Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui NovelR50713 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 08
Rate this Novel
Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 01 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 02 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 03 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 04 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 05,06 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 07 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 08 (Watching)Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 09 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 10 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 11,12 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 13 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 14 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 15 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 16 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 17,18 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 19 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 20 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 21 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 22 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Last Episode
Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 08
وہ اب نم آنکھوں میں التجا لئے اسے دیکھ رہی تھی.
تم نے مجھے یہاں قید کر رکھا کیا وہ کافی نہیں جو اب یہ سزا دے رہے ہو مجھے.
ہمم… عشال رضا سچ کہا کہ تم یہاں میری قیدی ہو اور جب تک میں چاہوں گا تم یہی رہو گی.
نازرشاہ اس پر مزید جھک کر اب اسے ڈرا رہا تھا.
عشال کو فرار کا کوئی راستہ سمجھ نہیں آ رہا تھا.
ایک جوان لڑکی میرے ساتھ اکیلی رہے گی کیا میں اس کا فائدہ نہیں اٹھاؤں گا؟
اس کے انداز اور بات سے وہ اب کپکپانے لگی تھی اس کے ہونٹ خشک پڑنے لگے تھے عشال کو لگ رہا تھا گویا اس کی قوت گویائی ختم ہو گئی ہو.
میں تمہیں نکاح کا اوبشن دے رہا ہوں حالانکہ مجھے اس کی ضرورت نہیں.
وہ اب چہرے پہ گھٹیا مسکراہٹ سجائے ہوئے تھا اور وہ مسکراہٹ عشال کے لئے ناسور بن گئی تھی.
اگر تمہیں ایسے ہی رہنا ہے میرے ساتھ تو ٹھیک ہے مجھے تو کوئی مسئلہ نہیں اور اگر نکاح کر کے رہنا ہے تو شام تک تیار رہنا.
اسے مسکرا کر دیکھتے ہوئے وہ وہیں چھوڑ گیا.
اور عشال وہیں ڈھے سی گئی.
گھٹنوں پر سر رکھ کے زور زور سے رونے اور چیخنے لگی.
آخر یہ سب کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ. میں ایسے شخص سے نکاح نہیں کر سکتی.
لیکن وہ اسے بہت کارگر دھمکی دے کر گیا تھا. وہ شخص کچھ بھی کر سکتا تھا یہ وہ اچھے سے دیکھ چکی تھی.
اس کی باتوں کو یاد کر کے اس وجود میں پھر سے کپکپاہٹ ہونے لگی تھی.
یہ اس کا گھر تھا آخر اسے کیا ضرورت تھی عشال کو یہاں پر لانے کی. اب اسے خود پر غصہ آ رہا تھا.
فریج سے ٹھنڈا پانی نکال کر وہ اس کے گھونٹ بھر رہا تھا.
وہ عشال کو کہیں بھی رکھ سکتا تھا لیکن اسے ڈر تھا کہ مراد اس تک پہنچ کر اسے مار ڈالے گا.
اسے جسے قتل کرنے کا اس نے شروع سے ہی سوچ رکھا تھا اب اسے اس سب سے بچانے کی ترکیبیں بنا رہا تھا.
فی الحال وہ اس کے گھر میں سب سے زیادہ محفوظ تھی.
اور اس سے نکاح اس کی مجبوری تھی.
اسے کچھ فائلز چیک کرنی تھی.
مراد کی اگلی پیشی بھی آنے والی تھی اس لئے اس کا وکیل ہونے کے ناطے اسے اس کی تیاری بھی کرنی تھی.
اس کا دوست فراز جو کہ ایک ڈاکٹر تھا اور اکثر ان کے زخموں کا علاج کرتا تھا ان دونوں کا نکاح پڑھانے والا تھا.
اس کے لئے مراد نوری اس کی بیوی اور فراز ک بیوی گواہوں کے طور پر شامل ہونے والے تھے.
________
فراز کے علاوہ کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ وہ یہاں پر کیوں ہیں.
مراد کو جب اس نے اپنے منصوبے کا بتایا تو وہ آگ بگولا ہو گیا.
کیا تم بھول گئے ہو رضا نے کیا کیا.
مراد مجھے بار بار یہ کہنا بند کرو میں کچھ نہیں بھولا اور نا ہی اپنا مقصد بھولا ہوں بس پلان میں تھوڑی تبدیلی آئی ہے.
مراد اسے شق سے دیکھ رہا تھا اسے نازرشاہ پر یقین نہیں آ رہا تھا.
میرے پاس اس وقت کوئی راستہ نہیں اس کی ماں کو پکڑنے کے لئے عشال کو زندہ رکھنا ضروری ہے.
اور اسے ہوسٹل سے میرے ساتھ آتے ہوئے سب نے دیکھا تھا. ایسے میں ہم پولیس کا خطرہ نہیں لے سکتے .
اس کی باتوں سے مراد کو احساس ہوا کہ شاید وہ صحیح کہ رہا ہے لیکن اس کا تجربہ اسے بتا رہا تھا کہ یہ سب جھوٹ ہے.
وہ جب سے اسے وہاں چھوڑ کر گیا تھا عشال وہیں بیٹھی تھی.
اس کا سر اور پیٹ درد پہلے سے کم تھا کیونکہ اس کے سینے میں اٹھتی درد کے آگے یہ کچھ نہیں تھا.
خود پر غصہ اور افسوس کے علاوہ کچھ نہیں کیا جا سکتا تھا.
لیکن وہ شکرگزار تھی کہ وہ اور اس ماں جہاں بھی تھے کم ازکم زندہ تھے
اور یہ اچھی خبر تھی.
اس کے کپڑے چہرے اور بالوں پر ابھی بھی مٹی لگی ہوئی تھی.
دروازہ کھلنے کی آواز پر بھی اس نے اپنے گھٹنوں سے سر نہیں اٹھایا تھا.
کوئی اس کے سامنے کھڑا تھا وہ یہ محسوس کر سکتی تھی.
اٹھو. تمہارے ان ڈراموں کے لئے وقت نہیں میرے پاس.
اس کی بات پر عشال نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا.
عشال دھیرے سے اس کے سامنے کھڑی ہو گئی.
ایک بات یاد رکھنا نازرشاہ میں تم سے اپنے لئے نکاح تو کر رہی ہو لیکن میں تمہارے لئے ناسور بن جاؤں گی.
اس کی بات سن کر نازرشاہ نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا.
تم کیا جانو ناسور کیا ہوتا ہے.
اور پھر دھکیلتا ہوا باہر لے گیا.
عشال نے سیڑھیوں سے اترتے ہوئے نیچے دیکھا تو لاونج میں کئی لوگ موجود تھے.
انھیں دیکھتے ہی پہلی بات جو اس کے ذہن میں آئی وہ مدد کی تھی.
آخر ان لوگوں میں سے کوئی تو اس کی مدد کر سکتا تھا.
نازرشاہ نے اس میں آتی تبدیلی کو فورأ سمجھ لیا تھا.
یہ لوگ تمہاری مدد نہیں کریں گے الٹا تمہاری جان لینے میں وقت ضائع نہیں کریں گے.
اس کی بات سن کر عشال بڑی بڑی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی.
وہ اب ان لوگوں کے درمیان پہنچ چکے تھے.
سب اسے دلچسپی سے دیکھ رہے تھے.
__________
ماسوائے اس بوڑھے شخص کے اس کی نظروں میں عشال کے لئے نفرت وہ اتنی دور سے بھی محسوس کر پا رہی تھی.
اس کے سامنے اسے نازرشاہ ایک محفوظ قلعہ محسوس ہوا اس لئے اس کے قریب ہو گئی.
عشال کی اس حرکت کو سب نے دیکھا تھا خاص طور پر اس شخص نے.
ان میں سے ایک آدمی جو کہ چشمہ پہنے ان سے قدرے بہتر لگ رہا تھا پاس آ کر نازرشاہ سے ملنے لگا.
اس کے ساتھ ایک عورت بھی تھی. شاید یہ میری مدد کر سکے.
اسی چشمے والے شخص جسے نازرشاہ فراز کے نام سے مخاطب کر رہا تھا ان کا نکاح پڑھنا شروع کیا.
عشال کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اٹھ کر وہاں سے بھاگ جائے.
جب عشال سے نکاح کا سوال کیا گیا تو وہ صوفے پر ایک دم اچھل پڑی.
ساتھ بیٹھے نازرشاہ نے اس کا ہاتھ تھام کر اتنی زور سے دبایا کہ وہ کراہ اٹھی.
عشال کو لگا شاید کوئی اس کی مدد کے لئے کچھ کہے گا لیکن وہ سب نازرشاہ کے اس قدم پر خوش دکھ رہے تھے.
جبکہ وہاں موجود عورتوں نے ایسے نگاہیں پھیر لیں جیسے انہوں نے کچھ نا دیکھا ہو.
تم سے کچھ پوچھا گیا ہے.
نازرشاہ نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا.
اس سے عشال یہ تو سمجھ گئی کہ واقعی کوئی بھی اس کی مدد کرنے والا نہیں تھا.
وہ چیخ چیخ کر کہنا چاہتی تھی کہ اسے یہ نکاح نہیں قبول.
لیکن دبی ہوئی آواز میں صرف قبول ہے کہ سکی.
گواہوں نے اپنے دستخط کئے اور یوں وہ دونوں شرعی اور قانونی حیثیت سے ایک دوسرے کا لباس بن گئے.
وہ اس وقت نازرشاہ کے کمرے میں تھی اس کے ساتھ فراز کی بیوی تھی جو نازرشاہ کے کہنے پر کپڑے اور کچھ دوسری استعمال کی چیزیں لائی تھی.
عشال کو وہ اچھی لگی اس لئے موقع ضائع کئے بغیر مدد مانگنے لگی.
پلیز میری مدد کریں مجھے یہاں زبردستی رکھا گیا ہے.
پلیز آپ پولیس کو بتا دیں. مجھے بچا لیں ورنہ یہ مجھے مار ڈالے گا.
پہلے تو وہ عورت آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھتی رہی اور پھر بوکھلا کر ادھر ادھر دیکھنے لگی.
میرے خیال سے تم پر یہ رنگ بہت اچھا لگے گا.
وہ ایسے کہ رہی تھی جیسے اس نے کچھ سنا ہی نہیں.
عشال کو تو یقین ہی نہیں آیا اس نے دوبارہ کوشش کرنی چاہی
نہیں آپ سمجھ نہیں رہیں. مجھے یہاں زبردستی…
اس نے اپنی بات ابھی مکمل بھی نا کی تھی جب وہ عورت ایک دم کھڑی ہو گئی.
شاہ صاحب… میں بس آپ کی بیوی کو آپ کی منگوائی چیزیں دے رہی تھی
جاؤ فراز تمہارا انتظار کر رہا ہے
_______
وہ سر جھکائے وہاں سے چلی گئی.
عشال خود کو اس کے ساتھ تنہا پا کر بوکھلا رہی تھی.
لیکن اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ ہر چیز کا مقابلہ وہ بہادری سے کرے گی.
تمہیں منع کیا تھا نا میں نے کہ کسی سے کچھ مت کہنا لیکن تم نے میری بات نہیں مانی.
میں تمہاری غلام نہیں جو تمہاری ہر بات مانوں.
اوہ تو تم میں پھر سے جوش آ گیا.
وہ اس کے سامنے کھڑا تھا.
میں تم سے ڈرتی نہیں. مجھے نہیں پتا کہ تم کس چیز کا بدلہ لے رہے ہو لیکن تم نے جو میرے ساتھ کیا ہے اس کے بعد ان کا ادھورا کام میں مکمل کروں گی.
عشال کے یہ کہنے کی دیر تھی کہ غصے سے نازرشاہ کا چہرہ سرخ ہونے لگا.
اس نے عشال کو گردن سے دبوچ لیا اور اپنا ہاتھ اس کے گلے کا پھندا بنا دیا.
عشال اس کی پکڑ میں جھٹ پٹانے لگی اور دونوں ہاتھوں سے خود کو اس سے آزاد کروانے کی کوشش کرنے لگی.
نازرشاہ کی پکڑ اس کی گردن پہ مزید مضبوط ہونے لگی.
اگر تمہیں ایک لمحے کے لئے بھی لگا کہ تم مجھ سے بچ سکتی ہو یا مجھے کوئی نقصان پہنچا سکتی ہو تم اس ذہن سے نکال دو.
کیونکہ میں وعدہ کرتا ہو کہ اگر ایسا کچھ کرنے کی کوشش کی تو تمہاری جان بہت دردناک طریقے سے نکالوں گا اور تم ترسو گی کہ کب تم آخری سانس لو.
عشال مسلسل اس سے آزاد ہونے کی کوشش کر رہی تھی لیکن پھر سانس رکنے سے اس کی قوت بھی جیسے جانے لگی.
نازرشاہ نے اسے اپنی گرفت سے آزاد کر دیا اور فرش پر گری.
کھانسنے اور اونچی اونچی سانس لینے لگی.
اپنی گردن پہ ابھی بھی اسے نازرشاہ کی مضبوط پکڑ محسوس ہو رہی تھی.
اس کے ہاتھ نے گھرا نشان چھوڑا تھا اور وہ اس میں جلن محسوس کر رہی تھی.
نازرشاہ اسے وہیں چھوڑ کر چلا گیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر وہاں رہا تو یقینا اسے مار ڈالے گا.
اسے گھر میں قید کر کے وہ اپنے نئے شکار کے بارے میں سوچنے لگا.
اس جگہ پر کسی کا آنا جانا نہیں تھا.
یہاں تک کہ کوئی ٹی وی بھی نہیں تھا. عشال نے تنہائی میں کئی کوئی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی.
پر وہ جگہ کسی اندھیرے قلعے کی طرح بند تھی وہاں سے باہر نکلنے کا صرف ایک راستہ تھا جسے وہ ہمیشہ بند کر کے جاتا تھا.
نازرشاہ صبح اٹھ کے خود ناشتہ بناتا اور پھر چلا جاتا.
اس نے عشال سے اپنا فاصلہ برقرار رکھا تھا جس کے لئے وہ شکر گزار تھی.
اگر وہ عشال کی موجودگی بھول چکا تھا جو کہ ناممکن تھا .
______
پر اگر ایسا تھا تو وہ اس کی نظر میں نہیں آنا چاہتی تھی.
اس کی اب بس ایک امید یہ تھی کہ ہوسٹل انتظامیہ اس کی غیر موجودگی کا نوٹس ضرور لے گی .
اور شاید پولیس سے رابطہ قائم کرے.
لیکن پچھلے دو دن سے ایسا کچھ نہیں ہوا تھا. وہ مایوس نہیں ہونا چاہتی تھی.
کیونکہ مایوسی اس کی اصل ہار ہوتی اور پھر اسے نازرشاہ سے واقعی کوئی بچا نا پاتا.
نازرشاہ اس وقت مراد سے مل کر واپس آیا تھا.
وہ پھر سے عشال کے معاملے میں اس کا سر کھا رہا تھا.
اسے نہیں پتا تھا کہ کب تک وہ اسے یوں ٹال سکتا ہے.
پولیس اس کے گھر کے باہر کھڑی تھی اسے پتا تھا وہ اس تک ضرور آئے گی.
پولیس میں موجود اس کے خبری نازرشاہ کو پہلے ہی آگاہ کر چکے تھے.
نیا ائی. جی ان کے لئے مشکلات کھڑا کر رہا تھا.
نازرشاہ اس کے تبادلے کی کوشش کر رہا تھا جس وجہ سے وہ اس پر کڑی نظر رکھے تھا.
آفیسر کیا بات ہے.
آپ کے خلاف اغواء کی ایف ائی آر درج کی گئی ہے.
اغواء کی؟ کیا میں جان سکتا ہوں کس کے اغواء کی.
عشال رضا. آخری بار آپ کو اس کے ساتھ دیکھا گیا تھا.
میں نے عشال کو اغواء نہیں کیا.
ہم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے اور شادی کرنا چاہتے تھے.
لیکن اس کی والدہ میرے خلاف تھیں جس وجہ سے عشال اور میں نے کچھ دن پہلے ہی انہیں بنا بتائے شادی کر لی.
وہ اب مسکراتے ہوئے بتا رہا تھا.
اس کا مطلب عشال رضا آپ کے ساتھ ہیں ؟
عشال رضا نہیں آفیسر عشال شاہ کہیں.
ہمیں ان سے مل کر ان کا بیان لینا ہوگا.
ضرور. کیوں نہیں.
نازرشاہ انہیں لان میں رکنے کا کہ کر خود اندرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا.
گھر میں داخل ہو کر وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا. جانتا تھا عشال وہیں ہو گی.
وہ اس شفاف شیشے کے سامنے کھڑی باہر ہی دیکھ رہی تھی.
اس نے یقیناً پولیس کو دیکھ لیا تھا تبھی چہرے پہ قاتلانہ مسکراہٹ سجائے نازرشاہ کی طرف پلٹی.
آہاں نازرشاہ لگتا ہے ہم دونوں کی سواری آ گئی.
میری واپسی کی اور تمہاری جیل کی.
اس کے لہجہ زہر آلود تھا جس سے اس کے دل نے ایک آہ بھری تھی.
لیکن وہ بھی اپنے احساسات چھپانے میں ماہر تھا.
اس کے سامنے آ کھڑا ہوا اورعشال ہی کے انداز میں کہنے لگا.
اتنی بھی جلدی کیا ہے عشال شاہ. نازرشاہ نے اسے زچ کرنا چاہا جس میں وہ کامیاب بھی رہا.
تم یہاں سے مسکراتے ہوئے میرا ہاتھ تھام کر باہر چلو گی
