No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
دسویں قسط
رملہ کو واپس آۓ چار دن ہو چکے تھے, اس کے آتے ہی رخسانہ نے اسے اپنے کمرے میں بلایا تھا
“دیکھ پتر… تیرے آنے سے پہلے بھی اس گھر کے سارے ہی کام ہو رہے تھے…ناعمہ, علینہ اور زرینہ سب مل کر کرتی تھیں, پتر تو نہیں بھی کرے گی تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن یہ جو شریکا ہوتا ہے نا… یہ زمین پر پیر نہیں پڑنے دیتا, میری اپنی بیٹی کل کو اٹھ کر میرے منہ پر کہہ دے گی کہ بہو کو رانی کیوں بنایا ہوا ہے… سو پتر اپنے سارے کام خود کیا کرنے ہیں, مجھے پتہ ہے وہ تو شادی کے اگلے دن سے ہی خود کر رہی ہے…اپنا کمرہ صاف کرنا, اپنے برتن دھونا, کپڑے دھونا, استری کرنا… سب کچھ, اس کے علاوہ خود بتا دے کہ اپنے ذمے کیا لے گی ؟گھر کی صفائی… تین وقت کے برتن یا کچن ؟ انہوں نے پوچھا
“آنٹی جو مرضی دے دیں ” اس نے کہا, زرینہ نے کچن کے لئے صاف ہری جھنڈی دکھا دی, ناعمہ بھی پکا پکا کر تھک چکی تھی سو کچن اس کے ذمے آ گیا
“صبح کا ناشتہ… روٹیاں میں خود ساتھ بنوا دیا کروں گی, دوپہر کا سالن اور روٹیاں… شام کی ہانڈی اور روٹیاں.. ” اس نے اثبات میں سر ہلا دیا, کام چور تو نہیں تھی وہ… اپنے گھر بھی یہ ہی سب کرتی آئی تھی, وہاں بھی اس نے اور نائلہ نے کام بانٹ رکھے تھے, اب بھی اس نے چپ چاپ کچن کی ذمہ داری سنبھال لی, پہلے پہل تو اس کے پکاۓ پر سو سو نقص نکلے… خاص طور پر ناعمہ اور زرینہ… کبھی کبھار رفیق صاحب بھی زیادتی کر جاتے تھے, دھیرے دھیرے روٹین سیٹ ہو گئی, رخسانہ کی عدم موجودگی میں وہ گیس پر روٹیاں بھی خود ہی بنا لیتی تھی
وہ بھی عام دنوں جیسی ہی ایک شام تھی, رملہ کچن میں شام کی ہنڈیا بنا رہی تھی, ساتھ ساتھ اس نے آٹا گوندھ لیا, حمزہ ہسپتال سے واپس آیا تھا, موٹر سائیکل کھڑی کر کے اندر چلا آیا, ایک نظر اسے کچن میں کھڑے دیکھا اور دھیرے سے مسکراتے ہوئے اوپر چلا گیا, ناعمہ اوپر ہی تھی, کچھ دیر بعد وہ نیچے اتر آئی اور حمزہ والے کمرے میں چلی گئی
مغرب کی اذانیں ہونیوالی تھیں… رملہ نماز پڑھنے کے لئے کچن سے نکلی تو ناعمہ نے اسے آواز دے لی
“میں نے شو کیس صاف کیا تھا… اپنے برتن سیٹ کر لیں, پھر نہ کہنا توڑ دئیے ” اس کے سارے برتن ادھر ادھر بکھرے پڑے تھے
“حمزہ کہاں ہے ؟” اس نے دروازے سے باہر جاتی ناعمہ سے پوچھا
“باہر گیا یے ” وہ کہہ کر باہر نکل گئی, رملہ نے ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے لائیٹ جلائی اور تیزی سے اپنے برتن سیٹ کرنے لگی, ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ایک دم لائیٹ بند ہو گئی
“توبہ… ” جھنجھلا کر اس نے برتن نیچے رکھے اور ٹٹول کر باہر کی طرف بڑھی, کمرے میں گھٹا ٹوپ اندھیرا تھا, تبھی حمزہ اندر داخل ہوا, وہ اسے اپنے سامنے دیکھ کر چونک سی گئی اور سائیڈ سے نکلنے لگی
“تم میرے کمرے میں کیا کر رہی ہو ؟” وہ سارے آداب بھلاۓ بیٹھا تھا
“میں صرف اپنے برتن سیٹ کرنے آئی تھی” رملہ نے کہا اور دروازے کی طرف بڑھی, دفعتاً حمزہ نے اس کی کلائی جکڑ لی
“یہ کیا بدتمیزی ہے ؟” وہ پھنکار کر بولی
“زبیر سے نکاح کیوں کروایا ؟ تم جانتی تھیں نا کہ میں تمہیں چاہنے لگا ہوں ” حمزہ نے اسے کلائی سے کھینچ کر عین اپنے سامنے کھڑا کر لیا, کمرہ ہنوز تاریک تھا, رملہ کی کلائی حمزہ کے ہاتھ میں تھی, اچانک کسی نے کمرے کا دروازہ بند کر دیا, رملہ کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا
“حمزہ چھوڑو میرا ہاتھ ” اس نے پورا زور لگایا
“رملہ…. ” حمزہ نے اسے یونہی کلائی سے پکڑے اپنی طرف کھینچا تھا ,اس نے اپنا دوسرا ہاتھ اس کے سینے پر رکھتے ہوۓ خود کو اس سے ٹکرانے سے بچایا
“آئی لو یو… ” حمزہ کی انگلیاں اس کے بالوں میں سرسرائی تھیں
……………………..
“تائی امی… تائی امی…. ” ناعمہ اپنا پورا گلا پھاڑتے ہوۓ باہر نکلی تھی, پھولی پھولی سانسوں کے ساتھ وہ دوڑتی ہوئی باہر رخسانہ کے پاس آئی
“ادھر آئیں… جلدی کریں” ناعمہ نے انہیں ہاتھ سے پکڑ کر اٹھایا تھا
“کیا ہو گیا…. ؟” رخسانہ بوکھلا گئیں
“ادھر تو آئیں… ثبوت مانگا تھا نا آپ نے کہ آپ کی بہو بہت باکردار ہے, میرے ساتھ ثبوت کے ساتھ بات کرنا, ادھر آئیں آپ کو ثبوت دکھاؤں ” وہ انہیں لئے اندر آ گئی, زرینہ بھی پیچھے پیچھے ہی تھی,ناعمہ عین حمزہ کے کمرے کے آگے آ کر رک گئی
“یہ دیکھیں ثبوت.. ” ناعمہ نے دھاڑ سے کنڈی کھول کر دروازہ پورا کھول دیا, زرینہ نے اسی وقت مین سوئچ نیچے کیا تھا, رخسانہ اندر کا منظر دیکھ کر حق دق رہ گئیں
رملہ کا دوپٹہ اس کے قدموں میں پڑا تھا اور وہ پوری طرح حمزہ کی بانہوں میں قید تھی, دروازہ کھلتے ہی حمزہ نے اسے آزاد کیا تھا, وہ باہر کو بھاگی, سامنے رخسانہ کھڑی تھیں
“آنٹی میں نے… ” آنسوؤں کا گولہ اس کے حلق میں اٹک گیا
“زبیر… ” اچانک اس کے منہ سے سرگوشی سی نکلی تھی, رخسانہ نے پلٹ کر دیکھا, زبیر عین ان کے پیچھے کھڑا تھا… ساکت سا
رملہ بنا دوپٹے کے دروازے کے پاس کھڑی تھی, بال بکھرے ہوئے تھے, چہرہ سرخ ہو رہا تھا, ہونٹ کانپ رہے تھے, سانسیں لینا دشوار ہو رہا تھا
حمزہ اس سے تین, چار قدم پیچھے تھا
“حمزہ تو کیا کر رہا تھا بند کمرے میں اس کے ساتھ ؟” رخسانہ کو یقین نہ آیا
“تائی امی مجھے انہوں نے بلایا تھا… ” وہ بولا
“میں نے نہیں بلایا… ” رملہ کی آنکھیں پھٹ گئیں
“امی اسی نے بلایا تھا حمزہ کو…میں نے خود اس کا پیغام حمزہ تک پہنچایا ہے, میں اوپر جا رہی تھی جب اس نے کہا کہ حمزہ کو ذرا نیچے بھیجنا” زرینہ نے ہاتھ نچا کر کہا
“خدا کی قسم آنٹی میں تو برتن سیٹ کر… ” ناعمہ نے اس کی بات کاٹ دی
“برتن تو میں نے سارے کل ہی سیٹ کر دیے تھے, تائی امی میں جب واش روم سے نکلی ہوں تو یہ دوبارہ سارے برتن بکھراۓ بیٹھی تھیں” ناعمہ نے تڑکا لگایا
“آنٹی ایسا نہیں ہے… ناعمہ نے مجھے کہا کہ اپنے برتن سیٹ کر لیں, میں اندر گئی تو زرینہ نے لائیٹ بند کر دی, اوپر سے یہ آ گیا… ” وہ روتے ہوئے اپنی صفائی دے رہی تھی
“تائی امی میں رملہ کے بلانے پر آیا تھا…یہ ہی سچ ہے… ” حمزہ نے کہا
“دیکھ لے امی… اس حرافہ کی سائیڈ لیتی تھی تو, اس کی وجہ سے مجھے مارا تو نے اس دن اور اس چھنال کے کام دیکھ لے, اس سے تو وہ شرمین ہی اچھی ہے جو کم از کم جو کرتی ہے سر عام تو کرتی ہے” زرینہ نے رملہ کا بازو جھنجھوڑا تھا
“یہ جھوٹ ہے… ” وہ مارے صدمے کے بول نہ سکی, زبیر دو قدم آگے کو آیا اور حمزہ کی طرف دیکھا
“رملہ نے بلایا تھا تجھے ؟” اس نے پوچھا
“ہاں… ” وہ بولا
“پھر اس کے منہ پر تھپڑ مار… ” زبیر نے کہا, حمزہ دم بخود رہ گیا
“زبیر میں کیسے… ” زبیر نے اس کی بات کاٹ دی, اس کی آنکھیں قہر چھلکا رہی تھیں
“اگر واقعی اس نے بلایا تھا تجھے تو ابھی اسی وقت اس کے منہ پر تھپڑ مار تاکہ آئیندہ ایسی جرات نہ کر سکے” زبیر نے کہا, حمزہ چپ کھڑا رہ گیا
“مار تھپڑ… ” زبیر چیخا, حمزہ نے ایک نظر رملہ کی طرف دیکھا
وہ رو رہی تھی… سرخ آنکھیں اور کپکپاتے ہوۓ ہونٹ
وہ اس لمحے اپنے بناۓ کھیل میں خود ہی ہار گیا, وہ بھول گیا تھا کہ جس لڑکی کو رسوا کرنے لگا ہے… محبت بھی تو اسی سے کرتا ہے
“حمزہ اگر تو سچا ہے تو اس کے تھپڑ مار… ” زبیر نے ایک بار پھر کہا
“مار دے تھپڑ حمزہ … ” ناعمہ چیخی تھی لیکن… وہ نہیں مار سکا, بس چپ چاپ نظریں جھکا گیا
“تم نے بلایا تھا اسے ؟” زبیر رملہ کی طرف مڑا
“نہیں… ” وہ فوراً بولی
“اس کے تھپڑ مارو… ” زبیر کی بات ابھی پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ رملہ کا ہاتھ اس کا گال رنگ گیا رخسانہ ساکت رہ گئیں تھیں
“ایک اور مارو… ” وہ بولا, رملہ نے مار دیا
“تب تک مارو جب تک یہ اپنے جرم کا اعتراف نہیں کر لیتا ” وہ انتہائی سرد لحجے میں بولا تھا, رملہ ایک کے بعد ایک اس کے جڑتی چلی گئی
“بس کرو… ” ناعمہ ایک دم چیخی اور بلک بلک کر رو دی
“خدا کا واسطہ بس کرو…حمزہ کا کوئی قصور نہیں ہے, اسے میں نے نیچے بھیجا تھا ” وہ سر جھکا کر بولی تھی
“معافی مانگ رملہ سے… ” زبیر نے ناعمہ سے کہا
“مجھے معاف کر دو” وہ بولی
“ہاتھ جوڑ کر… ” وہ پھر بولا, ناعمہ نے روتے ہوئے اس کے آگے ہاتھ جوڑ دئے, حمزہ ہنوز خاموش کھڑا تھا, زبیر انتہائی قہر آلود نظروں کے ساتھ زرینہ کی طرف مڑا, وہ ایکدم ڈر کر دو قدم پیچھے کو ہوئی اور پیچھے ہٹتے ہٹتے دیوار سے جا لگی
“زبیر میرا بھائی… اللہ کی قسم مجھے معاف کر دے, مجھے کچھ نہیں پتہ, مجھے تو بس ناعمہ نے یہ کہا کہ میں امی کے سامنے کہہ دوں کہ رملہ نے مجھے حمزہ کو بلانے کا کہا تھا… مجھے معاف کر دے زبیر ” وہ یکدم سارا پول کھولتے ہوئے رو پڑی, رخسانہ تیر کی طرح اس کی طرف بڑھیں اور اس کے بال جکڑ لیے اور اسے یونہی گھسیٹتے ہوۓ اوپر لے گئیں, زبیر نے ایک نظر حمزہ کے جھکے ہوئے سر کو دیکھتے ہوئے نیچے پڑا رملہ کا دوپٹہ اس کے کندھے پر ڈالا اور اس کا ہاتھ تھام لیا
“آئیندہ اگر کسی نے میری بیوی پر انگلی بھی اٹھائی تو انگلی سمیت منہ توڑ دوں گا سب کا” وہ اسے لیکر کمرے کی طرف بڑھا تھا, اندر آتے ہی اس نے دروازہ لاک کیا اور اپنا بیگ کندھے پر سے اتارتے ہوئے بیڈ پر پھینکا, ٹائی کھولی, شرٹ کے بٹن کھولے اور اتار دی, رملہ کا پورا جسم کپکپا رہا تھا, آنکھیں مسلسل بھیگ رہی تھیں, چہرہ زرد ہوا پڑا تھا, زبیر دو قدم چل کر اس کے قریب ہوا
“کیا کہا ہے اس نے تم سے ؟” اس نے پوچھا
“کہتا کہ…. وہ مجھ سے…. پیار…. کر” اس سے آگے اس سے بولا نہ گیا
“تب تھپڑ کیوں نہیں لگایا اسے ” وہ زور سے بولا
“اس کا ہاتھ کیوں نہیں توڑا جس سے اس نے تمہیں چھوا… ” زبیر نے اپنا ہاتھ اس کے سر کی پشت پر رکھا تھا
“زبیر میں ڈر گئی تھی…. ” وہ رو پڑی, زبیر نے اسے ایک جھٹکے سے موڑا اور دیوار کے بالکل ساتھ لگا دیا, رملہ کا چہرہ دیوار سے رگڑ کھانے لگا تھا
“جس لمحے وہ تمہارے پیچھے اس کمرے میں آیا تھا اسی لمحے پلٹ کے منہ کیوں نہیں توڑا اس کا…؟ سنا ہی کیوں کہ وہ کیا کہہ رہا ہے… ؟ وہ سارے برتن اٹھا کر اس کے سر میں کیوں نہیں مارے ؟ اسے کیوں اپنا دوپٹہ کھینچ لینے دیا… ؟” اسے زبیر کی انگلیاں اپنی پشت پر رینگتی محسوس ہوئی تھیں, اس کی سانسیں رملہ کی گردن جلانے لگیں تھیں
“زبیر ایم سوری… ” وہ تھر تھر کانپ رہی تھی, زبیر کے دانتوں نے اس کے گال پر نشان چھوڑا, وہ تڑپ اٹھی… اگلا ہدف اس کے لبوں کا کنارا تھا جو رملہ کو سسکنے پر مجبور کر گیا
“زبیر پلیز… ” وہ گھٹ گھٹ کر رونے لگی تھی
“اس کے سینے سے لگتے ہوئے اس کے دل میں چاقو کیوں نہیں گھونپ دیا ؟” زبیر نے دایاں ہاتھ اس کے منہ پر رکھتے ہوۓ لائیٹ آف کی تھی
“زبیر پلیز …بہت درد ہو گا زبیر ” وہ کوشش کے باوجود مڑ نہیں سکی, زبیر بس اس کی گردن کو نشانہ بناۓ اسے اذیت دیتا چلا گیا تھا
“زبیر میں مر جاؤں گی… خدا کے لئے ” وہ اس کی دبی دبی سی سسکیاں سن رہا تھا لیکن…
“زبیر… ” اپنی آخری سرگوشی کے ساتھ ہی وہ بے دم ہو کر فرش پر گر گئی تھی
……………………….
پوری رات گزر گئی اسے کمرے میں بند ہوۓ, اگلا پورا دن بھی گزر گیا… یاسمین نے ہر ممکن کوشش کر لی لیکن اس نے دروازہ نہیں کھولا, رفیق صاحب ابھی سارے معاملے سے انجان تھے, آخر رخسانہ ہی رملہ کے کمرے سے ہو کر اس کے کمرے کی کھڑکی تک پہنچیں اور اس کا لاک توڑا
وہ صرف ٹراؤزر پہنے چارپائی پر اوندھا پڑا تھا, چارپائی کے آس پاس ادھ جلی سگریٹوں کے لا تعداد ٹکرے پڑے تھے
“حمزہ… ” رخسانہ کے دروازہ کھولتے ہی یاسمین اندر کو آئیں تھیں
“اوۓ حمزہ… پتر ” یاسمین رو ہی پڑیں
“اٹھ میرا پتر… پورا دن گزر گیا بھوکے پیاسے… اٹھ کے نہا… کپڑے بدل, چل میرا لعل” وہ اسے زبردستی اٹھا کر کمرے سے باہر لے گئیں, رخسانہ بس چپ چاپ کھڑی رہ گئی تھیں
ادھر ناعمہ کو شدید بخار ہو گیا تھا, ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی اویس اسے ہسپتال سے لیکر آیا تھا, یاسمین بیچاری کبھی اس کی طرف بھاگتی اور کبھی حمزہ کو دیکھتیں…زرینہ نے تو اگلا پورا دن شکل ہی نہیں دکھائی…نیچے ہی نہیں اتری
اور تیسری وہ تھی… جو کسی کو بتا بھی نہ سکی کہ اسے کیا سزا ملی؟ بس وہ پوری رات فرش پر سے اٹھ نہیں سکی تھی… اور جب صبح اٹھی تو سیدھی نہیں ہو سکی, ٹانگیں چلنے سے انکاری اور کمر کھڑے ہونے سے… گولیوں کا پورا پھکا پھانک کر وہ ناشتہ بنانے کچن میں گھس گئی تھی, زبیر چپ چاپ ناشتہ کر کہ دفتر چلا گیا
ادھر اویس نے ایک نیا ڈرامہ شروع کر دیا… بھوک ہڑتال
صبح کو ناشتہ کئے بنا ہی فیکٹری نکل جاتا… دوپہر کو کھانا کھانے ہی نہ آتا… شام کو بنا کھاۓ ہی سو جاتا, رخسانہ نے ایک دن تو نظر انداز کر دیا, اس سے اگلے دن جھاڑ دیا… تیسرے دن وہ یکدم پھٹ پڑیں
“تسی سارے مینوں اک وری ہی پھاہا دے دیو…” وہ پھٹ پڑیں, اویس بنا ناشتہ کئے فیکٹری جانے کے لئے تیار تھا, زبیر ستا ہوا چہرہ لئے اندر بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا, دو دن ہو گئے تھے انہیں حمزہ کی شکل دیکھے…وہ کب ہسپتال جاتا تھا اور کب واپس آتا تھا کوئی پتہ نہیں… ناعمہ دو دن کے بخار میں سوکھ کر کانٹا ہو گئی تھی…آنکھیں کئی کئی انچ اندر کو اتر گئیں… زرینہ الگ سے بوتھا سجاۓ پھر رہی تھی
“اوۓ منڈیا… چاہتا کیا ہے تو ؟” وہ بولیں, اویس چپ چاپ اپنی موڑ سائیکل صاف کرتا رہا
“اویس کنجر… میں تیرے سے بات کر رہی ہوں ” وہ اٹھ کر اس کے پاس آئیں, زرینہ پاس ہی دونوں لڑکوں کو نہلا رہی تھی, ستے ہوۓ چہرے کے ساتھ اس نے پہلے تو دونوں کی قمیضیں اتاریں, پھر کھینچ کھینچ کر شلواریں بھی اتار دیں
“اوہ… ادھر دیکھو, تو ایسا کر ان دونوں کو اٹھا کے گلی میں لے جا” رفیق صاحب پاس بیٹھے سگریٹ پی رہے تھے, وہ چپ رہی
“امی… کچھا تے پا دے” دونوں بچے تان سے تان ملا رہے تھے
“یہ تو مجھے پتہ ہے کہ روٹی تو کہیں نا کہیں سے کھا رہا ہے تو… ایسے کیسے تین دن بھوکے رہ کر گزار لیے تو نے لیکن یہ کوئی تماشا ہے اویس… کوئی عقل کو ہاتھ مار… اس لڑکی کی خاطر پورے گھر کو انگلیوں پر نچا رکھا ہے تو نے” رخسانہ تڑخ گئیں
“اے زرینہ… کبھی ان کے پنڈوں پر صابن بھی لگا دیا کر… توبہ توبہ… میل ایسے چڑھی ہوئی ہے جیسے کلف لگا ہو” رفیق صاحب مسلسل زرینہ کے صبر کا امتحان لے رہے تھے, وہ دونوں کے صابن لگا کر اب مل رہی تھی
“امی پلیز… صبح صبح میرے ساتھ بحث نہ کریں ” وہ تنگ آ کر بولا
“اور جو تو کر رہا ہے وہ… وہ کیا ہے ؟ چل منڈیا ٹھیک ہے فیر… اگر ایسے بھوک ہڑتال کر کہ تو اپنی منوا سکتا ہے تو منوا کہ دکھا ” رخسانہ نے کہا, زرینہ بظاہر تو بچوں کے صابن مل رہی تھی لیکن دھیان سارا رخسانہ اور اویس کی طرف تھا, وہ صابن والا ہاتھ بچوں کی آنکھیں ملے جا رہا تھا
“امی… آنکھوں میں صابن چلا گیا… ” بڑا والا چیخا
“انا (اندھا) کر دے دوناں نو… ” رفیق صاحب مسلسل اس کی کاروائی دیکھ رہے تھے
“امی… آپ نے بس ایویں ایک ضد لگائی ہوئی ہے” وہ بولا
“تو نے نہیں لگائی… تو چھوڑ دے تو اپنی ضد” وہ چیخیں
“یا پھر دے دے ضمانت… ؟” وہ بولیں
“امی… ” وہ رونے والا ہو گیا, زرینہ کے چھوٹے لڑکے نے بھی بڑے سے تان ملا لی, دونوں چھپا چھپ آنکھوں میں پانی ڈالنے لگے
“بے غیرتو… مجھے ساری کو گیلا کر دیا” زرینہ نے ان کے ننگے جسموں پہ دھنا دھن کی تھی
“دے ضمانت کہ تیری وجہ سے علینہ کا گھر نہیں اجڑے گا ” رخسانہ آخر کو اس کی ماں تھیں, ڈٹ کر کھڑی ہو گئیں, اویس نے رفیق کی طرف دیکھا
“تیری ماں اگر راضی ہے تو پھر میں بھی راضی ہوں” اس بار ان دونوں میاں بیوی کا پکا یونین تھا
“اچھا ٹھیک ہے…” وہ سر جھکا کر بولا تھا
“اے رخسانہ… اس ڈائن کو کہہ بس کرے, یہ بچے مار دے گی آج” رفیق صاحب نے چیخ کر کہا تھا
“اویس… جس طرح ضد کر کہ اس سے شادی کر رہا ہے نا… ویسے ہی ضد لگ کر اس شادی کو نبھانا بھی ہے, مجھے پتہ ہے تیری فطرت کا… کل کلاں کو ذرا سی اس سے ان بن ہوگئی تو چلو جی… بات ختم… اسے کہہ دے کہ جا اپنے گھر… یاد رکھنا اسی شام اس کا بھائی علینہ کو واپس بھیج دے گا” رخسانہ کہتی چلی گئیں, اویس نے سر ہلاتے ہوئے موٹر سائیکل سٹارٹ کی تھی, بیک گراؤنڈ میں دونوں بچے فل ٹاس گلا پھاڑ رہے تھے
“اس سے پہلے کہ تیرا میرے ہاتھوں قتل ہو جاۓ اوپر دفع ہو جا… ” رخسانہ تیر کی طرح زرینہ کی طرف آئی تھیں
“امی مجھے ماریں نا… ” وہ چیخی
“پرے دفع ہو… ” انہوں نے دونوں بچوں کو اس کے جلادی چنگل سے نکالا, زرینہ تن فن کرتی اوپر چلی گئی, زبیر ناشتہ کر چکا تھا, رملہ برتن اٹھا کر مڑنے لگی تو اس کی کلائی تھام لی… وہ ایک جھٹکے سے چھڑوا گئی تھی
………………………
“رملہ نے بلایا تھا تجھے… ؟ “
“ہاں… “
“اس کے منہ پر تھپڑ مار… “
“زبیر میں کیسے…. ؟”
“اگر سچا ہے تو اس کے منہ پر تھپڑ مار… “
“تم نے بلایا تھا اسے… ؟”
“نہیں.. “
“پھر اس کے منہ پر تھپڑ مارو… “
اور چٹاخ کی آواز کے ساتھ ہی اس کی آنکھ کھلی تھی, چہرہ پسینوں پسین تھا اور گلا خشک… جیسے کانٹے آگ آۓ ہوں, وہ ایک دم اٹھا اور نیچے پڑی پانی کی بوتل کھول کر منہ سے لگا لی
وہ پچھلی تین راتوں سے سو نہیں سکا تھا… پچھلے تین دنوں سے اس نے رملہ کی شکل بھی نہیں دیکھی تھی
کھلی چھت پر لیٹے ہونے کے باوجود اس کا دم گھٹ لگ رہا تھا, سانس جیسے اٹک اٹک کر آ رہی تھی, سس نے جسم پر پہنا واحد بنیان بھی اتار دیا اور ریلنگ کی طرف آ گیا
“تو نے اسے رسوا کرنا چاہا حمزہ… اسے… رملہ کو” کوئی اس کے اندر سے بولا تھا
“بھلا اپنی محبت کو بھی کوئی رسوا کرتا ہے… ؟ کوئی ایسے پامال کرتا ہے اس لڑکی کو جسے دیکھ کر صرف محبت کا خیال آتا ہو… کتنا غلط کیا حمزہ… ؟
“اس نے تجھے تھپڑ مارا…؟” ایک اور آواز آئی تھی اور ساتھ ہی اس کی رگیں تن گئی تھیں
“پھر دوسرا… پھر تیسرا… حمزہ اس نے تجھے سب کے سامنے ذلیل کر دیا” آوازوں کا شور بڑھتا جا رہا تھا
…………………………..
رخسانہ اور رفیق اویس کے لئے شرمین کا رشتہ مانگنے آۓ تھے, حاتم تو ان کا مدعا سنتے ہی خاموش ہو گیا تھا, شرمین ست رنگی تتلی بنی اڑ رہی تھی, علینہ نے کھانا بنایا تھا, کھانے سے فارغ ہوۓ تو شرمین جی چاۓ لے آئیں
“حاتم پتر ہماری عرض کا کیا کرنا ہے اب ؟” رفیق صاحب نے پوچھا تھا
“شرمین… تھوڑی دیر کے لئے باہر جاؤ” حاتم نے کہا, اس کا ارادہ تو نہیں تھا لیکن بادل نخواستہ باہر نکل ہی گئی
“انکل جی میرے بات کا برا نہ منانا… آپ کو یہ رشتہ لیکر یہاں آنا ہی نہیں چاہیے تھا” حاتم نے کہا, رخسانہ اور رفیق ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر رہ گئے
“تسی سیانے او آنٹی جی… تسی ساڈے وڈے او… لیکن معاف کرنا… تسی گل سیانیاں آلی نہیں کیتی” وہ بولا
“پتر کیا کریں… اولاد سر چڑھی ہو تو کیا کریں ؟” رخسانہ نے ایک لمبی سانس بھری
“آنٹی میری امی ابھی حیات تھیں جب میرا رشتہ طے ہوا تھا, اب سے کوئی چار, پانچ سال پہلے… دونوں گھر راضی تھے, پھر اچانک سے انہیں اپنے بیٹے کے لیے شرمین پسند آ گئی… خدا جانے آنٹی انہیں پسند آئی یا ان کے بیٹے کو کیونکہ… وہ میری بہن ہے اور مجھے اس کی عادتوں اور خصلتوں کا پورا علم ہے, میری سمیٹے انکار کر دیا, وہ اصرار کرنے لگے, خدا کی قسم آنٹی جی میں نے تب اپنا رشتہ توڑ دیا اور اس کا کر دیا کہ خدانخواستہ اگر کبھی مستقبل میں کوئی گھر اجڑے… تو ایک ہی اجڑے… دو لڑکیاں برباد نہ ہوں… شرمین کی شادی ہو گئی, آنٹی جی میں نے پہلے دن آپ سے کہا تھا کہ وہ لوگ اچھے نہیں نکلے اس وجہ سے طلاق لے لی تھی شرمین جی لیکن حقیقت یہ ہے کہ شرمین خود ہی نہیں بسی, انہوں نے بہت چکر لگاۓ لیکن… بس پتہ نہیں اس کا دل ہی مڑ گیا… اور تب مجھے اپنے کئے فیصلے پر بڑ سکون ہوا تھا, آج پھر وہی صورتحال بن رہی ہے… اور آج ایک بار پھر میں وہ فیصلہ نہیں لے سکتا جو پانچ سال پہلے لیا تھا, آج علینہ میری بیوی ہے… اور میں اپنی بہن کی خاطر اپنا اور علینہ کا رشتہ نہیں توڑ سکتا, چاہے تو اسے میری خود غرضی کہہ لیں” حاتم کہتا چلا گیا, رخسانہ خاموش بیٹھی تھیں
“اگر شرمین نہ بس سکی… تو آپ کی بیٹی مفت میں اجڑ جاۓ گی انکل… اسلئے اس بات کو یہیں ختم کرتے ہیں, برا نا منانا لیکن ہم شرمین کا رشتہ اویس سے نہیں کر سکتے” حاتم نے بات ختم کی تھی
……………………..
جاری ہے
