Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui NovelR50713 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 13
Rate this Novel
Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 01 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 02 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 03 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 04 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 05,06 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 07 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 08 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 09 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 10 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 11,12 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 13 (Watching)Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 14 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 15 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 16 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 17,18 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 19 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 20 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 21 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 22 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Last Episode
Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 13
وہ بہت خوبصورت تھی بہت ہی اچھی بہت پاک.
اس کے سامنے میں اپنا آپ بہت گندا محسوس کرتا تھا.
وہ مراد کی بیٹی تھی.
عشال کو تو جیسےایک کے بعد ایک شاک لگ رہا تھا.
ان میں کسی شوہر اور بیوی جیسا تو رشتہ نہیں تھا پر پھر بھی اسے تکلیف ہو رہی تھی کہ وہ کسی اور لڑکی کی یوں تعریف کر رہا ہے.
میں زیادہ سے زیادہ مراد کے گھر جانے کی کوشش کرنے لگا اس کا ہر کام بڑھ چڑھ کر کرنے لگا.
پہلے تو میں بس اسے دور سے دیکھ لیتا پھر ایک دن موقع پا کر اس کو مخاطب کیا.
میری پری بہت شرمیلی تھی.
بہت کوششوں کے بعد اس نے میرا جواب دیا تھا.
اک دن اس نے مجھ سے میرا نام پوچھا تو میں نے اسے کہا کہ وہ چاہے مجھے پکار سکتی ہے.
نازرشاہ اس نے مجھے نازرشاہ کہ کر پکارا.
میں نے اس کے بعد اپنا نام نازرشاہ رکھا.
پری نے مجھے پہچان دی اس سے پہلے تو میں کوئی نہیں تھا.
عشال کو لگ رہا تھا کہ اس کا دل سینہ چیر کر باہر آ جاے گا یا پھر وہ خود اسے نوچ ڈالے گی.
وہ مجھ سے کچھ سا چھوٹی تھی. وقت گزرنے کے ساتھ ہم دونوں ایک دوسرے کو چاہنے لگے اور میں اس جرم کی دنیا میں مزید اترتا گیا.
آخر میں بائیس کا ہو گیا. مراد مزید طاقت حاصل کرنے کے لئے اس کی شادی کراچی میں کسی سے کروانا چاہتا تھا.
وہ شخص مراد کی ہی عمر کا تھا.
میں کچھ سمجھ نہیں پایا تو ہم دونوں نے چھپ کر شادی کر لی.
شادی کے فورأ بعد میں پری کو لے کر مراد کے پاس گیا اور اسے سب بتا دیا.
وہ مجھ پر بہت غصہ ہوا. مجھے یاد ہے اس نے مجھے کیسے مارا تھا.
میری بازو اور ایک ٹانگ کی ہڈی توڑ دی مجھے نازک حالت میں باہر پھینکوا دیا اور کہا کہ میں تب واپس آؤں جب خود کو پری کے قابل بنا پاؤں.
تمہارا باپ تب مراد کا مین آدمی تھا.
ڈرگز اصلحہ یا انسان ہر چیز میں اس کا ہاتھ لازمی ہوتا تھا.
تمہارے بابا کا ایک الگ گھر تھا وہاں پر وہ لڑکیوں کو قید رکھتا اور ان کے ساتھ بہت کچھ غلط کرتا تھا جس کا ذکر بھی میں نہیں کر سکتا.
عشال کو لگ رہا تھا جیسے اس کی سماعت میں ذہر گھول دیا ہو.
عالیہ اس معاملے سے انجان تھی یا اسے پرواہ نہیں تھی میں نہیں جانتا.
اسی دوران تم پیدا ہوئی.
تمہاری پیدائش کے بعد رضا نے اس جگہ جانا بند کر دیا.
میں نے دو سال تک ہر صحیح غلط کو بالائے طاق رکھ کر کام کیا.
پری کے لئے ایک خوبصورت گھر لیا
_________
مراد کی اجازت سے ہم دونوں اس گھر شفٹ ہو گئے ہم دونوں نے اسے مل کر سجایا تھا.
وہ گھر ہمارے خوابوں کی تعبیر تھا.
عشال کا دل کر رہا تھا وہ اپنا دل نوج لے اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ نازرشاہ ایسا دھوکہ بھی دے سکتا ہے.
مراد کا داماد بن کر جو طاقت مجھے ملی اس کا مجھے بلکل اندازہ نہیں تھا.
وہ مجھے ہر معاملے میں شامل کرنے لگا جو تمہارے باپ کا ناگزیر گزرا.
پری کو یہ سب پسند نہیں تھا پر اس کی خواہشات پوری کرنے کا میرے پاس یہی راستہ تھا.
مراد نے رضا کو ہٹا کر مجھے ڈرگز اور ارم ڈیلز کے لئے منتجب کیا جو رضا کو برداشت نا ہوا.
اسے یہ براداشت نہیں تھا کہ اس کے ٹکڑوں پہ جینے والا اس کی برابری میں آ کھڑا ہوا.
مجھے اس کے حسد کی خبر نا ہوئی .
میں نے اسے اور عالیہ کو اپنی خوشیوں میں شریک ہونے کے لئے بلایا تھا.
وہ اب رونے لگا تھا اور عشال کو اپنا دل ڈوبتا محسوس ہونے لگا.
میں تھکا ہوا تھا دو دن سے سویا نہیں تھا.
انہیں روانہ کر کے میں سو گیا. جب رضا میرے گھر داخل ہوا.
پری نے اسے دیکھ لیا تھا اس کی چیخوں سے مجھے جاگا.
وہ اب شدت سے رو رہا تھا
پری اس سے کن چھین رہی تھی مجھے دیکھ کر اس نے پری کو شوٹ کر دیا اور بھاگ گیا.
میری پری میری پری پریگننٹ تھی عشال ہم ماں باپ بننے والے تھے
تمہارے باپ نے مجھ سے سب چھین لیا.
میں اسے لے کے ہوسپٹل گیا لیکن پری مجھے چھوڑ کر چلی گئی.
عشال کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا.
نازرشاہ نے ایک لمبی سانس بھر کر خود پہ قابو پایا.
میں یا مراد اس کا پیچھا کرتے اس سے پہلے وہ تم دونوں کو لے کر فرار ہو گیا.
میں نے قسم کھائی کہ اس سے بھی وہ سب چھین لو گا جو اس نے مجھ سے لے لیا.
اس کے بعد میں نے پہلا قتل کیا .
جب تم مجھ سے پہلی بار ٹکرائی تو میں نہیں جانتا تھا تم کون ہو.
عشال تمہیں زندہ رکھنا یا شادی کرنے کا میرا کوئی ارادہ نہیں تھا پر میں تمہیں چاہنے لگا.
آج تمہارے لئے میں نے تمہاری ماں کو بخش دیا.
عشال خود کے لئے اور اس لئے بھی دکھی تھی.
وہ اہستہ سے چلتی اس کے پاس جا بیٹھی اور اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا.
مجھے بہت افسوس ہے لیکن نازرشاہ اگر آپ کو لگا کہ حرام کمائی سے پری کے لئے خوشیاں خرید لو گے تو غلط لگا.
میں نے کبھی کسی معصوم کو درد نہیں دیا عشال وہ سب بری موت ڈیزرو کرتے تھے.
_________
اس سے فرق نہیں پڑتا نازرشاہ.
پری کی موت کو یوں رائیگاں نا جانے دو وہ بھی تمہارے لئے یہ نہیں چاہتی ہو گی.
عشال اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ سکتی تھی وہ اپنی نظروں میں شرمندہ ہو گئی تھی.
اس کے پاپا ایسے تھے یہ ایک بڑا دھجکہ تھا.
وہ اس کے پاس سے اٹھ گئی.
نازرشاہ نے اس کی کلائی تھام لی لیکن وہ اس کی طرف نہیں پلٹی.
میں نے کسی معصوم کو تکلیف نہیں دی سوائے تمہارے اس کے لئے مجھے معاف کر دو.
میں تمہیں چاہتا ہو لیکن اگر تم یہاں سے باہر گئ
تو مراد تمہیں قتل کر دے گا وہ اپنی بیٹی کا بدلہ تمہیں ختم کر کے پورا کرے گا تمہیں یہ بات سمجھنی ہو کی.
یہ کہ کر نازرشاہ نے اسے جانے دیا اور وہ وہاں سے چل دی.
وہ رات ان دونوں نے جاگ کر گزاری تھی.
اس دن کے بعد ان دونوں کے رشتے میں واضح تبدیلی آئی تھی.
ان کے درمیان اب کوئی راز نہیں تھا.
عشال اسے اپنی زندگی میں تسلیم کرنے لگی تھی.
نازرشاہ بھی اس سے عزت سے پیش آتا.
اس نے عشال کی بات پر بہت غور کیا تھا لیکن اب اس سب سے نکلنے کا مطلب اس کی اور عشال کی موت تھا.
مراد بھی اب واضح لفظوں میں اس پر تنقید کرتا
ان کے درمیان ایک سرد جنگ کا آغاز ہو چکا تھا.
اسے عشال کی حفاظت کرنی تھی اس لئے کچھ وقت کے لئے اس نے عشال کو لے کر پیرس جانے کا منصوبہ بنایا.
کیا پیرس؟
ہاں. کیا تمہیں وہ جگہ پسند نہیں ؟
ایسی بات نہیں ہے.
اگر کوئی بات ہے یا تم کہیں اور جانا چاہتی تو بتا سکتی ہو.
عشال پہلے تو کچھ دیر سوچتی رہی پر پھر مان گئی.
نازرشاہ تو اسے کسی بھی طرح مراد سے دور لے جانا چاہتا تھا.
چند دن کی تیاری کے بعد وہ دونوں پیرس کے لئے روانہ ہو گئے.
عشال نے پہلی بار پلین میں سفر کیا تھا جس وجہ سے وہ کافی خوفزدہ لگ رہی تھی
لیکن نازرشاہ اسے سارے راستے حوصلہ دیتا رہا.
جیسے ہی انہوں نے پیرس لینڈ کیا عشال اپنی تھکاوٹ اور گزشتہ کچھ گھنٹے مکمل طور پر بھول گئی.
بہت خوبصورت ہے یہ تو.
ان کا پیرس میں سٹے بمشکل چند دن تھا.
لیکن یہ چند دن وہ فکر سے آزاد ہو کر گزارنا چاہتا تھا.
________
ہوٹل کی لابی بےحد شاندار تھی. سفید اور گولڈن رنگ سے اسے سجایا گیا تھا.
کمرہ ایک نئے کپل کی مناسبت سے سجایا گیا تھا جسے دیکھ کر عشال تو پانی پانی ہو گئی.
پاکستان اور پیرس میں وقت سے فرق سے عشال تھوڑی کنفیوز ہو رہی تھی.
اس کا بس چلتا تو وہ تبھی سارا پیرس گھومنے بھاگ جاتی.
نازرشاہ نے آرام کرنے کا آڈر دیا جس سے اسے چاروناچار مزید کچھ دیر کے لئے اپنی اکسائٹمنٹ کو تالا لگانا پڑا.
پہلے دن وہ دونوں پیرس میں پیدل گھومتے رہے.
وہاں کی بلڈنگز پارک ہر چیز ہی اپنے آپ میں ایک شاہکار تھا.
عشال یہ لمحے قید کر لینا چاہتی تھی اس لئے نازرشاہ نے اسے ایک کیمرہ دلوا دیا اب وہ بھی دوسرے سیاحوں کی طرح گلے میں کیمرہ لٹکائے گھوم رہی تھی.
اگلے دن ان کا یہی شیڈول رہا وہ ہر وقت ایک دوسرے کے ساتھ گزار رہے تھے.
نئے نئے ریسٹورنٹ میں کھانا کھاتے . پیدل تفریح کرتے تھک جانے پر کیب ہائر کر لیتے.
جگہ جگہ پر پیرس کے نقشے نصب تھے تاکہ سیاحوں کو کوئی پریشانی نا ہو.
لیکن زیادہ تر لوگ جی.پی.آر.ایس کا ہی سہارا لیتے دکھ رہے تھے.
اگلے دن ان کا ارادہ مشہور ائیفل ٹاور دیکھنے کا تھا.
عشال نے ان دونوں کی کئی تصاویر بھی بنائی تھیں.
اندھیرا ہوتے ہی نازرشاہ نے عشال کے ساتھ واپس ہوٹل کا رخ کیا.
نازرشاہ نے اوپرا کی ٹکٹس خریدی تھیں.
جگہ کی مناسبت سے عشال نے شیمپین کلر کا خوبصورت گاؤن پہنا تھا.
جب وہ اوپرا سٹوڈیو پہنچے تو وہاں پر کئی کپلز اور فیملیز بھی موجود تھیں.
کیا تم نے کبھی کوئی اوپرا اٹینڈ کیا ہے؟
نہیں اور آپ نے؟
نہیں میں نے بھی نہیں.
شو سٹارٹ ہونے والا تھا . جیسے ہی سٹیج سے پردہ ہٹا وہاں ایک خوبصورت لڑکی نے سر لگانا شروع کر دیا ہٹا.
اس کے ساتھ ہی اداکاروں نے اپنی اداکاری کا فن دکھانا شروع کیا.
اوپرا شو مشہور زمانہ کہانی رومیو جولیٹ پہ بنایا گیا تھا.
اداکاروں اور گائیکہ دونوں نے ہی سٹوڈیو میں موجود ہر شخص کو اپنے حصار میں لے رکھا تھا.
اس کی خوبصورت آواز ہر سمت گونج رہی تھی.
شو کے درمیان کچھ وقت کے لئے انہوں نے وقفہ اختیار کیا.
یہ تو بہت اچھا ہے مجھے یہاں لانے کے لئے بہت شکریہ.
مجھے خوشی ہے تمہیں پسند آیا.
عشال نے جب اداکاروں کی تعریف کرنی شروع کی تو نازرشاہ نے ان کی غلطیاں گنوانی شروع کر دیں عشال اس کی بات پر ہسنے لگی.
_________
قریب بیٹھے لوگ اسے غصے سے دیکھنے لگے
جس پر نازرشاہ ان سب کو گھورنے لگا اور وہ لوگ دوبارہ سیدھے ہو گئے.
شو دوبارہ شروع ہو چکا تھا. اس کے اختتام پر کئی لڑکیوں سمیت عشال بھی رونا شروع ہو گئی.
اسے روتا دیکھ نازرشاہ نے اپنا رومال اسے دے دیا جس سے وہ آنسو اور ناک صاف کرنے لگی.
جب کے نازرشاہ کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کوئی اتنا بےوقوف کیسے ہو سکتا ہے کہ زندہ شخص کو مرا ہوا سمجھ لے.
جب وہ دونوں اپنے کیب کی طرف بڑھ رہے تھے تو بھی عشال رو رہی تھی
پتا ہے اس میں سارا قصور رائٹر کا ہے.
اس کی بات سے وہ نازرشاہ کو تکنے لگی.
بلکل یہ لیلی مجنوں ہیر رانجہ سسی پنوں سب کا اختتام اتنا ٹریجک ہی کیوں ہوتا ہے.
کیا محبت کبھی مل نہیں سکتی.
اس کی بات پہ نازرشاہ خاموش ہو گیا.
پھر کچھ دیر بعد بولا ویسے روتے ہوئے تمہارے گال سرخ ہو جاتے ہیں اور ناک پھیل جاتی ہے.
عشال کے تاثرات دیکھ کر وہ ہسنے لگا.
عشال نے اسے پہلی بار یوں بےفکر ہو کے ہنستے دیکھا تھا.
نہیں … میری ناک نہیں پھیلتی.
عشال نے اپنی بات پرزور طریقے سے کہی تھی.
ارے پھیلتی ہے اور باقاعدہ بہتی بھی ہے.
اس کی بات سن کر عشال کا منہ کھلا رہ گیا.
نازرشاہ لڑکیوں کو ایسا نہیں کہتے.
وہ اب چبا چبا کے کہ رہی تھی.
نازرشاہ اس کی حالت سے محظوظ ہو رہا تھا اور مزید ہسنے لگا.
کچھ دیر بعد عشال بھی اس کھیل میں شامل ہو گئی.
عشال نے کیمرے کو فل چارج کرنے کے بعد بھی ایک گھنٹا مزید چارج کیا تھا.
وہ ائیفل ٹاور کی بھرپور تصاویر لینا چاہتی تھی.
نازرشاہ اور وہ کیب کے ذریعے وہاں پہنچے.
ان کے علاوہ وہاں سیاحوں کا ہجوم تھا.
عشال اور نازرشاہ نے اکٹھے بھی کئی تصاویر بنوائی .
وہاں کا موسم اور منظر بھی بہت خوبصورت تھا.
واپسی پر انہوں نے کچھ دیر پیدل چلنے کا فیصلہ کیا
تاکہ اطراف کو مزید اچھے سے دیکھ پائیں.
عشال جب پیدل چل کر تھک گئی تو اس نے نازرشاہ سے کیب ہائر کرنے کا کہا.
وہ جس جگہ پر تھے وہاں کیب ملنا مشکل تھا اس لئے انہیں کچھ فاصلہ پیدل ہی طے کرنا تھا.
جب عشال نے ہلنے سے بھی انکار کر دیا تو نازرشاہ نے اسے اٹھا لیا.
نازرشاہ یہ یہ کیا کر رہے ہو. نیچے اتارو مجھے.
تم نے ہی کہا کہ تم تھک گئی ہو.
وہ اسے اٹھا کر فاصلہ طے کرنے لگا تھا.
نہیں میں چل سکتی ہوں اتاریں مجھے پلیز.
