Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui NovelR50713 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 04
Rate this Novel
Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 01 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 02 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 03 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 04 (Watching)Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 05,06 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 07 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 08 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 09 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 10 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 11,12 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 13 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 14 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 15 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 16 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 17,18 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 19 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 20 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 21 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 22 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Last Episode
Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 04
حورین ان کی ہر بات باآسانی سن سکتی تھی.
ایسا نہیں تھا کہ وہ لوگ اہستہ آواز میں بات کرتے تھے.
یونیورسٹی کے پہلے دن اسے ایک لڑکے نے دھکا دیا تھا اور وہ آپے سے باہر کو گئی تھی.
چیخنے اور ادھر ادھر ہاتھ پاؤں مارنے لگی. جب کسی پروفیسر نے خاموش کروانے کے لئے اسے پکڑنا چاہا تو وہ بیہوش ہو گئی.
اس دن کے بعد سے اس کے نام پڑنے لگے. رباط وہ انسان تھا جس نے اس کام میں پہل کی.
لیکن اس کے لئے حورین کا ہونا نا ہونا برابر تھا. جب کہ باقی کاس فیلو کبھی اس پر کوئی ڈرنک گرا دیتے.
کبھی وہ پینٹ سے بھری ہوتی اور کبھی کسی نوڈلز اس کے سر پر انڈیل دئے جاتے.
تو کبھی کسی چیز سے اسے گرا دیا جاتا.
کوئی کبھی اس کی مدد کو نا آتا اور نا اس نے کسی سے مدد چاہی.
عشال اس وقت پروفیسر عمر کے ساتھ کچھ ڈسکس کر رہی تھی جب اس نے یونیورسٹی کے احاطے میں کھڑے ناز کو ادھر ادھر دیکھتے پایا.
عشال کو اپنا ائی. ڈی اس سے لینا تھا اس لئے پروفیسر عمر سے اجازت لے کر اس کی طرف بڑھ گئی.
ناززز… آپ یہاں.
اس نے اس دن کی طرح گلاسز لگا رکھے تھے.
ہاں تم اپنا آئی ڈی بھول گئی تھی میں وہ لوٹانے آیا تھا .
عشال کو آئی ڈی پکڑا کر اس نے اپنا ہاتھ پوکٹ میں ڈال دیا.
اس کا دھیان عشال کے پیچھے کسی چیز پر تھا.
عشال نے مڑ کر دیکھا تو پروفیسر عمر ان دونوں کو دیکھ رہے تھے.
ان کی توجہ پا کر وہاں سے چلے گئے.
آپ کا بہت بہت شکریہ. لیکن آپ یہ ہوسٹل پوسٹ کر دیتے.
ہاں لیکن میں یہاں سے گزر رہا تھا تو سوچا کہ تمہیں دیتا جاؤں. اب میں اجازت چاہوں گا.
نجانے عشال کا دل کیوں کیا کہ وہ ابھی نا جائے.
اس لئے اس کا نام پکارتے ہوئے اس کے پیچھے بڑھی جسے سن کر ناز رک گیا.
میں آپ کو اس دن بھی ٹھیک سے شکریہ نہیں کہ پائی. اور مجھے اس سے پہلے والے معاملے پر سوری کہنا تھا. وہ ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہ رہی تھی. جیسے کچھ چوری کرتے پکڑی گئی ہو.
اگر آپ کو برا نا لگے تو آپ میرے ساتھ چائے پینے چلیں گے. تھینک یو ٹریٹ.
اس کی بات پر ناز نے اپنے ابرو آچکا دیے تو اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا.
ارے عشال یہ تم کیا کہ رہی ہو وہ کیا سوچے گا.
خود کو ڈانٹتی وہ ہڑبڑا کر وہاں سے جانے لگی جب ناز نے روک لیا.
ہاں میں ضرور جانا چاہوں گا. اگر تمہیں کوئی مسئلہ نہیں.
وہ دونوں اس وقت قریبی کافی شاپ میں تھے.
_________
وہاں ان دونوں کے علاوہ سٹوڈنٹس کا ہجوم تھا.
بیرہ ان دونوں کے آگے کپ اور کچھ ریفریشمنٹ رکھ کر چلا گیا.
خاموشی کو توڑنے کے لئے عشال بولنے لگی.
تو آپ کیا کام کرتے ہیں؟
کیا تم میرا انٹرویو لے رہی ہو؟
ناز مسکراتے ہوئے پوچھنے لگا.
ہو سکتا ہے. آخر کیوں نہیں. جب میں اپنی کمپنی کھولوں گی تو آپ کو ہائر کرنے کا سوچوں گی.
عشال نے بھی مسکراتے ہوئے کہا.
آپ کا بہت شکریہ لیکن میں اپنا بزنس کرتا ہوں.
کیسا بزنس.
ویل. میں دیگھتا ہوں کہ ہمارے کلائنٹس کوئی مشکل کھڑی نا کرے یا ان کے اور ہمارے درمیان کوئی مشکل کھڑی نا کرے.
اوہ.. کافی ڈیمانڈنگ لگتا ہے.
ہاں بہت.
عشال نوٹ کر رہی تھی کہ ناز نے سامنے رکھی کسی چیز کو نہیں کھایا تھا. بلکہ بس کپ ہاتھ میں پکڑ کر بیٹھا تھا.
اگر آپ چائے نہیں پیتے تو بتا دیتے.
نہیں ایسی بات نہیں ہے.
تو پھر کیسی بات ہے.
عشال نے بھی جھٹ سے پوچھا.
اس میں زہر ہو سکتا ہے.
منہ میں لئے سپ کو کپ میں واپس انڈیل کر اس نے پرے دھکیلا اور اسے دیکھنے لگی.
زز.. زہر
اس کے تاثرات دیکھ کر ناز ایک جاندار قہقہہ لگانے لگا.
شاپ میں موجود کئی سٹوڈنٹ ان کی طرف دیکھنے لگے.
میں یہ نہیں کہ رہا کہ اس میں زہر ہے. لیکن میں ایسے کچھ بھی کھانے پینے سے پرہیز کرتا ہوں.
کیونکہ مجھے لگتا ہے جیسے کوئی مجھے زہر دے دے گا.
عشال اب حیران و پریشان اسے دیکھ رہی تھی.
بھلا یہ کیسی بات ہوئی.
یہ بھی ایک قسم کا فوبیا ہے. کندھے اچکا کر کہا گیا.
چلو میں تمہیں واپس چھوڑ دوں. ناز کھڑے ہو کر کہنے لگا. اور عشال بھی اٹھ کھڑی ہوئی.
ہاں میری ابھی کافی کاسز باقی ہیں.
وہ دونوں یونیورسٹی کے بیرونی دروازے کے باہر تھے جب عشال نے حورین کو تیزی سے باہر آتے دیکھا.
عشال اسے آواز لگانے لگی. جسے سن کر وہ ان دونوں کی طرف آ گئی.
لیکن پھر ناز کو دیکھتے ہی کچھ قدم پیچھے رک گئی اور زمین کو تکنے لگی.
تم اس وقت کہاں جا رہی ہو.
کسی سٹوڈنٹ نے اس کی بازو پر گرم چائے انڈیل دی تھی اور اب وہ ہوسٹل جا رہی تھی.
وو .. وہ.. وہ … مم … میں.
وہ بری طرح سے ہکلا رہی تھی. اور حورین تب ہی کہلاتی تھی جب وہ کنفیوز یا خوفزدہ ہو.
شاید ناز کی موجودگی اسے پریشان کر رہی تھی.
عشال کی نظر اس کی بازو پر پڑی. جسے اس نے دوسرے ہاتھ سے تھام رکھا تھا.
_______
اچھا چلو چھوڑو میں تمہارے ساتھ چلتی ہوں.
ناز کو خدا حافظ کہتی وہ حورین کے ساتھ چل پڑی.
کیا ہوا ہے حورین.
حورین سے کوئی جواب نا پا کر اس نے دوبارہ اس سے پوچھا.
حورین ایک دم چونکی.
وہ کون تھا ؟
وہ … وہ تو ناز تھا. تمہیں بتایا تھا نا اس کے بارے میں.
حورین پھر زمین کو تکتی چلنے لگی.
آپ کو اس میں کچھ الگ نہیں لگا؟
الگ کیا مطلب؟
اسے دیکھ کے لگتا ہے جیسے وہ اپنے آپ کر چھپانے کی کوشش کر رہا ہو. اس جیسے ایک شخص سے میں ملی تھی. یہ کہ کر وہ ایک دم کانپ اٹھی.
کیا مطلب حورین کیا چھپانے کی کوشش کر رہا ہے وہ؟
میں نہیں جانتی پر آپ اس سے دور رہیں.
اس کی باتوں نے عشال کو پریشان کر دیا تھا.
وہ دونوں ہاسٹل پہنچ گئی تھیں خاموشی سے اپنے کمرے کی طرف چلی گئیں.
حورین دوائی پکڑ کر باتھروم کی طرف جا رہی تھی اور عشال نے اس کی مدد کرنی چاہی لیکن اس نے دروازہ اس کے منہ پر بند کر دیا.
عشال حورین کا انتظار کر رہی تھی. اسے حورین کی فکر بھی تھی اور وہ اس سے مزید بات بھی کرنا چاہتی تھی.
حورین باہر نکلی تو عشال اسے دیکھ کر خود کو روک نا پائی.
حورین شرٹ کی بازو اوپر کر لو تمہیں زخم کو ڈھکنا نہیں چاہئیے.
نہیں میں ٹھیک ہوں. وہ اس سے نظریں نا ملانے کی کوشش کر رہی تھی.
اس نے جب سے ناز کو دیکھا تھا وہ عجیب برتاؤ اختیار کر رہی تھی.
مجھے سونا ھے آپ پلیز جاتے ہوئے لائٹ آف کر جانا.
وہ اپنے بیڈ میں گھس کر کہنے لگی.
عجیب بات ہے . عشال سوچتی ہوئی یونیورسٹی چلی گئی.
اس کے بعد سے حورین روز ہی سوتے میں روتی اور چیختے ہوئے اٹھ جاتی.
عشال نے اس سے کئی بار پوچھا پر وہ کچھ نہیں بتاتی.
ان دونوں پر نیند پوری نا ہونے کی وجہ سے برا اثر پڑ رہا تھا.
ان کے سمسٹر کے پیپرز بھی قریب تھے. وہ ٹھیک سے پڑھ نہیں پا رہی تھی.
دوسری طرف اس کی ماما نے واپسی کی ضد لگا رکھی تھی اور پولیس اس کے پاپا کے قاتل کو ڈھونڈ نہیں پائی تھی.
اتنی پریشانیوں سے وہ ہر چیز پر جھنجھلا اٹھتی تھی.
وہ اس وقت پروفیسر عمر کی کلاس لینے کے بعد اگلی کلاس کے لئے جا رہی تھی جب پروفیسر نے اسے اپنے پاس بلایا.
عشال کیا آپ اس انسان کو جانتی ہیں جو اس دن آپ سے ملنے آیا تھا ؟
کون؟…
پہلے تو عشال کو سمجھ نا آیا کہ پروفیسر عمر کس کے بارے میں بات کر رہے ہیں پھر ایک دم یاد آیا تو بولی.
اوہ..
_______
جی جی میں انہیں جانتی ہوں. ان دنوں تقریبا وہ روز ہی اس کے بارے میں سوچتی تھی.
وہ کیا لگتے ہیں آپ کے.
آخر کار وہ ایسے سوال کیوں کر رہے ہیں. جب عشال کو سمجھ نا آیا کہ کیا جواب دے تو یہ کہ دیا کہ وہ اس کے بابا کے دوست تھے.
اوہ … اس کا جواب سن کر وہ ایک دم سیدھے ہو کربیٹھ گئے اور عشال کو جانے کا کہنے لگے.
آخر سب کو کیا ہو رہا ہے.
پچھلے ایک ہفتے سے اس کی ماما کا فون نمبر بند آ رہا تھا وہ کافی پریشان تھی اور پیپر ختم ہونے کا انتظار کر رہی تھی تاکہ وہ گھر جا کر پتا کر سکے.
ایک جگہ کر مسلسل نا رہنے کی وجہ سے ان کا کوئی ایسا جاننے والا بھی نہیں تھا جسے وہ کال کر سکے.
وہ پیپر دے کر واپس ہاسٹل روم میں جا رہی تھی جب ریسیپشن پر موجود لڑکی نے اسے دیکھ کر بلایا.
تمہارے لئے کچھ آیا ہے.
میرے لئے؟
ہاں. اس نے مسکراتے ہوئے سائیڈ پر رکھے ہوئے خوبصورت بکے کو عشال کی طرف بڑھایا.
عشال سرخ گلابوں کے اس بکے کو دیکھ کر بہت حیران ہوئی لیکن پھر وہ لے کر روم میں چلی گئی.
حورین کا پیپر سیکنڈ شفٹ میں تھا اس لئے وہ کمرے میں اکیلی تھی.
پہلے پھولوں کی کی خوشبو کو اپنے اندر اتارا اور پھر دیکھنے لگی کہ شاید بھیجنے والے کا نام پتا ہو.
بکے کے ساتھ ایک خوبصورت کارڈ لگا تھا.
میں نہیں جانتا کہ تمہیں کون سے پھول پسند ہیں لیکن ان کو دیکھ کر مجھے تمہاری یاد آئی اس لئے تمہیں بھیج دیے.
میں آج شام اسی کافی شاپ میں تمہارا انتظار کروں گا. مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے.
عشال اس کی اس بےباکی پر حیرت اور مسرت کے ملے جلے احساس محسوس کر رہی تھی.
لیکن پھر اس کی حیرانگی فتح یاب ہوئی.
اگر یہ پھول ناز نے بھیجے ہیں تو اسے مجھ سے کیا ضروری بات کرنی ہے. یہی سوچتی وہ بیڈ پر لیٹ گئی.
شام ہونے میں ابھی کافی وقت تھا. اس لئے اس نے سستانے کا فیصلہ کیا.
کمرے میں پیدا ہوتی آواز سے وہ بیدار ہوئی .
حورین واپس آ چکی تھی. اور وہ پھولوں کو گلدان میں سجا رہی تھی.
کتنے خوبصورت ہیں نا.
عشال کی بات پر اس نے مسکرا کر سر ہلا دیا.
ٹائم دیکھا تو شام ہو چکی تھی. اس لئے اٹھ کر تیار ہونے لگی.
آپ کہیں جا رہی ہیں کیا؟
حورین نے کبھی عشال کو اتنی لگن سے تیار ہوتے نہیں دیکھا تھا. اس لئے پوچھے بنا نا رہ سکی.
ہاں.. لیکن میں جلدی واپس آ جاؤں گی تم پریشان مت ہونا.
