63K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

قدرت شاید مہربان تھی… سبھی الٹے کام سیدھے ہونے لگے تھے
سبھی اٹکے کام مکمل ہونے لگے تھے
سبھی ادھورے کام پورے ہونے لگے تھے
رملہ کے گھر والے آ کر اویس کو دیکھ گئے, بظاہر دیکھنے میں کوئی کمی تو نہیں تھی اس میں, پانچ فٹ نو انچ قد تھا, اچھی شکل و صورت تھی, عمر نے بھی ابھی تیس کا عدد کراس نہیں کیا تھا, چار سال ہو گئے تھے اسے ایک ٹیکسٹائل فیکٹری میں سپروائزر کی نوکری کرتے ہوئے, اتنا کما لیتا تھا کہ اپنی فیملی کو سپورٹ کر سکے, رملہ کی تصویر دیکھ کراس نے اوکے کر دی تھی, رملہ کے گھر والے اس کے ہاتھ پر پیسے بھی رکھ گئے تھے, اب رخسانہ اور رفیق کی باری تھی
ہمیشہ کی طرح رات کے کھانے کے بعد سب جمع ہو گئے, اس بار دادا جی بھی مجمع کا حصہ تھے, شفیق بھی آیا ہوا تھا
“دن اتوار کا… اور کوئی دن نہیں” ظاہر ہے سب نوکری والے تھے
“کون کون جاۓ گا… ؟” سب سے اہم سوال, لائن میں سب سے پہلے نمبر پر زرینہ چوہدری کھڑی تھی جسے رخسانہ نے دھنگیڑ کر سب سے آخر میں کر دیا
“تو پہلے بھی جا چکا ہے” حمزہ کا پتہ ختم
اویس تو خیر کسی صورت نہیں جا سکتا تھا
اب کمپیٹیشن آیا علینہ اور ناعمہ میں… دونوں میں وہ معرکہ کارزار ہوا کہ الامان الحفیظ… بازی ناعمہ کے حصے آئی کیونکہ اگر علینہ جاتی تو زرینہ بی بی کیسے پیچھے رہتیں… ؟
رخسانہ بیگم فل ٹاس رفیق صاحب کا پتہ بھی کاٹنے کے درپے تھیں لیکن…وہ باپ ہونے کے ناطے بچ گئے
اتوار والے دن بارہ بجے کے قریب وہ سارا ٹولہ دو عدد موٹر سائیکلیوں پر سوار وہاں جا اترا
رملہ نے گلابی رنگ کا انتہائی نفیس سا لان کا سوٹ پہن رکھا تھا, چہرے پر بالکل نہ ہونے کے برابر میک اپ اور لبوں پر ہلکی گلابی سی لپ اسٹک تھی, گلابی رنگ کا شیفون کا دوپٹہ سلیقے سے سر اور کندھوں پر سیٹ کیا ہوا تھا, سفید اور گلابی رنگ کے اوپن شوز میں اس کے سپید پیر نمایاں نظر آ رہے تھے
زبیر اور ناعمہ تو پہلی نظر میں ہی واری صدقے ہو گۓ
“اوجی دولت کا کیا ہے… آنی جانی شے ہے, آج ہماری کل تمہاری, پیسوں کی کوئی کمی ہے جی… منڈے صبح و شام فروٹ لیکر آتے ہیں, فریج بھری ہوتی ہے… گرمیوں میں آم, آلو بخارے, خوبانی, سردیوں میں کنوؤں کے تھیلے… ساڈا ایک کمرہ تو کنوؤں کے واسطے ہی رکھا ہوا ہے, گھر کی سبزیاں, گھر کا دودھ…” رفیق صاحب کی ٹرین ٹریک پر چڑھ چکی تھی
“چوہدری صاحب… گلاں گھٹ کرو تے جیب ڈھیلی کرو اور پیسے نکالو” رخسانہ نے بڑے ہلکے پھلکے انداز سے انہیں بریک لگائی
“آ پھڑو جی… کنے لینے آ” وہ ایک کے بعد ایک ہزار ہزار کے نوٹ انہیں پکڑاتے چلے گئے, شیخی پن کی کوئی انتہا تھی
“ابو جی… بس کرو, اسی کیڑا فیر نئیں آنا” زبیر اٹھ کر ان کی طرف آیا
“ابو جی بس کرو… خدا دا واسطہ ای” وہ باپ کے کان میں گھسا تھا
رخسانہ نے رملہ کے ہاتھ پر پیسے رکھ دیئے
“اگر آپ برا نہ منائیں تو آپی کی ایک تصویر بنا لیں ؟” ناعمہ نے پوچھا, رملہ کی امی نے اثبات میں سر ہلا دیا, ناعمہ نے پہلی تصویر کھینچی… پھر دوسری, پھر تیسری
“ناعمہ پلیز… صرف ایک تصویر… حالانکہ ضرورت اس کی بھی نہیں ہے لیکن چلیں کوئی نہیں, پلیز یہ دسیوں تصویریں مت بناؤ ” وہ بڑے سبھاؤ سے بولی تھی
“ناعمہ بس کرو… ” زبیر نے اسے تنبیہہ کی تھی
“ایڈی کوئی گل وی نہیں ہے جی… ” رفیق صاحب ہوں اور پسوڑی نہ پڑے
“آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں انکل…واقعی یہ اتنی بڑی بات نہیں ہے لیکن… میرے لئے ہے, سواۓ ایک لڑکے کے پورا خاندان ہی لڑکی کو دیکھنے آتا ہے لیکن اسے پھر بھی تصویر دیکھنی ہوتی ہے, اسے کسی کی آنکھوں پر اعتبار نہیں ہوتا… ماں باپ کی بھی نہیں, تصویر نا گزیر ہو گئی ہے… اور پھر اکتفا صرف تصویر پر نہیں ہوتا… تصویریں چاہیے ہوتی ہیں” وہ کہتی چلی گئی
“دیکھیں رملہ مجھے دین کی بہت زیادہ سمجھ تو نہیں ہے لیکن لڑکا اور لڑکی شادی سے پہلے ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں… یہ اختیار تو مذہب نے بھی دیا ہے” زبیر نے کہا
“کب دیا ہے ؟ کس صورتحال میں دیا ہے ؟ جب سب کچھ طے ہو جاۓ تو دیا ہے زبیر بھائی, پہلی بار لڑکی دیکھتے ہی نہیں دیا, مجھے دیکھنے دسیوں لوگ آۓ ہیں تو کیا اسلام نے ان تمام لڑکوں کا مجھے دیکھنے کا اختیار دیا ہے” وہ بولی, زبیر لاجواب ہو گیا
“میری بات کا برا نا منانا پلیز لیکن… رشتہ وہی محرم ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے کہہ دیا… اس کے علاوہ کوئی نہیں” وہ دھیرے سے مسکرا کر بولی
“آپ کی فراست کو سلیوٹ ہے رملہ جی… ” اسے بالکل برا نہیں لگا تھا
اویس کا رشتہ طے ہو گیا
اگلے ہی دن حاتم کی کال بھی آ گئی, اس کی بہن کو علینہ پسند آ گئی تھی, وہ اویس کو اپنے گھر آنے کی دعوت دے رہا تھا
…………………………..
“آنٹی جی میری امی کی ڈیتھ کو پانچ سال ہو گئے ہیں, ابو جی ہارٹ پیشنٹ ہیں اور ساتھ شوگر کا مسئلہ بھی ہے اسلئے بس گھر پر ہی رہتے ہیں, سب سے بڑی نسرین باجی ہیں ان کی شادی ہو چکی ہے, اس سے چھوٹا میں ہوں اور مجھ سے چھوٹی بہن آجکل جھنگ گئی ہوئی ہے پھپھو کے گھر… ” حاتم بتاتا چلا گیا
“تو دوسری بہن کی شادی نہیں کی ؟” رخسانہ نے پوچھا, حاتم نے سرسری سا نسرین کی طرف دیکھا تھا
“آنٹی جی کی تو تھی اس کی شادی لیکن… وہ لوگ ٹھیک نہیں نکلے تو طلاق لے لی تھی” حاتم نے کہا, رخسانہ چپ سی ہو گئیں
“امی نے بھی بس اسی کا صدمہ لے لیا… ” نسرین نے دھیرے سے لقمہ دیا تھا
“چل کوئی نہیں پتر… اچھے برے لوگ ہر جگہ ہی ہوتے ہیں” رخسانہ نے کہا, اویس بھی ساتھ آیا تھا, کافی دیر تک وہ دونوں بیٹھے آپس میں باتیں کرتے رہے
بظاہر دیکھنے میں حاتم میں کوئی کمی نہیں تھی, گندمی سا رنگ تھا اور علینہ سے ذرا ہی اونچا قد تھا, نین نقش بھی بہت زیادہ خوبصورت نہیں تو اتنے گئے گزرے بھی نہیں تھے, بس ایک عمر کو نظرانداز کر کہ لڑکا ٹھیک تھا
رخسانہ مطمئین تھیں, گھر پہنچے تو صحن کے وسط میں میدان کارزار گرم تھا
زرینہ اور شمس کی لڑائی ہو رہی تھی
یاسمین کبھی بہو کو پیچھے کرتیں اور کبھی بیٹے کو…دونوں کی زبانیں آگ اگل رہی تھیں
“امی چھڈ دے مینوں… میں نے آج سارا عذاب ہی ختم کر دینا ہے, اسے قتل کر کے جیل میں سکون کی زندگی گزاروں گا میں” شمس نے کلہاڑی اٹھائی ہوئی تھی, گھر میں صرف یاسمین, علینہ اور ناعمہ تھیں
“مار میرے کلہاڑی… مار کے دکھا, میں بھی تو دیکھوں کہ کتنا جگرا ہے تیرا” زرینہ نے زور سے حلق پھاڑا اور خود کو علینہ کی گرفت سے چھڑوا کر آگے کو آئی
“زندگی جھنڈ کر دی میری اس کمینی عورت نے, بولنے تک کی تمیز نہیں ہے اسے, آج اس کا قصہ ختم کرتا ہوں میں” شمس کلہاڑی لئے تیزی سے اس کی طرف آیا
“شمس… رک جا یار, بس کر, بس کر دے” اویس نے بمشکل اسے روکا
“بے غیرت انسان ہے یہ زمانے کا, سارا دن مشقت کرتا ہے تو میرے پہ احسان کرتا ہے, کماتا ہے تو اپنے بچوں کے لئے کماتا ہے, مجھے کیا دیا ہے اس نے ساری عمر, روٹی اور کپڑا تو لوگ کام والیوں کو بھی دے دیتے ہیں” زرینہ فل آواز میں گلا پھاڑ رہی تھی
“اس کی زبان بند کرا لے امی… ورنہ کاٹ دوں گا آج” شمس زور سے دھاڑا
“اے چل اندر… چل دفع ہو” رخسانہ نے اسے بالوں سے پکڑ کر اندر کو دھکیلا
“ساری عمر اس کنجر کے تلوے چاٹے جانا… مجھ سے شادی کر کہ جو احسان کیا ہے نا اس نے سب پر وہ ساری عمر چکاتے رہنا…” وہ اندر جاتے ہوۓ بھی باز نہیں آئی تھی
“زبان بند کرتی ہے یا نہیں… ” شمس اس کے پیچھے دوڑا
“شمس میر پتر بس کر… بس کر” رخسانہ نے بمشکل اسے روکا
“ہاں یہ ہی پتر ہے تیرا… میں تو کنجری ہوں, کمینی ہوں, ماتھا چومو اس کا سارے مل کے” علینہ اسے کھینچ تان کر اندر لے گئی لیکن اس کی زبان بند نہ ہوئی
“ناعمہ پانی لیکر آ… ” اویس نے اسے چارپائی پر بٹھایا
“لے… پانی پی” وہ اسے گلاس پکڑاتے ہوۓ بولا
“اویس یار خدا دی قسم میں نے کسی دن اس عورت کے سر چڑھ کر خود کشی کر لینی ہے میں بتا رہا ہوں” شمس نے کہا
“او ہویا کی سی… ؟” رفیق نے پوچھا
“مجھ سے غلطی اتنی ہو گئی کے میڈم کو آ کر پانی مانگ کر ڈسٹرب کر دیا… وہ مہارانی صاحبہ ٹی وی دیکھ رہی تھیں, کہتی جا وہ فریج کھڑی ہے خود ہی پی لے, میں نے کہہ دیا سارا دن ٹی وی ہی دیکھتی ہے اگر اٹھ کہ ایک گلاس پانی پلا دے گی تو مر تو نہیں جاۓ گی…بس شروع ہو گئی ” وہ بولا
اندر زرینہ زارا قطار رخسانہ کے سامنے دھاڑیں مار رہی تھی
“امی خدا دی قسم ابھی اندر داخل نہیں ہوا اور گالی پہلے نکلی اس کی زبان سے, کہتا اے کنجرییے اٹھ کے پانی دا گلاس دے دے, امی مینوں بس اے دس دیو کہ میرا قصور کیا ہے… ؟ میری وہ چھوٹی سی غلطی کیا ساری عمر معاف نہیں ہونی ؟” وہ روۓ جا رہی تھی
اور یہ پچھلے چھ سال سے ہو رہا تھا
آۓ روز ان دونوں میاں بیوی کے دنگے چھڑے ہوتے تھے, آۓ روز دونوں کی دھما چوکڑی اور گالم گلوچ, کئی بار دونوں ایک دوسرے کا سر پھاڑ چکے تھے, انہی لڑائی جھگڑوں میں دو بچے بھی دنیا میں آ گئے تھے
………………………..
رملہ کی امی کی کال آئی ہوئی تھی, اویس کا رشتہ پکا ہوۓ چار ماہ ہو گئے تھے اور ان چار ماہ میں ناعمہ اور علینہ کے بے حد اصرار پر بھی اس نے اپنی کوئی تصویر نہیں بھیجی تھی, اویس بضد تھا کہ اسے نہ صرف رملہ کا نمبر چاہئے تھا بلکہ براہ راست اس سے ایک دفعہ ملنا بھی تھا
“اویس میرے نال زیادہ بکواس نہ کر… میں بالکل اس کی امی کو نہیں کہنا کہ اپنی بیٹی کا نمبر دے, انتہائی بے شرمی والی بات ہے یہ, شادی سے پہلے کونسی باتیں کرنی ہیں تو نے اس سے ؟” رخسانہ اچھا خاصا برس پڑیں
“امی ایسے ہی تو انڈر سٹینڈنگ ہوتی ہے” وہ بولا
“کھے تے سوا ہوندی آ… چپ کر جا” وہ بولیں
“امی اے کیڑی گل ہوئی, میں نے بس تصویر دیکھی ہے اس کی, پوری زندگی گزارنی ہے اس کے ساتھ جب تک بات نہیں کروں گا تب تک کیسے پتہ چلے گا کہ کس طبیعت کی ہے” وہ تڑخ گیا
“اچھا… وہ بھی تو زمانے تھے جب گھونگھٹ اٹھا کر ہی پتہ چلتا تھا کہ شکل کیسی ہے ؟” رخسانہ نے کہا
“آہو.. جب میں نے تیری ماں کا گھونگھٹ اٹھایا تو میرا تو پورا کمرہ ایسے ہو گیا جیسے اماوس کی کالی رات… اور یہ منجے پر بیٹھی ایسی لگے جیسے کوئی سو سال پرانی بد روح…کالی شا ” رفیق صاحب نے ٹھٹھہ لگایا تھا
“ہاں اور اس سو سال پرانی بد روح کے سامنے بیٹھا ابلیس لعین… دجال کی شکل والا… وہ بیچاری اس کو دیکھ کر چیخیں مار مار کر رو بھی نہیں سکی تھی… ” رخسانہ نے کہا
“اچھا بس کریں دونوں… امی میں نے بات کرنی ہے” اویس کی سوئی وہیں اٹکی ہوئی تھی لیکن چار ماہ سے رخسانہ اس کی کسی بھی بات پہ کان نہیں دھر رہی تھیں
اب بھی سسرال سے کال آئی تو وہ ماں کے پیچھے پڑ گیا
“میں نے بات کرنی ہے رملہ سے… ” وہ مسلسل رخسانہ کے کان میں کانا پھوسیاں کرے جا رہا تھا, رملہ کی امی کے بعد فون رملہ نے پکڑ لیا
ایک ایک کر کہ سبھی نے بات کی, زبیر کے بعد حمزہ نے فون پکڑا تو اویس کو چڑھ غصہ گیا, اس نے جھپٹ کے حمزہ کے ہاتھوں سے فون کھینچ لیا
“ہیلو… اسلام علیکم ” وہ فون کان کو لگا کر بولا, ارادہ تو اس کا چھت پر جانے کا تھا لیکن زبیر اور حمزہ نے اسے دائیں بائیں سے جکڑ کر وہیں چارپائی پر گرا لیا, ناعمہ اور علینہ اس کے اوپر جیسے پاور پلے لیکر کھڑی ہوئی تھیں
“جی وعلیکم السلام… اب کون ہے؟” انتہائی شیریں سی آواز
“میں اویس بات کر رہا ہوں” وہ بولا, دوسری طرف خاموشی سی چھا گئی
“دیکھیں رملہ میں جانتا ہوں آپ شادی سے پہلے بات کرنے کے حق میں نہیں ہیں لیکن… جہاں پورے گھر کو دو دو منٹ عنائیت کیے ہیں وہاں ایک میں بھی سہی… کیا فرق پڑتا ہے ؟” وہ اٹھنے لگا لیکن اٹھنے نہ دیا گیا
“آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں اویس…. فرق کوئی نہیں پڑتا, میرا زبیر یا حمزہ سے بات کرنا بھی جائز نہیں ہے آپ سے تو پھر رشتہ طے ہوا ہے, فرق اس سے نہیں پڑتا اویس کہ آپ مجھے کال کر کہ میرا حال چال پوچھیں, فرق اس سے بھی نہیں پڑتا کہ میں آپ کی کال ریسیو کر کہ آپ کو اپنا حال چال سناؤں… فرق ہر روز صبح و شام یہ حال چال سنانے سے پڑتا ہے, ایک منٹ کی حال چال والی کال کو آدھے آدھے گھنٹے پر محیط کرنے سے پڑتا ہے, میرے سارے دن کی روداد سننے سے پڑتا ہے, آپ نے کال کی اور میں ریسیو نہیں کر سکی اس پر جرح کرنے سے پڑتا ہے, آپ نے کال کی اور میں کہیں اور مصروف تھی اس پر سوال کرنے سے پڑتا ہے, اویس فرق ان بے جا غلط فہمیوں سے پڑتا ہے جو میرے اور آپ کے آپس میں بات کرنے سے پیدا ہوں گی” وہ کہتی چلی گئ
” رملہ میں صرف تھوڑی سی انڈرسٹینڈنگ ڈیویلوپ کرنا چاہ رہا تھا بس… “اویس اس کی بات بہت اچھے طریقے سے سمجھ گیا تھا
“کیسی انڈرسٹینڈنگ اویس…؟ میرا پسندیدہ رنگ کونسا ہے, آپ کا پسندیدہ کھانا کون سا ہے, میری پسندیدہ مووی کونسی ہے, آپ کا پسندیدہ شہر کون سا ہے, کیا یہ سب جانا انڈرسٹینڈنگ کے زمرے میں آتا ہے ؟نہیں نا… یہ سب چیزیں تو ہم اپنے فیورٹ سٹارز کے متعلق بھی جانتے ہوتے ہیں تو کیا ان سے ہماری اچھی انڈرسٹینڈنگ ہوتی ہے” رملہ نے کہا
“رملہ آپ شاید میری بات سمجھ نہیں رہیں, میں بس اتنا کہنا چاہ رہا ہوں کہ ہفتے میں ایک آدھ بار ایک دوسرے کا حال چال پوچھنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا” اویس نے ایم لمبی سانس بھرتے ہوئے کہا
“ٹھیک ہے اویس… لیکن یاد رکھیے گا کہ ہفتے میں دس بیس بار میرا حال چال پوچھنے سے مجھے فرق پڑے گا” وہ دھیرے سے مسکراتے ہوئے بولی تھی
……………………..
گھر میں منگنی کے ہنگامے شروع ہو گئے تھے, اویس اور علینہ کی منگنی ایک ہی دن رکھی گئی تھی… وقت اور پیسے دونوں کی بچت
اس دن ان سب نے رملہ کی طرف جانا تھا, رخسانہ نے اسے منگنی کے لئے دو عدد جوڑے, جوتے اور بناؤ سنگھار کا سامان بنا کر دیا تھا, اس کے علاوہ گھر کے ہر فرد کی طرف سے ایک ایک گفٹ تھا, مٹھائی کی ٹوکریاں اور پھولوں کے بکے… دو عدد گاڑیاں بک کروا کر وہ لوگ اویس کی منگنی کرنے پہنچے, پیچھے ایک اکیلا اویس اور اسی سالہ دادا جی
“اویس میرا پتر… دادے کا خیال رکھنا, خود کانوں میں ٹونٹیاں گھسا لے اور دادا بیچارہ باہر دھوپ میں سڑتا پھرے…” رخسانہ نے دروازے تک اسے نصیحتیں کی تھیں
اویس نے ان کے جاتے خود کو اور دادا جی کو ٹی وی لاؤنج میں بند کیا, دروازے کی کنڈی لگائی, پردے برابر کیے اور کانوں میں ٹونٹیاں ٹھونس کر صوفے پر لیٹ گیا
خد گواہ ہے کہ اسی سالہ دادا جی نے شام تک اس ٹی لاؤنج کے پانچ سو چکر لگا لئے لیکن باہر جانے کا راستہ نہ ملا
ادھر وہ ٹولہ لدا پھندا اویس کے سسرال پہنچا, اس بار خطرے کی بات یہ تھی کہ زرینہ اور شمس بھی آۓ تھے
رملہ نے ہلکے سبز اور کاسنی رنگ کے امتزاج کا شرارہ سوٹ پہنا ہوا تھا, شارٹ سی موتیوں کے کام والی شرٹ اور ساتھ ہیوی کامدار شرارہ… دوپٹہ اسی طرح سلیقے سے سر پر سیٹ کیا ہوا تھا, اب کی بار میک اپ ذرا زیادہ تھا لیکن نفیس… ہلکی پھلکی جیولری بھی پہنی ہوئی تھی, گولڈن بلاک ہیل والے جوتوں نے پیروں کو قید کیا ہوا تھا
اس کی چھوٹی بہن نائلہ نے اسے لا کر صوفے پر بٹھا دیا
سبھی اسے دیکھ رہے تھے
مسکراتے ہوئے…. ستائش سے, اپنائیت سے, محبت سے
حمزہ نے بھی اسے دیکھا
ستائش سے, اپنائیت سے, محبت سے
لیکن… نہ جانے کیوں وہ مسکرا نہیں سکا
وہ اس سے آٹھ دس قدم کے فاصلے پر کھڑا تھا, مسلسل اسے تک رہا تھا
وہ واقعی اتنی حسین تھی یا اس لمحے بس اسے ہی لگ رہی تھی
سب باری باری اس کے پاس جا کر بیٹھ رہے تھے, مٹھائی کھلا رہے تھے, گفٹ دے رہے تھے, وہ سب کو مسکراتے ہوئے شکریہ کہہ رہی تھی, زبیر اس کے پہلو سے اٹھا تو رفیق صاحب نے اسے آواز دے لی
“حمزہ پتر آ جا… “
نہ جانے کیوں… ؟ وہ اس کے قریب نہیں بیٹھنا چاہ رہا تھا لیکن… رفیق کے بلانے پر دھیرے سے اس کے برابر میں جا کر بیٹھ گیا
“میرا گفٹ کہاں ہے ؟” رملہ نے دھیرے سے مسکراتے ہوئے پوچھا
“یہ اتنا بڑا ڈھیر تو ہے گفٹس کا, میرے دینے یا نہ دینے سے کیا فرق پڑتا ہے ” وہ مسکرا نہیں سکا تھا
“فرق کیوں نہیں پڑتا… یہ ڈھیر کونسا تم نے دیا ہے” وہ بولی
“دوں گا کسی دن آپ کو…تحفوں کا پورا ڈھیر” وہ بولا, عجیب سے انداز سے…رملہ یکلخت چونک گئی, بچی تو تھی نہیں کہ لحجہ ہ سمجھ پاتی
“کس دن… ؟” اس کے لبوں کی مسکراہٹ یکدم مانند پڑ گئی, ساکت سی نگاہوں سے وہ اپنے ساتھ حمزہ کو دیکھتی رہ گئی
وہ بھی اسی کو دیکھ رہا تھا
بس چند لمحے… پھر جبری سا مسکرا کر اٹھ کھڑا ہوا
شام پانچ بجے وہ لوگ رملہ کو انگوٹھی پہنا کر واپس آ گئے تھے
اگلے دن رملہ کے گھر والوں نے اویس کو انگوٹھی پہنانے جانا تھا, ساتھ ہی حاتم کی بڑی بہن اور دیگر چند ایک رشتے دار بھی مدعو کر لئے گئے
“دوسری بہن نہیں آئی نسرین ؟” رخسانہ حد درجہ حیران تھیں
“آنٹی جی اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اسلئے ابھی وہ ادھر ہی ہے… پھپھو کی طرف” نسرین نے بہانہ سا بنا دیا
“اتنی بھی کیا طبیعت خرابی کے اکلوتے بھائی کی منگنی میں بھی نہیں آ سکی” وہ بولیں, نسرین بات کو گول مول کر گئی تھی
……………………….
جاری ہے