Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui NovelR50713 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 01
Rate this Novel
Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 01 (Watching)Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 02 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 03 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 04 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 05,06 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 07 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 08 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 09 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 10 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 11,12 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 13 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 14 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 15 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 16 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 17,18 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 19 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 20 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 21 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 22 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Last Episode
Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 01
ماما میں آپ کو کہ رہی ہوں نا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے.
عشال ایک بار پھر سوچ لو. میرا دل نہیں مانتا کہ تم اتنی دور جاؤ.
عالیہ بیگم کا بس چلتا تو وہ تو اسے کبھی گھر سے باہر بھی نہیں نکلنے دیتی. لیکن عشال کی لمبے عرصے کی کوششوں اور اس کے باپ کی مدد کے زریعے آخر وہ عالیہ بیگم کو راضی کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی.
ماما میں یہاں لاہور ہی تو جا رہی ہوں کونسا کسی دوسرے ملک جا رہی ہوں.
عشال رضا میں پریشان ہوں اور تمہیں مزاح سوجھ رہا ہے.
وہ جانتی تھی اس کی ماں کے لئے یہ مشکل ہے. جب سے اس نے ہوش سنبھالی تب سے اس کی ماں کو اسی عجیب خوف میں دیکھا تھا.
ان کے بیرونی دروازے پر پانچ سے چھ مختلف قسم کے لاک تھے. وہ ایسے علاقے میں رہنا پسند کرتی تھی جہاں آس پاس کم لوگ ہوں.
اس کے باپ اور ماں کی علیحدگی کے بعد سے وہ ایسی ہی تھیں.
تم وعدہ کرو کہ تم انجان لوگوں سے دور رہو گی. اور کسی پر یقین نہیں کرو گی اور کوئی بھی مسئلہ ہوا تو فورأ واپس آ جاؤ گی.
عشال سے بھی اپنی ماں کی ایسی حالت نہیں دیکھی جا رہی تھی تو اپنی ماں کے گلے لگ گئی.
ماما آپ پریشان نہیں ہوں بابا بھی تو وہیں رہتے ہیں. اور میں کسی انجان پر بھروسہ نہیں کروں گی.
اس کی بس کا وقت ہو گیا تھا اس لئے وہ آنسو صاف کرتی اسے دعاؤں سے رخصت کرنے لگی.
انہیں اب یہ دو سال اکیلے گزارنے تھے. عشال کی خوشی دیدنی تھی.اسے اتنا خوش دیکھ کر دل سے دعا نکلی.
یا میرے رب ہمارے گناہوں کی سزا ہماری بچی کو نہ دینا.
عشال لاہور اپنے بابا کے ساتھ رہتی تھی. اس نے ایک نجی اور مشہور یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا.
اس کے بابا نے اس فیصلے میں اس کا ساتھ تو دیا لیکن اسے اپنے ساتھ رکھنے سے انکار کر دیا.
اسے دکھ تو بہت ہوا لیکن پھر یونیورسٹی کے قریب ہی ایک گرلز ہاسٹل میں رہنے کا فیصلہ کیا.
اب وہ وہیں تھی لیکن اسے یہاں آتے ہی پریشانی کا سامنہ کرنا پڑ رہا تھا.
لیکن میں نے تو فیس بھی جمع کروا دی تھی اور آپ کہ رہی ہیں کہ یہاں میرے نام سے کوئی انٹری نہیں ہوئی.
دیکھیں مس میں نے اچھے سے دیکھ لیا ہے لیکن آپ کے نام سے یہاں کوئی روم نہیں ہے.
عشال نے فیس کی رسید نکال کر سامنے رکھ دی. یہ دیکھیں میں نے پورے سال کی فیس بھری ہے.
مس ہو سکتا ہے کوئی غلطی ہو گئی ہو . میں میم کو بلاتی ہوں.
_______
وہ لڑکی وہاں کی ہیڈ کو بلا لائی تھی.
عشال سے بات کر کے اور رسید دیکھ کر وہ معافی مانگنے لگی.
میں آپ سے معذرت کرتی ہوں لیکن ہمارے تمام کمرے فل ہیں.
پلیز کل سے کلاسز سٹارٹ ہونے والی ہیں ایسے شارٹ نوٹس پر تو میں کسی ہاسٹل نہیں جا سکتی پلیز آپ کوئی راستہ ڈھونڈیں.
عشال کو اپنی قسمت پر یقین نہیں آ رہا تھا. اتنی محنت کے بعد اسے یہاں ایڈمیشن ملا تھا اب اگر اسے رہنے کے لئے جگہ نہ ملی تو اسے واپس جانا پڑے گا.
دیکھیں ایک روم ہے وہاں صرف ایک لڑکی رکی ہے لیکن اس نے پورے روم کے لئے فیس جمع کروائی ہے اگر وہ مان جائے تو ہو سکتا ہے کچھ.
تو آپ اس سے بات کریں. کیونکہ اس سب میں آپ کی غلطی ہے.
عشال کا اب کیا بنے گا یہ اس لڑکی کے جواب پر منحصر کرتا تھا. یقینا وہ کسی ملدار کی بیٹی ہوگی جو پورے کمرے میں اکیلی رہنا چاہتی تھی.
وہ جانتی تھی یہاں ہر کمرے میں دو لڑکیوں کا انتظام تھا. اور اس نے بھاری فیس جمع کی تھی.
وہ جو کوئی بھی تھی عشال کو ساتھ رکھنے کے لئے تیار تھی. لیکن اس ریسیپشن پہ موجود لڑکی کی باتوں نے اسے ڈرا دیا تھا.
دیکھو اس لڑکی کے ساتھ رہنا مشکل ہے.
ایسا کیوں؟
یہ تو اب تم خود دیکھ لینا.
عشال جب کمرے میں داخل ہوئی تو سب سے پہلے اس نے کمرے کا جائزہ لیا تھا.
کمرہ صاف اور وسیع تھا. دو سنگل بیڈ . دو سٹڈی ٹیبل بھی موجود تھے.
ایک بڑی الماری کپڑوں اور دیگر سامان کے لئے تھی.
کمرے کے ایک طرف پردہ لگا تھا وہ اس سامان کمرے کے خالی سائیڈ پر رکھ کر اس طرف بڑھی جب پردے کے پیچھے سے آتی لڑکی سے ٹکراتے ہوئے بچی.
شاید یہ وہی لڑکی تھی. اس نے ہاتھوں میں چائے کے کپ تھام رکھے تھے.
لیکن وہ اس کی خوبصورتی سے متاثر ہوئی تھی.
بےحد کالے بال گرے رنگ کی آنکھیں.
چہرے کے ایک طرف اس کے بال بکھرے ہوئے تھے. اس کے چہرے کی صرف ایک سائیڈ ہی دکھ رہی تھی.
عشال بےاختیار ہی اپنا موازنہ اس سے کرنے لگی.
بھورے رنگ کے کٹے ہوئے بال.وہ بھی خوبصورت تھی لیکن اس کا وزن زیادہ جس وجہ سے اس پر کئی بار تنقید کی گئی تھی.
مم میں نے سو…سوچا تت تم تھک گئی ہو گی.
نظریں جھکائے جائے کا ایک کپ اس کی بڑھا رہی تھی.
وہ اٹک اٹک کر عشال سے کہ رہی تھی.
اوہ تھینک یو سو مچ.
وہ شرمیلے سے انداز میں مسکرائی اور اس کے سامنے سے ہٹ گئی.
عشال نے تو پتا نہیں کیا کیا سوچا تھا.
_______
اسے تو لگا تھا کہ وہ کوئی بدتمیز سی لڑکی ہو گی. پر یہاں تو معاملہ الٹا تھا. اسے اب اپنے آپ پر شرم آنے لگی.
میرا نام عشال ہے اور تمہارا.
حو ..حورین
ویسے ہو بھی تم حور جیسی. عشال کہنے سے خود کو روک نا پائی.
حورین نے دوبارہ نظریں جھکا لیں. اور اپنے چہرے پر پڑے بال کال کے پیچھے کر لیے.
عشال اسے اب منہ کھولے گھورنے لگی.
حورین اس کے تاثرات دیکھ رہی تھی.
اسے اپنے ایسے گھورنے پر شرمندگی ہوئی اور معافی مانگنے لگی.
مجھے معاف کر دو.
کوئی بات نن…نہیں مم مجھے اس کی عا..عادت ہے.
اس کی بات پر عشال اپنی زبان دانتوں تلے دبا کر رہ گئی.
اسے تو اپنا کمرہ بہت پسند آیا تھا. ہاسٹل یونیورسٹی کے قریب تھا اس لئے وہ پیدل آ جا سکتی تھی.
حورین بھی اسی یونیورسٹی میں جاتی تھی.لیکن وہ گریجویشن کی طالبہ تھی.
عشال کی کلاسز سٹارٹ ہو چکی تھیں. اور وہ اس آزادی کو خوب انجوائے کر رہی تھی.
اول دنوں میں تو وہ روزانہ ہی اپنی ماں سے باتیں کرتی تھی لیکن اب مصروفیت کی وجہ سے بات چیت کم ہو گئی تھی.
جمعہ کا دن تھا اور یہاں آئے ہوئے اس کا تیسرا ویک اینڈ . اور آج اس نے بابا سے ملنے جانا تھا. ارادہ ویک اینڈ ان کے ساتھ گزارنے کا تھا.
اسے یونیورسٹی سے نکلتے ہوئے دیر ہو گئی تھی. حورین کو بتانا بھی یاد نہیں رہا تھا. وہ یونیورسٹی سے واپس ہاسٹل جانے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی.
اس لئے اس کا نمبر ملا رہی تھی.
وہ بہت لیٹ ہو گئی تھی اس لے موبائل استعمال کرتے ہوئے جلدی جلدی یونیورسٹی سے نکل رہی تھی.
جب اس کی ٹکر کسی سے ہوئی اور وہ زور سے نیچے گر گئی.
اس کا بیگ اور موبائل بھی کچھ فاصلے پر گرا ہوا تھا.
سامنے والا شخص سن گلاسز کی اوٹ سے اسے دیکھتا آگے بڑھ گیا.
عشال کو بری طرح چوٹ لگی تھی. وہ اٹھی اور بیگ بھی اٹھا لیا.
اس کی حرکت پر عشال کو کافی غصہ آیا.
کیا بدتمیزی ہے …
عشال نے غصے سے بیگ گھمایا اور اس کی کمر پر وار کرنا چاہا.
چھ فٹ کے اس شخص نے بنا دیکھے اس کا بیگ پکڑ لیا.
عشال کی طرف پلٹ کر اسے بیگ کے زریعے زور سے اپنی طرف کھینچا اور خود ایک طرف ہٹ گیا.
عشال اب کی بار منہ کے بل فرش پر گری. اس کے ہاتھوں اور کہنیوں پر چوٹ لگی.
آہ ….. کس قدر بدتمیز انسان ہو تم.
وہ وہیں فرش پر بیٹھی چلانے لگی.
_________
تو تمہیں دیکھ کر چلنا چاہئیے اور ایسے حملہ نہیں کرنا چاہئیے.
اس نے اب گلاسز ہاتھ میں پکڑ لئے تھے.
عشال نے اسے غور سے دیکھا.
چھ فٹ کا آدمی تیور چڑھائے اسے دیکھ رہا تھا.
اتنے ہٹے کٹے آدمی ہو کیا سامنے سے آتی ہوئی میں دکھائی نہیں تھی. اور پھول کے بنے تو نہیں لگ رہے جو میرے بیگ سے کچھ ہو جاتا.
وہ تو اب باقاعدہ بدتمیزی پر اتر آئی تھی.
محترمہ اپنی زبان کو لگام دیں.
ان کے اردگرد طالبعلم جمع ہو گئے تھے.
عشال کچھ کہتی اس سے پہلے اس کی نظر پروفیسر پر پڑی جو ان کی طرف ہی بڑھ رہے تھے.
عشال نے اپنے منہ پر تالا لگانا بہتر جانا.
اور موقع دیکھ کر وہاں سے کھسک گئی.
لاہور کے اندر ہی سفر کے لئے اتنا وقت درکار ہے اس کا اسے اندازہ بھی نہیں تھا.
موڈ خراب ہونے اور چوٹ کی وجہ سے اسے واپس ہاسٹل جانا پڑا.
اب رات ہو چکی تھی.اس نے ٹیکسی کو گھر سے کچھ فاصلے پر روک دیا. اور پیدل چلنے لگی.
اس نے کئی بار کال کی تھی پر بابا نے ریسیو نہیں کی.
مین گیٹ پر جا کر بیل بجائی لیکن شاید کوئی مسئلہ تھا.اس لے وہ دروازہ کھٹکھٹانے لگی.
دروازہ اس کے ہاتھ سے کھل گیا.
عجیب بات ہے.
شاید بابا نے میرے لئے کھلا رکھا ہو. اس نے اندر داخل ہو کر دیکھا تو وہ دروازہ بھی کھلا تھا.
گھر کے اردگرد ابھی کچھ پلاٹ کھالی تھے. دن میں بھی یہاں کم ہی کوئی باہر دکھتا تھا. اور رات کے وقت تو سارا علاقہ سنسان ہوتا تھا.
ایسے میں بابا دونوں دروازے کھلے کیوں چھوڑیں گے.
سارے گھر میں اندھیرا تھا. اس نے لائٹ بٹن چلایا پر کچھ نہیں ہوا.
شاید لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے بجلی نہیں ہے تبھی بیل بھی نہیں بجی. یہی سوچتے ہوئے اس نے موبائل کی ٹارچ جلا لی.
ڈائیننگ روم سے کچھ روشنی آ رہی تھی. شاید یو.پی.ایس
کی وجہ سے.
ڈائیننگ روم کا منظر دیکھ کر گرتی چلاتی ہوئی واپس ہال میں آ گئی.
اس کے بابا خون میں لت پت تھے.
گولی سر میں لگی تھی اور وہاں سے خون نکل کر ان کے کپڑوں اور فرش پر پھیل چکا تھا.
اسے سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا کرے.اس کا موبائل بھی ہاتھ سے چھوٹ کر گر گیا تھا.
وہ اسے اٹھانے کے لئے بڑھی جب اس نے کسی کو تیزی سے گزرتے ہوئے شیشے میں دیکھا.
موبائل کی ٹارچ ہلکی ہلکی روشنی بکھیر رہی تھی. اسی وجہ سے وہ اس سائے کو دیکھ پائی تھی.
وہ موبائل پکڑ کر کھڑی ہو گئی اور ادھر ادھر دیکھنے لگی.
