ گئے تھے, رخسانہ نے شمس اور زبیر کے لیے ناشتہ بھجوایا تھا, زبیر نے ایک لقمہ بھی نہ کھایا… کھایا ہی نہیں گیا
ادھر شرمین نے صبح اٹھتے ہی قیامت ڈال دی تھی
“گھر میں نئی نویلی دلہن لا کر شوق پوا ہو گیا سب کا… ” وہ کچن میں کھڑی ہو کر چیخی
“کیا ہوا ہے ؟” اویس ابھی ہسپتال سے واپس آیا تھا
“میں نہار منہ دہی کھاتی ہوں… کسی کو ہوش ہی نہیں ہے” وہ بولی
“شرمین امی ساری رات ہسپتال رہی ہیں… رملہ کو ابھی تک ہوش نہیں آیا” وہ تاسف سے بولا
“تو میں کیا کروں ؟” وہ چیخی
“اچھا چپ کرو, میں لا دیتا ہوں دہی” وہ الٹے قدموں واپس مڑ گیا, دہی لایا, خود باؤل میں نکالی, چینی ملائی اور راجکماری کے آگے رکھ دی
“کتنا گھٹیا دہی ہے ” وہ ایک دو چمچ لگا کر باقی سنک میں انڈیل آئی تھی, پھر کپڑے نکالے… ہر ہر سوٹ پر سو سو نقص…
“اویس میرے کپڑے پریس کروا کر دیں…. ” اویس کو حکم صادر ہو گیا, اس نے ناعمہ کا منت ترلہ مار کر کپڑے استری کروا کر دیئے, پھر محترمہ نہائیں
“بال سکھانے والی مشین کہاں ہے ؟” اس نے پوچھا
“وہ تو نہیں ہے… “
“پھر بال کیسے سکھاؤں ؟” وہ کمر پر ہاتھ رکھ کر بولی
“جاؤ دو منٹ دھوپ میں کھڑی ہو جاؤ, خود ہی سوکھ جائیں گے”اویس نے ہنس کر کہا, وہ بس اسے گھور کر رہ گئی, کپڑے چینج کیے, میک اپ کیا, جیولری پہنی اور بال یونہی کھلے چھوڑ کر کندھے پر دوپٹہ ڈال کر باہر نکل آئی
“آنٹی ہمارا ناشتہ تیار کروا دیں” حکم صادر ہوا تھا
“اچھا… اویس نہا لیا ؟” انہوں نے پوچھا
“بس نہا کر آ رہے ہیں ” وہ بولی, رخسانہ نے ناعمہ سے کہہ کر ناشتہ تیار کروایا اور ڈائیننگ ٹیبل پر لگوا دیا
“ادھر ہی آ جا پتر… سب کے ساتھ” رخسانہ نے کہا
“لیں آنٹی یہ کیا بات ہوئی بھلا… شادی سے اگلے ہی دن میں پورے ٹبر کے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کروں… ؟ مجھے اور اویس کو کمرے میں دے دیں” وہ ٹک ٹک کرتی اندر چلی گئی, زرینہ نے بول بول کر ان دونوں کا ناشتہ کمرے تک پہنچایا تھا
“یہ پکڑیں اویس… ” ناشتے سے فارغ ہو کر اس نے ایک لمبی چوڑی لسٹ اویس کو پکڑائی
“یہ کیا ہے ؟” اس نے حیرانی سے پوچھا
“میرا سامان ہے ضروری, یہ آج رات تک آ جانا چاہئے ” وہ بولی
“بدلے میں کیا ملے گا ؟” اویس سے اس کے سراپے سے نظریں چرانا دوبھر ہو رہا تھا
“ایک ٹکا آنہ بھی نہیں ” وہ اترا کر بولی
“جاؤ پھر… میں تو نہیں لا کر دیتا ” وہ بولا
“ذرا خالی ہاتھ آنا تو سہی آپ.. ؟”شرمین نے اسے گھورا, اویس نے مسکراتے ہوئے اسے گلے سے لگایا تھا
“کل رات سے تم مجھ پر یونہی غصہ کر رہی ہو… حد ہے ویسے ” وہ اس پر جھکا
“میری کوئی ویلیو ہی نہیں ہے اویس یہاں ” وہ بولی
“آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جاۓ گا ” وہ اس کے لبوں پر جھکا تھا, وہ تڑپ کر پیچھے کو ہوئی
“پہلے سامان لیکر آئیں ” وہ مسکراتے ہوئے بولی تھی
………………..
جاری ہے
