Baahon Mein Thaam Lo Ayesha Zulfiqar Readelle50166 Last updated: 16 August 2025
No Download Link
Rate this Novel
Baahon Mein Thaam Lo
By Ayesha Zulfiqar
سرخ اور پیلے پھولوں سے سجی وہ گاڑی گھر کے سامنے آ کر رکی تھی, شفیق اور یاسمین پہلے ہی گھر پہنچ چکے تھے, رملہ کے ساتھ اس کی پھپھو اور یاسر آۓ تھے, گاڑی رکتے ہی یاسر نیچے اترا اور رملہ کو نیچے اتارا "دھیان سے... " وہ اسے خود سے لگاۓ اندر لے آیا, زبیر اس کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا "پتر اندر ہی لے چل... " رخسانہ نے کہا, یاسمین نے اس کے سر پر سے چادر اتار دی, کمرے کے دروازے پر کھڑی علینہ اور ناعمہ نے اس پر پھول نچھاور کیے تھے "پتر جوتے اتار کر اوپر آرام سے بیٹھ جا" رخسانہ نے کہا, رملہ کی آنکھیں بالکل خشک تھیں... رخصتی کے وقت بھی اس کی آنکھ سے ایک بھی آنسو نہیں نکلا تھا... بس خاموش تھی, بالکل خاموش ستا ہوا چہرہ اور پتھرائی ہوئی آنکھیں جوتے اتار کر وہ بیڈ پر بیٹھ گئی, علینہ نے اس کا لہنگا بڑی خوبصورتی سے بیڈ پر پھیلا دیا تھا, زبیر, یاسر کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گیا "رملہ پتر... کچھ کھا لے" رخسانہ نے پوچھا, اس نے ہال میں بھی کچھ نہیں کھایا تھا, علینہ کولڈ ڈرنک اور روسٹ رکھ کر چلی گئی, اس نے حلق میں پانی کا قطرہ تک نہ ٹپکایا یاسر اور اس کی پھپھو دو, ڈھائی گھنٹے بعد اٹھ کھڑے ہوۓ "رملہ بیٹے... " یاسر نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے اسے اپنے کندھے سے لگا لیا "تو تو ہمارا سب سے بہادر بیٹا ہے... ہے نا, ابو کیا کہتے تھے کہ ان کا ایک بیٹا نہیں ہے, دو ہیں... ایک یاسر اور دوسری رملہ... آزمائشیں انہی پر آتی ہیں جن میں انہیں صبر سے جھیلنے کی ہمت ہو, کچھ نہیں ہوتا, سب ٹھیک ہو جاۓ گا, جو ہمارے مقدر میں نہیں ہوتا وہ رب ہمارے دانتوں کے بیچ میں سے بھی کھینچ لیتا ہے... جو گیا وہ تیرا تھا ہی نہیں بیٹے... اور جو ملا وہ اس سے کہیں بہتر ہو گا جو چلا گیا, یہ ہی تو رب کا وعدہ ہے کہ وہ بہتر کے بدلے بہترین عطا کرتا ہے" وہ اسے خود سے لگاۓ سمجھاتا چلا گیا, رملہ چپ چاپ سنتی رہی "حوصلے سے...ہمت سے.... میرا شیر بیٹا ہے تو" وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کھڑا ہو گیا, زبیر اس کے ساتھ باہر تک آیا تھا "زبیر اسے دھمکی نہ سمجھنا لیکن... بہن کا بھائی ہوں تو سر ہمیشہ جھکا کر نہیں رکھوں گا, اویس سے کہنا بچ کر رہے... ہتھے چڑھ گیا تو ایک دفعہ تو ضرور دھو دوں گا" وہ بڑے عام سے لحجے میں بولا تھا, زبیر چپ رہا "تیرے نام پر بیاہ کر آئی ہے وہ اس گھر میں... کسی سے پوچھ نہیں ہو گی اس کے بارے میں سواۓ تیرے, اس پر ہر اٹھنے والی انگلی کو توڑ دینا آج سے فرض ہے تجھ پر...تو ڈھال ہے اس کی زبیر...یاد رکھنا" یاسر نے اس کےکندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا, زبیر نے اثبات میں سر ہلا دیا انہیں رخصت کر کہ اندر آیا تو رخسانہ اور حمزہ لاؤنج میں کھڑے تھے "اویس کا کچھ پتہ چلا ؟" رخسانہ نے پوچھا "نہیں... مجھے نہیں لگتا وہ آج رات گھر آئیں گے" زبیر نے کہا, حمزہ چپ چپ سر جھکا کر وہاں سے چلا گیا, سب ہی گھر والے چپ چپ سے تھے... ایک دوسرے سے نظریں چراتے ہوئے "ناعمہ کہاں ہے ؟" رخسانہ کو وہ کافی دیر سے نظر نہیں آئی تھی "کہتی سر پھٹ رہا ہے... لیٹ گئی ہے" یاسمین نے کہا "یاسمین چاۓ بنا... میرا تو اپنا سر ابھی ٹوٹ کر دو ٹکرے ہو جاۓ گا" رخسانہ اپنے دکھتے ہوۓ سر کو دونوں ہاتھوں سے دباتے ہوۓ رملہ کے کمرے میں چلی گئیں, زبیر کہیں باہر نکل گیا تھا رات تک وقفے وقفے سے کوئی نہ کوئی اس کے پاس بیٹھا رہا, وہ بس کسی بت کی طرح ساکت سی بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھی تھی, رخسانہ اور یاسمین نے ٹل لگا لیا لیکن اس نے کچھ بھی نہیں کھایا, مغرب کے بعد زبیر گھر واپس آیا, کمرے میں داخل ہوا تو رخسانہ اور یاسمین وہیں تھیں, رملہ ہنوز ساکت بیٹھی تھی "علینہ... " اس نے باہر آ کر اسے آواز دی "اس بیچاری کو کوئی ایزی سا ڈریس دے دو, یونہی بیٹھے بیٹھے ممی (mummy) بن جاۓ گی " زبیر نے کہا, علینہ اس کے کپڑوں میں ایک نسبتاً کم بھاری سوٹ استری کر کے لے گئی "رملہ... بیٹے اٹھ کر کپڑے بدل لے, دوپہر سے ایسے ہی بیٹھی ہے, جسم اکڑ جاۓ گا" رخسانہ نے کہا, وہ بادل نخواستہ سے اٹھ کھڑی ہوئی, علینہ نے اسے ایک طرف سے تھام کر واش روم تک پہنچایا "دھیان سے... " رخسانہ نے دھیرے سے دروازہ بند کیا لیکن کنڈی نہ لگائی کافی دیر بعد وہ سارا میک اپ دھو کر اور کپڑے بدل کر باہر نکل آئی, شاور بھی لیا تھا, آنکھیں گواہ تھیں کہ وہ روئی ابھی بھی نہیں تھی, بالوں کو فولڈ کر کے کیچر لگا لیا تھا, باہر نکلی تو علینہ کھانے کی ٹرے رکھ گئی, وہ ایک نظر اسے دیکھ کر بیڈ کے کنارے پر بیٹھ گئی "کھانے سے لڑائی نہیں کرتے دھی رانی... کھانا کھا لے میرا پتر" رخسانہ اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولیں "زبیر... پتر خود بھی کھا لیں اور اسے بھی کھلا دیں... چنگا" رخسانہ اسے دیکھتے ہوئے باہر نکل گئیں, دروازہ بند ہو گیا, اب کمرے میں صرف رملہ اور زبیر تھے, وہ ایک نظر اسے دیکھتا ہوا واش روم میں گھس گیا, شاور لیا اور اپنی معمول کی ٹی شرٹ اور ٹراؤزر پہن کر باہر نکل آیا, چارجنگ پر لگا اس کا موبائل مسلسل وائبریٹ کر رہا تھا, یاسر کی کال تھی, سلام دعا کے بعد اس نے موبائل رملہ کی طرف بڑھا دیا "تمہاری امی ہیں... " وہ بولا, رملہ نے کسی ٹرانس کی سی کیفیت میں موبائل کان سے لگا لیا "کیسی ہے میری بچی ؟" شمیم نے پوچھا "ٹھیک ہوں" نکاح کے بعد سے زبیر نے اب اس کی آواز سنی تھی, شمیم نہ جانے کیا کچھ کہتی جا رہی تھیں, رملہ کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں لیکن آنسوؤں کو اندر دھکیلتے ہوۓ اس نے چپ چاپ موبائل بیڈ پر رکھ دیا, زبیر نے اٹھا کر کان سے لگایا "آنٹی آپ پریشان نہ ہوں, سب ٹھیک ہے" انہیں تسلی دیتے ہوئے اس نے کال کاٹ دی, رملہ بیڈ کے ایک طرف بیٹھی تھی, زبیر نے کھانے کی ٹرے اٹھا کر اس کے آگے رکھی اور خود عین اس کے سامنے بیٹھ گیا "یہ لو... تھوڑے سے کھا لو" اس نے ایک پلیٹ میں چاول نکالے اور چمچ رکھ کر اس کے آگے رکھ دی "کھا لو... کب تک گزارا کرو گی بنا کھاۓ ؟" زبیر نے دھیرے سے کہا, وہ چپ بیٹھی رہی "رملہ... " زبیر نے چمچ بھرتے ہوئے اسے پکارا "یہ لو... " اس نے چمچ رملہ کی طرف بڑھایا تھا, رملہ نے چہرہ موڑ کر اس کی طرف دیکھا "میں نے آپ سے پوچھا تھا نا... کہ وہ اس رشتے سے خوش ہے ؟" وہ بولی تو آنکھیں یکدم بھر آئیں, زبیر ساکت رہ گیا "اور آپ نے کہا تھا... ہاں, وہ بہت خوش ہے" آنسو سیلاب کی صورت آنکھوں کا بند توڑ گئے, زبیر چمچ ہاتھ میں لئے بیٹھا رہ گیا "جھوٹ کیوں بولا مجھ سے ؟" وہ ہار سی گئی تھی, زبیر نے چمچ واپس پلیٹ میں رکھا اور ٹرے گھسیٹ کے ایک طرف کر دی, پھر دھیرے سے اس کے قریب ہوا اور اپنا ایک بازو اس کے کندھوں کے گرد لپیٹ کر اسے خود سے لگا لیا وہ یوں بکھری کہ زبیر سے سنبھالنی مشکل ہو گئی تھی "اتنی بری تو نہیں تھی میں... " وہ بس روۓ جا رہی تھی, زبیر خاموش اسے اپنے بازوؤں کے حلقے میں لئے بیٹھا رہ گیا تھا ..............................
