63K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

آج علینہ کو دیکھنے کے لئے کچھ لوگ آ رہے تھے, پورے چوہدری ہاؤس میں ایک افراتفری کا سماں تھا, ہمیشہ کی طرح کام بانٹے ہوۓ تھے, ناعمہ بیچاری نے تو صبح فجر کی نماز پڑھتے ہی پیازوں کی ٹوکری اور چھری اٹھا لی تھی… بس چھیلے جا رہی تھی اور… کاٹے جا رہی تھی, ہر قسم کی خاطر داری اس کے ذمے تھی…ویسے ایک اور کام بھی تھا جو اس نے بلا معاوضہ ہی اپنے ذمے لے رکھا تھا اور وہ تھا… مفت کے مشورے دینے کا
“امی تسی بھائی شمس دی بارات والا سوٹ پا لینا…” ماں کو مشورہ
“لے… ایک ہزار موتی لگے آ اودے اتے (ایک ہزار موتی لگے ہیں اس کے اوپر…) پھوڑے نکل آئیں گے پورے جسم پر, جلد کی بواسیر ہو جاۓ گی مجھے” یاسمین نے اس کا بتایا کوئی دسواں سوٹ رد کیا تھا
“زرینہ باجی آپ نا ڈائیننگ ٹیبل ہال کمرے میں سیٹ کر دینا…وہ ذرا کھلا ہے” زرینہ اس کی تایا زاد کزن تھی, جب اس بیچاری نے کھینچ تان کہ اسے ہال کمرے میں منتقل کر دیا تو…
“آۓہاۓ… زرینہ باجی یہ کمرہ تو کچن سے دور ہی بہت ہے… وہیں سیٹ کر دیں جہاں پہلے تھا”
اس بیچاری نے صبر کا انتہائی کڑوا گھونٹ پی کر اسے دھنگیڑ کر دوبارہ کچن کے سامنے سیٹ کیا
“اوہو… ادھر سے تو کچن کے اندر صاف نظر آۓ گا… تھوڑا سا پرے کو کر دیں” وہ مسلسل چارپائی پر بیٹھی پیازوں کے ساتھ ساتھ زرینہ کا صبر بھی چھیلے جا رہی تھی
“گل سن… مجھے تو نے کتنے پیسوں پر ملازمہ رکھا ہے پہلے یہ بتا… مٹر کی سونڈی…سویرے سے تیری زبان میں خارش مچی پڑی ہے, میں نے اس ڈائیننگ ٹیبل کے ساتھ ہی تجھے بھی سیٹ کر دینا ہے کچن کے سامنے… سمجھی” زرینہ کی آواز چوہدری ہاؤس تو کیا… پورے گاؤں میں گونج رہی تھی, اس بیچاری نے بھی تو فجر کی اذان کے ساتھ ہی جھاڑو پکڑ لیا تھا… اور ساتھ میں پوچا
تین کنال پر پھیلا چوہدری ہاؤس اور ایک اکیلی زرینہ چوہدری… زیادتی نہیں ظلم تھا
آٹھ کمرے, اٹیچ واش رومز, کچن, ہال, ریلوے سٹیشن نما برآمدہ, وسیع و عریض صحن, پلاٹس, گیراج, ڈرائینگ روم, اپر فلور…
دھیرے دھیرے بیچاری کی شلوار گھٹنوں تک چڑھ گئی, آستینیں کندھوں کو چھو گئیں, بالوں کا جوڑا عین سر کے وسط میں اور دوپٹہ سرے سے غائب…
ایک بچہ کیچڑ میں جا کر بیٹھ گیا, دوسرا گلی میں بنٹے کھیلنے نکل گیا
“ہاۓ ہاۓ زرینہ… اگر رشتے والوں نے تجھے ان حالوں دیکھ لیا تو گھر کی ملازمہ ہی سمجھیں گے” اس کا حلیہ دیکھا تو یاسمین کے منہ سے نکل گیا, زرینہ نے جھاڑو پھینک, پوچا پھینک, زمین پر پھسکڑا مارا اور شروع ہو گئی
“تو چاچی میری حیثیت پہلے کونسا ملازماؤں سے زیادہ ہے, انہیں تو پھر پورے دن ذلیل ہو کر شام کو پانچ سو روپیہ مل جاتا ہے, مجھ کم بخت کو کیا ملنا ہے… ؟ گالیاں, طعنے, کوسنے, بد دعائیں… سارا دن کھوتی کی طرح مشقت کر کے شام کو ابو مجھے ایک روٹی بھی سکون سے کھا لینے سے تو پھر کہنا… ” وہ دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھی, یاسمین چپ چاپ سر منہ لپیٹ کر اندر چلی گئیں
“یہ کون نور حضور کے ویلے بین ڈال رہا ہے ؟” رفیق صاحب کو اس کے بین سنائی دے گئے تھے
“آپ کی زرینہ چوہدری…” یاسمین نے کہا, رفیق صاحب یوں باہر نکلے جیسے جنگ لڑنے جا رہے ہوں
“رخسانہ باجی… دنگا ہون لگا ای( دنگا ہونے لگا ہے)” یاسمین نے ہانک لگائی تھی
“دنگا… ؟” رخسانہ بیچاری کپڑے استری کر کر کہ پاگل ہوئی پڑی تھیں, کاٹن کے کلف زدہ کرتے, شلواریں اور واسکٹیں
“رفیق چوہدری ورسز زرینہ چوہدری ” یاسمین نے کہا
“امی جائیں… جلدی جائیں” علینہ ایک دم ہول کھا کر کمرے سے نکلی, جب اس دیکھنے آتے تھے تو وہ صبح سے لیکر شام تک صرف اپنی خود کی ڈینٹنگ پینٹنگ ہی کرتی تھی, رخسانہ یکدم باہر کو بھاگیں
باہر ایک معرکہ کارزار گرم تھا
“میں نے کہا اپنی اس دس فٹ لمبی زبان کو ابھی کے ابھی منہ میں ڈال لے ورنہ آرے سے کتر دوں گا سمجھی… ” رفیق صاحب نے اچھا ہی گلا پھاڑا
“چلو… کترو… میں بھی دیکھوں باپ کیسے بیٹی کی زبان کترتا ہے” زرینہ کونسا کم تھی
“چوہدری صاحب بس کریں… بس کریں” رفیق صاحب کو گلا پھاڑ پھاڑ کر اتھو لگ گیا
“نی ناعمہ… جا پانی لیکر آ” وہ بولیں, ناعمہ کو اس چارپائی سے اٹھنا ہی قیامت نظر آیا
“تائی جی… ابھی دو منٹ میں صحیح ہو جاۓ گا… تسی بس تایا جی نوں چپ کرا دو”
کہا نا… مفت کا مشورہ
“اے… چل اوپر, چل اپنے کمرے میں, ہم خود ہی کر لیں گے سارے کام, تیری مہربانی, چل اوپر دفع ہو” رفیق نے اسے کھینچ کر سیڑھیوں کی طرف دھکیلا
“اس سے تو مجھے پیدا ہوتے ہی مار دیتے, ایک دفعہ ہی کام ختم کرتے, یوں روز روز کتے خانی کرنے سے تو بہتر تھا…” وہ چلی تو گئی لیکن اس کی آواز مسلسل بیک گراؤنڈ میں گونج رہی تھی, تبھی بیرونی دروازہ کھلا, زبیر اور حمزہ کی موٹر سائیکل اندر داخل ہوئی, وہ بیچارے سامان سے لدے پڑے تھے
“امی یہ کیا… ؟ ان لوگوں نے دو گھنٹوں تک آ جانا ہے, ادھر نہ کوئی صفائی, نہ ستھرائی… کدھر ہے زرینہ… ؟” زبیر تو آتے ہی پھٹ پڑا
“تیرے پیو نے بھگا دیا ہے اسے… ” رخسانہ خود ستی پڑی تھیں
“چل اٹھ چوہدری… جھاڑو اور پوچا اٹھا اور شروع ہو جا اب, اتھو صحیح ہو گیا ہے تیرا ” رخسانہ نے جھاڑو اٹھا کر رفیق کے سامنے پھینکا اور پوچا زبردستی ان کے ایک ہاتھ میں پھنسا دیا
“چلو… لاؤ جھاڑو پوچا” وہ کمر پر ہاتھ باندھ کر بولیں
“دیکھ… دیکھ اس کے تیور, یہ عزت کرتی ہے یہ میری” وہ بھڑکے
“میں نہیں کردی تہاڈی عزت… بس, چلو” رخسانہ ان سے زیادہ بھڑک گئیں
“تائی امی چلیں اندر… میرے کپڑے استری کئے کے نہیں ؟” حمزہ انہیں بمشکل اندر لیکر آیا
“بے غیرتو… چھ چھ فٹ کے ہو گئے ہو, کپڑے تو خود استری کر لیا کرو, مجھ سے نہیں ہوتے یہ کلف لگے کرتے, شلواریں ” انہوں نے استری پھینک کے ماری, وہ بیچارہ ناچار خود ہی استری کرنے کھڑا ہو گیا
“اویس بھائی کہاں ہیں ؟” اس نے کمرے میں کھڑی علینہ سے پوچھا
“سیلون گئے ہوں گے ” وہ بولی
“سیلون… ؟” وہ پھڑک کے مرنے والا ہو گیا
“ایک تو مجھے اس شاہ رخ خان کی سمجھ نہیں آتی, صبح آٹھ بجے کا یہ لڑکا دلہوں کی طرح تیار ہونے گھر سے نکلا ہوا ہے, بندہ اسے پوچھے تیری پین دی بارات آنی ہے… ” رخسانہ پھر سے بھڑک گئیں
“ابو… باہر کوئی بلانے آیا ہے آپ کو… ؟” زبیر نے پانی چھڑکتے ہوۓ رفیق صاحب سے کہا جن کی توپ کا رخ اب دھیرے دھیرے ناعمہ کی طرف ہو گیا تھا
“ابو… اٹھیں ذرا, باہر کوئی بلا رہا ہے, پہلے زرینہ کو بھگا دیا, اب اسے بھی ہتھے سے اکھاڑ دینا” وہ انہیں کھینچ کر دروازے تک لے آیا
“کون ہے… ؟” وہ بولے
“پتہ نہیں… جائیں دیکھیں تو کون ہے… ؟ سڑک پر کھڑا تھا جب ہم آۓ ہیں…وہ بڑی سڑک تک چلے جانا” زبیر نے انہیں باہر نکال کر دروازہ بند کیا اور ہزار منتیں ترلے مار کہ زرینہ کو نیچے لیکر آیا, پورے بارہ بج رہے تھے جب مسٹر اویس چوہدری اپنی سی ڈی پر سوار لش پش کرتے گھر میں داخل ہوۓ
زنک کلر کے کاٹن کے کرتے اور وائیٹ شلوار میں ملبوس پیروں میں بلیک پشاوری چپل پہنے وہ جیسے ہی اندر داخل ہوا, رخسانہ پھٹ پڑیں
“باراتی کہاں ہے راجہ جی… ؟” وہ بولیں
“کس کی بارات ہے امی ؟” وہ جہاں جہاں سے گزر رہا تھا, خوشبوؤں کے جھونکے بکھر رہے تھے
“تیرے باپ کی…چھوٹی ممی کدھر ہے …؟ ” وہ بولیں, زبیر اور حمزہ کا قہقہہ چھت پھاڑ گیا
“واہ اویس بھائی… ایسا لگ رہا ہے جیسے بردکھوا آپ کا ہے” زبیر نے کہا
“دادا جی کہاں ہیں… ؟” اس نے پوچھا
“انہیں میں اوپر چھوڑ آیا ہوں” حمزہ نے کہا
“کیوں… انہیں بھی تو مہمانوں سے… ” رخسانہ نے اس کی بات کاٹ دی
“اوۓ… بس کر, ہم ان کے سامنے تیرے باپ اور اس کی لاڈلی کی زبان ہی قابو کر لیں تو بہت ہے, دادا جی نے کوئی معرکہ نہیں سر کر لینا نئی دھوتی باندھ کر” وہ بولیں
“کھانا بن گیا ؟” وہ ناعمہ کی طرف مڑا
“بس فائنل فنشنگ ” وہ اپنا کفگیر گھماتے ہوۓ بولی
تقریباً ایک بجے کے قریب وہ لوگ آۓ
“ایک, دو, تین چار, پانچ… ” ناعمہ گنتی جا رہی تھی اور آنکھیں پھیلتی جا رہی تھیں
“یہ رشتہ دیکھنے آۓ ہیں یا منگنی کرنے… ؟” وہ علینہ کے کان میں گھسی تھی, جھٹ پٹ جوس لیجایا گیا اور اس کے بعد سٹارٹر… زبیر اور حمزہ پوری طرح ناعمہ کی سپردگی میں تھے
“او جی اللہ کا بڑا شکر ہے… اپنی زمین ہے ہماری, گھر کی گندم ہے, ہر سال لاکھوں کی جاتی ہے, گھر کا چاول ہے, ہر سال لاکھوں کا جاتا ہے, گھر کی بھینسیں ہیں, لاکھوں کا دودھ دہی ہوتا ہے, گھر کی مرغیاں ہیں, لاکھوں کے انڈے… ” رفیق صاحب شروع ہو چکے تھے
“امی… ” علینہ رونے والی ہو گئی, رخسانہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ لپک کے میاں کی زبان پکڑ لیتیں
“اور کیا جی… ہماری علینہ میں ماشاءاللہ سارے گن ہیں, کالج سے پڑھی ہوئی ہے, سلائی کڑھائی بھی کر لیتی ہے, یہ سب کچھ اسی نے بنایا ہے, سارا گھر چمکاۓ رکھتی ہے, روز پلاٹوں کی گھاس کاٹتی ہے, اے بڑی بڑی روٹیاں بناتی ہے, یہ خربوزے اور تربوز بھی اسی نے بوۓ تھے… ” اب کے زرینہ چوہدری کی باری تھی
“امی…” علینہ نے ٹہوکے مار مار کے رخسانہ کی پسلیاں زخمی کر دیں
“زرینہ… جا دیکھ کھانا لگوا” یاسمین بمشکل اسے وہاں سے کھینچ کر لے گئیں
“ابو… ادھر آنا, کوئی باہر بلا رہا ہے” زبیر کے پاس یہ ہی واحد حربہ تھا
“اوۓ دفع ہو… کوئی وی نہیں ہے, ایویں… ” وہ بولے, زبیر بیچارہ شرمندہ سا ہو گیا
بڑی ہی مشکلوں سے ساری صورتحال قابو کر کہ انہیں کھانا وانا کھلایا اور رخصت کیا
ادھر انہوں نے دروازے سے باہر قدم رکھا, ادھر رخسانہ کی بس ہو گئ, پچھلے دو گھنٹے سے سر پر لیا ریشمی کامدار دوپٹہ کھینچ کر چارپائی پر پھینکتے ہوئے وہ رفیق صاحب کی طرف مڑیں
“او چوہدری… چل جا کہ دھاریں نکال اور لاکھوں کا دودھ لیکر آ, علینہ اپنے باپ کو بالٹی لا کر دے, لاکھوں کا دودھ لیکر آۓ گا یہ, اور یہ پکڑ ڈبہ, اس میں لاکھوں کے انڈے بھی بھر کر لا, جلدی کر, ” وہ پھنکار رہی تھیں
“اوۓ میں تو ویسے ہی… ” ان سے بات نہ بن پڑی
“گھر کا دودھ, گھر کے انڈے…او شیخی خورے… پوری سردیاں گزر گئیں ہمیں 25 روپے کا انڈہ منگوا کر کھاتے ہوئے, کہہ دیتا گھر کی مچھلیاں ہیں, لاکھوں کی جاتی ہیں, گھر کے تیتر بٹیر ہیں, صبح و شام سیخوں پر چڑھاتے ہیں, گھر کی مکھیاں ہیں, ہر وقت مار مار کہ کھاتے ہیں… ” وہ کہتی چلی گئیں, حمزہ, زبیر اور ناعمہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہے تھے
“اور تو… ” انہوں نے زرینہ کی چٹیا پکڑ لی
“اگلی دفعہ آنے والوں کو یہ کہیں کہ یہ سارا مکان بھی علینہ نے ہی کھڑا کیا ہے گارے مٹی کو ڈھو ڈھو کر, خود ہی مستری بن کر اینٹیں لگائی ہیں اس نے, خود ہی دن رات ایک کر کے پلستر کیا ہے” وہ اسے زور زور سے جھٹکے دے رہی تھیں, رفیق صاحب نے باہر جانے میں ہی عافیت جانی, زرینہ بکتی جھکتی اوپر چلی گئی
“امی… مجھے نہیں لگتا یہاں بھی ہو گا” علینہ نے دھیرے سے خدشہ ظاہر کیا تھا, رخسانہ بس ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گئیں
پچھلے دو سالوں میں وہ علینہ کے لئے کوئی دس رشتے دیکھ چکے تھے, چوہدری ہاؤس دادا جی کے دو بیٹوں کا مشترکہ گھر تھا
بڑا رفیق چوہدری, رخسانہ کا شوہر, بڑا اویس, اس سے چھوٹی زرینہ جو شادی شدہ تھی اور اپنے شوہر اور دو بچوں کے ساتھ اوپر رہتی تھی, تیسرے نمبر پر زبیر اور چوتھے پر علینہ, رفیق سے چھوٹا شفیق تھا جو لاہور میں ملازمت کرتا تھا, اس کا بڑا بیٹا شمس تھا جو دادا جی کی آدھا ایکڑ (بقول رفیق کے لاکھوں کی) زرعی اراضی پر کام کرتا تھا, وہ زرینہ کا شوہر تھا, اس سے چھوٹا حمزہ اور سب سے چھوٹی ناعمہ…حالانکہ رخسانہ کو علینہ کا رشتہ دیکھنے کے لئے اتنا خوار ہونے کی ضرورت نہیں تھی, زبیر اور علینہ کا جوڑ بالکل پرفیکٹ تھا لیکن بقول ان کے وہ چھ سال پہلے ماضی میں کی گئی غلطی کو دوبارہ نہیں دہرائیں گی
………………………
وہ سب نفوس رات کے کھانے کے لئے جمع تھے, رخسانہ کا چہرہ ستا ہوا تھا, رفیق صاحب بس ادھر ادھر کی سناتے جا رہے تھے, جو لوگ علینہ کو دیکھنے آۓ تھے انہوں نے اویس کو کال کر کہ انکار کر دیا تھا, وہ بیچاری پژمردہ سی دروازے سے ٹیک لگا کر کھڑی تھی
“او چلو دفع کرو, اللہ کوئی اور سبب بنا دے گا” رفیق صاحب کو رخسانہ کی خاموشی حد درجہ کھل رہی تھی
“وجہ کیا بتائی انہوں نے ؟” یاسمین نے پوچھا
“کہتے لڑکی موٹی ہے اور باپ شیخی خورہ” اویس نے صاف کہہ دیا
“میں تو پہلے ہی کہتا ہوں کہ اسے کم ٹھنسوایا کریں, بندہ ایک وقت کا کھانا نا بھی کھاۓ تو کیا ہے… نہیں یہ تو کھانے بیٹھے تو ایسے کھاتی ہے جیسے سو سالوں ک ایک ساتھ کھا رہی ہو, علینہ بیٹے وہاں کیوں کھڑی ہے… یہاں آ… یہ دیکھ چاول اور رائیتہ… بھر پلیٹ میرا بچہ… بلکہ پتیلہ اٹھا کر اپنی کمر کے ساتھ باندھ لے, ساتھ میں بنا لسی… چنگا میٹھا ڈال کے اور آٹھ دس گلاس خالی کر جا… چل شاباش” اویس کی زبان اول تو شروع ہوتی نہیں تھی لیکن جب ہو جاتی تھی تو پھر رکتی نہیں تھی
“بس کر… اس سے موٹی لڑکیوں کے رشتے بھی ہو جاتے ہیں” رخسانہ نے کہا
“میری ایک گل سن لو… ” آئیندہ کوئی بھی رشتہ دیکھنے آیا, تیرا باپ ان کے پاس نہیں بیٹھے گا” رخسانہ نے کہا
“بس میرے سے ہی تکلیف ہے اسے… ” وہ پھٹ پڑے
“تیری کالی زبان سے تکلیف ہے مجھے… بندہ بڑھکیں نہ مارے تو چین کی نیند نہیں آتی بھلا… ” وہ بولیں
“میرے نال بکواس نہ کر… ” وہ تپ گئے
“امی بس کر… ” زبیر نے انہیں خاموش کروا دیا, علینہ کھڑی آنسو گراۓ جا رہی تھی
“امی میرا ایک دوست ہے, ادھر فیکٹری میں میرے ساتھ ہوتا ہے, وہ بس دو بہن بھائی ہیں, باپ انتہائی بیمار رہتا ہے, ماں فوت ہو گئی ہے, اس نے آج مجھ سے بات کی ہے علینہ کے رشتے کے بارے ” اویس نے کہنا شروع کیا
“کون اویس بھائی … ؟ حاتم… ؟” زبیر نے پوچھا
“او یار بیچ میں نہ بولا کرو, زہر لگتی ہیں مجھے یہ گندی عادتیں ” وہ اتنی سی بات پر ہی تڑخ گیا
“نام ہی پوچھا ہے… ” زبیر بوکھلا سا گیا, اویس نے اسے رکھ کے گھورا
“اس کی عمر تھوڑی زیادہ ہے امی… ” اویس ہچکچا رہا تھا
“کتنے سال کا ہے… ؟” رخسانہ نے پوچھا
“اکتیس سال… علینہ سے سات سال بڑا ہے” اویس نے کہا, رخسانہ چپ سی ہو گئیں
اتنی عمر کیسے گزر گئی… ؟ ویاہ کیوں نہیں کیا ؟” رخسانہ نے پوچھا
“امی اس کا رشتہ طے ہوا تھا ایک جگہ لیکن… شاید اس کی بہن کا کوئی مسئلہ بن گیا تھا, اس کی دو بڑی بہنیں ہیں” اویس نے کہا
“او پتر عمر سے کچھ نہیں ہوتا, تیری ماں بھی تو عمر میں مجھ سے بڑی تھی” رفیق صاحب نے رخسانہ کی دم پر پاؤں رکھ دیا
“اچھا… کتنے سال کا کاکا تھا تو چوہدری ؟” وہ بھڑک گئیں
“ہن مینوں یاد نہیں پر… ” رخسانہ نے ان کی بات کاٹ دی
“ڈیڑھ مہینہ چھوٹا کاکا تھا تو مجھ سے, میں نے ہی آ کر تجھے چلنا سکھایا تھا, تیری پوٹیاں دھوتی رہی ہوں میں” رخسانہ تن فن کرتے ہوئے بولیں, زبیر اور حمزہ سر نیچے کئے ہنس رہے تھے
“ابو… یار جا باہر چلا جا” اویس تنگ آ گیا
“میں تو نہیں جاتا کہیں بھی… جب دیکھو باہر چلا جا” انہوں نے سگریٹ سلگائی تھی
“او تہاڈا بھلا ہووے… چاچا جی سگریٹ بند کرو, بند کرو, اوۓ توبہ” نہ جانے ابھی حمزہ کی ناک تک دھواں گیا بھی تھا یا نہیں
“ابو یار روٹی تو کھا لینے دیتے” زبیر نے اپنی پلیٹ اٹھائی اور باہر نکل گیا
“کہا کہوں اسے پھر ؟” اویس نے پوچھا
“بلا لے… اسے بھی دیکھ لیتے ہیں” رخسانہ نے ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے کہا تھا
“اب ایک بات تو بھی سن میری, فرزانہ آئی تھی آج, تیرے لئے ایک رشتہ بتا کر گئی ہے… ” رخسانہ نے کہا, شوق کا مارا حمزہ ناک پر صافہ لپیٹ کر وہیں جم کر بیٹھا تھا
“امی میں نے نہیں کرنی ابھی… ” رخسانہ کو غصہ آ گیا
“اویس تیس سال کا ہو چلا ہے تو… تیس کے بعد کنواریاں نہیں ملیں گی پھر, شکل ہمیشہ تو ایک جیسی نہیں رہے گی نا… اور میری ایک بات کان کھول کر سن لے, میں نے زرینہ کی شادی تجھ سے پہلے کر دی سو کر دی, علینہ کی شادی تیرے ساتھ کرنی ہے سمجھا” وہ بولیں
“رشتہ تے دس دیو سرکار… ” رفیق صاحب کش پر کش لگا رہے تھے
“مراد آباد سے ہے رشتہ, دو بہنیں اور ایک بھائی, ماں ہیلتھ ورکر ہے, باپ فوت ہو گیا, لڑکی نے ایم اے کیا ہوا ہے اور کسی پرائیوٹ سکول میں پڑھاتی ہے, بھائی نے اپنی چکی لگائی ہوئی ہے” رخسانہ بتاتی چلی گئیں, اویس سر جھکاۓ سنتا رہا
“لڑکی کی تصویر دکھا کر گئی ہے وہ, سوہنی ہے کڑی, پڑھی لکھی بھی ہے” انہوں نے کہا
“اور فیر یتیم بھی ہے… ثواب بھی ملے گا” رفیق نے کہا
“تو چپ کر جا…میں بھی یتیم ہی تھی, کتنا ثواب ملا تجھے ؟” وہ بولیں
“ثواب کی تو پنڈیں (بوریاں) ہیں جو میرے کندھوں پر رکھی ہوئی ہیں” وہ بولے, رخسانہ بس انہیں گھور کر رہ گئیں
“دیکھ آئیں پھر اسے ؟” انہوں نے اویس سے پوچھا
“دیکھ لیں… ” وہ کھانا ختم کرتے ہوئے بولا تھا
……………………………
رخسانہ, رفیق, یاسمین اور حمزہ… یہ چار نفوس آج اویس کا رشتہ دیکھنے جا رہے تھے, جانا تو زبیر کو تھا لیکن اسے تین بجے چھٹی ملتی تھی, وہ بیچارہ نادرہ میں کمپیوٹر آپریٹر تھا, سو حمزہ کی ڈیوٹی لگائی گئی اور اس کا یہ حال تھا جیسے رشتہ اویس کا نہیں… اسی کا دیکھنے جا رہے ہوں
کوئی سو مرتبہ اس نے اپنی شرٹ پر پانی چھڑک کر استری پھیری, پینٹ کو استری کرنے کھڑا ہوا تو دوپہر ہو گئ
“چل بس کر… جا کے نہا لے اب” ناعمہ اور علینہ نے بمشکل اسے واش روم میں دھکیلا
“اوۓ اویس…اپنے باپ کو سمجھا لے کہ وہاں جا کر زبان بند رکھے, کوئی ضرورت نہیں ہے خوامخواہ بکواس کرنے کی” رخسانہ کو رفیق پر کوئی بھروسہ نہیں تھا
“امی میں نے بھی جانا تھا… ” زرینہ نے ایک بار پھر تان اٹھائی
“ایسا کر لاڈو رانی… تو اور تیرا باپ ہی چلے جاؤ, میں رہنے دیتی ہوں” رخسانہ بولیں
“چلو, یہ گئی تو ہو گیا اویس بھائی کا رشتہ ” علینہ نے کہا
“کیوں… ؟ مجھے کیا ہے ؟ رعشہ ہے مجھے, کیڑے پڑے ہوۓ ہیں مجھے, ناک چوتا ہے میرا یا خارش پڑی ہے مجھے… ؟” وہ علینہ پر چڑھ دوڑی
نا بی بی مسئلہ تیری خارش یا کیڑوں کا نہیں ہے, مسئلہ تو تیری زبان کا ہے, آٹھ گز لمبی کالی زبان… جس کے آگے تو نے سو فٹ گہرا کنواں کھود رکھا ہے” علینہ کونسا اس سے کم تھی
“میں کہہ رہی ہوں بکواس بند کر لے… ” زرینہ ایک دم اس کی طرف بڑھی
“نہیں کرتی بکواس بند… کیا کر لے گی ؟ تیری وجہ سے ٹکے ٹکے کے لوگوں کی بکواس سننا پڑتی ہے, ہر بار ریجیکٹ, ہر بار ریجیکٹ… خود تو یہ سب ہوا نہیں تیرے ساتھ” علینہ کا غبار نکلنے کو تیار تھا
“ہاں… جو میرے ساتھ ہوا وہ بڑا ٹھیک تھا, بہت سکھی ہوں میں, سارا دن گھر والوں کے ٹھڈے… ساری رات شوہر کے ٹھڈے… ” وہ پھٹ پڑی
“الٹا بول گئی ہے تو زرینہ بی بی… یوں کہہ کہ سارا دن گھر والوں کو ٹھڈے اور ساری رات شوہر کو ٹھڈے ” علینہ آگے کو آئی
“او… بس کرو, خبردار جو اب دونوں میں سے کوئی بولی… اے زرینہ چل اوپر” یاسمین نے گھرک کے زرینہ کو اوپر دھکیلا
“اوۓ منڈیا بس کر… نکل آ اب باہر” رخسانہ کی بس ہو گئ تھی
خدا خدا کر کے قافلہ گھر سے نکلا
حسب معمول پرتپاک استقبال… پھر چاۓ اور لوازمات اور آخر میں مس رملہ فاطمہ کی اینٹری
“اسلام علیکم… ” وہ دھیمے سے کہتے ہوئے یاسمین کے ساتھ بیٹھ گئی تھی, عین سامنے رخسانہ اور حمزہ بیٹھے تھے, دائیں طرف رفیق صاحب اور رملہ کا چھوٹا بھائی بیٹھا ہوا تھا
حال, احوال پوچھنے کے بعد رخسانہ نے ساتھ بیٹھے حمزہ کو ذرا سی کہنی ماری تھی, ظاہر ہے وہ آیا کس لئے تھا ساتھ
“کوالیفیکیشن کیا ہے آپ کی رملہ… ؟” اس نے پوچھا
“ایم اے اکنامکس … “
“اچھا… کہاں سے کیا ایم اے ؟”
“ساہیوال سے… “
“اب کیا کرتی ہیں ؟”
“ایک پرائیوٹ سکول میں جاب کرتی ہوں”
“اچھا, صحیح… ماشاءاللہ “
“یہ میرا چھوٹا بیٹا ہے… ابھی اس کا بی کام مکمل ہوا ہے, لیب ٹیکنیشن ہے یہ” یاسمین نے کہا, وہ بس دھیرے سے مسکرا دی
بہر حال حمزہ نے اس کا پورا انٹرویو لیا تھا, رخسانہ بے حد مطمئین تھیں
شام چار بجے ان لوگوں کی واپسی ہوئی, رفیق صاحب نے اپنی زبان کو لگام دے کر ہی رکھی, جیسے ہی گھر پہنچے, ایک نئی خبر
اویس کا دوست اور اس کی بڑی بہن آئی ہوئی تھی
“اوۓ… آج کیوں بلایا انہیں ؟” رخسانہ حواس باختہ سی ہو گئیں
“مجھے کیا پتہ آپ نے آج رشتہ دیکھنے جانا ہے ” وہ بولا
“بھلکڑ انسان… رات ہی تو بتایا تھا تجھے” وہ سر پر دوپٹہ لیتے ہوئے بولیں
“اچھا جائیں اب اندر… ” اویس نے انہیں اندر دھکیلا
“زرینہ کہاں ہے ؟” یاسمین نے ناعمہ سے پوچھا
“اوپر ہیں… اویس بھائی اوپر دروازے کو تالا مار آۓ ہیں” ناعمہ ہنسی
“یاسمین… ” رخسانہ نے آواز دی تھی
“رفیق اندر نہ آۓ… حمزہ سے کہہ اسے باہر ہی رکھے” انہیں انتہائی پریشانی تھی
“بھابھی کوشش کرتی ہوں باقی پتہ نہیں” یاسمین نے کہا, بہر حال… جیسے تیسے حمزہ نے رفیق صاحب کو اندر نہیں جانے دیا, وہ لوگ کچھ دیر بعد چلے گئے, رات کے کھانے پر محفل جمی
“اویس بھائی یار قسم سے اتنی کمال کی لڑکی ہے کہ کیا کہنے, پیاری بھی ہے, ایم اے کیا ہوا ہے, قد بھی ٹھیک ہے, سلم سمارٹ سی ہے…” حمزہ رطب اللسان تھا
“ایڈی وی کوئی نہیں… قد پورا سا ہی ہے, لمبا تو نہیں ہے قد, شکل بھی اپنی علینہ جیسی ہی ہے” رفیق صاحب نے رنگ میں بھنگ ڈالا
“تو میری شکل پی لعنتیں برس رہی ہیں کیا ؟” علینہ تڑخ گئی
“نہیں میرا مطلب… ” رخسانہ نے ان کی بات کاٹ دی
“اوۓ چوہدری… کوئی خدا دا خوف کر, جوان دھی گھر بیٹھی ہے اور تو دوسروں کی بیٹیوں میں نقص نکال رہا ہے, مجھے بتا کیا کمی ہے اس لڑکی میں… ؟ اور کتنا لمبا قد ہو, فیر بانس لا کہ کھڑے کر لے ویڑے میں” وہ بھڑک گئیں
“اوہ چھڈو… ماں ہیلتھ ورکر ہے ان کی ” دوسرا اعتراض
“تیری ماں کیا تھی ؟ بول ذرا… باپ تو ہے نہیں ان کا, پالنا کس نے تھا انہیں ” وہ بولیں
“چاچا جی ایویں اعتراض جڑے جا رہے ہیں, اچھی بھلی فیملی ہے وہ اویس… بس تو ہاں کر ” حمزہ فل ٹائم امپریس ہو چکا تھا
“خوامخواہ کے اعتراض کرنا خدا کی ذات کو بھی نا پسند ہے پتر… ایویں کسی کی ذات میں نقص نکالنے کا کیا فائدہ, فیملی ساری پڑھی لکھی ہے, لڑکی بالکل پرفیکٹ ہے” رخسانہ نے کہا
“اوکے پھر… ؟” حمزہ نے پوچھا, اویس سب کو ایک نظر دیکھ کر دھیرے سے مسکرا دیا
“ویر ساڈا گھوڑی چڑھیا ” حمزہ اور زبیر نے تان ملائی تھی
……………………
جاری ہے