No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
مغرب کے بعد کا وقت تھا جب دروازے پر دستک ہوئی, یاسر نے دروازہ کھولا تھا
“زبیر ہے… ؟” اس نے یاسر سے ہاتھ ملاتے ہوئے پوچھا
“ہاں… آ جاؤ” وہ اسے اندر لے آیا, شمیم باہر ہی بیٹھی تھیں, انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا
“نائلہ بھائی کے لئے چاۓ بنا ” انہوں نے نائلہ کو آواز دی
“نہیں آنٹی… میں بس زبیر سے ملنے آیا تھا, وہ گھر پر ملا نہیں مجھے, ضروری کام تھا اس سے” حمزہ نے کہا
“زبیر اندر ہے پتر… رملہ کے ساتھ” شمیم نے کہا
“میں چلا جاؤں ؟” اس نے پوچھا
“ہاں پتر… ” شمیم نے کہا, وہ چپ چاپ سر جھکا کر اندر چلا گیا, دروازہ ہلکا سا بند تھا, کئی لمحے وہ دروازے کے باہر کھڑا رہا, سوچتا رہا… کیسے فیس کروں گا دونوں کو ؟ کیا کہوں گا دونوں سے ؟ کیسے معافی مانگوں گا ؟
ماتھے پر پسینہ آ گیا… ہاتھوں کی انگلیاں کپکپا اٹھیں… لیکن ہمت تو کرنا تھی
بڑی مشکلوں سے اس نے دروازے پر ہلکی سی دستک دی تھی
“آ جاؤ نائلہ… ” زبیر کی آواز آئی, وہ ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے اندر داخل ہو گیا, رملہ بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھی تھی اور زبیر اس کے سامنے بیٹھا اسے شوربے سے روٹی کھلا رہا تھا… وہ دونوں اسے دیکھتے ہی چونک گئے, حمزہ دو قدم آگے کو آیا تھا, بس ایک نظر رملہ کو دیکھا اور سر جھکا لیا, زبیر مسلسل اسے دیکھتا رہا, بولا کچھ نہیں…رملہ بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی, آنکھوں میں نفرت کے ساۓ امڈ آۓ تھے
“ایم سوری… ” وہ بس اتنا ہی کہہ سکا
“یہ کافی ہے… ؟” زبیر نے پوچھا, حمزہ دھیرے سے رملہ کے بستر کے قریب ہوا, دو زانو ہو کر نیچے فرش پر بیٹھا اور دونوں ہاتھ اس کے آگے جوڑ دیئے
“مجھے معاف کر دو” وہ رو رہا تھا
“میں تمہیں اپنے کس کس نقصان کے لئے معاف کروں ؟ تم نے میری عزت پر ہاتھ ڈالا اس کے لئے.. ؟ یا پھر تمہاری وجہ سے میں نے اپنا بچہ کھو دیا اس کے لئے… ؟” وہ انتہائی سرد لحجے میں بولی تھی
“اور کیا تمہارے معافی مانگنے سے میرے کسی بھی نقصان کا ازالہ ہو جاۓ گا ؟” اس نے پوچھا
“میں بہک گیا تھا…بھٹک گیا تھا” وہ سر جھکاتے ہوئے بولا, زبیر بالکل خاموش تھا
“میں آپ کے کسی نقصان کا ازالہ نہیں کر سکتا… اور شائد میں آپ سے معافی مانگنے کے سوا اور کچھ بھی نہیں کر سکتا” وہ بولا تو آواز بھرا گئی
“چاہے تو میرے سر میں جوتے مار لیں, اندھا کر دیں مجھے, جو دل کرے سزا سنا دیں میں بھگتنے کو تیار ہوں” وہ ہاتھ جوڑ کر رو رہا تھا
کیا یہ کافی تھا… ؟ نہیں… وہ اس لمحے رملہ حسین کے سامنے زندہ درگور بھی ہو جاتا تو وہ کافی نہیں تھا… سب سے آسان تو بس ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لینا تھا… جو وہ مانگ رہا تھا…کیا ایسے ہی مل جاتی ہے معافی؟ کیا ایسے ہی دے دینی چاہیے معافی ؟
“جاؤ یہاں سے… جس دن میری آنکھوں سے وہ سیاہ رات محو ہو گئی اس دن کر دوں گی تمہیں معاف… ” رملہ نے ہاتھوں کی پشت سے اپنے آنسو رگڑے تھے, حمزہ چند لمحے یونہی بیٹھا رہا, پھر اٹھ کھڑا ہوا, دروازے کی طرف بڑھا اور رکا
“کاش تو اس رات مجھے سچ میں گولی مار دیتا… ” دھیرے سے کہہ کر وہ باہر نکل گیا تھا
اگلے ہی دن شفیق اسے اپنے ساتھ لاہور لے گیا اور یاسمین کو سختی سے اس کے لئے رشتہ ڈھونڈنے کی تاکید کر کہ گیا, وہ خود رملہ کے گھر آیا تھا, اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا
“پتر وہ تیرا گھر ہے… تجھے واپس اپنے گھر ہی جانا ہے, کوئی ضرورت نہیں ہے کراۓ کے مکانوں میں ذلیل ہونے کی… میں اس خبیث کو اپنے ساتھ لیکر جا رہا ہوں” اس نے رملہ سے کہا تھا, زبیر کو بھی سمجھایا تھا, اصل بات نہ تو شمیم کو پتہ تھی اور نہ یاسر کو… اور شائد یہ بھی خدا کا شکر ہی تھا
ایک ہفتے بعد رملہ کا پلستر کھل گیا… بس اب صبح و شام مالش کرنا تھی, رخسانہ اور رفیق خود جا کر اسے واپس لیکر آۓ تھے
……………………….
وہ مغرب کے بعد دفتر سے واپس آیا, ظاہر ہے اتنے دن جو شارٹ لیوز لیتا رہا تھا اب اتنا کام بھی تو کرنا تھا, رخسانہ اور رفیق کو سلام کرتا ہوا وہ اندر آ گیا, ناعمہ کچن میں کھڑی تھی
“کھانا گرم کر دوں ؟” اس نے پوچھا
“رملہ نے کھا لیا ؟” اس نے جواباً پوچھا
“نہیں… “
“میں اس کے ساتھ ہی کھاؤں گا” زبیر کہہ کر اندر چلا گیا, وہ بیڈ پر بیٹھی اپنے ٹخنے پر ٹیوب مل رہی تھی
“جان جہاں کیسی ہو ؟” اس نے بیگ صوفے پر پھینکتے ہوئے پوچھا
“ٹھیک ہوں ” وہ دھیرے سے مسکراتے ہوئے بولی تھی
“بائیک پر بیٹھ سکتی ہو ؟” زبیر نے پوچھا
“کیوں ؟ کہیں جانا ہے ؟” رملہ نے پوچھا
“تمہیں ڈنر کروا کر لاتا ہوں ” وہ بولا
“اتنی مہربانی کس خوشی میں ؟” رملہ نے کہا
“تمہارے گھر واپس آنے کی خوشی میں” وہ بولا
“زبیر کچھ دن رک جائیں, گھر والے کہیں گے ادھر ذرا سی ٹھیک ہوئی اور ادھر سیر سپاٹے اور ہوٹلنگ شروع ہو گئی ” وہ بولی
“چلو… جیسے تم کہو, تمہارا ڈنر ادھار رہا” وہ شرٹ اتارتے ہوئے بولا
“کھانا لے آؤں ؟” رملہ نے پوچھا
“ہاں… بہت بھوک لگی یے” وہ واش روم میں گھس گیا, رملہ کچن میں آ گئی, شرمین اپنے لیے چاۓ بنانے آئی تھی, رملہ نے چپ چاپ سالن گرم کرنے رکھا اور برتن نکالے
“زبیر تو خدا کا شکر ادا کرتا ہو گا… تمہارے واپس آنے پر” وہ بولی
“کونسا شوہر بیوی کے گھر واپس آنے پر خدا کا شکر ادا نہیں کرتا… ؟ تمہارا… ؟” رملہ نے کہا
“میں تو کبھی اتنے لمبے عرصے کے لئے گئی ہی نہیں ” وہ ہنسی, رملہ نے سر جھٹک کر سالن نکالا
“بڑا مشکل ہوتا ہے ویسے ایسی صورتحال میں گزارا کرنا ؟” شرمین نے طنز کیا تھا
“کیسی صورتحال ؟” وہ چونک گئی
“یہ ہی جب منگیتر کوئی اور رہا ہو… عاشق کوئی اور رہا ہو.. اور شوہر کوئی اور بن گیا ہو” وہ بولی اور کپ اٹھا کر کچن سے باہر نکل گئی, رملہ بس سن سی کھڑی رہ گئی تھی, فریج سے دودھ نکالتی ناعمہ نے سب کچھ سنا تھا
وہ ٹرے لیکر کمرے میں آ گئی, بھوک ہی مر گئی تھی, زبیر شاور لیکر نکل آیا تھا
“کیا ہوا ؟” وہ اس کا ستا ہو چہرہ دیکھ کر بولا
“شرمین کو کس نے بتایا ؟” اس نے پوچھا
“کیا ؟” وہ چونک کر بولا
“یہ ہی کہ حمزہ میرا سابقہ عاشق رہا ہے” کہتے ساتھ ہی اس کی آنکھوں سے آنسو چھلک گئے
“شرمین نے ایسے کہا ؟” زبیر حیران رہ گیا, وہ بس ہاتھوں کی پشت سے آنسو رگڑتی چلی گئی
“زبیر میری تو ساری زندگی ہی تماشہ بنا دی آپ کے بھائیوں نے… ساری عمر میں اس عورت کے منہ سے اب یہ ہی طعنے اور تشنے سنتی رہوں گی” وہ بولی تھی
…………………………..
یاسمین اپنی پوری ہمت جٹا کر حمزہ کے لئے رشتہ ڈھونڈنے لگ گئی تھیں, صبح و شام کبھی ایک وچولن کے گھر تو کبھی دوسری… حمزہ اور شفیق کو لاہور گئے دس دن ہو گئے تھے, زرینہ اور شرمین کا کافی دنوں سے کوئی دنگا نہیں ہوا تھا
اس دن بھی رملہ نے مشین لگائی تھی, اس کے اور زبیر کے کافی کپڑے دھونے والے تھے, وہ اپنا دوسرا بازو پوری طرح استعمال میں لاتی تو تھی لیکن ابھی بھی اس میں درد کی ٹیسیں سی اٹھ جاتی تھیں
“بھابھی لائیں میں دھو دیتی ہوں ؟” ناعمہ کسی کام سے باہر آئی تھی
“نہیں میں خود ہی دھو لوں گی, تم سے کام کروانا بہت مہنگا پڑتا ہے مجھے” رملہ نے مشین میں پانی بھرنا شروع کردیا, ناعمہ چند لمحے وہیں کھڑی رہی پھر دھیرے سے آگے کو آئی
“بھابھی… ایم سوری ” وہ بولی تو آنکھیں چھلک گئیں
“کس بات کے لئے ؟” رملہ نے پوچھا
“ہر بات کے لئے… اب تک کی ہر غلط بات کے لئے, ہر غلط فعل کے لئے ” وہ واقعی نادم تھی
“تم زبیر کو چاہتی تھیں نا ناعمہ؟” رملہ نے پوچھا
“جب آپ بچپن سے اپنے نام کے ساتھ ہمیشہ ایک ہی انسان کا نام سنیں اور اکیس سال بعد وہ انسان ایک دم سے کسی اور کا ہو جاۓ تو… دکھ تو ہوتا ہے نا…” ناعمہ نے کہا
“میں نے کسی پر کوئی زور زبردستی نہیں کی ناعمہ… مجھے تو پتہ بھی نہیں تھا کہ وہ تمہارا تھا” رملہ نے کہا
“بھابھی میں نے دل سے مان لیا ہے کہ زبیر اب آپ کا شوہر ہے, خدا کی قسم آپ کو دل سے بھابھی کہہ رہی ہوں…جو غلطی ہو گئی اس کے لئے میں بہت شرمندہ ہوں ” وہ بولی, رملہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا, وہ آنسو صاف کرتے ہوئے مڑنے لگی تو رملہ نے روک لیا
“ناعمہ… شرمین کو کس نے بتایا میرے اور حمزہ والے معاملے کا؟” اس نے پوچھا
“پتہ نہیں… ان کے سامنے کبھی بھی ایسی کوئی بات نہیں ہوئی, خدا جانے انہیں کیسے پتہ چل گیا” وہ بولی, رملہ نے اثبات میں سر ہلا دیا, تبھی وہ باہر نکل آئی تھی, کام والی لڑکی کمرہ صاف کرنے لگ گئی
“ارے تم ابھی سے کپڑے دھونے لگ گئیں… کچھ دن ریسٹ تو کر لیتیں”وہ کرسی کھینچ کر اس کے سر پر بیٹھ گئی
“بہت کر لیا ریسٹ “رملہ نے کہا
“زبیر سے کہو تمہیں ایک ملازمہ رکھ دے…” وہ بولی
“اچھا… پھر میں سارے دن کیا کیا کروں گی ؟” رملہ نے پوچھا
“جو میں کرتی ہوں ” وہ ہنسی
“سوری… تمہارے والا کام میں بالکل نہیں کر سکتی” رملہ نے کہا
“ویسے ایک بات پوچھوں ؟” وہ بولی
“پوچھو… “
“حمزہ کو کالج آتے جاتے دیکھا ہو گا نا تم نے ؟” شرمین نے پوچھا, رملہ کے ہاتھ رک گئے
“یا ویسے ہی تم لوگوں کے گھر آتا جاتا تھا؟” وہ بولتی چلی گئی
“تم اپنی کرسی اٹھاؤ اور میرے سر پر سے دور ہٹ جاؤ ” رملہ نے کہا
“ارے بھئی میں نے کیا کہہ دیا” وہ حیرانی سے بولی
“اس میں اتنی شرمندگی والی کیا بات ہے, بندہ شادی سے پہلے محبت کر ہی لیتا ہے, تم نے اور حمزہ نے بھی کر لی تو کیا ہوا ؟” شرمین کہتی چلی گئی
“میں تم سے آخری بار کہہ رہی ہوں بکواس بند کر لو” رملہ زور سے بولی, رخسانہ کہیں باہر سے آئی تھیں
“اچھا جی… کر لی بکواس بند… سچی باتیں بکواس ہی لگتی ہیں” وہ رخسانہ کو دیکھتے ہوئے بولی
“کیا ہوا ہے ؟” رخسانہ نے رملہ کے سرخ چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا, وہ بس قہر بار نظروں سے شرمین کو دیکھ کر رہ گئی تھی
“کیا ہوا پتر؟” رخسانہ نے بعد میں پھر اس سے پوچھا, رملہ نے سب کچھ بتا دیا
“وہ بار بار حمزہ کو میرا پرانا عاشق کہتی ہے… ” رملہ رو ہی پڑی
“ایویں دل میلا نہ کر… ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیا کر…سار دن وہ فارغ رہتی ہے اور فارغ دماغ شیطان کا گھر ہوتا ہے” رخسانہ نے اسے سمجھایا تھا
……………………….
اویس اور شرمین کی لو میرج کو آٹھ ماہ ہو چلے تھے, یہ جو لو میرج ہوتی ہے نا… یہ بالکل ایک نئے پسندیدہ کھلونے کی طرح ہوتی ہے… شروع شروع میں تو بچہ اس کھلونے کو خود سے جدا ہی نہیں کرتا… پھر دھیرے دھیرے اس کا چارم ختم ہو جاتا ہے, وہی کھلونا پرانا ہوتا جاتا ہے, جگہ جگہ سے ٹوٹ جاتا ہے, اور آخر میں وہی بچہ اس کھلونے کو گھما کر ایک طرف پھینک دیتا ہے
اویس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو رہا تھا, شروع شروع میں تو اس کی آنکھوں پر بس شرمین جی کی ہی پٹی بندھی ہوئی تھی جو ڈھیلی ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی, آنکھیں بند کر کہ وہ اس کی ہر بات پر لبیک کہتا تھا, اپنی استطاعت سے بڑھ کر اس بندے نے اپنی بیوی کی فرمائشیں پوری کیں, کام والی رکھ کر دی, پانی لگوا کر دیا, ائیر کولر خرید کر دیا, ہر ہفتے ڈھیروں کی تعداد میں کریمیں, پاؤڈر, لوشن, شیمپو لا کر دیتا, ہر روز فیکٹری سے واپسی پر اس کے لئے جنک فوڈ, فروٹس, جوسز وغیرہ لیکر آتا, شرمین کے لئے کمرے سے فروٹ کبھی ختم نہ ہونے دیا اس نے… ہر دوسرے دن وہ ایک نئے سوٹ کی فرمائش داغ دیتی تھی… جو جہاں کا کپڑا اس نے شرمین کے آگے ڈھیر کر دیا لیکن آخر کب تک… وہ آخر تھا ہی کون ؟ فیکٹری میں کام کرنے والا ایک پورا سا سپر وائزر… وہ بھی آخر کہاں تک اس کے خرچے پورے کرتا… ؟ جبکہ اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی بدلے میں صرف اس کی ناراضی بھری ادائیں ہی دیکھنے کو ملتی تھیں, شوہر ہو کر بھی وہ اس کی نوکروں کی طرح منتیں کرتا پھرتا تھا تب کہیں جا کر وہ مانتی تھی… آخر کو مرد تھا وہ… اس کی بھی خواہشات تھیں, جذبات تھے…ان پر کتنا کو بند لگاتا ؟ دھیرے دھیرے وہ بیچارہ بھی تھکنے لگا, لحجے میں ہلکی ہلکی تلخی گھلنے لگی, ماتھے پر بل پڑنے لگے, آواز اونچی ہونے لگی
اس دن بھی اویس نہا کر نکلا تو اس کی شرٹ استری نہیں تھی
“شرمین یہ شرٹ پریس کر کے دو” اس نے شرمین کا بازو ہلایا
“اویس خود ہی کر لیں ” وہ کسمسا کر بولی
“میں نے کہا شرٹ استری کر کے دو… ” اویس نے اس پر سے کمبل کھینچ کر شرٹ اس کے اوپر پھینک دی
“کیا مصیبت ہے یار… ایک شرٹ بھی پریس نہیں ہوتی آپ سے ؟” وہ بھڑک گئی
“اور تم سے کیا ہوتا ہے ؟ کل سارا دن کیا کرتی رہی تھی جو کپڑے بھی استری نہیں کئے ؟” اویس کو غصہ آ گیا
“کل وہ آپ کی کچھ لگتی کام والی نہیں آئی ؟” وہ بستر سے اٹھتے ہوئے بولی
“زبان سنبھال کر بات کیا کرو سمجھیں… وہ نہیں آئی تو تمہارے ہاتھ بھی ٹوٹ گئے تھے کیا ؟” اویس نے اس کا بازو جھنجھوڑا تھا, شرمین اسے قہر بار نظروں سے دیکھتی ہوئی باہر نکل گئی, شرٹ لے جا کر ٹیبل پر پھینکی اور سوئچ لگایا, پاس ہی زبیر ڈائننگ پر بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا
“چاۓ بنا دوں ؟” رملہ نے پانی کا گلاس اس کے آگے رکھتے ہوئے پوچھا
“بنا دو… جلدی کرو ” زبیر نے بس ایک نظر شرمین کی طرف دیکھا تھا, رملہ بھی اسے دیکھ کر کچن میں گھس گئی
شرمین اپنے رات والے حلیے میں ہی تھی, کھلی سی گھٹنوں تک آتی شرٹ اور ساتھ کھلے کھلے پائنچوں کا پاجامہ…بال کمر پر بکھرے ہوئے تھے اور دوپٹہ سرے سے غائب… زبیر نظریں جھکا گیا, اویس چند منٹ بعد کمرے سے نکلا اور ٹھٹھک گیا… غصے کی ایک لہر اس کے اندر دوڑ گئی تھی
“چھوڑ دو… جاؤ اندر” اس نے انتہائی سرد لحجے میں کہتے ہوئے شرمین کے ہاتھوں سے شرٹ کھینچی اور اسے اندر کو دھکیلا, وہ زبیر اور رملہ کے سامنے اسقدر بے عزتی پر تلملا کر رہ گئی
“ڈھنگ کے کپڑے بدل کر ناشتہ دو مجھے جلدی… ” اویس شرٹ لیکر اس کے پیچھے ہی کمرے میں آیا تھا
“خبردار جو آئیندہ مجھے زبیر کے سامنے کچھ کہا تو… ؟” شرمین نے انگلی اٹھائی تھی
“اور خبردار جو تم آئیندہ بنا دوپٹے کے اس کمرے سے باہر نکلیں تو… یہ انگلی توڑ دوں گا میں تمہاری” اویس نے خونخوار نظروں سے اسے گھورا تھا
…………………………
اس دن پھر شرمین اور رملہ میں تو تو میں میں ہو گئی تھی, بات کھانا پکانے سے شروع ہوئی تھی لیکن حسب معمول شرمین نے حمزہ پر لے جا کر ختم کر دی, رخسانہ نے سب کچھ اپنے کانوں سے سنا اور شرمین کو اچھا ہی لتاڑا.. وہ سڑ سڑ کرتی اپنے کمرے میں چلی گئی, شام کو زبیر آیا تو رخسانہ نے رملہ سے پہلے اسے سب کچھ بتا دیا…
“امی اویس سے کہیں اسے اپنی زبان میں سمجھا لے… ورنہ پھر میرا سمجھانا اسے بہت برا لگے گا”وہ تپ گیا, رملہ نے خاموشی سے کھانا لا کر اس کے سامنے رکھ دیا
“تمہارے منہ میں زبان نہیں ہے جو اسے چپ کروا دے ” وہ اس پر بھی برس پڑا
“میں اس الزم کے جواب میں کیا کہوں جو مجھے پتہ ہی نہیں… اس نے اپنے دماغ میں یہ بات بٹھا لی ہے کہ میرا اور حمزہ کا شادی سے پہلے سے کوئی چکر تھا” رملہ پھٹ پڑی
“ہر بار وہ مجھے اسی چیز کا طعنہ دیتی ہے” وہ بولی
“ناعمہ اویس کو بلا کر لا…. ” رخسانہ نے کہا, اویس آیا تو رملہ اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی
“اویس تو نے شرمین سے کچھ کہا ہے ؟” رخسانہ نے پوچھا
“کس بارے میں ؟” وہ بولا
“حمزہ اور رملہ کے بارے میں ” انہوں نے پوچھا
“حمزہ اور رملہ کو کیا ہوا ؟” وہ چونکا
“تجھے پتہ ہی نہیں ؟” رخسانہ حیرانی سے بولیں, اویس نے نفی میں سر ہلا دیا, وہ سرے سے ہی کچھ نہیں جانتا تھا, رخسانہ نے اسے مختصراً سب کچھ بتا دیا
“اویس بھائی… میری بات سنیں, گھروں میں درانیوں جیٹھانیوں کے آپس کےجھگڑے ہوتے رہتے ہیں وہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے لیکن ان عام سے جھگڑوں میں مسلسل کسی کے کردار پر انگلی اٹھانا غلط ہے… اب اگر شرمین بھابھی نے رملہ کا نام حمزہ کے ساتھ جوڑا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا… اس حرامزادے کو اسلئے یہاں سے دفع کیا تھا کہ رملہ کی زندگی تھوڑی سہل ہو جاۓ گی لیکن وہ گیا ہے تو آپ کی زوجہ محترمہ نے اس کی کرسی سنبھال لی ہے ” زبیر پھٹ پڑا, اویس تو بس دم بخود بیٹھا سب کچھ سن رہا تھا
“اویس پتر… مجھے غلط نہ سمجھنا… لیکن پتر بیوی کو دل میں رکھا کرتے ہیں, اسے سر پر نہیں چڑھاتے کیونکہ پھر وہ سر پر چڑھ کر بیٹھ جاتی ہے… جیسے تو نے شرمین کو سر پر چڑھا لیا ہے, بیوی کے ناز اپنی جگہ, فرمائشیں اپنی جگہ… لیکن آنکھیں بند کر کہ اس کی ہر بات پر لبیک کہہ دینا الو کے پٹھوں کا کام ہوتا ہے, تو نے غلط کیا اویس جو اسے کام والی رکھ دی, اب وہ سارا دن کمرے میں فارغ بیٹھی شیطانی جال بنتی رہتی ہے, کبھی زرینہ سے پنگا, کبھی رملہ سے پنگا… کبھی ناعمہ سے چونچ لڑا لے گی… عورت کام میں لگی رہے تو اتنی تخریب کاریاں نہیں سوجھتی اسے… ” رخسانہ کہتی چلی گئیں
“اور پتر آٹھ مہینے ہو چلے ہیں تیری شادی کو… بچوں کا کوئی ارادہ نہیں ؟ فیملی نہیں بنانی تو نے ؟” رخسانہ نے کہا, اویس چپ رہ گیا
“امی وہ کہتی ہے ابھی تھوڑا وقت چاہیے اسے” وہ بولا
“چل پھر ٹھیک ہے… دئیے جا اسے وقت ” رخسانہ نے کہا, زبیر بس ایک نظر اسے دیکھتے ہوئے اپنے کمرے میں چلا گیا تھا
……………………….
علینہ کی ڈلیوری تھی… رملہ کو کال کی تھی اس نے, حاتم اور نسرین اسے لیکر ہسپتال چلے گئے تھے, رخسانہ بھی اویس اور شرمین کے ساتھ ہسپتال چلی گئیں, اللہ نے اسے بیٹی سے نوازا تھا, حاتم بہت خوش تھا… گول مٹول سی علینہ جیسی حورین… رملہ اور زبیر بھی ہسپتال آۓ تھے, رخسانہ بچی کو گود میں لیے بیٹھی تھیں, حاتم کو مبارکباد دے کر رملہ رخسانہ کی طرف آ گئی
“ماشاء اللہ… ” وہ اسے اٹھانے لگی تھی جب شرمین ایک دم اس کی طرف آئی
“یہ کیا کرنے لگی ہو ؟” وہ تیز لحجے میں بولی, رملہ ٹھٹھک گئی
“یار پلیز… تم نہ اٹھانا اسے” شرمین نے کہا
“کیوں ؟ اسے کیا ہے ؟” رخسانہ نے اسے گھورا
“ابھی ابھی بچہ گنوا کر بیٹھی ہے آنٹی… پرچھایا سخت ہے اس کا “وہ بچی کو گود میں لیتے ہوئے بولی, رملہ ایک دم خفت کے مارے سرخ ہو گئی
“خدا کا خوف کر شرمین… بچہ ہی گنوایا ہے نا… اللہ اور دے دے گا” رخسانہ کو اچھا نہیں لگا, رملہ چپ چاپ پیچھے ہٹ گئی
“میرے بھائی کی پہلی پہلی اولاد ہے یہ… اس پر تو کسی کا بھی غلط پرچھایا نہ پڑے” وہ بولی
“بس تو پھر تو بھی نہ اٹھا اسے… تیرا پرچھایا بھی کونسا نورانی ہے” رخسانہ نے بچی اس کے ہاتھوں سے چھین لی, شرمین کو قہر چڑھ گیا
“کیا مطلب ہے آپ کا آنٹی ؟” وہ تلملا کر بولی
“اب میرا منہ نہ کھلوا… چپ ہی بھلی ہے” رخسانہ نے بات ختم کی تھی, لیکن شرمین نے دل میں رکھی, علینہ کا آپریٹ ہوا تھا, تین دن بعد اسے چھٹی مل گئی, رخسانہ اسے اپنے ساتھ ہی لے آئی تھیں, نسرین اور حاتم شام کو واپس چلے گئے, ان کے جاتے ہی اس خدا کی بندی نے وہ واویلا کیا کہ توبہ…
رخسانہ تو کانوں کو ہاتھ لگاتی رہ گئیں
………………………
وہ ایک کال سن کر کمرے میں آیا تو رملہ سونے کے لئے لیٹ گئی تھی, اس نے اپنے بیگ میں اے ایک کاغذ نکالا اور اس کے سامنے رکھ دیا
“یہ کیا ہے ؟” رملہ نے پوچھا, وہ کسی پرائیوٹ کالج کا ایڈ تھا
“یہ نیا کالج بنا ہے روڈ پر… شہر جاتے ہوئے راستے میں آتا ہے, میرا ایک دوست وہاں ایڈمن میں ہے, انہیں سٹاف کی ضرورت ہے ” زبیر نے کہا
“اگر تم جوائن کرن چاہو تو ؟” وہ اس کے پہلو میں لیٹتے ہوئے بولا
“انٹر اور بی ایس کلاسز کے لئے…” رملہ نے ایڈ پڑھتے ہوئے کہا
“میں تو بس اسلئے کہہ رہا ہوں کہ تمہاری شرمین کی فضول گوئیوں سے تھوڑی جان چھوٹ جاۓ گی” زبیر نے کہا
“واپس کیسے آیا کروں گی ؟” وہ بولی
“کالج بس سے… وہ تمہیں روڈ پر اتار جایا کرے گی, وہاں سے سیدھا آؤ تو دس قدم پر گھر ہے” زبیر نے کہا
“کر لوں پھر ؟” وہ زبیر کے ساتھ جڑ کر لیٹتے ہوئے بولی
“کر لو… تھوڑا وقت کالج میں گزر جایا کرے گا, جب پریگنینسی ہو جاۓ گی تو چھوڑ دینا ” زبیر نے اس کے کندھوں کے گرد اپنا بازو لپیٹا اور اسے اپنے اور قریب کر لیا
“چلیں ٹھیک ہے… کب جانا ہے ؟” وہ اس کے سینے پر سر رکھتے ہوئے بولی
“میں صبح پوچھ لوں گا کال کر کے” زبیر نے اس کے بالوں میں چہرہ چھپاتے ہوئے کہا تھا
“میں سونے لگی تھی ؟” وہ اپنی گردن پر زبیر کی سانسوں کا شور محسوس کرتے ہوئے بولی
“تو سو جاؤ” وہ آنکھیں بند کرتا اس میں گم ہوا جا رہا تھا
اگلے ہی دن اس نے کال کر کہ رملہ کی سیٹ اوکے کروا دی اور اس کے سارے ڈاکیومینٹس جمع کروا دئیے, دو دن بعد اس کا لیٹر جاری ہو گیا تھا
شرمین کے تو پیروں کو آگ لگ گئی
“لو جی… اب رملہ جیسی بھی کالج میں پڑھانے جاۓ گی, کالج والوں کا تو پھر اللہ ہی حافظ ہے”اس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا, اویس بس چپ چاپ اس کی زہر فشانیاں سنتا رہا, شام کو زبیر آیا تو رملہ کو شاپنگ کروانے لے گیا, ظاہر ہے کالج کی نوکری کرنے جانا تھا تو لوازمات بھی تو پورے کرنے تھے نا… وہ کچھ کپڑے اور جوتے لیکر لدی پھندی واپس لوٹی
اس رات عرصے بعد زبیر نے اس کے چہرے پر خوشی کی کوئی رمق دیکھی تھی, جب سے ان دونوں کی شادی ہوئی تھی آج پہلی بار زبیر نے اسے یوں شاپنگ کروائی تھی ورنہ تو نا ہی کبھی اس نے کہا… اور نا کبھی زبیر کو ضرورت محسوس ہوئی
“تو اب مس رملہ حسین لیکچرار بن گئی ہیں ” وہ اسے اسقدر آسودہ دیکھ کر خود بھی بہت مطمئن تھا
………………………
حمزہ کے لئے ایک رشتہ آیا تھا…یاسمین کو کافی معقول لگا… لڑکی نے ایم ایس سی کی ہوئی تھی اور سرکاری سکول میں پڑھاتی تھی, چھوٹی سی فیملی تھی… یاسمین نے شفیق سے بات کی اور اگلے ہی دن رخسانہ, یاسمین اور رفیق صاحب جا کر لڑکی دیکھ آۓ
لڑکی میں کوئی کمی نہیں تھی…کافی خوبصورت اور خوب سیرت تھی, اب انہوں نے حمزہ کو دیکھنے آنا تھا, رات کے کھانے کے بعد ہی یاسمین نے شفیق کو کال کر دی
“میں ہفتے کو اسے لیکر آ جاؤں گا… اتوار کو ان لوگوں کو بلا لو, اتوار کی شام کو ہی میں اسے لیکر واپس چلا جاؤں گا”شفیق نے کہا تھا, وہ حمزہ کو واقعی کسی عادی مجرم کی طرح ٹریٹ کر رہا تھا, حمزہ کے آنے کی خبر شرمین کے کانوں میں بھی پڑ گئی تھی
صبح زبیر کو ناشتہ دے کر وہ خود واش روم میں گھس گئی
“رملہ جلدی کرو… چاۓ کا کپ دے دو مجھے” وہ ناشتہ ختم کرتے ہوئے بولا تھا
“میں لا دوں چاۓ زبیر ؟” شرمین نے کچن میں کھڑے ہوئے زبیر کی آواز سنی تھی
“نہیں شکریہ… مجھے بس اپنی بیوی کے ہاتھ کی چاۓ ہی اچھی لگتی ہے” زبیر نے دھیرے سے مسکراتے ہوئے کہا تھا
“ویسے بڑا ظرف ہے تمہارا… کتنی محبت سے تم اپنی بیوی کی خامیوں پر پردے ڈال دیتے ہو نا” شرمین نے کہا
“میری بیوی میں کوئی خامی نہیں ہے… ” وہ کھڑا ہو گیا
“یہ ہی تو تمہاری اعلیٰ ظرفی ہے”وہ چاۓ کا کپ اس کے آگے رکھتے ہوئے بولی تھی, تبھی رملہ کمرے سے نکل آئی, اس نے ہلکے کاسنی رنگ کا ایمبرائیڈیڈ سوٹ پہن رکھا تھا, ساتھ میں کاسنی اور وائیٹ امتزاج کا شیفون کا دوپٹہ تھا, سر پر سکارف لینا اس نے دوپٹہ ایک کندھے پر ڈال رکھا تھا, ہلکا ہلکا میک اپ اور ساتھ ہم رنگ لپ اسٹک… پیروں میں وائیٹ بلاک ہیلز
“چلیں زبیر… ” وہ کندھے پر بیگ اور بازو پر چادر ڈالتے ہوئے بولی تھی اور کمرے کو لاک لگایا تھا
“چاۓ… ؟” زبیر اس کی طرف مڑا
“چلیں آئیں… باہر بیٹھ کر پی لیں” رملہ بیگ اور چادر ڈائیننگ پر رکھتے ہوۓ بولی اور کچن میں چلی گئی, شرمین نے بڑے غصے سے ٹیبل پر پڑے چاۓ کے کپ کو دیکھا تھا جو زبیر نے چھوا تک نہیں تھا, کچھ ہی دیر بعد رملہ نے اسے چاۓ کا کپ پکڑا دیا, زبیر نے ہنستے ہوئے اسے کچھ کہا تھا, وہ بس مسکراۓ ہوۓ چادر لینے لگی
شرمین نے خونخوار نظروں سے ان دونوں کی طرف دیکھا… رملہ اس کے پیچھے موٹر سائیکل پر بیٹھی تھی
“ایسے کام نہیں چلے گا شرمین جی… زبیر اس کی ڈھال ہے… پہلے اس ڈھال میں سوراخ کرنا پڑے گا”اس نے شیطانی سی مسکراہٹ مسکراتے ہوئے سوچا تھا
……………………
جاری ہے
