No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
گیارھویں قسط
موٹر سائیکل گیراج میں کھڑی کر کے وہ اندر چلا آیا, اویس اپنے کمرے میں لیٹا تھا, رخسانہ, دادا جی کو دوا کھلا رہی تھیں, وہ چپ چاپ بیگ کندھے پر لٹکاۓ اپنے کمرے کی طرف چلا آیا, رملہ بیڈ پر بیٹھی موبائل دیکھ رہی تھی, زبیر نے بیگ اتار کر بیڈ پر رکھا اور اس کی طرف دیکھا, وہ ہنوز موبائل سکرین کی طرف متوجہ تھی, چہرے اور گردن کے نشان پرانے ہو کر مزید گہرے ہو گئے تھے, وہ بیچاری پورا دن سکارف سے چہرہ چھپا کر پھرتی تھی, زبیر نے اپنے بیگ سے ایک ٹیوب نکالی اور اس کی طرف بڑھا دی, رملہ نے انتہائی شکوہ کناں نظروں سے اس کی طرف دیکھا اور ٹیوب لیکر سائیڈ پر رکھ دی
“اب ناراض ہی رہنا ہے ؟” زبیر نے پوچھا, وہ کچھ نہیں بولی, بس چپ چاپ بستر سے اتر گئی
“کہاں جا رہی ہو ؟” اس نے رملہ کا ہاتھ پکڑتے ہوئے پوچھا
“کھانا لینے… ” وہ اپنا ہاتھ چھڑوا کر باہر نکل گئی تھی, زبیر سر جھٹک کر واش روم میں گھس گیا, کھانا کھا کر فارغ ہوا تو رخسانہ نے آواز دے لی, وہ اٹھ کر باہر نکل آیا
عدالت لگی ہوئی تھی… اویس ایک طرف بیٹھا تھا
“اس بے غیرت سے زیادہ عقل والا ہے وہ لڑکا, اس نے چھٹتے ہی کہہ دیا کہ آپ لوگوں کو یہ رشتہ لیکر آنا ہی نہیں چاہیے تھا” رخسانہ نے کہا
“کیا کہا اس نے ؟” زبیر نے پوچھا
“انکار کر دیا ہے” رخسانہ بولیں
“کہتا کل کلاں کو اگر شرمین نہ بس سکی تو علینہ مفت میں اجڑ جاۓ گی” رخسانہ نے کہا
“ہاں تو اور کیا کہے… ؟ اس کی تو سگی بہن ہے… اسے زیادہ پتہ ہے کہ وہ ایک دفعہ پہلے بھی طلاق لے چکی ہے, دوسری بار بھی لے سکتی ہے… ” زبیر نے کہا
“اس الو کے پٹھے کو سمجھا لے اب ؟” رخسانہ نے کہا
“اویس بھائی کیا یار… بس بھی کریں, جو سارے کہہ رہے ہیں وہ مان بھی لیں ” زبیر نے کہا
“یہ آپ لوگوں کی ایک فضول سی ضد ہے اور بس… ” وہ بولا
“او تجھے سمجھ نہیں آتی… اس کے بھائی نے انکار کر دیا ہے” رفیق صاحب کی بس ہو گئ
“اویس تو نے جتنی بکواس کرنی ہے نا آج ہی کر لے… لیکن آج کے بعد میں تیرے منہ سے یہ خرافات نہ سنوں, بندے کا پتر بن جا… میں نے کہہ دیا ہے, نہیں تو دونوں ٹانگیں توڑ کر منجی پر ڈال دوں گا” رفیق صاحب چنگھاڑ کر بولے تھے, اویس سر جھٹک کر اپنے کمرے میں چلا گیا,رملہ چاۓ وہیں رکھ گئی تھی, زبیر نے اپنا کپ اٹھایا اور کمرے میں آ گیا, وہ سونے کے لئے لیٹ گئی تھی
“رملہ… میری جان بس کر دے نا… ” زبیر نے اس کے بالکل ساتھ جڑ کر لیٹتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کے اوپر رکھا
“ایم سوری… مجھے غصہ آ گیا تھا” وہ دھیرے دھیرے اپنے پیر کا انگوٹھا رملہ کی ٹانگ پر پھیرنے لگا, وہ ہنوز کروٹ لئے پڑی تھی, آنکھیں لبا لب بھر گئی تھیں
“رملہ… ” زبیر نے اسے اپنی طرف موڑنا چاہا لیکن اس نے بری طرح اپنے اوپر رکھا اس کا ہاتھ جھٹک دیا
“دوبارہ مجھے ہاتھ نہ لگانا… زبردستی کرنی ہے تو کر لیں… وہ تو کر ہی لیتے ہیں آپ” بھرائی ہوئی آواز میں کہتے ہوئے وہ کروٹ بدل گئی تھی, زبیر بس خاموش بیٹھا اس کی پشت کو دیکھتا رہ گیا
…………………………
“اویس کے گھر والوں کو انکار کیوں کیا ؟” شرمین اس پر چڑھ دوڑی تھی
“میری مرضی… میں جسے مرضی انکار کروں, جسے مرضی اقرار کروں” حاتم نے کہا
“میری زندگی کے فیصلے کرنے والے تم کون ہوتے ہو ؟” وہ چیخی
“آواز بند کر لے سمجھی… ورنہ یہیں گلا دبا دوں گا” حاتم نے انگلی اٹھا کر کہا, علینہ کچن میں کھڑی تھی
“ابھی اسی وقت اس کے باپ کو فون کر کے کہو کہ ہم راضی ہیں” وہ بولی
“میں تو راضی نہیں ہوں” حاتم نے کہا
“کیوں ؟” شرمین نے کمر پر ہاتھ رکھ کر پوچھا
“کیونکہ مجھے ان کے گھر وٹہ سٹہ نہیں کرنا” وہ بولا
“حاتم… میرے ساتھ زیادہ بکواس کرنے کی ضرورت نہیں ہے, مجھے اویس سے ہی شادی کرنی ہے سمجھے, اتنی مشکلوں سے اس نے اپنے گھر والوں کو راضی کر کہ بھیجا اور تم نے انکار کر دیا… صرف دو دن ہیں تمہارے پاس… اگر دو دن کے اندر اندر اویس کے رشتے کو ہاں نہیں کی تو میں یہ گھر چھوڑ کر چلی جاؤں گی” شرمین نے انگلی اٹھا کر دھمکی دی تھی, نسرین اور حاتم ساکت کھڑے رہ گئے, رات کو جب وہ علینہ کے پہلو میں آکر لیٹا تو پھٹ پڑا
“تم ہی اپنے بھائی کو تھوڑی سی عقل دے دو, اچھا بھلا ہوا کرتا تھا وہ…بالکل ہی عقل سے پیدل ہو گیا ہے” وہ بیچارہ تنگ آیا پڑا تھا
“میں کیا کروں حاتم… ؟ جیسے آپ شرمین کے ہاتھوں مجبور ہیں بالکل ویسے ہی وہ سب گھر والے بھی اویس بھائی کے ہاتھوں مجبور ہیں, مسلسل تین دن تو بھوک ہڑتال جاری رکھی ہے انہوں نے, امی کبھی بھی نہ آتیں…. صرف ان کی وجہ سے مجبور ہو کر آئیں تھیں” علینہ نے کہا
“میں بتا رہا ہوں ان دونوں کی دال کوئی نہیں گلنی… دیکھ لینا” وہ بولا
“وٹے سٹے کے رشتے کبھی کامیاب نہیں ہوتے, اویس کے سر پر اس وقت صرف عشق کا بھوت سوار ہے, اور کچھ نظر نہیں آ رہا اسے” وہ کروٹ بدلتے ہوئے بولا, علینہ چپ رہی, حاتم نے دھیرے سے اس کے بالوں میں انگلیاں چلائی تھیں
“خدا کی قسم اگر کل کلاں کو اس اویس کی خاطر تم مجھ سے چھن گئیں نا… تو ایک دفعہ تو اسے چھیل کر رکھ دوں گا میں” وہ علینہ کو اپنے قریب کرتے ہوئے بولا تھا
آج اویس نے یاسر کے بعد حاتم نام کا بھی ایک دشمن بنا لیا تھا
………………………
دن کے گیارہ بج رہے تھے جب وہ سو کر اٹھا, آجکل ویسے بھی وہ من موجی سا ہو گیا تھا, موبائل چارجنگ پر لگا کر کمرے سے باہر نکلا تو سامنے ہی وہ نظر آ گئی, آج چار دنوں بعد نظر آئی تھی وہ… اس کی طرف پشت کئے کپڑے استری کر رہی تھی, دوپٹہ کندھوں پر ڈالا ہوا تھا, بالوں کی ڈھیلی سی پونی باندھی ہوئی تھی
حمزہ کے اندر کا شیطان پوری طرح انگڑائی لیکر بیدار ہوا تھا, زبیر دفتر گیا ہوا تھا, باقی سب اپنے اپنے کمروں میں تھے, وہ دھیمے سے مسکراتے ہوئے اس کے بالکل پیچھے جا کھڑا ہوا اور ڈائیننگ ٹیبل سے ٹیک لگا لی
“میرے خیال سے ایک بندے کو سوری کہنا چاہیے ” وہ بولا, بس ایک لمحے کے لئے رملہ کے ہاتھ رکے پھر وہ اپنے کام میں لگ گئی
“وہ بھی کان پکڑ کر… ” وہ بدستور اسے دیکھ رہا تھا
“آئیندہ اگر تمہیں مجھ سے بات کرنی ہے تو آپ کہہ کر کرنا سمجھے… ” وہ تڑخ گئی
“کس خوشی میں ؟” اس نے پوچھا
“کیونکہ میں رشتے میں تم سے بڑی ہوں” رملہ نے کہا
“اور میں عمر میں تم سے بڑا ہوں…. حساب برابر” وہ بولا, رملہ یکدم اس کی طرف مڑی تھی, حمزہ ایک لمحے کو تو سن رہ گیا, دل تڑپ اٹھا تھا اس کا چہرہ دیکھ کر
“تو تمہیں بنا کسی قصور کے ہی سزا مل گئی ؟” وہ بولا
“نہیں… قصور تو تھا میرا بھی کہ میں نے اس لمحے تمہیں جان سے مار کیوں نہیں دیا” وہ بولی
“یہ لو… مار دو مجھے ” وہ ٹیبل پر سے چھری اٹھا کر اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا تھا
“حمزہ آخر ارادہ کیا ہے تمہارا ؟” وہ تاسف سے بولی تھی
“ارادہ تو تمہارے ساتھ پوری زندگی بتانے کا تھا ” وہ بولا تو لحجے میں بے بسی سے گھل گئی
“چلو وہ تو پورا نہیں ہو سکا…اور آگے کو ہو بھی نہیں سکتا تو اب ؟” وہ بولی, حمزہ دھیرے سے آگے کو ہوا
“تمہیں زبردستی چھین لوں تو ؟” وہ بولا
“کیسے ” رملہ نے پوچھا
“وہ ابھی سوچا نہیں….” وہ مسکرایا تھا
“میری ایک بات کان کھول کر سن لو حمزہ… آئیندہ اگر تم مجھے میرے آس پاس اس قسم کی بیہودہ بکواس کرتے نظر آۓ تو خدا کی قسم میں تمہیں جان سے مار دوں گی” وہ پھنکار کر بولی تھی
……………………..
ایک بار پھر وہ دونوں آمنے سامنے تھے
“اب کیا ہو گا ؟ حاتم نے تو صاف انکار کر دیا…. ” اویس نے کہا
“مجھے ویسے حاتم سے یہ امید نہیں تھی” شرمین کو اس پر بے حد غصہ تھا
“آگے کیا کرنا ہے اب ؟” اویس نے پوچھا
“میں نے اسے دو دن کا وقت دیا ہے, اگر اس نے دو دن کے اندر اندر آپ کے رشتے کے لئے ہاں نہیں کی تو میں گھر چھوڑ دوں گی” شرمین نے کہا
“اور کہاں جاؤ گی ؟” اویس نے پوچھا
“وہ آپ کا مسئلہ ہے… آپ ٹھکانہ ڈھونڈ کر دیں گے مجھے کیونکہ میری تمام دوستوں سے واقف ہے حاتم” شرمین نے کہا
“ویسے… گھر چھوڑنے کے علاوہ میرے پاس ایک اور آپشن بھی ہے” اویس نے کہا
“کیا ؟” وہ چونک گئی
“دیکھ لو… تھوڑی ہمت کرنا پڑے گی” اویس نے کہا
“اس کی آپ فکر نہ کریں ” وہ دھیرے سے مسکرائی تھی, اویس نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے اسے اپنا آپشن بتا دیا, شرمین سوچ میں پڑ گئی
“کیا خیال ہے ؟” اویس نے پوچھا
“اگر حاتم پھر بھی نہ مانا تو کیا آپ کے گھر والے قبول کر لیں گے مجھے ؟” شرمین نے پوچھا
“میں نے قبول کیا… سمجھو میرے گھر والوں نے بھی قبول کیا, ان کا دل نہ بھی چاہے تو انہیں تمہیں علینہ کے منہ کو قبول کرنا پڑے گا” اویس انتہائی خود غرض ہو رہا تھا, شرمین نے اثبات میں سر ہلا دیا
………………………………
شام میں اس نے واشنگ مشین لگا لی , اس کے اور زبیر کے کافی کپڑے دھونے والے تھے, ایک دو راؤنڈز میں اس کے سارے کپڑے ڈھل گئے, لانڈری میں انہیں نتھار کر اس نے ٹوکری میں بھرا اور اسے اٹھا کر سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی, تبھی زبیر کی موٹر سائیکل اندر داخل ہوئی تھی, اس نے بس رملہ کو اوپر جاتے دیکھا تھا, فرسٹ فلور پر آ کر پہلے اس نے زرینہ کے بڑے بچے کو اوپر بھجوا کر یقین دہانی کی کہ حمزہ اوپر تو نہیں ہے… وہ ابھی آیا ہی نہیں تھا, وہ ٹوکری اٹھا کر اوپر آ گئی, جلدی جلدی سارے کپڑے پھیلاۓ اور خالی ٹوکری اٹھا کر سیڑھیوں کی طرف بڑھی, تبھی زبیر اوپر آیا تھا, بیگ کندھے پر تھا اور کارڈ گلے میں لٹک رہا تھا, وہ موٹر سائیکل کھڑی کر کہ سیدھا اوپر ہی آ گیا تھا, رملہ اسے دیکھ کر یکدم رک گئی
“تمہیں اپنی جان کہا ہے تو اب جان نکالو گی کیا میری ؟” زبیر دھیرے دھیرے قدم اٹھا کر اس کی طرف آیا, وہ پیچھے کو ہٹتی گئی
“جان تو آپ نے نکال دی میری… وہ بھی بس چند لمحوں میں ” رملہ کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں, زبیر اس کے اور قریب ہوا, وہ پیچھے دیوار سے لگ گئی
“میری جان ایم سوری… سوری” وہ اپنا ایک ہاتھ دیوار پر ٹکاتے ہوۓ ذرا سا اس پر جھکا
“آپ نے مجھ پر بھی شک کیا زبیر…” اس کی آنکھیں چھلک گئیں
“خدا کی قسم تم پر شک نہیں کیا… تم پر صرف غصہ آ گیا تھا” زبیر نے یکدم اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں بھرا اور اس کے آنسو صاف کیے, رملہ کا چہرہ اس کے بے حد قریب تھا, تبھی زبیر کی نظر اس کے لبوں سے کنارے پر پڑی… وہاں ابھی تک وہ جامنی رنگ کا نشان موجود تھا, زبیر بے خود ہو کر اس پر جھکا اور اپنے لب اس نشان پر رکھ دئیے, رملہ کی سانسوں میں یورش ہوئی تھی, لب دھیرے سے لرز اٹھے, زبیر کے ہوش گم ہوۓ تھے, آنکھیں بند کر کے وہ اس کے لبوں سے گھونٹ بھرتا چلا گیا, اس کی شدتوں کے زیر اثر رملہ کے ہاتھ سے ٹوکری چھوٹ کر نیچے گر گئی, دونوں ہاتھوں سے اس نے زبیر کے کندھوں کو جکڑا تھا, زبیر نے کندھے پر سے بیگ اتارتے ہوئے نیچے پھینکا اور اسے دونوں بازوؤں میں اٹھا لیا, اس کے لب ہنوز زبیر کے لبوں میں قید تھے, زبیر نے بے خود ہوتے ہوئے اسے چارپائی پر گرایا اور خود اس پر حاوی ہوتا چلا گیا, اس کے لب رملہ کی گردن پر رینگنے لگے تھے
“مجھے ان چار دنوں میں ہی اندازہ ہو گیا کہ میں تمہارے بنا ایک پل بھی نہیں رہ سکتا… آئی لو یو… آئی لو یو” وہ پوری طرح اس کے نشے میں چور ہو چکا تھا
“زبیر… کوئی آ جاۓ گا اوپر ” رملہ نے بمشکل خود کو اس کے لبوں سے بچا کر کہا
“چلو آؤ نیچے چلیں… ” وہ کھڑا ہو کر بولا
“واشنگ مشین دھو آؤں… دو منٹ تک”وہ اپنی سانسیں نارمل کرتے ہوئے بولی تھی
“جلدی آنا… میری حد ختم ہو رہی ہے ” وہ بیگ اٹھا کر نیچے چلا گیا تھا, رملہ نے نیچے آ کر لانڈری صاف کی اور ٹب ایک طرف رکھ کر کمرے میں آ گئی
زبیر کی حد واقعی ختم چکی تھی, کمرے میں پیر رکھتے ہی وہ اس کی بانہوں میں تھی
پوری رات کے لئے…زبیر بس اسے دیوانہ وار چوم رہا تھا… اس کے کانوں میں سرگوشیاں سی گھول رہا تھا… اس کے روم روم سے اپنا سکون کھینچ رہا تھا
صبح اس نے نہا کر فجر کی نماز پڑھی تو طبیعت عجیب سی محسوس ہوئی, گھٹن سی ہو رہی تھی, اس نے کھڑکی کھول کر پردہ آ گے کر دیا, تبھی اسے قے کی سی کیفیت ہوئی…منہ پر ہاتھ رکھ کر وہ واش روم کی طرف بھاگی, اس کی تکلیف دہ آوازیں سن کر زبیر اٹھ کر اس کے پیچھے آیا تھا
“کیا ہوا ؟” اس نے واش روم کے دروازے میں کھڑے ہو کر پوچھا
“توبہ… جان نکل گئی میری” وہ پسینوں پسین چہرے کے ساتھ باہر نکلی تھی, زبیر نے لائیٹ جلائی اور پنکھا تیز کر دیا, رملہ بیڈ پر بیٹھی لمبے لمبے سانس لے رہی تھی
“رملہ… ” وہ اس کے پاس بیٹھ گیا
“پا جی تو نہیں آ گئے اندر ؟” وہ اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا, رملہ نے چونک کر اسے دیکھا تھا, پھر اس کی بات کا مطلب سمجھ کر سرخ ہوئی تھی
“مجھے بھی یہی لگتا ہے” وہ دھیرے سے مسکرا دی
“ہولے ہولے…. ہولے ہولے ہولے” زبیر نے گنگناتے ہوۓ اس کی طرف دیکھا تھا, وہ اسے کہنی مارتے ہوئے مسکرا دی تھی
………………………….
وہ نہ جانے کب سے غائب تھی… نسرین نے تب دھیان دیا جب اسے ناشتے کے بعد دوپہر کے کھانے پر بھی نہ دیکھا
“شرمین کہاں ہے ؟” اس نے علینہ سے پوچھا
“پتہ نہیں ” وہ بولی, نسرین اس نیوز اب میں تو کچھ بھی کہہ رہی کے کمرے کی طرف بھاگی… کمرہ خالی
پورا گھر چھان مارا, چھت پر بھی دیکھ لیا لیکن شرمین ندارد
کال کی تو نمبر بند… نسرین سے سر پکڑ لیا
“حاتم کو کال کریں نسرین باجی… ” علینہ کے چھکے چھوٹ رہے تھے, نسرین نے حاتم کو کال کر دی, وہ بیچارہ فوراً اویس کے کیبن کی طرف دوڑا… وہ خالی تھا
“اویس نہیں آیا آج ؟” اس نے ایک ساتھی ورکر سے پوچھا
“اویس صاحب کی چھٹی آج ” اس نے کہا, حاتم نے اویس کا نمبر ملایا جو ہنوز بند… وہ بیچارہ سر پر پیر رکھ کر گھر کی طرف دوڑا
وہاں علینہ اور نسرین پریشان ہوئی بیٹھی تھیں
“کچھ پتہ چلا ؟” نسرین فوراً حاتم کی طرف دوڑی
“نہیں… اویس کی بھی چھٹی ہے آج” وہ علینہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
“گھر کال کرو… پوچھو کسی کو اس کا پتہ ہے؟” حاتم نے کہا, علینہ نے گھر کا نمبر ملایا
“اویس بھائی کہاں ہیں امی ؟” رخسانہ نے اٹھایا تھا
“اویس فیکٹری میں ہو گا” وہ لا علم تھیں
“فیکٹری سے تو چھٹی کی ہے” علینہ نے کہا
“اچھا… گھر پر تو نہیں ہے… اویس, اویس” وہ سیل کان سے لگاۓ اسے آوازیں دینے لگیں لیکن وہ واقعی گھر پر نہیں تھا
“امی… میری بات سنیں ؟” علینہ رونے والی ہو گئی
“شرمین صبح سے کہیں غائب ہے, وہ پکا اویس بھائی کے ساتھ ہو گی… امی اویس بھائی اسے بھگا کر کہیں لے گئے ہیں” وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی, رخسانہ دم بخود رہ گئیں
“یہ اویس کا بچہ ایک دفع میرے ہتھے چڑھ تو جاۓ ذرا… اسے چھوڑوں گا نہیں میں” حاتم آگ بگولا ہو رہا تھا, رخسانہ نے جھٹ پٹ حمزہ اور زبیر کو کال کروائی, وہ دونوں ہی لاعلم تھے کہ اویس کہاں گیا
شام تک دونوں کا کچھ پتہ نہیں چلا, علینہ وقفے وقفے سے گھر کال کرتی رہی لیکن بے سود… حمزہ اور زبیر نے اویس کے سارے دوست چھان مارے لیکن کوئی پتہ نہ چلا
مغرب سے زرا پہلے علینہ کا فون بجا, زبیر کی کال تھی
“علینہ… اویس بھائی گھر آ گئے ہیں لیکن…” وہ انتہائی پریشانی میں بول رہا رھا
“لیکن کیا زبیر بھائی…. ؟” وہ چیخی
“شرمین ان کے ساتھ ہے…. دونوں نے نکاح کر لیا ہے” زبیر نے اس کے سر پر بم پھوڑا تھا
………………………
“بے غیرت… کتا کسی زمانے دا” رفیق صاحب کا تھپڑ اس کے چودہ طبق روشن کر گیا, وہ صحن کے بیچوں بیچ کھڑا تھا, سبھی وہاں جمع تھے… شرمین اس سے دو قدم پیچھے کھڑی تھی
“تیرے جیسی گندی اولاد ہوتی ہے اویس جو ماں باپ کے چٹے سروں میں کوڑا اٹھا اٹھا کر ڈال دیتی ہے, تجھے کوئی احساس ہے اپنی اور والدین کی عزت کا…بس ایک ضد ہے جو تو نے آج پوری کر لی… کیا منہ دکھاؤں گا میں اس کے بھائی کو… جوائی ہے وہ اس گھر کا جس کی بہن سے تو نے بھاگ کر شادی کر لی” وہ دھاڑ رہے تھے
“ابو میں نے کوئی گناہ نہیں کیا… ” وہ بولا
“بکواس بند کر… ” دوسرا تھپڑ لگا تھا, رخسانہ ایک طرف سر پکڑ کر بیٹھی تھیں
“میں نے کوئی سو دفعہ آپ لوگوں سے کہا تھا کہ میں نے شرمین سے شادی کرنی ہے لیکن آپ لوگ نہیں مانے, بس اپنی وہ وٹے سٹے والی فضول سی ضد کو لیکر بیٹھے رہے, شرمین نے ہزار دفعہ حاتم سے بات کر لی لیکن اس کی بھی وہی مرغے کی ایک ٹانگ… رشتہ بھیجا تو انکار کر دیا… پھر بتائیں کیا کرتا میں… ؟ ابھی صرف نکاح کیا ہے… اگر اسے قبول نہیں کر سکتے تو میں گھر چھوڑ دیتا ہوں” وہ بولا, رخسانہ تاسف سے اسے دیکھ کر رہ گئیں
“چل نکل… ابھی اسی وقت میرے گھر سے نکل, چل شاباش… میں بھی دیکھوں تو اکیلا کتنے دن رکھے گا اسے ؟” رفیق صاحب نے چنگھاڑتے ہوۓ اسے دروازے کی طرف دھکا دیا تھا
“ابو بس کریں… جانے دیں, جو ہونا تھا سو ہو گیا” زبیر نے انہیں بازو سے پکڑا تھا
“آج دوسری دفعہ ذلیل کروا دیا اس منڈے نے… پتہ نہیں اس کی عقل کہاں مر گئی ہے” رفیق صاحب ٹھنڈے نہیں ہو رہے تھے
“ابو سارا قصور اویس کا ہی تو نہیں ہے, وہ جو پیچھے چھمک چھلو کھڑی ہے وہ بھی برابر کی شریک ہے اس کے ساتھ ” زرینہ کی زبان میں خارش ہوئی تھی
“تو چپ کر جا… ” زبیر نے اسے گھرکا
“کیوں چپ کر جاؤں… دو چپیڑیں اس کے منہ پر بھی مارنے والی ہیں, جس دن سے یہ ہمارے گھر میں آئی تھی اس دن سے یہ اویس پر ڈورے ڈال رہی تھی, بے شرم… بے حیا…اسی کی وجہ سے وہ عین بارات والے دن بھاگ گیا تھا” زرینہ بولتی چلی گئ
“بکواس بند کر لے… ” اویس نے اسے گھرکا اور اس سے پہلے کہ کچھ اور کہتا, حاتم دھاڑ سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا, اس کے پیچھے علینہ اور نسرین تھی
“ذلیل, کمینے تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گا میں… حرامزادے” اس نے اویس کا گریبان پکڑ کر تابڑ توڑ چہرے پر مکے برساۓ تھے
“حاتم یار چھوڑ دے… بس کر دے” زبیر اور حمزہ بیچ میں آۓ تھے
“سالے تو نے نہ دوستی کا لحاظ کیا اور نہ رشتے داری کا… ” حاتم اس کا گریبان ہی نہیں چھوڑ رہا تھا
“حاتم بس کر دے یار… چھوڑ دے” زبیر نے بمشکل حاتم کے ہاتھوں سے اس کا گریبان آزاد کروایا, اویس کے منہ سے خون بہنے لگا تھا
“اور تو… ” وہ قہر بار نظروں سے شرمین کی طرف مڑا
“حاتم بس… اسے کچھ نہ کہیں” نسرین یکدم اس کے آگے آئی تھی
“میری عزت دو کوڑی کی کر دی اس لڑکی نے… ” وہ چنگھاڑا تھا
“حاتم پتر… چل بس, بس کر دے” رخسانہ اٹھ کر اس کے پاس آئی تھیں
“پتر ہم مجرم ہیں تیرے… جو چاہے سزا دے دے, مار لے اسے جتنا مارنا ہے حالانکہ اسے مارنے سے تیری سونے جیسی عزت واپس نہیں آنیوالی” وہ رو پڑیں, اویس نے اپنی آستین سے ہونٹوں سے رستا خون صاف کیا تھا, نسرین, شرمین کو اپنے پیچھے چھپاۓ کھڑی تھی
“حاتم بھائی جو ہونا تھا سو ہو گیا… غصہ ٹھنڈا کریں اپنا” زبیر نے کہا, وہ بیچارہ چارپائی کو ٹھوکر مار کر اسی پر گر گیا
“حاتم پتر… نکاح تو کر لیا ان دونوں نے… آگے دیکھ لے کیا کرنا ہے ؟ اگر ابھی اسے چھوڑ کر جانا ہے تو چھوڑ جا… میرے لئے آج سے یہ میری بہو ہے, چاہے جیسے بھی سہی… لیکن بہتر تو یہ ہے کہ ساتھ لے جا, تھوڑے دنوں تک اسے رخصت کروا کر لے آئیں گے, لوگوں کے سامنے تھوڑا بھرم رہ جاۓ گا پتر” رخسانہ کہتی چلی گئیں
“بھرم تو سارا کرچی کرچی کر دیا آنٹی اس حرامزادے نے” حاتم تڑخ کر بولا
“اس خبیث نے اپنی بہن کا بھی نہیں سوچا” اسے دوبارہ غصہ چڑھا تھا
“حاتم بھائی… امی ٹھیک کہہ رہی ہیں, آپ ایسا کریں ابھی شرمین کو اپنے ساتھ لے جائیں… ابھی کسی کو کچھ نہیں پتہ, پھر ہم کچھ دنوں تک رخصتی کر لیں گے” زبیر نے کہا
“حاتم یہ ہی ٹھیک ہے… ” نسرین نے کہا, حاتم نے قہر آلود نگاہوں سے شرمین کی طرف دیکھا
“یہ مجھے گھر جاتے ہی مار دے گا” وہ دھیرے سے بولی تھی
“شرمین میرے نکاح میں ہے اب… اگر تو نے اس کے ساتھ مار پیٹ کی تو…. ” حاتم اویس کی بات سنتے ہی سلگ اٹھا
“تو خدا کا شکر ادا کر کہ میں یہاں خالی ہاتھ آیا ہوں حرام خور… اور یہ… ؟” وہ تیزی سے شرمین کی طرف بڑھا
“اس بے غیرت کو تو ابھی تیرے سامنے یہاں زندہ گاڑھ کر دفن کرتا ہوں, اکھاڑ تو کیا اکھاڑے گا میرا ” حاتم نے شرمین کا بازو جکڑا تھا
“حاتم بس کر.. جوان بہن ہے تیری… بس کر دے” رخسانہ اور نسرین نے بمشکل اسے پرے کو دھکیلا
“چل اے… چل کے گاڑی میں بیٹھ” نسرین نے اسے دروازے کی طرف دھکیلا تھا
حاتم نے ایک بار پھر اویس کی طرف دیکھا
“میری ایک بات کان کھول کر سن لے اویس… میرے ہوتے ہوئے یہ میری دہلیز پر واپس نہ آۓ.. کبھی بھی نہیں, اگر اس نے ایک دفعہ بھی آ کر کہہ دیا نا کہ یہ تیرے ساتھ نہیں رہنا چاہتی یا تو اسے ساتھ نہیں رکھنا چاہتا تو تیری بہن ننگے سر, ننگے پیر واپس اس گھر کی چوکھٹ پر آۓ گی یاد رکھنا, میں کوئی فرشتہ نہیں ہوں جو اسے بساۓ رکھوں گا, جس دن شرمین کے منہ سے طلاق کا لفظ نکلا…. وہ علینہ کا اس گھر میں آخری دن ہو گا چاہے وہ میری بچوں کی ماں ہی کیوں نہ بن جاۓ” حاتم نے قہر بار نظروں سے اویس کو گھورتے ہوۓ کہا تھا
“پتر ہاتھ ہولا رکھیں… جوان دھی ہے”رخسانہ آخر تک اس کے ساتھ آئی تھیں, علینہ بھی اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی ان کے پیچھے ہو لی, گھر آتے ہی شرمین تیر کی طرح گاڑی سے نکلی اور اندر کی طرف بھاگی, حاتم نے اس کے کمرے کے سامنے اسے بالوں سے پکڑ کر کھینچا تھا
“حاتم رک جا… چھوڑ دے اسے” نسرین اور علینہ اس کے پیچھے بھاگیں
“مجھے ہاتھ نہ لگانا… ” شرمین چیخی تھی
“تیری ایسی کی تیسی بے غیرت… بے حیا” حاتم نے نسرین کے چھڑواتے چھڑواتے بھی اسے تین, چار تھپڑ رسید کر دیئے تھے
“خبردار جو مجھے اب ہاتھ بھی لگایا تو… ؟” شرمین حلق کے بل چیخی تھی
“حاتم بس کر دے… ابو کو پتہ چل گیا تو… ” نسرین کے کہتے ہی علینہ کی چیخ سنائی دی تھی
“حاتم انکل جی… ” وہ اپنے کمرے کے دروازے میں گرے پڑے تھے
آنکھیں سفید ہو چکی تھیں
وہ بھی آج اپنی بیٹی کی وجہ سے دنیا سے منہ موڑ گئے تھے
……………………..
جاری ہے
