No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
اویس اور علینہ دونوں کی شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں, علینہ کا جہیز تقریباً مکمل ہو چکا تھا, باقی دونوں گھروں میں بھی یہ ہی حال تھا لیکن اویس… وہ دن بدن خاموش ہوتا جا رہا تھا, رملہ سے اس کی بات چیت نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی, رملہ نے اویس کی بے توجہی کو شاید اسلئے زیادہ محسوس نہیں کیا کہ وہ بھی شادی کی تیاریوں میں کافی زیادہ مصروف ہو گئی تھی, رخسانہ کی کڑی دھمکی کے باوجود وہ ہر چوتھے دن شرمین کو کال کرتا تھا, رات کا کھانا کھا کر اپنی ہینڈ فری اٹھاتا اور آخری چھت پر جا چڑھتا, وہاں اس نے ایک ٹوٹی پھوٹی چارپائی ڈال رکھی تھی, بس پھر پوری رات ہوتی اور شرمین جی کی باتیں… جو ہر گزرے دن کے ساتھ اسے رملہ سے دور کرتی جا رہی تھیں, شرمین پوری طرح اسے اپنے جال میں پھنسا رہی تھی اور وہ… الو کا پٹھا پھنستا جا رہا تھا
اس کی اس بے توجہی کو گھر کے سبھی افراد نے محسوس کیا تھا… خاص طور پر حمزہ نے
اس رات بھی وہ کھانا ختم کر کے اٹھا تو زبیر نے اسے آواز دے لی
“حمزہ… چل آ ذرا واک کر کے آئیں ” وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا
“خیر ہے.. ؟” حمزہ چونک گیا
“پتہ نہیں… ” زبیر کندھے اچکاتے ہوۓ باہر کی طرف بڑھ گیا, حمزہ ناچار اس کے برابر ہو لیا
“امی ہم ابھی آۓ… ” زبیر نے دروازہ بند کرتے ہوئے زور سے کہا تھا, رخسانہ سمیت سب لوگ اندر اویس کی بریاں ٹانک رہی تھیں
“کیا ہوا ہے ؟” حمزہ نے اس کے پیچھے آتے ہوۓ پوچھا
“رملہ کی کال آئی تھی آج… ” زبیر نے کہا
“کہتی اویس کی طبعیت کیسی ہے اب… ؟ میں چونک گیا…آفس میں رش زیادہ تھا سو میرے منہ سے نکل گیا کہ انہیں کیا ہوا… وہ تو اچھے بھلے ہیں, کہتی کہ اویس پچھلے تین ہفتوں سے اس کی کال ریسیو نہیں کر رہا…بس میسیج کر دیتا ہے کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ہسپتال ایڈمٹ ہوں” زبیر نے بتایا, حمزہ بس اسے دیکھ کر رہ گیا, وہ دونوں چلتے ہوئے سڑک تک آ گئے تھے
“پھر میں نے کہا کہ شادی کے ہنگامے ہیں اسلئے ذرا مصروفیت ہے اور کچھ نہیں… پھر کہتی ایک بات پوچھوں… مجھے علینہ سمجھ کر سچ بولنا, کیا اویس اس رشتے سے خوش ہیں ؟” زبیر نے کہا اور رک گیا
“تو نے کیا کہا…. ؟” حمزہ نے پوچھا
“میں کیا کہتا اسے… کہہ دیا کہ بہت خوش ہے” زبیر نے کہا
“یعنی علینہ تو نہیں سمجھا نا تو نے اسے…. ” حمزہ نے کہا
“تو کیا کہتا… کہ اویس کا بس چلے تو آج انکار کر دے” زبیر بولا
“میں تو تائی امی کے سامنے کچھ کہتا نہیں ہوں کہ غصے ہوں گی, اویس بھائی ہر چوتھے دن حاتم کے گھر پہنچے ہوتے ہیں, اکثر ہی ان کی موٹر سائیکل وہاں کھڑی ہوتی ہے, ہسپتال سے نزدیک ہی تو گھر ہے حاتم کا…ذرا باہر نکلو تو پتہ چل جاتا ہے, کبھی پیزا, کبھی بریانی… حد ہے یار” حمزہ نے کہا
“کیا کروں ؟ امی یا ابو سے بات کرنے کا تو کوئی حال ہی نہیں ہے, انہوں نے اویس کو دو چپیڑیں مار کے چپ کروا دینا ہے, ابو نے ویسے اس کے گلے پڑ جانا ہے, زرینہ کا بھی تجھے پتہ ہے… امی سے کوئی بعید نہیں کہ علینہ کا رشتہ بھی توڑ دیں” وہ کافی پریشان تھا
“اویس بھائی سے بات کریں ؟” حمزہ نے کہا
“کیا بات کریں گے ….وہ صاف مکر جاۓ گا؟” زبیر نے کہا
“ثبوتوں کے ساتھ کریں گے” حمزہ نے کہا
“ابھی وقت ہے زبیر… ایویں ساری زندگی خود بھی ذلیل ہوں گے اور اس بیچاری کو بھی کریں گے, اس کے ہوتے ہوئے اگر انہوں نے شرمین سے عشق پیچا لڑائی تو زیادہ کام خراب ہو گا” حمزہ نے کہا
“ویسے مجھے یقین نہیں آتا کہ اویس جیسے بندے کی آنکھوں پر پٹی کیسے بندھ گئی, اچھا بھلا سوبر, ڈیسنٹ اور سمجھدار لڑکا ہے پھر بھی جان بوجھ کر اندھا بن رہا ہے, پتہ نہیں اس پیسٹری میں نظر کیا آتا ہے اسے ؟” زبیر نے کہا
“کریم ہی نظر آتی ہو گی ” حمزہ دھیرے سے ہنسا
“غلط بات ہے یار… شرمین جیسی لڑکیاں کسی کی بھی نہیں ہوتیں, میرے تیرے جیسے کو اسے دیکھ کر سمجھ آ جاتا ہے کہ اسے طلاق کیوں ہوئی ہو گی لیکن اویس کو نہ جانے کیوں کچھ سمجھ نہیں آ رہا” زبیر نے کہا
“زبیر یار… بس ایک دو دن رک جا, پھر پوری تیاری کے ساتھ اویس پر یورش کریں گے” حمزہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا
لیکن اس سے پہلے کہ وہ دونوں اویس کو گھیرتے… قسمت الٹا ہی داؤ چل گئی
…………………………
اس دن رخسانہ, یاسمین اور علینہ بازار آئی تھیں, کچھ علینہ کی بچی کھچی چیزیں خریدنی تھیں اور کچھ گھر کے لئے سامان وغیرہ لینا تھا, ظاہر ہے لڑکے تو سارے اپنے اپنے کاموں پر ہوتے تھے سو وہ رکشہ کروا کر آئیں, دن کا ایک بج رہا تھا جب وہ لدی پھندی دوبارہ بازار سے سٹاپ تک پہنچیں
“بھائی 97 موڑ جانا ہے… ” رخسانہ نے پوچھا, رکشے والے نے یوں کرایہ بتایا جیسے رکشہ نہیں ہوائی جہاز ہو,کافی بحث مباحثے کے بعد وہ لوگ رکشے میں چڑھ گئیں
“امی… وہ دیکھنا ذرا… وہ اویس بھائی ہیں نا… ” علینہ اور رخسانہ آگے بیٹھی تھیں
“کہاں ؟” رخسانہ کی آنکھوں میں پسینہ بھرا پڑا تھا
“وہ دیکھیں… وہ ہوٹل کے سامنے… ہاۓ اللہ, امی ساتھ تو کوئی لڑکی ہے” علینہ نے ان کے سر پر قیامت پھوڑی تھی, رکشے والے نے رکشہ سٹارٹ کر دیا
“بھائی رک ذرا… رک جا” علینہ فل ٹائم شرلاک ہومز بنی ہوئی تھی
“توبہ ہے… مجھے تو ابھی تک نہیں نظر آیا” رخسانہ تڑخ گئیں
“ہاۓ اللہ امی… وہ لڑکی تو اویس بھائی کے پیچھے بیٹھ گئی ہے بائیک پر… یا خدا… یہ رملہ تو نہیں ہو سکتی… اس سے تو میری ابھی آتے ہوئے بات ہوئی ہے, وہ تو سکول میں تھی” علینہ نے کہا
“ہاں یہ تو اویس ہی ہے… ” رخسانہ کو نظر آ گیا تھا, اویس نے بائیک سٹارٹ کر دی
“بھائی, اس موٹر سائیکل کے پیچھے لگانا جلدی, جلدی ” علینہ جوش میں آ گئی
“باجی اس ریس کے الگ سے پیسے ہوں گے” وہ بولا
“بھائی تو بس رکشہ دوڑا… لے لینا پیسے… جلدی کر جلدی” رخسانہ کو بھی اویس کی موٹر سائیکل صاف نظر آ رہی تھی
پچھلی سیٹ پر شاپروں میں دفن ہوئی یاسمین جھٹکے پر جھٹکا کھا رہی تھیں لیکن اس بیچاری کی سن کون رہا تھا
“جلدی بھائی… موڑ لے, موڑ لے” اویس کی بائیک نے ٹرن لے لیا
“امی ادھر کہاں جا رہے ہیں یہ… ؟” علینہ حیرانی سے بولی, اویس نے بائیک ایک گھر کے سامنے روک دی تھی, رخسانہ بس پتھرائی ہوئی نظروں سے بائیک پر سے اترتی شرمین کو اندر جاتے دیکھتی رہ گئیں
……………………….
“وہ چڑیل تیری موٹر سائیکل پر بیٹھی کر کیا رہی تھی ؟” رخسانہ کی دھاڑ اسے ایک لمحے کو تو ہلا گئی
“اب کیا ہو گیا… کہ اس نے زبان بھی بند کروا دی ہے تیری… میں کچھ پوچھ رہی ہوں تجھ سے اویس” بس اسے تھپڑ لگنے کی کسر رہ گئی تھی
اس گھر کا ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ شو ٹائم کے وقت پورا گھرانہ ہی تماشائی ہوتا تھا
“امی اس کی طبیعت خراب تھی, میں بس اسے… “
“بکواس نہ کر میرے ساتھ… وہ جن حالوں میں تھی وہ طبیعت خرابی والے حال نہیں تھے اویس” رخسانہ نے اس کی بات کاٹ دی
“امی وہ ہسپتال گئی تھی, واپسی پر حاتم کو دیر ہو گئی تو میں نے اسے گھر چھوڑ دیا بس… ” اویس نے کہا
“میں نے تجھے اور اسے ہوٹل کے سامنے دیکھا تھا… ” وہ بولیں
“اسے بس راستے میں جوس پلوایا تھا… ” اویس ان سے نگاہیں نہیں ملا سکا
“اویس… ادھر دیکھ… تو اسے لیکر کھانا کھانے گیا تھا نا… ؟” انہوں نے اویس کو جھٹکا دیا
“امی میں… “
“تائی امی اس کی طبیعت بالکل ٹھیک تھی… کچھ نہیں ہوا اسے, حاتم تو صبح سات بجے کا فیکٹری گیا ہوا تھا, یہ جناب پورے دس بجے اس کے گھر پہنچے ہیں, راجکماری کو ساتھ لیا ہے اور اسے لنچ کروایا ہے… پھر واپس گھر چھوڑا ہے… مجھ سے پوچھیں” حمزہ نے بھانڈہ پھوڑ ہی دیا
“تو میری جاسوسی کرتا ہے… ” اویس نے اسے گھورا
“میں نے کہا تھا اسے… ” رخسانہ نے کہا
“اویس تیری شادی ہونے والی ہے… لچھن دیکھ لے تو اپنے… منڈیا تجھے ہو کیا گیا ہے” رخسانہ تنگ آ گئیں
“امی… میرا دل نہیں مان رہا” وہ دھیرے سے بولا
“پھر ہاں کیوں کی تھی… ؟ ” رخسانہ تپ گئیں
“آپ کو ہی جلدی لگی ہوئی تھی… میں تو راضی ہی نہیں تھا” اس نے سارا مدعا ان پر ڈال دیا
“اویس… میں تیرا منہ توڑ دوں گی سمجھا, رشتہ طے ہونے سے لیکر منگنی تک تو تو راضی تھا, جب سے وہ چھنال دیکھی تب سے تیرا دل نہیں مان رہا… یہ کوئی طریقہ ہے بھلا… ” یاسمین نے کہا, رخسانہ تو بس حق دق اسے دیکھ رہی تھیں
“اویس بھائی… بس کریں, کارڈز چھپ چکے ہیں, آدھے سے زیادہ تو بانٹ بھی دیئے ہیں, سارے دوستوں کو پتہ ہے, رشتے داروں کو پتہ ہے, سوچیں اب انکار ہو سکتا ہے بھلا… ؟ ایک قیامت ٹوٹ پڑے گی رملہ کے گھر والوں پر, اس کی امی کو کچھ ہو گیا تو… ” زبیر کہتا چلا گیا
“تو میں کیا کروں… ؟ اپنی پوری زندگی برباد کر لوں, نہیں دل کرتا میرا رملہ سے شادی کرنے کو, عجیب و غریب سی لڑکی ہے وہ…” اویس پھٹ پڑا
“اچھا… پھر کس سے شادی کرنے کو دل کرتا ہے تیرا… اس بلا سے… جو آج تیری اور کل کسی اور کی… اس کے انہی کرتوتوں کی وجہ سے طلاق ہوئی ہو گی اسے” رخسانہ نے ایک بار پھر ہمت جمع کی تھی
“امی… میں نے رملہ سے شادی نہیں کرنی” اس نے کہہ ہی دیا
“تیرا تے پیو وی کرے گا” رخسانہ بھی ڈٹ گئیں
“فیر پیو دی ہی کرا دیو …” وہ ہر حد پار کر گیا
“اویس… ” رفیق صاحب اس پورے معاملے میں پہلی بار دھاڑے تھے, ایک لمحے کو تو اویس کانپ گیا
“آج کے بعد میں تیرے منہ سے انکار نہ سنوں… شادی تیری وہیں ہو گی جہاں طے ہے سمجھا, رخسانہ اور میں کل ہی جا کر حاتم اور اس کی بہن سے معذرت کر کے آتے ہیں کہ ہم علینہ کا رشتہ وہاں نہیں کر سکتے” انہوں نے انتہائی سرد لحجے میں کہا
شاید زندگی میں پہلی بار وہ اپنی بیوی کے ساتھ تھے
“ابو… ” اویس دنگ رہ گیا
“اس کا موبائل ضبط کرو, شادی تک یہ کسی سے بات چیت نہیں کرے گا, حمزہ اس پر پوری نظر رکھ… جیسے ہی یہ حاتم والی گلی میں داخل ہو, اس کی ٹانگوں میں گولی مار دے” وہ بولے
“علینہ کا رشتہ ختم نہ کریں… میں آج کے بعد نہیں جاؤں گا حاتم کے گھر” مری مری سی آواز میں کہتا ہوا وہ باہر نکل گیا تھا
…………………………
وہ لوگ آج رملہ کا سامان اٹھانے آۓ تھے, اس کی ماں اور بھائی نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر جہیز دیا تھا, پہلے تو آنے والوں کو کھانا کھلایا… پھر سامان اٹھوایا, حمزہ اور زبیر دونوں آۓ تھے, شمس بھی ساتھ تھا
“آنٹی جی دو منٹ رملہ کو بلا دیں… ” زبیر نے کہا
“میں باہر ہوں… ” حمزہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے باہر نکل گیا, شمس نے رملہ کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس کے ہاتھ میں پانچ ہزار کا نوٹ پکڑا دیا
“جیتی رہ… پریشان نہیں ہونا” وہ بولا, رملہ نے ایک نظر زبیر کو دیکھا جیسے کچھ پوچھ رہی ہو
“سب ٹھیک ہے… بے فکر ہو جائیں” وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا
قیامت تب آئی جب علینہ کا سامان اٹھانے ساتھ شرمین جی بھی چلی آئیں
فیروزی رنگ کا کھلے سے گھیر کا پلازو اور ساتھ انتہائی شارٹ سی شرٹ جس کے ساتھ اس نے کئی انچ لمبی پنسل ہیل پہن رکھی تھی, میک اپ اتنا کہ جواب نہیں… بال ہمیشہ کی طرح کھلے
“کیسی ہیں آنٹی جی… ” رخسانہ کو زور سے جپھی ڈال کر ملی, بس گالوں پر چمی کی کسر رہ گئی تھی
“ابھی تک تو زندہ ہوں ” رخسانہ کا بس نہیں چل رہا تھا اس کے بال کاٹ دیتیں, حتی الامکان اویس کو اس کے سامنے آنے سے روکا گیا لیکن وہ بھی نظر بچا کر اس کے کمرے میں جا ہی گھسی, اویس واش روم سے نکلا تھا, اسے اپنے سامنے دیکھ کر نظریں چرا گیا
“بھاگنے کی کوشش کر رہیں ہیں ؟” شرمین نے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے پوچھا
“بھاگنے میں ہی عافیت ہے” وہ بولا
“میں بھاگنے ہی نہ دوں تو ؟” وہ بڑی بے باکی سے اس کے قریب آ گئی, اس کی خوشبوئیں اویس کی سانسوں میں گھل گئیں
“شرمین… پلیز” وہ دو قدم پیچھے کو ہوا تھا
“بس… ہار مان لی… ؟” وہ چار قدم آگے کو آئی تھی
“اویس… اتنی جلدی ہار مان لی آپ نے ؟” شرمین اور اویس میں فاصلہ نہ ہونے کے برابر تھا, وہ بول نہ سکا, اس کی طرف دیکھ بھی نہ سکا
“اویس… میری طرف دیکھیں” شرمین نے دھیرے سے کہا, اویس نے اس کی آنکھوں میں جھانکا
“میں آپکے ساتھ ہوں” وہ دھیرے سے اس کے ہاتھوں کی انگلیوں کو چھو کر باہر نکل گئی تھی
اویس اس کے سحر کے زیر اثر کھڑا رہ گیا
…………………………
ڈھولکی رکھی جا چکی تھی, پرسوں اویس اور علینہ کی مہندی تھی, زبیر اور حمزہ پر انتظامات کی ساری ذمہ داری تھی, مہندی کا فنکشن گھر پر ہی رکھا گیا تھا
اویس پر سب کی کڑی نگرانی تھی, رخسانہ پر یقین تھیں کہ ایک دفعہ اس کی شادی ہو جاۓ تو سب کچھ سیٹ ہو جاۓ گا
وہ اپنے کمرے میں تھا جب رخسانہ اس کے پاس آئیں, اٹواٹی کھٹواٹی لیکر پڑا تھا, کل اس کی مہندی تھی
“اویس…. ” انہوں نے اس پر سے کمبل کھنچا
“کیا ہے اب… ؟” وہ ستا پڑا تھا
“ایسے کیوں کر رہا ہے ؟” وہ بولیں
“امی جائیں یہاں سے… اب بھلا میں نے کچھ کہا ہے” وہ کروٹ بدل گیا
“اویس پتر تجھے تو میں سب سے سمجھدار اور عقلمند سمجھتی تھی, تو تو میرا سب سے سیانا پتر ہے, ایسے تھوڑی کرتے ہیں, عورت کی خوبصورتی ہمیشہ میک اپ میں, کھلے بالوں میں, فیشن ایبل کپڑوں میں تو نہیں ہوتی پتر… اس کی خوبصورتی ڈھکی چھپی بھی تو ہو سکتی ہے نا, رملہ جیسی لڑکیاں خوش قسمتوں کو ملتی ہیں اویس اور تو بہت خوش قسمت ہے, عورت کا کردار ہی اس کی خوبصورتی ہوتا ہے” رخسانہ کہتی چلی گئیں
“اچھا ٹھیک ہے” وہ بولا
“اویس… پتر دل میلا نہیں کرتے” وہ بولیں, اویس نے چپ چاپ کمبل اوپر تک اوڑھ لیا, رخسانہ کچھ دیر بعد باہر نکل گئیں
“رخسانہ… ” رفیق صاحب نے انہیں آواز دی تھی. “اویس ٹھیک ہے اب… ؟” انہوں نے پوچھا
“پتہ نہیں… اللہ خیر رکھے” وہ پریشان ہوئی پڑی تھیں
“عین ٹائم پر انکار نہ کر دے… ” رفیق نے کہا
“کوئی خدا دا خوف کر… مانا کہ کالی زبان ہے تیری پر بول تو اچھا بول سکتی ہے نا ” وہ بولیں
“بھابھی… ” اندر آئیں تو یاسمین نے گھیر لیا
“حاتم کی بہنیں کل مہندی پر تو نہیں آئیں گی نا… ؟” وہ بھی ڈر رہی تھیں
“نا آئیں تو اچھا ہے” رخسانہ نے کہا
“بھابھی کل اویس کی بارات پر تو ضرور آئیں گی” وہ بولیں
“پھر کیا کروں میں… ؟ اب منع تو کر نہیں سکتی” وہ بولیں
“اللہ کرے اس شرمین کو تو کچھ ایسا ہو جاۓ کہ دو, تین دن بستر سے ہی نہ اٹھ سکے” یاسمین نے کہا
“امی… اگر ان کی کال آئی نا مہندی پر آنے کے لئے تو کہہ دیں ہمارے ہاں رواج نہیں ہے… بس گل ختم ” زرینہ ان کے کان میں گھسی
“اور بارات… بارات کا کیا بنے گا ؟” وہ بولیں
“بارات کا مجھ پر چھوڑ دے, میں اس چڑیل کو اویس کے پاس بھی نہیں پھٹکنے دوں گی” وہ بولی
“اچھا… وہ کیسے ؟” رخسانہ نے پوچھا
“میں نے کہا نا… ٹینشن نہ لے” زرینہ نے سینہ پھلا کر کہا, رخسانہ بس اسے دیکھ کر رہ گئیں
……………………………
جاری ہے
