Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 17,18

نازرشاہ نے پھرتی سے ایک نشانے باز کو شوٹ کر دیا اور پھر دیوار کے پیچھے چھپ گیا.
اس کے ایک آدمی نے ایک اور نشانےباز کو حلاق کر دیا
لیکن اس کی بازو میں بھی گولی لگ گئی.
اب صرف ایک شخص رہتا تھا اس کے اور مراد کے راستے میں.
نازرشاہ کے دو آدمی دوسرے راستے سے ویلا میں گھسے تھے ان دونوں نے اس شخص کو بھی قتل کر دیا.
وہ اب تیزی سے اس کے آفس کی طرف بڑھ رہا تھی.
اس کے آفس کا دروازہ لاک تھا.
نازرشاہ نے وہ دروازہ توڑ ڈالا.
وہ ایک لڑکی کو اپنی ڈھال بنائے کھڑا تھا.
اسے چھوڑ دو مراد تمہارے بچنے کا کوئی راستہ نہیں.
وہ نازرشاہ کے نشانے پر تھا. لیکن اسے عشال کے بارے میں جاننا تھا.
میری بیوی کہاں ہے مجھے بتا دو اور میں تمہیں جانے دوں گا.
تمہاری بیوی …. تمہاری بیوی تو میری بیٹی تھی نا.
نازرشاہ اس سے باتیں کر کے اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا اس لئے اپنا سوال دہرایا.
اس کی ڈھال بنی لڑکی رو رہی تھی. اس کے سر سے خون بہہ رہا تھا. اور وہ لنگڑا رہی تھی.
تمہیں مجھے تبھی مار دینا چاہئیے تھا جب پری مری.
لیکن اس کی موت کے بعد تم میرے کام کے لئے فائدہمند ثابت ہوئے.
اس لئے تمہیں کچھ نہیں کہا. لیکن اب اپنی غلطی سدھارنے کا وقت آ گیا ہے.
اس نے ہاتھ اٹھا کر نازرشاہ پر گولی چلانی چاہی.
پر وہ اس کے ارادے پہلے ہی بھانپ چکا تھا.
نازرشاہ نے اس کے ہاتھ پر فائر کیا.
وہ ایک دم جھٹکے سے پیچھے ہوا. اب اس کا ہاتھ گولی سے الگ ہو گیا تھا.
نازرشاہ نے اس لڑکی کو کھینچ کر راستے سے ہٹایا.
میری عشال کہاں ہے مراد .
وہ اس کے چہرے پہ چلایا تھا.
مراد خون آلود نظروں سے اسے دیکھنے لگا.
کاش اس دن اس رضا نے اپنا کام ٹھیک سے کیا ہوتا تو یہ سب نا ہوتا.
اس کی بات سن کر نازرشاہ کو جھٹکا لگا.
مراد اس کا چہرہ دیکھ کر ہسنے لگا.
تمہیں کیا لگا میری بیٹی اپنی مرضی سے شادی کر لے گی اور میں تم دونوں کو معاف کر دوں گا.
مراد ایک ناگ تھا جس نے اپنی اولاد کو بھی ڈس لیا تھا.
اس دن وہ میرے کہنے پر وہاں گیا تھا. میں نے ہی اسے تمہیں قتل کرنے کا حکم دیا تھا.
نازرشاہ ایک دم مراد سے دور ہٹا تھا.
لیکن اس نے تمہاری جگہ میری بیٹی کو مار دیا.
تمہیں لگا کہ اس نے حسد کی وجہ سے یہ کیا.
وہ اب قہقہے لگا رہا تھا. اور نازرشاہ بےیقینی سے اسے دیکھ رہا تھا.
________
تمہارا جوان خون بدلا چاہتا تھا اور مجھے رضا کی جگہ ایک پالتو کتا چاہئیے تھا.
تم نے اپنی ہی بیٹی کو نفرت کی آگ میں جھونک دیا مراد.
نازرشاہ اس کی گردن توڑ دینا چاہتا تھا.
اس نے ایک زور دار مکا مراد کے منہ پر رسید کیا.
وہ حملہ کی شدت سے گر گیا اس کے ناک سے خون بہنے لگا تھا.
اس کے بعد نازرشاہ رکا نہیں بلکہ ایک بعد ایک مکا مارتے چلا گیا.
تم نے مجھ سے پری چھینی میرا بچہ چھینا.
اور اب عشال…
کہاں ہے میری عشال. بولو کہاں ہے وہ مرادددد
کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ آگے بڑھ کر اسے روک سکے.
مراد کا سر فرش پر مارنے سے اس میں سے بھی خون بہنے لگا.
نازرشاہ نے اسے گریبان سے تھام لیا.
کہاں ہے وہ بتا مجھے مراد ورنہ ایک دردناک موت کے لئے تیار ہو جاؤ.
مار دو… ویسے بھی تم اب اس تک کہیں نہیں پہنچ پاؤ گے.
کہاں ہے وہ….
اس کا صبر اب جواب دے گیا تھا.
مراد مسکرانے لگا. وہ ایک پاگل شخص تھا.
اس کے منہ سے خون جاری تھا.
ایک گال بھی پھٹ چکی تھی.
بیچ دیا. اب تک شاید وہ پاکستان بھی پار کر چکی ہو.
نازرشاہ کے ہاتھ کانپنے لگے. جسے مراد نے اچھے سے محسوس کر لیا.
نازرشاہ اسے چھوڑ کر پیچھے ہو گیا. وہ جانتا تھا کہ انسانی سمگلنک کے بارے میں.
اور یہ بھی کہ ان لڑکیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے.
اس نے تو اس کی حفاظت کی قسم کھائی تھی.
مراد اسے مزید تکلیف دینا جاہتا تھا.
تمہاری عشال ہر پل مرے گی. ہر پل تڑپے گی.
نجانے کس کے بستر کی زینت….
نازرشاہ اور نہیں سن سکتا تھا. وہ آپے سے باہر ہو گیا اور کسی جنگلی جانور کی طرح اس پہ حملہ کرنے لگا.
وہ سوچنے سمجھنے کی طافت کھو چکا تھا.
سمجھنا مشکل تھا کہ یہ چیخیں مراد کی تھی یا اس کی.
وہ مراد کو کھینچتا ہوا ہال میں لے گیا.
نازرشاہ کی آنکھوں میں خون اتر چکا تھا.
مراد اس وقت ہوش اور بیہوشی کی درمیانی وادیوں میں گھوم رہا تھا.
نازرشاہ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کا منہ مکمل کھولا اور پھر اس کا منہ سیڑھی کے کونے پہ رکھ دیا.
وہ اسے چیر دینا چاہتا تھا. اور اس نے یہی کیا.
اپنا پاؤں اٹھا کر مراد کے سر کی پشت پر پوری شدت سے مارا.
پہلی ہی بار میں مراد کی کھوپری ٹوٹ گئی.
وہ تڑپ رہا تھا تکلیف سے. اور نازرشاہ نے اسے ایک دردناک موت دی.
دو مار مزید وار کرنے سے اس کا منہ پھٹ گیا. اور سر آدھا ہو گیا.
________
نازرشاہ مراد کے آفس کی طرف پلٹا اور سب کچھ ادھر ادھر کرنے لگا.
اسے کوئی بھی ایسی چیز کی تلاش دی جس سے اسے اندازہ ہو جائے کہ عشال کہاں ہے.
لیکن مراد ایک پکا کھلاڑی تھا. اپنے کالے دھندے کا کوئی ثبوت نہیں چھوڑتا تھا.
نازرشاہ نے خود کو ہمیشہ اس کام سے دور رکھا تھا اس لئے اسے کوئی اندازہ نہیں تھا کہ عشال کہاں ہے.
ہر لمحہ جو وہ ضائع کر رہا تھا عشال کو اس سے مزید دور کرتا.
اس نے وہاں موجود ہر چیز تہس نہس کر دی.
وہ اس لڑکی کی طرف دیکھنے لگا جو کہ ایک کونے میں دبکی بیٹھی تھی.
وہ مراد کے بےجان جسم کو دیکھ رہی تھی.
اسے دیکھ کے ایسا لگا جیسے کوئی نازک گڑیا ہو. بےجان آنکھیں بے جان روح.
وہ اپنے گناہوں کی سزا بھگت رہا تھا. پہلے پری کی جدائی سے اور اب عشال کی.
اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں. وہ اس لڑکی میں عشال کو دیکھ رہا تھا جس نے اسے خوفزدہ کر دیا.
وہ اس لڑکی کے سامنے جا کر بیٹھ گیا.
تم آزاد ہو.
اس لڑکی نے چہرے کا رخ اس کی طرف موڑ لیا. وہ مردہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی.
اس کی نظریں نازرشاہ کو کاٹنے دوڑ رہی تھیں.
آزاد؟
اس نے دوبارہ رخ مراد کی طرف پھیر لیا.
اس کے چہرے پہ مسکراہٹ اٹھی. وہ مسکراہٹ نازرشاہ کو زہر لگی.
میں اب اس سب سے تب تک آزاد نہیں ہو سکتی جب تک زندہ ہوں.
لیکن کم از کم اب کوئی اور اس کا شکار نہیں بنے گا.
نازرشاہ نے اسے ہوسپٹل پہنچانے کا کہا اور پھر نوری کی تلاش میں نکل گیا.
اسے امید تھی کہ وہ ضرور اس بارے میں کچھ جانتا ہو گا.
بتاؤ عشال کہاں ہے ورنہ میں تمہاری جان لے لوں گا.
اس نے نوری کو گریبان سے پکڑ رکھا تھا.
شاہ…شاہ… مجھے نہیں پتا کچھ بھی میں اپنے بچوں کی قسم کھاتا ہوں.
تو پھر کہاں ہے وہ؟؟
مم…میں نہیں جانتا میں بس اتنا جانتا ہوں کہ یہاں مراد ہر لڑکی کو کراچی بھیجتا تھا.
شاید عشال بھی وہی ہو.
وہیں سے پھر بگ بوس فیصلہ کرتا ہے کہ اس کا کیا کرنا ہے.
عشال کو جب ہوش آئی تو وہ اسی وین میں تھی.
اس کے اردگرد دو آدمی تھے.
عشال کی سانسیں اتھل پتھل ہو گئی.
وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ کہاں ہے اور یہ لوگ کون ہے.
وہ نہیں چاہتی تھی کہ ان لوگوں کو خبر ہو کہ وہ ہوش میں آ چکی ہے.
ہم کب تک پہنچیں گے؟
وہ آپس میں باتیں کر رہے تھے.
ابھی بہت وقت ہے.
مجھے نیند آ رہی ہے.
________
ارے دیکھو تو یہ لڑکی زندہ بھی ہے یا گزر گئی.
ان میں سے ایک نے عشال کو کھینچنا چاہا تو وہ خود میں سمٹ گئی.
چھونا بھی مت مجھے دور رہو.
وہ تینوں سن کر ہسنے لگے.
تمہارے یہ نخرے بس یہیں تک کے لئے ہیں. وہاں پہنچ کر ساری اکڑ نکل جائے گی.
عشال کو کچھ بہت غلط ہونے کا احساس ہو رہا تھا.
اسے کسی بھی حالت میں یہاں سے نکلنا تھا.
باہر دن کا اجالا تھا مطلب وہ ساری سے بیہوش تھی.
وہ ایسے ظاہر کرنے لگی جیسے اسے الٹی آ رہی ہو.
ارے گاڑی گندی کرے گی کیا. اوئے گاڑی روک.
جیسے ہی گاڑی رکی ان میں سے ایک نے دروازہ کھول دیا وہ وہاں سے باہر نکل گئی.
عشال نے جیسے ہی بھاگنے کے لئے قدم اٹھائے ان میں سے ایک نے اسے بالوں سے پکڑ لیا.
ایک زناٹےدار تھپڑ اس کے منہ پر مارا.
وہ لڑ کھڑا گئی پر اس نے اسے بالوں سے ہی وین میں کھینچ لیا.
کچھ بھی کر لیکن اس کی شکل خراب نا کرنا ورنہ پیسے بھول جائیں.
اس شخص نے اس کے دوسرے گال پر بھی تھپڑ مارا.
اور وہ خود میں سمٹ کر رہ گئی.
اگر دوبارہ ایسی حرکت کی نا تو ایسا حال کروں گا کہ یاد رکھے گی.
عشال انہیں اکسانا نہیں چاہتی تھی اس لئے ایک کونے میں خاموشی سے بیٹھ گئی.
کچھ دیر بعد انہوں نے کوئی انجکشن لگا کر دوبارہ بیہوش کر دیا.
جب اسے ہوش آئی تو وہ کسی بوسیدہ کمرے میں تھی.
اس جگہ سے بدبو آ رہی تھی.
دیواریں خستہ حال تھیں.
وہاں عشال کے علاوہ اور بھی لڑکیاں تھیں.
وہ سب بھی چہرے پر خوف لئے بیٹھی تھیں.
کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ دوسری سے بات کر لے.
کچھ دیر بعد اس کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک شخص کمرے میں داخل ہوا.
جبکہ دوسرا شخص دروازے پہ بندوق تھامے کھڑا تھا.
اس نے ان میں سے ایک لڑکی کو بالوں سے جکڑا اور کھینچ کر لیجانے لگا.
وہ چیخنے لگی جبکہ باقی سب اونچی اونچی رونے لگیں.
وہ اسے باہر لے گئے اور دروازہ بند کر دیا.
کچھ وقت بعد وہ پھر ایک لڑکی کو لے گئے.
وہاں کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے.
اور ان کے ساتھ کیا ہو گا.
اب کی بار وہ عشال کی طرف بڑھنے لگے.
عشال ہاتھوں سے انہیں پرے دھکیلتی چیخنے لگی.
چھوڑو مجھے جانے دو چھوڑو.
لیکن وہ اسے بھی بالوں سے کھینچ کر لے گئے.
_________
کمرے سے باہر کا ماحول کافی الگ تھا وہ ایک شاندار جگہ تھی.
جگہ جگہ پہ لوگ ہتھیار پکڑے کھڑے تھے.
عشال لگاتار خود کو چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی
لیکن سب بےسود.
وہ اب منتوں پر اتر آئی تھی.
وہ لوگ اسے لے کر ہال میں داخل ہو گئے.
حرام پیسے سے اس جگہ کی خوب زینت کی گئی تھی.
دیوار کے ساتھ گھوڑوں کی مجسمے رکھے گئے تھے.
چھت کے درمیان میں ایک فانوس لٹک رہا تھا.
وہاں ایک شخص کچھ اور لوگوں کے ساتھ کھڑا تھا.
مراد صاحب نے اس کی خاص خاطرداری کرنے کا کہا ہے.
تو یہ سب مراد نے کیا تھا.
نازرشاہ… اسے نازرشاہ کی یاد آ رہی تھی.
وہ شخص اس کے سامنے آ کھڑا ہوا اور اس کا چہرہ دبوچ لیا.
عشال خود کو آزاد کرانے لگی.
مراد کی پسند ہمیشہ ہی کمال ہوتی ہے.
اس نے خباست سے کہا.
عشال اپنا چہرہ آزاد کرانے میں کامیاب رہی.
اس نے مقابل کے چہرے پہ تھوک دیا.
وہ کہاں کسی سے دبنے والی تھی.
اس نے اپنی جیب سے ایک قیمتی رومال نکالا اور اپنا چہرہ صاف کرنے لگا.
اپنے ہاتھ کا مکا بنا کر اس نے عشال کے چہرے پہ دے مارا.
عشال جھٹکے سے پیچھے جا گری.
اس کی ناک حملے سے ٹوٹ گئی تھی اور اس کا خون بہہ رہا تھا.
خون اس کے منہ میں بھی جانے لگا.
درد سے اسے سانس نہیں آ رہا تھا.
وہ ناک پہ ہاتھ رکھ کر خون کو بہنے سے روکنے لگی.
مجھ سے کسی نرمی کی امید نا رکھنا لڑکی.
عشال کا سر گھومنے لگا .
وہ اس کے قریب آیا اور بالوں سے کھینچتا مخالف سمت لجانے لگا.
________
اسے کھینچتے ہوئے ایک کمرے لے جایا گیا.
یہ کمرہ پہلے سے مختلف تھا.
کمرہ کے اندر ایک اور دروازہ تھا.
اس نے وہ دروازہ کھول کر اسے اندر دھکیلا.
وہ ایک چھوٹی سی جگہ تھی. عشال سامنے دیوار سے ٹکرا گئی.
اس کے پلٹنے سے پہلے ہی دروازہ بند کر کے باہر سے تالا لگا دیا گیا.
وہ جگہ اتنی تھی کہ وہاں سمٹ کر بیٹھا جا سکتا تھا.
اندھیرا اتنا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نا دے.
عشال دروازہ پیٹنے لگی. اسے ناک میں درد ہو رہا تھا.
جب وہ تھک گئی تو اس بدبودار جگہ پر بیٹھ گئی.
وہ رونے لگی اپنی قسمت پہ. پتا نہیں ابھی کیسے امتحانات سے اسے گزرنا تھا.
عشال کو لگا جیسے کوئی چیز کی بازو پہ رینگ رہی ہو.
اس نے اسے بازو سے ہٹانا چاہا شاید وہ کوئی کیڑا تھا.
اسے اپنے بالوں اور سارے وجود پہ چیزوں کے رینگنے کا احساس ہونے لگا.
وہ پاگلوں کی طرح اپنے وجود اور بالوں کو جھارنے لگی.
اسے اس تنگ جگہ پہ دم گھٹتا محسوس ہو رہا تھا.
وہ دوبارہ دروازہ پیٹنے لگی.
نکالو مجھے یہاں سے پلیز میرا دم گھٹ رہا ہے.
وہ چیخ رہی تھی.
خون بہنا بند ہو گیا تھا لیکن اس کا چہرہ درد کر رہا تھا.
جب کسی نے اس کی فریاد نا سنی تو وہ ہاتھ سے دروازہ محسوس کرنے لگی.
دروازہ کو ایک ناب لگی تھی وہ اسے کھینچنے لگی.
لیکن ناب اس کے ہاتھ میں آ گئی.
عشال نے ناب کے کیل کا ناخنوں سے پکڑ کر کھینچنا شروع کر دیا.
اس کا ایک ناخن اکڑ گیا اور وہ درد کراہنے لگی.
اس پر بیہوشی طاری ہونے لگی.
نازرشاہ… نازرشاہ کہاں ہو تم پلیز مجھے نکالو یہاں سے.
نازرشاہ جیسے ہی کراچی پہنچا اس نے کچھ جان پہچان کے لوگوں سے بات کرتا شروع کی لیکن آج دوسرے دن بھی اس کے ہاتھ کچھ نہیں لگا تھا.
بگ بوس شہباز اس کے خلاف ہو چکا تھا کیونکہ اس نے مراد کا قتل کیا تھا.
وہ اس وقت دشمنوں کے گڑھ میں موجود تھا.
آج رات وہ ایک ادمی سے ملنے والا تھا اس کا پتا اسے کسی نے دیا تھا.
اسے امید تھی کہ یہاں سے وہ کوئی انفارمیشن حاصل کر پائے گا.
نازرشاہ جب اس کے بتائے ہوئے پتے پر پہنچا تو وہ ایک دم سنسان علاقہ تھا.
اسے دور دور تک کوئی دکھائی نہیں دے رہا تھا.
وہ جگہ سمندر کے قریب تھی وہ لہروں کی آوازیں سن سکتا تھا.
اسے اپنے پیچھے سے کوئی گزرتا ہوا محسوس ہوا.
نازرشاہ گن نکال کر فورأ پلٹا پر وہاں کوئی نہیں تھا.
Episode 18
وہ دوبارہ پلٹا تو اسے ایک شخص دیکھائی دیا.
وہ اس کی طرف بڑھنے لگا.
کون ہو تم؟
مجھے علی نے بھیجا ہے اس نے کہا کہ تم میری مدد کر سکتے ہو.
میں نے پوچھا کون ہو تم؟
نازرشاہ.
وہی نازرشاہ جس نے مراد کا قتل کیا. اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا.
نازرشاہ کچھ بھی نا بولا.
مجھے تمہاری مدد چاہئیے.
تمہیں یہاں نہیں آنا چاہئیے تھا نازرشاہ.
نازرشاہ کو کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی.
وہ فورأ پلٹا .
اور اس پر بندوق تان دی.
کون ہو تم سامنے آؤ ؟
وہ جس سے باتیں کر رہا تھا اب وہ اس کے پیچھے کھڑا تھا.
اندھیرے کا فائیدہ اٹھاتے ہوئے اس نے نازرشاہ کے سر پر زور سے وار کیا اور وہ بیہوش ہو گیا.
‏_________
نازرشاہ جب ہوش میں آیا تو اس کے سر میں شدت سے درد ہو رہی تھی.
اس نے سر پکڑنا چاہا پر اس کے ہاتھ نہیں ہلے.
وہ ایک کرسی پر بندھا ہوا تھا.
اس نے اپنے اطراف کا جائزہ لیا تو وہ جگہ کافی صاف ستھری تھی.
اس کے سامنے ایک بڑا سا ٹیبل تھا جس پر ایک شخص بیٹھا ہوا تھا.
وہ تقریبا مراد کی عمر کا تھا. اور سگھار پی رہا تھا.
نازرشاہ نے خود کو چھڑانا چاہا پر بےسود.
اس کے ہاتھوں کو کرسی کے پیچھے مضبوطی سے باندھا گیا تھا.
تمہیں لگا تم میرے شہر میں داخل ہو جاؤ گے اور مجھے پتا بھی نہیں لگے گا.
وہ وہاں سے باہر نکلنے کا راستہ ڈھونڈ رہا تھا.
وہاں صرف ایک دروازہ تھا.
میں نے کچھ سوال کیا ہے.
سامنے والے نے پرسکون لہجے سے پوچھا.
اس کا جواب اس بات پہ منحصر کرتا ہے کہ تم کون ہو.
نازرشاہ نے جواب دینے کی جگہ اپنا سوال رکھا تھا.
تمہاری ہمت کی داد دیتا ہوں میرے آدمی کو مار کر میرے شہر میں داخل ہو گئے.
اوہ تو تم ہو بدنام بگ باس شہباز…
نازرشاہ نے پہلے بھی کئی بار ایسی صورتحال کا سامنا کیا تھا.
پر اس بار سامنے والے کا پلڑا بھاری تھا جس سے وہ پریشان ہونے لگا.
ویسے تو اگر کوئی اور ہوتا تو ملک چھوڑ کر بھاگ جاتا لیکن تم الٹا میرے شہر میں آ گئے.
جس نے مجھے تجسس کا شکار کر دیا.
اب تم خود بولو گے یا میں بلواوں.
نازرشاہ کو یہ سننے کی امید نہیں تھی.
اس کا مطلب عشال کے اغواء کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتا تھا.
مطلب مراد نے اسے کسی اور کے پاس پہنچایا تھا.
وہ عشال کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا جب مقابل نے گن نکال کر نازرشاہ کی پیشانی پہ رکھ دی.
مجھے دیری پسند نہیں.
________
اس سے پہلے کہ نازرشاہ کچھ کہ پاتا اس کے پیچھے سے کسی کی آواز آئی.
وہ کب اندر آیا ان دونوں کو پتا نہیں لگا. اس لئے وہ دونوں چونک گئے.
نازرشاہ کے ساتھ کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ کوئی دبے پیروں اس تک پہنچ جائے.
وہ تو رات میں بادشاہی کرتا تھا تو یہ کون تھا جس کی آہٹ اسے محسوس نہیں ہوئی تھی.
اور اس سے بھی بڑی بات یہ دوست تھا یا دشمن.
بندوق نیچے کر دو اولڈ مین.
وہ شہباز سے مخاطب تھا.
اس کے نازرشاہ کو اپنے پیچھے سے لائیٹر جلانے کی آواز آئی.
شہباز اس نئے شخص کو گھور رہا تھا.
نازرشاہ کے پیچھے ہونے کی وجہ سے وہ نہیں دیکھ پا رہا تھا کہ وہ کون ہے.
تم یہاں کیا کر رہے ہو… شہباز اس سے پوچھنے لگا.
گن … نیچے… کرو
سہولت سے کہا گیا.
نازرشاہ اب اسے کش لیتے ہوئے سن سکتا تھا.
شہباز دانت پیستے ہوئے اسے دیکھنے لگا اور گن کو اس کی پیشانی سے ہٹا دیا.
کسی نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ آزاد کر دیئے .
نازرشاہ فورأ اٹھ کھڑا ہوا اور پلٹنے لگا.
آخر کون تھا وہ شخص جو بگ بوس شہباز پہ حکم چلا رہا تھا.
اس کے سامنے ایک دراز قد وجیہہ انسان کھڑا تھا.
وہ 288 سال سے ایک دن بھی اوپر نہیں لگ رہا تھا.
لیکن جس بات نے نازرشاہ کو حیران کیا تھا .
وہ کی پرسنیلٹی تھی.
جرم کی دنیا میں ہر کوئی خود کو چھپا کر رکھتا ہے خود پہ ایک جھوٹا لبادہ اوڑھے رکھتا ہے.
لیکن وہ شخص ایسا نہیں تھا. وہ اپنی درندگی کو فخریہ پیش کرنے والا شخص تھا.
مراد نے نازرشاہ سے ایک بار کہا تھا کہ اصل طاقتور شخص پردہ کے پیچھے سے نہیں بلکہ سامنے سے حملہ کرتا ہے.
کیونکہ اسے کسی بات کا خوف نہیں ہوتا .
دراصل وہ خود ہی خوف ہوتا ہے.
اور ایسے شخص سے ہمیشہ بچ کر رہنا چاہئیے.
نازرشاہ اس کا نام پوچھتا اس سے پہلے وہ اسے پیچھے آنے کا اشارہ کرتے چلا گیا.
_________
وہ سگریٹ کے کش لگاتا ہوا جا رہا تھا جیسے یہ اس کی جاگیر ہو.
نازرشاہ نے پلٹ کر شہباز کو دیکھا جس کی آنکھیں غصے سے سرخ ہو رہی تھیں.
لیکن اس کی نفرت کا مرکز نازرشاہ نہیں تھا.
بلکہ وہ اس نوجوان کو دیکھ رہا تھا.
باہر کا منطر دیکھ کر وہ ایک دم رک گیا.
وہاں کئی لوگ موجود تھے جو کہ گارڈز لگ رہے تھے.
وہ گارڈز اس نوجوان کے تھے یا شہباز کے وہ نہیں جانتا تھا.
وہ اسے سکون سے اس ویلا سے لے کر باہر آ گیا.
وہاں ایک ایس.یو.وی کے پاس کوئی شخص کھڑا تھا جو انہیں دیکھ کر ان کی طرف آ گیا.
نازرشاہ شدت سے جاننا چاہتا تھا کہ وہ کون ہے اور اس کی مدد کیوں کی.
نازرشاہ… تم یہاں کراچی میں کیا کر رہے ہو؟
تم کیسے جانتے ہو مجھے. اور میری مدد کیوں گی.
وہ جو کوئی بھی تھا لیکن نازرشاہ کو نہیں ڈرا سکتا تھا.
اس کی بات سے مسکرا دیا.
میں تمہارے بارے میں بہت کچھ جانتا ہوں. اور تمہاری مدد نہیں کی میں نے . میں تو بس اولڈ مین کو زچ کرنا چاہتا تھا.
چلو اب سوال کی طرف آتے ہیں تم یہاں کیوں ہو.
نازرشاہ اندازہ نہیں کر پا رہا تھا کہ وہ مددگار ہے یا دشمن.
اگر عشال اس کے پاس تھی تو وہ اسے خبردار نہیں کرنا چاہتا تھا.
میں یہاں ‏Beast‏ سے ملنے آیا ہوں.
نازرشاہ نے جھوٹ سے کام لیا.
اس کی بات سے سامنے والے کے تیور بدل گئے اور وہ ابرو اچکا کر پوچھنے لگا.
_________
بھلا اس سے تمہیں کیا کام.
یہ تو میں اسے ہی بتاؤں گا . کیا تم اسے جانتے ہو؟
نہیں… میں نہیں جانتا.
تم ابھی جا سکتے ہو نازرشاہ.
نازرشاہ کو اس انسان کی کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی.
پہلے اس نے اسے بچایا اور اب بنا مطلب اور تفتیش کے جانے دے رہا تھا.
نازرشاہ کو اس سے خطرہ محسوس ہونے لگا. وہ ضرور اس سے اس کا مطلب اگلواتا لیکن ابھی اسے بس عشال تک پہنچنا تھا.
اور جب تک وہ اس کے راستے کا پتھر نا بنتا تب تک اسے اس سے کوئی مطلب نہیں تھا.
اس لئے وہاں سے چلا گیا. عشال کو ڈھونڈنے کے لئے اب اسے اپنا طریقہ بدلنے کی ضرورت تھی.
_______
اسے ‏beast‏ سے کیا کام ہو سکتا ہے.
احتشام کو تجسس ہونے لگا تھا.
وہ جھوٹ بول رہا ہے.
نئی سگریٹ جلاتے ہوئے اس نے احتشام کا جواب دیا.
وہ یہاں کسی اور مقصد سے آیا ہے.
کیسا مقصد ھاد.
اس نے مراد کو قتل کیا. جب کہ وہ اس کا وفادار تھا. اور پھر یہاں آ گیا جبکہ اس کی بیوی غائب ہے.
تمہیں یہ کیسے پتا؟
یہ اہم نہیں. . . تم میرے وفادار ہو تم بتاؤ آخر اتنے سالوں بعد تم مجھے کیوں قتل کرو گے؟
اس کے لئے کوئی بڑی وجہ ہونی چاہئیے ھاد.
صحیح کہا تم نے. اور میں شرط لگا سکتا ہوں کہ وہ وجہ اس کی بیوی ہے.
کیا مراد نے اس کی بیوی کا قتل کیا؟
نہیں قتل کیا ہوتا تو وہ اس وقت مراد کی ہر پیاری چیز کو تباہ کر رہا ہوتا.
جبکہ وہ یہاں ہے. کیونکہ اس کی بیوی بھی یہاں ہے.
ھاد نے ہتمی انداز میں کہا.
اوہ شٹ…. اس کا مطلب وہ انسانی سمگلنگ کا شکار ہو چکی ہے.
ہاں افسوس کے ساتھ… وہ کندھے اچکاتا گاڑی میں بیٹھ گیا اور احتشام بھی اس کے پیچھے آ گیا.
احتشام… مجھے نازرشاہ کی بیوی کے بارے میں تمام تفصیل کل تک چاہئیے.
اوکے بوس.
عشال دو دن سے بھوکی پیاسی اس جگہ پر قید تھی.
اس پر ہوا کی کمی کے باعس نیم بیہوشی طاری تھی.
کسی کے قدموں کی آہٹ سن کر اس نے دروازہ ہلانا چاہا جب وہ دروازہ کسی نے کھول دیا اور وہ اس کے قدموں میں جا گری.
لگتا ہے کہ عقل ٹھکانے آ گئی تمہاری وہی شخص خباثت سے اسے دیکھ رہا تھا.
عشال نے خود کو سمبھالنا چاہا جب اس نے دونوں بازوں سے پکڑ کر اسے کھڑا کر دیا.
بھوک اور پیاس سے وہ نڈھال ہو چکی تھی. کوشش کے باوجود خود کو چھڑا نا پائی.
وہ اسے بازو سے کھینچنے لگا اور جب عشال اس کی رفتار سے نا چل پائی تو وہ گر گئی.
_______
وہ اسے گھسیٹتا ہوا ہال میں لے گیا .
ہال میں مختلف جگہوں پر گنز لے چار شخص کھڑے تھے.
اور درمیان میں گٹھنوں کے بل سخت فرش پر کئی لوگ بیٹھے تھے.
وہ سب ھر جھکا کر ہاتھ کمر کے پیچھے باندھے ایک لائن میں تھے.
عشال ان میں سے کچھ لڑکیوں کو پہچان چکی تھی.
وہ اس ساتھ شکار ہونے والی دوسری لڑکیاں تھیں.
عشال کے علاوہ وہاں پر چھ لڑکیاں اور دو لڑکے ان کے شکار تھے.
وہ اسے کھینچتا ہوا ان سب کے پاس لے گی.
پھر وہ عشال کو انہی کی طرح بیٹھنے کا حکم دینے لگا.
عشال اس کے منہ پر دوبار تھوک دینا چاہتی تھی لیکن اس وقت وہ اتنی قوت نہیں رکھتی تھی.
اس کے چہرے اور کپڑوں پر ابھی بھی خون جما ہوا تھا.
عشال بمشکل ان کی طرح بیٹھ گئی. اسے ایسے بیٹھنے کی عادت نہیں تھی.
فرش گٹھنوں میں چبھنے لگا تھا اور ہڈیاں درد کرنے لگیں.
چلو میں تم لوگوں پہ کچھ باتیں واضح کر دوں.
وہ ان سب کے پیچھے چکر لگاتا بولنے لگا.
اب تم سب میری ملکیت ہوں اور جب تک یہاں ہو میری مرضی کے مطابق رہو گے.
میں تم سب کو ایک اچھا غلام بننے کے طریقے سکھاوں گا.
یہ کہ کر وہ قہقہہ لگانے لگا.
عشال کو لگا جیسے اس پر منوں پانی انڈیلا ہو.
غلام…. یہ وہ کہاں پھس چکی تھی.
اس کی آنکھیں نم ہو گئیں.
اسے ابھی بھی لگ رہا تھا کہ یہ خواب ہے اور جلد ٹوٹ جائے گا.
تم لوگ مجھے سر کہ کر مخاطب کرو گے.
جنتی جلدی سیکھوں گے اور ہر بات مانو گے تو تمہارے لئے ہی آسانی ہو گی.
اگر نہیں مانو گے تو سزا ملے گی.
عشال کے سر پہ کھڑا ہو کر کہا گیا.
دو مہینے بعد تم سب کی نیلامی کی جائے گی اور تم اپنے اصلی مالک کے پاس پہنچ جاؤ گے.
خوش قسمت ہوئے تو کوئی گورا لے اڑے گا.
ورنہ کسی بازار پہنچ جاؤ گے.
وہاں پر کئی لڑکیاں عشال کی طرح سسکیاں بھر رہی تھیں.
ان سب نے بھی اس کی طرح کئی خواب دیکھے ہوں گے تو پھر یہ کیسی تعبیر ملی تھی.
عشال کے کا جسم سن پڑ چکا تھا. اس رسوائی سے بہتر تو اس کی موت تھی.
اسے ایسے نہیں جینا تھا. وہ مر جانا چاہتی تھی.
وہ شخص اور بھی بہت کچھ کہ رہا تھالیکن کچھ بھی اس کی سماعت تک نہیں پہنچ رہا تھا.
وہ اپنی جگہ سے لڑ کھڑاتئ کھڑی ہو گئی.
میں نہیں کروں گی یہ سب کبھی نہیں کسی صورت نہیں.
تم مجھے مار سکتے ہو لیکن مجھے اپنا غلام نہیں بنا سکتے.
عشال کے ساتھی اسے خوفزدہ نظروں سے دیکھ رہے تھے.
_______
وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اس کے سامنے آ کھڑا ہوا.
عشال اسے خونریز نظروں سے دیکھ رہی تھی.
اس نے ہاتھ اٹھا کر اس کا گلا دبوچ لگا.
عشال کو سانس بند ہوتی ہوئی محسوس ہوئی.
اگر اس کی موت یہیں ایسے ہی لکھی تھی تو اسے قبول تھی لیکن وہ بدلے میں سامنے والے کو بھی درد دے کر مرنا چاہتی تھی.
عشال نے دونوں ہاتھ سے اس کی بازو اور چہرے کو نوچنا شروع کر دیا.
اس نے عشال کو پرے دھکیل دیا جس سے وہ فرش پر گری . اس کی سانس اٹک گئی تھی.
اس شخص سے اپنی پاکٹ سے گن نکالی اور عشال کی ٹانگ میں گولی مار دی.
ایک دم اس کی ٹانگ میں شدت سے درد اٹھا تھا اور بڑھنے لگا.
عشال چیخنے لگی اور اپنئ ٹانگ کو پکڑ لیا.
اس میں سے بے پناہ خون نکل رہا تھا.
وہ درد سے چلا رہی تھی.
جب کامران نے اس کی ٹانگ پر اپنا پاؤں رکھ دیا اور اسے مسلنے لگا.
پہلے سے ہی اسے بہت تکلیف تھی لیکن اب اس کے ایسا کرنے سے وہ کئی گنا بڑھ گئی.
گولی اس کی پنڈلی سے سے ہوتی ہوئی دوسری طرف سے نکل گئی تھی.
عشال درد کے مارے مزید رونے لگی.
پلیز چھوڑ دو پلیز…
باقی سب بھی یہ منظر دیکھ رہے تھے لیکن کوئی اس کی مدد کو نا آیا.
پلیز چھوڑ دو….. مت کرووووو.
تت تم جو کہو گے میں کروں گی پلیز….
اسے بس اس تکلیف سے ازادی چاہئیے تھی.
وہ مسکرانے لگا اور اپنا پاؤں ہٹا لیا.
عشال ہاتھوں سے خون روکنے لگی.
وہاں کھڑا ایک گارڈ اس کے قریب آیا اور اسے کندھے پہ ڈال لیا.
وہ اسے ایک اندھیرے کمرے میں لے گیا جہاں زمین پر کئی گدے پڑے تھے.
اس نے اسے ایک گدے پہ پھنک دیا.
عشال کے لئے سانس لینا مشکل ہو رہا تھا.
وہ وہاں سے چلا گیا اور کچھ دیر بعد واپس آ گیا.
اس کے ہاتھ میں چاقو تھا جسے دیکھ کر وہ مزید دہشت زدہ ہو گئی.
اس نے عشال کی ٹانگ کو مضبوطی سے پکڑا اور زخم پر ایک کپڑا باندھ دیا.
عشال اس کے ہاتھ میں پکڑا چاقو دیکھ کر اتنا خوفزدہ ہوئی کہ کچھ کہ نا پائی.
احتشام اس وقت ھاد کے گھر آیا تھا.
کیا تم نے میرا کام کیا؟
احتشام اس کے بچپن کا دوست تھا. اصل میں وہ اس کا واحد دوست تھا وہ اس کے علاوہ کسی پہ بھروسہ نہیں کرتا تھا.
لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک بہترین ہیکر تھا.
ہاں کر چکا.
اس لڑکی کے ماں باپ کا قتل ہو چکا ہے. اور میرے حساب سے قاتل نازرشاہ ہی ہے .
ہممم… آگے بولو.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *