Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 05,06

عشال کو پتا تھا کہ حورین ناز کو کوئی خاص پسند نہیں کرتی تھی اس لئے بنا بتائے کافی شاپ کے لئے چل پڑی.
اسے ناز شاپ میں داخل ہوتے ہی دکھ گیا اس لئے اسی کی طرف بڑھنے لگی.
سلام لے کے اس کے سامنے والی نشست پر بیٹھ گئی.
آپ مجھ سے کچھ بات کرنا چاہتے تھے ؟
اس کی بات سن کر وہ مسکرا دیا.
سیدھا ہی مطلب کی بات کرتی ہو. ویسے کیسے پیپرز ہو رہے ہیں تمہارے.
عشال اسے اپنے پیپرز کے بارے میں بتانے لگی اور پھر اس کا ہال اخوان پوچھنے لگی.
میں بھی ٹھیک ہوں. پھول کیسے لگے تمہیں.
بہت خوبصورت تھے آپ کا شکریہ لیکن ایسا کرنے کی آپ کو کیا ضرورت تھی.
اسے گھما پھرا کر بات کرنے کی عادت نہیں تھی اور اب تو اس کا تجسس مزید بڑھ چکا تھا.
میں جانتا ہوں کا تمہارے والد کا انتقال ہو چکا ہے. اگر میں تمہاری فیملی کے کسی فرد کو جانتا تو یہ بات ڈائیریکٹ ان سے کرتا لیکن اب مجبوراً تم سے کر رہا ہوں.
اس کی بات نے عشال کے کان کھڑے کر دیے.
جی کہیں میں سن رہی ہوں.
میں تمہاری عزت کرتا ہوں عشال رضا اور پسند بھی. اس لئے میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں.
عشال کو لگا جیسے اس کی زبان اور جسم نے کا ساتھ چھوڑ دیا ہو.
اس نے بہت کچھ سوچا تھا پر یہ سب تو اس کے دماغ میں دور دور تک نہیں تھا.
اپنے حواس پر قابو پا کر گفتگو آگے بڑھانے لگی.
لیکن ہم تو ایک دوسرے کو بہت کم جانتے ہیں.
ہمارے معاشرے میں زیادہ تر شادیاں بنا جانے ہی ہوتی ہیں اور ہم اتنا تو جانتے ہی ہیں کہ میں یہ فیصلہ کر پاؤں.
ہاں شاید وہ اپنے زمانے کی بات کر رہا تھا.
کیا مجھ سے شادی کا خیال اتنا برا ہے؟
اس کے اڑے ہوئے رنگ دیکھ کر وہ پوچھنے لگا.
پسند تو وہ بھی اسے کرنے لگی تھی لیکن اس نے ابھی شادی کا کچھ نہیں سوچا تھا.
میں حیران ہوں.
ہمم… تو اس کا مطلب تمہیں مجھ سے کوئی مسئلہ نہیں.
وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ اسے کیسے سمجھائے اپنی بات.
دیکھیں ناز ہو سکتا ہے یہ بس وقتی دلچسپی ہو اور آپ اسے پسند کا نام دے بیٹھے.
عشال میں عمرکے اس حصے میں ہوں جس میں اپنے احساسات بخوبی سمجھ سکتا ہوں.میں کوئی کالج بوائے نہیں جو کہ وقتی دلچسپی نا سمجھ سکوں.
اس کی بات سن کر عشال اپنا ہونٹ چبانے لگی.
میں تم پر کوئی دباؤ نہیں ڈال رہا. اصل میں میں اس بارے میں تمہاری والدہ سے بات کرنا چاہوں گا آخر حتمی فیصلہ تو انہی کا ہوگا.
________
ماما کا؟
ہاں اگر تم مجھے ان کا نمبر دے دو تو میرے لئے آسانی ہو جائے گی.
یہ کیسا خشک پروپوزل تھا نا پھول نا کوئی میوزک بجا نا ہوائیں چلیں.
میں تو آپ کی ایج بھی نہیں جانتی؟
عشال نے اس کی ایج پر اعتراض کیا.
ناز اس کی بات پر مسکرا اٹھا.
مجھے نہیں پتا تھا کہ تم ایج کونسئش ہو.
نہیں میں بس کرئیئس ہوں.
Carefull, it killed the cat.
عشال اس کی بات پر ہنسے بغیر نا رہ پائی.
پھر تو اچھا ہے کہ مجھے کیٹس نہیں ڈوگز پسند ہیں.
کیا واقعی؟
ہاں میرے اور ماما کے پاس ایک ڈوگ بھی ہے. اب تو میں یہاں ہوں تو ماما ہی اس کا خیال رکھتی ہیں. اس کا نام ہم نے مل کر سکوبی رکھا تھا.
وہ اسے خوشی سف بتا رہی تھی جب ناز نے اس سے دوبارہ فون نمبر مانگا.
اصل میں ان کا نمبر بند ہے وہ مجھ سے ناراص ہیں.
اس کی بات پر ناز سنجیدہ دکھنے لگا.
کیا تمہیں یقین ہے کہ ایسا ہی ہے کہیں وہ کسی مشکل میں نا ہوں.
ناز نے اس کے خیالات کو ہوا دی.
وہ جان بوجھ کر یہ سب خیالات دور رکھنے کی کوشش کر رہی تھی.
میں کل پیپرز ختم ہونے کے بعد جاؤں گی ملنے.
اگر ایسا ہے تو میں تمہیں ہوسٹل سے خود ان کے پاس لے جاؤں گا. ناز نے کچھ سوچ کر کہا.
نہیں اس کی ضرورت نہیں.
ناز اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی بول اٹھا.
بلکل ہے اگر تمہیں مدد کی ضرورت پڑی تو کیا کرو گی. اور اسی بہانے میں ان سے بات بھی کر لوں گا.
عشال کے سامنے اس کے خون میں لت پت بات کی تصویر گھوم گئی. اس لئے ناز کی بات پر سر ہلا دیا.
اس کے بعد وہ وہاں رکی نہیں بلکہ تیاری کا کہ کر چل پڑی. آج کی رات اس کے لئے مشکل ہونے والی تھی.
اگلے دن وہ پیپر دے کر حورین کے بلاک کی طرف بڑھنے لگی. وہ سوچ رہی تھی کہ اسے ساتھ لے کر واپس چلی جائے گی.
اس کی نظر بلاک سے نکلتی حورین پر پڑی جسے دو لڑکوں اور ایک لڑکی نے گھیرے میں لے لیا تھا.
شاید وہ اسے تنگ کر رہے تھے.
عشال کو یہ دیکھ کر غصہ آیا اور اس نے اپنی رفتار تیز کر دی.
وہ تینوں اس کے بہت قریب تھے.حورین کو لگ رہا تھا کہ ابھی کوئی نا کوئی اسے پکڑ لے گا. وہ اپنی سانسیں روک کر کھڑی تھی. معلوم نہیں آج وہ کیا کرنے والے ہیں.
کیا کر رہے ہو تم تینوں اس کے ساتھ. دور ہٹو اس سے.
قریب سے آتی عشال کی آواز سن کر وہ تینوں اس کی طرف متوجہ ہوئے.
تمہیں اس سے کیا ہم جو بھی کریں.
_________
ان میں سے ایک لڑکے نے جواب دیا.
حورین اب التجائی نگاہ سے عشال کو دیکھ رہی تھی.
میں نے کہا نا ہٹو یہاں سے. جانے دو اسے.
اب کی بار اس نے قدرے غصے سے کہا.
نہیں تم جاؤ یہاں سے.
گروپ کی لڑکی نے کہا.
جس کے جواب میں عشال نے اس لڑکی کو دھکا دے کر ایک طرف کیا. اور حورین موقع ملتے ہی عشال کے پاس بھاگ آئی.
وہ لڑکی دھکے سے زمین پر گر گئی تھی.
تم لوگ کوئی کے جی کے بچے ہو جو ایسی حرکتیں کرتے ہو.
عشال نے انہیں شرم دلانی چاہی اور پھر حورین کو اشارہ کر کے ساتھ چلنے کا کہا.
وہ دونوں ابھی پلٹی ہی تھیں جب اس لڑکی نے اٹھ کر عشال پر حملہ کرنا چاہا اور عشال اس لڑکی سمیت نیچے گر گئی.
اس نے عشال کے بال پکڑ کر انہیں کھینچنا شروع کر دیا.
سٹوڈنٹس کا ہجوم بڑھنے لگا جو ان کی لڑائی سے محظوظ ہونے لگے.
عشال نے زور لگا کر اسے خود سے ہٹایا اور خود اٹھ کھڑی ہوئی.
عشال کے کندھوں تک کٹے بال ایسے لگ رہے تھے جیسے کرنٹ سے کھڑے ہو گئے ہوں.
حورین پاس ہی کھڑی تھی اسے دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کسی اور ہی دنیا میں ہو. اگر کوئی اسے غور سے دیکھتا تو اس کے کانپتے وجود کو دیکھ لیتا.
لیکن وہاں سب عشال اور اس لڑکی کو دیکھ رہے تھے.
لیکن رباط کی نظروں نے اس کی حالت کو دیکھ لیا تھا.
وہ اردگرد کے ماحول سے واقف رہنے کا عادی تھا.
اس لڑکی نے پھر سے حملہ کرنا چاہا تو عشال اس کا چہرہ نوچنے لگی.
اس لڑکی نے بھی اس کے چہرے پر ناخنوں کے نشان چھوڑ دیے.
عشال بھی اس کے بال کھینچنے لگی.
اتنے ہجوم کی وجہ سے وہاں کے پروفیسر ان کی طرف آئے اور ان دونوں کو الگ کیا.
سب کے سامنے اچھی طرح ان دونوں کی عزت افزائی ہوئی. اور پھر ان دونوں کو وارننگ دے کر جانے دیا.
عشال ہاتھوں کی مدد سے اپنے بال جتنے سدھار سکتی تھی سدھارے.
پروفیسر اور کافی سارے سٹوڈنٹ واپس چلے گئے تھے.
عشال بھی حورین کی طرف گئی. چلو چلیں.
پاس کھڑا ایک لڑکا انہیں حقیر نظروں سے دیکھ رہا تھا.
حورین جب وہاں سے نہیں ہلی تو اس نے اسے دوبارہ بلانا چاہا.
تمہیں اس کی مدد نہیں کرنی چاہئیے.
وہ لڑکا عشال سے کہ رہا تھا.
میں تم لوگوں کی طرح بےحس نہیں.عشال نے اسے غصے سے جواب دیا
یہ جب تک اپنی لڑائی خود لڑنا نہیں سیکھے گی ایسے ہی سب کا شکار بنے گی. رباط نے اپنے خاص انداز میں جواب دیا اور وہاں سے چلا گیا
________
عشال جب حورین کو لے کر واپس ہوسٹل آئی تو وہ اس سے بات کرنا چاہتی تھی کہ آخر کار اسے کیا مسئلہ ہے.
وہ لڑکا ٹھیک کہ رہا تھا حورین کو اپنا دفاع خود کرنا چاہئیے لیکن ناز آنے والا تھا اس لئے اس نے یہ ارادہ فی الوقت ملتوی کر دیا.
اور چہرے پر ناخن سے بنے آدھے چاند کے نشان کو دیکھنے لگی.
اس کے ہاتھ ان نشانوں سے بھر چکے تھے اور ان میں جلن ہو رہی تھی.
حورین بیڈ پر بیٹھی اسے نظریں چرا کر دیکھ رہی تھی.
وہ مرہم نگا رہی تھی جب اسے ناز کی کال آئی کہ وہ ہاسٹل کے باہر اس کا انتظار کر رہا ہے.
وہ ناز کے ساتھ نہیں جانا چاہتی تھی اسے یقین تھا کہ ماما اسے دیکھ کر پریشان ہوں گی.
لیکن ناز کی بات بھی درست تھی اسے اس کی ضرورت پڑ سکتی تھی.
اس لئے حورین سے دو دن بعد واپسی کا کہ کر چلی گئی.
ہوسٹل انتظامیہ سے وہ پہلےہی بات کر چکی تھی.
ان دونوں کے درمیان مکمل خاموشی تھی. وہ دونوں ہی اپنی سوچوں میں مگن تھے.
عشال صرف تب بولتی جب اسے راستہ بتانا ہوتا.
آخر وہ دونوں گھر تک پہنچ گئے . ناز نے گاڑی ایک سائیڈ پر لگائی.
اتنے دنوں بعد عشال اپنی ماں سے ملنے والی تھی اس لئے وہ بے حد خوش تھی.
جب اس نے دروازہ ناک کرنے کے لئے ہاتھ اٹھایا تو وہ پہلے ہی کھل گیا.
اسے ایک دم یاد آیا کہ اس کہ بابا کا دروازہ بھی اسے کھلا ملا تھا.
خود بخود اس کی آنکھوں میں نمی آ گئی.
ناز اس کے ساتھ کھڑا اندر داخل ہونے کا انتظار کر رہا تھا.
خود کے جذبات پر قابو پا کر اس نے دھیرے سے دروازہ کھولا.
دروازے پر لگے مختلف قسم کے لاک سلامت تھے مطلب کوئی زبردستی اندر نہیں گیا تھا.
عشال اپنی ماما کو پکارنے لگی لیکن کوئی جواب نہ ملا.
عشال اور ناز ایک کمرے سے دوسرے کمرے جاتے لیکن وہاں کچھ نہیں تھا.
وہ جگہ خالی تھی جیسے کافی عرصے سے وہاں کوئی نا ہو.
ایسا کیسے ہو سکتا ہے. ماما کہاں جا سکتی ہیں. ان کا سامان میرا سامان سکوبی سب کہاں ہے.
وہ پریشانی سے بال نوچنے لگی. اور ایک کمرے سے دوسرے کمرے پاگلوں کی طرح چکر لگانے لگی.
رک جاؤ عشال سب ٹھیک ہے ہو سکتا ہے کہ تمہارے پاپا کے ساتھ جو ہوا اس کے بعد انہوں نے رہائش تبدیل کر لی ہو.
ہاں ایسا ہی ہوگا ماما ایسا کر سکتی ہیں. وہ خود کو تسلی دینے لگی.
لل لیکن مجھے کیوں نہیں بتایا انہوں نے.
شاید کوئی مسئلہ ہوا ہو.
Episode 6
اگر تم چاہو تو ہم پولیس کے پاس چلتے ہیں.
نن.. نہیں میں کچھ دن انتظار کروں گی ان کی کال کا. اس کے بعد.
ٹھیک ہے تو پھر میرے خیال سے ہمیں واپس چلنا چاہئیے.
ناز یہ کہ کر باہر چلا گیا اور وہ آنکھوں میں آنسو سموئے خالی کمرہ تکنے لگی.
شاہ کو لگا تھا آج وہ عورت اس کے ہاتھ آ جاۓ گی. لیکن جب وہ وہاں پہنچا تو وہ جگہ خالی تھی.
وہ رضا کو تو کیفر کردار تک پہنچا چکا تھا لیکن اس کی بیوی اس کے ہاتھ نہیں لگ رہی تھی.
اسے جب بھی لگتا وہ اس کے قریب ہے وہ وہاں سے بھاگ جاتی.
اب وہ آدھی رات کے وقت ایک بلڈنگ کےباہر کھڑا تھا. اسے یہاں ایک غدار کا کام تمام کرنا تھا.
نجانے کیوں لوگ یہ سمجھتے تھے کہ مراد سے دھوکہ کر کے بچ جائیں گے. اس نے بھی یہی غلطی کی تھی اور مراد کو ہتھیاروں کے مکمل پیسے نہیں دیے تھے.
وہ بنا کوئی سراغ چھوڑنے اپنا کام کرنے میں ماہر تھا. اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ اس میں پھرتی سے کام لیتا تھا.
آپ جتنی دیر جائے وقوع پر رکوں گے چیزوں کو چھونے کی غلطی کرو گے اور کوئی آپ کو وہاں دیکھ سکتا ہے.
بلڈنگ کے پچھلے راستے کے قریب کھڑے اس نے پہلے ہاتھوں پر لیدر کے دستانے چڑھائے پھر اپنی گن پر سائیلنسر لگایا تاکہ گولی چلنے کی آواز نا ہو.
اور پھر دروازے کے تالے پر شوٹ کیا.
گولی لگنے سے دروازہ فورأ کھل گیا اور وہ آسانی سے بلڈنگ میں داخل ہو گیا.
شاہ کے خبری نے اسے بتایا تھاکہ اس کا شکار یہی موجود ہے اس لئے وہ سیڑھیاں چلتا تیسرے فلور پہ اس کے آفس کی طرف بڑھنے لگا.
وہ شخص اپنی موت سے انجان ملک سے باہر جانے کی تیاری میں تھا اس نے یہاں اپنا سب کچھ بیچ دیا تھا اسی سلسلے میں وہ کچھ کاغذات سمیٹ رہا تھا. جب اسے آفس کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی.
جب وہ شاہ کی طرف پلٹا تو اپنی موت سامنے دیکھ کر بوکھلا اٹھا.
شا… شاہ.
اس سے پہلے وہ کچھ اور کہ پاتا شاہ نے اس کا نشانہ لے کر ٹریگر دبا دیا.
گولی سیدھی اس کے سر میں لگی جس سے اس کے دماغ کا کچھ حصہ الگ ہو کر ادھر ادھر اڑ گیا.
شاہ جیسے خاموشی سے آیا تھا ویسے ہی اندھیرے میں غائب ہو گیا.
پولیس ایک لمبے عرصے سے اسے پکڑنا چاہتی تھی لیکن اس کے خلاف ثبوت اکٹھے نہیں کر سکی تھی.
عشال واپس آ گئی تھی اس واقعے کو بھی دو دن ہو چکے تھے اور اب وہ پولیس کے پاس جانے لگی تھی .
_______
حورین جو کہ اپنا آخری پیپر دے کر واپس آئی تھی اسے پکارنے لگی.
آپ کے لئے لیٹر آیا ہے. ریسیپشن پر بلایا ہے آپ کو.
اس زمانے میں لیٹر کون بھیجتا ہے.
جورین اس کے جواب میں کندھے اچکا کر رہ گئی.
عشال جب ریسیپشن پر گئی تو اس کے لئے واقعی ایک لیٹر آیا تھا.
ایڈریس لاہور کے کسی پوسٹ آفس کا تھا.
جب اس نے لیٹر کھولا تو اس کی ماما کی لکھائی وہ فورأ پہچان گئی.
عشال بیٹا مجھے معاف کرنا میں اتنے عرصے سے تم سے بات نہیں کر پائی لیکن میری مجبوری تھی.
میں اس وقت لاہور میں ہوں اور جیسے ہی اس لیٹر کو پڑھو اس ایڈریس پر آ جانا.
نیچے ایک ایڈریس لکھا تھا.
عشال کی خوشی کی انتہا نہیں تھی.
آخر اس کی ماں محفوظ تھی اور لاہور میں تھی اس نے فورأ ناز کو خوشخبری سنانے کے لئے کال کی. وہ اس کے لے کافی پریشان تھا.
ناز جو اس وقت اپنے دوست کے ساتھ تھا عشال کی کال دیکھ کر کافی حیران ہوا.
ہیلو عشال سب ٹھیک تو ہے نا.
ہاں سب ٹھیک ہے ماما کا پتا چل گیا ہے وہ لاہور ہی ہیں میں وہی جا رہی ہوں.
یہ تو بہت اچھی خبر ہے . ناز اس کے لئے خوش تھا.
ہاں میں بعد میں بات کروں گی.
نہیں تم رکو میں آ رہا ہوں. تم اکیلی کہاں لاہور میں گھومتی پھرو گی.
عشال اسے منع کرتی اس سے پہلے اس نے فون بند کر دیا.
عشال کسی بچے کی طرح پُرجوش لگ رہی تھی اسے اتنا خوش دیکھ کر وہ مسکرائے بنا نا رہ سکا.
وہ مطلوبہ اڈریس کے قریب تھے. یہاں بھی آبادی تھوڑے فاصلے پر تھی.
ناز نے گاڑی گھر سے تھوڑے فاصلے پر کھڑی کی. عشال گاڑی رکتے ہی اس میں سے نکل کر سامنے گھر کی طرف بھاگی.
وہ دروازے کے قریب ہی تھی جب دروازہ کھول کر اس کی ماں باہر نکلی.
اپنی بیٹی کو صحتمند دیکھ کر ان کے چہرے پر آئی خوشی دیدنی تھی لیکن پھر ایک دم اس کی طرف بڑھتے قدم رک گئے اور چہرے پر خوف چھا گیا.
نا…نازرشاہ اس کی زبان لڑکھڑائی.
عشال نے حیرت سے اپنی ماں اور ناز کو دیکھا.
کیا وہ ایک دوسرے کو جانتے ہیں؟
ماما یہ …
ابھی وہ کچھ اور کہتی اس سے پہلے ناز نے اپنی پاکٹ سے گن نکال کر عشال کی کنپٹی پر رکھ دی.
آخر اتنے سالوں بعد تم مجھے مل ہی گئی. وہ طنزیہ مسکرا رہا تھا.
عشال وہیں اپنی جگہ پر ساکن ہو گئی. آخر یہ کیا ہو رہا ہے.
عشال نے اس کا یہ روپ تو کبھی نہیں دیکھا تھا.
اس کے چہرے پر نفرت کے آثار واضح تھے.
_________
یہ … یہ کیا ہے . کیا ہےیہ سب . عشال نے ان دونوں سے ہی سوال کیا.
میری بیٹی کو چھوڑ دو نازرشاہ وہ کچھ نہیں جانتی.
عشال بھیگی آنکھوں سے اپنی ماں کو تکنے لگی. اور اس کی طرف قدم بڑھانے لگی جب نازرشاہ نے اسے بازو سے جکڑ لیا.
تم دونوں میں سے کوئی بھی نہیں ہلے گا.
اب کی بار اس نے عشال کی کنپٹی سے گن ہٹا کر اس کی ماں کو نشانے پہ رکھ لیا.
اور تم… تمہیں تمہارے کئے کی سزا ملے گی.
ان دونوں ماں بیٹی کی آنکھوں میں آنسو سے عشال لیکن عشال کی انکھوں میں وہ آنسو نازرشاہ کے دیے دھوکے سے اترے تھے.
اسے دکھ تھا کہ اس کی وجہ سے اس کی ماما کی شاید جان چلی جائے. عشال کے پاس صرف اسی کا آسرا تھا.
گھبراؤ نہیں تمہاری بیٹی کو بھی جلد تمہارے پاس بھیج دوں گا.
عشال اس سے گن چھپننے لگی تھی کہ جب دوسری طرف سے اس کے پالتو کتے سکوبی نے ایک دم کہیں سے آ کر نازرشاہ پہ حملہ کر دیا اور اس کے ہاتھ سے گن چھوٹ کر گر گئی.
عشال عشال جلدی کرو یہاں سے بھاگ جاؤ. اس کی ماں اسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کر کے گھر کے پچھلی جانب بھاگنے لگی.
عشال لڑکھڑاتی ہوئی اس کے پیچھے بھاگنے لگی.
سکوبی ایک چھوٹا سا کتا تھا نازرشاہ نے اس پر باآسانی قابو پا لیا اور گن اٹھا کر اسے گولی مار دی.
بندوق چلنے کی آواز سے عشال کے اٹھتے قدم رک گئے.
اس نے پلٹ کر دیکھا تو سکوبی زمین پر گرا ہوا تھا اور کراہ رہا تھا.
ایک جانور کے چیخنے کی آواز کتنی دردناک ہوتی ہے اسے آج پتا لگا تھا.
نہیں سکوبی… اس کی ماں نے اپنی گاڑی سٹارٹ کر رہی تھی اور اسے جلدی اس میں بیٹھنے کےلئے چلا رہی تھی.
سکوبی کو دیکھنے کے لئے اس کے کچھ سیکنڈ تک رکے قدم عشال کو مہنگے پڑے. نازرشاہ برق رفتاری سے ان کی طرف آ رہا تھا. آج کسی بھی حالت میں وہ ان دونوں کو یہاں سے جانے نہیں دے سکتا تھا.
عشال نے اسے اپنی جانب آتے دیکھا تو دوبارہ گاڑی کی طرف بھاگنے لگی. لیکن وہ اس کے قریب پہنچ چکا تھا.
اس نے پیچھے سے ہی عشال پر حملہ کیا اور اسے لے کر زمین پر گر گیا. اپنے وزن سے اس نے عشال کو اٹھنے نا دیا اور پھر اس کی گاڑی میں بیٹھی ماں کا نشانہ لینے لگا.
عشال نے اپنی کمر سے دھکا دے کر اسے خود سے ہٹانا چاہا جس سے اس کا نشانہ چوک گیا اور گولی گاڑی کے سائیڈ مرر پر جا لگی.
ماما آپ جائیں پلیز چلی جائیں یہاں سے.
__________
عشال چیخ چیخ کر اسے وہاں سے جانے کے لئے کہ رہی تھی.
نازرشاہ اب ایک ہاتھ سے اسے مٹی میں دبانے کی کوشش کر رہا تھا اور دوسرے ہاتھ سے دوبارہ نشانہ سادھ رہا تھا.
چاروناچار اس کی ماں گاڑی مخالف سمت میں بھگا کر لے گئی. اسے یقین تھا کہ اس کے شوہر کو بھی نازرشاہ نے قتل کیا ہے.
لیکن فی الوقت وہ عشال کے لئے کچھ نہیں کر سکتی تھی.
نازرشاہ نے اس کی گاڑی پر کئی بار گولی چلائی پر وہ وہاں سے چلی گئی تھی اسے یقین نہیں آ رہا تھا اس نے اسے جانے دیا. آخر وہ کیسے اس کے ہاتھوں نکل جانے دیا.
اس نے غصے سے اس کی پکڑ میں مچلتی عشال کو دیکھا اور اس کے سر پر بندوق مار کر اسے بیہوش کر دیا.
آبادی کچھ فاصلے پر تھی لیکن کسی نے گولیوں کی آواز سنی ہو گی اس لئے وہ اب جلد از جلد یہاں سے نکلنا چاہتا تھا.
اس نے عشال کو کندھے پر اٹھایا اور پھر گاڑی کی سیٹ پر پٹک دیا.
وہ عشال کے سامنے اس کی ماں پر گولی چلانے سے ہچکچایا تھا اور اب اسے اس کی قیمت ادا کرنی تھی.
اسے یقین تھا کہ وہ اپنی بیٹی کہ لئے واپس آئے گی لیکن اسے چھپ کر وار کرنے کی عادت تھی.
گاڑی کے ٹائر کو غصے سے کک لگا کر وہ گاڑی میں بیٹھ گیا اور اس جگہ سے نکل گیا
عشال کو جب ہوش آیا تو وہ اس کے ساتھ گاڑی میں تھی اس کا سر بےحد درد کر رہا تھا.
اس نے ہاتھ لگایا تو وہ جگہ سوزش سے ابھری ہوئی تھی .
نازرشاہ نے اسے ہلتا ہوا دیکھا تو جان گیا کہ وہ ہوش میں آ چکی ہے.
عشال نے اسے اپنی طرف دیکھتے پایا تو نئے سرے سے اس کا دھوکا یاد آ گیا.
ماما نے اسے نازرشاہ کہ کر پکارا تھا.
کون ہو تم؟
لہجے میں نفرت لئے وہ پوچھ رہی تھی.
جواب نا ملنے پر اس نے اس بار زور سے پوچھا.
اس کا زہر اگلتا لہجہ نازرشاہ کو بلکل بھی نہیں بھایا تھا.
عشال نے غور کیا کہ وہ ہوسٹل کے راستے پر نہیں بلکہ اس کے گھر کے راستے پر روانہ تھے.
اس نے گھبرا پر نازرشاہ پہ حملہ کر دیا اور گاڑی کو روکنے کی کوشش کرنے لگی.
عشال کے اس خطرناک حرکت سے گاڑی کا رخ بدل گیا لیکن اس نے کہنی کے استعمال سے اسے خود سے پرے ہٹایا اور ان کا ایکسیڈنٹ ہو اس سے پہلے گاڑی کو دوبارہ سمبھال لیا.
اس نے عشال کی طرف دیکھا تو وہ اب سیٹ پر دوہری ہوئی بیٹھی تھی اور اونچی اونچی سانس لے رہی تھی.
کہنی شاید اس کے پیٹ میں لگی تھی اس لئے وہ درد سے دوہری ہوئی پڑی تھی.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *