Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Last Episode

سامنے سے آتے شخص اس کا چہرہ ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگے
وہ شرمندہ ہوتی نم آنکھوں سے کار کی طرف بڑھنے لگی.
اس اب نظریں جلا رہی تھی.
رباط تم یہاں کک…کیسے
وہ عشال کے ڈرائیور کا انتظار کر رہئ تھی جب وہ وہاں پہنچا.
آج کے لئے میں تمہارا ڈرائیور ہوں. اس نے آنکھ دباتے ہوئے کہا.
کک کیا مطلب.
مطلب یہ کہ میں محترمہ کو ان کی فرینڈ عشال کے پاس لے جانے آیا ہوں.
تم عشال کو کیسے جانتے ہو.
وہ حیرت سے پوچھ رہی تھی.
یار تم بیٹھو تو سہی پھر بتاتا ہوں نا.
گاڑی میں بیٹھنے کے بعد اس نے دبارہ سوال کیا.
وہ کیا ہے کہ اس کا ہسبینڈ میرے بھائی کا دوست ہے.
اوہ.
تو اس نے مجھے تمہیں لانے کا کہا.
پر تمہارے بھائی کو میرا کیسے پتا.
اس کے سوال پر وہ ہربرایا تھا.
نہیں اس نے جو ایڈریس بتایا وہ تمہارے گھر کا تھا نا.
اچھا پھر ٹھیک ہے.
وہ اس کے جواب سے پرسکون ہو کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی.
وہ اسے وہاں ھاد کے کہنے پہ لےجا رہا تھا.
پوری بات تو اسے بھی نہیں پتا تھی.
لیکن آج وہ آخر اس سے اپنی محبت کا اظہار کرنے والا تھا.
وہ جگہ کوئی بنگلہ نہیں بلکہ جارجین سٹائل پہ بنا محل ہی تھا.
اس کے درو دیوار اس قدر مضبوط تھے اس میں داخل ہونے کے لیے بہت سارے بارود کی ضرورت ہوتی.
واؤ….
یہ تمہارے بھائی کا ہے؟
اندر داخل ہوتے ہی وہ پوچھنے لگی.
نہیں اس کے دوست کا.
اس کی بات پہ حورین کچھ پریشانئ سے اسے دیکھنے لگی.
تبھی عشال کی آواز پر وہ اس کی طرف متوجہ ہوئی.
عشال..
وہ دونوں ایک دوسرے کی طرف بھاگی تھیں.
حورین اسے گلے لگانا چاہتی تھی لیکن اسے سے کچھ فاصلے پہ رک گئی.
عشال بھی اس سے مل کر سارے درد بھلانا چاہتی تھی پر اس کا احترام کرتے ہوئے رک گئی.
وہ ایک دوسرے کے سامنے تھیں. انہیں کچھ بتانے کی ضرورت نہیں تھی
ان کی روح بولتی تھی. ان کے ٹوٹے خواب بولتے تھے.
حورین کی آنکھیں عشال کے لئے نم ہوئی تھیں.
اس کی روح بھی اب زخمی تھی. اور وہ اس غم میں رونے لگی.
عشال بھی اب اسے سمجھ پا رہی تھی.
وہ دونوں رو رہی تھیں. اپنے لئے ایک دوسرے کے لئے.
حورین نازرشاہ سے اور رباط کے بھائی احتشام سے بھی ملی.
ہر کسی نے اس سے فاصلہ برقرار رکھا تھا.
اس کا گفٹ عشال کو بہت پسند آیا تھا.
وہ ہال میں موجود ڈائننگ ٹیبل پر تھے.
________
نازرشاہ بار بار عشال کو زیادہ کھانے کے لئے ڈانٹ رہا تھا.
انہیں ایسے دیکھ کر اسے تسلی ہوئی تھی.
رباط بھی اپنے بھائی سے باتوں میں مصروف تھا.
ہال کے پچھلے دروازے سے وہ ایک باغیچہ دیکھ سکتی تھی.
وہ کافی دیر سے وہ جگہ دیکھنا چاہ رہی تھی اس لئے ان سب کو وہیں چھوڑ کر وہ اس طرف چلی گئی.
کچھ لمحوں کے لئے اسے لگا کہ وہ پریوں کی دنیا پہنچ گئی ہے.
ہوا مختلف پھولوں کی خوشبو سے معطر تھئ.
کئی پھول جو اس نے کبھی نہیں دیکھے تھے وہاں موجود تھے.
وہ وسیع جگہ تھی.
باغیچہ کے درمیان میں ایک خوبصورت گازیبو موجود تھا.
وہ اس خوبصورت جگہ کو دیکھتی اس طرف بڑھ گئی.
اور اس گازیبو میں بنے بینچ پہ بیٹھ گئی.
تمہاری دوست حورین کے ساتھ کیا ہوا ہے؟
عشال اس وقت اپنے کمرے میں دوائی کھانے آئی تھی جب پیچھے سے اتی آواز پہ وہ پلٹی.
ھاد اس کے سامنے کھڑا تھا.
وہ اس سے پہلی بار مخاطب ہوا تھا. اس سے پہلے اس نے ایک دو بار ہی اسے آتے جاتے دیکھا تھا.
نازرشاہ نے اسے سختی سے ھاد سے دور رہنے کا کہا تھا.
تمہیں کیوں جاننا ہے.
وہ اسے خوفزدہ کرتا تھا اب تک ملے سب جانوروں سے زیادہ.
یہ میرا جواب نہیں. وہ عشال کی طرف بڑھنے لگا.
عشال کی پشت دیوار کے ساتھ تھی اور وہ دونوں طرف سے اسے اپنی باہوں میں قید کئے کھڑا تھا.
مم… میں نہیں جانتی.
اور اگر جانتی بھی تو نہیں بتاتی. اور اس سے دور رہنا ورنہ میں تمہیں مار دوں گی.
وہ عشال ہی کیسئ جو مدر ٹریسا نا بنے.
اپنے حواس پہ قابو پاتی اسے دھمکانے لگی.
اس کے تیور یکدم بدلے تھے.
تمہارا احسان ہے مجھ پر ورنہ کل کا سورج نہیں دیکھتی تم.
وہ اسے کہتا وہاں سے نکل گیا تھا.
اور عشال سوچتی رہ گئی کہ یہ کس احسان کی بات کر رہا ہے.
کچھ دیر وہ وہیں سانس بحال کرتی نیچے چلی گئی.
وہ حورین کو ڈھونڈنے لگی.
کھڑکی سے دیکھا تو وہ گازیبو میں بیٹھی اسے لگ رہی تھی جیسے کسی مرغی کو حلال کرنے کا وقت ہو.
اس کے سامنے گازیبو کے دروازے میں ھاد کھڑا تھا.
عشال کسی کو مدد کے لئے پکارنے لگی جب اس کی نظر رباط پہ پڑی وہ غصہ سے باہر ھاد کو دیکھ رہا تھا.
گردن میں اس کی تنی ہوئی نسیں عشال صاف دیکھ پا رہئ تھی.
رباط حورین کے واپس آتے ہی اسے چلنے کے لئے کہنے لگا .
اب عشال نازرشاہ اور ھاد وہاں موجود تھے.
________
تو تم لاہور کا انچارج کب سنبھال رہے ہو مجھے جلد از جلد وہاں کوئی چاہئیے.
عشال ھاد کی بات پہ ٹھٹکی کی.
نازرشاہ جانتا تھا کہ وہ اس کی مدد کسی مقصد کے تحت کر رہا ہے.
میں یہ سب چھوڑ چکا ہوں.
اندر آتا احتشام چونکہ تھا.
اس کام سے آزادی صرف موت ہی دلا سکتی ہے.
نازرشاہ اس کی بات پہ جھٹکے سے کھڑا ہوا تھا.
اور عشال بھی معاملے کی سنگنی سمجھ کر اٹھ کھڑی ہوئی.
احتشام نے ھاد کا اشارہ سمجھ کر نازرشاہ پہ گن تان دئ.
نازرشاہ نے عشال کا ہاتھ مضبوطی سے تھام رکھا تھا.
اور عشال کے تو ہاتھ پاؤں پھول رہے تھے.
جو بھی ہو میں یہ کام نہیں کروں گا.
اس کی بات پہ احتشام فائر کرنے ہی لگا تھا جب عشال چلائی
تم نے کہا تھا تم میرے احسان مند ہو.
اس کی بات پہ ھاد نے احتشام کو رکنے کا کہا.
نازرشاہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ وہ کیا کہ رہی ہے.
وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ وہ کونسا احسان جتا رہی ہے.
لیکن وہ بس نازرشاہ کی زندگی بچانا چاہتی تھی.
تم نے کہا تھا کہ تم میرے احسان مند ہو تو ہمیں جانے دو.
وہ نم آنکھوں سے کہ رہی تھی.
وہ اس کی بات سن کر جانے لگا.
ٹھیک ہے تم دونوں آزاد ہو.
پھر ایک دم رک کہ پلٹا.
نازرشاہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ جب تک میں زندہ ہوں تمہاری بیوی اور اس کی اولاد کو کوئی تکلیف نہیں ہو گی.
انہیں مالدیپ میں دوسرا ہفتہ تھا.
عشال ابھی بھی رات میں ڈرتی تھی.
جب اسے پتا لگا کہ وہ پریگننٹ ہے تو اس نے خود کشی کی کوشش کی .
اسے روکنے پہ وہ نازرشاہ پہ بھی حملہ آور ہوئی.
نہیں… نجانے کس کا گناہ ہے یہ نازرشاہ.. میں خود کو مار ڈالوں گی.
میں یہ گناہ نہیں پال سکتی.
جس کے جواب میں نازرشاہ نے اسے زور دار طمانچہ مارا تھا.
وہ میرا بچہ ہے سمجھی تم.
صرف میرا خبردار اگر تم نے اسے یا خود کو کوئی نقصان پہنچایا.
عشال قابو میں نہیں رہی تھی.
وہ اسے ڈاکٹر کو دکھانے لگا اور اس کی کانسلنگ سٹارٹ ہوئی.
آج اس کی ڈلیوری تھی وہ کب سے اس کے انتظار میں تھا جب ڈاکٹر نے اسے عشال کی نازک حالت کا بتایا.
اس کا بچنا مشکل تھا. اور اسے دعا کرنے کا کہا گیا تھا.
یہ سن کر تو اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی.
اس نے بو کچھ سہہ تھا اس سے کوئی مسئلہ بن چکا تھا.
ایک فیملی کی چاہت میں اس نے عشال کی زندگی کو داؤ پہ لگا دیا تھا.
________
وہ اس وقت صوفے پہ لیٹا تھا جب ننھی پری اس کے پاس آئی.
پاپا…پاپا…
ممی پاش … تلیں.
وہ اپنی توتلی زبان میں مخاطب تھی.
نازرشاہ نے اسے گود میں اٹھا لیا.
میری بیٹی ماما کو مس کر رہی ہے؟
ہممم… اس نے ناک سکیرتے ہوئے کہا.
میں بھی ماما کو بہت مس کرتا ہوں.
اس نے افسردگی سے کہا.
اور اسے لے کر ساحل کنارے چل پڑا.
‏_____
میں نازرشاہ… ایک یتیم جس کی سب سے بڑی چاہ اپنا خاندان بنانا تھا.
میں نازرشاہ ایک قاتل. جس نے کئی بچوں کو یتیم کیا
آج ایک بچی کا باپ تھا.
جب وہ پیدا ہوئی تو میری بیوی کی جالت بہت خراب تھی.
وہ بیوی جو اسے اندھیرے سے نکالتی خود اس کا شکار بن گئی.
لیکن اس کی دعاؤں سے وہ بچ گئی.
جب میری بیٹی پیدا ہوئی تو عشال نے اسے دیکھنے سے بھی انکار کر دیا.
وہ اس کے لئے تکلیف کا باعث تھی.
لیکن جب میں اسے گود میں لے کر اس کے پاس گیا تو وہ پھوٹ کر رونے لگی.
اور اسے اپنی گود میں لے کر چومنے لگی.
زندگی بھی عجیب ہے وہ جن دو لوگوں سے سب سے زیادہ محبت کرتی ہے وہی اس کے لئے ناسور بھی ہیں.
جب بھی اسے یاد آتا کہ میں اس کے والدین کا قاتل ہوں وہ خود کو کمرے میں قید کر لیتی.
شروعات میں وہ کئی روز خود کو قید میں رکھتی جو کہ اب کچھ گھنٹوں پہ محیط تھا.
میں اپنی بیٹی کا ہاتھ تھامے اپنی بیوی کے پاس جا رہا ہوں.
سورج کی کرنیں اس سے ٹکراتی ہوئی اسے جسین تر کر رہی ہیں.
زندکی آسان نہیں تھی. لیکن ہر طلوع ہوتا سورج نئی امید کے ساتھ آتا ہے.
ہر گزرتا دن پہلے سے بہتر ہے.
میں اب اس کی پیشانی چوم رہا ہوں.
اور وہ ہماری ہنستی ہوئی بیٹی سے کھیل رہی ہے.
میں نازرشاہ قسم کھاتا ہوں کہ ہمیشہ ان سے محبت کروں گا اور ہمیشہ ان کی حفاظت کروں گا.
وہ تینوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ریت پہ چلتے جا رہے تھے.
زندگی آسان تو نہیں تھی لیکن وہ خود ایک دوسرے کی زندگی بن چکے تھے.
ختم شد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *