Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 10

عشال کو جب ہوش آیا تو صبح کی ہلکی ہلکی روشنی پردے سے ہوتے ہوئے کمرے میں داخل ہو رہی تھی.
وہ اپنے کمرے میں بیڈ پر موجود تھی.
اسے آخری بات جو یاد آئی اس سے عشال ایک دم کپکپائی تھی.
اسے یقین تھا کہ وہ اگلا دن نہیں دیکھے گی.
اسے سانس لینے میں بھی تکلیف ہو رہی تھی.
کمرے میں نیم تاریکی تھی.
اس نے ادھر ادھر دیکھا تو نازرشاہ سامنے صوفے پر نیم دراز تھا.
شاید وہ سو رہا تھا.
کل رات وہ اسے اکیلا چھوڑ گیا تھا. عشال کو جیسے ہی یاد آیا وہ کروٹ بدل کر رہ گئی.
شاید وہ بعد میں اس کے پاس آیا تھا تبھی تو وہ زندہ تھی.
نجانے وہ کس بات کی سزا بھگت رہی تھی خود پر قابو پانے کے باوجود اس کے لبوں سے سسکی نکلی.
تمہارا ونڈ پائپ ابھی زخمی ہے. رونے سے تمہیں اور تکلیف ہو گی.
اس کی آواز سن کر وہ ایک دم ٹھٹکی تھی اور پھر اٹھ بیٹھی.
تم تمہیں اس سے کیا.
عشال کو بولنے میں بھی تکلیف ہو رہی تھی اور وہ اپنی آواز بھی پہچان نا پائی.
نازرشاہ صوفے سے اٹھ کر اس کے پاس آ بیٹھا اور عشال خود میں سمٹ کر بیٹھ گئی.
دیکھو عشال کل جو ہوا وہ نہیں ہونا چاہئیے تھا. میں وعدہ کرتا ہوں آئندہ تمہارے ساتھ ایسا کچھ نہیں کروں گا لیکن تمہیں بھی وعدہ کرنا ہو گا کہ تم فرار ہونے کی کوشش نہیں کرو گی.
عشال کو اس پر زرا بھی بھروسہ نہیں تھا لیکن ابھی وہ اس کی بات ماننے کے علاوہ کیا کر سکتی تھی بس لئے سر ہلا کر اکتفا کیا.
نازرشاہ اسے تسلی دینا چاہتا تھا اسے باہوں میں بھر کر اپنے کئے کی معافی مانگنا چاہتا تھا.
لیکن وہ اس کے پاس سے اٹھ کھڑا ہوا.
سائیڈ ٹیبل میں پین کلر موجود ہے تم وہ پاوڈر بنا کر کھا لینا کیونکہ ابھی تم کچھ نگل نہیں پاؤ گی.
وہ اسے تنبیہ کرتے وہ وہاں سے چلا گیا.
حورین کو عشال کی بہت یاد آ رہی تھی. ساری یونیورسٹی ہی اس کے بھاگ کر شادی کرنے کی بات جان چکی تھی.
ایسی باتیں جنگل میں آگ کی طرح پھیلتی ہیں. ہو کسی نے خود سے ساتھ باتیں جوڑ لی تھیں.
لیکن حورین کو اس سب پہ یقین نہیں تھا.
وہ عشال کو جتنا جانتی تھی اس میں ہمیشہ عشال نے حالات کا مقابلہ ہی کیا تھا.
اور پھر نازرشاہ کو تو عشال بہت کم جانتی تھی.
حورین اچھے سے سمجھ چکی تھی کہ یہ سب اسی کا کیا ہوا ہے.
وہ پہلی نظر میں ہی جان گئی تھی کہ نازرشاہ ایک خطرناک انسان ہے.
وہ اب خود کو قصوروار سمجھتی تھی.
_________
اسے عشال کو کھل کر خبردار کرنا چاہئیے تھا.
لیکن وہ اس کے خلاف کہتی بھی کیا.
عشال کے جانے کے بعد حورین کی زندگی مزید مشکلات سے بھر چکی تھی.
یونیورسٹی میں سٹوڈنٹ تنگ کرتے. رات میں خواب اور باقی کسر اس کے پاپا کال کر کے پوری کر دیتے.
وہ پہلے ہی ایک سمسٹر میں میتھ میں فیل ہو چکی تھی اب اگر دوبارہ ہوتا تو وہ ڈروپ ہو جاتی.
یونیورسٹی جاتے ہوئے اسے ریسیپشن سے عشال کے نام ایک خط ملا.
وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ اس میں کیا ہے لیکن اس نے وہ سنبھال کر رکھ لیا.
نازرشاہ اب اسے کسی بھی بات پر تنگ نا کرتا.
اور عشال اس سے دوری بنائے رکھتی.
آج تیسرے دن بھی اس کے گلے میں درد تھی لیکن اب وہ ٹھوس غصہ کھا سکتی تھی.
نازرشاہ کے دوست ڈاکٹر فراز نے آ کر اس کی اس کا معائنہ کیا تھا اور اسے دوائی دی تھی.
لیکن اس سب میں جو بات عشال کے حق میں تھی وہ اس کا بدلا ہوا رویہ تھا.
اور اسے اب اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا.
کک… کیا پھر سے کہنا. اس نےاونچی آواز سے کہا.
میں نے کہا کہ تم یہاں بور ہوتی ہو گی. اس لئے اپنی اس دوست حورین کو یہاں ملنے بلا سکتی ہو.
عشال کو ابھی بھی یقین نہیں آ رہا تھا.
کیا یہ کوئی نیا طریقہ ہے مجھے تنگ کرنے کا. اس نے مشکوک لہجے میں کہا.
حد ہے. نازرشاہ اب خود سے بڑبڑا رہا تھا.
نہیں ایسا کچھ نہیں ہے. اگر تمہیں نہیں ملنا تو کوئی بات نہیں.
نہیں نہیں میں نے ایسا کب کہا کہ نہیں ملنا مجھے.
عشال اس موقع کو کسی صورت ہاتھ سے جانے نہیں دے سکتی تھی.
ہاں لیکن اس بات کا خیال رکھنا کہ تم اس سے ہمارے بارے میں ذکر نا کرو.
کیونکہ میرے لوگ کبھی بھی اس لڑکی کی…
جان لے سکتے ہیں. پتا ہے پتا ہے. عشال نے اس کی بات مکمل کی تھی.
چلو اچھا ہے اگر تم حالات سمجھنے لگی ہو تو.
میں کب اسے بلا سکتی ہوں؟
عشال سے اب بلکل صبر نہیں ہو رہا تھا.
چاہے تو کل ہی بلا لو.
میں تمہاری اس سے بات کروا دوں گا.
وہ کیسے.
تمہارا موبائل میرے پاس ہے عشال.
اوہ…
اس واقع کے بعد سےعشال نے پہلی بار اس سے بات کی تھی.
اور نازرشاہ اس زیادہ بولنے والی عشال کو مس کرنے لگا تھا.
اس لئے اس سے بات کرنے کے لئے ابھی ابھی یہ بات دماغ میں آئی تھی.
اسے آج رات مراد کے کام سے جانا تھا.
ھاد ان کو اصلحے کا ٹرک بھیج رہا تھا.
__________
عشال کو یقین نہیں آ رہا تھا حورین واقعی اس سے ملنے آ رہی تھی.
نازرشاہ نے اپنی موجودگی میں عشال کی اس سے بات کروائی تھی اور حورین کو ایڈریس سمجھا دیا تھا.
وہ حورین کو یہاں بلانا تو نہیں چاہتی تھی لیکن وہ خود بھی مجبور تھی.
اس نے حورین کو اپنی دوائیاں لانے اور کچھ دوسرا سامان لانے کا کہا دیا.
رضا صاحب کے قتل کے بعد ڈاکٹر نے اسے ڈپریشن کی دوائیاں دی تھیں.
جن میں نیند کی دوا بھی تھی.
وہ اسے استعمال کرنا چاہتی تھی.
جب عشال نے کال پر حورین کو ملنے کا کہا تو حورین کا پہلا جواب تو انکار کا ہی تھا.
لیکن عشال نے اس کی کئی بار مدد کی تھی اس وجہ سے ہمت کر کے اس سے ملنے کو تیار ہو گئی.
وہ اس شخص سے خوفزدہ تھی لیکن عشال کو اس کی مدد کی ضرورت ہو سکتی تھی.
سارے راستے وہ زبان دانتوں تلے دباتی رہی کہ کہیں ٹیکسی ڈرائیور کو واپس چلنے کا نا کہ دے.
اپنے ہاتھوں کو زور سے بند کر رکھا تھا جس سے ناخن اس کی ہتھیلی پہ زخم کر چکے تھے.
یہ پہلی بار نہیں تھا اور نا ہی آخری بار ہوتا.
وہ عشال کے کچھ کپڑے اور دوسری خاص چیزیں بھی لائی تھی.
اس کے علاوہ وہ خط بھی اس سب میں شامل تھا جو عشال کے لئے آیا تھا.
حورین اب اس ویلا نما گھر کے باہر کھڑی تھی.
وہ وہاں کھڑی ایک بار پھر اپنے فیصلے پر غور کر رہی تھی.
جب ایک دم گیٹ کھل گیا.
حورین خوف سے دو قدم پیچھے ہٹ گئی.
دروازہ کھولے وہی شخص اس کا انتظار کر رہا تھا.
حورین نے ایک بچی کی طرح سر اور نظریں جھکا لیں.
بلاشبہ سامنے کھڑی لڑکی حسن کی تعریف تھی لیکن ماہتاب کی طرح اس پر بھی داغ تھا.
پر پھر بھی وہ چودھویں کے چاند کی طرح کشش رکھتی تھی.
نازرشاہ نے جب اسے پہلی بار دیکھا تو اسے وہ بہت عجیب لگی.
نجانے کیوں وہ لڑکی اسے خطرے کی گھنٹی جیسے لگتی تھی.
وہ جانتا تھا کہ عشال نے اپنی دوائی اور کچھ کپڑے منگوائے ہیں.
وہ چاہتا تو اسے سب نئے سرے سے لے دیتا پر وہ اس کو خوش کرنا چاہتا تھا.
جب اس نے آگے بڑھ کر بیگ اٹھایا تو حورین کچھ قدم اور پیچھے ہو گئی.
اس کی نظریں اور سر بدستور جھکا ہوا تھا.
کالے گھنے بالوں نے اس کا چہرہ ڈھانپ رکھا تھا.
نازرشاہ اسے اندر آنے کا اشارہ کر کے آگے بڑھ گیا.
اور وہ اسی انداز میں اس کے پیچھے قدم اٹھانے لگی.
عشال لاونج میں حورین کا انتظار کر رہی تھی.
________
وہ ایک کونے سے دوسرے کونے تک مسلسل چکر لگا رہی تھی.
آج بہت کچھ غلط ہو سکتا تھا.
حورین جیسے ہی اندر آئی عشال اس کی پاس بھاگی چلی گئی
اس کا دل کر رہا تھا کہ آگے بڑھ کر وہ اسے گلے سے لگا لے.
ان چند دنوں میں اس کی زندگی کتنی بدل گئی تھی.
لیکن اپنے جذبہ کو قابو میں رکھتی وہ حورین سے سلام کرنے لگی.
حورین نے عشال کی آواز پر سر اٹھا کر دیکھا تھا.
وہ عشال کو صحتمند دیکھ کر بہت خوش تھی.
نازرشاہ بیگ عشال کے پاس رکھ کر ان سے فاصلے پر جا کر بیٹھ گیا.
مقصد انہیں سپیس فراہم کرنا تھا لیکن ان کی باتوں سے انجان ہونا نہیں.
عشال نے حورین سے بہت کچھ پوچھا اور وہ اپنے مخصوص انداز میں جواب دیتی رہی.
کیا تم میرے کپڑے اور دوائی بھی لائی ہو.
ہممم… میں نہیں جانتی تھی کونسی دوائی اس لئے آپ کا میڈیکل باکس ہی لے آئی.
اوہ… یہ تو تم نے بہت اچھا کیا.
عشال کو اپنا پلان اب مکمل ہوتے دکھ رہا تھا.
عشال اسے کسی بات سے اگاہ نہیں کر سکتی تھی اس لئے کوئی خاص بات نا کی.
شاید اس بات کا علم حورین کو بھی تھا کیونکہ اس نے نازرشاہ کے بارے میں کچھ نہیں پوچھا.
حورین کو واپس جانا تھا اس لئے وہ اٹھ کھڑی ہوئی.
عشال اسے کچھ دیر اور روکنا چاہتی تھی پر اس کا جانا ہی بہتر تھا.
اور عشال آپ کے لئے ایک لیٹر آیا تھا.
واپس جاتی حورین ایک دم پلٹ کر بولی .
اور اپنے چھوٹے سے پرس سے لیٹر نکال کر عشال کو تھمانے لگی.
لیٹر لفظ پر نازرشاہ نے فورأ مڑ کر دیکھا تھا.
اور عشال نے بھی ایک دم اس کی طرف دیکھا.
نازرشاہ کی نظر عشال کے ہاتھ میں پکڑے لیٹر پر تھی.
شاید میرا رزلٹ ہے. عشال نے معاملہ سنبھالنا چاہا.
نہیں… حورین کچھ بولنا چاہتی تھی پر پھر عشال کا چہرہ دیکھ کر خاموش ہو گئی.
جی میں اب چلتی ہوں.
میں آپ کو گیٹ تک چھوڑ آتا ہوں.
وہ اپنے گھر میں انجان لوگ پسند نہیں کرتا تھا.
اس لئے مسلسل لیٹر پر نگاہ رکھتے ہوئے حورین کے پیچھے چل پڑا.
جیسے ہی وہ اندرونی گیٹ سے نکلا اور سامنے کی طرف دیکھنے لگا.
اس نے لیٹر کا کور پھاڑ کر اسے کھولنا شروع کیا.
جلدی میں اس سے تھوڑا سا لیٹر بھی پھٹ گیا.
پر وہ نازرشاہ کے آنے سے پہلے وہ پڑھ لینا چاہتی تھی.
لیٹر پر صرف دو لائنیں لکھی تھیں.
عائش جلد از جلد یہاں آنے کی کوشش کرو.
دوسری لائن میں کسی جگہ کا اڈریس تھا.
_______
عائش اسے بس اس کی ماما کہتی تھیں اور لکھائی بھی انہی کی تھی.
وہ خوش تھی کہ اس کی ماما ٹھیک ہے.
اس نے اڈریس دو سے تین بار دہرایا تاکہ اسے یاد ہو جائے.
نازرشاہ تیزی سے اس کی طرف آ رہا تھا.
عشال اسے دیکھتے ہی لیٹر پھاڑنے لگی. کسی بھی حالت میں یہ نازرشاہ کے ہاتھ نہیں لگنا چاہئیے تھا.
اس کے ارادے بھانپ کر وہ عشال کی طرف لپکا.
عشال اس کاغذ کے ٹکڑے کرتی اپنے کمرے کی طرف بھاگنے لگی.
ابھی وہ سیڑھیوں پر ہی تھی جب نازرشاہ نے اسے پکڑ لیا.
عشال چیخ مارتی اس کے ہاتھ پر زور سے کاٹ کر دوبارہ بھاگی.
وہ اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر چکی تھی.
کمرے میں داخل ہوتے ہی واش روم کی طرف بڑھی تاکہ وہ ٹکڑے بہا دے.
نازرشاہ نے اسے پکڑ کر اپنی طرف گھمایا.
چھوڑو مجھے چھوڑو.
وہ اس کی پکڑ میں اچھلتی خود کو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی.
تم یہ مجھے دے دو عشال.
نازرشاہ نے غراتے ہوئے کہا.
نہیں دوں گی . نازرشاہ اس کے ہاتھ سے وہ پھٹا ہوا کاغذ چھین رہا تھا.
لیکن وہ جنگلی بلی کی طرح اسے نوچنے لگی.
نہیں دوں گی کبھی نہیں.
نازرشاہ نے اس کے ناخنوں کی پرواہ کئے بغیر اس سے کچھ ٹکڑے چھین کر پینٹ کی پاکٹ میں ڈال لئے.
اور باقی ٹکڑے بھی چھیننے لگا.
عشال نے اسے روکنے کے لئے نازرشاہ کے رخسار کو نوچ ڈالا.
اس کے رخسار سے خون بہنے لگا اور عشال کا ایک ناخن اس کی آنکھ میں لگا جس سے وہ تڑپ کر پیچھے ہوا.
عشال موقع کا فائدہ اٹھا کر واشروم کی طرف بھاگی اور باقی ٹکڑے پانی سے بہا دئے.
جب وہ باہر آئی تو وہ اسے سرخ آنکھوں سے دیکھ رہا تھا.
اور عشال کو اپنا فیوچر کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا اگر اس کا کوئی فیوچر تھا تو.
کیوں کیا تم نے یہ. کس کے لئے اس عورت کے لئے جو تمہیں اکیلا چھوڑ کے بھاگ گئی.
وہ اتنا اندازہ تو کر ہی چکا تھا کہ وہ عالیہ کی طرف سے تھا.
عشال کو اس کی بات پہ غصہ آیا.
کیونکہ آپ نے انہیں مجبور کیا. وہ اپنی جان بچانے پر مجبور تھیں.
عشال بھی اسی کے انداز میں چلائی.
تمہاری ماں اور باپ یہی ڈیزرو کرتے ہیں.
جانتی ہو تمہارا باپ کون تھا. وہ قاتل تھا ریپسٹ تھا لڑکیوں کو بیچتا تھا.
نازرشاہ کے لئے اپنا غصہ قابو رکھنا مشکل ہو گیا تھا.
عشال کو یہ بات بلکل برداشت نا ہوئی.
اس لئے حلق کے بل چلائی
تم جھوٹے گھٹیا انسان
تمہارے ساتھ جو بھی ہوا بہت اچھا ہوا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *