No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
حمزہ شام پانچ بجے گھر آیا تھا… اور گھر آتے ہی یاسمین اس پر چڑھ دوڑی تھیں
ندا کے والد نے شفیق کو کال کر کے بتا دیا تھا کہ تمہارے سپوت نے انگوٹھی واپس کر دی ہے… اب آؤ اور آ کر اپنی انگوٹھی بھی واپس لے جاؤ
وہ رات کی بس سے واپس آ رہا تھا
“حمزہ بے غیرت…. یہ کونسا نیا تماشہ ہے ؟” یاسمین کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اسے دھنک کر رکھ دیتیں, زبیر بھی آ گیا تھا, رملہ اسے کھانا دے رہی تھی, یاسمین کی آوازیں اندر کمرے تک آ رہی تھیں
“امی… میرا نہیں دل مانتا اس منگنی پر ” وہ بولا
“ویسے اللہ ہی معاف کرے اس گھر کے لڑکوں سے… پہلے منگنیاں کرا لیتے ہیں, پھر ان کے دل پھر جاتے ہیں… پہلے اویس نے یہ تماشہ کیا… اب یہ خبیث وہی تماشہ کر رہا ہے, اے یاسمین… اس سے اچھی طرح پوچھ لے کہ یہ کیا چاہتا ہے… کل کلاں کو اس نے بھی اویس کی طرح عین نکاح کے وقت انکار کر دیا تو اس ندا بیچاری نے لئے تو اور لڑکا بھی نہیں ہے ہمارے پاس… ” رخسانہ ایک دم پھٹ پڑیں
“حمزہ تو نے بندے کا پتر نہیں بننا… ؟” یاسمین نے اسے گھرکا
“امی… میں ایویں کسی لڑکی کی زندگی برباد نہیں کر سکتا” وہ بولا
“اپنے باپ کو کیا جواب دے گا ؟” یاسمین دھاڑیں
“یہ ہی جو آپ کو دیا ہے… گولی مارنی ہے تو مار دیں” وہ کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا تھا
………………………..
اویس اسے واپس لینے آیا تھا… فیکٹری سے سیدھا ادھر ہی آ گیا, حاتم بھی گھر ہی تھا
“چلو… گھر چلیں” وہ بولا, شرمین ہنوز بستر پر بیٹھی نیل پالش لگاتی رہی
“شرمین… اویس نے کچھ کہا ہے” حاتم نے کہا
“میں نے ابھی اور رکنا ہے ” وہ بولی
“نہیں… میں نے تمہیں دو دن کا کہا تھا, چلو واپس” وہ بولا, شرمین ایک دم اٹھ کر باہر نکل گئی
“کوئی مسئلہ بنا ہے ؟” حاتم نے پوچھا, اویس اب اسے کیا کہتا… کیا کہتا کہ تیری بہن ہے تجھے کیا پتہ نہیں کہ مسئلہ ہی بنا ہو گا… بس کہہ نہ سکا
“نہیں… بس ایسے ہی” وہ بولا, نسرین اور علینہ نے کھانا لگ دیا, آس نے ساتھ بیٹھ کر کھانا بھی نہ کھایا, مسلسل نسرین کے کان میں گھسی رہی
“شرمین… ” آخر حاتم نے ہی اسے آواز دی تھی
“کیا مسئلہ ہے ؟” وہ بولا, شرمین نے فوراً اویس کی طرف دیکھا
“مجھے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے” اویس نے کہا
“حاتم سارے گھر کا کام میرے اوپر ڈال رکھا ہے, صبح و شام ہزاروں کی تعداد میں روٹیاں… کپڑے بھی خود دھونے پڑتے ہیں, کام والی بھی نہیں رکھ کر دیتا… اتنی گرمی ہے اوپر سے, ایک اے سی کہہ دیا تو منع کر دیا, کپڑے وہ نہیں ہیں میرے پاس… فقیروں کی حالت پھرتی ہوں میں… ” اس کی آخری بات پر اویس کو ہنسی آ گئی
“کوئی خدا کا خوف کرو, پانچ ہزار کا جوڑا پہن کر بیٹھی ہو… فقیر کہاں سے ہو تم ؟” وہ بولا
“نسرین باجی… شرمین کا بیگ لیکر آئیں” حاتم نے کہا
“حاتم میں نے نہیں… ” حاتم نے رکھ کر اسے گھورا
“ایک منٹ سے پہلے مجھے باہر نظر آؤ تم…. ” وہ بولا اور باہر نکل گیا
ناچار وہ اپنا بیگ لیکر باہر آئی تھی, سارے راستے وہ اویس کو ایسی ایسی دھمکیوں سے نوازتی آئی کہ حد نہیں… گھر پہنچے تو صحن میں ایک کہرام مچا ہوا تھا
شفیق, یاسمین اور رخسانہ ندا کی طرف سے ہو کر آۓ تھے… ندا کے ابو نے انگوٹھی واپس کر دی تھی, شفیق کا مارے غصے کے کوئی حال نہیں تھا
“ابو… میری زندگی… میری مرضی, جب میرا دل مانے گا تو شادی کروا لوں گا, ورنہ نہیں… ” وہ صحن کے وسط میں کھڑا تھا
“چک پھر بیگ اٹھا… چل میرے ساتھ” شفیق نے کہا
“میں کہیں نہیں جا رہا…یہ میرا گھر ہے اور میں یہاں ہی رہوں گا” وہ بولا
“حمزہ… یہ ہٹ دھرمی ہے” شفیق نے کہا
“وہی سہی… ” وہ کہہ کر اوپر چلا گیا
“حمزہ نے منگنی توڑ دی ؟” شرمین یہ خبر سن کر اپنے دکھ بھول گئی تھی
“واہ… اب آۓ گا مزہ….” وہ دھیرے سے مسکرائی تھی
……………………………..
“دیکھا… حمزہ نے منگنی توڑ ہی دی نا” زبیر دفتر جانے کے لیے نکلا تھا, شرمین اسے اکیلا دیکھ کر کسی بہانے سے اس کے پیچھے نکل آئی, وہ تو ویسے ہی کل سے آتش فشاں بنا ہوا تھا, جب سے حمزہ نے منگنی توڑنے کا اعلان کیا تھا… اس کے دل میں ایویں شک کا کیڑا کلبلانے لگا تھا, پوری رات وہ سو نہیں سکا, اب بھی شرمین کی بات سنتے ہی رہ سلگ گیا
“تو میں کیا کروں ؟” وہ بولا
“زبیر تم میری بات پر کان نہیں دھرتے ہو نا… پچھتاؤ گے ایک دن… دیکھ لینا, یہ جو ماضی کی محبتیں ہوتی ہیں نا یہ اتنی جلدی نہیں بھلائی جاتیں” وہ بولی
“شرمین بس… ” زبیر نے کیا
“میں کہتی تھی نا کہ حمزہ کی منگنی صرف ایک ڈرامہ ہے… صرف گھر والوں کو مطمئین کرنے کے لئے اس نے یہ منگنی والا ڈھونگ رچایا تھا کہ کسی طرح اس کی گھر بدری ختم ہو جاۓ, وہ بس ہر لمحہ رملہ کی آنکھوں کے سامنے رہنا چاہتا ہے, اسے ہر پل اپنے قریب رکھنا چاہتا ہے…تم دیکھ لینا, وہ کبھی بھی کسی اور سے شادی نہیں کرے گا, ابھی بھی وہ رملہ کی امید لگاۓ بیٹھا ہے” شرمین اس کے کان بھرتی جا رہی تھی, زبیر نے موٹر سائیکل سٹارٹ کر دی
“تم دیکھ لینا… تمہاری ناک کے نیچے محبت کا گھناؤنا کھیل کھیل رہے ہیں یہ دونوں اور تمہیں آنکھوں کا اندھا سمجھا ہوا ہے” وہ اس کے جاتے جاتے بھی باز نہیں آئی تھی, دن میں آتے جاتے رملہ سے ٹاکرا ہو گیا تو اس کے پیچھے پڑ گئی
“تو حمزہ نے منگنی توڑ ہی دی… تمہاری خاطر” شرمین نے کہا
“میری خاطر کچھ نہیں کیا اس نے ” وہ بولی
“ارے سب کچھ تمہاری خاطر ہی تو کرتا ہے, تمہاری خاطر زبیر سے لڑتا ہے, تمہاری خاطر محبت کے دعوے کرتا یے, تمہاری خاطر بیچارہ شہر بدر ہو گیا, اور تو اور… تمہاری خاطر ہی تو اس نے منگنی بھی کروائی اور پھر توڑ بھی دی” شرمین کی ٹرین راستہ پکڑ چکی تھی
“شٹ اپ… ” رملہ کو غصہ آ گیا
“ہاں ہاں… مجھے شٹ اپ کروا لو, ایک نہ ایک دن اصلیت کھل ہی جاۓ گی تمہاری ” وہ بولی تھی, رملہ نے کوئی جواب نہ دیا, سارا دن وہ اپنے کمرے میں لیٹی یہ ہی تخریب کاریاں سوچتی رہی
شام کا وقت تھا جب حمزہ ہسپتال سے واپس آیا
“ناعمہ…. ناعمہ” وہ ناعمہ کو آوازیں دیتا ہوا اندر کچن میں چلا آیا, ویاں ناعمہ بھی تھی اور رملہ بھی.. ناعمہ دودھ ٹھنڈ کر رہی تھی اور رملہ اپنے لیے سالن نکال رہی تھی
“کیا ہو گیا ؟” وہ بولی
“میرے ایک, دو افسر آۓ ہیں میرے ساتھ, ڈرائینگ روم میں بٹھا کر آیا ہوں, پلیز یہ جلدی سے سٹابری شیک تو بنا دے” وہ شاپر شیلف پر رکھتے ہوۓ بولا
“توبہ ہے حمزہ…. آۓ دن تیرا کوئی نہ کوئی افسر چلا رہتا ہے ادھر… ” وہ تپ گئی
“جلدی کر… جلدی” وہ اس کے ساتھ ہاتھ بٹانے لگا
“یہ میں بنا رہی ہوں… اوپر سے گلاس لیکر آ” ناعمہ نے کہا, وہ بھاگم بھاگ اوپر چلا گیا
“بھابھی آپ پی لیتی ہیں سٹابری شیک ؟” ناعمہ نے پوچھا تھا
“نہیں… اچھا نہیں لگتا مجھے” وہ سالن کی کٹوری اوون میں رکھتے ہوئے بولی, تبھی وہ نیچے اتر آیا
“اوپر تو کوئی بھی ڈھنگ کا گلاس نہیں ہے, اتنے بسورے سے رنگ برنگے ” وہ بولا
“جا پھر بازار سے جا کر لے آ ” ناعمہ تپ گئی, حمزہ نے اسے کہنی مار کر اشارہ کیا تھا, اس نے نفی میں سر ہلا دیا, حمزہ نے پھر اسے کہنی ماری
“بھابھی… آپ کے وائن گلاس نکال لوں ” وہ شیک جگ میں ڈالتے ہوئے بولی
“نکال لو…” وہ دھیرے سے بولی تھی
“چل نکال کر لا…” ناعمہ نے اسے گھرک کر کہا, وہ جھٹ پٹ گلاس نکال لایا
“انہیں دھو… میں برف نکال لاؤں ” ناعمہ اسے آرڈر دے کر کچن سے نکل گئی, اوون نے بپ بجائی تھی, رملہ نے سالن باہر نکال لیا, صبح سے اس کی طبعیت مضمحل سی تھی, پسلیوں کے نیچے حد درجہ بوجھ تھا اور ہلکی ہلکی درد کی لہریں…
حمزہ نے گلاس دھو کر سلیب پر رکھے, پھر بڑی نفاست سے آدھی آدھی سٹابری کاٹ کر ان کے کناروں پر ٹکائیں, پھر ہاف ہاف ٹشو رول کر کے ان پر لگانے لگا, رملہ نے روٹی نکالتے ہوئے بس ایک نظر اس کی فنکاریاں دیکھی تھیں, دھیرے سے اس کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی, حمزہ نے کن اکھیوں سے اسے دیکھا, عین اسی لمحے زبیر بیگ کندھے پر ڈالے کچن کے آگے سے گزرا, پیچھے ہی شرمین کچن میں آئی تھی, اس نے بس ان دونوں کو مسکراتے ہوئے دیکھا تھا
“ارے حمزہ… تم نے رملہ کو کیوں بلایا… میں نے کہا بھی تھا کہ میں بنا دیتی ہوں شیک… ” شرمین نے موقع سے فائدہ اٹھایا تھا
“میں نے ناعمہ سے کہہ دیا تھا…” حمزہ نے زبیر کے چہرے کا رنگ بدلتے دیکھا تھا
“ناعمہ جلدی کر… ” وہ بولا, رملہ ٹرے اٹھا کر کچن سے باہر نکل آئی, زبیر کمرے میں چلا گیا تھا
“کتنے دھڑلے سے جھوٹ بولتی ہیں آپ ؟” حمزہ کو اس پر غصہ آ گیا
“لو… میں نے کیا جھوٹ بولا” وہ ہنس پڑی, حمزہ بس تاسف سے اسے دیکھ کر ٹرے اٹھا کر چلا گیا
“آپ کا بھی کھانا لے آؤں ؟” رملہ نے اس کے پیچھے ہی کمرے میں آتے ہوئے پوچھا تھا, زبیر چپ رہا, شرٹ اتار کر واش روم میں گھس گیا, رملہ کھانا کھانے لگی
“سر جی کھانا… ؟” وہ شاور لیکر باہر نکلا تو اس نے پھر پوچھا, زبیر نے قہر آلود نظروں سے اسے گھورا, وہ ٹھٹھک گئی
“کھانا نہیں کھا…. ” اس کے کہتے ہی زبیر نے اسے بالوں سے جکڑ لیا
“تم آخر چاہتی کیا ہو ؟” وہ انتہائی سرد لحجے میں بولا تھا
“زبیر… ” تکلیف کے مارے رملہ کی آنکھیں بھر آئیں
“بیوقوف سمجھا ہے تم نے مجھے… یا پھر احمق نظر آتا ہوں میں ” وہ زور سے چیخا اور اسے دروازے کی طرف دھکا دیا, وہ دھڑام سے دروازے سے ٹکرائی اور گر گئی, دروازہ چوپٹ کھل گیا تھا
“زبیر کیا ہوا ہے ؟” ایک ہاتھ سے دیوار کا سہارا لیکر وہ بمشکل کھڑی ہوئی تھی, اندر کوئی بھی نہیں تھا
“تمہارے کہنے پر منگنی توڑی ہے نا اس حرامزادے نے ؟” زبیر نے دوبارہ اس کے بال جکڑ لئے, حمزہ ٹرے واپس رکھنے آیا تھا, کچن کے دروازے میں ہی ساکت ہو گیا
“زبیر ایسا کچھ نہیں… ” زبیر نے اسے زور سے جھٹکا دیا, وہ لڑکھڑا گئی, زور دار طمانچہ اس کے منہ پر پڑا تھا
“زبیر… ” اس کی چیخ سن کر رخسانہ اور ناعمہ بھاگی آئیں, اویس بھی پیچھے تھا
“کیوں مارا ہے اسے ؟” رخسانہ نے پوچھا
“امی بس… ایک طرف ہو جا, مجھے آج اس مکار عورت سے پوچھ لینے دے کہ یہ چاہتی کیا ہے ؟” زبیر اسے گھسیٹتے ہوئے دوبارہ اندر لیکر گیا تھا
“زبیر… ” وہ مارے تکلیف کے چیخیں مار رہی تھی, زبیر نے اسے لگاتار دو تھپڑ مارے تھے, کچن کے دروازے میں کھڑے حمزہ کی بس ہو گئی
“اب تو نے اسے تھپڑ مارا تو ہاتھ توڑ دوں گا تیرا حرامزادے… ” وہ اس کے سامنے آیا تھا
“کیا لگتا ہے تو اس کا… ؟ بول سالے, کمینے…. کیا لگتا ہے تو اس کا؟” زبیر دھاڑا
“میں کچھ نہیں لگتا اس کا… تو کیا لگتا ہے اس کا ؟ کہیں سے لگ رہا ہے کہ تو شوہر لگتا ہے اس کا ” حمزہ زور سے بولا تھا
“دفع ہو جا میرے کمرے سے… میرا اور اس کا معاملہ ہے…چل دفع ہو باہر” زبیر نے اسے باہر کو دھکا دیا تھا, اوپر سے یاسمین بھی اتر آئیں, دو قدم پیچھے شرمین بھی کھڑی تھی, رملہ پسینے سے شرابور بیڈ کے پاس گری پڑی تھی
“دوبارہ اسے ہاتھ تو لگا کر دکھا کتے, حرامزادے.. ” حمزہ نے چیخ کر کہا
“حرافہ عورت… میری ناک کے نیچے گل کھلا رہے ہیں دونوں ” زبیر نے ایک بار پھر اسے بالوں سے کھینچا, حمزہ وحشیوں کی طرح اس پر جھپٹا تھا, باقی سب گھر والے چھڑواتے ہی رہ گیے
“آستین کا سانپ ہے تو حرامزادے… تجھے شرم نہیں آتی اس سے چکر چلاتے ہوئے ” زبیر دھاڑا
“اور تو خود کیا ہے سالے… تو کیسا مرد ہے جو اس دو ٹکے کی عورت کی بکواس سن کر اپنی بیوی پر شک کرتا ہے” حمزہ اس سے گتھم گتھا ہو گیا تھا
“زبیر… حمزہ… بس کرو ” اویس بیچ میں آیا تھا, شرمین چپ چاپ اپنے کمرے میں بند ہو گئی, رملہ نے روتے ہوئے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھا تھا, درد کی لہریں اخیر ہو گئی تھیں, تبھی اس کی انتہائی تکلیف دہ چیخ نکلی, وہ ایک ہاتھ سے بیڈ کا کونا تھامے دہری ہو گئی تھی
“رملہ… رملہ پتر… ” رخسانہ اس کی طرف دوڑیں, وہ لمبے لمبے سانس لے رہی تھی
“یاسر بھائی کو بلائیں… یاسر بھائی کو” وہ بمشکل دیوار کا سہارا لیکر کھڑی ہوئی اور باہر کی طرف بڑھی
“ایمبولینس کو کال کرو… جلدی” رخسانہ کی جان پر بن گئی تھی, حمزہ ایک جھٹکے سے زبیر کا گریبان چھوڑتے ہوئے باہر نکل گیا
“رملہ پتر… ہسپتال چلتے… ” رملہ کو پھر درد اٹھا تھا, انتہائی دل خراش چیخیں مارتے ہوئے اس نے دیوار کو پکڑا تھا, پھر پیٹ پر ہاتھ رکھے دوہری ہو کر نیچے گر گئی
“زبیر اٹھا اسے… ” رخسانہ نے اسے ایک طرف سے تھام لیا
“مجھے کوئی ہاتھ نہ لگاۓ… مجھے کوئی…. ہاتھ… ” وہ آنکھیں بند کرتے ہوئے ہوش کھو بیٹھی تھی
“ایمبولینس بلاؤ… جلدی”رخسانہ اور یاسمین اسے باہر لیکر آئیں تھیں, حمزہ, ایمبولینس اور یاسر دونوں کو کال کر کے باہر نکل گیا تھا
………………………..
اس کا سیزیرین ہوا تھا… خدا نے جڑواں بچوں سے نوازا… ایک بیٹا اور ایک بیٹی, بروقت ہسپتال لے آنے کی وجہ سے زیادہ مسئلہ نہیں بنا تھا, یاسر اور شمیم بھی آ گئے, زبیر اور اویس بھی ہسپتال ہی تھے, اسے صبح کے قریب ہوش آیا تھا
“رملہ… ” ماں کی شفیق سی آواز سنتے ہی اس کا سارا ضبط کھو گیا, سسکیاں لیکر وہ شمیم کے گلے لگ گئی
“پتر بس کر… طبیعت خراب ہو جاۓ گی” رخسانہ نے کہا تھا
“یہ دیکھ… اللہ نے اگر ایک جان واپس لی تھی تو بدلے میں دو عطا کی ہیں ” رخسانہ نے دونوں بچے اس کے آگے کر دیئے, وہ ایک بار پھر بلک بلک کر رو دی
“بہن کیا ہوا ہے ؟” شمیم محسوس کر گئی تھیں, رخسانہ بس ایک لمبی سانس بھر کر رہ گئی, اویس صبح نو بجے دوبارہ ہسپتال آیا تھا اور ان کے لئے ناشتہ بھی لیکر آیا… رملہ کو ڈرپس ہی لگ رہی تھیں, زبیر ایک بار بھی اس سے نہیں بولا تھا, حمزہ کا کچھ پتہ نہیں تھا
دو دن بعد اسے چارج کر دیا گیا
“میں نے امی کے ساتھ جانا ہے… ” اس کی یہ ہی رٹ تھی, رخسانہ خاموش ہو گئیں تھیں
…………………………
رخسانہ اور رفیق کے کمرے میں سبھی جمع تھے… شرمین اور رخسانہ آمنے سامنے بیٹھی تھیں, حمزہ دائیں طرف دیوار سے ٹیک لگاۓ کھڑا تھا, دوسری طرف ناعمہ اور یاسمین بیٹھی تھیں… زبیر اور اویس دروازے سے ٹیک لگاۓ کھڑے تھے
“ہفتے کی رات جب حمزہ کے مہمان آۓ تھے تو کچن میں کون کون تھا ناعمہ… ؟” رخسانہ نے پوچھا
“میں اور رملہ…” اس نے کہا
“شرمین بھی تھی ؟” انہوں نے پھر پوچھا, ناعمہ نے نفی میں سر ہلا دیا
“حمزہ نے شیک بنانے کا کس کو بولا تھا ؟” رخسانہ نے پھر پوچھا
“مجھے… میں نے شیک بنایا اور یہ گلاس نکال کر لایا…میں برف لینے گئی تو اوپر سے زبیر آ گیا… ” ناعمہ نے بتایا
“اب تو بتا کہ تو نے کچن میں کیا دیکھا…؟” رخسانہ زبیر کی طرف مڑیں, وہ بس خونخوار نظروں سے حمزہ کو دیکھ کر رہ گیا
“میں نے کچھ پوچھا ہے تجھ سے بے غیرت انسان ؟” وہ تڑخ کر بولیں
“یہ اور رملہ… مسکرا رہے تھے” وہ بولا
“تو… مسکرا رہے تھے تو… ؟ تو دن میں کتنی دفعہ اس چھنال کی باتوں پر مسکراتا ہے, اس کے ساتھ مذاق کرتا ہے, ہنستا ہے… ناعمہ کے ساتھ بیٹھ کر مسکراتا ہے, قہقہے لگا کر باتیں کرتا ہے… اس نے کبھی ہاتھ اٹھایا تیرے پہ… ؟” رخسانہ چنگھاڑ کر بولی تھیں
“اس حرامزادے نے اسے کچن میں کیوں بلایا ؟” زبیر بھڑکا
“میں نے نہیں بلایا… وہ پہلے سے کچن میں تھی” حمزہ نے کہا
“شرمین میرے پیچھے ہی کچن میں آئی تھی اور اس نے کہا کہ اس نے اس بے غیرت کو کہا تھا کہ میں بنا دیتی ہوں لیکن اس نے رملہ کو شیک بنانے کا کہا تھا” زبیر نے کہا
“خد کی قسم تائی امی میں نے ناعمہ کو کہا تھا… ” حمزہ قسم اٹھا گیا
“شرمین… ” رخسانہ آاس کی طرف مڑیں
“تو نے کہا تھا حمزہ سے کہ میں بنا دیتی ہوں شیک ؟” رخسانہ نے پوچھا
“جج.. جی… وہ” شرمین گڑبڑا گئی , اویس دو قدم چل کر اس کی طرف آیا, وہ ایک دم کھڑی ہو گئی
“کیا کہا تھا تم نے حمزہ سے ؟” وہ عین اس کے سامنے آ گیا
“اویس… میں نے… کچھ بھی… ” اویس نے ایک دم اس کی گردن دبوچ لی
“کیا کہا تھا حمزہ سے ؟” وہ بولا
“کچھ بھی نہیں… کچھ بھی نہیں کہا” وہ سہم گئی تھی
“رملہ کو کچن میں کس نے بلایا ؟” اویس کی انگلیاں اس کی گردن میں گڑھتی جا رہی تھیں
“کک… کسی نے…. نہیں… وہ پہلے ہی کچن… میں ” شرمین کے منہ سے گھٹا گھٹا سا نکلا, زبیر چونک سا گیا
“تو پھر یہ کیوں کہا کہ رملہ کو حمزہ نے بلایا تھا… ؟” اویس کی آنکھوں میں خون اترا آیا
“اویس… میری گردن چھو… چھوڑیں… پلیز” وہ تڑپی
“اویس چھوڑ دے… ” رخسانہ نے کہا لیکن اویس کی بھی شاید بس ہو گئی تھی
“جھوٹ کیوں بولا… ؟” وہ زور سے دہاڑا تھا
“سوری… ویسے ہی… منہ… سے… نکل” شرمین کی آنکھیں ابل رہی تھیں, زبیر بھونچکا کھڑا رہ گیا
“اب ایک بات اور بتاؤ گی تم… بالکل سچ سچ ؟” اویس نے کہا
“تمہیں کس نے کہا کہ رملہ کا شادی سے پہلے حمزہ سے کوئی چکر چل رہا تھا ؟” اویس نے کھل کھلا کر پوچھا
“مم… میں…. نے سنا تھا” وہ بولی
“کس سے… ؟”
“اوپر… چھت پر… آنٹی یاسمین اور انکل شفیق آپس میں… بات کر رہے تھے… حمزہ کہہ رہا تھا کہ وہ رملہ سے… شادی… کرنا چاہتا تھا… لیکن زبیر نے اس سے… نکاح ” اس کے کہتے ہی یاسمین کو یاد آ گیا
“یہ اس رات کی بات ہو گی جس رات شفیق نے اسے لاہور جانے کا کہا تھا, ہم دونوں نے صرف اسے اتنا سمجھایا تھا کہ محبت کو معتبر کرتے ہیں… اس کا تماشہ نہیں بناتے” یاسمین نے کہا, اویس نے ایک جھٹکے سے اسے چھوڑ دیا, وہ اپنی گردن پر ہاتھ رکھ کر لمبے لمبے سانس لینے لگی تھی
“شرمین تجھے ذرا شرم نہ آئی… تجھے کیا ملا ایک ہنستا بستا گھر اجاڑ کر… ؟ تو نے ذرا نہیں سوچا کہ تو ایک دفعہ طلاق لیکر بیٹھی ہے… اور دوسری بار بھی وہی حرکتیں کر رہی ہے” رخسانہ تاسف سے بولیں
“امی اسے کچھ پتہ نہیں تھا کہ کیا ہوا… بس یہ اس کے دماغ کی کہانی تھی جو اس نے قطرہ قطرہ زبیر کے کانوں میں انڈیلی ہے…. اور یہ کانوں کا کچا اپنی بیوی پر شک کرنے لگ گیا” اویس نے کہا, زبیر اپنا جھکا سر اٹھا نہیں سکا تھا
“جاؤ کمرے میں… تمہارا دماغ آج ٹھکانے لگاتا ہوں میں” اویس نے اسے گھور کر کہا, وہ بھاگتی ہوئی باہر نکل گئی
“تائی امی… خدا کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں میں نے جو غلط کیا… بس اس رات تک کیا, اور اس پر میں ساری زندگی رملہ کے آگے شرمندہ ہی رہوں گا, زبیر جتنی دفعہ کہے میں اس سے معافی مانگنے کے لئے تیار ہوں لیکن… اس رات کے بعد میں نے کبھی پوری طرح نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا رملہ کو… تائی امی میں بھی تو انسان ہوں نا… فرشتہ تو نہیں ہوں کہ میری نظروں کے سامنے یہ اسے تھپڑ مارے اور میں چپ رہوں, شرمین اس پر الزام لگاۓ اور میں چپ رہوں… میں اس گھر میں اس کے ساتھ اندھا بن کر نہیں رہ سکتا ” حمزہ کہتا چلا گیا
“میں ایک بات کہوں اویس بھائی چاہے آپ کو بری ہی کیوں نہ لگے… اس شرمین کی بچی کو اس گھر سے چلتا کریں…کیونکہ جب تک یہ یہاں رہے گی کوئی سکھی نہیں رہ سکتا… اگر نہیں… تو میں یہ گھر چھوڑ دیتا ہوں, میں چلا جاؤں گا ابو کے ساتھ لاہور… لیکن میری یہ بات لکھ کر رکھ لیں کہ میرے جانے کے بعد بھی وہ عورت فساد ہی کرے گی… یہ ہی اس کا کام ہے” حمزہ نے کہا
“تو نے منگنی کیوں توڑی ؟” زبیر اس کی طرف مڑا
“میری مرضی… سراسر میری مرضی… ہاں اسلئے ضرور توڑی کہ فی الحال دل راضی نہیں تھا… لیکن اسلئے بالکل نہیں توڑی کہ دل ایک بار پھر اسے مانگ رہا تھا…” وہ کہتے کہتے رکا
“میں آپ سب لوگوں کے سامنے قسم کھا کر کہتا ہوں کہ رملہ زبیر کی بیوی ہے… اس کے بچوں کی ماں ہے اور میں اس کی بہت عزت کرتا ہوں, میں منگنی کروں یا نہ کروں, شادی کروں یا نہ کروں, میرا دل کسی اور کو تسلیم کرے یا نہ کرے… یہ سراسر میرا ذاتی فیصلہ ہو گا… اور وہ قطعی رملہ کی وجہ سے نہیں ہو گا” حمزہ نے کہا
“اب اس سالے کا دل کرے تو دماغ سے خناس نکال لے… نہیں تو جاۓ بھاڑ میں” وہ بولا اور کمرے سے باہر نکل گیا
“اویس… ” رخسانہ نے اس کی طرف دیکھا
“اپنی بیوی سے ایک بار پوچھ لے کہ کیا چاہتی ہے… ؟ اگر اس گھر میں رہنا ہے تو انسان بن کر رہے ورنہ اسے لیکر الگ ہو جا… بس” رخسانہ نے کہا اور ابھی اویس کمرے سے نکل بھی نہیں تھا جب حاتم اور نسرین اندر داخل ہوۓ, سبھی انہیں دیکھ کر حیران رہ گئے
“شرمین کہاں ہے ؟” حاتم نے پوچھا
“کمرے میں… ” اویس نے کہا
“کیا کہا ہے تو نے اسے ؟” حاتم نے پوچھا
“میری مجال ہے جو میں اس راجکماری کو کچھ کہوں ” اویس بولا
“ابھی دس منٹ پہلے کال آئی ہے مجھے اس کی کہ اویس مجھے جان سے مار دے گا, مجھے آ کر لے جائیں… ” حاتم غرا کر بولا, اویس کے تن بدن میں آگ لگ گئی, تیر کی طرح وہ کمرے تک پہنچا
“شرمین…. دروازہ کھولو… ” اس نے زور سے کہا تھا
“شرمین… بیٹے ہم آ گئے ہیں” اس نے نسرین کی آواز سن کر دروازہ کھولا
“کیا ہوا ہے ؟” وہ روتی ہوئی نسرین کے گلے لگ گئی
“باجی مجھے لے جائیں یہاں سے… یہ سب لوگ مل کر مجھے مار دیں گے, پلیز مجھے لے جائیں” وہ دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھی, حاتم نے شکوہ کناں نظروں سے اویس کی طرف دیکھا
“اس سے زیادہ مکار عورت میں نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھی… حاتم اگر بات بڑھانی ہے تو بے شک اسے لے جا, لیکن اس سے پوچھنا ضرور کہ اس نے پچھلے دو سالوں میں کیا کیا تماشے رچاۓ ہیں یہاں… ” اویس نے کہا
“مجھے نہیں رہنا اس کے ساتھ… یہ مار دے گا مجھے” شرمین مسلسل رو رہی تھی
“حاتم پتر… ابھی لے جا اسے, کچھ دنوں تک اویس واپس لے آۓ گا” رخسانہ نے رسان سے کہا تھا
……………………….
جاری ہے
