Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 02

وہ جانتی تھی کہ یہاں اس کے علاوہ بھی کوئی ہے.
کو..کون ہے ؟
اسے پھر سے کوئی اپنے پیچھے محسوس ہو رہا تھا. وہ جان چکی تھی کہ یہ اس کے آخری لمحات ہیں.
عشال کو لگ رہا تھا کہ وہ زمین پر گر جائے گی.
نن…نہیں اگر یہ ہی میرے آخری لمحے ہیں تو میں اس کا سامنا بہادری سے کروں گی.
تت..تم جو کوئی بھی ہو سامنے آؤ. میں تم سے نہیں ڈرتی.
تم نے مجھے مارنا ہی ہے تو سامنے آؤ ڈرو نہیں.
عشال نے شیشے میں خود کے پیچھے کسی کو کھڑا دیکھا. وہ چہرہ تو نہیں دیکھ پا رہی تھی لیکن وہ ایک طاقتور شخص لگ رہا تھا.
اسے دیکھ کر ساری بہادری ہوا ہو گئی. اپنی زندگی کے لئے گڑگڑانے لگی تھی کہ اس نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا. اور کنپٹی پر بندوق تان دی.
وہ عشال کے کانپتے ہوئے وجود کو محسوس کر سکتا تھا.
تمہاری بھی باری آئے گی پر ابھی نہیں.
یہ کہ کر اس نے بندوق کی پچھلی سائیڈ سے اس کے سر پر وار کیا اور پھر اسے گرنے کے لیے چھوڑ دیا.
جب عشال کو ہوش آئی تو وہ فرش پر پڑی تھی. سر میں بہت درد ہو رہا تھا.
ہاتھ لگا کر دیکھا تو اسے کچھ گیلا محسوس کیا.
شاید سر سے خون بہہ رہا تھا.
اسے کچھ بھی سجھائی نہیں دے رہا تھا. وہ جیسے تیسے لینڈ لائن تک پہنچی اور ایمبولینس کو فون ملا دیا.
اسے نہیں یاد تھا کہ فون پر کیا کہا. وہ فون پھینک کر دوبارہ اپنے بابا کے پاس بھاگی.
رضا صاحب اور عشال زیادہ قریب تو نہیں تھے لیکن باپ کے بےجان وجود سے لپٹ کر رونے لگی.
اسے کوئی ہوش نہیں تھا کہ کب ایمبولینس اور پولیس وہاں پہنچی اور کب اسے اس کی باپ کے وجود سے الگ کیا گیا.
وہ اس وقت ہوسپٹل میں تھی. سر پر پٹی کی جا چکی تھی.
پولیس اس سے بیان لے رہی تھی لیکن وہ کچھ بھی بتانے میں ناکام رہی. تفتیش کی جا رہی تھی. پولیس کو لگتا تھا کہ یہ چوری کا معاملہ تھا.
وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ اس شخص نے اسے قتل کیوں نہیں کیا.
اسے ابھی یہ سب ماما کو بتانا تھا. لیکن جب کوئی فیصلہ نہ کر پائی تو یہ کام پولیس پر چھوڑ دیا.
عشال تم ابھی واپس آ رہی ہو.
ماما آپ کو یہاں آنا چاہئیے اور آپ الٹا مجھے واپس بلا رہی ہیں.
وہ تو الجھ کر رہ گئی تھی.
میں نے کہا نا کہ واپس آ جاؤ. نہیں ماما آپ مجھے وجہ بتائیں ورنہ یہ بات یہیں چھوڑ دیں.
اس کے باپ کو دفنا دیا گیا تھا لیکن اس کی ماں نہیں آئی تھی.
_______
وہ نہیں جانتی تھی کہ اس کے ماں باپ الگ کیوں ہوئے. اس کے والد ماہانہ ایک بڑی رقم انہیں بھیجتے تھے.
اس کی ماں چند سالوں بعد شہر بدل لیتی تھی جس وجہ سے وہ کبھی دوست نہیں بنا پائی. یہ سب اسے ڈپریس کر دیتا لیکن پھر اس نے کسی بھی جگہ کو گھر سمجھنا ہی چھوڑ دیا. اس سے اسے نئی جگہ منتقل ہونے میں آسانی ہونے لگی.
ایک ہفتے بعد وہ دوبارہ یونیورسٹی گئی تھی.
جن کو اس کے والد کے قتل کا پتا لگا وہ اس سے افسوس کرنے لگے.
وہ ٹھیک سے سو نہیں پا رہی تھی خواب میں وہ سایہ اسے آ کر ڈراتا تھا.
روز ہی حورین کو اسے جگانا پڑتا. وہ اس بات کے لئے حورین سے معافی مانگتی لیکن وہ یہ کہ کر ٹال دیتی کہ وہ یہ سب اچھے سے جانتی ہے.
نجانے کیا زخم تھے اس کی روح کو یہ پوچھنے کی ہمت عشال نہ کر سکی.
عدیل اور ستارہ اس کے پاس بیٹھے تھے وہ تینوں ایک گروپ میں تھے.
مجھے بہت افسوس ہوا تمہارے بابا کا سن کر. کیا کچھ پتا لگ سکا؟
نہیں ابھی تک نہیں.
عشال اس سب سے اکتا چکی تھی.
ستارہ اور عدیل بھی باقی طالبعلم کی طرح ایک امیر خاندان سے تعلق رکھتے تھے.
لیکن عدیل ایک آوارہ قسم کا انسان تھا جس سے عشال دور ہی رہتی.
اس نے اسے کئی بار سفید رنگ کا پاوڈر سونگھتے ہوئے دیکھا تھا.
ارے چھوڑو یہ سب اور ہمارے ساتھ چلو تم اچھا محسوس کرو گی.
عدیل کے جواب میں عشال نے انکار کر دیا.
ہاں عدیل ٹھیک کہ رہا ہے. کلاس کے اور بھی سٹوڈنٹ چل رہے ہیں میں بھی ساتھ ہوں گی.
نہیں ستارہ پھر کبھی سہی.
لیکن اس کے بار بار کے اصرار پر اسے حامی بھرنی پڑی.
وہ لوگ اس وقت انار کلی مجھے گھوم رہے تھے.
ستارا عدیل عشال اور اس نعیمہ جو کہ ستارہ کی دوست تھی اکٹھے تھے. باقی سٹوڈنٹ بھی گروپس کی شکل اختیار کر چکے تھے.
عدیل ہر آتی جاتی لڑکی کو چھیڑ رہا تھا جس پہ اب نعیمہ اس کے کان کھینچنے لگی تھی.
وہ صحیح تھے یہاں کی رونق دیکھ کر اچھا لگ رہا تھا.
لیکن دل میں غم بدستور قائم تھا.
ایک کے بعد ایک دن گزرنے لگا اور وہ بھی دوبارہ اس جھٹکے کی گرفت سے آزاد ہونے لگی.
اس دوران وہ حورین کے بارے میں کافی کچھ جان چکی تھی.
وہ کراچی سے تھی. اس کے والد ایک نامور سیاستداں تھے. لیکن وہ اپنے گھر والوں کا زکر نہیں کرتی تھی.
اس کا میجر اکنامکس تھا کیونکہ یہ اس کے والد کی خواہش تھی.
________
یہ تم کیا کر رہی ہو.
حورین کو نچلا ہونٹ چباتے دیکھ کر پوچھنے لگی.
کل اسائنمنٹ سبمٹ کروانی ہے اور مجھے کچھ نہیں آتا.
عشال نے دیکھا تو وہ میتھ کے سانے سوال غلط کر رہی تھی.
یہ تو غلط ہیں. چلو کوئی بات نہیں میں سمجھا دیتی ہوں. عشال کا میجر چونکہ میتھس تھا اس لئے اس نے باآسانی سب سوال حل کر لئے.
تھینک یو عشال آپی.
ارے بس عشال کہو. اب تو ہم دوست ہیں.
حورین ہم آج باہر جا رہے ہیں تم بھی چلو.
عشال اسے ہمیشہ کی طرح پوچھ رہی تھی لیکن اس نے انکار کر دیا.
کبھی تو چلو. ایسے خود کو بند کر رکھنا اچھا نہیں.
میں ٹھیک ہوں. اگر باہر جاؤں گی تو سب گھوریں گے.
تم وہ سب مت سوچو اور چلو ساتھ.
عشال نے اس کا بازو پکڑنا چاہا لیکن وہ ایسے پھرتی سے دور ہوئی جیسے وہ اسے نقصان پہنچانا چاہتی ہو.
پلیز آپ جائیں.
خود میں سمٹی وہ اب کانپتی ہوئی کہہ رہی تھی. پہلے تو عشال کو کچھ سمجھ نہیں آیا. لیکن پھر اسے تنہا چھوڑنا بہتر جانا.
ان چاروں کا گروپ ایک ٹیبل پر بیٹھا فیصلہ کر رہا تھا کہ کیا منگوایا جائے.
جبکہ عشال حورین کے بارے میں سوچ رہی تھی.
آخر مسئلہ کیا ہے اسے.
عشال تم کیا کھاؤ گی.
جو بھی تم لوگ منگوا رہے ہو.
جب سب نے ڈسائڈ کر لیا تو ستارہ اور عدیل آڈر لینے چلے گئے.
عشال کو محسوس ہو رہا تھا جیسے اسے کوئی دیکھ رہا ہو . اس نے ادھر ادھر نظریں دوڑائی پر کوئی اسے نہیں دیکھ رہا تھا.
کئی دنوں سے اسے یہ عجیب سا احساس ہو رہا تھا. شاید جو کچھ بابا کے گھر ہوا اس وجہ سے.
وہ اس دن کے بعد سے شیشے میں خود کو ٹھیک سے نہیں دیکھ پاتی تھی. عجیب کیفیت تھی.
عدیل اور ستارہ واپس آئے تو عدیل نے عشال کو اس کی ڈرنک اور آڈر دے دیا.
عشال اپنی سوچوں میں مگن کھانے کے ساتھ انصاف کرنے لگی.
اسے ماما کی طرف سے بھی پریشانی تھی وہ جب بھی بات کرتیں اسے واپس آنے کا کہتیں.
عشال نے زاویہ بدلا تو اس کی نظر سامنے بیٹھے عدیل پر پڑی جو اسے عجیب نظروں سے دیکھ رہا تھا.
اس کی نظروں میں جو بھی تھا اس سے عشال کانپ اٹھی تھی.
اب ہم کہاں جائیں گے.
میں تو اب ہوسٹل جاؤں گی.عشال نے فورأ سے کہا.
ارے نہیں ابھی تو رات جوان ہے کہیں مزہ کرنے چلتے ہیں. ستارہ نے بھی ہاں میں ہاں ملائی.
عشال کو سب کچھ چکراتا دکھ رہا تھا.اور طبیعت بھی عجیت ہو رہی تھی.
خود کو سنبھال کر اٹھ کھڑی ہوئی.
________
ارے تم ٹھیک ہو نا.
ہاں بس ذرا تھک گئی ہوں.
پھر بھی تم اس وقت اکیلی جاؤ گی
عشال سر پر ہاتھ رکھے بنا جواب کے آہستہ آہستہ باہر کی طرف بڑھنے لگی.
ارے تم لوگ فکر نا کرو میں چھوڑ کر آتا ہوں.
عدیل موقع دیکھ کر عشال کے پیچھے جانے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا.ستارہ اور نعیمہ کندھے آچکا کر رہ گئیں.
باہر بھی لوگوں کا ہجوم تھا اور اسے ایک کی جگہ دو دو لوگ دکھ رہے تھے. لڑکھڑاتے ہوئے وہ ایک اندھیری گلی کی طرف مڑ گئی.
عدیل باہر آیا تو اسے عشال آس پاس نہیں دکھی. شاید وہ اس طرف چلی گئی تھی جہاں ٹیکسی کھڑی ہوتی تھیں.
عشال کو لگ رہا تھا کہ وہ گر جائے گی لیکن وہ ایک سنسان گلی میں تھی.
اسے جو دکھ رہا تھا اب اس کی جگہ بس اندھیرا تھا. وہ کب سڑک پر گری اسے پتا بھی نا لگا.
اسے ہوش آ رہی تھی. خود کو نیند سے بیدار کرنا بہت مشکل ہو رہا تھا.
نرم ملائم بستر پر انگڑائی لیتے ہوئے اہستہ آہستہ آنکھیں کھولنے لگی.
لیکن اردگرد کا منظر دیکھ کر ایک دم اٹھ بیٹھی.
وہ کسی انجان جگہ پر تھی. کمرے میں بیڈ ڈریسنگ ٹیبل اور ایک صوفے کے علاوہ کچھ نہیں تھا.
بڑی بڑی کھڑکیوں سے پردے اٹھے ہوئے تھے جس سے آتی دھوپ کمرے کو اور روشن کر رہی تھی.
لیکن جس نے اس کی سانسوں کو جکڑ لیا تھا وہ اس کے سامنے صوفے پر بیٹھا شخص تھا.
لگتا ہے کافی اچھے سے سوئی تم.
اس نے بیڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا. اور عشال کمبل کو خود کے مزید قریب کھینچ کر رہ گئی.
وہ یہاں کیسےپہنچی. عشال اب اپنے ذہن پر زور دینے لگی. پر آخری بات جو اسے یاد تھی وہ سب کے ساتھ ڈنر کی تھی.
یہ وہی تھا جس سے وہ یونیورسٹی میں ٹکرائی تھی. کیا ہوا ہے اس کے ساتھ وہ یہاں کیسے.
یہ سب سوچ کر اس کی آنکھوں میں نمی آ گئی. اور وہ کچھ کہنے کی بھی ہمت نا کر پائی.
مجھے تم سڑک پر گری ہوئی ملی. تم بیہوش تھی. اس لئے یہاں لے آیا.
وہ اسے غور سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا.
عشال نے اپنے آنسو حلق سے نیچے اتارے اور سوال کرنے لگی.
یہاں یہاں کیوں؟
وہ بیہوش سڑک کے کنارے . اسے اپنی سماعت پہ یقین نہیں آ رہا تھا.
میں نے تمہارا بیگ چیک کیا. شناختی کارڈ پہ جو نمبر تھا وہ بند تھا. تمہارا موبائل پہ پاسورڈ تھا. اور ایڈریس ایک پوسٹ آفس کا تھا.
اب میں تمہیں پوسٹ تو کر نہیں سکتا ورنہ تمہارے گھر لے جاتا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *