Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 11,12

تم جھوٹے گھٹیا انسان
تمہارے ساتھ جو بھی ہوا بہت اچھا ہوا.
ایسا ہی ہونا چاہئیے تھا.
اپنے باپ کے بارے میں ایسی باتیں سن کر وہ تلملا اٹھی تھی.
کیا تم جانتی بھی ہو تم کیا بکواس کر رہی ہو.
اس کی یہ باتیں نازرشاہ کو ناگوار گزری تھیں.
اور وہ بھی غصے سے دہک رہا تھا.
اپنا منہ بند رکھو عشال. تمہاری زبان سے ایک لفظ بھی اور ادا نا ہو.
لیکن وہ بھی کہاں سننے والی تھی.
میرے ماما کو قتل تم کرنا چاہتے ہو مجھ سے زبردستی شادی تم نے کی اور میرے مقتول والد پر ایسا الزام لگاتے ہو.
اصل میں تو تم ہو قاتل اور ریپسٹ…
عشال میں نے کہا چپ کر جاؤ. وہ ایک بار پھر دھاڑا تھا.
کیوں خاموش ہوں تمہارے ساتھ اس سے بھی برا…
وہ آگے کچھ کہتی اس سے پہلے نازرشاہ نے الٹے ہاتھ سے اسے زوردار تھپڑ مارا تھا.
اس کے ہاتھ میں پہنی انگوٹھی سے عشال کو ہونٹ بری طرح چھل گیا اور اس سے خون بہنے لگا.
عشال اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کے ایک دم پیچھے ہوئی.
انگوٹھی نے اس کا نچلا ہونٹ کاٹ دیا تھا.
عشال کے ہاتھ بھی خون سے بھر گئے تھے.
نازرشاہ ایسا نہیں چاہتا تھا. اس کا غصہ عشال کو ایسے دیکھ کر ہوا ہو گیا
وہ عشال کی طرف بڑھا. لیکن وہ اس سے کچھ قدم پیچھے ہو گئی.
نازرشاہ نے اسے زبردستی کندھے سے تھام کر اپنی طرف کھینچا اور اس کے ہاتھ نیچے کر کے زخم کا اندازہ کرنے لگا.
اس کے ہونٹ کو سٹیچز کی ضرورت تھی.
عشال درد سے رو رہی تھی نازرشاہ نے اسے اٹھایا اور واشروم میں لےجا کر وینیٹی ایریا پہ بٹھا دیا.
اس کے بعد وہ فرسٹ ایڈ باکس ڈھونڈنے لگا.
عشال کو اس وقت تکلیف کے آگے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا.
نازرشاہ نے پہلے اس کے ہونٹ سے خون صاف کیا اور اسے روکنا چاہا.
جیسے ہی اس نے دوائی لگائی عشال جلن سے تڑپ اٹھی.
نازرشاہ نے اس کی بازو پکڑ لی.
ہلو مت مجھے سٹیچز لگانے ہوں گے.
وہ اپنے زخم کئی بار خود سٹیچ کر چکا تھا اس لئے جانتا تھا کہ کیا کرنا ہے.
عشال تو یہ لفظ سن کر ہی خوف سے ٹھنڈی پڑنے لگی. اور سر ہلا کر انکار کرنے لگی.
اگر تم آرام سے نہیں بیٹھو گی تو میں تمہیں باندھ دوں گا.
عشال نے اس کے ہاتھ میں سٹیچز والی سوئی دیکھ کر زور سے آنکھیں بند کر لیں.
نازرشاہ چونکہ خود یہ کام کرتا تھا اس لئے کبھی نشہ آور ادویات استعمال نہیں کی تھیں.
__________
عشال کو دینے کے لیے اس کے پاس کوئی نشہ آور چیز نہیں تھی.
اس لئے بس دو پین کلر کے ٹیبلٹ ہتھیلی پر نکال کے عشال کے انہیں نگلنے کو کہا.
وہ ابھی اس درد سے پیچھا چھڑوانے کے لئے کچھ بھی کر لیتی اس لئے انھیں نگل گئی.
ساتھ میں وہ خون کا ذائقہ بھی محسوس کر سکتی تھی.
عشال کو لگا کہ شاید یہی تکلیف بہت ہے پر جب نازرشاہ نے سٹیچز لگانے شروع کئے تو اس نے کانپنا شروع کر دیا.
درد شدت اختیار کر چکا تھا. اسے تو لگا کہ وہ بیہوش ہو جائے گی.
اس نے نازرشاہ کا کندھا دبوچ رکھا تھا.
اور درد سے کراہ رہی تھی.
اس کے منع کرنے کے باوجود وہ ہل رہی تھی.
نازرشاہ احتیاط سے ایسے سٹیچز لگا رہا تھا کہ جس سے اس کے ہونٹ پر نشان نا چھوٹے.
ایک لمحے کے لئے اس کا دل کیا کہ عشال کے سر میں وار کر کے اسے بیہوش کر دے پر پھر اس نے وہ ارادہ بدل دیا.
عشال سرخ پھٹی ہوئی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی.
سٹیچز لگانے کے بعد اس نے ایک بار پھر اس کا ہونٹ صاف کر کے اس پہ دوائی لگا دی.
ان دونوں کے ہاتھ اور عشال کے کپڑوں پر بھی خون کے دھبے لگے ہوئے تھے.
عشال کے پاس ہی واش بیسن پہ وہ ہاتھ دھونے لگا اور پھر اسے وینیٹی ایریا سے اتار کر خود باہر چلا گیا.
عشال نے ہمیشہ کی طرح خود کو آئینے میں دیکھنے سے گریز کیا.
تکلیف ہونٹ سے پورے جسم میں پھیل چکی تھی.
عشال تب تک وہیں رکی رہی جب تک نازرشاہ اس کا انتظار کر کر کے وہاں سے چلا نہیں گیا.
اس سے تکلیف برداشت نہیں ہو رہی تھی اس لئے اپنے میڈیکل باکس سے نیند کی گولیاں نکال کر کھائی اور پھر لیٹ گئی.
کچھ دیر بعد وہ اپنے اردگرد سے بیگانہ ہو گئی .
نازرشاہ کو آج مراد کے گھر جانا تھا اور عشال نے اس کے چہرے پہ اپنے اچھے خاصے نشان چھوڑے تھے.
اس کی ایک آنکھ سرخ ہوئی پڑی تھی
وہ سن گلاسز پہن کر مراد سے ملنے روانہ ہو گیا.
جب نازرشاہ اس کے گھر پہنچا تو گیٹ پر کھڑے گارڈ اسے عجیب نظروں سے دیکھنے لگے.
دوسروں کے دلوں میں دہشت قائم کرنے والا اپنی بیوی کو سنبھال نہیں پایا تھا.
جب وہ اندر داخل ہوا تو فضاء میں خون کی بدبو واضح تھی.
ایک لڑکی خون سے لت پت سیلنگ سے زنجیروں کی مدد سے لٹک رہی تھی.
اس کی ایک ٹانگ کاٹ دی گئی تھی. فرش پر خون جمع تھا. وہ جگہ ایک قصاب کی دوکان لگ رہی تھی.
اس لڑکی کے آنکھیں بےجان تھیں.
__________
یقینا اس کی موت بھی باقیوں کی طرح دردناک تھی.
ایک اور لڑکی اپنی سسکیاں دباتی وہ خون صاف کر رہی تھی.
وہ جانتی تھی اس کا انجام بھی کچھ ایسا ہی تھا.
مراد نازرشاہ کو دیکھ کر کھڑا ہو گیا.
ارے آؤ آؤ… تم نے ہمیشہ کی طرح کل رات بھی اچھا کام کیا.
مراد کی نظر جب اس کے چہرے پر پڑی تو وہ طنزیہ مسکرانے لگا.
لگتا ہے کسی جنگلی بلی سے بھڑ کر آئے ہو.
نازرشاہ نے اس کا جواب دینا لازمی نہیں سمجھا.
یہ سب کچھ کیا ہے. مجھے یہ سب پسند نہیں.
اس نے ان لڑکیوں کی طرف اشارہ کر کے کہا.
یہ تمہارے لئے ایک سیکھ ہے شاہ.
تمہیں بھی اس لڑکی کو ایسے ہی رکھنا چاہئیے جس کے وہ لائق ہے.
میری بیوی کو مجھے کیسے رکھنا ہے یہ مجھے تم سے سیکھنے کی ضرورت نہیں مراد.
اس سے بلکل بھی برداشت نہیں ہوا تھا کہ مراد عشال کے بارے میں کچھ ایسا کہے.
مراد کو غصہ تو بہت آیا لیکن خاموش ہو گیا. اور اپنا غصہ اس لڑکی پر نکالنے لگا جو فرش صاف کر رہی تھی.
تم سے کہا تھا جلدی کرو.
مراد نے پاس ٹیبل پر پڑا گملہ اس لڑکی پر دے مارا.
اپنی چیخیں دباتی وہ پہلے سے تیزی سے کام کرنے لگی.
ایک مشکل کھڑی ہو گئی ہے.
کیسی مشکل.
ھاد نے کراچی میں تو پہلے ہی انسانی خریدوفروخت سے منع کر دیا تھا اور یہاں پہ بھی.
لیکن میرے ساتھ ساتھ کئی لوگ یہ کام چھپ کر کر رہے تھے.
لیکن کسی نے مخبری کر دی ہے اور وہ میری جگہ بدلنا چاہتا ہے.
کراچی میں ان کا مین ہیڈ تھا. سارے فیصلے وہی ہوتے تھے.
یہاں کے معاملات مراد دیکھتا تھا اس لئے وہاں پر سارے معاملات مراد کو ہی پتا ہوتے تھے.
کبھی کسی زمانے میں مراد خود سب کرتا تھا پر اب وہ صرف حکم دیتا تھا.
نازرشاہ اس کا اصل ہتھیار تھا. سب طاقت اب اسی کے پاس تھی لیکن وہ مراد کا ہمیشہ ہی وفادار رہا تھا.
نازرشاہ نے خود کبھی ھاد سے بات نہیں کی تھی اس لیے وہ اس کے کسی ایسے فیصلے سے واقف نہیں تھا.
اگر ایسا ہے تو تم نے یہ ابھی تک کیوں جاری رکھا ہے.
اسے ھاد کے اس فیصلے کے وجہ معلوم نہیں تھی
نازرشاہ مراد کا جتنا بھی وفادار ہو لیکن وہ ھاد کے راستے میں نہیں آنا چاہتا تھا.
اس کام میں بہت پیسہ ہے اور ہر دل بھی بہلا رہتا ہے.
مراد نے خباثت سے مسکراتے ہوئے کہا.
ہمم… نازرشاہ گہری سوچ میں پڑ گیا.
اس لڑکی جگہ عشال بھی ہو سکتی ہے اس سوچ سے اس کی روح تک کانپ گئ
_______
نازرشاہ کو جیسے ہی یہ سوچ آئی اس نے اسے اپنے ذہن سے جھٹک دیا.
نہیں میں ہمیشہ اس کی حفاظت کروں گا. اس کے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہونے دوں گا.
مراد اپنی بات جاری رکھے ہوئے تھا. اس نے اس کی بات پہ غور کرنا شروع کیا.
مجھے لگتا ہے کہ باس کے خلاف ھاد یہ سب کر رہا ہے.
ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ باس کے خلاف کوئی کچھ کر سکے.
مراد نازرشاہ کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا تھا.
کیونکہ وہ اب بوڑھا ہو چکا ہے اور کمزور بھی.
یہ جرم کی دنیا ہے میرے بچے یہاں کمزور کے لئے کوئی جگہ نہیں.
لیکن اگر ہم ھاد کو قتل کر دیں تو اس دنیا کے بےتاج بادشاہ بن جائیں گے.
مراد کی بات سن کر نازرشاہ ابرو اچکا کر پوچھنے لگا.
اور اس درندے کو مارنے کی ہمت کون کرے گا مراد؟
شاہ یہ کام صرف تم کر سکتے ہو.
سوچو اگر ہم ساری طاقت حاصل کر لیں تو ہو کوئی ہم سے خوف کھائے گا.
ہم کسی کے جوابدہ نہیں ہوں گے.
وہ اب نازرشاہ کو طاقت کا لالچ دے رہا تھا.
نازرشاہ بےوقوف نہیں تھا وہ جانتا تھا ہم سے مراد صرف اور صرف اس کی اپنی ذات تھی.
تم ایک ایسے گمنام شخص کی بات کر رہے ہو جس کے بارے میں ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ کیسا دکھتا ہے.
یہاں تک کہ پاکستان کی انٹیلیجنس ایجسنی بھی بہت کم جانتی ہے اس کے بارے میں تو میں اس تک کیسے پہنچوں گا؟
اسی لئے تو میں کہ رہا ہوں کہ یہ کام صرف تم کر سکتے ہو. اس بارے میں اچھے سے سوچ لو.
نازرشاہ کو لگا مراد اپنی بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ دماغ سے بھی لاغر ہو رہا ہے تبھی ایسی بہکی باتیں کر رہا ہے.
وہ اس کا جواب دیئے بغیر اس کے نئے کھلونے کے لئے افسوس کرتا وہاں سے چل دیا
عشال کا ہونٹ پہلے سے ٹھیک تھا. سٹیچز بھی نکال دیئے گئے تھے.
وہ نازرشاہ سے دور رہتی پر اس سے وہ اپنے منصوبے کو انجام نہیں دے سکتی تھی
اس لئے نا چاہتے ہوئے بھی وہ اس سے اچھا سلوک کرنے لگی.
نازرشاہ کو اپنے جال میں پھسانے کے لئے اس کی مدد کرنے لگی.
وہ بھی عشال کو نا روکتا جس سے اسے مزید ہمت ملی.
آخر کار وہ دن بھی آ گیا جس دن عشال نے نازرشاہ کو چت کرنے کا فیصلہ کیا.
اگر آپ کو برا نا لگے تو میں ڈنر بناؤں ؟
نازرشاہ اسے شک کی نظروں سے دیکھنے لگا.
نہیں میں بنا لوں گا.
پلیز میں ایسے بہت بور ہوتی ہوں. میں آپ کو اپنی سگنیچر ڈش بنا کر کھلاؤں گی.
_________
مزید دو بار کوشش کرنے کے بعد آخر کار وہ راضی ہو گیا.
عشال کو کچھ خاص بنانا نہیں آتا تھا.
لیکن وہ سنگاپورئین رائس قدرے بہتر بنا لیتی تھی. تو اسی کا فیصلہ کیا.
پہلے کچھ دیر نازرشاہ اس پہ نظر رکھے تھا پر پھر کچھ کام کے یاد آنے پر ہال میں ہی بیٹھ کر کیس فائل پڑھنے لگا.
جب عشال نے سب کچھ تیار کر لیا. تو پہلے سے کچن میں چھپایا ہوا نیند کی گولیوں کا پاوڈر ایک پلیٹ میں اچھے سے مکس کر دیا.
وہ جانتی تھی کہ نازرشاہ اس پہ ضرور شک کرے گا عشال نے وہ نشہ آور پلیٹ اپنے سامنے رکھ لی اور ٹھیک رائس والی پلیٹ نازرشاہ کے سامنے رکھ دی.
نازرشاہ نے کسی بھی چیز کو ہاتھ نہ لگایا بلکہ عشال کو دیکھ کر اس کے ارادے جاننے کی کوشش کرتا رہا.
عشال نے اس نشے سے بھرے چاولوں کو چمچ میں بھرا اور سکون سے کھانے لگی.
وہ جانتی تھی کہ ایک چمچ سے اسے کچھ نہیں ہوگا لیکن نازرشاہ کا اس بات پہ یقین کرنا لازمی تھا کہ ان میں کوئی ملاوٹ نہیں.
نازرشاہ نے جب یہ دیکھا تو عشال کے سامنے پڑی پلیٹ اپنی طرف کھینچ لی اور خود کے سامنے پڑی پلیٹ عشال کے سامنے کر دی.
عشال دل ہی دل میں مسکرا رہی تھی.
اس نے وہی کیا تھا جس کا عشال کو یقین تھا.
اب وہ سکون سے ڈنر کرنے لگی.
اور نازرشاہ کو نشہ والے چاول کھاتے دیکھنے لگی.
دوائی کو اثر کرنے میں وقت لگتا. اس لئے وہ برتن اٹھا کر کچن میں چلی گئی اور گندے برتن دھونے لگی.
وہ اس وقت فائل سٹڈی کر رہا تھا جب اس پر غنودگی طاری ہونے لگی.
وہ رات کو دیر تک جاگتا تھا اس لئے اس طرح عنودگی طاری ہونا ممکن نہیں تھا.
پہلے تو وہ سمجھ نا پایا پر پھر کچن میں گنگناتے ہوئے برتن دھوتی عشال کو دیکھ کر سمجھ گیا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے.
وہ لڑکھڑاتے ہوئے عشال کے پاس چلا گیا.
اپنے دونوں ہاتھوں سے اس نے عشال کی کمر کو مضبوطی سے تھام لیا.
عشال نے جیسے ہی خود پر اس کا لمس محسوس کیا وہ رک گئی اور اپنی رکتی سانسیں بحال کرنے لگی.
وہ نازرشاہ کی سانسیں اپنے کان کی لو پر محسوس کر سکتی تھی.
اس کی پکڑ سے عشال درد محسوس کرنے لگی تھی.
تم نے کیا دیا ہے مجھے.
اس نے نازرشاہ کی بھاری آواز سنی.
عشال کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کچھ غلط کر رہی ہو.
لیکن اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ اپنئ ماما کو لے کر بہت دور چلی جائے گی.
Episode 12
آپ مجھے یہاں نہیں روک سکتے.
وہ عشال کے ذریعے ہی کھڑا تھا.
اس کی بات سن کر نازرشاہ سے عشال کو بالوں سے جکڑ کر اس کا سر پیچھے کھینچا.
عشال نے سینک کو مضبوطی سے تھام لیا.
تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہئیے تھا.
یہ کہنے کے بعد وہ خود کو مزید ہوش میں نا رکھ پایا اور گر گیا.
عشال نے پلٹ کر دیکھا تو وہ بیہوش ہو چکا تھا.
عشال اپنے آنسو صاف کرتی جھک کر اس کے کپڑوں کی تلاشی کرنے لگی.
اسے چابیاں اور اس کا والٹ ملا .
عشال نے پیسے نکال کر والٹ وہیں سائیڈ پر رکھ دیا. اور جانے کے لئے کھڑی ہو گئی.
وہ جانتی تھی کہ وہ نازرشاہ کے نکاح میں ہے اور اس کے بغیر اب اس کی کوئی زندگی نہیں.
لیکن وہ اپنے قدم سے ہٹنے والی نہیں تھی.
الوداع نازرشاہ. دعا ہے کہ ہم دوبارہ کبھی نا ملیں.
عشال کو ٹیکسی کی تلاش میں کافی دیر پیدل چلنا پڑا اور پھر وہ مطلوبہ پتے کی طرف روانہ ہو گئی.
عالیہ کو تو یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس کی بیٹی اس کے سامنے کھڑی ہے.
وہ عشال کو گلے لگا کر رونے لگی.
لیکن عشال اتنی گرم جوشی کا مظاہرہ نہیں کر پائی.
ماما نازرشاہ کون ہے اور وہ ہمیں کیوں مارنا چاہتا ہے.
تب سے جو پہلا لفظ عشال نے ادا کیا تھا وہ یہی سوال تھا.
عالیہ جانتی تھی وہ مزید اب کچھ چھپا نہیں سکتی.
ضرور بیٹی میں سب بتاؤں گی لیکن کل صبح جب ہم یہاں سے چلے جائیں گے ابھی تم بہت تھکی ہوئی ہو.
وہ اس کے چہرے کو پیار سے چھوتی کہنے لگی.
نہیں ماما مجھے ابھی سب جاننا ہے ابھی.
عشال اب ایک لمحہ کی دیری نہیں چاہتی تھی اس لئے چلانے لگی.
کیوں کیوں اس نے پاپا کو قاتل کہا ریپسٹ کہا. کیا یہ سچ ہے؟
عشال کی بات پر وہ رونے لگیں.
تت تم اپنے مرے ہوئے باپ کے بارے میں کیسے بات کر رہی ہو.
تو بتائیں سچ کیا ہے. کیوں وہ ہم سے دور رہے.
کیوں علیحدگی کے باوجود آپ نے کبھی طلاق کا مطالبہ نہیں کیا.
کیوں نازرشاہ آپ کو مارنا چاہتا ہے.
بس کرو عشال تم اتنے عرصے کے بعد مجھے ملی ہو اور یہ سب پوچھ رہی ہو.
ایک بار بھی نہیں پوچھا میں کیسی ہوں.اتنے دن کیسے گزارے تمہارے بغیر.
عشال کو اب خود پر شرمندگی ہونے لگی.
سوری ماما پر پلیز وعدہ کریں آپ کل سب بتائیں گی.
میں وعدہ کرتی ہوں عشال
عشال خود کو اپنی ماں کے ساتھ پا کر ہلکا محسوس کر رہی تھی
نا چاہتے ہوئے بھی اس کا دھیان بار بار نازرشاہ کی طرف تھا
__________‎‏
اسے اپنی سوچوں میں گما دیکھ کر عالیہ اسے آرام کرنے کا کہنے لگی.
اور خود بھی عشال کے ساتھ چل دی.
ماما اگر آپ برا نا مانیں تو میں اکیلا رہنا چاہتی ہوں.
وہ عالیہ کے ہاتھ تھام کر کہنے لگی.
ٹھیک ہے عشال میں ساتھ والے کمرے میں ہی ہوں اگر کچھ بھی چاہئیے ہو یا بات کرنا چاہو تو آ جانا.
ٹھیک ہے ماما. عشال مسکرا کر کہتے ہوئے کمرے میں چلی گئی.
کچھ دیر عالیہ اس کے کمرے کے باہر ہی رکی رہی وہ عشال کے رونے کی آواز سن سکتی تھی.
پھر وہ بھی اپنے کمرے میں چلی گئی.
عشال پتا نہیں کب تک روتی رہی اتنا رونے سے اس کی آنکھوں میں تکلیف ہونے لگی تھی.
اس کی آنکھیں اور دل دونوں جل رہے تھے وہ مزید رونا چاہتی تھی لیکن سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ وہ نازرشاہ کی وجہ سے رو رہی ہے یا اس کے لئے رو رہی ہے.
آخر رات کے کسی پہر اس کی آنکھ لگ گئی اور وہ سو گئی.
اسے کمرے سے لگاتار ٹک ٹک کی آواز آ رہی تھی.
وہ گہری نیند میں تھی جب اس آواز نے اسے بیدار کرنا شروع کیا.
وہ ابھی بھی غنودگی میں تھی اسے لگا شاید یہ گھڑی کی آواز ہے.
پھر اس کے دماغ کے کسی کونے سے آواز آئی کہ یہ گھڑی کی آواز نہیں .
وہ ہوش میں آنے لگی تو اسے محسوس ہوا کہ یہ آواز اس کے بہت قریب سے آ رہی تھی جیسے کسی دھات کو کسی دھات سے ٹکرانے سے پیدا ہوتی ہے.
لگاتار رونے کی وجہ سے اسے آنکھیں کھولنے میں مشکل ہو رہی تھی.
اس نے تھوڑی سی آنکھیں کھول کر کمرے سے آتی آواز کی وجہ معلوم کرنی چاہی.
اندھیرے میں وہ ٹھیک سے دیکھ تو نہیں پائی لیکن اس کے دماغ نے فورأ خطرے کی گھنٹی بجائی تھی.
کوئی اس کے بیڈ کے پاس کرسی پر ٹانگ پہ ٹانگ رکھے بیٹھا تھا.
اس کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جسے وہ کرسی کے ایک طرف آہستہ آہستہ مار رہا تھا جس سے وہ آواز پیدا ہو رہی تھی.
عشال کی آنکھیں ایک دم پوری کی پوری کھلی تھیں.
وہ اندھیرے میں بھی جان گئی تھی کہ وہ کون ہے.
اس نے جیسے ہی خطرہ بھانپا وہ اٹھ کر بیڈ پہ بیٹھ گئی.
عشال کی دھڑکن بے قابو ہو رہی تھی اور اسے اے.سی میں بھی پسینہ آنے لگا.
اس نے عشال کو حرکت میں دیکھ کر اپنا ہاتھ ٹھوڑی کے نیچے سے ہٹایا اور اس کی طرف جھک گیا.
کافی آرام سے سوئی تم.
نا..نازرشاہ… عشال کی آواز میں اس کا خوف صاف جھلک رہا تھا.
نازرشاہ نے سائیلنسر لگی اس گن کو اپنے لبوں پہ رکھ لیا.
________
وہ اسے خاموش رہنے کا اشارہ کر رہا تھا.
ششش
میری جان
تم نہیں چاہوں گی کہ تمہاری ماما کی نیند خراب ہو ہےنا.
عشال کو اس کی بات سے جب اپنی ماما یاد آئی تو وہ کانپنے لگی.
نازرشاہ ان دونوں کو اب آرام سے مار سکتا تھا.
وہ سسکیاں دباتی سر ہلا کر نازرشاہ کو منع کرنے لگی.
گڈ گرل.
وہ گن سے عشال کے سر کو تھپتھپانے لگا.
عشال نے خوف کے مارے آنکھیں بند کر لیں.
نازرشاہ کھڑا ہو گیا. وہ اسے اندھیرے میں مزید خوفناک لگ رہا تھا.
اب تم آرام سے کھڑی ہو گی اور بنا کوئی آواز کئے میرے ساتھ چلو گی تاکہ تمہارے ماما کو کچھ نا ہو .
عشال بمشکل اپنی تیز ہوتی سسکیاں دبا رہی تھی. وہ صرف سر ہلا کر رہ گئی.
نازرشاہ نے اسے بازو سے تھام کر زور سے کھینچا.
اس کے لہجے سے واضح ہو رہا تھا کہ وہ عشال کی کوئی بھی غلطی معاف نہیں کرے گا.
اس کی پکڑ سے عشال کو درد ہو رہی تھی لیکن وہ ننگے پاؤں خاموشی سے اس کے ساتھ چلنے لگی.
وہ دونوں کمرے سے نکل کر صحن میں داخل ہو چکے تھے.
اور بیرونی دروازے کی طرف بڑھ رہے تھے.
عشال بہت خوفزدہ تھی اور اندھیرے میں کسی چیز سے ٹکرا گئی.
خاموشی میں وہ آواز ہو طرف گونجی تھی.
عشال ڈر سے نازرشاہ کو دیکھنے لگی.
جب عقب میں موجود کمرے سے اس کی ماما کی آواز آئی
کون کون ہے.
عشال وہیں کی وہیں جم گئی.
اگر اس کی ماما باہر آ جاتی اور نازرشاہ کو دیکھ لیتی تو وہ یقینا اسے مار دیتا.
اس سے پہلے کہ نازرشاہ اپنا ارادہ بدلتا وہ بولنے لگی.
ماما … ماما میں ہوں پانی پینے کے لئے اٹھی تھی.
آپ سو جائیں.
ٹھیک ہے عشال میرے لئے بھی لے آنا.
اوکے ماما.
جب انہیں یقین ہو گیا کہ وہ اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلے گی تو وہ دبارہ عشال کو کھینچ کر باہر لے جانے لگا.
نازرشاہ نے گاڑی کی پارکنگ دو گلیاں پیچھے کی تھی وہ عشال کو زبردستی اپنے ساتھ لے جا رہا تھا.
عشال ننگے پاؤں تھی اس کے پاؤں میں کنکر چبھ رہے تھے.
لیکن نازرشاہ کسی بھی بات سے لاپرواہ اسے کھینچنے میں مصروف تھا.
جب سے عشال اس کے گھر تھی نازرشاہ کے خاص بندے چوبیس گھنٹے گھر کی نگرانی کرتے تھے
تاکہ کہیں مراد انتظار سے تنگ آ کر معاملہ اپنے ہاتھ میں لینے لگے تو وہ لوگ اس کی غیر موجودگی میں عشال کی حفاظت کر سکیں.
جب عشال اکیلی وہاں سے بھاگی تو اس کے کچھ بندوں نے عشال کا پیچھا کیا
__________
اور باقی لوگ گھر داخل ہو کر اسے ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگے.
وہ جیسے ہی ہوش میں آیا عشال کو لینے روانہ ہو گیا.
نازرشاہ اس وقت غصہ کی انتہاء کو چھو رہا تھا.
اگر عشال کچھ بولتی تو وہ کچھ ایسا کر بیٹھتا جس پہ بعد میں اسے پجھتانا پڑتا.
عشال شاید اس کے موڈ کو بھانپ گئی تھی اسی لیے خاموشی سے بیٹھی رہی.
نازرشاہ نے جیسے ہی گاڑی گھر کے گیراج میں داخل کی عشال کو دھڑکن رکتی ہوئی محسوس ہوئی.
وہ دونوں ابھی بھی خاموشی سے بیٹھے تھے جب نازرشاہ نے غصے سے سٹیرنگ وہیل کو مکے مارنے شروع کر دیے.
عشال پہلے ہی خوفزدہ تھی مزید ڈر کی وجہ سے گاڑی کا دروازہ کھول کر بھاگنے لگی جب اس نے بےدردی سے اس کے بال پکڑ کر عشال کو اپنی طرف کھینچا.
کیوں کیوں ہو تم زندہ
مجھے تمہیں مار دینا چاہئیے ختم کر دینا چاہئیے
وہ اس کے منہ پر چلا رہا تھا.
عشال مزید خود پر ضبط نا رکھ پائی اور رونے لگی.
نازرشاہ نے اسے زور سے دھکا دیا جس سے اس کا سر کھڑکی پر جا لگا
اور خود گاڑی سے نکل کر چلا گیا.
عشال کتنی ہی دیر خود میں سمٹ کر روتی رہی.
اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اب اس کے ساتھ کیا ہو گا.
کہیں کسی پل اس کا دل اسے معافی مانگنے کا کہتا.
عشال دماغ کی مان مان کر تھک چکی تھی اور جانتی تھی کہ معافی مانگنا ہی بہتر ہے اس لئے کانپتے وجود کے ساتھ نازرشاہ کے پاس جانے کے لئے بڑھنے لگی.
عشال نے ہو جگہ دیکھ لیا لیکن اسے وہ کہیں نا ملا.
آخر ہمت سے وہ اس کے کمرے کی طرف جانے لگی.
کمرے میں اندھیرا تھا لیکن وہ نازرشاہ کو دیکھ سکتی تھی.
اس کی پشت عشال کی طرف تھی.
عشال اپنے آپ پر قابو پاتی اس سے معافی مانگنے لگی.
نازرشاہ مم مجھے معاف کر دو
جب اسے کوئی جواب نا ملا تو خود کو دہرانے لگی.
نازرشاہ ایم سوری پلیز.
اب کی بار وہ رو رو کر معافی مانگنے لگی.
نازرشاہ کی آواز سے وہ دوبارہ سنبھلی تھی.
میں بہت چھوٹا تھا جب میرے ماں باپ مر گئے.
اس کی بات نے عشال کو ایک دم متوجہ کیا تھا.
وہ ابھی بھی ویسے ہی بیٹھا تھا
مجھے نہیں یاد ان کا نام کیا تھا یا وہ کیسے دکھتے تھے.
میں یہ بھی نہیں جانتا انہوں نے میرا نام کیا رکھا تھا.
اس کی بات سے عشال نے اپنے دل میں درد کی لہر محسوس کی تھی.
جب چھوٹا تھا تو مختلف اداروں میں پلتا رہا ہر کوئی اپنی سہولت کے مطابق مجھے پکارتا.
__________
جب نو سال کا ہوا تو وہاں سے بھی نکال دیا گیا کیونکہ ان کے پاس جگہ کم تھی.
وہ اب سیلنگ کو گھور رہا تھا.
تین سال تین سال میں نے سڑکوں پر پرورش پائی.
تم محلوں میں پلنے والی کبھی مجھ یتیم کا درد نہیں سمجھ سکتی.
عشال کو خود پر شرمندگی ہوئی تھی وہ اسے حوصلہ دینا چاہتی تھی پر اسے ڈر تھا کہ کہیں اس کے کچھ کہنے پر وہ خاموش نا ہو جانے.
ننگے پاؤں ننگے سر.
کوڑے میں سے ڈھونڈ کر کھانا کھا لیتا کبھی کبھی وہ تھی نصیب نا ہوتا.
ہو کوئی آپ پہ گندی نظر رکھے ہوتا ہے پر کوئی مدد کے لئے نہیں آتا.
تپتی دھوپ بےپناہ سردی یا پھر موسلادھار بارش ہوتی. کوئی بھی نا آتا مدد کو.
اس کی آواز میں کچھ ٹوٹے ہوئے خواب تھے.
میری بھی خواہشات تھیں پر وہ عام بچوں کی طرح پڑھنے کی یا کھلونوں کی نہیں بلکہ ایک دو وقت کے کھانے کی تھی.
عشال اب اس بچے کے لئے رو رہی تھی جو معاشرے کی بھینٹ چڑھ گیا تھا.
میں انہی سڑکوں پر 12 سال کا ہوا. مجھے ایک بھکاری نے چوری کرنا سکھایا.
پھر میں دکانوں سے روٹی چرا کر کھانے لگا.
ایک دن میں نے ایک بڑی گاڑی سے خوبرو شخص کو نکلتے دیکھا.
میں نے اس کا والٹ چوری کرنے کا فیصلہ کیا پر پکڑا گیا.
جانتی ہو وہ شخص تمہارا باپ رضا تھا.
پہلے تو اس نے مجھے خوب مارا پر پھر اپنے ساتھ گھر لے گیا.
اس کا گھر میرے لئے جنت تھا . وہ وہاں ملازموں کے ساتھ اکیلا رہتا تھا.
آج اس کا قفل ٹوٹا تھا تو وہ سب بتا دینا چاہتا تھا.
عشال اپنے باپ کا ذکر سن کر مزید متوجہ ہو گئی تھی.
وہاں میں چھوٹے چھوٹے صفائی کے کام کرنے لگا.
بدلے میں مجھے تین وقت کا اچھا کھانا کپڑے اور ایک کونے میں رہائش ملی.
میں بہت خوش تھا ہر وقت بس انہیں خوش کرنے کی کوشش کرتا.
جب رضا کو مجھ پر یقین آ گیا تو وہ مجھ پیکٹ دیتا جو کہ مجھے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے کر جانے ہوتے.
پانچ سال میں وہیں رہا اور پھر وہ مجھے مراد کے پاس لایا.
تمہارے پاپا نے شادی کر لی تھی اور عالیہ مجھے وہاں نہیں چاہتی تھی.
میں مراد کے کام کرنے لگا. اس نے مجھے تعلیم دلوانی شروع کی . میں ڈرگز بیچتا اور اصلحے کی سمگلنگ میں دوسروں کی مدد کرتا.
ایک دن میں مراد کے گھر گیا تو تب میری ملاقات پہلی بار پری سے ہوئی.
نازرشاہ نے جس محبت سے اس کا نام بولا عشال کے دل میں ایک ٹیس سی اٹھی.
وہ اپنے نام کی طرح تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *