No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
“میری ناک کے نیچے تو گل کھلا رہی ہے حرافہ عورت… ” زبیر نے اسے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا تھا اور وہ چیخ مارتے ہوئے اٹھ بیٹھی, شمیم بھی ایک دم جاگ گئیں
“رملہ کیا ہوا ؟” وہ بولیں, رملہ کی دونوں آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے, لمبے لمبے سانس لیتے ہوئے اس نے پانی کا گلاس منہ کو لگا لیا
آج مسلسل چوتھا دن تھا, وہ راتوں کو سو نہیں پا رہی تھی, اپنی ہتک بھول نہیں پا رہی تھی, زبیر کی نہ کوئی کال آئی تھی اور نہ کوئی میسیج… رخسانہ کی ایک دو دفعہ کال آئی تھی جو اس نے ریسیو ہی نہیں کی تھی
اگلی صبح شمیم نے یاسر سے بات کی… کوئی تو بات تھی جو ان دونوں کو ہی کھٹک رہی تھی اور رملہ بتا کے نہیں دے رہی تھی
اس شام بھی شمیم اور یاسر اس کے پاس آ کر بیٹھ گئے, دونوں بچے اس کے دائیں بائیں سو رہے تھے, وہ بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھی تھی, نڈھال سی… کمزور سی
“کیسے ہیں ہیرو… ؟” یاسر نے مسکراتے ہوئے پوچھا
“ٹھیک ہیں… “وہ پھیکا سا مسکرا دی, یاسر اٹھ کر اس کے پاس بیٹھ گیا, پھر دھیرے سے اس کے کندھوں کو بازو سے لپیٹ کر اسے خود سے لگا لیا
“رملہ… پتر کیا ہوا ہے ؟” وہ اس کے سر پر بوسہ دیتے ہوئے بولا اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی, یاسر نے اسے رو لینے دیا
“کیا ہوا ہے میرا بیٹا ؟” اس نے کچھ دیر بعد اس کا چہرہ اوپر اٹھاتے ہوئے پوچھا
“زبیر نے مارا ہے مجھے… ” وہ بولی, شمیم کے کلیجے پر ہاتھ پڑا تھا, یاسر بھی دم بخود رہ گیا
“الزام تراشے… گالیاں دیں… میرے بال کھینچے, تھپڑ مارے, ٹھڈے مارے… ” وہ بلک بلک کر رو رہی تھی
“میری حالت پر بھی ترس نہیں کھایا… ” وہ بولی
“کیوں ؟” یاسر نے غصہ ضبط کرتے ہوئے پوچھا تھا
“شک کرتا ہے… ہر وقت, دوسروں کی باتوں پر کان دھرتا ہے… ” وہ بولی
“رملہ پتر… مجھ سے کچھ نہیں چھپانا میرا شیر, مجھے الف سے لیکر ے تک سب کچھ بتا دے… سب کچھ” یاسر نے کہا اور وہ کہتی چلی گئی, آنسوؤں اور سسکیوں کے بیچ زبیر, حمزہ, شرمین… سب سنا دیا, شمیم تو بس دم بخود اسے دیکھ رہی تھیں جو آج انہیں یہ سب بتا رہی تھی, یاسر کا چہرہ سرخ ہوا جا رہا تھا
“امی یہ تو سارا ٹبر ہی کنجروں کا نکلا… ایک سے بڑھ کر ایک بے غیرت…. اس حرامزادے زبیر کو میں نے نکاح والے دن ہی کہا تھا کہ بعد میں اگر اس کے ساتھ تماشے ہی کرنے ہیں تو بیشک ابھی نکاح نہ کر… تب عزت کی فکر پڑی ہوئی تھی, جو کچھ یہ سنا رہی ہے اس سے تو اسے کنواری کو ہی واپس لے آتے…وہی بہتر ہوتا” یاسر نے کہا
“اس زبیر کے بچے کو چھوڑوں گا نہیں میں… غلطی ہو گئی جو اویس کو بخش دیا, اسے دھنکی لگی ہوتی تو اس بے غیرت پر بھی ڈر رہتا ” یاسر نے کہا
“رملہ پتر… بس آج کے بعد رونا نہیں ہے… چپ میرا بیٹا, یہ تیرا گھر ہے… تیرے دونوں بچوں کا گھر ہے, آرام سے یہاں رہ, کھا پی اور اپنے بچے پال… اس خبیث کو تو میں دیکھ لیتا ہوں ” یاسر نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا
………………………….
رات کے سات بج رہے تھے. جب وہ دفتر سے واپس آیا, چپ چاپ موٹر سائکل گیراج میں کھڑی کی اور سیدھا کمرے میں آ گیا, دروازہ بند کر دیا, کافی دیر بعد رخسانہ نے اس کے کمرے کا دروازہ بجایا تھا
“زبیر… روٹی نہیں کھانی ؟” وہ بولیں, وہ ہنوز بیڈ پر اوندھا پڑا رہا
“دروازہ تو کھول… ” وہ مسلسل دروازہ پیٹ رہی تھیں, زبیر نے ناچار اٹھ کر کھول دیا, رخسانہ اسے دیکھ کر دھک سے رہ گئیں
“آ کی ہویا… ؟” وہ پریشانی سے بولیں, زبیر کا چہرہ اور بازو جگہ جگہ سے ادھڑے پڑے تھے, جا بجا نیل اور زخم…
“سالے نے دھر لیا… ” وہ بولا, رخسانہ کے پیچھے ہی رفیق صاحب نمودار ہوۓ تھے
“تینوں یاسر نے کٹیا… ؟” انہیں تاؤ آ گیا, زبیر خاموش ریا
“سویرے چلتے ہیں ان کے گھر… یہ کونسا طریقہ ہوا بھلا, انسانوں کی طرح بیٹھ کر بات کریں تو… ” وہ بولے
“تیرے پت نے انسانوں کی طرح بات کی تھی ان کی کڑی سے ؟ نوویں مہینے میں دھنک کر رکھ دیا اسے” رخسانہ نے کہا
“تو کبھی میرا یا اولاد کا ساتھ نہ دینا… پرائیوں کا ہی ساتھ دینا” رفیق نے کہا
“ساری عمر مجھے فٹے تھو کیا ہے تو نے… اب تیرے منڈے بھی وہی کر رہے ہیں” رخسانہ تڑخ پڑیں
“پینتیس سالوں میں آج تک تو نے مجھ سے عزت سے بات نہیں کی چوہدری… جب بلایا اوۓ کہہ کر بلایا… جب دی گالی ہی دی…ساری عمر مجھے پیر کی جوتی سمجھا تو نے, میں نے سوچا کہ میں اپنے بیٹوں کی ایسی تربیت نہیں کروں گی, بالکل بھی نہیں لیکن… میرے تو دونوں ہی پتہ نہیں کس پر چلے گئے ” وہ کہتی چلی گئیں
“ایک نے ویسے سر پر چڑھا لی…دوسرے نے پیروں تلے رول دی” وہ انتہائی دل گرفتہ تھیں
“کل چلیں گے… ” رفیق نے دھیرے سے کہا تھا
اگلے دن رخسانہ, رفیق اور زبیر تینوں رملہ کے گھر پہنچے, دروازہ یاسر نے کھولا تھا, زبیر کو دیکھتے ہی اس کا خون کھول اٹھا
“مجھے تو لگا تھا تو رات رات میں ہی مر مرا گیا ہو گا کتے… ” وہ دھاڑا تھا
“یاسر پتر گل سن… ” رخسانہ نے کہا
“گل ہی تو نہیں سننی اب… کوئی گل وی نہیں سننی جی… بڑی مہربانی تہاڈی یہاں سے چلے جاؤ” وہ بولا
“یاسر ایک دفعہ بات تو سن لے… ” رخسانہ نے کہا
“اس حرامزادے سے کہیں اپنی شکل گم کرے یہاں سے ؟” وہ چیخا, شمیم بھی دروازے پر آ گئیں
“بہن ایک دفعہ بات تو سن لیں ہماری… ” رخسانہ نے منت کی تھی
“یاسر… پتر ٹھنڈا ہو جا” انہوں نے کہا
“امی… ان میں سے کوئی اندر نہیں آۓ گا” وہ دروازے میں کھڑا ہو گیا
چوہدری صاحب بہت ہو گیا… تمہارے سارے لڑکوں نے مل کر جتنا ذلیل کرنا تھا میری بہن کو کر لیا… اب جائیں ” اس نے دروازہ بند کرنا چاہا تو زبیر آگے آ گیا
“مجھے ایک دفعہ رملہ سے… ” یاسر نے اس کے مکا مارا تھا
“رملہ کا نام نہ نکلے اب تیری زبان سے کتے…. ” وہ چنگھاڑ کر بولا
“یاسر تو نے جتنا مارنا ہے مار لے, میں یہاں سے کہیں نہیں جاؤں گا, میں اس سے مل کر جاؤں گا وہ میری بیوی ہے” زبیر نے کہا
“کونسی بیوی…. وہ جسے تو نے اس رات جانوروں کی طرح دھنک دیا… یہ بھی نہیں سوچا کہ وہ اپنے اندر دو دو جانیں لیے ہوۓ تھی ” یاسر اس پر چڑھ دوڑا تھا, شمیم اور رخسانہ نے بمشکل دونوں کو الگ کیا
“یاسر… پتر بس کر” شمیم نے کہا
“امی یہ کتا اندر نہیں آۓ گا” وہ چیخا تھا
“زبیر… جا واپس چلا جا” رخسانہ نے کہا
“میں نہیں جاؤں گا… وہ میری بیوی ہے, میرے بچے ہیں اندر, یہ چاہے مجھے زندہ گاڑھ دے میں نہیں جاؤں گا” زبیر نے کہا
“چل پھر… بیٹھا رہ یہاں دروازے سے باہر ” یاسر نے دروازہ بند کر کے کنڈی لگا دی, رخسانہ اور رفیق اندر آ گئے تھے
“بہن وہ شرمندہ ہے… نادم ہے, وہ رملہ سے ہاتھ جوڑ کر پیروں میں گر کر معافی مانگے گا ” رخسانہ نے کہا
“نہ بہن… وہ کچھ نہ کرے, وہ بس میری بچی کی جان چھوڑ دے, ہم بھر پاۓ تم لوگوں سے” شمیم نے کہا
“بہن میری ایسے نہ کر, رملہ کا گھر اجڑ جاۓ گا, دو, دو بچے ہیں ” رخسانہ نے کہا
“یہ تیرے بیٹے نے کیوں نہیں سوچا…. ؟ میں نے اپنی بیٹی بیاہی تھی رخسانہ… بیچی تو نہیں تھی, تیرے گھر کے سارے لڑکوں نے اسے ہی کھلونا سمجھ لیا, جس کا دل کیا ٹھکرا دیا, جس کا دل کیا اپنا لیا, جس کا دل کیا دل لگی کر لی, جس کا دل کیا زبردستی کر لی, جس کا دل کیا تھپڑ مار لیا, جس کا دل کیا الزام لگا دیا… اور یہ بےغیرت… سب سے بڑا بے غیرت جو باہر بیٹھا ہے, تو نے پوچھا ہے اس سے کہ وہ رملہ کی عزت کا محافظ تھا, کیوں نہیں حفاظت کی اس کی ؟ بجاۓ اس کے آگے ڈھال بننے کے تلوار اٹھا کر کھڑا ہو گیا اس کے سامنے… سوچ ایک ماں پر کیا بیتی ہو گی جب اس کی بیٹی نے اسے بتایا کہ اس کے شوہر نے اس کی پریگنینسی کے آخری دنوں میں اسے تھپڑوں اور ٹھڈوں سے مارا… ” شمیم رو پڑیں
“میری بچی کا قصور تو بتائیں بھائی صاحب… ؟” وہ بولیں
“بہن میری… غلط فہمی ہو گئی تھی اسے… نادم ہے مہربانی کریں” رفیق نے کہا
“بس کریں انکل… بس کریں, بنا کسی قصور کے ہی اس سالے نے میری بہن کو رگڑ دیا, دراصل قصور زبیر کا نہیں ہے… نسل ہی گندی ہے ان لوگوں کی” یاسر بولا
“یاسر پتر ایڈی کوئی گل نہیں ہے… ” رفیق سے بات نہ بن پڑی
“پتر غلطی ہو گئی… آئیندہ نہیں ہو گا ایسا” رخسانہ نے کہا
“آنٹی جی غلطی ایک دفعہ ہوتی ہے… بار بار نہیں ہوتی اور آئیندہ والی بات تو رہی ہی نہیں… زبیر سے کہیں رملہ کو سیدھی طرح طلاق دے دے ورنہ اسے کچھ دنوں میں خلع کا نوٹس مل جاۓ گا” یاسر نے ان دونوں کو جانے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا
……………………..
“میں نے اس گھر میں واپس نہیں جانا… چاہے تو مجھے ابھی گولی مار دے” شرمین نے ببانگ دہل کہا تھا, علینہ ایک طرف چپ چاپ کھڑی تھی, اویس اور رخسانہ اسے لینے آۓ تھے
“شرمین ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری… بلے بھئی بلے” رخسانہ نے کہا
“آپ کی بیٹے نے سب کے سامنے میری گردن دبوچ لی, ابھی کوئی کسر باقی ہے ؟” شرمین چیخی
“میں نے تمہاری گردن کیوں دبوچی ؟ یہ بتایا ہے اپنے بھائی کو ؟” اویس نے کہا
“پہلے دن سے میں اس عورت کو سمجھا رہا ہوں کہ اپنے کام سے کام رکھا کرو… لیکن نہیں, سارا دن اس کا دماغ شیطانیاں بنتا رہتا ہے اور ہمہ وقت یہ تخریب کاریوں میں لگی رہتی ہے, بتایا ہے اپنے بھائی کو کہ کیسے جھوٹ بول بول کر تم نے زبیر کو رملہ کے خلاف بھڑکایا ہے” اویس نے کہا, حاتم نے چونک کر شرمین کی طرف دیکھا
“میں نے کچھ نہیں کہا اسے… ” وہ بولی
“پھر جھوٹ… حاتم صرف اور صرف اس کی وجہ سے اس نے رملہ کو مار مار کر ادھ موا کر دیا… اور وہ طلاق کا مطالبہ کر کے بیٹھی ہے” اویس نے کہا
“طلاق… ” نسرین دہل کر رہ گئی تھی
“حاتم پتر… میں نے کبھی اس میں اور رملہ میں فرق نہیں کیا لیکن انسان اپنی کرتوتوں سے ہی جگہ بناتا ہے… گھروں میں بھی اور دلوں میں بھی…سارا دن یہ لڑکی ویلی رہتی ہے… بالکل فارغ, کوئی کام کہہ دو فٹ انکار سن لو, ایسے کیا یہ یہاں کوئی کام ہی نہیں کرتی تھی, اپنا کھانا تک کمرے میں لیکر جانا دوبھر ہے اس کو… بس سارا دن یا تو موبائل ہے… یا پھر شیطانیاں ہیں, صبح و شام اس کے کبھی زرینہ سے پنگا ہیں, کبھی رملہ سے دنگے ہیں… کبھی زبیر کے کانوں میں گھسی ہوتی ہے, کبھی حمزہ کے پیچھے لگی ہوتی ہے, رملہ سے تو چھتیس کا آکڑا ہے اس لڑکی کا…سوتنوں کی طرح اس سے لڑتی ہے یہ ہر وقت” رخسانہ کی بھی بس ہو گئی
“حاتم اسے کہہ چپ چاپ واپس چلے… کوئی نہیں میں اسے درگور کرنے لگا, گھر میں پہلے تھوری پریشانی ہے جو یہ اپنی ڈال کر بیٹھ گئی ہے” اویس نے کہا
“شرمین… چل اٹھ, اپنے گھر چل” حاتم نے کہا
“میں کہیں نہیں جاؤں گی” وہ ہٹ دھرمی سے بولی
“فیر کی کرنا توں ؟” رخسانہ نے پوچھا
“مجھے طلاق چائیے… ” اس نے ببانگ دہل کہہ دیا تھا
…………………….
“امی دنیا چاہے ادھر کی ادھر ہو جاۓ… میں رملہ کو طلاق نہیں دوں گا, وہ میری بیوی ہے, میرے بچوں کی ماں ہے” زبیر پاگل ہوا پڑا تھا, آنکھوں سے شک کی پٹی کھلی تھی, دل سے میل صاف ہوا تھا, دماغ سے خناس نکلا تھا تو صورتحال کھل کر سامنے آئی تھی لیکن… بہت دیر ہو چکی تھی, وہ جو انتہائی قدم اٹھا چکا تھا اس کی بھرپائی نا ممکن تھی, رملہ نے اس کا نمبر تک بلاک کر دیا تھا, صبح و شام وہ پاگلوں کی طرح اس کے گھر کے چکر لگا رہا تھا
“یاسر… اسے کہہ ایک بار میری بات سن لے, بس ایک بار… ” وہ ہر بار اس سے مار کھا کر واپس آ جاتا تھا, یاسر اسے اندر آنے ہی نہیں دیتا تھا, شفیق بھی آ گیا, پہلے تو آتے ہی اس نے حمزہ کی درگت بنائی تھی, شروعات تو سارے معاملے کی اسی نے کی تھی, پھر وہ اور یاسمین دوبارہ یاسر کے گھر گئے تھے, یاسر راشن پانی لیکر شفیق پر چڑھ دوڑا تھا
“کس منہ سے آۓ ہیں آپ لوگ یہاں… ؟ حمزہ جیسے حرامزادے کے ماں باپ ہوتے ہوئے بھی آپ لوگ یہاں کس دھڑلے سے آ گئے ہیں… بے غیرتی کے بھی کوئی حد ہوتی ہے… ” وہ دہاڑا تھا
“پتر گل سن… “شفیق نے کہا
“نہیں… کوئی گل وی نہیں… چوہدری تیرے اس لعنتی بیٹے نے زیادتی کی ہے میری بہن کے ساتھ… الزام لگایا اس پر, اس کتے کی وجہ سے وہ اپنا بچہ کھو بیٹھی تھی… قصور دراصل رملہ کا بھی ہے… ہمیشہ اس لڑکی نے منہ سی کر رکھا… آج تک سسرال کی کوئی زیادتی میکے والوں کو نہیں بتائی کہ ماں پریشان ہو گی… اسی وجہ سے تم لوگ اس بیچاری کے سر پر بیٹھ گئے… اچھی لگتی تھی ناں تیرے بیٹے کو… تو جب اویس نے انکار کر دیا تھا تب کہاں تھا وہ… ؟ تب کیوں نہیں پھوٹا منہ سے…کیونکہ بس اچھی ہی لگتی تھی… کیونکہ بس مزے لینے تھے اس نے, چسکہ اڑانا تھا ” وہ ٹھنڈا نہیں ہو رہا تھا
“یاسر پتر… تو حمزہ کو چایے گولی مار دے, چاہے زندہ دفن کر دے… تیری مرضی… ” یاسر نے اس کی بات کاٹ دی
“یہ ہی تو رونا ہے چوہدری صاحب کہ اس بے غیرت کو میں ہی کیوں گولی ماروں ؟اسے رملہ کے شوہر نے گولی کیوں نہیں ماری, اسے اس کے باپ نے گولی کیوں نہیں ماری… ؟” وہ چنگھاڑ کر بولا تھا
“یاسر بس کر… پتر بس” شمیم روۓ جا رہی تھیں
“بھائی تسی بس اتنا بتا دو کہ ساڈا قصور کی اے… یہ کہ ہم نے اس حرامزادے کو اپنی پڑھی لکھی لڑکی دے دی… اتنا ہی وہ کانوں کا کچا ہے جو کسی پرائی عورت کی باتوں میں آ گیا, اس کے خود کے پاس دماغ نہیں تھا, عقل نہیں تھی, کیا برائی دیکھی اس نے رملہ میں ؟ کیا بدکاری دیکھی اس کی میری پارسا بچی میں؟” شمیم نے کہا
“آپ کا کہا ہر ہر لفظ ٹھیک ہے بہن… ہمارے پاس سواۓ معافی کے اور کچھ نہیں ہے ” شفیق نے کہا
“اور ہمارے پاس اس معافی کے جواب میں کچھ بھی نہیں ہے… بس بات ختم” یاسر نے کہا
“اس کتے نے ذرا نہیں سوچا کہ وہ اس کی بیوی تھی, اس کے بچوں کو جنم دینے والی تھی, اس بے غیرت کو شرم نہیں آئی اس پر ہاتھ اٹھاتے ہوئے, اسے گالی دیتے ہوئے, وہ مر جاتی تو کیا ہوتا ؟” یاسر دھاڑا
“اور انکل جی حمزہ سے کہنا کہ بچ کر رہے… اگلی باری اس کی ہے” یاسر نے کہا
“تو چاہے حمزہ کو آج گولی مار دے… وہ تو اس قابل ہے کہ اسے چوراہے میں کھڑا کر کے کوڑے لگاۓ جائیں, تو اسے جتنے مرضی کوڑے مار یاسر میں تجھے نہیں روکوں گا لیکن… یہ میرے جڑے ہاتھ دیکھ, ایک بار زبیر کو معاف کر دے” شفیق نے کہا
“معاف میں نے نہیں کرنا جی.. رملہ نے کرنا ہے اور وہ نہیں کرنا چاہتی اسے معاف” یاسر نے کہا
“تو ایک بار اسے رملہ سے بات کر لینے دے” شفیق نے منت کی تھی
“کسی صورت نہیں.. ” یاسر اٹل تھا
“اسے کہیں ایک ہفتے کے اندر اندر طلاق بھجوا دے ورنہ پھر میں اسے نوٹس بھجواتا ہوں” یاسر نے کہا تھا
………………………..
شرمین کو میکے آۓ دو ہفتے ہو چکے تھے اور اس نے فل ٹائم علینہ کا جینا دشوار کیا ہوا تھا, دن رات اسے کچوکے لگاتی, اویس کو اٹھتے بیٹھتے بددعائیں دیتی, سارے گھر والوں کو کوسنے دیتی… صبح و شام رونا پیٹنا… علینہ کی اصل کمبختی آ گئی تھی, رو پیٹ کر اس نے نسرین کی بھی ہمدردیاں سمیٹ لی تھیں, اس کا بھی علینہ سے منہ بن گیا, حاتم نے بے شک اس کے ساتھ تھا لیکن آخر کب تک… شرمین آخر کو اس کی سگی بہن تھی
ادھر رملہ پتھر ہو گئی تھی, رخسانہ اور یاسمین نے کوئی دس چکر لگا لئے, رفیق اور شفیق نے کئی لوگ بیچ میں ڈالے, کئی طرف سے یاسر تک سفارشیں پہنچیں لیکن اس کی کوری ناں تھی, بڑی ہی مشکلوں سے گاؤں کی پنچائیت سے مجبور ہو کر وہ زبیر کو رملہ سے بات کر لینے پر راضی ہوا تھا
“رملہ مجھے معاف کر دو, بس ایک آخری بار معاف کر دو, آئیندہ نہیں ہو گا ایسا, خدا کی قسم میں اندھا ہو گیا تھا… ” وہ رملہ کے پیروں میں بیٹھ گیا تھا, دونوں ہاتھ جوڑ کر آنسوؤں سے رو رہا تھا
“رملہ… میرے بچے, میرے چھوٹے چھوٹے بچے” وہ کبھی ان کا ماتھا چومتا, کبھی پیر چومتا
“زبیر… میں اس رات کتنی تکلیف میں تھی آپ کو نہیں پتہ, آپ اندازہ بھی نہیں کر سکتے کہ اس رات میرے وجود کی کیا حالت تھی, مجھ سے سیدھا کھڑا بھی نہیں ہوا جا رہا تھا, جھکا بھی نہیں جا رہا تھا… زبیر مجھ سے بیٹھا بھی نہیں جا رہا تھا… اور آپ نے مجھے تھپڑ مارا, ایک نہیں… دو نہیں… بے شمار… میرے درد کا اندازہ کیے بغیر میرے بال کھینچے, مجھے دھکے دئے… ” وہ رو پڑی
“میرا قصور کیا تھا زبیر ؟ بس اتنا کہ میں تھوڑا سا مسکرا دی تھی…. بس… میرے وجود میں دو ننھی جانوں کی پرواہ کیے بغیر آپ نے مجھے مارا, مکار کہا, حرافہ کہا… تو اب اس مکار سے معافی کیوں مانگ رہے ہیں آپ ؟ میں تو حرافہ ہوں زبیر… میں نے آپ کی ناک کے نیچے چکر چلاۓ ہیں” وہ پھٹ پڑی
“میرا اعتبار نہیں کی… اس پرائی عورت کا اعتبار کیا, آس کی باتوں کو سچ مانا, آس کے سامنے میرا تماشہ بنا دیا آپ نے” وہ بولی
“رملہ سوری… ایم سوری, ایک آخری بار معاف کر دو” وہ رویا تھا
“میں نہیں کروں گی زبیر… میں نے بس آخری بار آپ کو وہ تھپڑ معاف کیا تھا جو آپ نے مجھے شرمین کے سامنے مارا تھا بس… اس کے بعد کچھ نہیں” وہ آنسو رگڑتے ہوۓ بولی
“رملہ تمہیں خدا کا واسطہ… خدا کے لئے ایک بار معاف کر دو, میرے بچوں کی خاطر مجھے معاف کر دو, رملہ میں نہیں رہ سکتا تمہارے بنا… اپنے بچوں کے بنا… پلیز یار ” وہ اس کے پیروں پر اپنا چہرہ رکھے بلک رہا تھا, رملہ نے دھیرے سے اپنے پیر اس کے چنگل سے نکال لیے
“جائیں زبیر… بس ہمارا رشتہ یہاں ختم ہو گیا” وہ مضبوطی سے بولی تھی
………………………….
وہ دفتر سے واپس آتے ہی سیدھا اپنے کمرے میں گھس گیا, رات کے نو بج گئے لیکن کمرہ ہنوز بند… رخسانہ دروازہ پیٹ پیٹ کر تھک گئیں
“زبیر اب کیا ہوا ہے ؟” وہ بولیں, زبیر نے دروازہ کھولا تو چہرہ آنسوؤں سے تر تھا
“پتر کی ہویا ؟” وہ تڑپ گئیں
“خلع کا نوٹس آ گیا ہے… رملہ کی طرف سے” زبیر نے تھکے تھکے سے لحجے میں کہا تھا, رخسانہ دھک سے رہ گئیں, زبیر نڈھال سا بستر پر گر گیا, رفیق صاحب بھی آ گئے تھے
“تیری والی کیا کہتی ہے ؟” انہوں نے اپنے کمرے میں جاتے اویس سے پوچھا
“ایسا ہی ایک نوٹس مجھے بھی آ جاۓ گا بہت جلد… ” اویس نے کہا
“خدا جانے کس کی نظر لگ گئی ہے گھر کو” رخسانہ زبیر کے پاس بیٹھ گئیں
“اویس بھائی… شرمین کو تو چھوڑ ہی دیں آپ… اس نے ساتھ عمر یونہی ذلیل کرنا ہے آپ کو” حمزہ بھی آ گیا تھا
“ادھر اس نے شرمین کو چھوڑا… ادھر علینہ یہاں واپس آئی” رخسانہ نے کہا
“آ لینے دیں… دیکھا جاۓ گا” حمزہ نے کہا
“ایک بچی کے ساتھ تا عمر کے لئے داغ لگوا کر بیٹھ جاۓ گی” رخسانہ زور سے بولیں
“میں کر لوں گا علینہ سے شادی” حمزہ نے دھماکہ کیا تھا, رخسانہ اسے دیکھتی رہ گئیں
“تائی امی… ” وہ ان کے قدموں میں آ بیٹھا, زبیر بھی ساتھ ہی بیٹھا ہوا تھا
“یاسر سے ایک دفعہ اور بات کریں, آپ کہتی ہیں تو میں چلا جاتا ہوں اس کے پاس, وہ جتنا مارتا ہے مار لے, لیکن اتنا بڑا قدم نہ اٹھاۓ, اسے کہیں ہم زبیر کو الگ گھر لے دیں گے, خدا کی قسم میں اپنی شکل بھی نہیں دکھاؤں گا کبھی اسے… اگر وہ رملہ کو یہاں بھیجنا چاہے تو بس وہی یہاں رہے, میں اور اویس بھائی الگ رہ لیں گے” حمزہ کہتا چلا گیا
“لیکن اس شرمین کا پتہ صاف کریں… وہ ساتھ رہے یا الگ, فساد کرتی رہے گی, علینہ کی فکر نہ کریں, اگر حاتم نے اسے چھوڑ دیا تو میں اپنا لوں گا” وہ بولا, رخسانہ نے اویس کی طرف دیکھا
کیا کرنا ہے اب ؟” انہوں نے پوچھا
“دیکھ اویس… جو ہونا تھا وہ ہو گیا, اب تجھے یہ ب کہنے کا کوئی فائدہ نہیں کہ تجھے روکا تھا, سب نے روکا تھا اور اسی لئے روکا تھا یہ دن نہ آۓ جو آ گیا…اب سوچ لے کہ آگے کیا کرنا ہے, تیری زندگی ہے… تیرا فیصلہ ہے… کل کلاں کو کسی کے سر دوش نہ رکھیں” رخسانہ نے کہا
“پر میں تجھے ایک بات بتا دوں اویس… کہ لڑکیاں ساری ایک جیسی نہیں ہوتیں, اگر آدھی رملہ جیسی ہیں تو باقی کی آدھی شرمین جیسی ہی ہوتی ہیں, کوئی ماں اپنی بیٹیوں کی تربیت غلط طریقے سے نہیں کرتی لیکن فطرت اپنی جگہ ہے اویس… اور فطرت سب کی ایک جیسی نہیں ہوتی, اب تیری قسمت کے تجھے شرمین جیسی مل گئی تو کیا یہ مسئلے کا حل ہے کہ جسے شرمین جیسی مل جاۓ وہ سال, ڈیڑھ سال بعد چھوڑ دے… نہیں, نہیں ہونا چاہیے ایسا, اب اگر وہ تیز طرار ہے, چالاک ہے, زبان کی تیز ہے, کام چور ہے تو کیا بس اسے اس کے حال پر چھوڑ دینا ہے…؟ تو نے اس سے نکاح کیا ہے اویس, بیوی ہے وہ تیری, اسے سدھارنا فرض ہے تجھ پر, خدا نے صرف ایک صورت میں بیوی سے الگ ہو جانے کو کہا ہے.. کہ جب وہ شوہر کی ناموس کی حفاظت نہ کرے, نافرمانی کرے … اس صورت میں بھی پہلے سرزنش کرو…اویس اگر ہمارے بچوں میں سے کوئی ایسا نکل آۓ تو کیا چھوڑ دیتے ہیں اسے… ؟ کہہ دیتے ہیں جا, دفع ہو جا…نہیں نا… میں نے آج تک زرینہ کو گلے سے لگا کر رکھا ہوا ہے, چھ سال ہو گئے کیا کچھ نہیں ہوتا ان دونوں میاں بیوی کے بیچ لیکن شمس نے اسے طلاق نہیں دی… کیونکہ پتر اگر مرد اپنی بیوی کو ہی نہ سدھار سکے تو وہ کیسا مرد ہوا ؟ وہ کیسا شوہر ہوا جو اپنی محبت سے اپنی بیوی کو ہی رام نہ کر سکے… اویس پتر… اگر چھوڑنا ہے تو بھی تیری مرضی.. چھوڑ دے, کل کو مجھے نہ کہیں کہ ماں نے میری زندگی برباد کر دی… لیکن اگر واپس لیکر آنا ہے تو اسے اس کی اوقات پر رکھنا پڑے گا, سختی بھی کرنی پڑے گی… عورت اپنے آدھے سے زیادہ مسئلے بچوں میں لگ کر بھول جاتی ہے, آج اگر اس کی گود میں ایک بچہ ہوتا تو صورتحال یہاں تک پہنچتی ہی نہیں…” رخسانہ کہتی چلی گئیں
“اور تو… تو نے اپنے ہاتھوں اپنا گھر اجاڑا ہے زبیر… تو نے ایک نیک اور پارسا بیوی کو ٹھکرا دیا… خدا ہی رحم کرے اب تجھ پر” رخسانہ نے اپنے آنسو صاف کیے تھا
…………………………
جاری ہے
