No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
نویں قسط
رات کے کھانے سے فارغ ہو کر اس نے برتن اٹھا کر کچن میں رکھے اور خود کمرے کی طرف بڑھ گئی, زبیر باقی لوگوں کے ساتھ بیٹھا تھا, اس کا ارادہ تھا کہ عشاء کی نماز پڑھ لے گی
“رملہ… ” اسے کمرے کی طرف جاتا دیکھ کر زبیر نے آواز دے لی, وہ رک گئی
“آؤ ذرا واک کر کے آتے ہیں” وہ کھڑا ہوتے ہوئے بولا, رملہ نے ایک نظر رخسانہ کی طرف دیکھا
“جا پتر… ” وہ اس کی ہچکچاہٹ بھانپ گئی تھیں
“چلیں… ” دوپٹہ سر پر لیتے ہوئے اس نے کہا, زبیر نے باہر نکلتے ہوۓ اس کا ہاتھ پکڑا تھا
رات نو بجے کا وقت تھا… گلی تقریباً سنسان ہی تھی, زبیر اس کا ہاتھ تھامے واک کرنے لگا, اچانک کوئی سایہ آتا دکھائی دیا, رملہ دھیرے سے اس سے ذرا دور ہوئی تھی, کوئی لڑکا تھا… خاموشی سے ان دونوں کے پاس سے گزر گیا
زبیر نے دوبارہ اس کا ہاتھ تھاما اور پھر مسکراتے ہوئے اپنی طرف کو کھینچا… رملہ ایک دم اس کے پہلو سے آ لگی
“زبیر… کوئی دیکھ لے گا” وہ بولی
“پھر کیا ہو گا… ؟ وہ کونسا ہمارے اشتہار چلوا دے گا” زبیر نے بڑے حق سے اس کے کندھوں کے گرد اپنا بازو لپیٹا تھا, عین اسی لمحے حمزہ کی موٹر سائیکل گلی میں داخل ہوئی, زبیر اسے یونہی لئے پلٹا تھا, حمزہ بس ایک نظر ان دونوں پر ڈالتا ہوۓ اندر چلا گیا
“امی…. امی” وہ یاسمین کو پکارتا ہوا اندر آ گیا
“کیا ہو گیا ؟” وہ بوکھلا گئیں
“ان دونوں سے کہہ کوئی خدا کا خوف کر لیں, کمرہ چھوٹا پڑ گیا ہے کیا ان دونوں کو جو اب گلی میں کھڑے ہو کر بے حیائی کرنی ہے” وہ چیخا
“بکواس بند کر حمزہ… ” رخسانہ نے اسے گھرکا
“جا کر دیکھیں… کیسے اسے بانہوں میں لئے سر عام گھوم رہا ہے” وہ بولا
“وہ اس کی بیوی ہے… جہاں مرضی, جب مرضی, جیسے مرضی لیکر گھومے… تو کون ہوتا ہے ان پر بے حیائی کا لیبل لگانے والا” رخسانہ تڑخ گئیں
“بھاڑ میں جاؤ سارے… ” وہ بکتا جھکتا اپنے کمرے میں چلا گیا
“اے یاسمین…. اس کا دماغ ٹھکانے لگا لے سمجھی, جس دن سے میری بہو اس گھر میں آئی ہے ان دونوں بہن بھائیوں کو آگ لگی پڑی ہے, آخر ایسا کیا کہہ دیا ہے اس نے ان دونوں کو ؟ ہر وقت دونوں کا پارہ سو پر گیا رہتا ہے, وہ سونڈی بھی چوبیس گھنٹے اس بیچاری کے پیچھے پڑی رہتی ہے, جب اسے کوئی کام کہہ دو فٹ انکار سن لو… اور یہ اجے دیوگن کی اولاد… اس کا تو غصہ ہی ناک پر دھرا رہتا ہے, میں ایک دن میں دماغ سیٹ کر دوں گی دونوں کا, بندہ پوچھے اویس کے ویسے اس نے متھے نہیں لگنا, علینہ بیاہ کر اپنے گھر چلی گئی, زرینہ کی زبان سے اللہ بچاۓ.. پیچھے رہ گئے یہ دونوں… وہ ان سے بھی بات نہ کرے تو کہاں منہ چھپا کر بیٹھی رہے… ” وہ اچھا خاصا تپ گئیں, غلط بات تو وہ رفیق صاحب کی بھی نہ سنیں… یہ تو پھر حمزہ تھا, زبیر اور رملہ کچھ دیر بعد واپس آ گئے, زبیر تو سیدھا کمرے میں چلا گیا, رملہ وہیں صحن میں عشاء کی نماز کے لیے وضو کرنے لگی, اندر آئی تو ناعمہ سے ٹاکرا ہو گیا
“کر آئیں سیریں… ؟” ناعمہ نے بھگو کر اسے لگائی, رملہ نے چپ چاپ ایک طرف سے ہو کر گزرنا چاہا لیکن وہ پھر بول پڑی
“ویسے کمال کی ہیں آپ… منٹ لگایا آپ نے زبیر کو قابو کرنے میں, وہ تو دیوانہ ہو گیا ہے آپ کا” ناعمہ کی قسمت کے رخسانہ اس کے پیچھے کھڑیں سب سن رہی تھیں
“ناعمہ… زبان سنبھال کر” رملہ نے کہا
“گھر والوں زبانیں تو بند کروا لیں گی لیکن باہر والوں کا کیا کریں گی… لوگ نہیں برداشت کرتے سر عام… ” رخسانہ نے اسے کھینچ کر تھپڑ مارا تھا
پھر دوسرا… پھر تیسرا
“بے حیا… تجھے آخر مسئلہ کیا ہے اس سے ؟” وہ اسے بالوں سے جھنجھوڑتی ہوئی کھینچ کر اوپر لے گئیں, رملہ تو بس ساکت سی کھڑی رہ گئی تھی
“اے یاسمین… ” رخسانہ کی دھاڑ سن کر یاسمین بوکھلا کر باہر نکلیں, زرینہ بھی بھاگ کر اپنے کمرے سے نکل آئی, حمزہ اندر بیٹھا کھانا کھا رہا تھا, رخسانہ نے اسے زور سے یاسمین کی طرف دھکا دے دیا
“پوچھ اس سے… پوچھ یہ کیا کہہ رہی تھی اسے ؟” وہ بھڑکیں
“اسے بدکردار کہہ رہی ہے تیری با کردار بیٹی… ” وہ چیخ پڑیں, یاسمین دم بخود رہ گئیں
“امی کیا ہو گیا ؟” زرینہ نے ان کا بازو پکڑ تے ہوئے پوچھا
“مجھے کچھ نہیں ہوا… اس چھٹانک بھر کی لڑکی سے پوچھ کے اس کو کیا ہوا ہے ؟ ابھی ان دونوں کی شادی کو ایک مہینہ بھی نہیں ہوا اور یہ اس کے منہ پر کھڑی ہو کر اسے لوگوں کی زبانوں سے سے ڈرا رہی ہے” رخسانہ ایک دم پھٹ پڑیں, ناعمہ غصے میں سرخ ہو کر اپنا ایک ہاتھ گال کے اوپر رکھ کر بیٹھی تھی, حمزہ نے انتہائی ناگوار نظروں سے اسے دیکھا
“میں آخری بار کہہ رہی ہوں یاسمین کہ اپنے بچوں کو سمجھا لے… اگر اس لڑکی کے کردار میں واقعی کوئی خامی ہے تو ثبوت کے ساتھ میرے سے بات کریں ورنہ میں نے زبانیں کاٹ دینی ہیں سب کی… میرے ساتھ جو کچھ ہوا میں نے صبر کا گھونٹ پی کر زندگی گزار لیں لیکن جو میرے ساتھ ہوا وہ نہ میں اپنی کسی بیٹی کے ساتھ ہونے دوں گی اور نہ کسی بہو کے ساتھ… میں نے اب ان دونوں کا اس قسم کا رویہ دیکھا تو میں نے سیدھا سیدھا شفیق کو کال کرنی ہے اور اسے کہہ دینا ہے کہ آ کر اپنا حصہ الگ کر لے” رخسانہ انتہائی غصے سے کہتے ہوئے نیچے چلی گئیں “چل دفع ہو تو اپنے کمرے میں…” یاسمین نے غرا کر زرینہ کو کہا تھا, وہ بادل نخواستہ سی واپس چلی گئی, انہوں نے زور سے کمرے کا دروازہ بند کیا, علینہ کو بالوں سے پکڑا اور اس کے دو تھپڑ مزید لگاۓ
“شادی طے ہوئی اویس اور رملہ کی, انکار کیا اویس نے, نکاح ہوا زبیر کا, بیچ میں آئی شرمین… تم دونوں نے کس خوشی میں بے غیرت پنا کھلارا ہوا ہے ؟” وہ اس پر برس پڑیں, ناعمہ رونے لگ گئی تھی
“بتا مجھے کیوں اتنی بری لگتی ہے وہ تجھے ؟” انہوں نے دوبارہ ناعمہ کو جھنجھوڑا
“چل امی بس کر… ” حمزہ سے اسے روتے دیکھا نا گیا
“اچھا… کر دیا بس, تو بتا دے, تجھے کیوں جن چڑھ جاتا ہے ان دونوں کو دیکھ کر ؟” یاسمین نے اسے گھرکا, حمزہ بول نہ سکا
“بول… کیا مسئلہ ہے تیرے ساتھ ؟” انہوں نے حمزہ کے ایک لگائی
“مجھے وہ بالکل نہیں برداشت ہوتی زبیر کے ساتھ…؟” حمزہ یکدم پھٹ پڑا
“کیوں… تیری معشوق تھی وہ ؟” یاسمین تڑخیں
“ہاں تھی… ” وہ زور سے بولا, یاسمین نے ایک دم اپنے منہ پر ہاتھ رکھا تھا, ناعمہ بھی پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھتی رہ گئی
“حمزہ… ؟” یاسمین کو یقین نہ آیا
“مجھے وہ اس دن ہی اچھی لگ گئی تھی جب پہلی بار اسے دیکھنے گیا تھا, اویس نے انکار کر دیا تو میں نے سوچا میں اس سے نکاح کر لوں گا لیکن… یہ سالا زبیر بیچ میں کود پڑا” حمزہ کہتا چلا گیا
“حمزہ… بس اب زبان بند کر لے, وہ زبیر کی بیوی ہے سمجھا, آج کے بعد میں تیری زبان سے یہ بکواس نہ سنوں ” یاسمین نے کہا
“واہ… اب مسئلہ بتا دیا تو حل نکالیں نا اس مسئلے کا… ؟ ” وہ تڑخا
“میں نے بوتھا سجا دینا ہے تیرا “یاسمین نے کہا
“تیرے باپ کو پتہ چل گیا تو گولی مار دے گا تجھے” وہ بولیں, حمزہ بس سر جھکا کر رہ گیا, ناعمہ خاموشی سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی
“کتنا مارا اسے… ایویں ؟” اکلوتی بہن تھی وہ اس کی… اسے دکھ ہوا تھا
“میں اس کی زبان بھی کاٹ دوں گی اگر اب اس نے بکواس کی تو… ؟” یاسمین بھڑک کر بولی تھیں
……………………….
“کیا کہتے ہیں پھر آپ کے گھر والے ؟” وہ اس دن شرمین کو ہوٹل لیکر آیا تھا, روز روز اس کے گھر تو نہیں جا سکتا تھا
“فی الحال تو منع ہی کر رہے ہیں ” اویس نے کہا
“کبھی مانیں گے بھی ؟” شرمین نے پوچھا
“امید پر دنیا قائم ہے… ” اویس نے کہا
“اپنی اماں کو کہیں کہ جسے میرے پلے سے باندھ رہی تھی وہ تو خوب رنگ رلیاں منا رہی ہے اپنے شوہر کے ساتھ… مجھے کس بات کی سزا دے رہی ہیں ؟” شرمین نے کہا
“ہاں… ایسے کہہ دوں تاکہ وہ اگر مانتی بھی ہوں تو نہ مانیں ” اویس ہنسا
“پھر اب کیا کریں گے؟” اس نے پوچھا
“علینہ کے کورٹ میں بال ڈالی ہے… دیکھو اب ؟” وہ بولا
“اویس… ایسے کام نہیں بنے گا, پورا گھر آپ کے خلاف ہے, پہلے اپنے ووٹ جمع کریں پھر الیکشن لڑیں ” شرمین نے کہا
“وہ کیسے ؟” اویس سمجھ نہ سکا
“مطلب یہ کہتے ایک ایک کر کہ سب گھر والوں کو رام کریں, اکیلے میں ایک ایک بندے کو قائل کریں, پھر اماں اور ابا سے بات کریں” شرمین نے اسے ایک نیا راستہ دکھایا تھا
……………………
رات کے دس بج رہے تھے جب وہ اپنا سرہانہ, موبائل اور چارجر اٹھا کر اوپر آیا اور ٹھٹھک گیا, ناعمہ اس کی چارپائی پر لیٹی ہوئی تھی
“ناعمہ…. ” حمزہ نے دھیرے سے اسے پکارا, وہ چونک کر اٹھ کھڑی ہوئی, آنکھیں سرخ انگارہ ہو رہی تھیں, حمزہ تڑپ گیا, وہ رو رہی تھی
“ناعمہ… میرا پتر کیا ہوا ؟” حمزہ نے اسے اپنی آغوش میں لیا, وہ پھر رو پڑی
“کچھ نہیں ہوا… ” وہ آنکھیں صاف کرتے ہوئے بولی
“پھر رو کیوں رہی ہے ؟” حمزہ نے اسے اپنے ساتھ لگایا ہوا تھا
“چل میرا بیٹا… بتا مجھے کیا ہوا ہے ؟” وہ خود اس کے آنسو خشک کرتے ہوئے بولا
“وہی جو آپ کے ساتھ ہوا ہے ؟” ناعمہ بلک بلک کر رو دی, حمزہ دم بخود سا بیٹھا رہ گیا
“میں چھوٹی سی تھی تب سے تائی امی کے منہ سے سن رہی ہوں کہ ناعمہ میرے زبیر کی دلہن بنے گی, امی نے بھی یہ ہی کہا کہ ناعمہ تو گھر کی گھر میں ہی رہ جاۓ گی, تایا نے بھی کئی بار اشاروں کنایوں میں یہ ہی کہا… اور اب دونوں نے چپ چاپ اسے رملہ کے سپرد کر دیا, میں کیا روؤں بھی نا… مجھے دکھ بھی نہ ہو” وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی, حمزہ بس چپ چاپ اس کا سر تھپکے گیا, کچھ دیر غبار نکالنے کے بعد وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور سیڑھیوں کی طرف بڑھی
“ناعمہ…. ” حمزہ نے اسے آواز دی تھی
“ہو سکتا ہے زبیر اب بھی تیرا ہو جاۓ ” اس نے دھیرے سے کہا, ناعمہ نے چونک کر اس کی طرف دیکھا
“وہ کیسے ؟” اس نے پوچھا
“میرا ساتھ دینا پڑے گا ؟” حمزہ نے دھیرے سے مسکراتے ہوئے کہا تھا
اس لمحے بس اسے رملہ کی خواہش تھی… شدید خواہش
……………………
علینہ نے چکر لگایا تھا, حاتم بھی ساتھ آیا تھا اور… شرمین جی بھی
“اس حرافہ کو کیوں ساتھ لیکر آئی ہے ؟” گھر کا ہر فرد علینہ کو گھور رہا تھا
“میں کیا کرتی… ؟ وہ کہتی میں بھی جاؤں گی” علینہ بیچاری بے بسی سے بولی تھی
“حاتم اور شرمین میں اچھا خاصا جھگڑا ہوا, وہ اسے ساتھ نہیں لیکر آنا چاہ رہا تھا, اور یہ محترمہ مجھ سے پہلے گاڑی میں بیٹھ گئیں” وہ کچن میں کھڑی رخسانہ کے کانوں میں کہتی چلی گئی
“پتہ نہیں یہ چڑیل کب پیچھا چھوڑے گی ؟” رخسانہ کی جان پر بنی ہوئی تھی, حاتم اور شرمین رات کا کھانا کھا کر چلے گئے, رملہ بس اس سے سرسری سا ہی ملی تھی, اویس کی تو شکل ہی دیکھنے کو اس کا دل نہیں کرتا تھا, علینہ دو دن کے لئے رک گئی تھی, ان کے جانے کے بعد وہ رملہ کے کمرے میں آئی اور کافی دیر بیٹھی رہی, ایک وہ ہی تھی جس سے بات کر کہ تھوڑا بہتر محسوس ہوتا تھا, اگلا پورا دن اویس نے علینہ کے کان بھرنے میں گزار دیا, وہ بضد تھا کہ وہ رخسانہ سے بات کرے, رات کے کھانے کے بعد علینہ نے زبیر کو باہر آنے کا کہا
“خیر ہے ؟” زبیر نے پوچھا, رملہ نماز پڑھ رہی تھی
“اویس بھائی اپنا کیس لڑنے لگے ہیں ” وہ دھیرے سے بولی, زبیر ایک نظر رملہ کو دیکھتے ہوئے اس کے پیچھے باہر نکل آیا
علینہ نے اس کا مدعا رخسانہ اور رفیق کے سامنے رکھ دیا تھا… ایک بار پھر وہی چیخ پٹاخ… شور شرابہ… گالم گلوچ
اویس اپنی ضد پر قائم تھا, فی الحال کوئی بھی اس کے ساتھ نہیں تھا, بارہ بج گئے لیکن معاملہ کسی طرف نہ لگا, زبیر تو اٹھ کر اپنے کمرے میں آ گیا, رملہ سو گئی تھی
“جان من… ” زبیر نے اس کی پشت اپنے سینے سے لگاتے ہوئے اسے بانہوں میں بھرا تھا
“سونا ہی ہے…. ؟” وہ قطعی اٹھنے کے موڈ میں نہیں تھی, زبیر سرگوشیاں کرکر کہ ہار گیا لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوئی, وہ بیچارہ چپ چاپ اسے آغوش میں لیکر خود بھی آنکھیں بند کر گیا تھا
……………………..
واقعی شرمین نے ٹھیک کہا تھا… اسے پہلے اپنے ووٹ بنانے چاہیں تھے
سب سے پہلا ووٹ شفیق کا تھا… وہ گھر کے جھمیلوں سے دور تھا سو اس سے بات کرنا آسان تھا, وہ جلدی مان گیا, ظاہر ہے کونسا اس کی بیٹی حاتم کے ساتھ بیاہی ہوئی تھی اور اس کے نزدیک بھی وٹہ سٹہ کچھ نہیں تھا
دوسرا ووٹ زرینہ چوہدری کا تھا جو اسے یونہی مل گیا, وہ اس دن فیکٹری سے ذرا جلدی واپس آ گیا تھا, کپڑے چینج کر کہ باہر نکلا اور کچن کی طرف آ گیا, رملہ عین اسی وقت کچن سے باہر نکلی تھی
“کچھ کھانے کو دے دو ناعمہ بھوک… ” وہ کہتے کہتے رک گیا, رملہ بس اسے ایک نظر دیکھ کر آگے بڑھ گئی, لیکن اویس نے اسے پکار لیا, وہ رک گئی لیکن مڑی نہیں
“رملہ ایم سوری… ” وہ بولا, رملہ اس کی بات سن کر دوبارہ آگے بڑھنے لگی تھی
“رملہ… ” اویس نے کہا
“اب کیا ہے ؟” وہ قہر بار نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولی
“رملہ میرا صرف طریقہ غلط تھا… ارادہ نہیں” وہ بولا
“اچھا… وہ کیسے ؟” اس نے پوچھا
“آپ میرے ساتھ ان چاہی بن کر زندگی کیسے گزار لیتیں؟” اویس نے پوچھا
“اوہ… میں تمہارے لئے ان چاہی تھی اس بات کا ادراک تمہیں عین بارات والے دن ہوا ؟” رملہ سارے آپ جناب بھول گئی
“میں نے انکار کیا تھا… سب گھر والوں کے سامنے ” وہ بولا
“اویس… تمہارے اس انکار کی بڑی مہربانی, اب خدا کا واسطہ ہے مجھے اپنی شکل مت دکھایا کرو, زہر لگتی ہے مجھے… تمہارے اس دن کے انکار کو زبیر نے اقرار میں بدل دیا تو سب ٹھیک ہو گیا, اگر وہ نہ ہوتا… اگر وہ مجھے نہ اپناتا… پھر کیا ہوتا ؟ میں آج کس مقام پر ہوتی ؟ ” وہ چیخ پڑی
“تم جیسے خود غرض لوگ ہوتے ہیں جنہیں سواۓ اپنی ذات کے اور کوئی چیز پیاری نہیں ہوتی” وہ بولی
“اے رملہ… بس کر دے اب, معافی مانگ تو رہا ہے میرا بھائی” زرینہ نہ جانے کب نیچے آئی تھی, اس نے بس رملہ کو بولتے سنا تھا
“مجھ سے معافی مانگ کر کوئی احسان نہ کرے یہ میرے سر پر…بس اپنی شکل گم کر لے” رملہ نے کہا
“تمیز سے بات کر سمجھی ” زرینہ ایویں تپ گئی
“کس سے… ؟ اس سے, جس نے یہ تک نہیں سوچا وہ ایک لڑکی کو عین نکاح والے دن انکار کر رہا ہے” رملہ کی آواز اونچی ہو گئی
“تو تجھے کیا فرق پڑا ہے… زبیر نے نکاح کر تو لیا ہے تیرے سے, عیش کر رہی ہے, کتے کی طرح پیچھے لگایا ہو ئے اسے ؟” زرینہ ہر حد پار کر گئی
“تو تم بھی لگا لو اپنے کتے کو اپنے پیچھے ” رملہ ہنسی
“بکواس بند کر لے سمجھی” وہ آگے کو آئی تھی, اویس نے بمشکل اسے روکا
“کیا ہو گیا ؟” رخسانہ بوکھلا کر کمرے سے نکلیں تھیں
“امی اس کی زبان بند کروا لے, ابھی سے کترنے والی ہو گئی ہے” زرینہ نے کہا
“پہلے تو یہ بتا کہ تو نیچے کیا کر رہی ہے, تجھے اوپر ہی مرے رہنے کو کہا تھا نا میں نے ” رخسانہ نے کہا
“پیاز لینے آئی تھی ” وہ بولی
“آج کے بعد میں تجھے نیچے نہ دیکھوں ” انہوں نے اسے اوپر کو دھکیلا تھا, رملہ کی آنکھیں لبا لب بھری ہوئی تھیں
“جا اپنے کمرے میں ” رخسانہ نے کہا, وہ چپ چاپ اندر چلی گئی
اگلے دو دنوں میں اویس نے اچھی خاصی لیپا پوتی کر کے زرینہ کو بھی اپنا ہمنوا بنا لیا…وہ تو ویسے ہی بے پیندے کا لوٹا تھی
…………………….
“بس… اٹھا لو برتن” زبیر نے کھانا ختم کرتے ہوئے کہا تھا, رملہ نے چپ چاپ برتن اٹھاۓ اور کچن میں رکھنے چلی گئی, واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں چاۓ کا کپ تھا
“چاۓ… ” دھیرے سے کہتے ہوئے اس نے کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا
“رملہ جان… ” زبیر نے اس کی کلائی پکڑی تھی
“کیا ہوا ہے ؟” وہ اسے اپنے قریب بٹھاتے ہوئے بولا
“کچھ بھی نہیں… ” وہ بولی, چہرہ ستا ہوا تھا, آنکھیں سرخ سرخ سی تھیں
“کچھ تو ہوا ہے ؟” وہ اس کا چہرہ اپنی طرف موڑتے ہوۓ بولا
“زبیر میں کچھ دن امی کی طرف چلی جاؤں ؟” رملہ نے پوچھا, پچھلے دو ماہ میں اس نے پہلی بار یہ فرمائش کی تھی, زبیر دھیرے سے آگے کو ہوا اور اس کے چہرے پر اپنا ہاتھ رکھا
“کسی نے کچھ کہا ہے ؟” زبیر کا مرحمی لحجہ سنتے ہی اس کی آنکھیں چھلک گئیں, زبیر نے اسے بڑی محبت سے سینے سے لگایا تھا, وہ آنسو بہاتی چلی گئی, زبیر بس اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتا رہا
“زبیر میں نے یا میرے گھر والوں نے کوئی زور زبردستی تو نہیں کی آپ کے اوپر… اپنی مرضی سے شادی کی ہے آپ نے مجھ سے… پھر ہر کسی کو یہ قلق کیوں ہے کہ میں نے آپ کو پھانس لیا ہے” وہ بولی
“زرینہ نے کچھ کہا ؟” وہ آخر کو اس کا سگا بھائی تھا, رملہ کچھ نہ بولی
“دنیا دو دھاری تلوار ہوتی ہے…کسی بھی صورت نہیں جینی دیتی,ہر قسم کی بکواس کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیا کرو” وہ اس کے آنسو خشک کرتے ہوئے بولا, اس کی آنکھیں اور ناک سرخ ہو گئی تھیں, زبیر نے نرمی سے اس کی آنکھوں کو چوما تھا
“کتنے دن کے لئے جانا ہے ؟” اس نے پوچھا
“ایک دو ماہ… ” وہ سنجیدہ سے لحجے میں بولی تھی, زبیر کی آنکھیں پھیل گئیں
“فیر مینوں وی نال ہی لے چل… کیونکہ دو ماہ میں پیچھے میں تو ویسے ہی جھلا ہو جاؤں گا” زبیر نے جس انداز سے کہا, رملہ کو ہنسی آ گئی
“ہنستی رہا کرو… اچھی لگتی ہو” اس نے دوبارہ سے گلے سے لگا لیا
“صبح دفتر جاتے ہوئے چھوڑ دوں گا… ٹھیک ہے ؟” زبیر نے کہا
“اوکے…. تھینک یو” رملہ نے مسکراتے ہوئے کہا
“میں نے اتنا سوکھا سا تھینک یو نہیں لینا” وہ بولا, وہ چند لمحے مسکراتی نظروں سے اسے دیکھتی رہی, پھر دھیرے سے اپنے لبوں سے اس کا گال چھو لیا
“تھوڑا سا اور گیلا کرو… ” وہ اسے اپنے قریب کرتے بولا, رملہ ہچکچا سی گئی, زبیر مسلسل اس کی آنکھوں میں جھانک رہا تھا, رملہ نے سرخ ہوتے ہوۓ نہائیت نرمی سے اس کے لبوں کو اپنے لبوں سے چھوا تھا اور پھر زبیر نے اسے پیچھے نہیں ہٹنے دیا, اس کی شدتوں کے زیر اثر رملہ کی سسکاری سی نکل گئی
“کل تو تم نے چلے جانا ہے… فئیر ویل ٹریٹ تو دے دو مجھے آج رات ” وہ دیوانہ وار اس کے گالوں کو گیلا کرتا جا رہا تھا, رملہ نے چپ چاپ اپنا آپ پوری طرح اسے سونپ دیا تھا
………………………
“آنٹی… ” رخسانہ کچن میں تھیں جب وہ ان کے پیچھے جا کھڑی ہوئی
“ہاں پتر…. ؟” وہ بولیں
“میں کچھ دنوں کے لئے امی کی طرف جا رہی ہوں, زبیر جاتے ہوئے مجھے ادھر چھوڑ دیں گے” اس نے کہا
“خیر تو ہے ؟” انہوں نے پوچھا
“جی… ویسے ہی” وہ بولی
“چنگا… ” وہ اس کا کندھا تھپتھپا کر چل گئیں, رملہ نے اپنا بیگ تیار کر لیا تھا, زبیر نے ناشتہ کرتے ہوئے اس کی طرف دیکھا
“ناشتہ تو کر لو ؟” اس نے کہا
“امی کہہ رہی ہیں ادھر ہی آ کر کر لینا” وہ ایویں مسکراۓ جا رہی تھی, زبیر بس کندھے اچکا کر رہ گیا, وہ اپنا بیگ اٹھا کر اس کے پیچھے ہی باہر نکل آئی
“بنو رانی کدھر چلیں …؟” زرینہ نے ہانک لگائی تھی, رملہ خاموش رہی
“میں نے پوچھا ڈولہ کدھر چلا ؟” جواب نا پا کر وہ موٹر سائیکل کے پاس آ گئی
“تو دن میں دس دفعہ نیچے اتر کے آتی ہے… تجھ سے کبھی پوچھا ہے کہ کیوں آئی ہے ؟” زبیر کو غصہ آ گیا
“میں نے تو ویسے ہی… ” زبیر نے اس کی بات کاٹ دی
“تو ماں ہے میری جو تو نے ویسے ہی پوچھا ہے ” وہ تڑخا
“اچھا جی… نہیں پوچھتی, غلطی ہو گئی ” زرینہ نے کھٹاک سے ہاتھ جوڑے تھے
“چوبیس گھنٹے بکواس نہ بھی کرو تو دن گزر جاتا ہے… آزما کر دیکھ کسی دن ” زبیر نے اس کے ایک سال بڑے ہونے کا ذرا لحاظ نہیں کیا تھا, وہ بس قہر بار نظروں سے رملہ کو دیکھتی رہ گئی
……………………..
رملہ اپنے میکے کیا گئی, اویس کو موقع مل گیا, اس نے پیچھے سے اپنی شادی کا وہ غدر اٹھایا کہ الامان الحفیظ… سب سے پہلے تو اس نے زبیر کو قابو کیا… اس کے سامنے جو جہاں کے رونے پیٹنے…وہ ہر بار کان لپیٹ کر اٹھ جاتا…زبیر اور علینہ اس معاملے میں ایک تھے…حمزہ کو بھی اس نے دھیرے دھیرے ہمنوا بنا لیا… اویس کس سے شادی کرتا ہے اسے ویسے ہی اس سے کوئی سروکار نہیں تھا… وہ تو ان دنوں اپنی ہی الجھنوں میں پھنسا ہوا تھا
اس دن بھی وہ اپنا مدعا بمعہ اپنے ووٹرز کے لیکر رفیق صاحب کی عدالت میں پیش ہو گیا, شفیق بھی آیا ہوا تھا, پورا گھر سواۓ رملہ کے رفیق صاحب کے کمرے میں جمع تھا
“اویس تو جس مرضی لڑکی سے شادی کر لے… اس کے علاوہ ” رفیق نے کہا
“اس میں کیا کمی ہے ؟” اویس نے پوچھا
“وہ علینہ کی نند ہے اور یہ اس کی سب سے بڑی کمی ہے” وہ بولے
“ابو جی یہ تو کوئی جواز نہیں ہوا, دنیا میں سارے وٹے سٹے اجڑتے ہی تو نہیں ہیں… بستے بھی تو ہیں” وہ بولا
“کوئی ہزاروں میں ایک بستا ہے… باقی ایک اجڑے تو دوسرا بھی ساتھ ہی اجڑتا ہے, پتر میری گل سن… آج تو اس لڑکی کو بیاہ کر اس گھر میں لیکر آتا ہے, کل کلاں کو تیری اور اس کی نہیں بنتی, اختلاف ہو جاتے ہیں, ظاہر ہے شادی کے بعد وہ تیری بیوی ہوگی… بیوی اور محبوبہ میں بڑا فرق ہوتا ہے اویس… بیوی کے نخرے محبوبہ کی طرح نہیں اٹھاۓ جاتے, تو اس پر پابندیاں بھی لگاۓ گا, اس کی کسی نہ کسی بات پر غصہ بھی کرے گا, اس کے خرچے ہی پورے نہیں ہونے تجھ سے… وہ روٹھ کر واپس چلی گئی تو پھر… کام خراب ہو گیا نا… اسی وقت حاتم کے دل میں تیری بہن کے لئے بال آ جاۓ گا پتر… میری یہ بات لکھ لے کہ اگر کبھی شرمین تجھ سے لڑ کر میکے گئی تو علینہ واپس ضرور آۓ گی, حاتم کوئی دل کا بادشاہ نہیں ہے جو تیری بہن کو بساۓ رکھے گا” رفیق صاحب کہتے چلے گئے
“ہو سکتا ہے یہ سب بس آپ کے خدشات ہی ہوں… ایسا کچھ ہو ہی نا… ” اویس نے کہا
“کیا گارنٹی ہے اس بات کی ؟” رخسانہ اس سارے معاملے میں پہلی بار بولی تھیں
“کیا مطلب ؟” اویس نے کہا
“مطلب کیا ضمانت ہے اس بات کی کہ آنیوالے وقتوں میں تیرے اس رشتے کی وجہ سے علینہ باپ کے در پر نہیں آ کر بیٹھے گی ؟” رخسانہ نے پوچھا
“امی میں کیسے ابھی سے ضمانت دے دوں ؟” وہ بولا
“کیوں ؟ تو اپنی ضمانت نہیں دے سکتا ؟” رخسانہ نے کہا
“اپنی تو دے سکتا ہوں لیکن… ؟” رخسانہ نے اسے ٹوکا
“لیکن کیا…. ؟ عشق لڑا سکتا ہے, گھر والوں سے ضد کر کہ شادی کر سکتا ہے لیکن اپنی محبوبہ کی ضمانت نہیں دے سکتا… ” رخسانہ نے کہا
“امی یہ کیا بات ہوئی بھلا ؟” اویس تنگ آ گیا, اس کے سارے ووٹرز خاموش تماشائی بنے کھڑے تھے
“یہ ہی بات ہے… دے ضمانت کے کل کلاں کو تیری یا تیری اس چھمک چھلو کی وجہ سے میری بچی کا گھر برباد نہیں ہو گا” رخسانہ نے کہا, اویس نے بے بس سا ہو کر رفیق صاحب کی طرف دیکھا, وہ کندھے اچکا گئے
“دے ضمانت اور جا کروا لے اس سے شادی ” رخسانہ نے فیصلہ سنا دیا تھا
وہ بھلا کیسے دے دیتا وقت سے پہلے ضمانت… ؟
………………………..
جاری ہے
