Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui NovelR50713 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 21
Rate this Novel
Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 01 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 02 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 03 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 04 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 05,06 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 07 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 08 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 09 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 10 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 11,12 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 13 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 14 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 15 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 16 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 17,18 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 19 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 20 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 21 (Watching)Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 22 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Last Episode
Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 21
ہال میں پہنچ کر اس نے ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیاہر جگہ ھاد کے لوگ تھے اور وہاں پر آئے لوگوں کو بندھی بنارہے تھے.جن میں ملک کے نامور عزت دار بھی شامل تھے.نازرشاہ ٹیبل کی طرف بڑھنے لگا احتشام بھی اس کے پیچھے تھا.اسے عشال کہیں نہیں دکھی.ہال کے ایک جانب تمام لڑکیاں ایک دوسرے کے تھامے رو رہی تھیں لیکن ان میں بھی عشال شامل نہیں تھی.اب اسے پریشانی ہونے لگی تھی.اس کے سامنے عشال کا روتا ہوا چہرہ گھومنے لگا.جو اسے اکیلے نا چھوڑنے کے لئے گڑگڑا رہا تھا.ایک آدمی اس کی طرف بھی بڑھا لیکن احتشام کے اشارے سے وہ رک گیا اور واپس دوسرے لوگوں کو باندھنے لگا.شاید عشال اس کے پیچھے چل پڑی ہو.وہ دیوانہ وار واپس گیا.لیکن اسے عشال کہیں نہیں دکھی.ایک کمرے سے beast کسی کی لاش گھسیٹتا ہوا نکلا.اس کی حالت اتنی بری تھی کہ پہچاننا ناممکن تھا.لیکن اس کے کپڑوں سے نازرشاہ جان گیا کہ وہ کامران تھا.اگر وہ مر چکا تھا تو عشال کہاں تھی.وہ واپس ہال میں گیا اور ان لڑکیوں کی طرف بڑھا.ان تک پہنچنے سے پہلے ہی نازرشاہ کو روک لیا گیا.وہ سب اب ھاد کے قبضے میں تھیں.عشال… عشال کہاں ہے.اس نے سب سے پوچھا…بولو عشال کہاں ہے.وہ چیخ کر کہنے لگا.جب وہ لڑکی ایک دم بولی جو اس وقت رہاں موجود تھی.وہ…وہ اسے کامران اور ایک اور آدمی لے گئے.وہ یہ کہہ کر رونے لگی.لیکن وہ تو مر چکا ہے.نازرشاہ دوبارہ ھاد کی طرف پلٹا.جو کہ اب کسی مہمان کے ٹکڑے کرنے میں مصروف تھا.اس کے چہرے پہ عجیب پاگل پن جھلک رہا تھا.وہ نام سے ہی نہیں کام سے بھی درندہ تھا.وہ اس کی چیخوں اور حالت سے لطف اندوز ہو رہا تھا.نازرشاہ نے خود کئی لوگوں کا قتل کیا تھا لیکن یہ وحشت اس پہ کبھی طاری نہیں ہوئی تھی.میری بیوی کہاں ہے.اس کا چہرہ خون سے بھرا تھا. نازرشاہ کو سامنے دیکھ کر ایک دم رک گیا.تمہاری بیوی تمہارے پاس ہونی چاہئیے.مجھے کنواری لڑکیاں پسند ہیں.اس نے طنز کرتے ہوئے کہا.بکواس مت کرو تم سب جانتے ہو میں بےوقوف نہیں ہوں.وہ کامران کے ساتھ تھی اور اب وہ مر چکا ہے تو میری بیوی کہاں گئی.اوہ وہ لڑکی.اسے تو اس کا گارڈ لے کر بھاگ گیا.نازرشاہ کی نسیں اتنئ تن گئیں کہ جیسے کسی بھی پل پھٹ جائیں گی.اور …تم…نے…اسے…جانے….دیا؟
_________
وہ ایک ایک لفظ چباتے ہوئے کہہ رہا تھا.نازرشاہ خطرناک ارادے سے اس کی طرف بڑھنے لگا.اس کی عشال اس کے ساتھ ہوتی اگر ھاد نے یہ سب نا کیا ہوتا.وہ اتنے پاس پہنچ کر پھر دور ہو گیا تھا.نازرشاہ کو اس وقت سب سرخ دکھ رہا تھا.وہ اس سب کی وجہ کو ختم کر دینا چاہتا تھا.پاس کھڑا احتشام جو کہ سب دیکھ رہا تھا فورأ آگے بڑھا اور نازرشاہ کے سامنے کھڑا ہو گیا.وہ جانتا تھا کہ ھاد کسی کو برداشت نہیں کرتا اور نازرشاہ کو برداشت کرنے کی اس کے پاس کوئی وجہ نہیں تھی.ہم تمہاری بیوی ڈھونڈنے میں مدد کریں گے.اس نے معاملہ سنبھالتے ہوئے کہا.میں اپنی بیوی کو خود ڈھونڈ سکتا ہوں. کسی کی مدد نہیں چاہئیے مجھے.اگر تم لوگ یہ سب نا کرتے تو وہ میرے ساتھ ہوتی.اس نے ہاتھ کو زور سے بھینچا ہوا تھا.اور پھر کیا ہوتا؟ھاد پھر سے بولا تھا.تم اسے لے کے چلے جاتے اور باقی لڑکیاں ؟وہ ایک احتشام کو راستے سے ہٹاتا اس کے سامنے آ کھڑا ہوا.نازرشاہ جانتا تھا کہ وہ اس دلدل میں ہمیشہ پھسی رہتیں.لیکن وہ عشال کے علاوہ کہاں کسی کی پرواہ کرتا تھا.اس نے پوری طاقت سے ھاد پر حملہ کیا.ھاد نے اس کا مکا ہوا میں ہی تھام لیا.نازرشاہ اس کی مضبوط پکڑ محسوس کر سکتا تھا.وہ آرام سے اس کا ہاتھ توڑ سکتا تھا.اولڈ مین…. تم خوش قسمت ہو کہ میں تمہیں پسند کرتا ہوں.ورنہ کوئی بھی ھاد کے سامنے یہ حرکت کر کے اگلا سانس نہیں بھر پایا.وہ اس کا ہاتھ جھٹکے سے چھوڑتا پلٹ گیا.احتشام ان لڑکیوں کو سیف ہاؤس لے جاؤ اور علاج کراو.جو اپنے گھر جانا چاہتی ہے اسے بھیج دو جو نہیں جانا چاہتی اس کے لئے مناسب انتظام کرو.اس کے بعد وہ واپس نازرشاہ کی طرف متوجہ ہوا.چلیں تمہاری بیوی….….عشال نجانے کب سے یہاں تھی اسے کوئی خبر نہیں تھی.اسے لگتا تھا کہ نازرشاہ سے ظالم کوئی نہیں لیکن وہ غلط تھی.کامران نے ان پر بہت ظلم ڈھائے تھےلیکن یہ لوگ تو جانوروں سے بھی بدتر تھے.اسے مسلسل نشے کی حالت میں رکھا جاتا تھا.وہ ہر چیز محسوس کرتی تھی لیکن اپنے آپ پر کوئی قابو نہیں تھا.وہ ہر بار محسوس کر پاتی تھی جب اس کو نوچا جاتا تھا.نجانے اب تک کتنی بار اسے حوس کا نشانہ بنایا گیا.وہ مر جانا چاہتی تھی.اسے اب نازرشاہ کے پاس بھی نہیں جانا تھا.وہ اس کے قابل نہیں رہئ تھی
_________
وہ اسے ڈھونڈ لے گا لیکن وہ اب اسے صرف مردہ حالت میں ملنا چاہتی تھی.
ھاد اور نازرشاہ نے پچھلے 4 ماہ سے ہر جگہ چھان ماری تھی.
لیکن عشال انہیں کہیں نہیں مل رہی تھی.
اس کے باپ اور شوہر کے کئے کی سزا وہ چکا رہی تھی.
نازرشاہ کو بس وہ چاہئیے تھی.
ہو لمحہ اسے اپنے کئے ہوئے ظلم یاد آتے.
وہ ہر کام سے توبہ کر چکا تھا. اسے اپنی کوئی پرواہ نہیں رہی تھی.
وہ سر بسجود تھا. اپنے گناہوں پہ شرمندہ تھا.
الله نے اسے موقع دیے تھے لیکن پہلی بار کی طرح اس نے یہ موقع بھی گنوایا تھا.
وہ ایک اور موقع کی طلب میں تھا.
اس کے وجود کا ہر ذرہ اس تکلیف میں مبتلا تھا.
اسے اس کی عشال چاہئیے تھی. ہر حالت میں چاہئیے تھی.
وہ تو ایسے غائب ہوا جیسے گدھے کے سر سے سینگھ.
آخر ایک شخص ایک لڑکی کو کہاں لے جا سکتا ہے؟
کیا تم نے کامران کے ڈاکومنٹس چیک کئے؟
ہاں لیکن ان میں موجود ہر پتے پر میرے آدمی چیک کر چکے ہیں.
ھاد بھی اس صورتحال پہ پریشان تھا.
نازرشاہ اب کہاں ہے؟
احتشام اس کی پریشانی سے واقف تھا.
وہ میرے گھر ٹھہرا ہوا ہے.
ھاد نے اسے جواب دیا.
اور پھر ایک دم دروازے کی طرف دیکھ کر کہنے لگا.
ماریہ…. وہاں سے باہر نکل آؤ میں جانتا ہوں تم وہاں چھپی ہماری باتیں سن رہی ہو.
وہ اپنے مخصوص انداز میں اس کے آفس داخل ہوئی.
گولڈن رنگ کے بال اس کی خوبصورتی کو مزید بڑھا رہے تھے.
اپنی ماں کی طرح کے فرینچ نین نفش اور جھیل جیسی آنکھیں بےشق اسے سب سے خوبصورت اور منفرد بناتے تھے.
اوپس…. میں بس جاننا چاہتی تھی کہ تم کہاں مصروف ہو آج کل.
وہ کرسی پہ بیٹھے ہوئے ھاد کے قریب آئی اور اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر کہنے لگی.
برا مت ماننا پلیز.
ھاد اس کی باتوں میں آنے والا نہیں تھا وہ ماریہ کو اس سے کہیں بہتر جانتا تھا.
ھاد کے تیور دیکھ کر وہ خوف سے پیچھے ہٹ گئی.
ڈزائنینر لباس اور چار انچ ہیل میں وہ ایک خواب لگتی تھی.
ایم سوری باتیں سننے کے لئے.
جب ھاد پھر بھی کچھ نا بولا تو وہ بال اپنے کان کے پیچھے کرنے لگی.
اگر چاہو تو میں مدد کر سکتی ہوں.
اور تم یہ کیسے کرو گی؟
احتشام فورأ بولا تھا.
وہ ہمیشہ ماریا سے فاصلہ ہی رکھتا تھا.
مجھے فیلڈ میں اتار دو
نہیں ماریہ اپنے گھر جاؤ. ھاد اس کی بات سمجھتے ہوئے بولا.
اوہ کم آن.. تم جانتے ہو میں یہ کر سکتی ہوں.
________
لیکن یہ خطرناک ہے.
احتشام جس خاموش نا رہ پایا تو اسے خطرے کا احساس کرانا چاہا.
اوہ پلیز پرنسس… میں اپنا خیال تم سے بہتر رکھ سکتی ہوں.
اس نے اپنے سرخ رنگے ہوئے لمبے ناخن دکھاتے ہوئے کہا.
اس کی بات سے ھاد بھی مسکرا پڑا.
دیکھو ھاد میں نہیں جانتی وہ کون ہے لیکن اگر اسے کچھ ہوا تو میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی.
اب کی بار اس نے سنجیدگی سے ھاد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا.
اور وہاں سے چلی گئی.
ماریہ کو آج فیلڈ میں پورا مہینہ ہو چکا تھا.
وہ اس وقت ایک کلب میں تھی.
یہ اس کا آخری چانس تھا. اگر وہ اس بار بھی ناکام ہوتی تو ھاد اسے گھر بھیج دیتا.
اور وہ اس جگہ بند رہ رہ کر بور ہو جاتی.
اس طرح کے لوگ ہمیشہ کلبز کا رخ کرتے ہیں اس لئے وہ وہاں موجود تھی.
تقریبا ہر گزرتا ہوا شخص اس کو دیکھتے ہی اس کے سحر میں گرفتار ہو جاتا.
ہمیشہ کی طرح وہ ہر کسی کی نظر میں تھی.
لیکن اسے ان میں فرق بخوبی پتا تھا.
کچھ اس کی خوبصورتی سے متاثر تھے.
کچھ اس سے دوستئ کرنا چاہتے تھے.
اور کچھ گھٹیا لوگ اسے نشانہ بنانا چاہتے تھے.
وہ ایک اناڑی اور پروفیشنل کے بیچ کا فرق اچھے سے سمجھتی تھی
آج کے شکار وہ چن چکی تھی اس لئے لڑکھڑانے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے ان کے سامنے سے گزر کر کلب سے باہر نکل گئی.
وہ جانتی تھی ھاد احتشام اور اس کے لوگ مسلسل اس پہ نظر رکھے ہیں
حالانکہ اسے ان کی ضرورت نہیں تھی.
وہ پیدل چلتی ہوئی ایک سنسان سڑک کی طرف مڑگئی.
کچھ دیر بعد ہی وہ ایک گاڑی کی آواز سن سکتی تھی.
دل ہی دل میں خوش ہوتی وہ چلتی جا رہی تھی.
ایک وین اس سے کچھ آگے جا کر رک گئی.
اس میں سے ایک آدمی نکل کر اس کے سامنے آ کھڑا ہوا.
یہ وہی تھا جو اس نے اپنے شکار کے طور پہ چنا تھا.
کہاں جا رہی ہو حسینہ؟
خباست سے پوچھا گیا.
تمہیں کیا ہٹو میرے راستے سے.
ماریہ نے لاچار بنتے ہوئے کہا.
ایسے کیسے اب تمہارے راستے ہم تک ہی ہیں.
اس نے ماریہ کی بازو کو زور سے پکڑ لیا.
دوسرا شخص اسے جلدی کرنے کا کہنے لگا.
چھوڑو مجھے یہ کیا کر رہے ہو. ہیلپ …. ہیلپ می پلیز.
اس نے ایکٹنگ کے تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے کہا.
ان دونوں نے اسے زبردستی وین میں ڈالا اور وہاں سے لے گئے.
عشال اس وقت پھر سے ہوش اور بیہوشی کی وادیوں میں تھی.
اسے باندھا ہوا تھا.
_________
وہاں کمرے میں کوئی آیا تھا.
وہ جانتی تھی لیکن نشے میں ہونے سے چہرے نہیں دیکھ پاتی تھی.
وہ قریب آ کر اس کے ہاتھ اور پاؤں کھولنے لگا اور پھر اٹھا کر بیڈ تک لے گیا.
عشال کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے.
چھوڑو مجھے چھوڑو.
وہ وہاں کسی اور لڑکی کو بھی لائے تھی.
ماریہ کی نظر جیسے ہی بیڈ پہ لیٹی لڑکی پر پڑی اس کا دل کیا کہ وہ سب کو جلا کہ راکھ کر دے.
وہ جو کوئی بھی تھی ہڈیوں کا ڈھانچہ لگ رہی تھی. اور بےسود لیٹی تھی.
اھے نہیں پتا تھا کہ ھاد اسے ہی ڈھونڈ رہا ہے یا نہیں لیکن اسے اس کے لئے بہت افسوس تھا.
وہ آدمی اسے باندھنے کے لئے رسیوں کے پاس لے گیا.
دوسرا پاس کھڑا اسے خباثت سے دیکھ رہا تھا.
وہ اسے باندھے اس سے پہلے ماریہ نے ہاتھ کا مکا بنا کر اس کی ونڈ پائپ پہ حملہ کیا.
وہ ایک دم اسے چھوڑ کے پیچھے ہٹا تھا.
اس کی انکھوں میں پانئ آ گیا اور وہ ادھر ادھر ہاتھ مارنے لگا.
ماریہ نے اس کا ونڈ پائپ ایک ہی حملے میں کرش کر دیا تھا.
اور وہ زور زور سے سانس لینے کی کوشش کر رہا تھا.
وہ دکھنے میں چاہے نازک لگتی تھی پر اس کی تربیت ھاد نے کی تھی.
اور ایسے لوگوں کو تو وہ کچا چبا جانے کی عادی تھی.
دوسرا شخص یہ سب دیکھ کر اس کی طرف بڑھا جب انہیں باہر سے گولیوں کی آواز انے لگی.
نازرشاہ اس وقت بھی عشال کو ڈھونڈ رہا تھا.
اسے دن اور رات کا کوئی ہوش نا تھا.
جب اس کا فون بجنے لگا.
ھاد کا نام دیکھ کر اس نے فورأ کال اٹینڈ کی.
مجھےُ شاید عشال کا پتا لگ گیا ہے.
وہ اس کی بات سنتے ہی ایک دم کھڑا ہو گیا.
کہاں… کہاں ہے وہ.
میں وہی جا رہا تھا پر گاڑی رک گئی ہے میں ایڈریس بھیج رہا ہوں.
نازرشاہ گاڑی کی طرف بھاگ رہا تھا.
جیسے ہی اڈریس کا میسیج آیا اس نے گاڑی کو اس سمت موڑ لیا.
نازرشاہ کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ عشال کے اتنا قریب تھا لیکن اسے ڈھونڈ نہیں پایا.
جیسے ہی وہ شخص وین سے نکل کر ماریہ کو پکڑ رہا تھا ھاد نے اسے پہچان لیا تھا.
لیکن پیچھا کرتے ہوئے ان کی گاڑی رک گئی تھی.
ماریہ پہ کچھ سال پہلے ہوئے حملہ کے بعد اس نے ماریہ کو ٹیگ کر دیا تھا.
اور اس کی گردن میں ایسی ڈوائس ڈالی تھی جس سے وہ اس کی حرکت پہ نظر رکھتا تھا.
وہ نازرشاہ کو کال کر چکا تھا اور اب دوسری گاڑی کا انتظار کر رہا تھا.
کیا تمہیں ماریہ کے لئے پریشانی ہے.
________
احتشام نے اسے بےچین دیکھ کر پوچھا.
نہیں مجھے یہ فکر ہے کہ میرے وہاں پہنچنے سے پہلے کہیں وہ سب کو اوپر نا پہنچا دے.
نازرشاہ جیسے ہی مطلوبہ پتے پر پہنچا اس نے اندھا دھند فائرنگ سٹارٹ کر دی.
اس چھوٹے سے مکان کے پہرے پہ کھڑے دونوں آدمی فورا ختم ہو گئے.
مکان کے اندر ایک چھوٹا سا صحن تھا اور سامنے ایک کمرہ.
تبھی کمرے سے ایک آدمی نے اس پہ گولی چلائی.
جس سے وہ کمال پھرتی سے بچا.
اس کے حواس پہ صرف عشال چھائی تھی.
اسے اپنی عشال تک پہنچنا تھا.
وہ جنونیت کی انتہاء پہ تھا.
اس کا روم روم عشال کی موجودگی محسوس کر رہا تھا.
تبھی کمرے سے ایک لڑکی نے اس شخص کے گٹھنے پہ حملہ کیا جس سے وہ گر گیا.
نازرشاہ نے اسی لمحے اس پہ کہی بار فائرنگ کی.
وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا عشال اس کے سامنے تھی.
باقی سب اس کے سامنے معدوم ہو گیا تھا.
وہ تو اپنا عکس بھی نہیں تھی.
عشال… عشال…
وہ دیوانہوار اس کی طرف بھاگا.
وہ ہل نہیں رہی تھی. اور بہت کمزور تھی.
عشال… میری جان.
مجھے معاف کر دو.
میں ائندہ کبھی تمہیں اکیلا نہیں چھوڑوں گا.
وہ رو رہا تھا.
