Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 14

عشال شرمندہ ہو رہی تھی.
جسےنازرشاہ خوب انجوائے کر رہا تھا.
نہیں نہیں تم بہت تھک گئی ہو.
پلیز اتار دیں مجھے سب دیکھ رہے ہیں.
مجھے یقین ہے یہاں کے لوگ اس سے بھی بہت زیادہ دیکھنے کے عادی ہیں.
اس کی بات سن کر عشال نے شرم کے مارے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپا لیا.
ایک ساتھ وقت گزارنے سے ان میں کافی قربت آئی تھی
عشال اس وقت سو رہی تھی اور نازرشاہ اس کے پاس بیٹھا کسی گہری سوچ میں تھا.
آدھی رات کا وقت تھا.
عشال کسی وجہ سے نیند سے بیدار ہوئی تھی.
نازرشاہ کو خود کے اتنا قریب پا کر وہ اٹھ بیٹھی.
نازرشاہ وہاں سے اٹھ کر عشال کی سائیڈ پر آ گیا.
اور اس کے پاس آ کر فرش پہ گٹھنوں کے بل بیٹھ گیا.
عشال میں تمہارا مجرم ہوں.
اس نے آگے بڑھ کر اس کے دونوں ہاتھ تھام لئے.
میں تمہیں دکھ دینے کے لئے شرمندہ ہوں.
عشال سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ وہ کیا کہے.
اس کے باوجود مجھ میں اتنا ظرف نہیں کے تمہیں آزاد کر دوں.
اسے عشال کے بکھرے بالوں کو چھوتے ہوئے کہا.
میں تمہارے سامنے ہوں تم سے مجھے اپنانے کی التجا کرتا ہوں.
عشال حیران تھی. اس نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں خوف دیکھا تھا.
وہ خوف عشال کو کھونے کا تھا.
آج وہ اپنی زندگی ہتھیلی پہ رکھ کر اس کے پاس آیا تھا.
وہ اسے ٹھکرا کر توڑ سکتی تھی یا اپنا کر اندھیروں سے نکال سکتی تھی.
اور نازرشاہ کی عشال اتنی کمزور تو نہیں تھی کہ وہ اسے اس موڑ پہ اکیلا کر دے.
میں بھی کبھی آپ کی قید سے آزاد ہونا نہیں چاہوں گی.
اس کی بات سن کر نازرشاہ ایسے مسکرایا تھا جیسے عشال نے اسے ساری دنیا سونپ دی ہو.
قدرت اسے دوسرا موقع دے رہی تھی جسے وہ چھوڑنا نہیں چاہتا تھا.
وہ عشال کے پاس بیٹھ گیا اور اس پہ جھکنے لگا.
چاند ستارے اور وہ رات ان کے ملن کی گواہ تھی.
_________
اگلی صبح جب عشال جاگی تو نازرشاہ ان کے کمرے کی بالکونی میں کھڑا منظر سے لطف اندوز ہو رہا تھا.
عشال جب فریش ہو کر آئی تو وہ دونوں ناشتے کے لئے چلے گئے.
آج ان کا پیرس میں آخری دن تھا اور نازرشاہ پہلے کی طرح خاموش سا تھا.
ان دونوں نے پیرس کے میوزیم کا رخ کیا.
عشال کو اپنی پڑھائی کے ادھورا رہ جانے کا دکھ ہو رہا تھا.
اس کے ساتھ ساتھ نازرشاہ بھی ہر چیز کافی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا.
اس دن وہ دیر رات تک پیرس میں گھومتے رہے.
ان کی فلائٹ صبح میں ہی تھی اور وہ دونوں اس وقت بزنس کلاس میں فلائٹ کے ٹیک آف کرنے کا انتظار کر رہے تھے.
عشال کل سے دیکھ رہی تھی کہ وہ کچھ خاموش ہے اس سے مزید صبر نہیں ہو رہا تھا.
نازرشاہ..
وہ کچھ اور کہتی اس سے پہلے ہی اس نے اپنی بات کہنا شروع کر دی.
دیکھو عشال اب ہی واپس پاکستان جا رہے ہیں وہاں سب ویسا ہی ہو گا جیسا ہم چھوڑ کر آئے تھے.
کیا مطلب؟
مطلب یہ کہ میں چاہ کر بھی مراد کے خلاف نہیں جا سکتا میں وعدہ کرتا ہوں تمہاری حفاظت کی اور مراد سے بات بھی کروں گا کہ میں اب اس بس وکیل کی حیثیت سے کام کروں گا.
لیکن وہ اس بات کو آرام سے قبول نہیں کرے گا.
میں تمہارا ساتھ چاہتا ہوں اگر تم پھر سے سی کسی بےوقوفی پہ اتر آئی تو بتاؤ میں تمہیں کیسے محفوظ رکھ پاؤں گا.
میں ایسا بہت کچھ کروں گا جو تمہیں پسند نہیں ہو گا لیکن وہ تمہاری بہتری کے لئے ہی ہو گا.
وعدہ کرو کہ تم میرے بغیر کبھی گھر سے باہر قدم نہیں رکھو گی.
اب جب اس نے اتنا کچھ کہ ڈالا تھا تو وہ سمجھ نا پائی کہ کیا کہے اس لئے جی ٹھیک ہے کہ کر خاموش ہو گئی.
اس نے عشال کا ہاتھ تھام لیا اور اس کی ہتھیلی کا مسکراتے ہوئے بوسہ لےلیا
نازرشاہ عشال کو گھر چھوڑ کر سیدھا مراد سے ملنے گیا تھا.
آخر کار شاہ صاحب واپس آ ہی گئے ہنی مون سے.
مراد کا لہجہ طنز سے بھرا تھا.
ہاں اور ہم نے بہت انجوائے کیا. وہ بھی کہاں پیچھے رہنے والا تھا.
اس لڑکی کے انتظار میں لگتا ہے میں ہی اوپر پہنچ جاؤں گا.
مراد نے اپنے پاؤں اپنی نئی غلام کی کمر پہ ٹکائے ہوئے تھے.
وہ ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل جھکی ہوئی تھی.
اس کے کمزور بازو کانپ رہے تھے اور ایک ٹانگ سے خون بہ رہا تھا. نازرشاہ کو اس کی حالت پر ترس آنے لگا.
نہیں مراد وہ میری بیوی ہے اور میری حفاظت میں ہے.
__________
مراد اس کی بات سے ایک دم سیدھا ہو کر بیٹھ گیا.
کیا کہنا چاہ رہے ہو تم. کیا مطلب ہے اس کا.
مطلب صاف ہے مراد عشال میری بیوی ہے اور اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا اور اگر کسی نے ایسی جرأت کی تو میں اسے ایک دردناک موت دوں گا.
نازرشاہ مراد کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ایک ایک لفظ ٹھہر ٹھہر کر ادا کر لیا تھا.
کیا تم مجھے دھمکی دے رہے ہو.
نہیں مراد میں تمہیں اگاہ کر رہا ہوں.
مراد اب غصے سے کھڑا ہو گیا.
تم اس لڑکی کے لئے مجھے دھوکا دو گے وہ بھی اپنے باپ کے طرح تم پر وار کرے گی. اس میں رضا کا خون بہتا ہے.
مراد اچھے سے نازرشاہ کی دکھتی رگ سے واقف تھا اس لئے اسی پہ حملہ کیا.
اگر ایسا ہوا تو اس کا انجام بھی رضا جیسا ہو گا. لیکن اس کا اختیار صرف میرے پاس رہے گا.
اپنی بات مکمل کرتے ہی وہ وہاں سے چلا گیا.
اور مراد غصہ سے اسے پکارتا رہ گیا.
عشال پچھلے دنوں سے کچھ بیمار سی تھی اسے رات میں بخار ہو جاتا تھا.
نازرشاہ رات کو واپس گھر آ رہا تھا جب اسے عشال کی میڈیسن لینے کا یاد آیا.
وہ کیمسٹ شاپ سے کچھ آگے نکل آیا تھا.
گاڑی کو وہیں پارک کر کے وہ شاپ کی طرف بڑھنے لگا.
رات کا دوسرا پہر تھا اس لئے سڑک سنسان تھی.
وہ عشال کی میڈیسن لے کر واپس کار کی طرف جا رہا تھا جب سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر ٹھٹکا.
عالیہ کافی اچھی لگ رہی ہو.
وہ پہلے سے کافی کمزور لگ رہی تھی. ہر وقت سنور کر رہنے والی عالیہ کے بال بکھرے ہوئے تھے.
اور آنکھوں کے گرد سیاہ ہلکے اندھیرے میں بھی دکھ رہے تھے.
میری بیٹی کہاں ہے نازرشاہ.
وہ اس کی بڑھنے لگا تو عالیہ نے پسٹل اس کی طرف تان دی.
نازرشاہ اپنی گن گاڑی میں ہی چھوڑ آیا تھا.
اگر تم ذرا سا بھی ہلے تو میں تمہیں شوٹ کر دوں گی.
اسے اس بات پہ ذرا بھی شک نہیں تھا. تبھی باتوں سے اس کا دھیان بھٹکانے لگا.
تمہاری بیٹی میرے ساتھ ہے اور بہت خوش بھی ہے. اور میری قربت خاصی پسند کرتی ہے.
وہ اسے چڑا رہا تھا.
لیکن وہ عورت اس کی سوچ سے زیادہ ہوشیار تھی.
بکواس بند کرو دیکھو تمہاری وجہ سے میری کیا حالت ہو گئی.
وہ تھوڑا سا آگے بڑھا ہی تھا جب اس نے نازرشاہ کو روکنے کے لئے اس کے قدموں میں گولی چلا دی.
وہ یقینا اس کے آفس سے اس کا پیچھا کر رہی تھی
گاڑی کی چابیاں نکالو
جب نازرشاہ نے کوئی حرکت نہیں کی تو وہ حلق کے بل چیخی
__________
نازرشاہ نے اپنی پاکٹ سے چابیاں نکال کر اس کی طرف اچھل دیں.
اس نے نازرشاہ پر نظر رکھتے ہوئے جھک کر انہیں اٹھا لیا.
جیسے ہی وہ سیدھی ہو رہی تھی نازرشاہ تیزی سے اس کی طرف بڑھا لیکن اس کی رفتار گولی کی رفتار سے تیز نہیں تھی.
گولی نازرشاہ کے پیٹ میں لگی تھی.
وہ ایک دم کراہا تھا.
کیمسٹ شاپ سے دو لوگ نکلنے لگے اور عالیہ وہاں سے بھاگ گئی.
وہ اسے کبھی وہاں سے نا جانے دیتا اگر اسے گولی نا لگی ہوتی.
لوگ اسے آ کر پکڑنے لگے. لیکن وہ انہیں دور ہٹاتا اپنی گاڑی کی طرف بڑھنے لگا.
وہ ہمیشہ اپنے والٹ میں ایکسٹرا چابی رکھتا تھا.
اس لئے گاڑی میں بیٹھ کر گھر کے طرف ڈرائیو کرنے لگا.
عشال لاونج میں بیٹھی ٹی.وی دیکھ رہی تھی.
اور نازرشاہ کا انتظار کر رہی تھی.
اسے جیسے ہی اس کی کار کا ہارن سنائی دیا وہ اندرونی دروازے کی طرف بڑھنے لگی.
عشال کی نظر جیسے ہی لان سے آتے ہوئے نازرشاہ پر پڑی وہ سانس لینا ہی بھول گئی.
وہ لڑکھڑاتا ہوا آ رہا تھا.
خون سے اس کی شرٹ اور پینٹ تر تھی.
اس نے ایک ہاتھ زخم پر رکھا ہوا تھا.
عشال…
اس کی آواز سے وہ ہوش میں آئی اور اس کی طرف بھاگی.
نا نازرشاہ کیا ہوا کس نے کیا یہ.
وہ اسے کندھے سے سہارا دیتی ہوئی اندر لے آئی اور وہ صوفے پر گرنے کے انداز میں لیٹ گیا.
خون کافی بہہ گیا تھا اس کا ہوش میں رہنا مشکل ہو رہا تھا.
زخم سے خون لگاتار بہہ رہا تھا. اس کا اتنا خون دیکھ کر عشال ماؤف ہونے لگی. اس کے ہاتھ پاؤں پھولنے لگے تھے.
نازرشاہ نازرشاہ ہمیں ہوسپٹل جانا چاہئیے.
مم میں ایمبولینس…
نہیں نہیں. … فون… فراز
تکلیف سے بولنا مشکل ہو رہا تھا. اور وہ ٹوٹے پھوٹے لفظ ادا کر رہا تھا.
عشال نے اس کی جیب سے موبائل نکالا اور فراز کا نمبر ڈھونڈنے لگی.
فراز اس کی آواز سنتے ہی معاملہ سمجھ گیا اور اسے خون روکنے کی ہدایت کرنے لگا.
نا نازرشاہ ادھر دیکھو پلیز مجھے چھوڑ کے مت جانا.
اس کے بدن میں طاقت ختم ہوتی جا رہی تھی.
اس نے عشال کا ہاتھ تھام کر زخم کی جگہ رکھ دیا.
دباؤ خون …. نہیں… نکلے.
عشال کے ہاتھ بھی خون سے رنگ گئے تھے.
اور وہ کانپنے لگی تھی.
خون بہت بہہ رہا تھا عشال نے ڈوبٹا اتار کر اس سے زخم دبانے لگی.
نازرشاہ اس وقت ہوش سے بیگانہ ہو گیا تھا.
نازرشاہ نازرشاہ اٹھو پلیز . مجھ سے بات کرو.
_________
عشال اپنی دھندھلائی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی.
وہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ یہ کیا ہو ہو رہا ہے.
جب اس کی زندگی میں سب ٹھیک ہونے لگا تھا تو وہ پھر ایسے موڑ پر لا کر کھڑی کر دی گئی تھی.
نازرشاہ پلیز اٹھو نا پلیز.
وہ روتے ہوئے اسے پکار رہئ تھی.
عشال نے نظریں اس کے سفید ہوتے چہرے سے ہٹا کر اس زخم کی طرف دیکھا.
اپنے خون سے بھرے ہاتھ اور ڈوبٹے کو دیکھ کر وہ پاگل ہونے لگی.
نازرشاہ… نازرشاہ اٹھووووو…
عشال کو لگ رہا تھا کہ نازرشاہ کے بدن سے بہتا ہر قطرے کے ساتھ ساتھ اس کی جان بھی نکل رہی ہے.
ابھی تک وہ یہی سمجھ رہی تھی کہ اسے نازرشاہ سے ہمدردی ہے. لیکن ہمدردی میں اتنی تکلیف کیسے.
عشال کو اپنے حواس چھوٹتے محسوس ہو رہے تھے.
اس نے اپنئ آنکھیں زور سے بند کر لیں.
عشال نے اپنے ہاتھ سے اس کی نبض محسوس کی تو وہ بہت سست تھی.
عشال اس کے سینے پر پریشر ڈال کر اسے پمپ کرنے لگی.
نہیں آ… آپ مجھے چھوڑ کے نہیں جا سکتے. وہ زور زور سے بولنے لگی.
اب..ابھی تو ہم نے بہت سا وقت ساتھ گزارنا ہے ہمیں بہت سی باتیں کرنی ہیں بہت منزلیں ساتھ طے کرنی ہیں.
جب اس کے وجود میں کوئی حرکت پیدا نا ہوئی تو اس نے اپنا عمل اور تیز کر دیا.
آپ نے وعدہ کک.. کیا تھا میری حفاظت کا مجھے ایسے مت چھوڑو نازرشاہ.
میں مر جاؤں گی..
اس لمحے عشال وہ اعتراف کر رہی تھی جو اس نے ابھی تک خود سے بھی نہیں کیا تھا.
میں میں بہت محبت کرتی ہوں آپ سے پلیز مجھے مت چھوڑو.
عشال نے اپنے خون سے لتے ہاتھوں سے اس کا ٹھنڈا چہرہ چھوتے ہوئے کہا.
اسے ایک دم بیرونی دروازے کے بیل سنائی دی.
وہ اتنی محو تھی کہ کب سے بجتی بیل کا بھی احساس نا ہوا.
وہ اسی خون سے بھرے ڈوبٹے سے خود کو ڈھانپتی کھڑی ہوئی لیکن اس کے جسم نے ساتھ نا دیا اور وہ دوبارہ نیچے گر گئی.
عشال خود کو سنبھالتی پھر سے کھڑی ہوئی اور گیٹ کی طرف بھاگی.
گیٹ پر فراز بیگ پکڑے کب سے بیل پہ بیل دے رہا تھا.
جیسے ہی گیٹ کھلا اس کی نظر سامنے کھڑی لڑکی پر پڑی.
وہ بری طرح سے خون میں لت پت تھی اور کانپ رہی تھی.
اس نے کانپتے ہوئے ہاتھ سے اندر کی طرف اشارہ کیا.
وہ وہ ناز…
فراز ایک لمحہ اور ضائع کیے بنا اندر کی طرف بھاگا.
جب وہ پہنچا تو خون کافی بہہ گیا تھا.
اس نے سب سے پہلے نازرشاہ کی شرٹ پھاڑ دی.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *