Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui NovelR50713 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 16
Rate this Novel
Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 01 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 02 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 03 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 04 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 05,06 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 07 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 08 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 09 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 10 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 11,12 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 13 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 14 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 15 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 16 (Watching)Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 17,18 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 19 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 20 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 21 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 22 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Last Episode
Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 16
ناز…نازرشاہ….
بولو نا عشال میں نے جو کچھ کیا کیا اس کے بعد بھی تم مجھے چاہتی ہو.
اس نے اس کا چہرہ مزید اپنے قریب کیا.
جج…جی
جی کیا عشال جی کیا…
اس نے اپنی پیشانی عشال کی پیشانی پہ ٹکا دی.
مم… میں آپ سے محبت کرتی ہوں.
ہر ظلم کے باوجود؟
ہر ظلم کے باوجود.
ہر ناانصافی کے باوجود ؟
ہر ناانصافی کے باوجود.
ہر غلطی کے باوجود ؟
ہر غلطی کے باوجود.
وہ مسکرا رہا تھا.
اور عشال کو خود میں ایک سکون اترتا محسوس ہوا.
عشال.
ہمم.
عشال کوئی میگزین پڑھنے میں محو.
کیا تم مجھے آفس سے کچھ فائلز لا دو گی.
جی کونسی فائلز..
نازرشاہ نے اسے فائلز کے بارے میں بتایا اور وہ انہیں لے آئی.
نازرشاہ نے سائیڈ ٹیبل سے ریڈنگ گلاسز نکال کر فائلز کا مطالعہ کرنا شروع کیا.
اسے عشال کی ہنسی دبانے کی آواز آئی جسے اس نے نظر انداز کر دیا کہ شاید میگزین میں کچھ پڑھ کر ہنس رہی ہو گی.
جب آواز مسلسل آنے لگی تو اس نے عشال کی طرف دیکھا.
وہ اس کی طرف دیکھ رہی تھی. اور منہ پر ہاتھ رکھے ہنسی دبا رہی تھی.
اس کا چہرہ بھی سرخ ہو رہا تھا.
اتنی ہنسی کس بات پہ آ رہی ہے محترمہ.
وہ وہ کچھ نہیں…
کچھ تو ہے شاباش جلتی بتاؤ.
اب وہ کھل کر ہسنے لگی تھی.
وہ آپ کو گلاسز میں دیکھ کر ذہن میں مسٹر بین آ گیا.
اپنی بات کہ کر وہ دبارہ ہسنے لگی.
مسٹر بین؟
آہاں ں ں…. مسٹر بین لگتا ہوں تمہیں…
تھوڑے تھوڑے..
رکو میں تمہیں بتاتا ہوں وہ اٹھنے لگا تو عشال وہاں سے بھاگ گئی.
_________
نازرشاہ پہلے سے کافی بہتر محسوس کر رہا تھا.
عشال کچن میں مصروف تھی جب وہ اس کے پاس چلا گیا.
کیا بنا رہی ہو
چکن جل فریزی.
مجھے نہیں پسند
اوہ چلیں اب تو میں نے بنا لیا.
ویسے آپ کو کیا پسند ہے.
وہ اس کی پسند ناپسند بہت کم جانتی تھی.
یہ سب چھوڑو یہ بتاؤ میں تمہیں کہاں سے مسٹر بین لگا.
عشال اس کی بات پہ مسکرا اٹھی. کیا آپ ابھی تک وہی بات سوچ رہے ہیں.
ہاں بتاؤ چلو…
کان سے تھوڑے تھوڑے.
کیا میرے کان اتنے برے ہیں؟
نہیں توووو
مراد اسے بار بار کال کر رہا تھا جسے وہ نظر انداز کرتا رہا.
رات کے اندھیرے میں وہ سامنے والے گھر کو دیکھ رہا تھا.
وہ عشال کو گہری نیند کو چھوڑ کے آیا تھا.
کافی دیر وہ وہاں کھڑا کچھ سوچتا رہا.
پھر قدم اٹھاتا اس طرف بڑھنے لگا.
اتنے سالوں کے تجربے کی وجہ سے اسے گھر میں داخل ہونے میں کوئی مشکل نہیں ہوئی.
رقیب نے اس جگہ پر آ کر بہت غلطی کی تھی. اسے اس پر گولی نہیں چلانی چاہئیے تھی.
وہ اپنی موت سے بےخبر سوئی ہوئی تھی.
یہ ایک اتفاق ہی تھا کہ وہ اور اس کے شوہر نے ایک ہی جگہ اپنے آخری سانس لئے.
عالیہ… تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہئیے تھا.
وہ اس کی آواز سے جاگ گئی اور اٹھ بیٹھی.
نازرشاہ نے اپنی گن کا رخ اس کی طرف کر دیا.
اس سے پہلے کہ وہ چیخ پاتی اس نے اپنا کام ختم کیا اور وہاں سے چل دیا.
عشال میں سوچ رہا تھا کہ کیوں نا ہم آج ڈنر کہیں باہر کریں.
پر آپ تو باہر کا کچھ نہیں کھاتے.
ہاں پر تم تو کھاتی ہو نا.
عشال کا دل نہیں چاہ رہا تھا کہیں جانے کا اسے عجیب سی بےچینی ہو رہی تھی.
پر نازرشاہ کے بارہا اصرار کرنے پر وہ مان ہی گئی.
وہ دونوں لاہور کے مشہور ریسٹورنٹ میں تھے.
انتظار کرتے ہوئے وہ ایک دوسرے سے باتیں بھی کر رہے تھے.
عشال اسے بہتر طریقے سے جاننا چاہتی تھی اس لیے اس سے مختلف سوال کر رہی تھی.
ویسے آپ نے مجھے بتایا نہیں کہ کتنی ایج ہے آپ کی.
تم یہ کیوں جاننا چاہتی ہو.
ویسے ہی.
عشال جانتی تھی کہ وہ ایج کونسئش ہے اس لئے نہیں بتائے گا.
نازرشاہ کچھ کہتا اس سے پہلے بیرہ کھانا لے آیا.
اور اس نے کمال مہارت سے باتوں کا رخ عشال کی طرف موڑ دیا.
نازرشاہ اس وقت آفس میں تھا جب اسے اس کے آدمیوں کی کال آئی.
ان کا کہنا تھا کہ اس کے گھر پولیس آئی ہے.
_________
اور عشال نے انہیں گھر میں داخل ہونے کی اجازت دے دی.
اسے اس بات سے عشال پر بےحد غصہ آیا
کہ بنا اس کی اجازت کے وہ پولیس کو گھر کیسے داخل ہونے دے سکتی ہے.
وہ غصہ میں سب وہیں چھوڑتا گھر کے لئے روانہ ہو گیا.
بے حد غصہ میں گاڑی پارک کرتا وہ لان کی طرف بڑھ رہا تھا.
پولیس کی گاڑی ابھی بھی باہر موجود تھی.
وہ غصے میں اندر داخل ہوا لیکن عشال کے رونے کی آواز سن کر رک گیا.
وہ اس کے سامنے ہی صوفے پر بیٹھی تھی.
رونے سے اس کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا.
اس کے سامنے صوفے پر پولیس کے دو اہلکار بیٹھے تھے.
وہ عشال کو نظر انداز کرتے ہوئے ان سے مخاطب ہوا.
میرے گھر میں میری غیر موجودگی میں آنے کی ہمت بھی کیسے کی.
ابھی نکلو یہاں سے.
شاہ صاحب معاف کیجئے گا اگر آپ کو پریشانی ہوئی لیکن ہم آپ کی بیوی سے ملنے آئے تھے.
میری بیوی سے ملنے کے لئے بھی آئندہ مجھ سے اجازت لینی ہو گی . اب نکلو فورأ.
وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے کھڑے ہو گئے.
ویسے بھی ہم یہاں سے جا رہے تھے.
ویسے مسز شاہ آپ کے شوہر نے آپ کو بتایا نہیں آپ کی والدہ کے بارے میں یہ ہمیں نہیں پتا تھا.
وہ نازرشاہ کو دیکھتے ہوئے ذومعنی طریقے سے کہ رہا تھا.
ان کی بات سن کر عشال ایک دم صدمے سے نکلی تھی.
کک… کیا مطلب؟
مطلب یہ کہ کچھ دن پہلے دو نوجوانوں نے رپورٹ درج کروائ تھی.
کہ ایک عورت نے کسی شخص کو گولی مار دی.
اس عورت کا حلیہ آپ کی ماں سے اور آدمی کا حلیہ آپ کے شوہر سے ملتا ہے.
لیکن آپ کے شوہر تو صحت مند لگ رہے ہیں تو شاید وہ کوئی اور ہو.
وہ مسکرا کر کہتا اپنے ساتھی کے ساتھ چلا گیا.
نازرشاہ دانت پیستا ہوا رہ گیا.
اور عشال بے یقین نظروں سے اسے دیکھنے لگی.
ان کے جاتے ہی نازرشاہ عشال کی طرف بڑھا لیکن وہ پیچھے ہٹ گئی.
تت..تم پر حملہ ماما نے کیا تھا تم نے کیوں نہیں بتایا.
عشال… میری بات سنو.
نہیں تم نے کیوں نہیں بتایا.
اور وہ یہ کیوں کہ رہے تھے کہ تم سب جانتے ہو.
کک.. کیا تت…تم نے مارا انہیں ؟
وہ روتے ہوئے پوچھ رہی تھی. وہ انکار سننا چاہتی تھی.
یقینا ان پولیس والوں نے جھوٹ کیا ہے ہےنا؟
لیکن نازرشاہ کی خاموشی کچھ اور ہی کہ رہی تھی.
ماما… ماما کو بابا کے گھر میں گولی مار کر گھر سمیت جلا دیا گیا.
یہ..یہ تم نہیں کر سکتے ہےنا. تم نے تو انہیں بخش دیا تھا.
وہ چلائی تھی.
_________
ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﺳﺨﺖ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ
ﺗﮭﺎ.
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺗﺐ ﺗﮏ ﺑﺨﺶ ﺩﯾﺎ ﺟﺐ
ﺗﮏ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﭘﮧ ﮔﻮﻟﯽ ﻧﮩﯿﮟ
ﭼﻼﺋﯽ.
ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺍﻟﮓ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺎ
ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ
ﻣﺎﺭﻧﺎ ﭼﺎﮨﺎ.
ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ
ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯾﺎ.
ﻋﺸﺎﻝ ﮐﻮ ﻟﮕﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﺍﺱ ﮐﮯ
ﻟﺌﮯ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﻮ.
ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﻭﺟﻮﺩ ﮐﺎ ﻣﺰﺍﻕ
ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﻮ.
ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﻤﺎﻋﺖ ﭘﮧ ﯾﻘﯿﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﭘﺎ
ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ.
ﺗﺖ…ﺗﻢ ﻧﮯ ﻣﺎﺭﺍ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﻣﺎ ﮐﻮ. ﻣﺎﺭ
ﺩﯾﺎ… ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺎ…
ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺑﺎﺕ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﺩﻭﮨﺮﺍ ﺭﮨﯽ
ﺗﮭﯽ.
ﺍﺏ ﻭﮦ ﭼﯿﺨﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺗﮭﯽ.
ﺑﺲ ﺑﮩﺖ ﮨﻮﺍ ﻋﺸﺎﻝ. ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮐﺌﮯ
ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﻣﻠﯽ.
ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮐﺌﮯ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ…. ﻭﮦ
ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﻔﺮﺕ ﻟﺌﮯ ﭼﯿﺨﯽ ﺗﮭﯽ.
ﺗﻢ ﮐﻮﻥ ﮨﻮ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ.
ﺗﻢ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻢ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﺮﻭ ﮔﯽ.
ﮨﺎﮞ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ.. ﺟﺐ ﺗﻢ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ
ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﺭﺍ ﺗﮭﺎ.
ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺘﺎﺅ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺘﺎﺅ ﮐﯿﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺎﺑﺎ
ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺗﻢ ﻧﮯ ﻣﺎﺭﺍ؟
ﺁﺧﺮ ﮐﺎﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﭨﮭﺘﺎ ﺳﻮﺍﻝ
ﺑﮭﯽ ﮐﺮ ﮈﺍﻻ ﺗﮭﺎ.
ﺍﺱ ﺩﻥ … ﮐﯿﺎ ﻭﮦ ﺗﻢ ﺗﮭﮯ.
ﺑﺘﺎﺅ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺘﺎﺅ.
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻏﯿﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﺗﮭﯽ.
ﺳﺮ ﭼﮑﺮﺍ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ.
ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ. ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻢ
ﻭﮨﺎﮞ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺅ ﮔﯽ. ﻭﮦ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺗﮭﺎ.
ﺗﺒﮭﯽ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ
ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺳﻮﭼﺎ.
ﺍﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﺍﺱ ﺩﻥ ﺯﻧﺪﮦ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ.
ﻭﮦ ﻏﺼﮧ ﺳﮯ ﺩﮬﺎﮌﺍ ﺗﮭﺎ.
ﻋﺸﺎﻝ ﮐﻮ ﻟﮕﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ
ﺳﯿﻨﮧ ﭼﺎﮎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ.
ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ…. ﻣﻄﻠﺐ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺟﮭﻮﭦ
ﺗﮭﺎ. ﺗﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻘﺼﺪ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮﺋﮯ.
ﺍﺱ ﮐﺎ ﻟﮩﺠﮧ ﺩﺑﺎﺭﮦ ﺗﻠﺦ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ.
ﻧﮩﯿﮟ ﻋﺸﺎﻝ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﭽﯽ ﮨﮯ.
ﺟﮭﻮﭦ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻢ ﻗﺎﺗﻞ ﮨﻮ ﺗﻢ ﻗﺎﺗﻞ
ﺍﭼﮭﺎ ﮨﻮﺍ ﭘﺮﯼ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﯾﮧ ﺭﻭﭖ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ
ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﺮ ﮔﺌﯽ.
ﻋﺸﺎﻝ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﭘﮧ
ﭼﻮﭦ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ.
ﺩﻓﻌﮧ ﮨﻮ ﺟﺎﺅ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ. ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻈﺮﻭﮞ
ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺅ ﻋﺸﺎﻝ . ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ
ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﮑﻞ ﻣﺖ ﺩﮐﮭﺎﻧﺎ.
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﮔﯿﮟ ﺗﻨﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯿﮟ.
ﻋﺸﺎﻝ ﺍﺳﮯ ﻭﮨﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ
ﺑﺎﮨﺮ ﺑﮭﺎﮒ ﮔﺌﯽ.
ﭼﻮﭦ ﮔﮩﺮﯼ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺩﮦ.
ﻋﺸﺎﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﮩﺎﮞ
ﺟﺎﮰ ﮔﯽ ﻭﮦ ﺑﺲ ﻧﺎﺯﺭﺷﺎﮦ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ
ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﺗﮭﯽ.
ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﯽ ﭘﺸﺖ ﺳﮯ ﺭﮔﺮﺗﯽ ﻭﮦ
ﺑﮭﺎﮔﯽ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ.
ﺍﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺘﺎ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﮐﺐ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﮯ
ﺁﺗﯽ ﻭﯾﻦ ﺭﮐﯽ .
ﮐﺐ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻟﻮﮒ ﺍﺗﺮﮮ.
ﺍﺳﮯ ﺗﻮ ﺑﺲ ﺗﺐ ﺧﺒﺮ ﮨﻮﺋﯽ ﺟﺐ ﺩﻭ
ﺁﺩﻣﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﭘﮑﮍ
ﻟﯿﺎ.
ﻭﮦ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ
ﺳﮯ ﻗﺎﺻﺮ ﺗﮭﯽ.
ﻭﮦ ﭼﯿﺨﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺟﺐ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ
ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﭘﺮ ﺭﻭﻣﺎﻝ ﺭﮐﮫ
ﺩﯾﺎ.
_________
نازرشاہ اپنا سر پکڑ بیٹھا تھا.
عشال اس کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتی ہے.
اس نے تو کہا تھا کہ وہ اسے ہر حال میں چاہے گی.
اسے یہ کیوں نا سمجھ آیا کہ ضروری تھا یہ سب.
ان کی خوشیوں کے لئے ان کی آنے والی زندگی کے لئے.
اس کا موبائل بار بار بج رہا تھا اس نے غصے میں موبائل زور سے دیوار پر دے مارا.
اسے نہیں پتا کہ وہ وہاں کتنی دیر ساکت بیٹھا رہا.
سیکنڈ… منٹ… یا پھر گھنٹے.
کوئی مین گیٹ کی بیل بار بار بجا رہا تھا.
وہ اسے سن کر بھی ان سنا کر رہا تھا.
عشال اسے چھوڑ کر چلی. اس کے بغیر اب زندہ رہنے کی کوئی وجہ نہیں تھی.
کچھ دیر بار اندرونی دروازے کی بیل بجنے لگی.
وہ جھنجھلا کر دروازے کی طرف بڑھا.
اس کے سامنے اس کا وفادار کھڑا تھا. وہ خاص عشال پر نظر رکھنے کا کام کرتا تھا.
یقیناً اسے لگا ہو گا کہ عشال پھر سے دھوکا دے کر فرار ہو گئی ہے.
وہ ہانپ رہا تھا.
نازرشاہ کا دل کیا اپنا غصہ اسی پہ نکال دے.
یہاں سب ٹھیک ہے اب جاؤ یہاں سے.
نہیں.. صاحب وہ آپ کی بیوی..
ہاں مجھے پتا ہے وہ چلی گئی ہے.
وہ دروازہ تند کرنے لگا تھا. جب مقابل شخص جلدی سے بولا.
وہ اغواء ہو گئی ہیں.
نازرشاہ کو لگا کہ دوسری بار کسی نے اس سے سب چھین لیا ہو.
لیکن اس بار تو وہ خود ذمےدار تھا.
اس نے خطرے کو جانتے ہوئے بھی عشال کو جانے دیا.
کون.. کون .. کہاں لے گئے اور کب.
زندگی میں پہلی بار اس کے منہ سے لفظ ٹوٹ کر نکلے تھے.
معلوم نہیں ایک وین تھی. میں نے پیچھا کیا پر وہ میری نظروں سے اوجھل ہو گئی.
نازرشاہ جلدی سے آفس گیا وہ شخص بھی اس کے پیچھے تھا.
مخصوص جگہ سے وہ اصلحہ نکالنے لگا.
کس قسم کی وین تھی.
جب وہ آدمی بتا کر خاموش ہوا تو اس کا شک یقین میں بدل گیا یہ مراد کا کام تھا.
مراد نے اس سے جنگ کا اعلان کیا تھا.
اور اب مراد کو اس کی قیمت ادا کرنی تھی.
وہ اپنی گاڑی میں جا بیٹھا. راستے میں اپنے ساتھیوں کو فون کر کے وہیں پہنچنے کا کیا.
وہ جو بھی کرتا اپنی بیوی سے لیکن کوئی اور اس کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتا.
جب وہ اپنے پانچ ساتھیوں کے ساتھ اس کے ویلا پہنچا تو باہر کھڑے گارڈز نے اس سے ڈرتے ہوئے خود ہی راستہ دے دیا.
وہ ہال میں پہنچا تو ان پر اوپری منزل کے برآمدے سے فائرنگ ہونے لگی.
وہ سب دیواروں کے پیچھے چھپ گئے.
