63K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

چھٹی قسط
سرخ اور پیلے پھولوں سے سجی وہ گاڑی گھر کے سامنے آ کر رکی تھی, شفیق اور یاسمین پہلے ہی گھر پہنچ چکے تھے, رملہ کے ساتھ اس کی پھپھو اور یاسر آۓ تھے, گاڑی رکتے ہی یاسر نیچے اترا اور رملہ کو نیچے اتارا
“دھیان سے… ” وہ اسے خود سے لگاۓ اندر لے آیا, زبیر اس کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا
“پتر اندر ہی لے چل… ” رخسانہ نے کہا, یاسمین نے اس کے سر پر سے چادر اتار دی, کمرے کے دروازے پر کھڑی علینہ اور ناعمہ نے اس پر پھول نچھاور کیے تھے
“پتر جوتے اتار کر اوپر آرام سے بیٹھ جا” رخسانہ نے کہا, رملہ کی آنکھیں بالکل خشک تھیں… رخصتی کے وقت بھی اس کی آنکھ سے ایک بھی آنسو نہیں نکلا تھا… بس خاموش تھی, بالکل خاموش
ستا ہوا چہرہ اور پتھرائی ہوئی آنکھیں
جوتے اتار کر وہ بیڈ پر بیٹھ گئی, علینہ نے اس کا لہنگا بڑی خوبصورتی سے بیڈ پر پھیلا دیا تھا, زبیر, یاسر کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گیا
“رملہ پتر… کچھ کھا لے” رخسانہ نے پوچھا, اس نے ہال میں بھی کچھ نہیں کھایا تھا, علینہ کولڈ ڈرنک اور روسٹ رکھ کر چلی گئی, اس نے حلق میں پانی کا قطرہ تک نہ ٹپکایا
یاسر اور اس کی پھپھو دو, ڈھائی گھنٹے بعد اٹھ کھڑے ہوۓ
“رملہ بیٹے… ” یاسر نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے اسے اپنے کندھے سے لگا لیا
“تو تو ہمارا سب سے بہادر بیٹا ہے… ہے نا, ابو کیا کہتے تھے کہ ان کا ایک بیٹا نہیں ہے, دو ہیں… ایک یاسر اور دوسری رملہ… آزمائشیں انہی پر آتی ہیں جن میں انہیں صبر سے جھیلنے کی ہمت ہو, کچھ نہیں ہوتا, سب ٹھیک ہو جاۓ گا, جو ہمارے مقدر میں نہیں ہوتا وہ رب ہمارے دانتوں کے بیچ میں سے بھی کھینچ لیتا ہے… جو گیا وہ تیرا تھا ہی نہیں بیٹے… اور جو ملا وہ اس سے کہیں بہتر ہو گا جو چلا گیا, یہ ہی تو رب کا وعدہ ہے کہ وہ بہتر کے بدلے بہترین عطا کرتا ہے” وہ اسے خود سے لگاۓ سمجھاتا چلا گیا, رملہ چپ چاپ سنتی رہی
“حوصلے سے…ہمت سے…. میرا شیر بیٹا ہے تو” وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کھڑا ہو گیا, زبیر اس کے ساتھ باہر تک آیا تھا
“زبیر اسے دھمکی نہ سمجھنا لیکن… بہن کا بھائی ہوں تو سر ہمیشہ جھکا کر نہیں رکھوں گا, اویس سے کہنا بچ کر رہے… ہتھے چڑھ گیا تو ایک دفعہ تو ضرور دھو دوں گا” وہ بڑے عام سے لحجے میں بولا تھا, زبیر چپ رہا
“تیرے نام پر بیاہ کر آئی ہے وہ اس گھر میں… کسی سے پوچھ نہیں ہو گی اس کے بارے میں سواۓ تیرے, اس پر ہر اٹھنے والی انگلی کو توڑ دینا آج سے فرض ہے تجھ پر…تو ڈھال ہے اس کی زبیر…یاد رکھنا” یاسر نے اس کےکندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا, زبیر نے اثبات میں سر ہلا دیا
انہیں رخصت کر کہ اندر آیا تو رخسانہ اور حمزہ لاؤنج میں کھڑے تھے
“اویس کا کچھ پتہ چلا ؟” رخسانہ نے پوچھا
“نہیں… مجھے نہیں لگتا وہ آج رات گھر آئیں گے” زبیر نے کہا, حمزہ چپ چپ سر جھکا کر وہاں سے چلا گیا, سب ہی گھر والے چپ چپ سے تھے… ایک دوسرے سے نظریں چراتے ہوئے
“ناعمہ کہاں ہے ؟” رخسانہ کو وہ کافی دیر سے نظر نہیں آئی تھی
“کہتی سر پھٹ رہا ہے… لیٹ گئی ہے” یاسمین نے کہا
“یاسمین چاۓ بنا… میرا تو اپنا سر ابھی ٹوٹ کر دو ٹکرے ہو جاۓ گا” رخسانہ اپنے دکھتے ہوۓ سر کو دونوں ہاتھوں سے دباتے ہوۓ رملہ کے کمرے میں چلی گئیں, زبیر کہیں باہر نکل گیا تھا
رات تک وقفے وقفے سے کوئی نہ کوئی اس کے پاس بیٹھا رہا, وہ بس کسی بت کی طرح ساکت سی بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھی تھی, رخسانہ اور یاسمین نے ٹل لگا لیا لیکن اس نے کچھ بھی نہیں کھایا, مغرب کے بعد زبیر گھر واپس آیا, کمرے میں داخل ہوا تو رخسانہ اور یاسمین وہیں تھیں, رملہ ہنوز ساکت بیٹھی تھی
“علینہ… ” اس نے باہر آ کر اسے آواز دی
“اس بیچاری کو کوئی ایزی سا ڈریس دے دو, یونہی بیٹھے بیٹھے ممی (mummy) بن جاۓ گی ” زبیر نے کہا, علینہ اس کے کپڑوں میں ایک نسبتاً کم بھاری سوٹ استری کر کے لے گئی
“رملہ… بیٹے اٹھ کر کپڑے بدل لے, دوپہر سے ایسے ہی بیٹھی ہے, جسم اکڑ جاۓ گا” رخسانہ نے کہا, وہ بادل نخواستہ سے اٹھ کھڑی ہوئی, علینہ نے اسے ایک طرف سے تھام کر واش روم تک پہنچایا
“دھیان سے… ” رخسانہ نے دھیرے سے دروازہ بند کیا لیکن کنڈی نہ لگائی
کافی دیر بعد وہ سارا میک اپ دھو کر اور کپڑے بدل کر باہر نکل آئی, شاور بھی لیا تھا, آنکھیں گواہ تھیں کہ وہ روئی ابھی بھی نہیں تھی, بالوں کو فولڈ کر کے کیچر لگا لیا تھا, باہر نکلی تو علینہ کھانے کی ٹرے رکھ گئی, وہ ایک نظر اسے دیکھ کر بیڈ کے کنارے پر بیٹھ گئی
“کھانے سے لڑائی نہیں کرتے دھی رانی… کھانا کھا لے میرا پتر” رخسانہ اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولیں
“زبیر… پتر خود بھی کھا لیں اور اسے بھی کھلا دیں… چنگا” رخسانہ اسے دیکھتے ہوئے باہر نکل گئیں, دروازہ بند ہو گیا, اب کمرے میں صرف رملہ اور زبیر تھے, وہ ایک نظر اسے دیکھتا ہوا واش روم میں گھس گیا, شاور لیا اور اپنی معمول کی ٹی شرٹ اور ٹراؤزر پہن کر باہر نکل آیا, چارجنگ پر لگا اس کا موبائل مسلسل وائبریٹ کر رہا تھا, یاسر کی کال تھی, سلام دعا کے بعد اس نے موبائل رملہ کی طرف بڑھا دیا
“تمہاری امی ہیں… ” وہ بولا, رملہ نے کسی ٹرانس کی سی کیفیت میں موبائل کان سے لگا لیا
“کیسی ہے میری بچی ؟” شمیم نے پوچھا
“ٹھیک ہوں” نکاح کے بعد سے زبیر نے اب اس کی آواز سنی تھی, شمیم نہ جانے کیا کچھ کہتی جا رہی تھیں, رملہ کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں لیکن آنسوؤں کو اندر دھکیلتے ہوۓ اس نے چپ چاپ موبائل بیڈ پر رکھ دیا, زبیر نے اٹھا کر کان سے لگایا
“آنٹی آپ پریشان نہ ہوں, سب ٹھیک ہے” انہیں تسلی دیتے ہوئے اس نے کال کاٹ دی, رملہ بیڈ کے ایک طرف بیٹھی تھی, زبیر نے کھانے کی ٹرے اٹھا کر اس کے آگے رکھی اور خود عین اس کے سامنے بیٹھ گیا
“یہ لو… تھوڑے سے کھا لو” اس نے ایک پلیٹ میں چاول نکالے اور چمچ رکھ کر اس کے آگے رکھ دی
“کھا لو… کب تک گزارا کرو گی بنا کھاۓ ؟” زبیر نے دھیرے سے کہا, وہ چپ بیٹھی رہی
“رملہ… ” زبیر نے چمچ بھرتے ہوئے اسے پکارا
“یہ لو… ” اس نے چمچ رملہ کی طرف بڑھایا تھا, رملہ نے چہرہ موڑ کر اس کی طرف دیکھا
“میں نے آپ سے پوچھا تھا نا… کہ وہ اس رشتے سے خوش ہے ؟” وہ بولی تو آنکھیں یکدم بھر آئیں, زبیر ساکت رہ گیا
“اور آپ نے کہا تھا… ہاں, وہ بہت خوش ہے” آنسو سیلاب کی صورت آنکھوں کا بند توڑ گئے, زبیر چمچ ہاتھ میں لئے بیٹھا رہ گیا
“جھوٹ کیوں بولا مجھ سے ؟” وہ ہار سی گئی تھی, زبیر نے چمچ واپس پلیٹ میں رکھا اور ٹرے گھسیٹ کے ایک طرف کر دی, پھر دھیرے سے اس کے قریب ہوا اور اپنا ایک بازو اس کے کندھوں کے گرد لپیٹ کر اسے خود سے لگا لیا
وہ یوں بکھری کہ زبیر سے سنبھالنی مشکل ہو گئی تھی
“اتنی بری تو نہیں تھی میں… ” وہ بس روۓ جا رہی تھی, زبیر خاموش اسے اپنے بازوؤں کے حلقے میں لئے بیٹھا رہ گیا تھا
…………………………
چٹاخ کی آواز سے حاتم کا تھپڑ اس کے منہ پر پڑا تھا, وہ انتہائی بے شرمی سے اسے دیکھتی رہ گئی
“شرمین تیری حد کیا ہے آج وہ بھی بتا مجھے” وہ دھاڑا
“میں نے کیا کیا ہے آخر… ؟” وہ چیخی
“اویس کو کیوں ورغلایا ؟” حاتم نے پوچھا
“میری مرضی… میں جسے مرضی ورغلاؤں… وہ الو پٹھا ہے کیا جو اسے عقل نہیں ہے” شرمین نے کہا
“باجی اسے لگام دے لیں, صرف اس کی وجہ سے میں آج تک کنوارا پھر رہا ہوں, جہاں رشتہ طے ہوتا ہے وہیں بات بگاڑ دیتی ہے یہ, امی اس کی انہی بے غیرتیوں کی وجہ سے دلبرداشتہ ہو کر آنکھیں بند کر گئیں ” حاتم زور سے بولا
“شرمین کچھ تو شرم کر… اس لڑکے کا نکاح ہونے والا تھا” نسرین نے کہا
“تو کروا لیتا نکاح… میں نے کیا اس کی زبان کو لگام ڈال دی تھی” وہ چیخی
“تیری وجہ سے انکار کیا ہے اس نے… تیری وجہ سے عین نکاح کے وقت بھاگ گیا وہ” حاتم کو اس پر شدید غصہ تھا
“میں نے کچھ نہیں کیا سمجھے… وہ عقل سے پیدل نہیں ہے, اچھا بھلا سمجھدار بندہ ہے, ایویں سارا ملبہ میرے اوپر نہ ڈالیں” وہ ذرا سی بھی شرمندہ نہیں تھی
“میری ایک بات کان کھول کر سن لے شرمین… کل میری بارات ہے, خبردار جو کل کوئی بھنڈ خرابہ کیا تو… خدا کی قسم میں اپنے ہاتھوں سے تیرا گلا گھونٹ دوں گا” حاتم نے کہا, وہ بس اسے گھورتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی
“میں نے کہا تھانا آپ سے کہ اسے واپس مت بلائیں, اس نے واپس آ کر وہی لچھن شروع کر دینے ہیں لیکن آپ نے میری ایک نہیں سنی… دیکھ لیں اب کیا ہوا ” حاتم نے کہا
“حاتم سگی بہن ہے وہ تیری, اس کے بنا شادی ہوتی تو لوگ سو سو سوال کرتے, تیری ساس نے کوئی ہزار بار مجھ سے پوچھا کہ چھوٹی بہن کیوں نہیں آتی” نسرین خود پریشان تھی
“بس پھر انہیں بھی مل گیا سواد… چھوٹی بہن کا” حاتم تڑخ کر بولا
“اویس کا کچھ پتہ چلا ؟” نسرین نے پوچھا
“فی الحال تو نہیں… اویس سے مجھے اتنے گھٹیا پن کی امید نہیں تھی” حاتم نے کہا
“حاتم… یہ معاملہ سدھرنے کی بجاۓ اور بگڑے گا دیکھ لینا, شرمین نے اویس کی جان کوئی نہیں چھوڑنی اور وہ اس کے لئے رشتہ بھیجے ہی بھیجے… ” نسرین نے کہا
“باجی میں اسے زندہ گاڑھ دوں گا لیکن اس کی شادی اویس سے نہیں ہونے دوں گا, ایک بار پھر منہ کالا کرواۓ گی میرا” وہ بھڑک گیا, نسرین خاموش رہ گئی تھی
…………………………
وہ رات بھی عجیب تھی… بوجھل سی
یوں جیسے سو راتوں کے برابر ہو
رملہ ہنوز بیڈ سے ٹیک لگاۓ بیٹھی تھی, نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی, زبیر اسے کئی بار سونے کا کہہ کر خود تھک ہار کر سو چکا تھا, وقفے وقفے سے اس کی آنکھیں بھیگ جاتیں
اس کے ساتھ والے کمرے میں رخسانہ, رفیق اور دادا جی کی چارپائیاں تھیں, سارے دن کے تھکے ہارے لوگ گرتے ہی سو گئے تھے, اس سے اگلا کمرہ اویس کا تھا… خالی
حمزہ نے چھت پر پڑی اکلوتی چارپائی پر ڈیرہ ڈالا ہوا تھا, نیند آس کی آنکھوں سے بھی کوسوں دور ہی تھی, قسمت نے آج کیا ہی کھیل کھیلا تھا اس کے ساتھ… کاش کے زبیر بیچ میں نہ آتا تو وہ کلی نما لڑکی اس وقت اس کی بانہوں میں ہوتی
ناعمہ اور علینہ دونوں چپ چاپ ایک دوسرے کی طرف پشت کئے لیٹی تھیں… دونوں کی اپنی اپنی سوچیں
ناعمہ کا دل کچھ چھن جانے کا ماتم کر رہا تھا… علینہ کا دل کچھ مل جانے سے ڈر رہا تھا
زرینہ اور شمس اوپر سوۓ پڑے تھے
یونہی دھیرے دھیرے رات گزر گئی
اویس واپس نہ آیا
اگلی صبح زبیر کا ولیمہ تھا… رملہ فجر کی نماز پڑھ کر صوفے پر ہی آڑی ترچھی سی گر گئی تھی
آٹھ بجے کے قریب رخسانہ نے کمرے کا دروازہ بجایا
“ناشتہ کر لو… ” وہ بولیں, رملہ نے اٹھ کر دروازہ کھول دیا
“زبیر کاکے اٹھ جا… سو کام کرنے والے پڑے ہیں” رخسانہ نے اس کا کمبل کھینچا تھا
“ناشتہ لیکر آتی ہوں میں… ” وہ کہہ کر باہر نکل گئیں
“ناعمہ… جلدی ناشتے کی ٹرے بنا رملہ اور زبیر کے لئے وہ کچن میں آتے ہوۓ بولیں, ناعمہ نے کان پر جوں بھی نہ رینگی, انہوں نے ناچار خود ہی ٹرے بنائی
“جا میری دھی اندر پکڑا کر آ… ” انہوں نے ٹرے ناعمہ کے آگے کی تھی
“تائی امی میں تہاڈی نوکر رکھی ہوئی آں… مجھ سے نہیں جا ہوتا کہیں بھی, خود ہی آ کر لے جاۓ گی ساری رات کونسا ہل جوتے ہیں اس نے” ناعمہ بھڑک گئ, رخسانہ حق دق رہ گئیں
“لائیں آنٹی… میں خود ہی لے جاتی ہوں, اور میں اپنا کھانا روز خود ہی لے جایا کروں گی, ایسے اچھا نہیں لگتا” رملہ کچن کے دروازے میں کھڑی تھی, ناعمہ بس اسے دیکھ کر رہ گئی, رملہ نے ٹرے اٹھائی اور واپس چلی گئی
“زبانیں چھیلنے والی ہو گئی ہیں تم سب کی” رخسانہ نے اس کے ایک جڑی تھی
وہ ٹرے لیکر کمرے میں آئی تو زبیر واش روم میں تھا, وہ ٹرے میز پر رکھ کر وہیں صوفے پر بیٹھ گئی, زبیر شاور لیکر باہر نکلا تو وہ یونہی ٹرے سامنے رکھ کر بیٹھی تھی
“ناشتہ… ” رملہ نے دھیرے سے کہتے ہوئے اپنا کپ اٹھا لیا
“اور تم نے نہیں کرنا…؟” وہ گیلے بالوں میں کنگھا پھیرتے ہوئے اس کے برابر میں آ بیٹھا, وہی رات والا شرٹ اور ٹراؤزر پہن رکھا تھا
“نہیں بس چاۓ… ” وہ کپ لبوں سے لگاتے ہوئے بولی
“یہ جو تم کر رہی ہو یہ بھی خود کشی کے زمرے میں آتا ہے” زبیر نے لقمہ بنایا اور اس کی طرف بڑھا دیا
“دل نہیں کر رہا… ” وہ بولی
“دل تو میرے پاس بیٹھنے کا بھی نہیں کر رہا ہو گا پھر کیوں بیٹھی ہو ؟” وہ بولا, رملہ نے ایک دم اسے دیکھا, وہ مسلسل اسے ہی دیکھ رہا تھا, دھیرے سے مسکراتے ہوئے زبیر نے لقمہ دوبارہ اس کی طرف بڑھایا, رملہ نے اس کے ہاتھوں سے لقمہ پکڑنا چاہا لیکن زبیر نے ہاتھ پیچھے کر لیا
“منہ کھولو… ” وہ بولا, رملہ نے بادل نخواستہ منہ کھول دیا, زبیر نے مسکراتے ہوئے لقمہ اس کے منہ میں رکھ دیا
“ہولے ہولے ہو جاۓ گا پیار او بندیا….ہولے ہولے ہو جاۓ گا پیار” وہ دوسرا لقمہ بناتے ہوئے دھیرے سے گنگنایا تھا اور رملہ کے گال تمتماتے چلے گئے تھے
…………………….
حاتم, علینہ کا ہاتھ تھام کر سٹیج تک لایا تھا, علینہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی, رملہ نے فان کلر کی کامدار میکسی پہنی ہوئی تھی اور زبیر نے اسی کلر کا تھری پیس… جوڑی تو کمال کی تھی
شرمین جی باقاعدہ طور پر تتلی بنی گھوم رہی تھیں…کبھی ادھر, کبھی ادھر
رخسانہ کو اسے دیکھ دیکھ کر قہر چڑھ رہا تھا
“امی… منہ کے زاویے تو ٹھیک کر لے” زرینہ نے کہا
“ایسا لگ رہا ہے جیسے ابھی اسے ذبح کر دے گی” وہ ہنسی
“کاش میرے بس میں ہوتا… ” رخسانہ تڑخیں
“لے دس… تیری ہونے والی بہو ہے وہ, تھوڑا تو خیال کر” زرینہ نے مخول کیا
“دفع ہو پرے, کالی زبان… تو رفیق کی بیٹی ہے تیرا قصور کوئی نہیں” رخسانہ نے اس کے ایک لگائی تھی
علینہ بخیر و عافیت رخصت ہو گئی, شام پانچ بجے وہ لوگ گھر واپس آۓ تھے
رخسانہ نے گاڑی سے اتر کے رملہ کو نیچے اتارا, وہ بیچاری پنسل ہیل پر ڈگمگا سی گئی
“دھیان سے پتر… ” رخسانہ اسے سہارا دے کر اندر لے آئیں
“لیٹ جا تھوڑی دیر… تھک گئ ہو گی” وہ کہہ کر باہر نکل گئیں, زبیر نے کوٹ اتار کر الماری میں لٹکایا اور چینج کرنے چلا گیا, واپس آیا تو وہی ٹی شرٹ اور ٹراؤزر… بس اب کی بار ٹی شرٹ کا رنگ مختلف تھا
“اوۓ منڈیا خدا دا خوف کر… تیرا ویاہ ہوا ہے آج, تھوڑے ڈھنگ کے کپڑے پہن لے” رخسانہ نے اسے گھرکا
“مجھے کونسا بنا کر دئیے ہیں ڈھنگ کے کپڑے… ایک بارات کا اور ایک ولیمے کا بس… ” زبیر نے کہا, رخسانہ جز بز سی ہو گئیں
“بکواس نہ کر… اویس کا کوئی پہن لے” وہ بولیں
“نہیں رہنے دیں… یہ ہی ٹھیک ہے” وہ موبائل اٹھا کر بیڈ پر لیٹ گیا, رملہ اپنے کپڑے اٹھا کر واش روم کی طرف بڑھ گئی, رخسانہ ابھی دروازے میں ہی تھیں جب اس کی دلدوز سی چیخ سنائی دی
“ہاۓ ربا… ” وہ دہل کر اندر کو بھاگیں, زبیر بھی جلدی سے اٹھا
“کی ہویا پتر… ؟” وہ پھسل کر گر گئی تھی
“چکر آ گیا تھا… ” بائیاں ہاتھ واش بیسن کی سٹیل کی ٹونٹی پر لگا تھا… وہاں نیل ابھر آیا
“ہاں تو جب کچھ کھانا ہی نہیں تو ایسے ہی ہونا ہے, آج بھی کچھ نہیں کھایا, صبح بھی بس چاۓ ہی پی تھی” رخسانہ نے کہا
“امی… ناعمہ سے کہہ کھانا لیکر آۓ رملہ کے لئے” زبیر نے اسے سہارا دے کر اٹھایا
“میں نے شاور لینا ہے… ” وہ بولی
“میں یہیں کھڑا ہوں… جلدی کرو” وہ دروازہ کے باہر ہو کر کھڑا ہو گیا, رملہ بند کرنے لگی تو روک دیا
“کھلا رہنے دو… شاور لو جلدی” وہ بولا, تھوڑی دیر بعد رخسانہ کھانے کی ٹرے رکھ گئیں, رملہ گیلے بالوں کو جھٹکتے ہوئے باہر نکلی تھی
“ادھر آؤ… ” زبیر نے اس کی کلائی پکڑی
“بال تو سلجھا لوں” وہ بولی
“بعد میں سلجھا لینا” وہ اسے لیکر صوفے تک آیا اور اس پر بٹھا دیا
“کھانا نا کھا کر کسے سزا دے رہی ہو تم ؟” اس نے پوچھا, رملہ نے سر جھکا لیا, زبیر نے دھیرے سے اپنی انگلیوں کی پوروں سے اس کا چہرہ اوپر کو اٹھایا تھا
ساری رات کی جاگی ہوئی سرخ انگارہ آنکھیں… جن میں نیند تیر رہی تھی
دھلا دھلایا شفاف چہرہ اور کانوں کی لوؤں سے ٹپکتا ہوا پانی کو گردن تک بہہ رہا تھا, گیلے بالوں کی چند ایک چپکی ہوئی لٹیں اور بھیگے بھیگے سے گلابی ہونٹ, وہ بالوں کو تولئے میں لپیٹے بنا دوپٹے کے اس کے سامنے بیٹھی تھی, زبیر نے بڑی مشکل سے نظریں ہٹائی تھیں
“سنو… ” زبیر نے نرمی سے اس کا ہاتھ تھاما
“اگر تمہیں اس بھوک ہڑتال سے کچھ ہو گی آنا تو تمہارا بھائی مجھے جان سے مار دے گا… سمجھیں ” وہ ٹرے اس کے آگے کرتے ہوئے بولا
“اور تم چاہو گی کہ میں بنا قصور کے ہی رگڑا جاؤں ؟” وہ بولا
“مقدر پر یقین بھی رکھتے ہیں اور صبر بھی کیا کرتے ہیں… کھانا کھاؤ پیٹ بھر کر اور پھر سو جاؤ ” وہ بہت محبت سے بولا تھا, رملہ خاموشی سے کھانے لگی, زبیر مسلسل اسے دیکھ رہا تھا
“آپ نے بھی کھانا ہے ؟” چند لمحوں بعد اس نے پوچھا
“نہیں… ” زبیر نے نفی میں سر ہلا دیا
“تو پھر میرے نوالے گن رہے ہیں کیا ؟” رملہ نے دھیرے سے پوچھا, زبیر قہقہہ لگا کر ہنس دیا تھا
………………………….
ایک اور دن طلوع ہو گیا… آج ان سب نے حاتم کے ولیمے پر جانا تھا, صبح چھ بجے کے قریب زرینہ نیچے اتری تو چونک گئی, اویس کے کمرے کا پنکھا چل رہا تھا, اس نے حیرانی سے اندر جھانکا اور ٹھٹھک گئ
وہ اپنی چارپائی پر سویا پڑا تھا
شاید رات کے کسی پہر واپس آیا تھا
زرینہ سر پر پیر رکھ کر رخسانہ کے کمرے کی طرف بھاگی
“امی… امی…” اس نے رخسانہ کو جھنجھوڑ دیا
“کیا سیاپا پڑ گیا ؟” وہ بوکھلا گئیں
“امی اویس آ گیا ہے” وہ بولی
“تے فیر کی کراں… لڈو ونڈاں ” رخسانہ بھڑک گئیں
“اٹھ کے پوچھ تو سہی اسے… ” زرینہ فل ٹائم دنگا کروانے کے درپے تھی
“زرینہ, دفع ہو جا یہاں سے, اور جا کر اسے کہہ دے کہ مجھے قیامت تک اپنی پیڑی شکل نہ دکھاۓ” وہ بولیں, زرینہ ابھی باہر نکلی بھی نہیں تھی جب رفیق صاحب نے آسمان سر پر اٹھا لیا
وہ نماز پڑھ کر واپس آۓ تھے اور اویس پر چھاپہ پڑ گیا تھا
“او بے غیرتا کسی زمانے دا, یہ کیا کیا تو نے… ؟ بڈھے وارے چٹے سروں میں خاک ڈال دی, پورے پنڈ میں ذلیل کروا دیا, کسی کو منہ دکھانے لائق نہیں چھوڑا… ” وہ خوب گرج رہے تھے
“امی… ابو نوں چپ کرا” زرینہ بولی
“مینوں معاف کر دے… ” وہ ہاتھ جوڑ کر کمبل تان گئیں, زبیر رفیق صاحب کی آوازیں سن کر باہر نکلا, حمزہ بھی بوکھلایا ہوا سیڑھیاں اتر کر آ گیا
“ابو بس کریں” زبیر نے انہیں بازو سے کھینچ کر اویس کے کمرے سے باہر نکالا تھا
وہ انتہائی ڈھٹائی سے ہنوز کمبل تانے لیٹا تھا
…………………………..
جاری ہے