Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 19

ہمم… آگے بولو
اس کا کوئی رشتےدار یا دوست نہیں. سوائے ایک لڑکی کے.
احتشام نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا.
اور تمہیں جان کر حیرانی ہو گی کہ وہ کون ہے.
ایسا کون ہے جس کے بارے میں جان کر میں حیران ہوں گا.
اس کا نام حورین مرتضیٰ ہے. وہ مرتضیٰ علی کی بیٹی ہے. جوکہ تمہارے بابا شہباز مرزا کے لئے کام کرتا ہے.
وہ واقعی ھاد مرزا کا دھیان کھینچنے میں کامیاب رہا تھا.
دلچسپ…
اس کے بارے میں اور کیا جانتے ہو؟
یہی کہ وہ اکلوتی اولاد ہے اس کی پیدائش کے وقت اس کی ماں کی وفات ہو گئی.
اس کے بعد مرتضیٰ نے اپنی بیوی کی بہن سے شادی کر لی.
حورین مرتضیٰ عشال کو کیسے جانتی ہے؟
وہ دونوں ایک ہی یونیورسٹی میں تھے. اور ایک ہی روم شیئر کر رہے تھے.
تمہارے دماغ میں کیا چل رہا ہے ھاد؟ کیا تمہیں اس لڑکی پہ شک ہے؟
کچھ بھی ہو سکتا ہے اسے اٹھا لاؤ.
ھاد نے اپنی بات مکمل کی تھی.
ھاد….وہ ابھی اٹھارہ کی نہیں ہوئی.
احتشام نے سنجیدگی سے کہا.
ھاد مرزا کے دو ہی اصول تھے پہلا انسانی سملگلنگ نہیں ہو گی.
دوسرا کسی بھی اٹھارہ سال سے کم شخص کو تنگ نہیں کیا جائے گا.
کتنا عرصہ ہے اس میں.
چھ مہینے….
نہیں یہ بہت زیادہ وقت ہے احتشام.
وہ ٹھنڈی آہ بھرتا ٹیرس کی طرف چلا گیا.
سمندری سے اٹھتی لہریں وہ صاف دیکھ سکتا تھا.
تمہارا چھوٹا بھائی بھی تو اسی یونیورسٹی میں ہے نا.
ہاں … رباط بھی وہیں پڑھتا ہے.
اسے کہو اس لڑکی سے دوستی کرنے کو . اور وہ پتا کرے کہ یہ کتنا جانتی ہے ہمارے بارے میں.
جیسا تم چاہو.
عشال کو آج گولی لگنے کے بعد تیسرا دن تھا.
اسے کوئی دوائی نہیں دی گئی. ان لوگوں کو کوئی پرواہ نہیں تھی کہ وہ جیئے یا مرے.
کھانے کے نام پہ اسے آدھی سوکھی ڈبل روٹی دی جاتی.
وہ دو دن سے اسی گدے پہ پڑی تھی.
وہاں ایک دوسرے کی مدد کرنا سختی سے منع تھا اس لئے کوئی اس کی مدد کو نا بڑھتا.
اس کمرے میں موجود باقی گدوں پر دوسری لڑکیاں سوتی تھیں.
ان لوگوں کا کہنا ماننے پہ ان کے ساتھ کوئی مار پیٹ نہیں کی جاتی.
عشال ہی ان کے لئے عبرت کا نشان تھی.
وہ لوگ بہت آسانی سے یہاں ان سب کا مائنڈ واش کر رہے تھے.
اور اپنی جان بچانے کے چکر میں انہیں اس بات کا احساس بھی نہیں ہو رہا تھا.
عشال کو آج ان کے ساتھ باہر آنے کا کہا گیا تھا.
________
کیوں کہ بقول ان کے آج سے ان کی تربیت کا آغاز تھا.
وہ سب ایک لائن میں آ کر ہال میں گٹھنوں کے بل بیٹھ چکی تھیں.
عشال دیواروں کا سہارا لیتے ہوئے وہاں تک آ تو گئی تھی لیکن ان کی طرح بیٹھ نہیں سکتی تھی.
اس کی ٹانگ ذرا سے ہلنے پر درد کرتی تھی تو پھر گٹھنوں کے بل بیٹھنا تو ناممکن تھا.
وہاں کھڑے ایک پہرےدار نے زور سے اس کے کندھے پہ کچھ مارا اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا.
وہ کل رات بخار سے جاگتی رہی تھی. اس وقت اس میں کسی سے لڑنے کی طاقت نہیں تھی.
وہ آہستہ آہستہ فرش پہ جھکنے لگی.
تکلیف کے باوجود وہ گٹھنوں پہ بیٹھ گئی.
ان سب کے سامنے کھانا لا کر رکھ دیا گیا.
ان سب کو اچھا کھانا دیا گیا تھا سوائے عشال کے.
جس کے سامنے ایک باول میں پتلا سا سوپ تھا.
عشال جانتی تھی کہ یہ سب صرف وائنڈ واش کے طریقے ہیں.
اس نے سوپ میں پڑا چمچ پکڑ لیا. لیکن وہ چمچ کی جگہ کانٹا تھا.
اسے سمجھ نہیں آیا آخر وہ کانٹے سے سوپ کیسے پئے گی.
وہی شخص جس نے اسے گولی ماری تھی اس کے سامنے بیٹھ گیا.
وہاں سب اسے کامران کہ کر پکارتے تھے.
تم سوچ رہی ہو گی کہ تمہیں یہ کیوں دیا گیا.
اور تم کانٹے سے سوپ کیسے پیو گی. تو اس کی وجہ تمہارا رویہ ہے.
اگر تم بھی ٹھیک سے پیش آتی تو ان سب کی طرح اچھا کھانا کھا سکتی تھی.
اب تو تمہیں اس پلاسٹک کے کانٹے سے ہی کام چلانا ہو گا.
وہ اس کے پاس سے اٹھ گیا اور کچھ فاصلے پہ کھڑا ہو گیا.
عشال جانتی تھی یہ سب اس کی ہمت توڑنے کے لئے ہے اور اسے سب کے سامنے شرمندہ کرنے کے لئے.
اس نے اس پلاسٹک کے کانٹے کو ایک طرف رکھ دیا اور باول ہاتھوں میں اٹھا کر اسے منہ سے لگانے لگی.
ابھی اس باول نے اس کے پھٹے ہوئے ہونٹوں کو چھوا ہی تھا
جب کسی نے پاؤں مار کر اسے گرا دیا.
سارا سوپ عشال اور زمین پر پھیل چکا تھا.
اور وہ شخص خباثت سے اسے دیکھتے ہوئے مسکرا رہا تھا.
اوہ… یہ تو گر گیا.
چلو ایسا کرو کہ فرش کو اپنی زبان سے صاف کر دو.
عشال کو تو یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کہ رہا ہے.
اگر وہ اسے کوئی جانور سمجھتا تھا تو وہ غلط تھا.
ایسے کیا دیکھ رہی ہو صاف کرو اسے…
عشال اسے غصے سے دیکھنے لگی.
اس نے عشال کا سر پکڑ کر اسے جھکا دیا.
وہ اس کا چہرہ فرش پہ رگڑ رہ تھا.
عشال نے اپنا منہ اور آنکھیں زور سے بند کر لیں.
__________
نازرشاہ نے عشال کو ڈھونڈنے کا طریقہ بدل دیا تھا.وہ اب ان لوگوں کو نہیں ڈھونڈ رہا تھا جو کہ اس سب میں ملوثتھے.بلکہ اب وہ ایسے لوگوں سے تعلقات بنا رہا تھاجو کہ کسی انسانی غلام کو خریدنے میں اس کی مدد کر پائیں.ایک ہفتے بعد اسے اس میں کامیابی بھی ہونے لگی.وہ ایک ایسے شخص تک پہنچ چکا تھا جو اسے ایک ایسا غلامدلوا سکتا تھا.اسے امید تھی کہ وہ عشال تک پہنچ جائے گا.دولت کی اس کے پاس کوئی کمی نہیں تھی.اور وہ خود بھی مافیا سے تعلق رکھتا تھا.اسی وجہ سے اس پر آسانی سے بھروسہ کر لیا گیا تھا.اسے بس ڈر تھا کہ عشال تک پہنچنے میں اسے زیادہ دیر نا ہو جائے.ناجانے اس کی عشال کس حالت میں ہو گی.‏…رباط کو اپنے بھائی کا کام کرنے سے کوئی مسئلہ نہیں تھا.اور نا ہی کسی لڑکی سے دوستی میں.لیکن اسے اس لڑکی سے مسئلہ صرور تھا.بھلا وہ اس سے دوستی کیسے کرتا جو کہ اپنے سائے سے بھی ڈرتی ہو.لیکن اب اسے یہ کام تو کرنا ہی تھا.وہ لڑکی روز کی طرح سب سے پیچھے بیٹھی تھی.اور اس کے آس پاس کی کرسیاں خالی رہتی تھیں.وہ سر جھکائے کاپی پہ کچھ لکھنے میں کھوئی ہوئی تھی.رباط اپنے دوستوں کو سلام کرتا اس کے پاس چلا گیا.اور ساتھ والی کرسی پہ بیٹھ گیا.حورین نے جیسے ہی اپنے ساتھ کسی کو بیٹھتے محسوس کیااس کے ہاتھ رک گئے.وہ جھکے ہوئے سر سے ہی بالوں کی اوٹ سے ساتھ والے کو دیکھنے لگی.وہ اسے جانتی تھی.تت…تم.. یہاں…کک کیوں…بب.بیٹھےوہ بری طرح سے اٹک رہی تھی.کیوں کیا یہاں کوئی اور بیٹھتا ہے.رباط نے کرسی کی طرف اشارہ کر کے کہا.حورین نفی میں سر ہلا کر رہ گئی.چلو پھر تو کوئی مسئلہ نہیں…وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا.ویسے میرا نام رباط ہے اور تم حوری ہو نا؟حورین نے پھر سے نفی میں سر ہلا دیا.حورم؟اس نے دوبارہ سر ہلا دیا.اممم… حور؟وہ دبارہ سر ہلانے لگی جب رباط چڑ کر کہنے لگا.تم بول سکتی ہو تو خود ہی کیوں نہیں بتا دیتی.حو..حو…رین.آہ…. حورین نائس نیم.اس نے عادت سے مجبون ہاتھ آگے بڑھا دیا.حورین فورأ سے خود میں سمٹ گئی.اوہ…. ایم سوری میں بھول کیا تھا تمہیں امم… کچھ مسئلہ ہےآخر کہاں پھس گیا میں. وہ دل ہی دل میں سوچ کہ رہ گیاحورین وہاں سے اٹھ جانا چاہتی تھی لیکن اس کے ایک طرف دیوار تھی اور دوسری وہ
_________
وہ ابھی وہاں سے نکلنے کا سوچ ہی رہی تھی جب پروفیسر آ گئے اور کلاس سٹارٹ ہو گئی.
رباط وہاں بیٹھا بور ہو رہا تھا اور مسلسل اپنی ٹانگ ہلا رہا تھا.
ساری کلاس کا دھیان ان کی طرف تھا .
ہر لڑکی اس پر مرتی تھی اور وہ حورین کے ساتھ جا بیٹھا تھا.
حورین کا دھیان بلکل بھی لیکچر پہ نہیں تھا.
وہ اس کے فریت بیٹھا مسلسل ٹانگ ہلا رہا تھا.
وہ اس کی ہلتی ہوئی ٹانگ دیکھتی رہی کہ کہیں وہ اسے چھو نا لے.
لیکچر ختم ہوتے ہی وہ اٹھ کھڑا ہوا. جبکہ وہ وہیں بیٹھی رہئ.
چلو…کیا چلنا نہیں اگلی کلاس میں.
رباط اسے بیٹھا دیکھ کر پوچھنے لگا.
حورین ہمیشہ آخر میں نکلتی تھی اس لئے آرام سے بیٹھی تھی.
اس نے سر جھکا لیا.
اور اپنے ناخن اپنی ہتھیلی پہ مارنے لگی.
ارے چلو بھی….
اس بار رباط نے اونچی آواز سے کہا تو وہ اٹھ کھڑی ہوئی.
ہماری ایک ہی کلاس ہے تووو میں بھی تمہارے ساتھ چلتا ہوں.
وہ بنا کچھ کہے سر جھکا کر اس کے پیچھے چلنے لگی.
رباط آگے آگے اس کے لئے راستہ بناتا جاتا اور وہ اس کے چوڑے جسم کے پیچھے چھپی ہوئی تھی.
چلتے چلتے وہ ایک دم رک گیا.
حورین کو بھی بریک لگانی پڑی ورنہ وہ اس سے ٹکرا جاتی.
تم میرے پیچھے کیوں چل رہی ہو میرے برابر کیوں نہیں چلتی؟
رباط کے کہنے پہ وہ سر نفی میں ہلانے لگی.
اور ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گیا.
آج میں تمہیں کچھ نہیں کہ رہا لیکن آئندہ تم برابر میں چلو گی.
اسے عشال کے بغیر ایک مہینہ ہو چکا تھا.
اور آخر اب وہ اس کے نزدیک تھا.
اس کا رابطہ ان کے ایک ایجنٹ سے ہوا تھا.
جو اسے اپنے ساتھ کسی فلیٹ پہ لے آیا تھا.
اس کا کہنا تھا کہ وہ تصویر دیکھ کر پہلے پسند کر لے اس کے بعد اسے کورئیر دکھایا جائے گا.
ان کے نزدیک وہ انسان نہیں بلکہ بس ایک کوموڈٹی تھے.
وہ شخص اسے ایک کے بعد ایک لڑکی کی تصویر دکھا رہا تھا لیکن ان میں سے کوئی بھی عشال نہیں تھی.
نازرشاہ اپنا سر تھام کر بیٹھ گیا. وہ کئی دنوں سے سویا نہیں تھا.
عشال کی فکر نیند کو کوسوں دور رکھتی تھی.
کیا تمہیں کوئی پسند نہیں ائی؟
نہیں.
ہمم… رکو میں تمہیں نئے بیچ کی تصاویر دکھاتا ہوں.
ان کی تربیت ابھی چل رہی ہے پر ہو سکتا ہے تمہیں کوئی پسند آ جائے.
نازرشاہ کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات جان کر اس شخص کے منہ سے رال ٹپکنے لگی تھی.
__________
اس کی پوری کوشش تھی کہ نازرشاہ کسی کو پسند کر لے.
اتنی تصاویر دیکھ کر اس کا سر درد کرنے لگا تھا.
وہ اسے نئی تصاویر دکھانے لگا لیکن نازرشاہ آنکھیں بند کر کے سر تھامے بیٹھا تھا.
پتا نہیں عشال ملک میں تھی بھی یا نہیں. کہیں وہ غلط جگہ تو وقت ضائع نہیں کر رہا.
وہ شخص ایک کے بعد ایک تصویر بدل رہا تھا.
نازرشاہ کا دل ایک دم دھڑکا تھا. اور اس نے آنکھیں کھول دیں.
اس کے سامنے عشال کی تصویر تھی.
وہ ملگجے حلیے میں تھی.
اس کے کندھوں تک آتے بال پہلے سے لمبے ہو چکے تھے.
وہ بہت کمزور لگ رہی تھی.
وہ سر جھکا کر کھڑی تھی اسے پہچاننا مشکل تھا لیکن وہ اس کی عشال ہی تھی.
یہ لڑکی… مجھے یہ چاہئیے.
وہ شخص اپنے دانت نکالنے لگا آخر وہ کامیاب ہوا تھا.
میں بوس سے بات کروں گا کچھ دن کے بعد آپ کو ہماری گاڑی سے ایک جگہ لے جایا جائے گا.
وہاں آپ سامان کو اچھے سے دیکھ لینا اور پھر آگے قیمت بتا دی جائے گی.
اب جب اسے عشال کا پتا لگ گیا تھا تو وہ اتنے دن صبر نہیں کر سکتا تھا.
نہیں میں زیادہ دن نہیں رک سکتا جتنی جلدی ہو سکے بندوبست کرو.
مشکل ہے. کیونکہ میں بوس سے رابطہ نہیں بنا سکتا وہ جب چاہیں تب اپنی مرضی سے رابطہ کرتے ہیں.
رینجرز اور ‏beast‏ کی وجہ سے یہ کام مشکل ہو گیا ہے.
پر آپ ہمارے خاص بندے ہو میں کچھ کرنے کی کوشش کروں گا.
نازرشاہ وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا اور جانے لگا.
اگر وہ مزید یہاں رکتا تو یقینا اس شخص کا منہ توڑ دیتا.
وہ عشال تک پہنچنے کا واحد ذریعہ تھا اور والوقت اس کے لئے قیمتی.
کیا پتا لگا اس لڑکی کے بارے میں….
ھاد اپنے خون آلود ہاتھ صاف کرتے ہوئے پوچھ رہا تھا.
وہ اپنے ٹارگٹ کے قریب پہنچ چکا تھا.
رباط تو راضی ہی نہیں ہو رہا تھا. اس کے مطابق وہ لڑکی پاگل ہے اور بہت عجیب.
یہ بتاؤ کیا وہ ہمارے بارے میں کچھ جانتی ہے.
رباط کو تو ایسا نہیں لگتا.
ٹھیک ہے احتشام اپنے بھائی سے کہو کوشش جاری رکھے.
آج اسے حورین کے ساتھ ایک مہینہ ہو چکا تھا.
وہ اسے یونیورسٹی میں حفاظت فراہم کرتا.
ہوسٹل چھوڑ کر آتا یہاں تک کہ یونیورسٹی پہنچ کر اس کا مین گیٹ پر انتظار بھی کرتا.
دوسرے ہی دن حورین کو تنگ کرنے پہ اس نے اپنے کلاس فیلو کی اچھی دھلائی کی تھی
جس سے سب کو پتا لگ گیا کہ وہ اب اس کے ساتھ ہے اس لئے سب نے حورین کو تنگ کرنا چھوڑ دیا تھا
_________
اب کوئی بھی اسے تنگ نہیں کرتا.
لیکن وہ ابھی بھی ویسی ہی ڈرپوک تھی. بس اب وہ رباط سے کچھ کہتے ہوئے اتنا نہیں اٹکتی تھی.
رباط حورین کی اس کے پیچھے چلنے کی عادت سے تنگ آ چکا تھا.
اس لئے اسے کلاس میں لے جاتے ہوئے رک گیا اور حورین کی طرف پلٹا.
میں نے تمہیں کتنئ بار کہا ہے میرے برابر یا آگے چلا کرو.
وہ غصے سے بولا تھا.
حورین اپنئ خوبصورت گرے رنگ کی آنکھیں مکمل پھیلائے اسے دیکھنے لگی.
وہ… میں…
وہ کیا. دیکھو ایسے پیچھے چلتے ہوئے کوئی تمہیں کچھ بھی کہ دے گا تو مجھے کیسے پتا لگے گا.
اس نے حورین کو سمجھانا چاہا لیکن وہ ہمیشہ کی طرح سر جھکا کر کھڑی ہو گئی.
رباط کو اس پر غصہ آنے لگا.
دیکھو حورین… اگر تم نے یہ عادت ختم نا کی تو میں تمہیں اٹھا کر لے جاؤں گا.
اس نے ایک دم سر اٹھایا. وہ اسے ڈرانے میں کامیاب رہا تھا.
تت…تم… ایسا …نہیں…کرو …گے.
اس نے بمشکل کہا تھا.
آزما کر دیکھ لو. رباط ایک قدم اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہنے لگا.
اس کے چہرے پہ کئی رنگ آئے اور گئے
ای ی ی ی ی ی ی ی
وہ چلاتے ہوئے کلاس میں بھاگ گئی. اور رباط اسے دیکھتا ہی رہ گیا.
ای ی ی … یہ ای ی ی کیا ہے؟
وہ خود سے پوچھنے لگا. ویسے بھاگتے ہوئے کتنی کیوٹ لگتی ہے.
وہ مسکراتے ہوئے خود بھی کلاس کی طرف بڑھ گیا.
وہ لوگ ظالم تھے بہت ظالم…
آئے دن عشال اور باقی لڑکیاں ان کے ظلم کا شکار ہوتئں.
انہیں کئی دن بھوکا اور پیاسا رکھا جاتا.
پیاس کی شدت سے اس کا برا حال تھا.
ان کے ساتھ ایک لڑکی نے خودکشی کی کوشش کی تو اسے پہرےداروں نے ناکام بنا دیا.
سزا کے طور پر کی عزت کو داغدار کر دیا گیا.
اس کے بعد عشال نے اپنے ذہن میں اٹھتے ایسے تمام خیالات کو ختم کر دیا. وہ ان ای حوس کا شکار نہیں بننا چاہتی تھی.
اسے کل رات سے الگ کمرے میں رکھا گیا تھا وہ نہیں جانتی تھی کیوں پر اس کی امیدیں ختم ہونے لگی تھیں.
کمرے کا دروازہ آواز کرتے ہوئے کھلا تھا.
کسی نے اس کے منہ پر کپڑے مارے.
یہ پہن کر تیار ہو جاؤ. اور اگر زیادہ ناٹک کیا تو تیار ہو جانا میرے لئے.
عشال کی تو روح تک کانپ اٹھی تھی.
وہ لباس اسے ڈھکنے سے زیادہ اس کے خدوخال واضح کرنے کے لئے بنا تھا.
وہ آنسو پیتی لباس تبدیل کرنے لگی.
کچھ دیر بعد وہ شخص واپس آیا تھا. اور اسے ساتھ چلنے کو کہا.
_________
ﻭﮦ ﻭﮨﯿﮟ ﮐﮭﮍﯼ ﺭﮨﯽ.
ﺍﯾﺴﮯ ﻟﺒﺎﺱ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﻟﮯﺟﺎﻧﺎ
ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ.
ﻋﺸﺎﻝ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻧﮯ ﺩﮬﮍﮐﻨﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ
ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ.
ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﮐﻤﺮﮮ ﺳﮯ
ﻟﮯ ﮔﯿﺎ.
ﺳﻦ ﻟﻮ ﺍﻭﺭ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﻮ. ﺗﯿﺮﯼ ﻧﻈﺮﯾﮟ
ﺍﭨﮭﻨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺌﯿﮟ.
ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺗﻮ ﻧﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺣﺮﮐﺖ ﮐﯽ
ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺠﮫ ﺟﺎﺅﮞ ﮔﺎ ﮐﮧ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺳﺐ
ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ.
ﻋﺸﺎﻝ ﮐﺎ ﺧﺸﮏ ﺣﻠﻖ ﻣﺰﯾﺪ ﺧﺸﮏ
ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ.
ﮨﺮ ﻃﺮﻑ ﮨﺮ ﻃﺮﻑ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺑﻨﺪ ﺗﮭﺎ. ﺁﺧﺮ
ﻭﮦ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﮮ.
ﻭﮦ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﺟﮭﮑﺎ ﮐﺮ ﭼﻠﻨﮯ ﻟﮕﯽ.
ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﮨﺎﻝ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﯿﺮﻭﻧﯽ
ﺑﺎﻋﯿﭽﮧ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ.
ﺍﺳﮯ ﺗﻮ ﺑﮭﻮﻝ ﮨﯽ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺷﺎﻡ ﮐﯽ
ﭨﮭﻨﮉﯼ ﮨﻮﺍ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ.
ﯾﺎ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ.
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻧﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﯿﮟ.
ﻭﮦ ﺑﺎﻏﯿﭽﮧ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ.
ﻭﮨﺎﮞ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﭘﺘﮭﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﻨﺎ
ﺗﮭﺎ.
ﻋﺸﺎﻝ ﮔﮭﺎﺱ ﺍﻭﺭ ﭘﺘﮭﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ
ﭘﺎﺅﮞ ﺳﮯ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ.
ﻧﺠﺎﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﯾﮧ ﻣﻮﻗﻊ
ﺑﮭﯽ ﻧﺎ ﻣﻠﮯ.
ﺍﯾﮏ ﺟﮕﮧ ﺟﺎ ﮐﺮ ﻭﮦ ﺭﮎ ﮔﺌﮯ.
ﻋﺸﺎﻝ ﮐﯽ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺟﮭﮑﯽ
ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯿﮟ.
ﺍﺳﮯ ﻭﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺮﺑﺎﺩﯼ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ
ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﻮﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ.
ﻭﮦ ﺩﻭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﮩﻨﮕﮯ ﺟﻮﺗﮯ ﺩﯾﮑﮫ
ﺳﮑﺘﯽ ﺗﮭﯽ.
ﮐﺎﻣﺮﺍﻥ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ.
ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺷﺨﺺ ﮐﻮﻥ ﺗﮭﺎ ﺍﺳﮯ
ﺟﺎﻧﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﺎﮨﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ.
ﺟﺐ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮭﮍﮮ ﭘﮩﺮﮮ ﺩﺍﺭ
ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﻨﺪﮬﮯ ﭘﺮ ﻭﺯﻥ ﮈﺍﻻ ﺗﻮ ﻭﮦ
ﺍﭘﻨﺎ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮔﭩﮭﻨﻮﮞ ﭘﮧ
ﺟﮭﮏ ﮔﺌﯽ.
ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺑﯿﭩﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ
ﺷﺮﻭﻉ ﺳﮯ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ.
ﭘﺘﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﭩﮭﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﺒﮭﻨﮯ ﻟﮕﮯ
ﺗﮭﮯ.
ﮐﺎﻣﺮﺍﻥ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ
ﺗﮭﺎ.
ﻭﮦ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﺧﻮﺩ ﭘﺮ
ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ ﺗﮭﯽ.
ﯾﮧ ﺳﺐ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺗﮭﺎ. ﺍﺱ ﻧﮯ
ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ.
ﻭﯾﺴﮯ ﺟﺐ ﯾﮧ ﻟﮍﮐﯽ ﺁﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ
ﺑﮕﮍﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ.
ﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﮐﯿﺴﮯ ﺳﺪﮬﺮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ.
ﺍﺱ ﻧﮯ ﻗﮩﻘﮩﮧ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ.
ﺑﮕﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺗﻮ ﺍﺻﻞ ﻣﺰﮦ ﮨﮯ.
ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ.
ﻭﮦ ﺁﻭﺍﺯ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺩﻝ
ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺮﯼ ﺗﮭﯽ.
ﺍﺱ ﺁﻭﺍﺯ ﮐﻮ ﻭﮦ ﮐﯿﺴﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﺠﺎﻧﺘﯽ.
ﻭﮦ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﺘﯽ ﺗﮭﯽ.
ﻋﺸﺎﻝ ﻧﮯ ﯾﮏ ﺩﻡ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ
ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ.
ﻭﮨﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻭﮨﯽ ﮨﻮﻧﭧ ﻭﮨﯽ ﭼﮩﺮﮦ.
ﻧﺎﺯﺭﺷﺎﮦ…
ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭧ ﮐﭙﮑﭙﺎﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻥ
ﺳﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮑﻠﺊ ﺗﮭﯽ.
ﻧﺎﺯﺭﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﮍﮬﺎ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ
ﺭﺧﺴﺎﺭ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﺍ ﺗﮭﺎ.
ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻧﮯ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺩﮬﮍﮐﻨﺎ
ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ.
ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﻟﯿﻨﮯ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﻟﮯ ﺟﺎﺋﮯ
ﮔﺎ.
ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﮐﺎﻣﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﯿﻮﮞ ﺗﮭﺎ .

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *