Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui NovelR50713 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 07
Rate this Novel
Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 01 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 02 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 03 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 04 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 05,06 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 07 (Watching)Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 08 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 09 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 10 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 11,12 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 13 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 14 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 15 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 16 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 17,18 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 19 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 20 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 21 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 22 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Last Episode
Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 07
اس سے پہلے کہ عشال پھر سے کچھ کرتی گاڑی نازرشاہ کے گھر میں داخل ہو گئی.
گاڑی کو گیرج میں کھڑا کر کے وہ اس میں سے نکل آیا اورعشال کے سائیڈ کا دروازہ کھول دیا.
باہر نکلو.
عشال لمبے لمبے سانس بھرتی سیدھی ہوئی اور ڈھٹائی سے وہیں بیٹھی رہی.
آخر کون ہو تم کیوں کر رہے ہو ایسا. پلیز مجھے ہوسٹل جانا ہے میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گی.
اس کی بات پہ وہ مسکرا اٹھا.
کیا تمہیں میں بیوقوف لگتا ہوں جو تم مجھے ہوسٹل جانے کا کہو گی اور میں تمہارے حکم کی تکمیل کرتا وہاں لے جاؤں گا.
اس نے عشال کو بالوں سے دبوچ کر باہر کھینچا. عشال کے سر میں پہلے ہی درد تھی اب وہ تکلیف سے تلملا اٹھی اور چیخنے لگی.
جانے دو مجھے پلیز. میں نے تمہارا کچھ نہیں بگاڑا.
وہ عشال کو ان سنا کرتا اسے اندرونی دروازے تک لے گیا اور پھر اندر دھکا دے دیا.
سخت فرش پر گرنے سے اس کے پیٹ اور بازو میں درد ہونے لگی.
تم میری بات غور سے سن لو دوبارہ نہی سمجھاوں گا.
وہ اس کے سامنے بیٹھ گیا.
تمہارا لیا ہر ایک سانس میری مرحون منت ہے.
لیکن گھبراؤ نہیں جیسے ہی میں تمہاری ماں تک پہنچ جاؤں گا تمہیں بھی اسی کے ساتھ زمین میں گاڑ دوں گا.
عشال کو سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ اس کا اصل چہرہ کیوں نا دیکھ پائی. وہ تو اس سب کی وجہ بھی نہیں جانتی تھی.
تمہاری جو گنی ہوئی سانسیں بچی ہیں وہ تمہیں یہیں لینی ہیں.
تمہارے اوپر میری نظر تھی.
وہ اب اس کے زخموں پر نمک چھڑک رہا تھا.
اس دن قسمت سے تم مجھے بیہوش مل گئی تو میں تمہارا بھروسہ جیتنے کے لئے یہاں لے آیا.
اور تم نے انکھیں بند کر کے مجھ پر یقین کر لیا.
وہ عشال کو اس کی بےوقوفیاں جتا رہا تھا اور واقعی عشال نے بنا کچھ جانے اس پہ یقین کر لیا.
تم نے آسانی سے مجھے اپنی زندگی میں شامل کر لیا اور پھر میرا پروپوزل بھی قبول کر لیا.
عشال نے اپنی نگاہیں پھیر لیں. اس کی وجہ سے آج وہ اس حال میں تھی اور اس کی ماں نجانے کہاں تھی.
میں تمہاری ماں تک پہنچ بھی گیا لیکن وہ پھر بچ گئی.
لیکن تمہیں ڈھونڈتے وہ مجھ تک ضرور آئے گی.
اور تب میری جان تم دونوں کو اپنی پیدائش پر افسوس ہو گا.
عشال کے سامنے گولی چلانے میں اس نے جو ہچکچاہٹ کی تھی وہ جان لیوا بھی ہو سکتی تھی.
وہ یہ باتیں عشال سے زیادہ اپنے لیے کر رہا تھا تاکہ اپنے مقصد سے بھٹک نا جائے.
________
عشال کو اب تک زندہ رکھنا اس کے پلان کا حصہ نہیں تھا.
لیکن وہ زندہ بھی تھی اور اس کے گھر میں تھی.
وہ جانتا تھا کہ عالیہ اس تک ضرور پہنچ جائے گی اور اس کے لئے اسے عشال کو زندہ رکھنے کی ضرورت نہیں تھی.
بلکہ اس کا زندہ ہونا اور اس کے گھر ہونا نازرشاہ کے لئے مصیبت کا باعث بن سکتا تھا.
اگر مراد یا اس کا کوئی اور آدمی ہوتا تو ابھی تک وہ سانسیں نہیں لے رہی ہوتی.
عشال اب اپنی بےوقوفی پہ رو رہی تھی.
نازرشاہ اسے ویسے ہی چھوڑ کر گھرمیں قید کر کے مراد سے ملنے کے لئے چلا گیا.
عشال کو اپنی ایک ایک لاپرواہی یاد آ رہی تھی کہ کیسے اس نے اپنی ماں کے خلاف یہاں اڈمیشن لیا تھا اور انجان لوگوں پر بھروسا کرنے لگی تھی.
جب اس نے گاڑی کی آواز سنی تو سمجھ گئی کہ وہ دشمن جان چلا گا ہے.
آہستہ اہستہ اٹھ کھڑی ہوئی اور فرار کا راستہ تلاش کرنے لگی.
شاہ کیسے ہو تم.
وہ آج ایک لمبے عرصے بعد مراد کے گھر گیا تھا.
اس کے قدموں میں بیٹھی لڑکی زمین سے کھانا اٹھا کر کھا رہی تھی.
اس کے جسم اور چہرے پر نیلے نشان صاف دکھ رہے تھے.
اسی وجہ سے نازرشاہ اس کے گھر جانے سے گریز کرتا تھا.
میں ٹھیک ہوں مراد.
مجھے یقین ہے تم نے ان دونوں کا کام تمام کر دیا ہوگا.
مراد ایک ہاتھ میں وائن کا گلاس پکڑے اسے کہ رہا تھا.
نہیں وہ دونوں زندہ ہیں.
مراد اس کی بات سن کر اکڑ کر بیٹھ گیا.
کیا مطلب ہے تمہارا وہ ابھی تک زندہ کیوں ہے. کیا وہ تمہارے قبضے میں ہے؟
لڑکی میرے پاس ہے پر عالیہ مجھ سے بچ کر بھاگ گئی.
ایسا کیسے ہو سکتا ہے نازرشاہ کہ وہ تم جیسے کھلاڑی سے بچ کر بھاگ گئ اور ابھی تک زندہ بھی ہے.
مراد اس کا مکمل نام تبھی لیتا تھا جب وہ بہت غصہ میں ہو. اس کی جگہ اگر کوئی اور یہ کہ رہا ہوتا تو اب تک مراد اسے اوپر پہنچا چکا ہوتا.
مراد کے رویے سے اسے بھی غصہ آ گیا .
وہ زیادہ دیر مجھ سے بچ نہیں پائے گی میں اس تک پہنچ جاؤں گا.
مراد نے طیش کے عالم میں اپنے قدموں میں بیٹھی اس لڑکی کو زوردار کک کی جس سے وہ اپنی جگہ سے کافی دور جا گری اور منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی سسکیاں روکنے لگی.
نازرشاہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا اور مراد بھی اس کے سامنے آ کھڑا ہوا.
تم میں نرمی آ گئی ہے وہ لڑکی تمہیں کمزور کر رہی ہے.
مراد کی بات سن کر غصے سے اس کی آنکھیں سرخ ہونے لگیں .
_________
مراد اس کی تنی ہوئی رگیں صاف دیکھ سکتا تھا.
میں کمزور نہیں پڑ سکتا اور اس لڑکی کے ہاتھوں جس کے ماں باپ نے میرا سب چھین لیا ایسا کبھی نہیں ہو سکتا مراد.
اسے اتنے غصے میں دیکھ کر مراد اس سے کچھ قدم دور ہو گیا.
تو تم اس کا کیا کرو گے وہ تمہارے لئے مسئلہ بن سکتی ہے وہ بھی ایسے وقت میں جب ھاد ہم پر اتنا بھروسہ کرنے لگا ہے.
اس کے ساتھ جو بھی کرنا ہے اس سے ہمارے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی.
مراد اب تجسس سے اسے دیکھ رہا تھا.
تو کیا کرنے کا سوچا ہے تم نے.
آج شام میرے گھر پہنچ جانا تم جان جاؤ گے.
عشال نے پہلے دروازہ کھولنے کی کوشش کی لیکن وہ ایک بھاری اور مضبوط رکاوٹ ثابت ہوا.
اس کے بعد اس نے کوئی کھڑکی ڈھونڈی شروع کی لیکن گراؤنڈ فلور پر کوئی کھڑکی ہی نہیں تھی.
تنگ آ کر وہ سیڑھیاں چڑھنے لگی.
اسے جلدی کرنا تھا وہ کبھی بھی آ سکتا تھا.
سر اور پیٹ میں ہوتی تکلیف کو نظر انداز کرتی وہ ایک ایک کمرے میں جا کر کوئی کھڑکی تلاش کرنے لگی.
جو دو کھڑکیاں ملی وہ لوہے کی سلاخوں سے بند تھیں اور وہ کھل بھی نہیں رہی تھیں.
ایک وسیع کمرے میں اسے دیوار کے سائز کی ریلنگ دکھی. شاید یہ نازرشاہ کا کمرہ تھا.
اس نے اسے کھولنا چاہا پر وہ نہیں کھلی کیونکہ وہ نا تو کھڑکی تھی نا ہی دروازہ بس اسے دیوار کی جگہ نصب کیا گیا تھا.
وہاں سے نکلنے کا یہی راستہ تھا. شاید وہ کسی چیز سے لٹک کر نیچے اتر سکے.
یہ سوچ کر وہ کمرے سے باہر نکل گئی اور کوئی ایسی چیز ڈھونڈنے لگی جس سے وہ اس شیشے کو توڑ سکے.
جب کچھ نا ملا تو وہ گراؤنڈ فلور پر گئی اور بہت مشکل سے ڈائیننگ ٹیبل کی ایک کرسی کھینچ کر اوپر لانے لگی.
کمرے میں پہنچ کر اس نے اسے اٹھانا چاہا لیکن درد کی وجہ سے نہیں کر پائی.
پھر بیٹھ کر کچھ دیر لمبے لمبے سانس بھرتی رہی اور ایک بار پھر ہمت کی.
جتنا ہو سکے اس ان اتنی زور سے وہ کرسی شیشے پر دے ماری پر وہ شاید بلٹ پروو تھا اسے تو کچھ نا ہوا لیکن عشال ضرور لڑکھڑا گئی.
عشال نے دو بار مزید کوشش کی لیکن ٹوٹنا تو درکنار اسے ایک خراش تک نہیں آئی.
خود کو لاچار محسوس کرتی وہ آنسو ضبط کرنے لگی.
وہ اپنی بچی ہوئی طاقت بھی استعمال کر چکی تھی.
پورے گھر میں اسے لینڈ لائن نہیں دکھی تھی.
شاید اسے کوئی اور راستہ اپنانا چاہئیے یہ سوچ کر وہ پلٹی ہی تھی .
________
جب سامنے موجود شخص کو دیکھ کر ٹھٹک گئی.
وہ بڑے آرام سے دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر سامنے چلتی فلم کو دیکھ رہا تھا.
ہاتھ پینٹ کی پوکٹس میں گھسائے چہرے پر مسکراہٹ سجائے عشال کی حرکتوں پر خوب محظوظ ہو رہا تھا.
شیشہ توڑنے کی کوشش کے دوران عشال کو پتا ہی نا لگا وہ کب لوٹ آیا .
اسے اپنے ہاتھ پاؤں پھولتے ہوئے محسوس ہونے لگے.
تت..تم مجھے مجھے جانے دو یہاں سے پلیز.
عشال اپنی سہمی ہوئی آواز میں اس سے بھیک مانگ رہی تو.
نازرشاہ اب اس کی طرف بڑھنے لگا.
عشال اس کرسی کے پیجھے کھڑی ہو گئی.
اس کے قریب پہنچ کر نازرشاہ نے کک سے اس کرسی کو اپنے اور عشال کے درمیان سے ہٹا دیا.
وہ اب اس کے سامنے کھڑا تھا اور عشال کی پشت پر وہی منحوس شیشہ اسے مزید پیچھے ہٹنے سے روک رہا تھا.
بہت جلدی ہے تھی تمہیں میرے کمرے میں آنے کی.
اس نے عشال کو طنز کرتے ہوئے کہا.
اور عشال کا دل چاہا وہ اس کا چہرہ نوچ لے جیسے اس لڑکی کا نوچ لیا تھا.
مجھ سے دور رہو تم.
اسے اس کی اتنی قربت بلکل نہیں بھائی تھی.
جب تک تم زندہ ہو تمہیں سب برداشت کرنا ہو گا.
عشال بھی اسے گھورنے لگی.
بھول ہے تمہاری.
دیکھ لیتے ہیں. ویسے میں تمہیں یہ بتا دوں آج شام ہمارا نکاح ہے.
چہرے پہ مسکراہٹ سجائے اس نے نیا بم پھوڑا تھا.
اس کی بات سن کر پہلے تو عشال کھلے منہ اور پھٹی آنکھیں لئے اسے دیکھتی رہی اور پھر ایک دم اس کی بات پر ہنسنے لگی.
اسے اپنا غصہ نکالنے کا کوئی راستہ نا سوجھا تو الٹا ہسنے لگی.
اس کی یہ حرکت سے نازرشاہ کو کوئی فرق نا پڑا.
اس نے کئی لوگ دیکھے تھے جو اپنے آخری لمحوں میں ایسے ہی حواس کھو بیٹھتے تھے.
میں اور تم اور نکاح. تم پاگل ہو اگر تمہیں لگا میں تم سے نکاح کروں گی.
وہ ہستے ہوئے ٹوٹ ٹوٹ کر کہ رہی تھی.
مجھے نہیں پتا تھا تم اتنا خوش ہو جاؤ گی. اور ہاں نکاح بلکل وہ بھی آج شام کو.
نازرشاہ کو ایک دم سنجیدہ دیکھ کر اس کی ہنسی بھی ختم ہونے لگی.
اور اب ہنسی کی جگہ آنسوؤں نے لے لی.
تم غلط کہ رہے ہونا . پلیز ایسا نہیں کرو میرے ساتھ.
اپنی آنسو بمشکل پیتے ہوئے وہ کہنے لگی.
نازرشاہ نے ایک دم ہاتھ اٹھا کر اس کے چہرے کو چھونا چاہا جس پر اس نے فورأ اپنا رخ بدل لیا.
اس کا ہاتھ جو ابھی ہوا میں ہی تھا اس نے عشال کے سر کے پاس شیشے پہ رکھ دیا.
