63K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

“کیا ہوا ہے ؟” وہ رفیق صاحب کو ٹھنڈا کر کہ کمرے میں آیا تو رملہ نے پوچھا, وہ کافی پریشان ہو گئی تھی
“کچھ نہیں… ” زبیر بستر پر گرتے ہوئے بولا, وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تھی, دوپٹہ پوری طرح سر پر لپیٹا ہوا تھا
“پھر بھی… ؟” اس نے پوچھا
“اویس بھائی آۓ ہیں.. ” زبیر سانس بھرتے ہوئے بولا, وہ اب اس گھر کا ایک حصہ تھی, آخر کون کون سی بات اس سے چھپائی جا سکتی تھی
دھیرے دھیرے سویرا ہو گیا, گہما گہمی جاگ گئی, ناشتے کا دور چلنے لگا, یاسمین اور ناعمہ نے ڈائیننگ ٹیبل پر ناشتہ لگا دیا تھا, ناشتے سے پہلے رملہ نے کپڑے چینج کر لئے, ظاہر ہے گھر مہمانوں سے بھرا پڑا تھا, تمام نگاہوں کا مرکز تو وہی تھی, ہلکا سا میک اپ کر کے اس نے بالوں میں کیچر لگایا اور دوپٹہ سر پر لے لیا
“آ جا میری دھی… ناشتہ کر” رخسانہ نے اس کی بلائیں لی تھیں, زبیر اسی شرٹ اور ٹراؤزر میں گھوم رہا تھا
“حمزہ… پتر ادھر آ ” وہ نیچے اترا تو رخسانہ نے آواز دے لی, ناچار وہ ان کی طرف چلا آیا… چہرہ بتا رہا تھا کہ ابھی سو کر اٹھا ہے
“پتر اس لا پرواہ کو آج بازار لے جا …اور اسے ڈھنگ کے دو, چار سوٹ لے دے, فقیروں کی طرح رنگ برنگی شرٹیں پہن کے گھومتا ہے” رخسانہ نے کہا
“تائی امی اسے کونسا شاپنگ کرنی نہیں آتی… ” حمزہ نے کہا اور دماغ کی کڑی دھمکیوں کے باوجود پوری نظر بھر کر اسے دیکھا
ریشمی دوپٹہ اس کے سر سے ڈھلک کر کندھوں پر گر گیا تھا, کیچر سے نکلی ہوئی چند ایک آوارہ لٹیں چہرے کا طواف کررہی تھیں, وہ بس بنا پلکیں جھپکاۓ اسے دیکھتا رہ گیا
زندگی کے سارے خسارے ایک طرف… اور حمزہ شفیق کے لئے رملہ حسین کا خسارہ ایک طرف
رملہ نے اس کی طرف دیکھنے کی بھی زحمت نہیں کی, وہ چند لمحوں بعد کمرے میں چلا گیا
“میں نہا لوں پھر چلتے ہیں” اس نے جاتے ہوئے زبیر سے کہا تھا
علینہ کا ولیمہ فنکشن رات کا تھا… سو ذرا وقت مل گیا, ناعمہ تو زیادہ وقت اوپر ہی رہی, حمزہ اور زبیر بازار چلے گئے, وہ کچھ دیر باہر بیٹھی رہی پھر اپنے کمرے میں آ گئی
دوپہر کا وقت تھا جب وہ دونوں بازار سے واپس آۓ
“رملہ… بیٹے بات سن” رخسانہ نے اسے آواز دی تھی, وہ باہر نکل آئی, سبھی گھر والےٹی وی لاؤنج میں جمع تھے
“جی آنٹی… ” وہ سب کو دیکھ کر ذرا سی پزل ہو گئی
“یہ لے پتر… تیری بری میں یہ لگانے والی رہ گئی تھی, اس چھوکرے دوکاندار نے آج منگوا کر دی ہے” رخسانہ نے ایک پیکیٹ اس کی طرف بڑھایا
“یہ کیا ہے ؟” اس نے پوچھا
“ساڑھی ہے… ” رخسانہ نے کہا, وہ ایک دم پریشان ہو گئی
“یہ تو نے آج رات کو پہننی ہے” رخسانہ نے اس کے سر پر بم پھوڑا, سبھی اس کی غیر ہوتی حالت کو دیکھ رہے تھے
“آنٹی جی… میں نے آج تک کبھی ساڑھی نہیں پہنی” وہ بولی
“تے فیر کی ہویا پتر… ویاہ شادیاں تے ہی پا ہندی اے” رخسانہ نے کہا, اس نے پریشان سی نظروں سے سب کو دیکھا
“آنٹی تسی میری گل نہیں سمجھے, میں بالکل کمفرٹیبل نہیں ہوں گی اس میں, نہ یہ مجھ سے سنبھالی جانی ہے اور… اے مینوں بننی وی نی آندی” وہ بولی تو زبیر کو ہنسی آ گئی, رملہ نے فوراً اس کی طرف دیکھا
“تم اسے کھول کر استری تو کرو, مجھے باندھنی آتی ہے میں سکھا دوں گا” وہ بولا, رملہ یکدم سرخ پڑ گئی, حمزہ اور ناعمہ نے بڑی سلگتی نظروں سے اسے دیکھا تھا
“ناعمہ… استری کر کے دے رملہ کو” رخسانہ نے کہا
“تائی امی میں نے تو ابھی کمرے صاف کرنے ہیں” وہ فٹ منع کر کے وہاں سے چلی گئی
“میں خود ہی کر لوں گی… ” رملہ دھیرے سے بولی تھی, گھنٹہ لگا کر تو وہ استری ہوئی, پھر درزن بلوا کر اس میں بیلٹ ڈلوائی گئی
الغرض رات تک اس کی ساڑھی بالکل ریڈی تھی, جتنی دیر میں زبیر شاور لیکر تیار ہوا, اتنی دیر میں وہ بس اس کی چنٹ ہی سیٹ کر پائی
“میں وہاں جا کر اسی کو سنبھالتی رہوں گی” وہ از حد پریشان تھی
“ایک دفعہ سیٹ کر کے سیفٹی پنیں لگا لو, پھر نہیں ہلے گی” زبیر پانچ منٹ میں تیار ہو گیا تھا, ڈارک گرے کلر کے تھری پیس میں, پانچ فٹ دس انچ قد کے ساتھ, ہلکی ہلکی بڑھی ہوئی شیو میں وہ اویس سے کم تو نہیں تھا, رملہ نے دو, تین دفعہ آئینے میں اس کا عکس دیکھا
“تم مڑ کر اچھی طرح دیکھ لو” وہ تاڑ گیا
“کسے ؟” رملہ چونک کر بولی
“مجھے…” وہ مسکرایا
“میں آپ کو تو نہیں دیکھ رہی… ” وہ جھینپ سی گئی, زبیر دھیرے سے مسکراتے ہوئے اس کے قریب ہوا اور اپنا چہرہ اس کے نازک سے کندھے پر رکھ دیا
“پیچھے تو میں ہی کھڑا ہوں تمہارے… ” زبیر نے اپنے دونوں بازو پورے حق سے اس کے مرمریں سراپے کے گرد باندھ دیے, رملہ کے گال تمتما اٹھے تھے, اس سے پہلے کہ وہ اس کی خوشبو کے زیر اثر کسی اور گستاخی کا مرتکب ہوتا, کسی نے زور سے دروازہ بجایا “پارلر والی آگئی ہے…” رخسانہ نے آواز دے کر کہا
“جی آنٹی…” وہ اونچی آواز میں کہتے ہوئے یکدم زبیر کی بانہوں کا حصار توڑ کر تیر کی طرح دروازے کی طرف بڑھی تھی, زبیر بس سر جھٹک کر رہ گیا
رفیق صاحب نے ولیمے پر جانے کے لئے دو تین گاڑیاں اور ایک ہائی ایس بک کروائی ہوئی تھی, رخسانہ نے بڑی مشکلوں سے کھینچ تان کر مہمانوں کو باہر کھڑی گاڑیوں میں لوڈ کروایا
” اور کون رہ گیا ہے اب…” انہوں نے صحن میں کھڑے ہو کر پوچھا
“چچی رہ گئی ہیں…وہ حمزہ کے کپڑے استری کر رہی ہیں, آج والا سوٹ اس نے دوبارہ استری کرتے ہوئے جلا لیا ہے” زبیر نے برآمدے میں کھڑے ہو کر کہا
“میں ناعمہ اور شفیق کے ساتھ جا رہی ہوں, ان دونوں کو اپنے ساتھ لے آئیں میرا پتر… ” رخسانہ نے کہا, زبیر خود گاڑی چلا لیتا تھا
“ٹھیک ہے امی… ” وہ کہتا ہوا کمرے میں چلا آیا
“اور کتنی دیر لگے گی ؟” وہ اندر آتے ہوئے بولا تھا, رملہ جھک کر اپنے سینڈلز کے سٹریپ باندھ رہی تھی, زبیر نے بس اس کی نازک سی کمر پر بکھرے سیاہ بال دیکھے تھے… اور خوشبوؤں کے جھونکے جو اس کے چہرے سے آن ٹکراۓ تھے, وہ دو قدم آگے کو آیا, رملہ سٹریپ باندھ کر سیدھی ہوئی تھی
کوئی جتنا حسین لگ سکتا ہے… وہ اتنی حسین لگ رہی تھی
میرون رنگ کی شیفون کی ساڑھی اس پر خوب جچ رہی تھی, ماتھے پر بالوں کا ہلکا سا پف بنا کر باقیوں کو یونہی کھلا چھوڑ رکھا تھا
لبوں پر دہکتی ہوئی میرون لپ اسٹک…آنکھوں پر گہرا سا میرون میک اپ… لمبی لمبی سیاہ پلکیں… گالوں پر پھیلی سرخیاں… کانوں میں لٹکتے میرون اور سلور کلر کے لمبے لمبے آویزے…اور گلے میں میچنگ نیکلس… دائیں کندھے پر پڑا ساڑھی کا پلو اور اس پر لگا میرون بروچ
وہ دیکھ کچھ رہا تھا اور نظر بھٹک کر جا کہیں اور رہی تھی…یاسر نے بالکل ٹھیک کہا تھا
وہ تو ایک تحفہ تھی… جو اسے بیٹھے بٹھائے مل گئی تھی… بن مانگے…اس کی قدر کرنا تو فرض تھا اس پر, اس سے محبت کرنا تو عبادت تھا اس کے لئے
وہ بے خود سا اس کی طرف بڑھا, قریب ہوا, بے حد قریب… اتنا کہ اس کے سرخ لبوں کی لالیاں نمایاں ہونے لگیں
“ایسے کیا دیکھ رہے ہیں ؟” وہ نازک سی حسینہ نروس ہو ہو کر سرخ ہو رہی تھی
“اپنی بیوی کو… ” وہ بولا
“نظر نہ لگا دینا مجھے… ” وہ سرگوشی میں بولی تھی
“کبھی سنا ہے تم نے کہ بیوی کو شوہر کی محبت بھری نظر لگ گئی ہو” زبیر نے دھیرے سے اپنے لب اس کے بالوں پر رکھے تھے
“سنا تو نہیں لیکن… آج کے بعد نہ سننا پڑ جاۓ” وہ انتہائی دھیمے سے مسکرائی تھی, زبیر دو قدم پیچھے ہٹا
“چلو آؤ… ” حالانکہ دل کوئی اور ہی فرمائشیں داغے جا رہا تھا, وہ اس کے پیچھے پیچھے باہر نکلی, عین اسی وقت حمزہ بھاگتا ہوا کمرے سے نکلا تھا, زبیر کے پیچھے رملہ کو دیکھ کر ٹھٹھک گیا, رملہ نے سرسری سا اسے دیکھا تھا
“چچی کہاں ہیں ؟” زبیر آگے بڑھتے ہوئے بولا
“آ جاؤ… میں باہر ہوں” یاسمین نے ہانک لگائی
“آؤ… ” زبیر نے پلٹ کر رملہ کی طرف ہاتھ بڑھایا, اس نے بڑے حق سے تھام لیا
حسد اور رشک کی ایک سلگتی ہوئی لہر تھی جو حمزہ کے روم روم میں اتر گئی تھی, کئی لمحے وہ وہاں سے ہل نہیں سکا, وہ دونوں باہر چلے گئے تھے
“حمزہ… آ جا یار” زبیر کی آواز پر وہ بادل نخواستہ باہر کی طرف بڑھا, زبیر نے رملہ کے لئے بیک ڈور کھولا تھا
“اپنی بیگم سے پوچھ لے آگے تو نہیں بیٹھنا” حمزہ نے بڑی لگاوٹ سے کہا تھا, اس کے لحجے کی جلن رملہ کو واضح محسوس ہوئی تھی, زبیر نے فوراً رملہ کی طرف دیکھا
“اٹس اوکے… ” وہ پیچھے ہی بیٹھ گئی, حمزہ نے آگے بیٹھتے ہوئے دروازہ بند کیا اور زبیر نے گاڑی باہر نکال لے گیا
وہ اس کا ہاتھ تھام کر ہی ہال میں داخل ہوا تھا, پورے ہال نے مڑ کر دیکھا… رخسانہ خود اٹھ کر آئی تھیں
“ماشاءاللہ… میری بہو کو نظر نہ لگے” وہ اس کی بلائیں اتارتے ہوئے بولیں
“ہنہ… ایڈی وی سوہنی نہیں لگ رہی” ناعمہ نے منہ بنایا
“چنگی بھلی تو لگ رہی ہے… اس ڈائن سے تو اچھی ہی لگ رہی ہے” زرینہ نے شرمین جی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“کیا خبر یہ اس سے بڑی ڈائن ہو” ناعمہ زبیر کے پہلو میں کھڑی رملہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولی تھی, زرینہ اس کی بڑبڑاہٹ سن نہ سکی, بڑی مشکلوں سے سٹیج پر جا کر وہ علینہ سے مل کر آئی
“خوش ہو ؟” وہ اس کے آسودہ سے چہرے کو دیکھتے ہوئے بولی
“جی… ” علینہ نے مسکراتے ہوئے نظریں جھکا لی تھیں, کچھ دیر بعد وہ نیچے اتر آئی
“ہیلو… ” اپنے پیچھے یک شوخ سی آواز سن کر مڑی
“ہاۓ… میں شرمین ہوں, علینہ کی نند” وہ اس کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولی تھی, رملہ نے لبوں پر ایک مسکراہٹ سجا کر اس سے ہاتھ ملایا
“کیسی ہیں آپ ؟” شرمین نے پوچھا
“ٹھیک ہوں” وہ اس کے انتہائی کھلے گلے سے نظر آتی رعنائیوں کو دیکھتی رہ گئی
“ویسے کافی مشکل ہوتا ہے اس صورتحال سے گزرنا جس سے آپ گزری ہیں ” شرمین نے کہا
“لیکن شکر ہے کہ گزر گئ ہوں ” وہ بولی
“ویسے حیرت کی بات ہے کہ آخر اویس نے انکار کیوں کیا… ؟ آپ ماشاءاللہ اچھی خاصی خوبصورت ہیں” شرمین نے نمک چھڑکنا شروع کر دیا تھا
“انسان کی عقل پر پتھر پڑتے دیر تھوڑی لگتی ہے ڈئیر… وہ کہتے ہیں نا کہ دل آۓ گدھی پر تو حور کیا چیز ہے… میرا خیال ہے اس کا دل کسی ایسی ہی گدھی پر آ گیا ہو گا” رسان سے کہتے ہوئے وہ رخسانہ کے پاس آ بیٹھی, شرمین بس قہر بار نظروں سے اسے دیکھ رہ گئی تھی, تبھی اس نے اویس کو اندر آتے دیکھا, وہ حمزہ سے کچھ کہتے ہوۓ آ رہا تھا, شرمین اسے دیکھ کر دھیرے سے مسکرائی, اس سے پہلے کہ وہ اس کے پاس سے گزرتے ہوئے آگے بڑھتا, اس گدھی نے اسے پکار ہی لیا
“واپسی ہو گئی آپ کی… اویس “وہ بدستور مسکرا رہی تھی, حمزہ ایک نظر اسے دیکھ کر آگے بڑھ گیا
“واپس تو آنا ہی تھا نا… راجکماری” وہ بولا
“آپ کے گھر والے مجھے اب راجکماری نہیں کہتے جناب… ڈائن کہتے ہیں ” وہ اترا کر ہنسی تھی, ریشمی دوپٹہ ڈھلک کر بازو پر آ گرا تھا, وہ اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ اس کے سامنے تھے
وہ واقعی الو کا پٹھا بن گیا تھا… آنکھوں کا اندھا
رملہ سمیت وہاں موجود ہر عورت نے ان دونوں کا یہ منظر دیکھا تھا
زرینہ کی بس ہو گئ… ایک نظر ماں کے ستے ہوۓ چہرے کو دیکھتے ہوئے وہ تیر کی طرح ان دونوں کی طرف آئی تھی
“وے اویس… جیڑی تھوڑی بہت عزت بچ گئی ہے نا ہماری… اسے یوں پیروں تھلے نا رول, دفع ہو جا ایتھوں” وہ گرج کر بولی, اویس بس اسے گھورتا ہوا وہاں سے چلا گیا
“اوۓ حمزہ… یہ گدھا اب اس طرف نظر نہ آۓ” وہ اچھا خاصا تپ گئی تھی
رات کے گیارہ بج رہے تھے جب وہ لوگ ہال سے فارغ ہو کر گھر پہنچے, زبیر کی پوری کوشش تھی کہ واپسی پر اس کی گاڑی میں اس کے اور رملہ کے علاوہ کوئی نہ ہو لیکن… اس نے ایک نظر ڈرائیو کرتے ہوئے پیچھے دیکھا… زرینہ, ناعمہ, یاسمین اور رملہ… وہ بیچاری کھڑکی کے بالکل ساتھ جڑی ہوئی تھی, زبیر نے فرنٹ مرر میں سے اسے دیکھا اور آنکھوں سے اشارہ کیا, وہ بس دھیرے سے مسکراتے ہوئے رخ موڑ گئی, گاڑی رکتے ہی سب سے پہلے وہ اتری تھی
“رکو… میں لے چلتا ہوں اندر… گر نہ جانا” زبیر گاڑی بند کرتے ہوئے جلدی سے بولا مبادا وہ اندر جا کر سب کچھ اتارنے ہی نہ لگ جاۓ
“زبیر یہ کونسا کراچی سے آئی ہیں… 90 موڑ کی ہیں, وہاں پر بھی رات گیارہ بجے اتنا ہی اندھیرا ہوتا ہے” ناعمہ سلگ کر کہتے ہوۓ وہ اندر کی طرف بڑھ گئی, رملہ نے زبیر کی طرف دیکھا, اس نے مسکراتے ہوئے رملہ کا ہاتھ پکڑا تھا
“لوگ ابھی سے کتنا جلنے لگے ہیں ہم دونوں سے ” وہ بولا
“تو یہ مسکرانے کی بات ہے ؟” وہ اس کے برابر میں چلتے ہوئے بولی
“اور کیا… رونے لگ جاؤں” وہ اسے ساتھ لئے کمرے میں چلا آیا, رملہ نے اس کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے سب سے پہلے دونوں جوتے اتارے تھے, دونوں پاؤں پھوڑے کی طرح دکھنے لگے تھے, زبیر نے دروازہ بند کرتے ہوئے اس کا بازو پکڑا
“ایک منٹ… ادھر آنا ذرا” وہ موبائل سیلفی کھولتے ہوئے بولا
“اب کیا باقی رہ گیا ؟” وہ تھک چکی تھی
“ساری دنیا کے ساتھ تصویریں بنوا لیں.. دو, چار میرے ساتھ بھی بنوا لو” زبیر نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے اسے اپنے ساتھ بٹھایا تھا
“میری تصویریں بالکل اچھی نہیں آتیں… ” وہ بولی
“میں ساتھ ہوں گا تو دیکھنا کتنی کمال کی آۓ گی” وہ مسکراتے ہوئے بولا
“اچھا… ” رملہ نے لمبا سا اچھا کہتے ہوئے اس کو مصنوعی خفت سے گھورا, زبیر نے مسکراتے ہوئے کلک کیا تھا, پھر اپنا بازو اس کے کندھوں کے گرد لپیٹ کر اسے اپنے قریب کرتے ہوئے کلک کیا… رملہ نے دھیرے سے اپنا سر اس کے کندھے پر رکھ دیا, وہ کلک کرتا چلا گیا
“کون زیادہ پیارا لگ رہا ہے ؟” وہ تصویریں دیکھتے ہوئے بولا
“آپ… ” وہ بولی
“واقعی… ؟” زبیر نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا
“کوئی شک… بلکہ میرے ساتھ ہونے سے آپ کا امیج بھی ڈاؤن سا ہو گیا ہے” وہ عام سے لحجے میں بولی تھی لیکن… زبیر کے چہرے کی مسکراہٹ غائب ہو گئی, موبائل ایک طرف رکھتے وہ پوری طرح اس کی طرف مڑا, اس کا ایک بازو ہنوز رملہ کے کندھوں کے گرد تھا, وہ بھی اسی کو دیکھ رہی تھی
“رملہ… میں کیا تھا… ؟ ایک لاپرواہ سا انسان جو دیکھنے میں ذرا سا بھی خاص نہیں ہے, جس کے پلے کیا ہے…. ؟ ایک چھوٹی موٹی نوکری اور ایک موٹر سائیکل بس… میرے پاس تو اپنا ذاتی گھر تک نہیں ہے لیکن… اس کے باوجود اس لمحے میرے پہلو میں تم ہو… تم ہو تو میں بہت خاص ہو گیا ہوں رملہ” زبیر کہتا چلا گیا, دھیرے سے وہ رملہ کے اور قریب ہوا تھا, یوں کہ اس کی اتھل پتھل ہوتی سانسوں کا شور سنائی دینے لگا تھا, نہائت محبت اور نرمی سے اس نے اپنی انگلیوں سے اس کے گال پر اڑتی بالوں کی لٹوں کو اس کے کانوں کے پیچھے اڑسا تھا
“میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ جس نے تمہیں ٹھکرایا اسے معاف کر دو…بے شک قیامت تک نہ کرنا, کرنا بھی نہیں چاہیے لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ جو ہوا اسے بھول جانے کی کوشش کرو کیونکہ… جو ہوا اس کے بعد سے ہم ایک ہیں… اور یہ کافی ہے” رملہ کی آنکھیں یکلخت نم ہوئی تھیں اور زبیر ان گہری سیاہ جھیلوں میں ڈوب جانے کے لئے بالکل تیار تھا, دھیرے سے اس نے اپنے لب اس کی گیلی آنکھوں پر رکھ دیئے
“میں ہمیشہ تم سے بہت محبت کروں گا رملہ… آج سے… ابھی سے… میں اور میرا دل دونوں تمہارے ہیں” وہ بہت نرمی سے اس کی بند آنکھوں کو چوم رہا تھا, رملہ ذرا سا کسمسائی تھی, زبیر کا گھیرا اس کے کندھوں کے گرد اور تنگ ہو گیا, اس کے لبوں نے بڑے حق سے رملہ کے لرزتے ہوۓ لبوں کو قید کیا تھا, وہ اپنے دائیں ہاتھ سے مضبوطی سے زبیر کی شرٹ کا کالر جکڑ گئی, وہ دیوانہ وار اس کے چہرے کو گیلا کرتا چلا گیا
“زبیر… ” اس نے زبیر کی شدتوں کے زیر اثر سرگوشی سی کی تھی
“میری جان… ” زبیر نے اپنا کوٹ اتارتے ہوئے دوسرا ہاتھ اس کی کمر کے گرد باندھا اور اسے اپنے بازؤں میں اٹھا لیا, اسے بستر پر گراتے ہوئے وہ پوری طرح اس پر حاوی ہوا تھا, اپنے جسم پر رینگتی اس کی انگلیوں کا لمس رملہ کی آنکھیں بند کرتا جا رہا تھا, ساڑھی کا پلو کب کا ڈھلک چکا تھا, دھیرے دھیرے اس نے اپنے وجود پر بوجھ بڑھتا ہوا محسوس کیا
“زبیر…. ” اس نے پھر سرگوشی کی تھی
“خدا کی قسم میں ساری عمر تم سے بے پناہ محبت کروں گا…بے پناہ” زبیر نے اسے بس ایک لمحے کی مہلت دیتے ہوۓ اپنی شرٹ کے بٹن کھولے تھے
“ونڈو کھول دیں… ” رملہ کا چہرہ پسینے سے تر بتر تھا, زبیر نے ایک نظر اس کے بکھرے بکھرے سے وجود پر ڈالتے ہوئے لابی کی طرف والی ونڈو کھول دی
“پردے بھی برابر کر دیں…” وہ بولی, اسی لابی میں ساتھ والے کمرے کی ونڈو بھی کھلتی تھی
“اس وقت کوئی نہیں ہوتا نیچے…” زبیر نے لائیٹ آف کرتے ہوئے کہا تھا, ہوا کا ایک جھونکا اندر آیا اور ساتھ ہی اس پگھلے موم جیسی لڑکی کو اپنی مضبوط بانہوں میں بھرتے ہوئے وہ پاگل ہوا تھا
تاریک کمرے کے سناٹے میں بس سانسوں کا شور تھا, زبیر پوری طرح اس کے وجود میں گم ہوتا رہا تھا
اب اسے کیا کہیں کہ اس کمرے کے ساتھ والا کمرہ حمزہ شفیق کا تھا… اور یہ کہ پچھلے دو مہینے سے حمزہ اوپر چھت پر ہی سو رہا تھا لیکن اس رات وہ اپنی ہینڈ فری نیچے کمرے میں بھول گیا… اور اسے لینے دوبارہ نیچے آیا
اور اسے قسمت کی ستم ظریفی کہیں کہ ونڈو اس کمرے کی بھی کھلی تھی
وہ ہینڈ فری اٹھا کر باہر نکلنے لگا تھا جب ونڈو کے پاس ٹھٹھک گیا
کچھ سسکیاں تھیں… گھٹی گھٹی سی
کچھ سانسیں تھیں… پھولی پھولی سی
اور کچھ سرگوشیاں تھیں… دھیمی دھیمی سی
“زبیر… ” دم توڑتی سی سرگوشی
“زبیر کی جان… “
وہ ساکت کھڑا رہ گیا
کاش… کاش… بڑی مشکلوں سے وہ دوبارہ اوپر پہنچا تھا, مٹھیاں نہ جانے کیوں بند تھیں… مضبوطی سے
غصہ تھا…. جلن تھی… حسد تھا
چھت پر پڑی ہر شے کو ٹھوکر مار کر بھی اسے چین نہ آیا, دوبارہ نیچے آیا اور رفیق صاحب کے سرہانے سے سگریٹوں کی پوری ڈبیہ اٹھا کر لے گیا
یہ بھی آجکل کے لڑکوں کا ڈپریشن نکالنے کا ایک فیشن ہے… سگریٹ
پوری رات وہ دھوئیں اڑاتا رہا… کھانستا رہا… صبح کے قریب جا کر جب آنکھوں کی بس ہو گئی تو چارپائی پر گر گیا
“وہ میری بھی تو ہو سکتی تھی “
………………………….
جاری ہے