63K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14


دن کا ایک بج رہا تھا جب وہ خوشبوؤں سے آراستہ ہو کر کمرے سے باہر نکلی… ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی اس نے ڈٹ کر ناشتہ کیا تھا
“آنٹی کہاں ہیں ؟” اس نے کپڑے استری کرتی ناعمہ سے پوچھا
“باہر بیٹھی ہیں… ” وہ بولی, شرمین ٹک ٹک کرتی باہر نکل گئی, رخسانہ اور یاسمین باہر بیٹھیں ناعمہ کی رضائیاں تیار کر رہی تھیں
“آنٹی میں نے کمرہ صاف کروانا تھا… ” وہ کمر پر ہاتھ رکھ کر بولی
“پتر یہاں کونساکام والی آتی ہے, سب اپنا اپنا کمرہ خود صاف کرتے ہیں” رخسانہ نے کہا
“لیں آنٹی… یہ کیا بات ہوئی… ؟ میں نے تو آج تک جھاڑو پوچا نہیں کیا” وہ ٹھنک کر بولی
“میکے گھر تو کرتی ہی ہو گی ؟” یاسمین نے پوچھا
“نسرین باجی ہی کرتی تھیں سارا… اور ساتھ میں کام والی رکھی ہوئی تھی, ویسے آنٹی اتنا بڑا گھر ہے, آپ لوگوں کو تو دو, تین کام والیاں رکھنی چاہئیں ” وہ بولی
“جب تیرا میاں جی ایم بن جاۓ گا تو تو رکھ لینا ” رخسانہ ہنس کر بولیں
“اب کمرہ کون صاف کرے گا ؟” وہ ان کے سر پر سوار تھی
“چل میں کر دیتی ہوں ” وہ بولیں
“آنٹی آپ… ؟” شرمین جھجھک گئی
“تے فیر کون کرے گا ؟ میں تو نہیں کہہ سکتی کسی کو….؟ ” رخسانہ اس کے ساتھ چل پڑیں مبادا اسے شرم آ جاۓ
“آنٹی ناعمہ یا زرینہ میں سے کسی کو کہہ دیں” وہ بولی, رخسانہ نے چپ چاپ جھاڑو پکڑی اور اس کے کمرے میں گھس گئیں, استری سٹینڈ پر کھڑی ناعمہ کے تب بدن میں آگ لگ گئی, وہ فٹ اوپر جا کر زرینہ کو بلا لائی
“امی یہ کیا کر رہی ہے ؟” زرینہ نے آ کر زور سے رخسانہ کے ہاتھ سے جھاڑو پکڑا
“راجکماری نے کہا کہ کمرہ صاف کر دو… وہی کر رہی ہوں ” وہ بولیں
“اس کے ہاتھ ٹوٹ گئے ہیں کیا ؟” زرینہ چیخی
“کرتی ہے کرے… نہیں کرتی نہ کرے, خبردار جو اب جھاڑو اٹھائی تو… ” زرینہ نے رخسانہ کو کھینچ کر اس کے کمرے سے باہر نکال دیا
“ماں کا اتنا ہی خیال ہے تو تم کر دو نا کمرہ صاف… آخر کو تمہارے بھائی کا ہے” شرمین نے کہا
“اگر تو میرے بھائی کا کمرہ بھی صاف نہیں کر سکتی تو نکل باہر پھر اس کمرے سے… ” زرینہ اس کے دوبدو ہوئی تھی
“تو ہوتی کون ہے مجھے کمرے کا طعنہ دینے والی ؟” شرمین کو غصہ آ گیا
“زرینہ چوہدری… ” وہ کمر پر ہاتھ رکھ کر بولی
“میری بات سن کان کھول کر …تو اس گھر کی بہو ہے, کہیں کی مہارانی نہیں ہے سمجھی, جتنی دیر تجھے بیڈ پر بٹھا کر کھلانا تھا کھلا دیا… اب بس… صبح سے تو اپنا ناشتہ بھی خود بناۓ گی, کمرہ بھی خود صاف کرے گی اور اپنے برتن اور کپڑے بھی خود ہی دھوۓ گی, خبردار جو میں نے آئیندہ اپنی ماں کے ہاتھ میں جھاڑو دیکھی تو” زرینہ کی زبان چل پڑی تھی
“چل بس کر دے… تو نیچے کیوں آئی ہے؟” رخسانہ نے اسے چپ کروایا
“میں اس گھر کی بہو ہوں… نوکرانی نہیں ہوں سمجھی” شرمین نے انگلی اٹھا کر کہا تھا
“ٹھیک ہے پھر اپنے شوہر سے کہہ کہ تجھے کام والی رکھ دے, ہم میں سے تو کسی نے تیری خدمتیں نہیں کرنی”زرینہ نے کہا
“زرینہ چپ ہو جا” رخسانہ نے اسے باہر کو کھینچا تھا, وہ بکتی جھکتی باہر نکل گئی, شرمین نے ضد میں آ کر شام تک کمرہ صاف نہ کیا, شام کو اویس کے آتے ہی وہ آنسو بہاۓ کہ توبہ… وہ بیچارہ ماں کے پاس چلا گیا
“کیا تھا اگر ایک دفعہ کوئی کمرہ صاف کر بھی دیتی ؟” وہ بولا
“اویس اگر وہ عزت کے ساتھ تیرے سنگ رخصت ہو کر اس گھر میں آتی اور سب کو زیادہ نہ سہی… تھوڑی بہت ہی عزت دے دیتی تو اسے کمرہ صاف کرنے کا کہنا ہی نہ پڑتا… بات کام کی نہیں ہے پتر… بات اس کے لحجے کے تکبر کی ہے” رخسانہ نے رسان سے کہا تھا
“مجھے کل تک کوئی کام والی رکھ کر دیں”شرمین بضد تھی
“یار میں نہیں افورڈ کر سکتا کام والی… اور پھر کام ہی کتنا ہے شرمین ؟” اویس نے کہا
“مجھ سے نہیں ہوتا اتنا سا کام بھی” وہ اڑ گئی, ناچار اویس نے اسے ایک کم سن سی لڑکی کاموں کے لئے رکھ دی, گھر میں خوب واویلا ہوا… اویس نے ہی سب گھر والوں کو فیس کیا… چار دن بعد اس کا نیا تماشہ تیار تھا
“اویس مجھے اس پانی میں سے سمیل (بو) آتی ہے” وہ بولی
“خدا کا خوف کرو شرمین پورا گھر یہ ہی پانی پیتا ہے” اویس نے اسے گھرکا
“سچ میں… پیا ہی نہیں جاتا”وہ بولی
“فلٹر لگا ہوا ہے گھر میں… ” اویس نے کہا
“اس کی صفائی کروائیں پھر… “اویس نے کاریگر بلوا کر فلٹر صاف کروایا… اسے کوئی مسئلہ نہیں تھا
“سمیل ابھی بھی آتی ہے اویس… ” وہی مرغے کی ایک ٹانگ
“ابال کر پی لیا کرو… ” دو چار دن ابالنے والا تماشا ہوا… پھر اس سے بھی تھک گئی, ظاہر ہے مشقت تو ہوتی نہیں تھی… کوئی کر کے دینے والا ہو
“ابال کر بھی عجیب سا ذائقہ ہو جاتا ہے اویس… میں آج سارا دن پیاسی ہی رہی ہوں” شام کو تماشہ, اویس نے منرل واٹر لا دیا
پھر تو روٹین بن گئی… صبح و شام منرل واٹر… اس بیچارے کا تو دیوالیہ نکل گیا
“اویس کوئی خدا دا خوف کر… سارہ تنخواہ تو اس کے پانی پر پوری ہو جاۓ گی تیری” رخسانہ سے رہا نہ گیا
“امی میں کیا کروں ؟ وہ سارا دن پیاسی بیٹھی رہتی ہے ” اویس نے کہا
“اپنے باپ کے گھر بھی یونہی تماشے کرتی تھی یہ… ؟ وہاں بھی فلٹر کا پانی ہی پیتی تھی” وہ عاجز آ گئی تھیں, اویس کی بھی کچھ ہی عرصے میں بس ہو گئی, آخر اس نے اسے کین لگوا دی, مہینے کا ایک نیا خرچہ شروع ہو گیا
……………………………
“”جب کسی ایک کو مرنا ہی ہے تو میں ہی کیوں نہیں… ؟”
“چل پھر دبا ٹریگر… دفع ہو جا اس دنیا سے اور جان چھوڑ ہماری”
کلک کی آواز کے ساتھ ہی اس کی آنکھ کھل گئی, اس کا سارا جسم پسینے میں شرابور تھا, وہ ایک دم اٹھ بیٹھا, پانی کی آدھی بوتل خالی کی تو سانس میں سانس آئی تھی
اس رات وہ ریوالور خالی تھا
“آج اگر مجھے اس بات کا سو فیصد یقین ہوتا کہ تجھے قتل کرنے سے میرا بچہ واپس آ جاۓ گا تو خدا کی قسم اس کا پورا میگزین بھرا ہوتا حمزہ… لیکن تیرے بدلے وہ مجھے واپس نہیں ملے گا… تجھے قتل کر کہ میری بیوی کے جسم پر لگے ہزار ہا زخم مندمل نہیں ہوں گے…کاش کہ تیرے قتل کے بدلے وہ چھت پر گزاری وہ ایک رات بھول پاتی… تو میں تجھے اگلی سانس بھی نہیں لینے دیتا” اسے زبیر کی آواز سنائی دی تھی.. بھیگی ہوئی آواز… انتہائی سرد, انتہائی نفرت انگیز
“حمزہ میرا دل کرتا ہے تیرے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں, مار مار کے تجھے نیل و نیل کر دوں لیکن… میرا وہی دل اسقدر دکھی ہے کہ اس وقت تو میرے سامنے کھڑا ہے اور میں تجھے ایک تھپڑ بھی نہیں مار سکتا… کاش… کاش تو کسی طرح مر جاۓ حمزہ… کاش آسمان سے کوئی آگ اترے اور تو بھسم ہو جاۓ… کاش پاتال سے کوئی شیطان نکلے اور تجھے اس میں غرق کر دے” وہ بولا تھا
حمزہ کو لگا جیسے کوئی اس کا گلا دبا رہا ہو… اس نے بے دردی سے اپنی آنکھوں سے نکلتا پانی صاف کیا تھا
“وہ میری بیوی ہے حمزہ…. اور تجھ جیسے حرامزادے کے لئے میں اسے قطعا نہیں چھوڑنے والا… تجھ پر آج ریپ کا کیس درج ہو جاۓ لیکن…. رسوائی کس کی ؟ بدنامی کس کی…؟” وہ بس ریلنگ سے ٹیک لگاۓ کھڑا رہ گیا تھا
…………………………
اسے آج ہسپتال سے ڈسچارج کیا جا رہا تھا, حالت پہلے سے قدرے بہتر تھی, زبیر اس کی ڈسچارج سلپ بنوا لایا, رخسانہ, یاسر اور شمیم بھی آۓ ہوۓ تھے
“زبیر… ” رملہ نے اس کی طرف دیکھا, آنکھوں میں ساۓ سے لہرا رہے تھے
“پریشان نہ ہو” زبیر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا, رملہ کو سٹریچر پر ڈال کر گاڑی تک لیکر آۓ, پھر زبیر نے اسے اٹھا کر گاڑی میں بٹھایا تھا
وہ اسے اس کی امی کے گھر ہی لیکر جا رہا تھا, رخسانہ سے اس نے رات ہی بات کر لی تھی
“پتر اگر وہ یہاں بھی آجاۓ تو کوئی مضائقہ تو نہیں ہے… ہم چار لوگ ہیں یہاں اس کی خبر گیری کرنے والے” رخسانہ نے کہا تھا
“صرف آپ اس کی دل سے خبر گیری کر لیں گی امی یہ سوچ کر کہ وہ آپ کے بیٹے کی بیوی ہے لیکن باقی… میں کیسے مان لوں کہ ناعمہ اس کا کوئی کام کر کے راضی ہو گی, یا ذرینہ… ؟ اسے سب کچھ بستر پر بیٹھے چاہیے امی… کون کر کے دے گا ؟ کب تک کر کے دے گا ؟” وہ کہتا چلا گیا
“وہاں اس کی ماں ہے, بہن ہے… وہ شاید زیادہ اچھی طرح اس کی دیکھ ریکھ کر لیں گی.. اور رملہ خود بھی وہیں جانا چاہ رہی ہے” زبیر نے انہیں سمجھا دیا تھا, حمزہ کا اس نے ذکر ہی نہیں کیا تھا
زبیر اسے سیدھا اس کی امی کے گھر ہی لے آیا, رملہ بھی وہاں آ کر مطمئن تھی
……………………
“امی… ” اس شام وہ رخسانہ کے کمرے میں چلا آیا, ناعمہ بھی وہیں تھی
“چچی کو بلا کر لا… ” اس نے ناعمہ سے کہا, وہ فوراً اوپر جا کر انہیں بلا لائی, رفیق صاحب گھر سے باہر تھے
“ناعمہ… اویس کی شادی سے ایک دن پہلے صرف رملہ نے مشین لگائی تھی ؟” اس نے پوچھا, ناعمہ نے اثبات میں سر ہلا دیا
“شام میں لگائی تھی… اور اوپر ڈال آئی تھیں کپڑے… سردی کی وجہ سے” ناعمہ نے کہا
“اور اتار کر کب لائی ؟” اس نے پوچھا
“اویس بھائی کی شادی والے دن صبح کے وقت… ” ناعمہ نے کہا
“اس کے بعد کوئی چھت پر گیا تھا ؟”
“نہیں…. “
امی… آپ کو اس رات حمزہ نے کیا کہا ؟
“میں تیرے دادا جی کو کھانا کھلا رہی تھی جب سو پر پارہ لئے میرے سر پر آ کر کھڑا ہو گیا… کہتا میں نے اوپر سونا تھا, کمرے میں دم گھٹتا ہے, لیکن اوپر میری چارپائی کپڑوں سے بھری پڑی ہے, جس نے دھوۓ ہیں اسے کہیں اتار کر لاۓ” رخسانہ نے کہا
“تو آپ اسے کہہ دیتیں ؟” زبیر نے ناعمہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
“اس مرن جوگی کو ہی کہا تھا… اس نے فٹ انکار کر دیا کہ میں تو سونے لگی ہوں, زرینہ بھی اوپر بچوں کے پاس چلی گئی…. بتا میں کیسے اتنی سیڑھیاں چڑھتی ؟” رخسانہ نے کہا
“آپ کو کہہ کر کہاں گیا تھا وہ ؟”
“باہر نکل گیا تھا… “
“آپ نے دیکھا تھا اسے باہر جاتے ؟
“نہیں لیکن… دروازہ کھلنے کی آواز سنی تھی”
“زبیر وہ میرے سامنے اوپر گیا تھا… پھر بکتا جھکتا نیچے اترا کہ چارپائی کپڑوں سے بھری پڑی ہے… کس کے کپڑے ہیں ؟ میں نے کہا رملہ نے دھوۓ تھے…پھر میرے سامنے ہی نیچے اتر گیا…. دوبارہ اوپر جاتا تو نہیں دیکھا میں نے… ” یاسمین نے کہا
“وہ کتا باہر گیا ہی نہیں تھا… آپ دونوں عورتوں کو دھوکہ دینا کونسا مشکل تھا اس کے لئے… وہ اوپر ہی تھا… اسی نے بلایا تھا رملہ کو اوپر… امی وہ زیادتی کرنے لگا تھا اس کے ساتھ ؟” زبیر چیخ پڑا, رخسانہ حق دق رہ گئیں, یاسمین نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھا تھا
“زبیر بنا کسی ثبوت کے تو میرے بیٹے پر الزام لگا رہا ہے” وہ بولیں
“ثبوت….میری بیوی کے جسم کی کوئی ایک ہڈی بھی سلامت نہیں بچی… میرا دو ماہ کا بچہ اس دنیا میں آنے سے پے چلا گیا اور آپ کہہ رہی ہیں ثبوت… ” وہ دہاڑا
“امی… غلطی دراصل ساری میری ہی ہے… جس دن اس کتے نے پہلی بار ان دونوں کے ساتھ مل کر اس پر الزام لگایا تھا مجھے ادی دن رملہ کو لیکر الگ ہو جانا چاہئے تھا لیکن… مجھے لگا شائد ٹھیک ہو جاۓ…وقتی ابال تھا شائد تھم جاۓ, شاید چچی اسے سمجھا لیں لیکن… آپ دونوں نے صرف اس کے کیے پر پردہ ڈالا… اور میں… لعنت میرے اوپر کہ میں خاموش ہو گیا, مجھے اس رات اسے اوپر اکیلا بھیجنا ہی نہیں چاہیے تھا… مجھے اس کے ساتھ جانا چاہئے تھا, کاش اس رات میں اس کے ساتھ ہوتا… وہ بے غیرت اس وقت قبر میں اتر چکا ہوتا” زبیر نے کہا, یاسمین خاموش رہ گئیں
“اگر وہ سچا ہے تو کہاں ہے اس وقت… ؟ وقت پر گھر کیوں نہیں آتا… کیوں منہ چھپاۓ پھرتا ہے… کیوں کسی سے نظریں نہیں ملا رہا… راتوں کو چوروں کی طرح گیٹ پھلانگ کر کیوں گھر آتا ہے… وہ اگر سچا ہے تو اس رات ہسپتال کیوں نہیں آیا…اگلے دن کیوں نہیں آیا… وہ ایک بار بھی ہسپتال نہیں آیا کیونکہ اس کے دل میں چور تھا… “زبیر کہتا چلا گیا
“کسی ثبوت کی, کسی گواہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے چچی… وہ کتا خود اپنے منہ سے قبولا ہے کہ اس رات وہ چھت پر تھا” زبیر نے کہا اور باہر نکل گیا, یاسمین بس رخسانہ کی طرف دیکھ کر رہ گئیں تھیں
……………………
اس دن بھی شرمین اور زرینہ میں دھواں دھار جھگڑا ہوا… زرینہ کہیں اوپر سے نیچے اتری تھی, ناعمہ سو رہی تھی اور رخسانہ کہیں باہر گئی ہوئی تھیں, وہ شرمین کے کمرے کا دروازہ بجاۓ بغیر ہی اندر گھس گئی, وہ سیل کان سے لگاۓ بیٹھی تھی
“امی کہاں ہے ؟” زرینہ نے پوچھا
“پتہ نہیں” وہ سیل کان سے ہٹاۓ بغیر بولی
“کیوں… تو اس گھر میں نہیں رہتی؟” زرینہ پنگا لینے کو تیار تھی
“میرے ساتھ زیادہ بکواس نہ کر اور میرے کمرے سے دفع ہو جا” شرمین کو غصہ آ گیا
“پہلے تو یہ بتا کہ کس یار سے بات کر رہی ہے ؟” زرینہ نے ہاتھ نچایا
“جس مرضی یار سے کروں ؟ تو کون ہوتی ہے پوچھنے والی ؟” شرمین ایکدم بستر سے اتر آئی تھی, ناعمہ بیچاری ان دونوں کی آوازیں سن کر اٹھ کر دوڑی آئی, وہ دونوں ایک دوسرے کے بال نوچنے کے درپے تھیں, بڑی ہی مشکلوں سے صلح صفائی ہوئی, شام کو آتے ہی اویس کی پیشی ہو گئی
شرمین کا رو رو کر برا حال تھا
باہر نکلا تو بہن شروع ہو گئی
“امی… جب تک یہ ہمارے گھر کے معاملات میں دخل اندازی کرنا بند نہیں کرے گی… تب تک یہاں کسی نے بھی نہیں ٹکنا مجھ سے آج لکھوا لو سارے” اویس پھٹ پڑا, زرینہ حق دق رہ گئی
“میں نے کونسی دخل اندازی کی ہے ؟” وہ تڑخی
“پہلے دن سے تو اس سے پنگے بازی کر رہی ہے, وہ اپنا ناشتہ بناۓ نا بناۓ, کمرہ صاف کرے نہ کرے… میں اسے کام والی رکھ کے دوں یا نہ دوں… وہ جیسا مرضی پانی پئے, میں جیسے مرضی اس کے خرچے اٹھاؤں, وہ جیسا مرضی پہنے, جب مرضی اٹھے, جب مرضی سوۓ, میں گیزر چلاؤں یا نہ چلاؤں, وہ جب مرضی اٹھ کر نہاۓ, میں اس کے لئے جو مرضی لیکر آؤں, وہ جس سے دل چاہے فون پر بات کرے, میں اسے جہاں مرضی لیکر جاؤں… یہ آخر ہوتی کون ہے سوال کرنے والی ؟” وہ اس پر چڑھ دوڑا
“مجھے یہ بتا کہ آج تک میں نے یا اس نے تیرے معاملات میں کتنی دخل اندازی کی ہے ؟” اویس اٹھ کر اس کی طرف آیا, زرینہ بول نہ سکی
“اپنے کام سے کام رکھا کر… بس اتنی مہربانی کر دے ہم پر” وہ اس کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوۓ بولا تھا
“امی تجھے کہا تھا نا میں نے کہ اس کی شادی شمس سے نہ کر… اسے اس گھر میں نہ رکھ لیکن تو نے میری ایک نہیں سنی, ساری عمر کے لئے یہ ہم پر مسلط ہو گئی ہے… یہ وہ عذاب ہے جو کبھی ختم نہیں ہونا” وہ بولتا جا رہا تھا
“واہ… مجھے تو آج پتہ چلا کہ میں عذاب ہوں ” زرینہ رو پڑی
“تم سب مل کر مجھے ایک ہی بار پھاہا دے دو… جان سکھی کرو اپنی” وہ بین کرنا شروع ہو گئ تھی
“امی وہ اتنی بری نہیں ہے…میری بیوی ہے تو مجھے پتہ ہے کہ اسے کیسے ہینڈل کرنا ہے؟ اسے اپنی زبان میں سمجھا لیں کہ بس اپنی زبان بند رکھا کرے” اویس نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی
“امی… شمس آۓ تو اسے کہہ کہ مجھے الگ گھر لیکر دے… مجھے نہیں رہنا اس محل میں جہاں تیرے بیٹوں کی بیویاں رہتی ہیں اور میں انہیں ٹکنے نہیں دیتی” وہ روۓ جا رہی تھی
“چل بس کر… ” رخسانہ نے کہا
“کیوں بس کروں ؟ ہمیشہ میں ہی کیوں بس کروں ؟ مجھے یہ بتا کہ میرا گناہ کیا ہے ؟” وہ پھٹ پڑی
“تجھے بھی پتہ ہی ہے” رخسانہ نے کہا
“تو پھر اسی وقت گلا کیوں نہیں گھونٹ دیا میرا… مار کیوں نہیں دیا مجھے, امی آج کسی ایک بندے کی نظروں میں بھی عزت کی کوئی رمک ہے میرے لئے… ؟ ایک پھوٹی کوڑی کی عزت نہیں ہے میری اس گھر میں… جس وقت, جس کا دل چاہے دو کوڑی کا کر دیتا ہے, شوہر دن رات اوباش کہتا ہے, آوارہ کہتا ہے, باپ نے کبھی گالی کے بغیر بات نہیں کی…چاچا اور چاچی کے آگے تو اپنا آپ یوں لگتا ہے جیسے بیچ رکھا ہو” وہ کہتی چلی گئی
“امی میں کتنی بار کہوں کہ غلطی ہو گئی تھی… کتنی بار کہوں کہ معاف کر دو مجھے ؟” وہ ہاتھ جوڑ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی, رخسانہ اسے چپ بھی نہیں کروا سکیں تھیں
……………………….
وہ دفتر سے سیدھا رملہ کی طرف ہی آ گیا تھا, شمیم نے کھانے کے لئے بہت اصرار کیا لیکن اس نے منع کر دیا
“آنٹی میں بس رملہ سے مل کر واپس چلا جاؤں گا” وہ بولا
“کیوں بیٹا… ؟ آج رکے گا نہیں ؟” شمیم نے پوچھا, پہلے تو وہ دفتر سے گھر جا کر وہاں سے کھانا کھا کر رملہ کیطرف آتا تھا اور رات اس کے پاس ہی رکتا تھا, پوری رات وہی اس کے پاس ہوتا تھا
“نہیں آنٹی مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے” وہ بولا اور اندر آ گیا, وہ کروٹ لئے بستر پر لیٹی تھی, شمیم اور نائلہ نے آج اسے نہلایا تھا, لمبے بال سرہانے پر سے نیچے کو لٹک رہے تھے, وہ ابھی تک گیلے تھے, زبیر دھیرے سے اس کے پاس آ بیٹھا, رملہ یکلخت سیدھی ہوئی تو اس کی کراہ نکل گئی
“آرام سے… ” زبیر نے کہا اور ٹھٹھک گیا, وہ رو رہی تھی
“کیا ہوا میری جان…؟” وہ تڑپ اٹھا
“زبیر مجھے وہ دو ماہ کا وجود بھلاۓ نہیں بھولتا… ” آنسو آس کے گالوں پر بہہ نکلے, زبیر خاموش بیٹھا رہ گیا
“میری ساری جسمانی تکلیف ایک طرف… اور اسے کھو دینے کا دکھ ایک طرف… وہ دکھ پھر بھی زیادہ ہی ہو جاتا ہے زبیر” رملہ نے کہا
“ایسے نہیں روتے…. صبر کرتے ہیں, اللہ ہماری دوبارہ سن لے گا” وہ اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا تھا
“اچھا سنو… میں نے ایک گھر دیکھا ہے, ابھی اسی سلسلے میں جانا ہے, فی الحال کراۓ پر لے لیتا ہوں, پھر دھیرے دھیرے خرید لوں گا, ٹھیک ہے ؟” زبیر نے کہا
“کہاں ؟” اس نے پوچھا
“شہر میں.. ” زبیر نے کہا
“زبیر میں ٹھیک ہو جاؤں تو کوئی پرائیوٹ جاب کر لوں گی, ظاہر ہے شہر میں رہیں گے تو خرچے بھی تو زیادہ ہو جائیں گے” رملہ نے کہا
“وہ سراسر تمہاری اپنی مرضی ہو گی, میری طرف سے کوئی زبردستی نہیں” زبیر نے کہا
“بس تم جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ, پھر یہاں سے اپنے گھر ہی چلیں گے” زبیر نے اس کا ماتھا چومتے ہوۓ کہا تھا
…………………………..
وہ سب نفوس رات کا کھانا کھا رہے تھے, شرمین جی کی شادی کو تین ماہ ہونے کو آۓ تھے لیکن وہ آج بھی سب کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے سے انکاری تھی
“پتر رملہ کو کب لیکر آنا ہے… ؟ پلستر تو خیر سے اتر گیا ہے اب اس کا ؟” رخسانہ نے پوچھا
“میں نے اسے واپس یہاں نہیں لیکر آنا… ” زبیر کے کہتے ہی یکدم سبھی نے اس کی طرف دیکھا, شفیق بھی آیا ہوا تھا, حمزہ حسب معمول غائب تھا
“کی مطلب ؟” رفیق نے پوچھا
“میں نے شہر میں کراۓ پر مکان لے لیا ہے, کچھ دنوں میں اس کا سامان وہاں شفٹ کروا کر اسے وہیں لیکر جاؤں گا ” زبیر نے کہا
“ہن تو کوئی نوا کٹا کھولنا اے ” رفیق نے کہا, زبیر جواب دیے بنا چپ چاپ کھانا کھاتا رہا
“زبیر اس گھر میں کیا ہے ؟” رفیق نے پوچھا
“واقعی ابو آپ کو نہیں پتہ…. ؟” وہ تڑخ کر بولا تھا, رخسانہ چپ سی رہ گئیں
“چچا آپ کو تو پتہ ہو گا نا… ؟ آخر کو آپ کا تو خون ہے وہ, آپ کو تو بتایا ہی ہو گا چچی نے ؟” وہ شفیق کی طرف مڑا, وہ واقعی انجان تھا
“نہیں پتہ… کسی کو بھی نہیں پتہ ؟” زبیر نے پوچھا, سب اسے پاگلوں کی طرح دیکھ رہے تھے
“میری بات کان کھول کر سن لیں سب لوگ… وہ میری بیوی ہے اور مجھے اس سے بہت محبت ہے, میں آج آنکھیں بند کر کہ اس پر اعتبار کرتا ہوں لیکن…. میں کوئی فرشتہ نہیں ہوں, بس ایک عام سا سادہ سا انسان ہوں, کل کلاں کو اگر کسی بھی قسم کا دھوکہ کھا کر میں نے اسے غلط سمجھ لیا تو میری پوری زندگی برباد ہو جاۓ گی” وہ کھانا ختم کرتے ہوئے بولا
“کون دے گا تجھے دھوکہ… ؟” شفیق نے پوچھا
“وہی جو اب تک دو بار دے چکا ” وہ بولا, شفیق دنگ رہ گیا
“وہ اس رات چھت پر سے ڈر کر ہی نیچے کو بھاگی تھی لیکن کس سے…؟” اسی سے جس سے ڈر کر میں اسے اس گھر میں نہیں لانا چاہتا… ” وہ بولا تھا
“میں ایک بار اپنا بچہ کھو چکا ہوں, اپنی بیوی کھوتے کھوتے بچا ہوں… دوبارہ یہ سب نہیں ہونے دوں گا” وہ انتہائی مضبوط لحجے میں بولا
“کون تھا اس رات چھت پر… ؟” رفیق نے پوچھا
“رخسانہ… کون تھا ؟” وہ دہاڑے
“حمزہ… ” رخسانہ نے ان کے سر پر بم پھوڑا تھا, شفیق دم بخود رہ گیا
“حمزہ نے دھوکے سے بلایا تھا اسے اوپر… ” رخسانہ کی آواز ہی دب گئی, تبھی حمزہ بیگ کندھے پر لٹکاۓ کمرے کے آگے سے گزرا, اسے اندازہ نہیں تھا کہ شفیق آیا ہوا ہے, رفیق نے اسے آواز دے لی
وہ یک دم ساکت ہوا تھا
“ادھر آ ذرا… خبیث آدمی ” وہ بولے, حمزہ بیگ کندھے سے اتارتے ہوئے اندر آ گیا, کسی سے نظریں نہیں ملا پایا
“حمزہ میرے سوال کا صرف ہاں یا ناں میں جواب دینا ہے… اس رات چھت پر تو تھا ؟” انہوں نے پوچھا, حمزہ بول نہ سکا, سر جھکا کر کھڑا رہ گیا
“کتے تیرے سے پوچھا ہے میں نے… ” انہوں نے پیر میں سے جوتا نکال لیا, زبیر چپ چاپ کھڑا تھا
“بول… تو تھا چھت پر ؟” رفیق صاحب اس کے سامنے آ گئے, حمزہ کا سر دھیرے سے اثبات میں ہل گیا تھا اور رفیق کا جوتا اس کا گال رنگ گیا, شفیق اور یاسمین دن بخود کھڑے رہ گئے تھے
“سالا کتا کسی زمانے دا… ” رفیق صاحب نے پے در پے اس کے چہرے پر جوتوں کی بارش کی تھی, وہ لڑکھڑا کر گر گیا, وہ مارتے چلے گۓ, پھر ہاتھ میں دادا جی کی لاٹھی آ گئی
“چوہدری بس کر… ” رخسانہ کھڑی ہوئی تھیں
“چپ ہو جا… اسے دراصل ایسی پھینٹی بہت پہلے لگ جانی چاہیے تھی” ان کا جلال کم نہیں ہو رہا تھا, حمزہ بس مار کھاتا چلا گیا, کہاں نیل پڑا, کہاں زخم آیا, کہاں سے خون نکلا… کوئی پتہ نہیں
رخسانہ بمشکل اسے رفیق کے چنگل سے چھڑوا کر اوپر لے گئی تھیں
……………………….
اس کی زندگی واقعی کسی راجکماری سے کم نہیں تھی… صبح دیر تلک پڑی سوئی رہتی, اویس چپ چاپ اٹھ کر نہاتا اور ناشتہ کر کہ فیکٹری چلا جاتا, سالن ناعمہ گرم کر دیتی تھی اور روٹیاں رخسانہ بنا دیتی تھیں, وہ مست میں نیند پوری کر کہ اٹھتی اور دہی پر ہاتھ صاف کرتی, پھر ایک سپیشل قسم کا چاۓ کا کپ بناتی…اور گھی میں تر بتر پراٹھا, ساتھ آملیٹ… ڈھیروں برتن گندے کر کہ سنک میں ڈال دیتی, ناشتہ کرتے کرتے کام والی لڑکی آ جاتی, وہ اس کے برتن دھوتی, کمرہ صاف کرتی, واش روم دھوتی …اور راجکماری صاحبہ اتنی دیر میں وان لیکر تیار شیار ہو کر باہر جا بیٹھتیں, دو باتیں اس سے, دو اس سے…اویس دو بجے فیکٹری سے واپس آتا تو اس کے کچھ نہ کچھ لیکر آتا, شام میں اپنا اور اویس کا کھانا لیکر کمرے میں گھس جاتا اور گندے برتن سنک میں ہوتے… ہفتے بعد کپڑے بھی وہ لڑکی ہی دھو کر دیتی, استری بھی اسی سے کرواتی, خود سارا دن وہ ہوتی اور اس کا موبائل… تھک جاتی تو ٹی وی دیکھ لیتی, نہیں تو سو لیتی, شادی کو چار ماہ ہو چکے تھے اور اس اللہ کی بندی نے بمشکل چار, پانچ دفعہ ہی اویس کا داؤ چلنے دیا تھا… ہمہ وقت اسے اپنی فکر پڑی رہتی تھی, میں موٹی نہ ہو جاؤں ؟ کالی نہ ہو جاؤں ؟ اب میں یہاں سے پھیل گئ ہوں ؟ اب سکن کا مسئلہ ہو گیا ہے ؟ چار ماہ میں وہ چودہ دفعہ میکے ہو کر آئی تھی لیکن بس صبح جاتی اور شام کو واپس آ جاتی تھی… بقول اس کے پیچھے سے کوئی نیا کھڑاگ کھڑا ہو جاۓ پتہ تھوڑی ہے
یہ اویس کا ہی جگرا تھا جو اسے اتنی خوبصورتی سے جھیل رہا تھا
اس دن بھی کام والی لڑکی اس کا کمرہ صاف کرنے لگی تو محترمہ اٹھ کر باہر نکل آئی, کرسی کھینچی, اچھی طرح جھاڑی, پھر اس پر کپڑا رکھا اور ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گئی, رخسانہ اور یاسمین سبزی بنا رہی تھیں, ساتھ ساتھ علینہ کی باتیں کر رہی تھیں, اس کا ساتوں مہینہ چل رہا تھا
“خیر سے شرمین نے کب ہمیں خوش خبری سنانی ہے ؟” یاسمین نے پوچھ ہی لیا
“کونسی خوش خبری آنٹی ؟” اس نے ناک پر سے مکھی اڑائی
“مما بننے والی ؟” رخسانہ نے ہنس کر کہا
“توبہ کریں آنٹی, ابھی میری شادی کو عرصہ ہی کتنا ہو ہے ؟ میں کوئی پاگل ہوں جو ابھی سے یہ پھندہ گلے میں ڈال لوں ” وہ اچھل پڑی
“یہ پھندہ نہیں ہوتا پتر… یہ تو عورت کا اعزاز ہوتا ہے… شرف ہوتا ہے اس کا” رخسانہ نے کہا
“آنٹی جی ابھی تو میں نے انجواۓ کرنا ہے تھوڑا, یہ کیا بات ہوئی کہ ادھر شادی ہوئی اور اگلے ہی مہینے بچہ ہونے والا ہو گیا… میاں بیوی کا آپس کا رشتہ کیا رہ جاتا ہے پھر… ؟” وہ بولی
“چل اب تو خیر سے چار مہینے ہو چلے ہیں تیری شادی کو ” یاسمین نے کہا
“کم از کم چار سال تو گزرنے دیں ” وہ ہنسی, رخسانہ کے کلیجے پر ہاتھ پڑا تھا
“شرمین کوئی عقل کو ہاتھ مار پتر… اللہ نہ کرے کہ کلاں کو کوئی مسئلہ بن جاۓ پھر ؟” وہ بولیں
“مسئلہ جلدی بچے پیدا کرنے سے بنتا ہے آنٹی, دھڑا دھڑ ایک کے بعد ایک بچہ… انہیں پالنے میں ہی مت ماری جاتی ہے, بندے کی اپنی کیا زندگی رہ جاتی ہے, ابھی مجھ سے اس قسم کی کوئی ڈیمانڈ نہ کریں اور نہ ہی کوئی امید رکھیں… ابھی تو میں نے اور اویس نے ہنی مون پر جانا ہے, رملہ کی وجہ سے وہ اتنا لیٹ ہو گیا یے, پھر ہم نے سال, دو سال انجواۓ کرنا ہے, پھر کہیں جا کر سوچوں گی بچوں کا… ساری عمر پڑی ہے ابھی” وہ کہہ کر اٹھ گئی
“آپ کو اگر زیادہ جلدی ہے تو رملہ آ رہی ہے نا… اس کے سر ہو جائیں, وہ ڈال دے گی آپ کی گود میں پوتے, پوتیوں کے ڈھیر” ہنستے ہوئے کہہ کر وہ اندر چلی گئی تھی
…………………………
اویس نے آج پھر اسے قابو کر لیا تھا
“قسم سے شرمین مجھے کشتی لڑنی پڑتی ہے تمہارے ساتھ ؟” وہ اسے زیر کرتے ہوۓ بولا
“اویس یہ کیا بات ہوئی بھلا… ؟ ابھی دو ہفتے بھی نہیں ہوۓ ہیں اور آپ کو پھر سے جن چڑھ گیا ہے, آۓ روز یہ ہی تماشہ ” وہ بپھری پڑی تھی
“شرمین یار تمہیں مجھ پر ترس نہیں آتا…؟ میں نے تم سے محبت کی شادی کی ہے, میں تو صبح و شام بھی تمہارے قریب آؤں تو کوئی دفعہ نہ لگے” وہ بولا
“میرا تیا پانچہ کر دیں گے آپ… ” وہ چیخی
“یار یہ کیا خناس بھر رکھا ہے تم نے دماغ میں, سارا دن انٹر نیٹ پر بس اس قسم کی بکواس دیکھتی اور سنتی رہتی ہو…ہے نا ؟” اویس نے اس کی کلائیاں جکڑی تھیں
“یہ خناس نہیں ہے… Awareness ہے ” وہ بولی
“بھاڑ میں گئی ایسی اویرنیس ” اویس اس پر جھکتے ہوئے بولا
“اویس اب میں نے پورا مہینہ آپ کو پاس آ لینے دیا تو کہنا… دیکھنا ترسیں گے اب آپ ” وہ چپ نہ ہوئی
“زبان بند ہو جاۓ اب بس… ” اویس اس پر حاوی ہوا تھا
“اویس… “وہ بس اس کے سینے میں منہ چھپا گئی تھی
رات بارہ بجے تک اویس نے اسے سونے نہ دیا, وہ بیچاری رونے والی ہو گئی
“شکل دیکھو اپنی ؟” وہ ہنس رہا تھا, شرمین نے کسی بھوکی شیرنی کی طرح اسے دیکھا
“جاؤ اب ایسا کرو…تھوڑی ٹھنڈی ہوا کھا کر آؤ اور گیزر کا بٹن بھی آن کر آنا” وہ کمبل میں گھستے ہوۓ بولا
“شرم تو نہیں آتی ” وہ بولی
“نہیں جانا تو نہ جاؤ… ٹھنڈے پانی سے نہا لینا” اویس نے اسے آنکھ سے اشارہ کیا تھا, شرمین نے اسے رکھ کے گھورا, وہ ہنستے ہوئے کمبل میں گھس گیا, وہ چند لمحے اسے گھورتی رہی پھر ناچار باہر نکل آئی, موسم انتہائی خنک ہو رہا تھا, وہ سیڑھیاں چڑھتی ہوئی اوپر آ گئی, یاسمین کے کمرے کی لائیٹ جلتی دیکھ کر رک گئی, پھر کچھ سوچ کر دروازے سے کان لگا لیا تھا
………………………
چٹاخ کی آواز کے ساتھ اس کے منہ پر شفیق کا تھپڑ پڑا تھا, یاسمین حق دق رہ گئیں, آج تک اس نے کبھی اپنے کسی بچے پر ہاتھ نہیں اٹھایا تھا… خاص طور پر حمزہ پر…وہ خود بھی سن کھڑا رہ گیا تھا, رفیق نے اس کا سارا چہرہ ادھیڑ کر رکھ دیا تھا…جگہ جگہ زخم… نیل… نشان
“اب کیا کہوں میں تجھے حمزہ… ؟ ریپیسٹ… ؟ یا قاتل ؟” وہ انتہائی سرد لحجے میں بولا تھا
“ابو میں نے کچھ نہیں کیا اس کے ساتھ ” حمزہ تڑپ اٹھا
“کرنے کی کوشش تو پوری کی نا” شفیق نے کہا
“اور وہ بھی دو بار… حمزہ تجھے ذرا سی بھی شرم نہیں آئی کہ وہ زبیر کے نکاح میں ہے” شفیق کو انتہائی صدمہ تھا
“اگر تو نے اس سے شادی ہی کروانی تھی تو ہمیں پہلے کیوں نہیں بتایا ؟ جس دن اویس نے پہلی بار انکار کیا تھا اسی دن اپنی ماں سے یا مجھ سے کہہ دیتا, ہم پہلے سے ہی معاملہ سیٹ کر لیتے, زبیر بیچ میں آتا ہی نا…” شفیق کہتا چلا گیا
“میں نے کہا تو تھا آپ سے… ” وہ منمنایا
“کب… ؟ میریج ہال میں… جب زبیر کا نکاح ہونے والا تھا تب… ” شفیق اس پر برس پڑا
“حمزہ ادھر دیکھ میری طرف…. ” شفیق نے کہا, حمزہ نے بمشکل اس کی طرف دیکھا
“زبیر نے شہر میں کراۓ کا مکان لے لیا ہے… وہ اسے یہاں نہیں لیکر آۓ گا اب… ” شفیق نے کہا
“کیونکہ یہاں اس کی بیوی کی عزت محفوظ نہیں ہے… کس سے ؟ تیرے سے حمزہ… ؟” شفیق کے لحجے میں افسوس گھل گیا
“یعنی حمزہ شفیق اب ایک ہوس کا مارا شیطان بن چکا ہے, اس کے ہوتے اس گھر میں رملہ زبیر کی عزت محفوظ نہیں ہے… یہ سن کر تو شرم سے ڈوب کر مر کیوں نہیں جاتا حمزہ” وہ اسے بھگو بھگو کر لگا رہا تھا
“حمزہ پتر… آخر ایک لڑکی ہی تو ہے وہ… چل مان لیا تجھے اچھی لگ گئی تھی لیکن… اب کیا اتنا ہی مشکل ہے اسے بھلانا ؟ کیا اتنا ہی مشکل ہے اسے زبیر کی بیوی کے روپ میں قبول کر لینا؟” یاسمین نے کہا, حمزہ کا سر جھکا ہوا تھا, آنسو قطرہ قطرہ ہاتھوں کی پشت پر گر رہے تھے
“محبت کو رسوا نہیں کرتے حمزہ… اسے معتبر کرتے ہیں, اس کی حفاظت کرتے ہیں, سر عام اس کا تماشہ نہیں بنایا کرتے…میں اس لڑکے کو قطعاً یہ گھر چھوڑنے نہیں دوں گا, تجھ جیسے بے شرم انسان کی وجہ سے وہ آخر اپنا گھر کیوں چھوڑے ؟ میں تیرا ویزہ لگوا رہا ہوں… تو یہ گھر ہی نہیں یہ ملک ہی چھوڑ دے گا” شفیق نے کہا
“ابو… ” وہ تڑپ گیا, یاسمین بھی دم بخود شوہر کو دیکھ رہی تھیں
“جلاوطنی ہی تیری سزا ہے حمزہ… باقی کی زندگی اپنوں سے دور رہ کر گزارے گا تو ” شفیق انتہائی سرد لحجے میں بولا
“ابو مجھے معاف… ” شفیق نے اس کی بات کاٹ دی
“ان سے مانگ معافی جن کا مجرم ہے تو… جن کی زندگی میں طوفان لیکر آیا ہے تو ؟ اس لڑکی سے مانگ معافی جو تیری وجہ سے اپنا بچہ کھو بیٹھی” شفیق نے کہا
“ابو میں ان دونوں سے معافی مانگ لوں گا لیکن … مجھے باہر نہ بھیجیں, مجھے نہیں جانا باہر” وہ شفیق کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا
“تو پھر ٹھیک ہے… یاسمین کوئی رشتہ ڈھونڈ اس کے لئے… جلد از جلد…اور شادی کر اس کی, تاکہ یہ وحشی جانور اپنی بھوک پیاس مٹانے کے لیے ادھر ادھر منہ نہ مارے” شفیق نے کہا, یاسمین نے حمزہ کی طرف دیکھا, وہ نادم تھا… انتہائی نادم
“پرسوں یہ میرے ساتھ لاہور جاۓ گا, جب تو اس کا رشتہ دیکھ چکے تو مجھے بتا دینا.. بس یہ اب اپنی منگنی پر ہی آۓ گا” شفیق نے کہا تھا
دروازے کے باہر کھڑی شرمین دھیرے سے مسکرائی تھی… یہ کہانی تو اسے پتہ ہی نہیں تھی
………………………….
جاری ہے