63K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

“کپڑے کیوں نہیں دھوۓ… ؟” اویس زور سے دھاڑا تھا, اس نے فیکٹری جانا تھا اور پہننے کو نا کوئی پینٹ تھی نا شرٹ…
“کام والی جواب دے گئی تھی” شرمین نے کہا
“تو پھر… تم پر فالج گر گیا تھا ؟” وہ تڑخا
“اویس… مجھ سے نہیں دھوۓ جاتے اتنی گرمی میں کپڑے” اس نے صاف منع کر دیا
“شرمین… شادی کو ڈیڑھ سال ہونے کو آیا ہے, مجھے بس اتنا بتا دو کہ آج تک تم نے مجھے شوہر مان کر کونسا کام کیا ہے میرا… کچھ ہوتا بھی ہے تم سے… ؟ نہ تم سے میرے کپڑے دھوۓ جاتے ہیں, نہ استری کئے جاتے ہیں, نہ جوتے پالش کر سکتی ہو, نہ مجھے کھانا بنا کر دے سکتی ہو, روٹی بھی بنانی نہیں آتی… اور نہ تم میرا حق ادا کر سکتی ہو, گرمیوں میں تمہاری گرمی سے جان نکلتی ہے, سردیوں میں تمہاری ٹھنڈے پانی سے جان نکلتی ہے, ڈیڑھ سال میں ابھی تک تم بچہ پیدا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئی… تو پھر تمہارے یہاں اس کمرے میں رہنے کا کوئی جواز ہے ؟” وہ کہتا چلا گیا
“اویس میں نے کچھ نہیں کیا آج تک ؟” وہ حیرانی سے بولی
“نہیں… تم نے آج تک میرے لیے کچھ نہیں کیا, شرمین تم نے صرف فرمائشیں داغی ہیں, اپنی ضدیں پوری کروائی ہیں, مجھے میرے گھر والوں کے سامنے ذلیل کروایا ہے, مجھ سے نت نئے خرچے کرواۓ ہیں اور بس… اور کچھ نہیں کیا تم نے” اویس کی بس ہو گئی
“جب جب میں نے تمہیں محبت سے بلایا ہے, تب تب تم نے مجھے انکار کیا ہے, میری لو میرج کا ستیاناس کر دیا تم نے, ڈیڑھ سالوں میں کتنی بار تم میرے قریب آئی ہو شرمین… ؟ میں تمہیں انگلیوں پر گن کر بتا سکتا ہوں” وہ بولا
“یعنی آپ کو بھی لو میرج کے بعد اپنے نفس کی تسکین کے لئے بس ایک عورت چاہیے تھی ” شرمین نے کہا
“نہیں… مجھے اپنے نفس کی تسکین کے لئے ایک عدد بیوی چاہئے تھی, جائز اور شرعی بیوی… جس کے بعد مجھے اور کہیں منہ نہ مارنا پڑتا, جو میری ذات کے لئے کافی ہوتی, جس سے محبت کرنا میرا حق ہوتا… جب میرا دل کرتا” وہ بولا
آج کے بعد میرے سارے کام تم کرو گی, کوئی کام والی نہیں رکھنی میں نے, فارغ رہ رہ کر صرف تخریب کاریاں سوجھتی ہیں تمہیں بس… مصروف رہو گی تو شیطانیاں بھی کم کرو گی” وہ بولا تھا
“میں آپ کی نوکر نہیں ہوں اویس… ” وہ چیخی
“کوئی بھی اپنے شوہر کی نوکر نہیں ہوتی… وہ اس کے دل کی رانی ہوتی ہے, آس کی محبت کی حقدار ہوتی ہے اور اس کی ناموس کی محافظ ہوتی ہے” وہ کہہ کر باہر نکل گیا تھا
……………………….
اس نے چپ چاپ زبیر کے آگے ناشتہ اور چاۓ کا کپ رکھا اور کمرے میں جانے لگی جب زبیر نے اس کی کلائی پکڑی
“تم نے نہیں کرنا ناشتہ ؟” وہ چپ رہی
“میں نے کچھ پوچھا ہے… جانا نہیں ہے آج ؟” زبیر نے اس کی کلائی کو ہلکا سا جھٹکا دیا تھا
“نہیں… ” وہ کلائی چھڑوا کر اندر چلی گئی, وہ بھی ناشتہ کر کے دفتر چلا گیا
نہ جانے اب وہ اس تھپڑ کی سزا خود کو دے رہی تھی یا زبیر کو… کل رات سے اس نے کچھ بھی نہیں کھایا تھا, بس پانی پی پی کر گزارہ کر رہی تھی, زبیر کے جانے کے بعد اس نے اپنا کمرہ صاف کیا اور چپ چاپ بستر پر پڑ گئی, دوپہر کے قریب اٹھی, ہنڈیا بنائی اور دوبارہ کمرے میں بند ہو گئی
ظہر کی نماز کے لیے اٹھنے لگی تو یکدم چکر آ گیا, پسلیوں کی طرف درد بڑھتا جا رہا تھا, ہاتھ, پاؤں ٹھنڈے برف ہوۓ جا رہے تھے, بڑی مشکلوں سے اس نے وضو کی اور واش روم سے باہر آتے آتے اس کی بس ہو گئی, یکدم دل متلایا تھا… آنکھوں کے آگے اندھیرا چھایا تھا, وہ لہرا کر ڈور میٹ پر گر گئی
اس کے کمرے کے آگے سے گزرتی ناعمہ نے اس کی ہلکی سی چیخ سنی تھی
“رملہ بھابھی… ” وہ دروازہ کھولتے ہوئے اندر آ گئی
“کیا ہوا بھابھی ؟” اندر آتے ہی اس کی آنکھیں پھیل گئیں, وہ بے جان سی فرش پر پڑی تھی
“تائی امی… جلدی آئیں, رملہ کو کچھ ہو گیا ہے” ناعمہ نے چیخ کر کہا تھا, رخسانہ ساتھ والے کمرے سے بھاگی آئیں
وہ برف کی طرح یخ ہو رہی تھی, ناعمہ اور رخسانہ نے اسے اٹھا کر بستر پر لٹایا
“جا پانی لیکر آ… ” انہوں نے ناعمہ سے کہا, وہ بھاگ کر پانی کا گلاس لے آئی
“دوپہر میں روٹی کھائی ہے رملہ پتر… ” انہوں نے پوچھا
“تائی امی مجھے تو لگتا ہے انہوں نے صبح کا ناشتہ بھی نہیں کیا… ایسے ہی کمرے میں بند ہیں صبح سے”ناعمہ نے کہا
“ہیں رملہ… سویرے سے کچھ نہیں کھایا ” وہ اس کے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کرتے ہوئے بولیں, وہ بس بند آنکھوں کے ساتھ لمبے لمبے سانس لے رہی تھی, اب اسے کیا کہیں کہ اسی وقت حمزہ واپس آیا تھا, اوپر جانے لگا تو اس کے کمرے کے آگے ٹھٹھک گیا
“کیا ہوا ناعمہ ؟” اس نے پوچھا
“بھابھی چکرا کر گر گئیں ہیں… ” ناعمہ نے کہا
“حمزہ پتر… اس کا بی پی چیک کر ذرا” رخسانہ نے کہا
“میں نے نہیں کروانا… ” رملہ کی آنکھوں سے پانی بہہ نکلا تھا
“پھر ہسپتال لے چلتے ہیں تجھے…. حمزہ پتر موٹر سائیکل نکال… ” رخسانہ نے کہا
“آنٹی میں نے کہیں نہیں جانا… کسی کے ساتھ بھی, مجھے یونہی چھوڑ دیں زبیر کے آنے تک بچ گئی تو دیکھی جاۓ گی” وہ رو رہی تھی
“پتر حمزہ کے ساتھ نہیں جانا تو میں اویس سے کہہ دیتی ہوں… وہ لے جاۓ گا” رخسانہ نے کہا, اس نے نفی میں سر ہلا دیا
“حمزہ… بی پی چیک کر اسکا” رخسانہ نے اسے گھرکا, حمزہ نے بادل نخواستہ اس کا بی پی چیک کیا تھا… انتہائی لو… ہارٹ بیٹ انتہائی سلو
“انہیں کچھ کھلائیں…بی پی لو ہو گیا ہے, تبھی چکر آ رہے ہیں, انجیکشن نہیں لگانا اس حالت میں” وہ بولا تھا, اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ خود اس کے سامنے بیٹھ کر اس کے منہ میں نوالے ڈال دیتا
“اگر نہیں کچھ کھاتیں تو اس گدھے کو کال کر دیں کہ آ کر بچا لے انہیں…مجھے نہیں لگتا یہ اس حالت میں شام تک گزارہ کر پائیں گی ” وہ رخسانہ کو اشارہ کر کے بولتا ہوا اپنے کمرے میں گھس گیا, رخسانہ اس کے پیچھے ہی اندر آ گئیں
“کل لڑائی ہوئی ہے ان دونوں کی… زبیر نے تھپڑ مارا ہے انہیں میرے اور شرمین کے سامنے… اور اسے شرمین ہی بھڑکا کر باہر لائی تھی…” حمزہ نے مختصر لفظوں میں انہیں سب کہہ سنایا
“تائی امی اب میں دو دو آنکھیں رکھتے ہوئے آنکھوں کا اندھا تو نہیں بن سکتا… ” وہ بولا تھا, رخسانہ چپ چاپ کھانے کی ٹرے لیکر رملہ کے کمرے میں آ گئیں
“رملہ پتر… اٹھ کر کھانا کھا, روٹی سے ناراض نہیں ہوا کرتے… دو دو جانیں لیے بیٹھی ہے تو اپنے اندر, ان کا کیا قصور ہے… ؟ اٹھ میرا بچہ” وہ اس کے سرہانے بیٹھتے ہوئے بولی تھیں لیکن ان کا ہر ترلہ منت بیکار ہی گیا, بڑی ہی مشکلوں سے اس نے صرف ایک دودھ کا گلاس حلق میں اتارا تھا
“اویس… باہر آ” انہیں شرمین پر بے حد غصہ آ رہا تھا, اویس تھوڑی دیر بعد باہر نکل آیا
“اویس اپنی اس چڑیل کو اپنی زبان میں سمجھا لے کہ ان دونوں میاں بیوی میں پھوٹ ڈالنا بند کرے, چوبیس گھنٹے یہ عورت زبیر کے کان بھرتی رہتی ہے, کل صرف اس کی جھوٹ فضول باتوں میں آ کر زبیر نے اسے تھپڑ مارا ہے اور وہ کل رات سے بھوکی اندر کمرے میں پڑی ہے… اسے کچھ ہو گیا تو کیا ہو گا ؟” رخسانہ اس پر برس پڑیں
“امی… میں کیا کروں ؟” وہ خود عاجز آیا پڑا تھا
“کمرہ مٹی کا ڈھیر بنا پڑا ہے… کل بھی ناعمہ سے کہہ کر شرٹ دھلوائی تو فیکٹری گیا ہوں, سارا دن فارغ رہ رہ کر تھکتی بھی نہیں ہے وہ… ” وہ بولا
“اویس… ایسے نہیں چلے گا پتر, اسے اپنے سر سے اتار کر اس کی جگہ پر رکھ… پھر درست ہو گی” رخسانہ نے کہا تھا
شام کے چار بج رہے تھے جب زبیر واپس آ گیا, رخسانہ اور یاسمین باہر ہی بیٹھی تھیں, وہ اندر جانے لگا تو رخسانہ نے آواز دے لی
“مجھے بس یہ بتا دے کہ تجھے اس دفعہ بھی بچہ چاہئے کہ نہیں… ؟” وہ تڑخ کر بولیں
“اب کیا ہوا ہے ؟” وہ بولا
“اگر تجھے اس لڑکی سے کوئی سروکار ہی نہیں ہے زبیر تو پھر اسے اسقدر مصیبت میں کیوں ڈالا ہوا ہے… ؟ تو ذرا جا کر حالت دیکھ اس کی… اگر وہ مر گئی تو اس کی ماں اور بھائی کو جواب دے لے گا تو ؟” رخسانہ بھڑک گئی تھیں
“کیا ہوا رملہ کو ؟” وہ یکدم ہی تڑپا تھا
“کل رات سے بھوکی ہے وہ… چکر کھا کر گر گئ ہے آج… بی پی سو سے بھی نیچے گیا ہوا ہے, مجال ہے جو اس لڑکی نے ایک نوالہ بھی منہ میں ڈالا ہو تو… بے غیرت منڈیا اسے تھپڑ کیوں مارا تو نے ؟” رخسانہ کھڑی ہو گئیں
“تو اس نوں چپیڑ ماری ؟” رفیق صاحب ابھی ابھی آۓ تھے, زبیر کا سر جھک گیا
“زبیر اگر ساری زندگی تو نے اس پر شک ہی کرنا ہے تو جان چھوڑ دے اس کی…ظاہر ہے یہ گھر حمزہ کا بھی اتنا ہی ہے جتنا تیرا… میں اور تیرا ابو کیسے اسے یہاں سے نکال دیں… ؟ نہیں تو اپنی بیوی کو لیکر الگ ہو جا” رخسانہ نے کہا
“چپیڑ کیوں ماری اسے ؟” رفیق صاحب کی سوئی تھپڑ میں ہی اٹک گئی تھی
“اس چھنال کی باتوں میں آ کر بیوی پر شک کرتا ہے یہ… کانوں کا کچا آدمی…بے غیرت کسی تھاں دا” رخسانہ نے کہا, رفیق نے تاسف سے زبیر کی طرف دیکھا تھا
“جا جا کر روٹی کھلا اسے… جا جلدی”رخسانہ نے اسے کہتے ہوئے وہیں بیٹھ گئیں, زبیر بیگ کندھے پر ڈالے اندر آ گیا, وہ گھپ اندھیرا کیے, کروٹ لئے بستر پر لیٹی تھی, زبیر نے بیگ اتار کر صوفے پر پھینکا اور دھیرے سے لائیٹ جلا کر اس کے پاس بیٹھ گیا, پھر اس کے بازو پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے نہائیت نرمی سے اپنی طرف موڑا, وہ رو رہی تھی, زبیر کا دل یکلخت یوں ہوا جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو
پسینے اور آنسوؤں سے بھیگا ہوا چہرہ, سرخ روئی روئی سی آنکھیں, بالوں کی ادھر ادھر بکھری ہوئی لٹیں جو گیلی ہو کر چہرے اور گردن پر جم گئی تھیں, “رملہ ایم سوری یار… ” وہ بولا, رملہ نے دوبارہ کروٹ لے لی
“رملہ یار سوری… مجھے بس غصہ آ گیا تھا” زبیر نے دوبارہ اسے اپنی طرف موڑا تھا, رملہ نے اپنا بازو اس کی گرفت سے چھڑوانا چاہا, زبیر نے اسے دونوں بازوؤں سے پکڑ کر اٹھایا اور اپنی طرف کھینچا
“چھوڑ دیں مجھے… ” وہ تڑپ گئی
“میری بات تو سنو… ” زبیر نے اسے دوبارہ کھینچا تھا
“زبیر مجھ پر شک کرتے ہیں آپ… ” وہ بلک بلک کر رو پڑی تھی, اس کا نڈھال سا وجود کسی کٹے شہتیر کی طرح زبیر کے سینے سے آ لگا, اس نے نہایت محبت سے اسے اپنی آغوش میں بھرا تھا, دیوانہ وار اس کی بند آنکھوں کو چوما تھا
“یار ایم سوری… سو سوری” وہ اپنے ہاتھوں سے اس کا گیلا چہرہ صاف کرتے ہوئے بولا تھا, رملہ بس ہچکیاں لئے جا رہی تھی
“چلو اٹھو… کھانا کھاؤ, مجھے تو پتہ ہی نہیں کہ تم نے رات سے کچھ نہیں کھایا” زبیر نے کھانے کی ٹرے اس کے آگے رکھی اور اس کے لئے نوالہ بنایا
“لڑائی تو مجھ سے تھی نا… پھر کھانے سے کیا ناراضگی, حالت دیکھو اپنی, یہ بھی خود کشی کے مترادف ہوتا ہے” وہ اسے نوالے کھلاتا چلا گیا
“زبیر آپ نے مجھے شرمین کے سامنے تھپڑ مارا… ” رملہ کی آنکھیں پھر ڈبڈبا گئیں, اصل دکھ تھپڑ کا انہیں تھا… بے عزتی کا تھا
اور ایسے ہی ہوتا ہے… کسی دوسرے کے سامنے شوہر کا کہا ایک غلط لفظ برداشت نہیں ہوتا تو یہ تو پھر پورے کا پورا تھپڑ تھا
“اس کے سامنے تو نہ مارتے… ” وہ بھول نہیں پا رہی تھی
“رملہ جان… آئیندہ نہیں ماروں گا بس… اس بار معاف کر دو, ایم سوری” وہ کہتا چلا گیا تھا
اور یہ ہی تو شوہروں کی ٹرک ہوتی ہے… بے عزتی کریں گے… سب کے سامنے, گالی دیں گے… سب کے سامنے, تھپڑ ماریں گے… سب کے سامنے… لیکن معافی مانگیں گے… بند کمرے میں…
کیوں بھئی ؟ جب زیادتی سر عام کرتے ہو تو اس ک مداوہ سر عام کیوں نہیں کر سکتے ؟ جب پورے گھر کے سامنے بیوی کو رسوا کر سکتے ہو تو پورے گھر کے سامنے اس سرخرو کیوں نہیں کر سکتے… ؟
اور بیویاں… شوہر کی محبت میں ماری عقل سے پیدل بیویاں… وہ کہتی بھی نہیں ہیں کہ معافی مانگنی ہے تو سب کے سامنے مانگو… وہ بس شوہر کی آنکھ میں ندامت کا آنسو دیکھ کر ہی پگھل جاتی ہیں, ادھر شوہر نے نادم ہو کر ایک میٹھا بول بولا اور ادھر سب کچھ بھول کر اسے معاف کر دیا…
بس ایسے ہی تو شہہ ملتی ہے… ایسے ہی تو دل میں یہ گمان پروان چڑھنے لگتا ہے کہ میں جو بھی کروں… مجھے آخر میں معافی مل ہی جاۓ گی… لیکن… جس کی اخیر ہو گئی وہ بھی تو انسان ہی ہے نا… یہ ہمیشہ بھلا دیا جاتا ہے
المیہ ہے… شوہر معافی مانگے تو بیوی اپنا فرض سمجھ کر اسے معاف کرے… لیکن اگر وہی معافی ایک بیوی مانگے… خدا کی قسم شوہر بیویوں کی غلطیوں کو معاف نہیں کر پاتے
……………………..
اس دن اویس کی چھٹی تھی, وہ ذرا دیر سے سو کر اٹھا
“شرمین مجھے ناشتہ بنا دو” گیارہ بجے کا وقت تھا جب وہ نہا کر باہر نکلا, شرمین میڈم کے کان پر جوں تک نہ رینگی, وہ اپنے موبائل میں مصروف تھی
“شرمین… ناشتہ… ” اویس نے اس سے موبائل چھینتے ہوۓ کہا
“یہ کیا بدتمیزی ہے اویس… جائیں اپنی اماں سے کہیں کہ آپ کو ناشتہ بنا دے” وہ بولی
“تم کس مرض کی دوا ہو پہلے یہ بتاؤ؟” وہ بولا
“میں کسی بھی مرض کی دوا نہیں ہوں… بس” وہ اس سے موبائل واپس چھینتے ہوئے بولی
“تو پھر نکلو میرے کمرے سے… جب تم کسی کام کی ہی نہیں ہو تو یہاں کیا کر رہی ہو ” اویس کو غصہ آ گیا, اس نے بازو سے پکڑ کر شرمین کو باہر کی طرف دھکیلا تھا
“اویس… چھوڑیں مجھے, خبردار جو آج کے بعد مجھے اس کمرے سے نکلنے کا کہا تو ؟” وہ بھڑک گئی
“چلو پھر… ناشتہ بنا کر لاؤ” اویس نےکہا
“میں نوکرانی نہیں ہوں آپ کی, صبح اٹھ کر کر لیتے, مجھ سے نہیں بنتی اب روٹی ؟” اس نے صاف جواب دیا تھا, اویس نے اسے بازو سے پکڑا اور کھینچتے ہوۓ کچن میں لے آیا
“اٹھاؤ آٹا… میں بھی تو دیکھوں تمہیں روٹی پکاتے ہوۓ کونسی موت پڑے گی ” اویس چیخا تھا
“نہیں پکاتی… کیا کر لیں گے آپ ؟” وہ اس کے برابر کا چیخی تھی, رخسانہ اور یاسمین بھاگتی ہوئی کمرے سے نکلی تھیں
“کیا ہوا ؟”
“دوبارہ آواز نہ نکلے تمہارے حلق سے ورنہ زبان کھینچ دینی ہے میں نے” اویس نے اسے قہر بار نظروں سے دیکھا تھا
“چل بس کر… جا اندر” رخسانہ نے اسے اندر کو دھکیلا
“امی کسی نے نہیں بنانی روٹی… یہ ہی بناۓ گی” اویس نے کہا, اور وہ ڈھیٹ عورت پورا ایک گھنٹہ کچن میں کھڑی رہی لیکن اس نے آٹے کو ہاتھ تک نہ لگایا
“میرا موبائل دیں… میں نے حاتم بھائی کو کال کرنی ہے” ایک گھنٹے بعد وہ اویس کے سر پر جا کر چیخی تھی
“کس خوشی میں… “
“میں نے نہیں رہنا یہاں ” وہ بولی
“کیوں… مجھے روٹی پکا کر دینی پڑ گئی تو یہاں نہیں رہنا… پہلے بھی یہ ہی ہوا تھا نا تمہارے ساتھ… ؟ جب تک شوہر نے ناز نخرے اٹھاۓ تھے تب تک تو اس کے ساتھ رہی تھیں اور جب ہنی مون پیریڈ ختم ہو گیا تو سارا کھیل ہی ختم کر دیا….” اویس کے کہتے ہی اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی
“خبردار…جو اب ایک بھی لفظ اپنی زبان سے میرے ماضی کے بارے میں نکالا تو ؟” وہ اویس پر چڑھ دوڑی
“اچھا… اپنی دفعہ اسقدر دکھ ہوتا ہے تمہیں اور تم جو ہر دوسرے دن رملہ کے ماضی پر انگلی اٹھا کر کھڑی ہو جاتی ہو تب شرم نہیں آتی تمہیں, زرینہ کی کردار کشی کرتے ہوئے حیا نہیں آتی تمہیں… نہ ہی تمہیں موبائل ملے گا اور نہ ہی تم اس گھر سے کہیں باہر قدم نکالو گی… یہیں رہو گی… میرے ساتھ اسی کمرے میں” اویس اس کا موبائل جیب میں ڈال کر باہر نکل گیا
اس نے پیچھے سے وہ غدر مچایا کہ توبہ… رونے, پیٹنے…
“حمزہ…. حمزہ مجھے میرے گھر چھوڑ کر آؤ” وہ مسلسل اس کے کمرے کا دروازہ بجا رہی تھی, وہ کانوں میں ہینڈ فری ڈال کر بہرہ بن گیا
“شمس بھائی… مجھے میرے میکے چھوڑ آئیں پلیز… ” دوسرا شکار… اس نے آگے سے ہاتھ جوڑ دییے
“ٹھیک ہے… میں خود ہی چلی جاؤں گی”بیگ باندھا اور چادر لیکر باہر نکل آئی, رخسانہ اور یاسمین نے ہزاروں منتیں کر کے اسے روکا تھا
اویس رات کو آٹھ بجے آیا, وہ ہنوز کمرے میں بند بیٹھی تھی
“مجھے چھوڑ آئیں ؟” اسے دیکھتے ہی اٹھ کھڑی ہوئی
“کہاں ؟” وہ بولا
“میرے میکے ” وہ بولی
“ذرا یاد کرو تمہارے بھائی نے تمہاری رخصتی کے وقت صاف کہہ دیا تھا کہ وہیں مر کر دفن ہو جانا لیکن یہاں واپس نہ آنا… یاد ہے ؟” اویس پر اس کے آنسوؤں کا قطعا کوئی اثر نہیں تھا, ظاہر ہے اسے ڈیڑھ سال ہو گیا تھا یہ سارا تماشہ دیکھتے… وہ بھی عادی ہو چکا تھا
“اویس… میں نے خود کشی کر لینی ہے” وہ حلق پھاڑ کر چیخی تھی, اویس نے یکدم اس کی گردن دبوچ لی, ایک ہاتھ سے زور سے دروازہ بند کیا اور اسے کھینچ کر بستر پر پھینکا
“تم کیوں مرو گی حرام موت… میں خود ہی تمہیں ٹھکانے لگا دیتا ہوں آج رات” اویس نے انتہائی غصے سے اس کا دوپٹہ کھینچ کر دور پھینکا تھا
“اویس چھوڑ دو مجھے… ” وہ چیخی, اویس نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا
“دراصل میں نے تمہیں واقعی اپنے سر پر بٹھا لیا ہے… آج اپنی وہ غلطی پورہ طرح سدھار لوں گا میں, خبردار جو آج کے بعد یہاں سے کہیں جانے کا نام بھی لیا تو… ” اویس نے دن بھر کا سارا غصہ اس پر نکال دیا تھا
………………………
وہ چھت پر تھا جب ناعمہ اس کے لئے دودھ کا گلاس لیکر آئی, وہ سرہانے پر سر رکھے الٹا لیٹا کسی گہری سوچ میں گم تھا
“دودھ… ” ناعمہ کی آواز سن کر چونک گیا
“طبیعت ٹھیک ہے تیری ؟” ناعمہ نے پوچھا, اس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے گلاس پکڑ لیا
“حمزہ… ایک بات پوچھوں تیرے سے ؟” وہ اس کے پاس بیٹھتے ہوئے بولی
“ہنہ… ” وہ دودھ پیتے ہوئے بولا تھا
“چار مہینے ہو گئے ہیں تیری منگنی کو… اس دوران تو نے کتنی دفعہ ندا سے بات کی ہے ؟” ناعمہ نے پوچھا
“کیوں… کیا ہوا ہے ؟” وہ خالی گلاس اس کی طرف بڑھتے ہوئے بولا
“تجھے تو جیسے پتہ ہی نہیں کہ کیا ہوا ہے ؟” ناعمہ نے کہا
“حمزہ وہ ایک پڑھی لکھی لڑکی ہے… آج کے دور کی… اب ساری لڑکیاں رملہ جیسی نہیں ہوتیں جنہیں شادی سے پہلے منگیتر سے بات کرنے پر اعتراض ہو, وہ کہتی ہے کہ ان چار مہینوں میں حمزہ نے ایک بار بھی مجھے خود سے کال نہیں کی, کبھی ایک میسیج تک نہیں کیا… میں کال کروں تو کوئی دس میں سے ایک دفعہ اٹھاتا ہے, بات یوں کرتا ہے جیسے پتہ نہیں کتنا مصروف ہے, میسیج کرو تو بس ہم ہم کرتا رہتا ہے… وہ مجھ سے پوچھ رہی تھی کہ حمزہ ایسے کیوں کرتا ہے ؟ اس کے ساتھ کوئی زور زبردستی تو نہیں کر رہے آپ لوگ ؟” ناعمہ کہتی چلی گئی, حمزہ نے ایک لمبا سانس بھرا تھا
“حمزہ… ” وہ کچھ دیر بعد بولی
“میں نے بھی تو صبر کیا ہے نا… اپنی آنکھوں کے سامنے زبیر کو اس کا ہوتے دیکھا ہےاور دل سے مان لیا ہے کہ اب وہ ہمیشہ اسی کا رہے گا… پھر تو بھی کیوں نہیں مان لیتا کہ وہ کبھی تیری نہیں ہو سکتی ؟” ناعمہ نے کہا
“چلو مان لیا کہ میں ایک لڑکی ہوں, آج نہیں تو کل اس گھر سے رخصت ہو ہی جاؤں گی, کل کلاں کو ایک شوہر ہو گا, بچے ہوں گے, ان میں مصروف ہو کر میں شاید زبیر کو پوری طرح بھول جاؤں… لیکن تو بھی تو ایک لڑکا ہے نا حمزہ… تو نے بیشک اس گھر کو نہیں چھوڑنا لیکن ندا کو بیاہ کر تو تیرے سنگ ہی یہاں آنا ہے نا… وہ آ گئی تو کیا کرے گا ؟” ناعمہ کہتی چلی گئی
“ناعمہ یار میں کیا کروں ؟ میرا بالکل دل نہیں کرتا اس سے بات کرنے کو, اس کی کال آ جاۓ تو مجھے ریسیو کرنا عذاب لگتا ہے, اس کے میسیج کا ریپلائی میں نہ جانے کتنی دیر سوچ سوچ کر کرتا ہوں, خدا کی قسم اس کے لئے میرے دل میں کوئی جذبہ نہیں ہے… فی الحال تو نہیں… اسے سوچ کر میرے اندر خوشی کی کوئی رمق پیدا نہیں ہوتی” حمزہ کہتا چلا گیا
“پھر منع کر دے اسے ” ناعمہ نے کہا, حمزہ چپ رہ گیا
“اسے کیوں ذلیل کر رہا ہے حمزہ… چار مہینے ہو گئے ہیں تم دونوں کی منگنی کو… وہ اگر دل لگا بیٹھی تو… ؟ ایویں فضول میں اس کی زندگی برباد نہ کر, کوئی کمی تو نہیں ہے اس میں… وقت پر اسے چھوڑ دے تاکہ وہ بھی کسی ایسے کی ہو سکے جو اسے ڈیزرو کرتا ہو” ناعمہ نے کہا, حمزہ نے اپنا سر ہاتھوں میں گرا لیا, تبھی اس کا موبائل بج اٹھا
ندا کی کال تھی
ناعمہ ایک نظر اسے دیکھتے ہوئے نیچے چلی گئ, کافی دیر وہ موبائل سکرین کو دیکھتا رہا… پھر دھیرے سے کال ڈس کنیکٹ کر دی
…………………….
صبح اٹھتے ہی اس نے نسرین کو کال کھڑکا دی تھی…رونے پیٹنے اور بس ایک ہی رٹ… مجھے آ کر لے جائیں
وہ بیچاری یکدم پریشان ہو گئی
“پلیز نسرین باجی… مجھے لے جائیں, میں مر جاؤں گی یہاں… اویس مار دے گا مجھے” وہ مسلسل اسے کال پر کال کر رہی تھی, نسرین بیچاری بھاگی بھاگی علینہ کے پاس آئی, اس کی بیٹی چار مہینے کی ہو گئی تھی
“علینہ… اویس کو کال تو کر ذرا, پوچھ اس سے کہ کیا ہوا ہے ؟” وہ حد درجہ پریشان تھی, علینہ کو شرمین کا راگ سنوا کر اس نے اویس کو کال کروائی
“اویس بھائی… کہاں ہیں آپ ؟” علینہ نے پوچھا
“فیکٹری… ” وہ بولا
“شرمین کی کال آئی ہے نسرین باجی کو… کہہ رہی ہے مجھے لے جائیں…کوئی مسئلہ بنا ہے کیا ؟” علینہ نے کہا
“علینہ بیٹے کوئی مسئلہ نہیں ہے… بس چھوٹا موٹا جھگڑا ہے, نسرین باجی سے کہو پریشان نہ ہوں” وہ بولا, علینہ نے کندھے اچکا دئیے لیکن دوپہر تک شرمین نے کال کر کر کہ نسرین کی ناک میں دم کر دیا
“اگر آپ نے نہیں آنا تو میں طاہر بھائی کو کال کر دیتی ہوں” وہ روۓ جا رہی تھی, نسرین نے پھر اویس کو کال کی
“اویس آخر ہوا کیا ہے ؟” وہ بولیں
“باجی کچھ نہیں ہوا, کہتی اے سی لگوا کر دو… میں نے کہہ دیا کہ ابھی افورڈ نہیں کر سکتا بس…” اویس نے کہا
“اویس… تو ایسا کر اسے دو, تین دنوں کے لئے یہاں چھوڑ جا, ذرا ماحول تبدیل ہو جاۓ گا اس کا… حاتم کو اس کی یہ ضد پتہ چل گئی تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے” نسرین نے کہا
“میں اسے ایک بار یہاں چھوڑ گیا تو وہ واپس نہیں جاۓ گی… آپ کو بھی پتہ ہی ہے کہ وہ کتنی ضدی ہے” اویس نے کہا
“میں سمجھا لوں گی اسے… تو اسے چھوڑ جا میرا بھائی “نسرین بس کسی بھی طریقے سے حاتم کو بیچ میں نہیں آنے دینا چاہ رہی تھی
“اچھا میں گھر جا کر دیکھتا ہوں” وہ بولا اور جب دو بجے گھر واپس پہنچا تو شرمین کے تماشے عروج پر تھے, سارا سامان بیگوں میں ڈالے وہ بس جانے پر تلی ہوئی تھی
“کیا آفت آ گئی ہے تمہیں ؟” اویس کو غصہ آ گیا
“مجھے نہیں رہنا مزید تمہارے ساتھ ؟” وہ آپ جناب بھی بھول چکی تھی
“پھر شادی کیوں کی تھی مجھ سے ؟” اویس اس کے قریب ہوا
“مجھے انگلی بھی لگائی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا” وہ تڑخی, اویس نے دھیرے سے مسکراتے ہوئے اس کے لال بھبھوکا چہرے کو دیکھا پھر دو قدم اور اس کی طرف بڑھا اور اسے بازو سے کھینچ کر سینے سے لگا لیا
“شرمین… آئی لو یو یار” وہ اس کے گالوں کو اپنے لبوں سے چھوتے ہوئے بولا تھا
“چھوڑ دو مجھے… ” وہ یکدم تڑپی تھی
“اچھا سوری… سوری” وہ حتی الامکان اسے ٹھنڈا کرنے کی کوششوں میں تھا
“اویس… مجھ سے دور ہو جاؤ بس, تم نے رات جو وحشیوں والا سلوک کیا ہے نا میرے ساتھ, اس کے بعد قطعی سوری کی کوئی گنجائش نہیں ہے” وہ بپھر گئی تھی
“خدا کا خوف کرو… میں نے کیا وحشی پن دکھا دیا تمہیں ؟” اویس نے اسے گھرکا
“مجھے ایک منٹ بھی مزید تمہارے ساتھ نہیں رہنا… بس” وہ بولی, اویس نے ایک لمبا سانس بھرا تھا
“چلو, تمہیں چھوڑ کر آؤں, لیکن یہ اسقدر بیگ ساتھ نہیں جائیں گے صرف دو, تین جوڑے بس… ” وہ اس کے سارے بیگ کھولتے ہوئے بولا
“اویس میں نے ہمیشہ کے لئے جانا ہے” وہ چیخی
“شرمین… صرف دو جوڑے بس, جانا ہے تو بتاؤ نہیں تو بیٹھی رہو ” وہ بولا, شرمین نے قہر بار نظروں سے اسے گھورا تھا
تڑاخ پڑاخ کرتی وہ اویس کے پیچھے موٹر سائیکل پر بیٹھی تھی, گھر پہنچتے ہی وہ نسرین کے گلے لگ کر جو روئی الامان الحفیظ… اویس سے ہنسی روکنا دوبھر ہو رہا تھا
“میں دو, تین دن بعد آ کر واپس لے جاؤں گا اسے… تب تک سنبھال کر رکھیے گا” وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا
……………….
وہ لیب میں تھا جب اس کا موبائل بجا, کسی انجان نمبر سے کال تھی, اسے دو, تین مریضوں کا ایکس رے کرنا تھا, مریض کو لیٹنے کا اشارہ کرتے ہوئے اس نے سیل کان سے لگا لیا
“ہیلو… ” وہ بولا
“شکر ہے… حمزہ شفیق نے بھی کال اٹھائی ” ندا کی آواز تھی, وہ چونک سا گیا
“مجھے پتہ تھا کہ میرا نمبر تو اٹھائیں گے نہیں آپ… اسلئے تھوڑا دھوکہ کرنا پڑا” وہ بولی
“نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے… میں بس ذرا مصروف تھا” حمزہ نے کہا
“کہاں ہیں آپ ؟” ندا نے پوچھا
“ہسپتال… ” وہ بولا
“حمزہ میں آپ سے ملنا چاہ رہی تھی”وہ بولی
“کہاں ؟” اس نے پوچھا
“جہاں آپ کہیں…” ندا نے کہا
“آپ کہاں ہیں اس وقت ؟” حمزہ نے پلیٹس اٹھاتے ہوئے پوچھا تھا
“آپ کے پیچھے… ” وہ بولی تو حمزہ یکدم کرنٹ کھا کر پلٹا, اس نے دھیرے سے سیل کان سے ہٹایا تھا
“جسٹ ون منٹ… ” پلیٹس اندر رکھ لو وہ باہر نکل آیا
“آئیں… ” وہ اسے لئے ہسپتال کی کینٹین تک آ گیا
ندا نے گرین کلر کے لان کے سوٹ کے ساتھ لان کا ہی دوپٹہ لیا ہوا تھا, آنکھوں پر گلاسز تھے اور چہرے پر ماسک لگایا ہوا تھا, حمزہ نے جوس منگوا لیا
“خیریت تو ہے نا ؟” حمزہ نے پوچھا تھا
“اگر خیریت ہوتی… تو میں اس طرح یہاں آپ کے سامنے نہیں بیٹھی ہوتی” ندا نے کہا, حمزہ بول نہ سکا
“حمزہ… میں ہمیشہ اپنی زندگی میں نمبر ون رہی ہوں, اکیڈمکس میں… سپورٹس میں… مقابلوں میں… پروفیشنل لائف میں… جاب میں… میں نے کبھی زندگی میں سیکینڈ کا لفظ نہیں سنا… ” وہ ذرا سا رکی
“اور میں اپنی آنے والی زندگی میں بھی کسی کی سیکینڈ چوائس نہیں بننا چاہتی حمزہ… ” وہ دھیرے سے بولی تھی
“میں یہاں اپنی امی اور بھائی سے پوچھ کر آئی ہوں… کیونکہ زندگی انہوں نے نہیں گزارنی… میں نے گزارنی ہے… اور میں نے سیکینڈ گریڈ کی زندگی نہیں گزارنی ” وہ بولی تھی
“مجھ سے کیا چاہتی ہیں آپ ؟” اس نے پوچھا
“یہ ہی کہ اگر آپ کہیں اور انٹرسٹڈ ہیں تو اپنی اور میری دونوں کی مشکل آسان کر دیں… کیونکہ ابھی شروعات ہے… محبت ہو گئی تو بہت مشکل ہو جاۓ گی” ندا نے کہا تھا, حمزہ نے ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے اسے دیکھا, پھر دھیرے سے انگلی میں پڑی انگوٹھی اتار کر اس کے سامنے میز پر رکھ دی, ندا کے دل پر ہاتھ پڑا تھا
“سوری… “وہ بس اتنا ہی کہہ سکا, ندا دھیرے سے مسکرا دی
“آپ کی امانت آپ کے گھر والوں کو ہی واپس ہو گی… ” اس نے دھیرے سے کہتے ہوئے میز پر سے انگوٹھی اٹھا لی اور کھڑی ہو گئی
آنکھوں کے گوشے نم ہو رہے تھے…
“خدا حافظ… ” وہ کہتے ہوئے مڑی… کام تو شروعات میں ہی بگڑ گیا تھا…
دل اس ہینڈسم سے لیب ٹیکنیشن پر مچل گیا تھا
………………………….
جاری ہے