No Download Link
Rate this Novel
Episode 20
شرمین… میں آخری بار پوچھ رہا ہوں تجھ سے… واپس جانا ہے یا نہیں ؟” حاتم نے پوچھا تھا, وہ پاؤں اوپر کیے صوفے پر بیٹھی تھی
“نہیں… ” وہ بولی
“طلاق لینی ہے… ایک بار پھر ؟” حاتم نے پوچھا
“ہاں… ” وہ ہٹ دھرمی سے بولی تھی
“شرمین مجھے افسوس ہوتا ہے تیرے اوپر… پتہ نہیں تو کس پر چلی گئی ہے, تجھے دراصل عادت پڑ گئی ہے یہ نکاح اور طلاق والا کھیل کھیلنے کی… شادی کیوں کی تھی پھر اس سے ؟” حاتم پھٹ پڑا
“مجھے نہیں پتہ تھا کہ شادی کے بعد وہ یہ سب کرے گا” وہ بولی
“کیا کیا ہے اس نے تیرے ساتھ ؟” حاتم دھاڑا
“گلا دبایا ہے میرا… “
“اس نے تیرا گلا دبایا ہوتا تو تو میرے سامنے بیٹھی یوں بکواس نہ کر رہی ہوتی ” وہ بولا
“مجھے کوئی ایک مضبوط وجہ بتا کہ واپس کیوں نہیں جانا… تشدد کرتا ہے وہ تجھ پر ؟ مار پیٹ کرتا ہے ؟ گالیاں دیتا ہے تجھے ؟ گدھوں کی طرح کام کرواتا ہے ؟ نان نفقہ پورا نہیں کرتا ؟ تنگی میں رکھتا ہے ؟ شک کرتا ہے ؟ کیا کرتا ہے وہ تیرے ساتھ ؟” حاتم کہتا چلا گیا, شرمین بول نہ سکی
“وہ اگر تجھے کہتا ہے کہ اپنا کمرہ خود صاف کر تو ہاتھ ٹوٹے ہوئے ہیں تیرے… اپنا کام خود کیوں نہیں کرتی ؟ شادی کے دو سال بعد بھی تم دونوں کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہے یہ حق ادا کرتی ہے تو اس کا…شرمین اگر یہ تیرے ساتھ پہلی دفعہ ہو رہا ہوتا تو شاید میں آنکھیں بند کر کہ تجھ پر اعتبار کر لیتا, صرف تیری ہی سنتا… تیری ہی مانتا, لیکن یہ سارا تماشہ میں چھ سال پہلے بھی دیکھ چکا ہوں, تب بھی ایسے ہی کرتی تھی تو… تب بھی تجھے یہ ہی مسئلے مسائل تھے, چل یہاں تو کام کرنا پڑتا ہے وہاں کیا تھا… ؟ تین تین کام والیاں رکھی ہوئی تھیں انہوں نے, کوئی دس چکر لگاۓ تھے وقاص نے” حاتم بپھر گیا
“زبردستی کرتا تھا وہ میرے ساتھ… ” شرمین کے کہتے ہی حاتم کا تھپڑ اس کا گال رنگ گیا
“تجھے پتہ بھی ہے کہ زبردستی کیا ہوتی ہے ؟ ” وہ دھاڑا تھا, شرمین ساکت بیٹھی رہ گئی
“وہ تجھے نکاح کر کے لیکر گیا تھا, بیوی تھی تو اس کی… وہ تیرے قریب آتا تھا تو یہ زبردستی تھی… ؟ تجھے پتہ بھی ہے شرمین کہ ایک مرد کی عورت کے ساتھ زبردستی کیا ہوتی ہے ؟ اگر تیرے ساتھ اس نے زبردستی کی ہوتی تو اب تک تیری ہڈیاں بھی سڑ چکی ہوتیں قبر میں…. زبردستی” حاتم کہتا چلا گیا
“شرمین… میری ایک بات کان کھول کر سن لے, بس بہت ہو گیا تماشہ… یا تو اپنے گھر واپس چلی جا… یا پھر اپنا حصہ لے اور میرے گھر سے دفع ہو جا” وہ بولا
“حاتم… یتیم بہن ہے تیری, ماں باپ سر پر نہیں ہیں” نسرین نے کہا
“تو پھر ٹھیک ہے… اسے رکھیں اپنے پاس, میں الگ ہو جاتا ہوں ” وہ بولا اور کمرے سے باہر نکل گیا, اویس کا نمبر ملا کر اس نے موبائل کان کو لگایا تھا
“ہیلو… ” اویس کی آواز سنتے ہی وہ بپھر گیا
“بندے کا پتر بن کر اپنی بیوی کو واپس لیکر جا… مجھے نہیں پتہ کیسے… بس لیکر جا… کل شام تک مجھے یہاں اس کی شکل نظر نہ آۓ… اور اگر نہیں لیکر جانی تو اپنے ماں باپ سے کہہ کہ آ کر علینہ کو لے جائیں…ایسے تو ایسے ہی سہی” اس نے غصے سے کہا اور کمرے میں آ گیا, علینہ اپنی بچی کو گود میں لئے بیٹھی تھی, حاتم ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے بستر پر گر گیا
“مجھے پانی پلا دو… ” وہ بولا, علینہ نے بچی کو سہارا دے کر بٹھایا اور اسے پانی کا گلاس پکڑا دیا, گلاس پکڑتے ہوۓ حاتم چونک گیا, گلاس لرز رہا تھا, اس نے فوراً علینہ کی طرف دیکھا
ستا ہوا چہرہ… سرخ آنکھیں, کپکپاتے ہونٹ, زرد رنگت… لرزتی انگلیاں
“تمہیں کیا ہوا ؟” وہ بولا
“حورین کا کیا بنے گا ؟” وہ بولی تو آنسو نکل پڑے, حاتم نے ایک لمبی سانس بھری تھی
“علینہ میں تمہیں شکل سے جلاد نظر آتا ہوں, مجھے نہیں پتہ کہ میری ایک چھوٹی سی بچی ہے… ” وہ تڑخ کر بولا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی, حاتم نے تاسف سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پانی کا گلاس ایک طرف رکھا اور اسے خود سے لگا لیا
“تم پاگل ہو کیا ؟ تمہیں کچھ کہا ہے میں نے ؟ مجھے تمہیں اور حورین کو لیکر الگ بھی ہونا پڑا تو ہو جاؤں گا لیکن ان دونوں بے غیرتوں کے سر چڑھ کر ایویں چھوڑ تھوڑی نہ دوں گا… کیا مجھے نہیں پتہ کہ میری بیوی بے قصور ہے…” وہ بولا, علینہ کو روتے دیکھ کر بچی بھی رونے لگ گئی تھی
“وہ دیکھو… وہ بھی رونے لگ گئی ہے… ” حاتم نے اسے گود میں لے لیا
“ڈراوا دینا پڑتا ہے علینہ… شاید ڈراوے سے ہی اسے عقل آ جاۓ” حاتم نے کہا تھا
………………………………
وہ بیچارہ منتیں کر کر کہ ہار گیا…لیکن رملہ نے اسے معاف نہیں کیا, کیسے کر دیتی ؟ کیوں کر دیتی… ؟ ایک اشرف المخلوقات ہوتے انسان کو جب جانوروں کی طرح مارا جاۓ تو معافی کیونکر ممکن ہو ؟
“یاسر میں اسے الگ گھر لے دیتا ہوں… میں ساری زندگی اس کے آگے اف تک نہیں کروں گا, کبھی انگلی تک نہیں اٹھاؤں گا اس پر بس اسے کہو ایک بار مجھے معاف کر دے… یاسر مجھ سے غلطی ہو گئی مجھے معاف کر دے” وہ بلا ناغہ یاسر کے حضور پیش ہو رہا تھا
“یہ بھی اچھا ہے… الگ گھر لیکر دے سکتا ہے لیکن اس گھر میں رکھ کر اس کی حفاظت نہیں کر سکتا, اس کی عزت نہیں کروا سکتا” یاسر اسے دیکھتے ہی بپھر جاتا تھا
“وہ سارا گھر اسی کا ہے یاسر… سارا گھر, کوئی نہیں رہے گا وہاں سواۓ اس کے… وہ جو کہے گی وہی ہو گا, جیسے کہے گی ویسے ہی ہو گا… اسے کہو بس کر دے, معاف کر دے” روتا جاتا تھا, بلکتا جاتا تھا
اس دن بھی رملہ کی سٹیٹمنٹ ریکارڈ ہونی تھی, وہ بھری عدالت کے سامنے اس کے پیروں میں گر گیا
“اللہ کے لیے مجھے معاف کر دو, رملہ اللہ کے لئے… میں بہت برا ہوں, بہت غلط کیا میں نے… جو غلط کیا وہ ٹھیک بھی نہیں ہو سکتا… میرے پاس سواۓ معافی کے اور کچھ نہیں ہے… معاف کر دو, خدا کے لئے معاف کر دو” وہ بلکتے ہوۓ کہہ رہا تھا, جج نے ایک ایکسٹینشن دے دی تھی
اس رات یاسر دوبارہ رملہ کے پاس آیا, دو ماہ ہو چلے تھے
“رملہ پتر… اگلی تاریخ پر جج نے فیصلہ سنا دینا ہے, پتر میں آج بھی تیرے ساتھ ہوں… اور کل بھی… اور ہمیشہ تیرے ساتھ رہوں گا, تو اور تیرے بچے میرے اوپر کبھی بھی بوجھ نہیں ہوں گے, ساری عمر میں تیرا اور تیرے بچوں کا خرچہ اٹھانے کے لئے تیار ہوں… لیکن پھر بھی… اگر تیرے دل میں اس کے لئے کوئی گنجائش نکلتی ہے تو مجھے بتا دے, میں تو بھائی ہوں, لوگ مجھے جوشیلا کہہ دیتے ہیں… لیکن پتر زندگی تیری ہے, فیصلے کا اختیار بھی تیرا ہی ہے, تو اگر اس سے الگ ہونا چاہے گی تو بھی میں تیرے ساتھ ہوں… اور اگر اسے معاف کرنا چاہے گی تب بھی میں تیرے ساتھ ہوں” وہ کہتا چلا گیا تھا
“تیرے پاس پورا ایک ہفتہ ہے رملہ…. سوچ لے, سمجھ لے, دونوں راستے تیرے آگے ہیں, ایک بات کہہ دیتا ہوں تجھے, تیری مشکل ذرا آسان ہو جاۓ گی… اپنی پچھلی پوری زندگی پر ایک نظر ڈال لے… اگر کوئی ایک لمحہ, کوئی ایک بات, کوئی ایک خوبی ایسی ہے جس کے صدقے تو اسے معاف کر سکے… تو سوچ لے…کل کلاں کو یہ نہ کہنا کہ بھائی نے میر گھر اجاڑ دیا ” وہ کہہ کر اٹھ گیا تھا
اور شائد اس سے زیادہ کڑا وقت کسی لڑکی کی زندگی میں اور کوئی نہیں ہوتا… اس نے ایک نظر اپنے برابر میں لیٹے دونوں بچوں پر ڈالی تھی
آخر ایک عورت کیا کرے اس نہج پر آ کر.. ؟ جبکہ وہ ایک ماں بھی ہو
آخر کیوں مرد ہاتھ اٹھاتے ہوئے یکلخت سب کچھ بھول جاتا ہے…آخر کیوں ہمیشہ معاف کرنا عورت کے حصے ہی آتا ہے… ؟ آخر کیوں ہمیشہ مظلوم وہی ہوتی ہے ؟
دھیرے سے آنکھیں بند کرتے ہوئے اس نے بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگائی تھی. آنسوؤں کے قطرے خاموشی سے اس کے گالوں پر بہہ نکلے
کیا واقعی تمہاری گزری ہوئی زندگی میں کوئی ایسا لمحہ ہے جس بدلے تم اسے معاف کر سکو ؟
اور اس دکھ کی انتہا کوئی کیسے سمجھے جب شوہر نامی اس مرد کے ساتھ گزاری زندگی میں سے بیوی کوئی ایک بھی ایسا لمحہ نہ ڈھونڈ سکے…کوئی ایسا پل یاد نہ آۓ جس کے بدلے اسے معاف کیا جا سکے, کوئی ایسا دن یاد نہ آۓ جو جنت بن کر گزرا ہو, کوئی ایسا لمحہ نہ گزرا ہو جسے سوچ کر دل میں محبت کی کوئی رمق پیدا ہو جاۓ… کوئی ایسا بول نہ یاد آۓ جس کے صدقے آپ اپنے بچوں کے باپ کو معاف کر سکیں
حقیقت یہ ہی ہے… شوہر کے ظلم اور زیادتیوں کی انتہاؤں کو جھیلتی ہوئی لڑکیاں جب بے بس ہو کر باپ کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہیں اور گزری ساری زندگی کے رنج و الم سناتی ہیں… تو کوشش کے باوجود وہ اپنے ماضی میں سے کوئی ایسا لمحہ نہیں ڈھونڈ پاتیں جو ان کی زندگی کو دوبارہ سے پہلے جیسا کر سکے… کیونکہ جو شخص اس لڑکی کا نگہبان بن کر اسے پورے حق سے بیاہ کر لیکر جاتا ہے… ساری عمر بس وہی اس کا نہیں ہو پاتا
گلہ سسٹم سے نہیں ہے, سسرال سے نہیں ہے, ساس, سسر سے نہیں ہے, نندوں سے نہیں ہے… درانیوں اور جیٹھانیوں سے نہیں ہے… گلہ صرف اور صرف اس مرد سے ہے جو شوہر ہے… جو شوہر ہو کر بھی اپنی بیوی کی ڈھال نہیں بنتا, جو سب کی سنتا ہے سواۓ اس کے, جسے سب پر اعتبار ہے سواۓ اس کے
کتنا آسان ہوتا ہے نا یہ کہنا کہ… ماضی میں جو ہوا وہ بھول جاؤ… کیسے بھول جاؤ ؟ بیوی کیسے بھول جاۓ شوہر کی گالی… شوہر کے طعنے… شوہر کا تھپڑ… اور کتنی دفعہ بھول جاۓ, ایک دفعہ… دو دفعہ… یا ہر دفعہ… اور تاریک ترین لمحہ وہ ہوتا ہے جب ایک پڑھا لکھا شوہر اپنی پڑھی لکھی بیوی پر ہاتھ اٹھاتا ہے… جاہل کو تو کہیں کہ شعور نہیں… کیا پڑھے لکھے کو بھی شعور نہیں ؟
بیچاری بیوی رل جاتی ہے ساری عمر سسرال میں تگ و دو کرتے کرتے… آخر کس لئے ؟ صرف اس ایک شخص کو اپنا بنانے کے لیے… اور وہ ہی اس کا نہیں بن پاتا… اور جو ہزاروں میں سے ایک پہلے دن سے شوہر کو اپنا بنا لے… اسے ویسے ہی معاشرہ نہیں جینے دیتا, اس کے شوہر کو جو پہلا طعنہ ملتا ہے وہ ہوتا ہے… رن مرید
لیکن… یہ کونسا حقیقت ہے… ؟ یہ تو کہانی ہے, اسے بھلا اتنا تلخ کیوں کریں ؟ اگر کہانیاں بھی تلخ ہونے لگیں تو پھر ان میں اور حقیقی زندگی میں فرق کیا رہ جاۓ گا…؟
سو اس کہانی میں رملہ حسین کو شائد وہ پل ڈھونڈ لینا چاہیے جس کے صدقے وہ اپنے شوہر کو معاف کر سکے…
………………………….
اس کے کیبن کے دروازے پر دستک ہوئی تھی… نظر اٹھا کر دیکھا تو اویس کھڑا تھا, اس نے سر کا اشارہ کرتے ہوئے اسے اندر آنے کا کہا
“کیسا ہے دوست ؟” اویس نے اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا
“کبھی تھا تو… میرا دوست ” حاتم نے کہا, اویس نے سر جھکا لیا
“میں آج شام کو شرمین کو لینے آؤں گا” اویس نے کہا
“پھر… ؟” حاتم نے کہا
“حاتم… میں نہیں کہتا کہ میں کوئی بہت اچھا انسان ہوں… لیکن شائد اتنا برا بھی نہیں ہو جتنا وہ سمجھنے لگ گئی ہے, وہ مجھے میری آخری حد پر پہنچا دیتی ہے تب میری آواز اس کے آگے اونچی ہوتی ہے, خدا کی قسم میں نے آج تک کبھی اس کی انتہائی بدتمیزی کے باوجود اس پر ہاتھ نہیں اٹھایا… میں اسے نہیں چھوڑوں گا… اس ڈر سے نہیں کہ اسے چھوڑا تو علینہ اجڑ جاۓ گی… بلکہ اسلئے کہ وہ میری بیوی ہے اور اسے سدھارنا میرا فرض ہے… ” اویس کہتا چلا گیا
“مجھ سے کیا چاہتا ہے ؟” حاتم نے کہا
“بس یہ کہ میں اسے جیسے مرضی لیکر جاؤں… تو بیچ میں نہیں آۓ گا, وہ چاہے جتنا مرضی ڈرامہ کرے, تھوڑی دیر کے لئے تو خود کو روک کر رکھے گا, میں جانتا ہوں حاتم وہ تیرا خون ہے… بہن ہے, عزت ہے… لیکن یقین کر وہ اب میری بھی عزت ہے” اویس نے کہا
“پھر واپس آ گئی تو …؟” حاتم نے کہا
“میں پھر لے جاؤں گا…کتنی بار آۓ گی ؟ جب دیکھے گی کہ پیچھے سے کوئی سپورٹ نہیں ہے تو خود ہی ٹھنڈی پڑ جاۓ گی” اویس نے کہا
“حاتم… وہ میری بیوی ہے, میں جیسے مرضی اس سے اپنا حق وصول کروں… وہ جتنا مرضی تیرے آگے مجھے وحشی درندہ ثابت کرے… بس کچھ عرصے کے لیے تو اپنے کان بند رکھے گا, دراصل اسے عادت پڑ گئی ہے صرف اور صرف اپنی منوانے کی… مجھے اس کی یہ عادت چھڑوانے میں کچھ عرصہ تو لگے گا… بس اس عرصے میں تو خاموش رہے گا” اویس نے کہا, حاتم سمجھ گیا تھا کہ وہ کیا کہنا چاہ رہا ہے
یہ جو میکہ ہوتا ہے نا… یہ کسی بھی عورت کی سب سے بڑی پشت پناہی ہوتا ہے اور شرمین اس پناہ کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی تھی… اویس بس کچھ عرصے کے لیے اس پناہ کو اس کے لئے ختم کر دینا چاہتا تھا
شام کو وہ اسے لینے چلا آیا… اکیلا
حاتم گھر پر ہی تھا
“شرمین کہاں ہے ؟” اس نے علینہ کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا
“اندر… کمرے میں ” وہ بولی, اویس سر ہلا کر اندر چلا گیا, وہ موبائل پکڑے کانوں میں ہینڈ فری کان لگاۓ لیٹی تھی
“چلو اٹھو… گھر چلیں” اویس نے کہا
“مجھے نہیں جانا” وہ بولی
“شرمین… بس کرو, بہت ہو گیا” اویس نے کہا
“یہ ہی تو… بہت ہو گیا, میری جان چھوڑ دو” وہ بولی
“اگر جان ہی چھڑوانی تھی تو شادی کیوں کی تھی پھر مجھ سے ؟ اویس نے کہا
“غلطی ہو گئی مجھ سے… ” وہ بولی
“تو بس پھر اب پوری زندگی اس غلطی کا خمیازہ بھگتو… کچھ غلطیوں کا کوئی کفارہ نہیں ہوتا… اٹھو, چلو میرے ساتھ” وہ بولا
“اویس… میرے کمرے سے دفع ہو جاؤ, مجھے طلاق چاہئے ” وہ پھنکار کر بولی تھی, اویس چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر دھیرے سے آگے بڑھا, شرمین اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوئی
“چلو… ” اویس نے اس کی کلائی پکڑی تھی
“تمہیں الگ رکھ لوں گا… سب کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو نہ رہو”وہ بولا
“مجھے سرے سے تمہارے ساتھ ہی نہیں رینا” وہ بولی
“کس وجہ سے… ؟” وہ اس پر جھکتے ہوئے بولا
“میں تمہیں کوئی وجہ دینا ضروری نہیں سمجھتی… میری مرضی” وہ ہٹ دھرمی سے بولی تھی, اویس چند لمحے اس کی آنکھوں میں دیکھتا رہا, پھر ایک دم اس کے گلے میں پڑا شیفون کا باریک سا دوپٹہ کھنچا اور اس کی دونوں کلائیاں جکڑ لیں
“اویس…. چھوڑو مجھے” وہ تڑپی
“بکواس بند کر لو” اویس نے اس کی دونوں کلائیاں مضبوطی سے دوپٹے سے باندھ دیں
“اویس… ” وہ حلق کے بل چیخی تھی, اویس نے باقی کا دوپٹہ اس کے منہ کے گرد لپیٹ دیا, پھر اسے بازو سے پکڑا اور باہر لے آیا
“نسرین باجی… اس کا بیگ تیار کر دینا, میں کل فیکٹری سے گھر جاتے ہوئے لے جاؤں گا” وہ اسے ساتھ لئے باہر نکلا تھا
“علینہ اس کی چادر لاؤ… ” اویس نے کہا, شرمین کسی بھوکی شیرنی کی طرح اس کی گرفت سے اپنا بازو چھڑوا رہی تھی, علینہ اس کی چادر لے آئی, اویس نے چادر اس کے اوپر ڈال دی تھی, حاتم نے اپنے کمرے کی کھڑکی میں سے اسے دیکھا تھا, ایک لمحے کے لئے تو دل ڈوب سا گیا تھا
“پریشان مت ہونا… سب ٹھیک ہے” وہ علینہ کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے وہاں سے لے گیا تھا
……………………………..
“میں بالکل دل نہیں کرتا اسے معاف کرنے کو… اور شائد مجھے اسے کبھی معاف نہیں کرنا چاہیے, شاید کسی کسی بھی بیوی کو ایسے شوہر کو معاف نہیں کرنا چاہیے جس نے اس کی عزت نفس مجروح کی ہو… عورت کے لئے عزت سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہوتا… محبت بھی نہیں… لیکن…” وہ کہتے کہتے رکا, یاسر اس کے سامنے بیٹھا تھا
“وہ رویا ہے میرے لئے… دل سے, وہ تین دن اور تین راتیں ایک ہی پینٹ شرٹ میں میرے سرہانے کھڑا رہا تھا, پورے تین ماہ اس نے مجھے بستر پر بٹھا کر میری تیمارداری کی ہے, کبھی اف تک نہیں کیا… دن کو دفتر جاتا تھا اور رات کو میرے لیے جاگتا تھا….” وہ یاسر کے سامنے بیٹھ کر کہتی چلی گئی
“یاسر بھائی گزرے دو سالوں میں اس نے میرے ساتھ بہت زیادتیاں کی ہیں…سب سے بڑھ کر شک کیا ہے اور اس شک میں آ کر میرے اوپر ہاتھ اٹھایا ہے, اسے کبھی معاف نہ کرنے کے لئے وہ ایک رات ہی کافی ہے جب اس نے مجھ پر شک کر کے مجھے جانوروں کی طرح مارا لیکن… ” وہ ذرا سا رکی
“اس نے کبھی مجھے کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی, میری ہر ضرورت کو پورا کیا ہے, میرا ہمیشہ بہت خیال رکھا ہے, مجھے کبھی تنگی نہیں ہونے دی… میں جانتی ہوں وہ مجھ سے بہت محبت کرتا ہے… آج بھی کرتا ہے, مجھے یقین ہے آج اگر وہ رو رہا ہے تو وہ سچ میں نادم ہے… میں چاہوں تو اسے کبھی معاف نہ کروں… اور اسے معاف نہ کرنے پر مجھ سے کوئی مواخذہ نہیں ہو گا لیکن… شاید اس کی بہت ساری زیادتیوں کے مقابلے اس کی کچھ کچھ اچھائیاں بھی ہیں اور ان اچھائیوں کے صدقے اسے ایک موقع اور سہی…” وہ بولی تھی
“اور اگر یہ اچھائیاں نہ بھی ہوتیں نا یاسر بھائی… تو شائد میں پھر بھی اسے ایک موقع دے دیتی… ان دو بچوں کی خاطر جو اب تک باپ کے لمس سے محروم ہیں” وہ رو رہی تھی
اور ایسا ہی ہوتا ہے… بیوی ایک موقع دے ہی دیتی ہے…. اس شوہر کو بھی جس نے اس کی عزت کو مٹی کر دیا ہو… بھلا کیوں… ؟ کیونکہ وہ بیوی بننے سے پہلے ایک عورت ہوتی ہے… اپنے سینے میں ایک انتہائی نرم سا دل رکھے ہوئے ایک عورت… جو جس بھی روپ میں ہو… ماں, بہن, بیوی, بیٹی… انت میں معاف کر ہی دیتی یے
ایک عورت کے لئے عزت اور وفا سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ہوتا… محبت بھی نہیں.. لیکن انت میں وہ ان دونوں چیزوں کا قتل بھی معاف کر دیتی ہے کیونکہ شوہر کی ساری زیادتیاں ایک طرف… اور ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لینا ایک طرف… دو آنسو بہا دینا ایک طرف… بیوی کا ماتھا چوم کر بس اتنا کہہ دینا ایک طرف کہ… آئی لو یو… بس…. سب ختم
لیکن… ذرا سوچیں… وہ عورت جو معاف نہیں کر پاتی… وہ ماں, وہ بہن, وہ بیوی, وہ بیٹی… جو انت میں بھی معاف نہیں کر پاتیں… کیا اس کے سینے میں دل نہیں ہوتا… ؟ ہوتا ہے… بالکل ہوتا ہے لیکن وہ نرم سا گوشت کا لوتھڑا معافی کا وقت آتے آتے ایک پتھر بن چکا ہوتا ہے
پھر بھلے ہی شوہر انگاروں پر ہی کیوں نہ چلے… دیواروں سے سر ہی کیوں نہ پھوڑے… پتھر پر کوئی اثر نہیں ہوتا
“لیکن میں صرف معاف کر رہی ہوں یاسر بھائی… شرائط آپ رکھیں گے… ” اس نے اپنے آنسو صاف کیے تھے, یاسر نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا تھا
………………………..
وہ اسے یونہی بازو سے جکڑے گھر میں داخل ہوا تھا, دروازے سے اندر آتے ہی شرمین نے یکدم اپنا بازو اس کی گرفت سے چھڑوا لیا اور باہر کو بھاگی…رخسانہ سمیت تقریباً سبھی باہر صحن میں بیٹھے تھے, اویس نے ایک دم اسے پکڑا اور اندر لیکر آیا, دوسرے ہاتھ سے اس نے شرمین کا منہ کھولا تھا, اس اللہ کی بندی نے منہ کھلتے ہی پورے کے پورے دانت اویس کے بازو میں گاڑھ دییے, اویس کا زور دار طمانچہ اس کا منہ رنگ گیا تھا, اسے گھسیٹتے ہوئے وہ اندر کمرے تک لیکر آیا
“بے غیرت انسان چھوڑو مجھے… ” وہ حلق کے بل چلائی تھی اور اویس کا ہاتھ دوسری بار اٹھ گیا
“پھر چلاؤ… ” اس نے دوپٹہ کھینچ کر اس کے دونوں ہاتھ بھی آزاد کر دئیے
“میں تھپڑوں سے منہ لال کر دوں گا شرمین اگر اب زبان بند نہیں ہوئی تو… ” اویس کی آنکھوں میں خون اترا آیا تھا, شرمین قہر آلود نگاہوں سے اسے گھور رہی تھی
“میری ایک بات کان کھول کر سن لو, میں تمہارا شوہر ہوں اور تم میری بیوی… بس اس سے آگے کہانی ختم, تمہیں مر کر ہی مجھ سے آزادی ملے تو ملے… جیتے جی تو کسی صورت نہیں چھوڑوں گا تمہیں ” اویس نے مضبوط لحجے میں کہا تھا
“بھول جاؤ… کہ تمہارا کوئی میکہ بھی ہے… اور یاد رکھنا کہ جتنی بار یہاں سے بھاگو گی… میں اتنی بار واپس لیکر آؤں گا… شادی کی ہے… کھیل نہیں کھیلا” وہ کہہ کر کمرے سے باہر نکل گیا… کمرہ لاک کر دیا تھا
“چایے اندر خود کشی کر لے… ؟” رخسانہ نے کہا
“اتنی بہادر نہیں ہے وہ… ” اویس مطمئن تھا
……………………………
یاسر نے اپنی شرائط رکھ دی تھیں
سب سے پہلی شرط… ایک عدد الگ گھر
دراصل المیہ یہ ہے کہ پڑھے لکھے لوگ بھی اس بات کو نہیں سمجھتے کہ جب ایک نئی لڑکی بیاہ کر آتی ہے تو اسے اسقدر ہجوم میں رکھنا ہی سب سے بڑی بیوقوفی ہے… علماء اور دانشور چیخ چیخ کر تھک گئے ہیں کہ نئی بیاہ کر آنے والی لڑکی کا الگ گھر میں رہنا اس کا شرعی حق ہے… اس سے بہت سارے جھگڑے ختم ہو جاتے ہیں, ویسے بھی پانچ, چھ مختلف مزاج کی عورتیں جن کا آپس میں کوئی خون کا رشتہ بھی نہ ہو وہ آخر ایک چھت کے تلے سلوک کے ساتھ کیسے رہ سکتی ہیں… بالکل ناممکن… مائیں رونا پیٹنا ڈال دیتی ہیں کہ کلیجے کا ٹکرا کھینچ کر لے گئیں, بیٹوں کی ماؤں کو سب سے زیادہ پیارا وہی بیٹا ہو جاتا ہے جس کی شادی ہو جاۓ… الگ گھر ہو یہ سارے فساد ہی کیوں ہوں ؟
“یاسر پتر… ہم لوگ گاؤں والا مکان بیچ رہے ہیں…میں اور رفیق بھائی الگ الگ گھر لیں گے… میں اور میری ساری فیملی الگ رہے گی, رفیق بھائی نے اپنے حصے میں سے زبیر اور اویس دونوں کے لئے شہر میں الگ الگ گھر دیکھ لئے ہیں… رملہ کا دل کرے تو ساس سسر کے ساتھ رہ لے… نہیں تو اکیلی رہ لے… اس کے گھر نہ تو اویس اور اس کی بیوی قدم رکھیں گے اور نہ میری فیملی میں سے کوئی جاۓ گا” شفیق نے کہا, پنچائیت کے سرپنچ نے یاسر کی طرف دیکھا
“ٹھیک ہے… ” یاسر نے کہا
“دوسری شرط… جتنے تھپڑ زبیر نے اسے مارے ہیں اتنے ہی رملہ اسے بھی مارے گی… سب کے سامنے, بالکل ویسے ہی اسے دھکے دے گی, بالکل ویسے ہی اسے ٹھڈے مارے گی جیسے اس نے مارے تھے… اور اگر آج کے بعد اس بے غیرت آدمی نے میری بہن کو انگلی بھی لگائی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا… اسے اس کے دفتر سے گھسیٹتے ہوئے گاؤں تک لیکر آؤں گا… چاہے یہ راستے میں مر جاۓ” یاسر نے کہا
“زبیر تیرے سامنے بیٹھا ہے, پوری پنچائت کے سامنے یہ قسم کھاۓ گا کہ آئیندہ یہ رملہ کو اپنی زبان سے یا ہاتھوں سے کوئی گزند نہیں پہنچاۓ گا, اس کی ساری ضرورتیں پوری کرے گا, اپنے بچوں کا سارا خرچہ خود اٹھاۓ گا…” شفیق نے کہا تھا
“رملہ جو چاہے میرے ساتھ سلوک کرے…میں اف بھی نہیں کروں گا… آج کے بعد اگر اس کی بہن کی آنکھوں میں میری وجہ سے آنسو آیا تو چاہے یہ مجھے گولی مار دے…بس ایک بار معاف کر دے” زبیر ہارے ہوئے لحجے میں بولا
“تیسری شرط….رملہ کو لینے زبیر اکیلا نہیں آۓ گا, حمزہ اس کے ساتھ آۓ گا, میں اسے اپنے ہاتھوں جہنم واصل کروں گا اور اس کا باپ ابھی اسی وقت اس کا خون مجھے معاف کرے گا” یاسر کے کہتے ہی سب کو سانپ سونگھ گیا تھا, شفیق دن بخود رہ گیا
“یاسر پتر… تیری یہ سزا بہت کڑی ہے… جوان خون ہے وہ شفیق کا… ” سرپنچ نے کہا
“اس جوان خون ہے میری بہن کے ساتھ دو بار زیادتی کرنے کی کوشش کی ہے, میری یہ ہی شرط ہے… مجھے حمزہ شفیق اپنے سامنے کھڑا چاہیے…میں اسے اپنے ہاتھوں سے گولی ماروں گا” یاسر نے کہا
“یاسر… کیا اسے گولی مارنے سے جو ہو چکا وہ بدل جاۓ گا… ؟” اویس نے کہا
“نہیں… لیکن اسے گولی مارنے سے جو ہونیوالا ہے….وہ ضرور بدل جاۓ گا, زبیر اور رملہ کا معاملہ ایک شوہر اور بیوی کا معاملہ تھا… شوہر نے معافی مانگی اور بیوی نے معاف کر دیا… میں اسے نہیں کہہ سکتا کہ وہ زبیر کو معاف نہ کرے لیکن حمزہ… اس نے میری بہن کی عزت رولنے کی کوشش کی ہے… وہ بھی دو بار… زبیر بھلے ہی بے غیرت بن جاۓ, رملہ بھلے ہی اسے معاف کر دے… لیکن میں نہیں کروں گا… اس بدکار کی سزا موت ہی ہے جو میرے ہاتھوں لکھی ہے” یاسر کہتا چلا گیا, شفیق چہ چاپ سر جھکاۓ بیٹھا تھا, زبان سے کہہ دینا کتنا آسان تھا کہ میری بلا سے چاہے حمزہ کو گولی مار دے… لیکن حقیقت
“یاسر… پتر اتنا پتھر دل نہیں بنتے… معاف کر دینا خدا کی ذات کو بہت پسند ہے” سر پنچ نے کہا
“لیکن خدا کی ذات نے بدلہ لینے سے بھی منع نہیں کیا صوفی صاحب… ” یاسر نے کہا
“تو یہ بدلہ کسی اور طرح لے لے پتر… کوئی اور شرط منوا لے” وہ بولا
“چلیں ٹھیک ہے پھر… عزت کا بدلہ موت نہ سہی تو عزت کا بدلہ عزت ہی سہی… مجھے حمزہ شفیق کی بہن کے ساتھ وہی سب کرنے کا اختیار ہے جو اس نے میری بہن کے ساتھ کیا… اگر شفیق اپنے جوان بیٹے کا قتل برداشت نہیں کر سکتا تو مجھے رملہ کی عزت کے بدلے ناعمہ شفیق چاہئے ” یاسر نے دھماکہ کیا تھا
“یاسر… حمزہ نے رملہ کی عزت پامال تو نہیں کی تھی … ؟” اویس نے ذرا سی ہمت کی تھی
“تو پھر کیا کیا تھا … ؟” یاسر نے پوچھا, اویس بول نہ سکا
“جو اس نے کیا… وہی میں کر لوں گا” یاسر نے کہا تھا
……………………
جاری ہے
