63K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

“کیسی ہیں رملہ… ؟” وہ اس کی آواز سنتے ہی دھیرے دھیرے سیڑھیاں چڑھتا ہوا اوپر آ گیا
“جی میں ٹھیک ہوں, آپ کیسے ہیں ؟” وہی رسمی سا حال احوال
“رملہ مجھ سے بات کرنا آپ کو جبری تو نہیں لگتا ؟” اس نے پوچھا
“مطلب… ؟”
“مطلب یہ کہ آپ صرف میرے کہنے پر مجھ سے بات کرتی ہیں, ہمیشہ میں ہی کال کروں تو آپ ریسیو کرتی ہیں, خود سے کبھی ایک ٹیکسٹ بھی نہیں کیا آپ نے… ” وہ کہتا چلا گیا
“تو کیا یہ کافی نہیں ہے اویس… آپ کال کرتے ہیں اور میں فوراً ریسیو کر لیتی ہوں یہ کافی نہیں ہے, بجاۓ اس کے کہ میں خود آپ کو کال کروں, آپ کی کال کا انتظار کرنا میرے لئے زیادہ خوبصورت ہے, آپ پوچھیں کہ کیسی ہو اور میں کہوں کہ ٹھیک… یہ سب سے زیادہ خوبصورت ہے اویس” وہ بولی
“یعنی پہل ہمیشہ مجھے ہی کرنی پڑے گی… ہے نا ؟” اس نے پوچھا
“تو ایسے ہوتا ہے اویس… اور ایسا ہی ہونا چاہیے, مرد کا پہل کرنا ہی اچھا لگتا ہے, بے قرار ہو کر اسی کا کال کرنا اچھا لگتا ہے, اسی کی بے صبری اچھی لگتی ہے… کیا اچھے لگے گا اگر میں پہل کروں ؟ نہیں… بالکل نہیں… مرد ہمیشہ پورے حق سے پھول دیتا ہوا اچھا لگتا ہے اور عورت ہمیشہ سر جھکا کر مسکراتے ہوۓ اسے لیتی ہوئی اچھی لگتی ہے” رملہ نے کہا
“تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ مرد میں صرف چاہنے کے احساسات ہونے چاہئیں… چاہے جانے کا کوئی حق نہیں ہے اس کا… ؟” وہ بولا
“کیوں نہیں ہے… میں آپ کا دیا پھول پکڑوں گی تو یہ آپ کو چاہا جانا ہی تو ہوا اویس… ” اس نے کہا
اس نہج پر آ کر ہمیشہ ان دونوں کی بحث ہو جاتی تھی, اویس اس کی جانب سے بھی اتنی ہی بے قراری کی ڈیمانڈ کرتا تھا جتنا وہ خود تھا… لیکن رملہ متفق نہیں ہوتی تھی, بقول اس کے پہل کرنا ہمیشہ مرد کو ہی زیب دیتا ہے
“تو کیا شادی کے بعد بعد بھی یہ ہی ہو گا رملہ… ؟ تب بھی اظہار ہمیشہ میں ہی کیا کروں گا ؟” وہ دھیرے سے بولا
“اویس میں یہ ہی کہتی تھی نا کہ شادی سے پہلے ایک دوسرے سے بات کرنے سے صرف غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں” وہ بولی
“چلیں ٹھیک ہے رملہ… خدا حافظ ” اویس نے دھیرے سے کہتے ہوئے کال کاٹ دی
پچھلے دو ماہ میں اکثر اوقات وہ ایسے ہی دل مسوس کر کال کاٹ دیتا تھا
شادی کے بعد کیا ہو گا… ؟؟؟ یہ سوال ہمہ وقت اس کے ذہن میں گردش کرتا رہتا, رملہ نے اس کی ریکوئسٹ مان کر اس سے بات کرنا شروع تو کر دی تھی لیکن اس کا بھی ایک وقت تھا, وہ رات گئے اس کی کال نہیں سنتی تھی, ویڈیو کال نہیں کرتی تھی, اپنی کوئی تصویر اسے سینڈ نہیں کرتی تھی, پورا پورا دن آن لائن نہیں رہتی تھی
اویس اس کا سو فیصد وقت صرف اپنے لئے چاہ رہا تھا لیکن ایسا ناممکن تھا
………………………..
اس دن علینہ کی سالگرہ تھی, حاتم کی بہن کی کال آئی کہ وہ اس کے لئے تحائف وغیرہ لیکر آنا چاہ رہے تھے, اویس نے جیسے ہی گھر میں اناؤنس کیا, ایک افراتفری مچ گئی, ہنگامی بنیادوں پر تیاری کرنا تھی
“اے زرینہ… میری دھی, اچھا سا جھاڑو مار, پوچا مار… ٹھیک ہے… چمکا دے سارا کچھ” رخسانہ کی زبان چینی بنی ہوئی تھی
“امی بس کر… شوگر ہو جاۓ گی مجھے” وہ سب سمجھتی تھی, جھٹ پٹ علینہ کی ڈینٹینگ پینٹنگ ہوئی, کھانا بنا, ایک بجے کے قریب وہ لوگ آ گئے, رخسانہ, رفیق اور اویس گیٹ پر استقبال کے لئے کھڑے تھے
سب سے پہلے نسرین اندر آئی, پھر اس کے دو بچے, اور پھر وہ…
سیاہ رنگ کی پیروں تک آتی ریشمی کامدار فراک میں ملبوس, پیروں میں کئی انچ لمبی پنسل ہیل پہنے, چہرے پر میک اپ کا اچھا خاصا کوٹ کیے وہ اندر داخل ہوئی تھی, سیاہ نیٹ کا دوپٹہ بڑی بے فکری سے کندھے پر ڈالا ہوا تھا, لمبے سیاہ ریشمی بال شانوں پر لہرا رہے تھے, اس کے اندر داخل ہوتے ہی خوشبوؤں کا ایک جھونکا اندر آیا تھا
“ہیلو… ” وہ اندر آتے ہوئے بولی
“ماشاءاللہ… یہ شرمین ہے ؟” رخسانہ نے پوچھا
“ہاں جی… ” نسرین نے کہا, رخسانہ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا
“آئیں… اندر آئیں” اویس نے اس کا بھر پور جائزہ لیتے ہوئے اندر کی طرف اشارہ کیا تھا, وہ ایک دل نشیں مسکراہٹ اس کی طرف اچھالتے ہوۓ اس کے ساتھ ہو لی
“یہ کون باغ و بہار ہے ؟” حمزہ اور زبیر کی بانچھیں کھلی جا رہی تھیں
“یہ شرمین ہے, حاتم کی چھوٹی بہن” رخسانہ اپنی اولاد سے واقف تھیں, اس سے پہلے کہ ایک ایک کر کہ وہ سب ان کے کان میں گھستے, انہوں نے بآواز بلند تعارف کروا دیا
“ہاۓ اللہ آنٹی جی آپ نے تو ایسے تعارف کروایا ہے جیسے میں کوئی راجکماری ہوں ” وہ بڑے سٹائل سے مسکرائی تھی
“شرمین آپی آس وقت آپ کسی راجکماری سے کم تو نہیں ہیں ” زبیر نے کہا
“اوہو… آپی کس خوشی میں کہا ہے, اتنی بھی بڑی نہیں ہوں تم سے ” وہ مصنوعی خفت سے بولی
“گستاخی معاف راجکماری… تو پھر کس طرح پکارا جاۓ آپ کو ؟” زبیر اوچھے سے اوچھا ہوتا جا رہا تھا
“شرمین جی… ” اس نے ایک جھٹکا سا مارا, نیٹ کا دوپٹہ ڈھلک گیا, نہ جانے کتنی نگاہیں اس کے آر پار ہوئی تھیں, شرمین نے لا پرواہی سے اسے دوبارہ کندھے پر ڈال لیا
“شرمین آپ ادھر آ جائیں… ” اویس نے سنگل صوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا, اس نے ایک بھر پور نظر اس پر ڈالی, وہ ڈارک گرین کلر کا کرتا شلوار پہنے ہوئے تھا
کھانے کے دوران بھی وہ اویس کے ساتھ والی کرسی پر ہی براجمان رہی, اس بیچارے نے خود تو کیا کھانا تھا, بس اسے ہی اٹھا اٹھا کر دیتا رہا
واپسی پر انہیں دروازے تک چھوڑنے بھی آیا تھا
“تھینک یو سو مچ اویس… آپ کا ویلکم اور کھانا سب بہت زبردست تھا” وہ اس کے برابر میں چلتے ہوئے بولی تھی
“ذرہ نوازی ہے راجکماری… ” اویس نے دھیرے سے مسکراتے ہوئے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا, وہ جواباً ہنستے ہوئے اس کے سامنے جھکی, دوپٹہ ایک بار پھر ڈھلکا, ریشمی بال کندھوں سے ہوتے ہوئے آگے کو بکھر گئے
“باۓ… ” اویس کے دل کی دنیا اتھل پتھل کرتے ہوئے وہ باہر نکل گئی تھی
………………………….
اویس کی پروموشن ہوئی تھی, اس نے سب گھر والوں کو پارٹی دی تھی, اویس اور علینہ کے سسرال والوں کی طرف بھی مٹھائی بھجوائی گئی, وہ رات کے کھانے سے فارغ ہو کر کمرے میں آیا تو دس بج رہے تھے, اسے امید تو نہیں تھی کہ رملہ اس وقت کال ریسیو کرے لیکن اویس کی قسمت کہ اس نے کر لی
“زہے نصیب… آج ابھی تک جاگ رہی ہو” وہ بولا
“بچوں کے پیپرز چیک کر رہی تھی, اسلئے جاگ رہی ہوں ” وہ بولی
“اچھا, اچھا… ” اویس بستر پر لیٹتے ہوئے بولا
“آپ کو بہت مبارک ہو اویس… اللہ آپ کو اور کامیابیوں سے نوازے” وہ بولی
“بڑی بات ہے… ” وہ بالکل امید نہیں کر رہا تھا کہ وہ اسے مبارکباد دے گی, رملہ اس کا طنز سمجھ گئی
“میں پتھر تو نہیں ہوں اویس… ” اسے اویس کا یوں کہنا اچھا نہیں لگا تھا
“میرا وہ مطلب نہیں تھا رملہ… ” اویس جلدی سے بولا
“آپ کی پروموشن ہو گی تو کیا مجھے خوشی نہیں ہو گی ؟” وہ بولی
“اچھا ایم سوری… ” وہ بولا مبادا بات بگڑ ہی نہ جاۓ
“ایک بات کہوں ؟” وہ چند لمحوں بعد بولا
“کہیں ؟”
“میں آپ کو الگ سے ٹریٹ دینا چاہ رہا تھا” اویس نے کہا
“وہ کیسے… ؟” اس نے پوچھا
“ایک لنچ یا ایک ڈنر… ” اویس نے کہا
“کہاں… ؟”
“کہیں باہر…. ” وہ بولا
“اویس آپ پتہ کیا کریں… اپنی والدہ سے کہہ کر نکاح کروا لیں, پھر آپ جہاں کہیں گے, جب کہیں گے… میں چلی جایا کروں گی” وہ بولی
“اب نہیں جائیں گی ؟” اویس نے پوچھا
“نہیں… “
“کیوں ؟ ” اس نے پوچھا
“کیونکہ مجھے ایک نامحرم شخص کے ساتھ ہوٹلنگ کرنا بالکل اچھا نہیں لگتا” وہ بولی
“نامحرم… رملہ میری اور آپ کی شادی ہونے والی ہے” اویس شادی پر ذرا زور دے کر بولا
“ابھی ہوئی تو نہیں ہے نا… ” اس نے کہا
“پتہ ہے اویس… بیشک آپ کو میری بات بری ہی کیوں نہ لگے لیکن یہ حقیقت ہے کہ مرد کسی بھی صورت راضی نہیں ہوتا, میں اگر آپ کو ہر بات پر انکار کر دیتی ہوں تو بھی مسئلہ ہے لیکن اگر میں آپ کی ہر بات مان کر ہر جگہ ساتھ چل دوں تو بھی آپ کو ہی مسئلہ ہو گا اویس… کہ یہ تو شادی سے پہلے ہی اتنا کھل گئی ہے… آپ نکاح کروائیں جلد از جلد” رملہ نے کہا
“رملہ معذرت کے ساتھ لیکن… آپ بہت کنزرویٹیو ہیں” اویس کو ذرا سا غصہ آ گیا
“مجھے پتہ ہے… خدا حافظ “وہ دھیرے سے کہہ کر کال کاٹ گئی
…………………………
جاتم اور علینہ کی منگنی کو سات ماہ ہو چکے تھے, حاتم کی کال آتی تھی تو رخسانہ کبھی کبھار علینہ کی بات بھی کروا دیتی تھیں, ظاہر ہے وہ ماں تھیں, جب اپنے بیٹے کا اتاؤلا پن دیکھتی تو محسوس کرتی تھیں کہ دوسرا بھی تو یہ سب چاہتا ہو گا, دھیرے دھیرے شادی کے ہنگامے جاگنے لگے تھے, علینہ کا جہیز, پیٹیاں, چارپاییاں, بستر, کھیس, گڈے, رضائیاں, فرنیچر, الیکٹرانکس, کراکری, کپڑے…الغرض ہر شے…
وہ یوں سمجھ رہی تھی جیسے وہ بیاہ کر مریخ پر جا رہی ہو
“امی میرا ڈول… اور دودھ والی بالٹی… ” رخسانہ بازار جا کر وہ لیکر آئیں
“امی صابن دانی… اور نہانے والا ڈبہ” وہ بیچاری اگلے دن جا کر وہ لیکر آئیں
“امی لوٹا تو رہ ہی گیا… ” رخسانہ کی بجاۓ یاسمین کی بس ہو گئ
“خدا کا خوف کر علینہ… لوٹے بھی لیکر جاۓ گی اب… ” وہ پھٹ پڑی
“پتہ نہیں ان کے گھر لوٹا ہو گا یا نہیں… “
دیکھا… وہ فل ٹائم مریخ جانے کی تیاریوں میں تھی
“اچھا… ان کے تو پاخانے بند ہیں نا, انہیں تو حاجت ہی نہیں ہوتی ہو گی” یاسمین تڑخ گئیں
“امی اسے فلش اور تھوڑا سا گارا مٹی بھی دے دے… کیا پتہ ان کے گھر سنڈاس ہی نہ ہو, کم از کم یہ جا کر کھڑا تو کر لے گی” زرینہ نے لقمہ دیا
“تو بکواس بند کر… ” علینہ اور زرینہ کا تو چھتیس کا آکڑا تھا
اویس کی شاندار سی بری, جیولری, کاسمیٹکس… آۓ روز بازار کے چکر لگتے تھے
اس دن بھی رملہ کے جوتے خریدنے جانا تھا, حمزہ دو گھنٹے کی چھٹی لیکر آیا, اویس نے انہیں گاڑی بک کروا دی تھی, ڈرائیور کے ساتھ حمزہ کو بیٹھے دیکھ کر وہ جھجھک سی گئی, اس نے فیروزی رنگ کے سوٹ کے اوپر سفید بڑی سی چادر لی ہوئی تھی
وہ مسلسل شیشے میں سے پیچھے اسے ہی دیکھے جا رہا تھا, رملہ کو اس کی نظریں عجیب سی لگیں
دوکاندار نے جوتوں کا ڈھیر لگا دیا, رملہ نے ایک گولڈن جوتا پاؤں میں ڈالا اور جھک کر سٹریپ بند کرنے لگی
“باجی ایسے نہیں… ” دوکاندار آگے کو ہوا اور اس کا پاؤں پکڑنے لگا
“رہنے دو, میں کر دیتا ہوں” حمزہ نے اس کے پاس نیچے بیٹھ کر اس کا پاؤں پکڑا اور سٹریپ بند کر دی, اس کی انگلیوں کا لمس رملہ کے وجود میں سنسنی دوڑا گیا
“ٹھیک ہے یہ آنٹی… ” وہ سٹریپ کھولنے کے لئے دوبارہ جھکی تھی
“لائیں میں کھول دیتا ہوں” وہ بولا
“میں خود کھول لوں گی, دور رہو ” رملہ کو غصہ آ گیا, حمزہ اس کے سرخ پڑتے چہرے سے نظریں نہیں ہٹا سکا تھا
گھر آ کر بھی وہ شام تک نارمل نہ ہو سکا, صورتحال انتہائی عجیب تھی, حالانکہ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ رملہ اور اویس کا رشتہ طے تھا, کچھ ہی عرصے میں دونوں کی شادی ہو جانی تھی….وہ رشتے میں اس کی بھابھی تھی لیکن… دل اور ہی طرح ہمک ہمک جاتا تھا, منگنی کے بعد وہ ایک بار بھی رملہ کے گھر نہیں گیا صرف اسلئے کہ وہاں سے واپسی پر اس کا دل اگلے دو دن ادھم مچاۓ رکھتا تھا
……………………………
وہ اس دن حاتم کے گھر گیا تھا, اس کا ناپ لینا تھا, حاتم اسے ڈرائینگ روم میں بٹھا کر چاۓ کا کہنے چلا گیا, اس نے موبائل نکال لیا, پچھلے دس پندرہ دنوں سے اس کی رملہ سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی, اس بار وہ بھی غصہ تھا, اس کا دل چاہ رہا تھا کہ اس بار رملہ پہل کرے جو فی الحال تو ممکن نظر نہیں آ رہا تھا
کچھ دیر بعد حاتم آ گیا, وہ دونوں گپ شپ لگانے لگے, وہ چاۓ لیکر آئی تھی
سرخ رنگ کی فٹنگ والی شرٹ کے ساتھ کیپری ٹراؤزر جو کہ ٹخنوں سے اوپر جا رہا تھا, دوپٹہ ہمیشہ کی طرح گلے میں, بال کھلے اور فل میک اپ… اس کے ساتھ ہی خوشبوؤں کے جھونکے بھی اندر آۓ تھے
“اسلام علیکم… ” ٹرے میز پر رکھتے ہو ئے اس نے سلام کیا تھا, دوپٹہ کندھے پر سے پھسل کر نیچے گر گیا اور کالی زلفیں کمر پر بکھرتی چلی گئیں, اویس نے کھڑے ہوتے ہوئے بڑی گرمجوشی سے جواب دیا تھا, وہ سیدھی ہوئی اور دوپٹہ دوبارہ گلے میں ڈال لیا
“بیٹھیں اویس… ” وہ بولی
“چینی کتنی لیں گے ؟” وہ حاتم کے برابر والی کرسی پر بیٹھ کر اس کے لئے چاۓ بنانے لگی
“میرا خیال ہے اب ضرورت تو نہیں ہے” وہ معنی خیز انداز میں بولا, شرمین بس اسے ایک نظر دیکھتے ہوئے ادا سے مسکرا دی
“لیں… “اس نے کھڑے ہو کر کپ اویس کی طرف بڑھایا, کپ پکڑتے ہوئے اویس کی انگلیاں اس کی مخروطی انگلیوں سے مس ہوئی تھیں, شرمین ایک بار پھر مسکرا دی, اس نے حاتم کو بھی چاۓ کا کپ پکڑایا
“مبارک ہو آپ کو اویس… ” وہ بولی
“تھینک یو… ” اویس نے کہا
“بس سوکھا سوکھا… ” وہ ہنسی
“آپ بتا دیں گیلا کیسے کروں ؟” اویس نے مسکراتے ہوئے پوچھا
“کوئی بریانی, کوئی پیزا, کوئی زنگر, کوئی کباب… ” وہ کہتی چلی گئی
“جو حکم… جہاں آپ کہیں ؟” اویس نے کہا
“واقعی… ؟” وہ ایک ادا سے ہنسی
“بالکل… آپ جہاں کہیں گی وہیں ٹریٹ پکی… جو آپ کھانا چاہیں ” اویس نے کہا
“واہ… یہ ہوئی نا بات… میں بس چینج کر کہ آتی ہوں پھر چلتے ہیں, گاڑی ہے آپ کے پاس ؟” اس نے کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا
“نو پرابلم… میں منگوا لیتا ہوں”اویس بھی کھڑا ہو گیا
“اویس یار… رہنے دے, جو کھلانا ہے گھر پر ہی کھلا دے, اس کی تو فرمائشیں ویسے ہی ختم نہیں ہوتیں” حاتم نے کہا, شرمین کا منہ بن گیا
“یہ کیا بات ہوئی… ؟” وہ اس کے ساتھ جانے کے لئے بضد تھی, اگر حاتم نہ ہوتا تو چاہے بائیک پر ہی بیٹھ جاتی…اویس نے حاتم کے منع کرنے کے بعد اسے گھر پر ہی بریانی اور پیزا منگوا دیا
گھر آ کر بھی وہ گومگوں سا تھا, رخسانہ نے کئی بار پوچھا لیکن ٹال گیا, اگلے دو, تین دنوں تک یونہی رہا… چپ چپ… کھویا کھویا
جب رخسانہ شادی کی تاریخ کی بات کرتیں… تبھی سر منہ لپیٹ لیتا
آخر ایک دن انہوں نے اسے گھیر ہی لیا, سبھی نفوس جمع تھے
“منڈیا… کی مسئلہ تیرے نال… ؟” وہ بولیں
“منگنی تو کروا لی… شادی نہیں کروانی ؟” انہوں نے پوچھا
“امی ابھی تھوڑا رک جائیں ” وہ بولا
“کیوں, نو ماہ ہونے کو آۓ ہیں” رخسانہ نے کہا
“میں اور رملہ ایک دوسرے کو ذرا اور سمجھ لیں… ” وہ سر جھکا کر بولا
“دیکھ اویس… پتر تو چاہے پانچ سال لے لے, سمجھ وہی ہے جو شادی کے بعد آنی ہے” رخسانہ نے کہا
“اور اویس بھائی رملہ کو سمجھنے کے لئے بھی آپ کو وقت چاہیے, وہ لڑکی تو کھلی کتاب کی طرح ہے, نہ کوئی جھوٹ, نہ دھوکہ, نہ تصنع… سیدھی سادھی سی لڑکی ہے” زبیر نے کہا
“وہ تھوڑی کنزرویٹیو ہے ” اویس نے کہہ ہی دیا
“او کی ہندا…؟” رخسانہ تڑخ گئیں
“امی مطلب… ذرا پرانے خیالات کی ہے” وہ بولا
“اویس میرے ساتھ زیادہ بکواس نہ کر… کیا مطلب پرانے خیالات کی ہے, اور کیا کرے وہ… ؟ بات کرتی تو ہے تیرے سے ؟” رخسانہ بھڑک گئیں
“امی وہ بات نہیں ہے… بات تو کرتی ہے لیکن… ” اویس جھجھک گیا
“امی دیکھیں… میں نے اسے کہا کہ میری پروموشن ہوئی ہے تو میں تمہیں لنچ یا ڈنر کرواتا ہوں کہیں باہر… اس نے صفا چٹ انکار کر دیا مجھے اور ایک وہ ہے شرمین… جو اپنے منہ سے ٹریٹ مانگ کر میرے ساتھ ہوٹل جانے کو تیار تھی… ” اویس کی دوسری بات پر سب نے چونک کر اسے دیکھا… پھر ایک دوسرے کو دیکھا
“شرمین… ” کئی آوازیں ابھری تھیں
“آپ نے اسے لنچ آفر کیا ؟” حمزہ کو اچھا نہیں لگا تھا
“ہاں وہ ٹریٹ مانگ رہی تھی تو میں نے کہہ دیا کہ ٹھیک ہے” اویس کو کوئی شرمندگی نہیں تھی
“پھر لیکر کیوں نہیں گئے ؟” اس نے پھر پوچھا, پورا گھر خاموش بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا
“حاتم نے روک دیا”
“یعنی اس کے بھائی کو شرم آ گئی لیکن آپ کو نہیں آئی… ” حمزہ کے کہتے ہی اویس نے اسے گھورا
“زبان سنبھال کر…. ” وہ انگلی اٹھا کر بولا
“واہ… نو ماہ ہو گئے ہیں آپ کی منگنی ہوۓ, اور آپ ایک غیر لڑکی کو لنچ آفر کر رہے ہیں… وہ بھی ہوٹل میں… ؟ اور پھر کہہ رہے ہیں کہ زبان سنبھال کر” حمزہ کو نہ جانے کیوں اتنا غصہ آیا تھا… ایویں… بلا وجہ
“حمزہ تو چپ کر جا” یاسمین نے اسے گھرکا
“اویس… میری گل سن, قسمت والوں کو ملتی ہے رملہ جیسی لڑکیاں, خوبصورت بھی اور خوب سیرت بھی… شرمین جیسیوں کا کیا ہے… ؟ اس جیسی تو ہزاروں ہوتی ہیں…رملہ جیسی ہزاروں میں ایک ہوتی ہے” رخسانہ نے کہا, اویس چپ چاپ سنتا رہا
“دل خراب نہیں کرتے میرا بچہ… اب تو شادی ہونے والی ہے تیری, اس کے بعد جہاں مرضی لیکر جانا اسے, وہ کونسا منع کرے گی” رخسانہ رسان سے کہتی چلی گئیں, وہ بنا کچھ بولے اٹھ کر وہاں سے چلا گیا
چند دن بعد رخسانہ, رفیق اور زبیر جا کر شادی کی تاریخ طے کر آۓ تھے
…………………………
اس دن حاتم کی بہنیں علینہ اور حاتم کی شادی کی تاریخ طے کرنے آئی تھیں, ظاہر سی بات ہے پہلے دن اویس کی بارات اور اگلے دن اس کا ولیمہ اور علینہ کی بارات… تیسرے دن حاتم کا ولیمہ
تاریخ طے کر دی گئی, رخسانہ اور رفیق نے بڑا پر تکلف کھانا بنایا تھا, کھانے کے بعد چاۓ پیش کر دی گئی
“شرمین کہاں ہے… ؟ اس کی چاۓ ٹھنڈی ہو رہی ہے” رخسانہ کو کافی دیر بعد اس کا خیال آیا
“وہ شاید واش روم گئی تھیں” علینہ نے کہا
“حمزہ دیکھ ذرا وہ کہاں ہے ؟” رخسانہ کے کہنے پر حمزہ ساتھ والے کمرے میں دیکھنے آیا لیکن وہ وہاں نہیں تھی, وہ جیسے ہی باہر نکلا, اس کی نظر سامنے لان کی طرف اٹھ گئی, وہ وہاں اکیلی نہیں تھی, اویس اس کے ساتھ تھا, وہ دونوں موتیے کے پودوں کے جھرمٹ میں کھڑے تھے
شرمین کے فٹنگ والے لباس میں اس کا سراپا پوری طرح نمایاں ہو رہا تھا, اب کی بار دوپٹے کو کندھے پر آنے کی بجاۓ صرف کمر کے گرد ڈال رکھا تھا, لمبے بال کندھوں پر بکھرے تھے اور ہوا کے جھونکوں کے ساتھ ساتھ لہرا بھی رہے تھے, بڑی بے تکلفی سے وہ اویس کی باتوں پر مسکرا رہی تھی
حمزہ اویس کو آواز نہ دے سکا, بس ساکت سی نظروں سے دونوں کو دیکھتا رہ گیا
اچانک ہو کا جھونکا آیا, شرمین کے بال ادھر ادھر اڑنے لگے, کہیں سے ایک آوارہ پتہ اڑتا ہوا آیا اور اس کے بالوں میں اٹک گیا, اویس نے بڑے حق سے اس کے بالوں سے وہ پتہ کھینچ دیا
شرمین نے اسے دیکھا, اویس نے کندھے اچکاۓ اور دونوں ایکدم ہنس پڑے
حمزہ کی بس ہوئی تھی, وہ پیچھے کو مڑا اور ٹھٹھک گیا, زبیر عین اس کے پیچھے کھڑا تھا
“حمزہ یار یہ تو حد ہی ہو گئی… بس بیک گراؤنڈ میوزک کی کسر رہ گئی ہے” وہ بولا
“اویس بھائی زیادتی کر رہے ہیں رملہ کے ساتھ… ” حمزہ نے کہا
“دیکھ ذرا… بندہ پوچھے اسقدر ہنسنے کی کیا تک ہے, آج تک ہمارے سامنے نہ یہ بندہ اتنا ہنس کے دیا” زبیر اس سے متفق تھا, شرمین نے کسی بات پر ہنستے ہوئے اویس کے بازو پر ہاتھ رکھا تھا
“دراصل ایسی لڑکی چاہ رہا تھا یہ… ایسی جو شادی سے پہلے بھی اسے بیوی کے طور پر مہیا ہو, تبھی تو وہ بیچاری اس کی آنکھوں میں چبھتی ہے” زبیر بچہ تو نہیں تھا…. سب جانتا تھا
“زبیر یار… انہوں نے بعد میں بھی یہ ہی کیا تو… ؟ ظاہر ہے یہ چڑیل یہاں آنا جانا بند تو نہیں کرے گی نا… بلکہ بعد میں تو زیادہ آیا کرے گی, رملہ کے سامنے انہوں نے ایسے عشق کی پینگیں بڑھائیں تو… ؟” حمزہ دور کی سوچ رہا تھا
“پندرہ, بیس دن ہو گئے ہیں رملہ اور اویس بھائی کی لڑائئ ہوۓ, چھت پر جا کر تو فون سنتے ہیں, آواز ساری میرے کمرے میں سنائی دیتی ہے, یہ اس سے ہر وقت یہ ہی بات کرتے ہیں کہ آپ کال نہیں کرتیں, آپ بات نہیں کرتیں, آپ ریپلائی نہیں کرتیں, آپ میرے ساتھ لنچ پر چلیں… وہ بیچاری بھلا کیسے منہ اٹھا کر ان کے ساتھ چلی جاۓ اگلی پردہ کرتی ہے, بھلا یوں ہوٹلنگ کرتی اچھی لگتی ہے” زبیر پوری طرح رملہ کے حق میں تھا
“زبیر… یار ہم دونوں بات کریں اویس بھائی سے ؟” حمزہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا
“کیا بات ؟” وہ بولا
“یہ ہی کہ اگر دل نہیں مانتا تو اس کی زندگی برباد نہ کریں” حمزہ نے کہا
“زندگی تو سمجھ اس کی برباد ہو گئی حمزہ… شادی کی تاریخ طے ہو گئی ہے, اب انکار کیسے ہو گا ؟” زبیر نے کہا
وہ دونوں اندر آ ریے تھے, بس ایک دوسرے کی بانہوں میں بانہیں ڈالنے کی کسر باقی تھی
“توبہ… دیکھ ذرا” زبیر تو لاحول پڑھتے ہوئے وہاں سے کھسک گیا
……………………..
پورے گھر میں ایک کہرام مچا ہوا تھا, اویس کو کال آئی تھی, وہ سیل لیکر اوپر چلا گیا, زرینہ کہیں کپڑے ڈالنے اوپر گئی تھی
اسے لگا وہ رملہ سے بات کر رہا ہو گا لیکن… اس کے منہ سے شرمین کا نام سن کر وہ تو دنگ رہ گئی
فوری طور پر نیچے نہیں آئی, پہلے پوری تسلی سے اس کی ساری باتیں سنیں پھر نیچے آ کر قیامت قائم کر دی
“امی اس نے منہ کالا کروا دیا ہمارا, کہیں کا نہیں چھوڑا, اگلے مہینے اس کی شادی ہے اور یہ کسی اور سے عشق فرما رہا ہے” وہ اپنی پوری قوت سے گلا پھاڑ رہی تھی
“کس کی بات کر رہی ہے ؟” رخسانہ بوکھلا گئیں, مغرب کے بعد کا وقت تھا, زبیر اور حمزہ کچھ دیر پہلے گھر آۓ تھے
تہاڈا لاڈلا صاحبزادہ… امی یہ ناک کٹوا دے گا تیری” وہ آنسوؤں سے رو رہی تھی
“کیا ہوا ؟” اویس اس کے بین سن کر نیچے اترا
“کس سے بات کر رہا تھا تو ؟” زرینہ نے اس کے دو سال بڑے ہونے کا کوئی لحاظ نہ کیا
“میں… وہ رملہ سے… ” اویس سے بات نہ بن پڑی
“جھوٹ… سراسر جھوٹ… امی یہ شرمین سے بات کر رہا تھا” وہ زور سے چیخی
“کیا بکواس ہے یہ… ؟” اویس کو غصہ آ گیا, زرینہ کے دونوں بچے بلے لیکر ایک دوسرے کے پیچھے دوڑ رہے تھے, دادا جی کو چاۓ کا آرڈر دئیے آدھا گھنٹہ ہو گیا تھا, علینہ چاۓ لیکر آئی تو میدان گرم تھا
“امی خدا دی قسم …میں نے خود اپنے کانوں سے سنا ہے یہ اس شرمین سے باتیں کر رہا تھا, اسے کہتا مجھے ہمیشہ سے تمہارے جیسی لڑکی چاہئے تھی جو میرے برابر چل سکتی” زرینہ سارے راز کھول دینے کو تھی
“اویس… ؟” رخسانہ کی آنکھیں پھیل گئیں
“امی میری بات تو سنیں… ” اویس کی آواز زرینہ کے شور شرابے میں ہی دب گئی
“امی پوچھ اس سے… اس ڈائن کا نمبر ہی کیوں لیا اس نے ؟ کیوں بات کرتا ہے یہ اس سے ؟” زرینہ اس پر چڑھ دوڑی
“میری چا تے لے آؤ… ” دادا جی چیخے, زرینہ کے چھوٹے بچے نے کھینچ لے بلا دوسرے کے مارا, وہ آگے سے بروقت ہٹ گیا, بلا ٹھاں رفیق صاحب کے سر میں لگا
“بے غیرت… خبیث…. رک جا ” وہ ایک دم مغلظات بکتے ہوۓ اس کے پیچھے بھاگ لیے
“بکواس بند کر… چپ ہو جا” رخسانہ نے زرینہ کے تھپڑ جڑا تھا
“تو نے بات کی ہے اس سے ؟” رخسانہ نے اویس سے پوچھا
بیک گراؤنڈ میں مسلسل دادا جی کا راگ الپ رہا تھا… میری چا… میری چا
ساتھ میں رفیق صاحب کی گالیاں بھی میوزک کا کام دے رہی تھیں
“ہاں لیکن… ” رخسانہ کا تھپڑ اس کا گال رنگ گیا
تیس سالوں میں پہلی بار انہوں نے اس پر ہاتھ اٹھایا تھا, اویس سب سے پیارا تھا انہیں…ان کا پرفیکٹ بیٹا, زبیر اور علینہ تو بس ایویں تھے, اویس میں تو جان تھی ان کی.. تیس سالوں میں اس کی ہر جائز, ناجائز پوری کی تھی اس کی لیکن آج…
ان کے تھپڑ نے ہر طرف سناٹا کر دیا, ہر بندہ دنگ رہ گیا, رفیق صاحب بھی سناٹے میں آ گئے
“کیا لگتی ہے وہ تیری ؟” انہوں نے پوچھا, اویس جواب نہ دے سکا
“میری ایک بات کان کھول کر سن لے اویس… میں اس شریف عورت سے شادی کی تاریخ لے آئی ہوں اور اس چھنال کی وجہ سے میں اسے انکار نہیں کروں گی, تیری شادی رملہ سے ہی ہو گی سمجھا… چاہے مجھے علینہ کا رشتہ ہی کیوں نہ توڑنا پڑے” انہوں نے اسے انگلی اٹھا کر وارن کیا تھا
…………………….
جاری ہے