Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui NovelR50713 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 20
Rate this Novel
Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 01 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 02 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 03 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 04 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 05,06 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 07 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 08 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 09 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 10 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 11,12 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 13 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 14 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 15 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 16 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 17,18 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 19 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 20 (Watching)Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 21 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 22 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Last Episode
Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 20
ﻭﮦ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﯿﺴﮯ
ﺍﺳﮯ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﺑﮭﯽ ﻧﺎ ﮨﻮ.
ﮐﯿﺎ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺘﺎ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﮐﮯ
ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﺍﻭﻧﭽﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ.
ﻧﺎﺯﺭﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﻮ ﺩﺑﻮﭼﺘﮯ
ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ.
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ
ﺗﮭﮯ.
ﺁﺧﺮ ﮐﺘﻨﮯ ﺭﻭﭖ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ.
ﻋﺸﺎﻝ ﻧﮯ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺟﮭﮑﺎ ﻟﯿﮟ.
ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﮑﮍ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮ
ﺩﯾﺎ.
ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﺑﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ
ﺗﮭﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺫﮨﻦ ﻧﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﺎ
ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ.
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﺍﻭﺭ ﺩﻣﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﮓ ﭼﻞ
ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ. ﺩﻝ ﻣﺎﻧﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﻭﮨﺎﮞ
ﺳﮯ ﻟﮯ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻣﺎﻍ ﺗﻮ ﮐﺐ ﺳﮯ
ﺯﮨﺮﺍﻟﻮﺩ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ.
ﻧﺎﺯﺭﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﺑﺲ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻞ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ
ﺳﺐ ﮐﻮ ﺟﺎﻥ ﺳﮯ ﻣﺎﺭ ﺩﮮ.
ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﺸﺎﻝ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﺣﺎﻝ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ
ﺗﮭﺎ.
ﻧﺎﺯﺭﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺑﻠﮑﻞ ﺑﮭﯽ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﻧﮩﯿﮟ
ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﺮ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﺮ ﮐﻮﺋﯽ
ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﻟﺒﺎﺱ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ.
ﺟﺐ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﻨﺪﮬﮯ ﭘﺮ
ﮨﺎﺗﮫ ﺭﮐﮭﺎ ﻭﮦ ﺗﻮ ﺍﺱ ﭨﮑﮍﮮ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﺎ
ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ.
ﻭﮨﺎﮞ ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻋﺸﺎﻝ ﮐﮯ
ﻟﺌﮯ ﮨﻤﺪﺭﺩﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮐﮭﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ.
ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺭﻭﮎ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﯾﺎ
ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﺧﺴﺎﺭ ﮐﻮ ﭼﮭﻮ ﻟﯿﺎ.
ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ
ﺍﺳﮯ ﻟﮯ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ.
ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮔﺮ ﻋﺸﺎﻝ ﻧﮯ ﻇﺎﮨﺮ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ
ﺍﺳﮯ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﯾﮩﺎﮞ
ﺳﮯ ﺯﻧﺪﮦ ﻧﺎ ﻧﮑﻞ ﭘﺎﺗﮯ.
ﺍﺱ ﭘﻠﯿﻦ ﮐﯽ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﭘﮧ
ﻣﻨﺤﺼﺮ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ.
ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭧ ﺧﺸﮏ ﺗﮭﮯ ﻭﮦ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ
ﺍﭘﻨﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﺯﺑﺎﻥ ﭘﮭﯿﺮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ.
ﺗﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﺗﺮ ﺭﮨﯿﮟ.
ﻭﮦ ﺍﻥ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﺪﻟﮧ ﻟﯿﺘﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺑﮭﯽ
ﻭﮦ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﺗﮭﺎ. ﯾﮩﺎﮞ ﮐﯽ ﺳﯿﮑﯿﻮﺭﭨﯽ
ﺳﺨﺖ ﺗﮭﯽ.
ﺍﺳﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻟﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﻢ ﺍﺯ ﮐﻢ
ﻧﺎﺯﺭﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺳﻮ ﺳﮯ ﺯﺍﺋﺪ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﭘﮍﺗﯽ.
ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻋﺸﺎﻝ ﮐﻮ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻟﻨﮯ ﮐﺎ
ﺁﺳﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﯾﮩﯽ ﺗﮭﺎ
ﮐﮧ ﻭﮦ ﻋﺸﺎﻝ ﮐﺎ ﺧﺮﯾﺪﺍﺭ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ
ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﻟﯿﺠﺎﺋﮯ.
ﻧﺎﺯﺭﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮨﯽ ﭨﯿﺒﻞ ﭘﺮ ﻣﺸﺮﻭﺏ
ﺭﮐﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ.
ﮐﺎﻣﺮﺍﻥ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺑﻮﻝ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﺎﻣﺮﺍﻥ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺑﻮﻝ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ
ﺍﺏ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻦ ﺭﮨﺎ
ﺗﮭﺎ.
ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺸﺮﻭﺏ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺑﺮﻑ ﮐﺎ
ﭼﮭﻮﭨﺎ ﭨﮑﮍﺍ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ
ﭘﮧ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ.
ﻋﺸﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ ﭼﻮﻧﮏ ﮔﺌﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ
ﺧﻮﺩ ﺑﺨﻮﺩ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺱ
ﭨﮑﮍﮮ ﮐﻮ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ.
ﺍﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﺌﮯ ﺩﻭ ﺩﻥ ﮨﻮ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯـ
ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﮩﺮﺑﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ
ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ
ﺗﮭﮯ.
ﻭﮦ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ
ﺗﮭﺎ.
ﻋﺸﺎﻝ ﮐﺎ ﺑﺲ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻞ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ
ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﭘﮑﮍ ﻟﮯ
ﺍﺱ ﺳﮯ ﻓﺮﯾﺎﺩ ﮐﺮﮮ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﺑﮭﯽ
ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ ﺟﺎﺋﮯ
ﻟﯿﮑﻦ
________
نازرشاہ ایسے نہیں جا سکتا تھا.
وہ ایک دم پلٹا اور عشال کو اس کی گردن کی پشت سے تھام کر اپنے قریب کر لیا.
اس کی آنکھوں میں موجود غضب وہ بخوبی پہچانتی تھی.
وہ اسے اونچی آواز میں کہنے لگا.
میں تمہیں لینے جلد ہی آؤں گا لڑکی بہتر ہو گا تمہارے لئے کہ تم کوئی بےوقوفی نا کرو مجھے یہاں سے کسی سے بھی تمہاری شکایت نہیں چاہئیے.
یہ کہتا ہوا وہ اسے چھوڑ کر دوبارہ سیدھا ہو گیا.
وہ عشال کو جو سمجھانا چاہتا تھا امید تھی کہ وہ سمجھ گئی ہو گی.
کامران اسے کھوجتی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا تھا.
وہ اس سے ہاتھ ملاتا چلا گیا.
گیٹ پر پہنچ کر اس کی آنکھوں پہ دوبارہ پٹی باندھ دی گئی اور اسے وین میں بٹھا دیا گیا.
تاکہ کوئی بھی اس جگہ کی لوکیشن نا جان پائے.
عشال اس کی بات بخوبی سمجھ گئی تھی وہ اسے یہاں سے چھڑوانے ہی آیا تھا.
اسے بس اب تھوڑا انتظار اور کرنا تھا.
اس دن کے بعد سے اس کو مارنے کا سلسلہ ختم ہو گیا اور اسے دن میں دو وقت کھانا ملنے لگا.
کیونکہ اس کا سودا ہو چکا تھا اور انہیں موٹی رقم مل رہی تھی.
کیا اس لڑکی نے منہ کھولا؟
ہاں وہ کچھ نہیں جانتی.
تمہیں یقین ہے ؟
بلکل. رباط بتا رہا تھا وہ لڑکی عشال اس کی دوست تھی لیکن وہ اس کی پرسنل زندگی کے بارے میں کچھ نہیں جانتی.
اگر میں اس وقت یہاں مصروف نا ہوتا تو مجھے صرف ایک نظر دیکھنے کی ضرورت تھی اور وہ لڑکی فورأ بولتی.
احتشام اس کی بات پہ مسکرانے لگا.
تمہیں رباط کو اتنا ہلکا بھی نہیں لینا چاہئیے.
لکھ لو میری بات تم احتشام اس لڑکے میں تمہاری ایک فیصد بھی ذہانت نہیں.
اگر ایک فیصد بھی ہوتی تو اسے اتنا وقت نا لگتا.
تم اس معاملے کو بعد میں دیکھ لینا ابھی ہم اپنے مقصد کے بہت قریب ہیں.
صحیح کہا تم نے اور جب وہ لوگ میرے ہاتھ آئیں گے تو ان کی نسلیں بھی ھاد مرزا کے نام سے کانپیں گی.
ان کی وین اسے لینے آئی تھی.
اسی طرح سے اس کی تلاشی لے کر آنکھوں پہ پٹی باندھ دی گئی اور وین میں بٹھا دیا گیا.
جب وہ وہاں پہنچا تو وہاں جشن کا سماں تھا.
ان کے کچھ اور کلائنٹ بھی موجود تھے.
لڑکیاں نازیبا لباس میں ناچ رہی تھی. لیکن شکر تھا کہ عشال ان میں شامل نہیں تھی.
کامران اسے ایک بڑے ٹیبل کی طرف لے گیا.
وہاں مختلف قسم کے کھانے رکھے گئے تھے.
اس کا تعارف مختلف لوگوں سے کرایا گیا.
__________
اسے ان سب سے کوئی واسطہ نہیں تھا. لیکن خود پہ قابو رکھنا بھی ضروری تھا.
ان بیچاری لڑکیوں کو جانوروں کی طرح کوئی اپنے پاس کھینچتا تو کوئی اپنے پاس.
ان کی آنکھوں میں کبھی بستے خواب ختم ہو چکے تھے.
وہ اب بس موت کی خواہش مند تھیں.
نازرشاہ چاہ کے بھی کچھ نہیں کر سکتا تھا یا شاید وہ کرنا ہی نہیں چاہتا تھا.
اس کی زندگی صرف عشال کے گرد گھومتی تھی.
کچھ دیر میں اسے عشال ہال کے ایک دروازے سے اندر آتی ہوئی دکھائی دی.
اس کے ساتھ وہی شخص تھا جو پچھلی بار اسے لایا تھا.
وہ نظریں جھکائے قدم اٹھاتی اس کے پاس آ رہی تھی.
اسے نازرشاہ کی کرسی کے پاس گٹھنوں کے بل بٹھا دیا گیا.
اور وہ سرک کے اس کے مزید قریب ہو گئی.
اسی طرح سے ایک اور لڑکی کو اس کے سامنے بیٹھے شخص کے پاس بٹھا دیا گیا.
وہ اپنی سسکیاں روکنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی.
وہاں پر ساتھ رہ کر وہ سب بہنوں کی طرح ہر چکی تھیں.
ان کا دکھ سانجھا تھا.
عشال کو اس کے لئے افسوس تھا.
نازرشاہ نے سامنے رکھی ڈش سے پھل کا ٹکڑا اٹھایا اور اسے عشال کے سامنے کر دیا.
اس نے آگے بڑھ کر وہ نگل لیا.
وہ نازرشاہ کو باتیں کرتے سن سکتی تھی.
وہ اسے وقفے وقفے سے کچھ کھلاتا اور پھر پانی پلاتا.
آج کے بات یہ دونوں تم دونوں کی ہیں.تو کیوں نا جاتے جاتے ان کا رقص ہی دیکھ لیا جائے.
کامران کیسے پیچھے رہتا.
عشال نے اس کی بات سن کر ایک دم نازرشاہ کا پاؤں پکڑ لیا.
وہ ایسا نہیں چاہتی تھی.
نازرشاہ نے اس کی حالت میں تبدیلی فورأ نوٹ کی تھی اس لئے اس کے سر پہ ہاتھ رکھ دیا
اور اس کے بال سہلانے لگا.
میں اپنے تمام میٹرز پرائیویٹ رکھنا پسند کرتا ہوں.
اس کا انداز فیصلہ کن تھا.
عشال کو اس کی بات سے کافی حوصلہ ملا.
وہاں اے.سی کی خنکی میں اسے سردی لگ رہی تھی.
اس لئے وہ ایک دم کپکپائی تھی.
نازرشاہ نے اس کا رخسار اپنی ٹانگ پہ ٹکا دیا.
وہ سب وہاں اپنی اپنی باتوں میں مصروف تھے جبکہ وہ وہاں سے جلدازجلد نکلنا چاہتا تھا.
نجانے کامران اسے کب تک وہاں روکے رکھتا.
ایک دم باہر زور دار دھماکہ ہوا تھا.
ہال میں کچھ لمحوں کے لئے سناٹا پھیل گیا.
کچھ دیر بار فائرنگ کی آواز آنے لگی.
لوگوں میں افراتفری پھیل گئی.
عشال بھی سہم کر اس سے چپک گئی تھی.
اس کے پاس کوئی ہتھیار بھی نہیں تھا.
________
ہال کے اندر موجود گارڈز باقی گارڈز کے ساتھ باہر کی طرف بھاگ رہے تھے.
صاف ظاہر تھا کہ ان پہ حملہ ہوا ہے.
کامران اپنے مہمانوں کو سکون سے رہنے کا کہ رہا تھا.
لیکن وہاں دھکم پیل شروع ہو چکی تھی.
ہر کوئی وہاں سے نکلنا چاہتا تھا.
نازرشاہ بھی عشال کو گلے سے لگائے کھڑا تھا.
وہ بری کانپ رہی تھی.
گولیوں کی آواز ہال کے قریب آتی جا رہی تھی.
وہ یہاں سے نکلنے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں جانتا تھا.
اور ایسے میں وہ عشال کو باہر بھی نہیں لے جا سکتا تھا.
لیکن ان دونوں کو جلد از جلد وہاں سے نکلنا تھا.
اس نے عشال کو دونوں کندھوں سے تھام لیا.
عشال میری بات سنو مجھے یہاں سے نکلنے کا راستہ دیکھنا ہو گا اور تم تب تک میرا یہیں انتظار کرو گی.
نن… نہیں میں آپ کے بغیر کہیں نہیں رہوں گی.
عشال کی آنکھوں میں پاگل پن تھا. وہ دوبارہ کسی صورت اس سے الگ نہیں ہو سکتی تھی.
عشال سمجھو ہمارے پاس وقت نہیں.
میں وعدہ کرتا ہوں تمہیں لینے آؤں گا.
وہ عشال کو ٹیبل کے نیچے چھپنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا.
وہ پلٹ کر جانے لگا جب عشال نے اس کی بازو پکڑ لی.
نہیں جاؤ پلیز نازرشاہ مجھے چھوڑ کے مت جاؤ پلیز پلئز پلیز.
وہ روتے لوئے گڑ گرانے لگی تھی.
وہ اس نے زبردستی خود کو چھڑانے لگا.
اور دونوں ہاتھوں سے اس کا چہرہ مضبوطی سے تھام لیا.
ایک بات یاد رکھو تم جہاں بھی ہو گی میں ہمیشہ تمہیں وہاں لینے آؤں گا.
وہ اس کے سر کو چومتے ہوئے ہال کے دروازے کی طرف چلا گیا.
عشال بار بار اس کا نام پکار رہی تھی لیکن اس نے ایک بار بھی پلٹ کر نا دیکھا.
ان کی بےقراری کو وہاں موجود کامران نے بخوبی دیکھا تھا.
نازرشاہ جب ہال سے باہر نکلا تو وہاں ہر طرف سے فائرنگ
_________
فائرنگ ہو رہی تھی.
ان پر حملہ کرنے والے نا تو پولیس تھی نا ہی رینجرز.
وہ لوگ کالے رنگ کے کپڑوں میں ملبوس تھے.
اور اسی رنگ کے نقاب پہن رکھے تھے.
کپڑوں کے اوپر بولٹ پروو جیکٹس اوڑھ رکھی تھیں.
وہ لوگ مکمل تیاری سے آئے تھے اور AK47 سے حملہ کر رہے تھے.
کامران اے آدمی کسی صورت بھی زیادہ دیر ان کے آگے ٹک نہیں پاتے.
اس نے فائرنگ کرتے ایک گارڈ کی ٹانگ پر لات ماری جس سے وہ زمین پہ گر گیا
اور گن پر اس کی پکڑ ڈھیلی پڑ گئی.
نازرشاہ اس پر مکوں سے وار کرنے لگا.
جواب میں اس نے بھی اس کے پیٹ میں زوردار مکا مارا.
لیکن وہ جلد ہی سنبھل گیا.
نازرشاہ نے اس کے چہرے کو نشانہ بنایا تھا.
وہ جلد ہی بیہوش ہو گیا.
وہ اس کی گن تھامے کوئی اور راستہ ڈھونڈے لگا.
ایسئ جگہوں پہ فرار کے کئی راستے بنائے جاتے ہیں اور اسے انہی میں سے ایک کی تلاش تھی.
عشال نازرشاہ کے کہے مطابق ٹیبل کے نیچے چھپی تھی.
وہاں وہ دوسری لڑکی بھی چھپی بیٹھی تھی.
اچانک کسی نے اس کا پاؤں پکڑا اور گھسیٹ کر ٹیبل کے نیچے سے نکال لیا.
وہ دیکھ پاتی کہ کون ہے اس سے پہلے اس نے عشال کو سر پر زور سے وار کیا اور وہ بیہوش ہو گئی.
جلدی کرو اٹھاؤ اسے.
کامران اپنے گارڈ کو کہ رہا تھا.
چلو یہاں سے. جلدی.
وہ دونوں کامران کے آفس کی طرف بڑھنے لگے.
اس کے گارڈ نے عشال کو کندھے پر اٹھایا ہوا تھا.
وہ دونوں آفس میں موجود خفیہ راستے سے نکلنے والے تھے جب کامران کو کسی نے واپس کھینچا تھا.
اس کے گارڈ نے پلٹ کر دیکھنے کی بھی زحمت نہیں کی اور اپنی جان بچاتا عشال کو لئے بھاگ کھڑا ہوا.
کسی نے کامران کے منہ پر زوردار مکا مارا تھا.
اور اس کے دو دانت ٹوٹ کر منہ سے نکل آئے تھے.
کک کون… ہو ت؟
تمہاری دردناک موت.
ھاد نے چہرے سے نقات اتارتے ہوئے کہا.
نازرشاہ کو وہاں سے نکلنے کا راستہ مل گیا تھا.
وہ واپس ہال کی طرف جا رہا تھا.
جب وہ ان لوگوں پر حملہ کرنے والوں میں سے ایک کے مقابل آ گیا.
نازرشاہ اس پر فائر کرتا اس سے پہلے اس نے اپنا نقاب اتار دیا.
تم یہاں کیا کر رہے ہو؟
نازرشاہ اسے جانتا تھا. وہ اس دن beast کے ساتھ تھا.
مطلب یہ سب اس کا کیا دھرا تھا.
کیا تم بھی ان کے ساتھ ملوث ہو؟
اس کے پاس کہانیاں سنانے کا وقت نہیں تھا.
وہ اسے نظرانداز کرتا ہال کی طرف بڑھنے لگا.
