Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 09

اور کہو گی کہ تم اپنی مرضی سے یہاں ہو اور بہت خوش ہو اپنے اس پیارے شوہر کے ساتھ.
وہ اب اس کی گردن پہ پڑے اس نشان پر انگلی پھیرتے ہوئے کہ رہا تھا جو کہ پہلے سے قدرے ہلکا ہو چکا تھا.
میں پاگل نہیں جو ایسا کروں. میں انہیں سب سچ بتا دوں گی.
نازرشاہ نے اسے بالوں سے پکڑ لیا.
جیسا میں نے کہا ویسا ہی کرو گی تم کیونکہ اگر تم سچ بتا بھی دو تو کوئی ثبوت نہیں تمہارے پاس آخر کار تم زندہ اور سلامت ہو.
دوسری بات مجھے زمانت میں صرف دو گھنٹے لگے گیں اور اگلی بار میں تمہارے ساتھ اتنا نرم رویہ نہیں رکھوں گا.
اور تیسری بات
اس نے عشال کے بال مزید کھینچنے جس سے وہ پیچھے کو دوہری ہوتی جا رہی تھی.
تم تو جان سے جاؤ گی ہی لیکن اس وقت تمہاری وہ پیاری دوست میرے آدمیوں کے نشانے پر ہے.
ادھر تم نے کچھ غلط کہا اور ادھر وہ تمہاری وجہ سے اپنی جان سے جائے گی.
عشال کو فورأ ہی حورین کا معصوم چہرہ دکھنے لگا .
نہیں اس میں اسے مت کھینچو.
اگر تم ویسا کرو گی جیسا میں نے کہا ہے تو اسے کچھ نہیں ہو گا.
اور عشال تم اس گھر سے باہر زندہ نہیں رہ سکتی. یہ قید خانہ ہی تمہاری جان کا امین ہے.
وہ نجانے اسے اپنی باتوں اور نظروں سے کیا سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا.
لیکن عشال کو خود سے زیادہ اب حورین کی فکر تھی.
میں ویسا ہی کروں گی جیسا تم کہ رہے ہو لیکن وعدہ کرو اس کے بعد تمہارے آدمی کبھی اس کا تعاقب نہیں کریں گے.
نازرشاہ نے وہ آدمی اسے قتل کرنے کی جگہ اس پر نظر رکھنے کے لئے مختص کئے تھے .
وہ جانتا تھا اگر مراد کو حورین کا عشال سے تعلق پتا لگا تو وہ اسے درندوں کے آگے ڈال دے گا اور تب وہ موت کی بھیک مانگے گی.
لیکن عشال کو یہ سب بتانے کی ضرورت نہیں تھی.
جب اسے یقین ہو گیا کہ عشال واقعی کوئی الٹی حرکت نہیں کرے گی تو اس کا ہاتھ تھام کر اپنے ساتھ لان میں لے گیا.
عشال نے ویسا ہی کیا جیسا نازرشاہ چاہتا تھا.
وہ حورین کو بہنوں کی طرح چاہتی تھی اور کبھی اس کے لئے برا نہیں سوچ سکتی تھی.
نازرشاہ نے ثبوت کے طور پر ان کا نکاح نامہ بھی دکھایا تھا.
اور پولیس نے بھی اس کی بات مانتے ہوئے وہاں سے جانے میں جلدی دکھائی.
یہ اس کی آخری امید تھی جو کہ وہاں سے جا رہی تھی
اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس نے خود اپنے لئے گڑھا کھودا تھا.
_______
اسے اب جو بھی کرنا تھا خود ہی کرنا تھا.
اپنی آزادی کے لئے خود جدوجہد کرنی ہو گی.
غصے سے جلتی وہ اندر چلی گئی کیونکہ اسے لگ رہا تھا کہ وہ ان پولیس والوں کو جاتے ہوئے روک لے گی اور سب سچ بتا دے گی.
اسے کسی طرح سے نازرشاہ سے چابیاں حاصل کرنی ہوں گی.
وہ بھی اس کے پیچھے مزید بھڑکانے کے لئے آ گیا.
عشال نے اسے قہر آلودہ نظروں سے دیکھا.
اگر وہ بس نگاہوں سے مار سکتی تو یقینا وہ اس وقت تڑپ رہا ہوتا.
مجھے تم سے نفرت سے نازرشاہ بے پناہ نفرت.
اپنے جذبات کو خفیہ رکھنے کی اس نے کوئی ضرورت نہیں سمجھی تھی.
نازرشاہ چہرے پہ استہزائیہ مسکراہٹ سجائے اسے دیکھ رہا تھا.
احتیاط سے بیگم.
بےپناہ نفرت اور بے پناہ محبت ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں.
کہیں ایسا نا ہو کہ یہ نفرت محبت میں بدل جائے.
اس کی بات عشال کو مزید غصہ دلانے میں کامیاب رہی تھی.
تم… تم دیکھ لوں گی تمہیں میں. جان سے مار دوں گی تم کو.
وہ اس کی طرف انگلی اٹھائے ایک ایک لفظ دانت کچکچاتے ہوئے کہ رہی تھی.
نازرشاہ نے آگے بڑھ کے اس کا ہاتھ تھام لیا جسے عشال نے چھڑانے کی کوشش کی پر ناکام رہی.
اوہ… تو ایسا کہو نا کہ تم میرے ساتھ فیزیکل ہونا چاہتی ہو.
ہنسی دباتے ہوئے کہا گیا.
کک …کیا…
عشال کے چہرے پہ اب ایک رنگ آ اور ایک جا رہا تھا.
کیا کہ رہے ہو تم.
تم اچھے سے سمجھ رہی ہو کیا کہ رہا ہوں میں.
وہ اب نازرشاہ کے ہر ایک بڑھتے قدم پر دو قدم پیچھے اٹھا رہی تھی.
دد…دور رہو مجھ سے.
غصہ کب ہوا ہوا اور آنسو کب آنکھوں میں اترے اسے خود پتا نہیں لگا تھا.
آہ پھر سے یہ موٹے موٹے آنسو.
وہ عشال کہاں گئی جو مجھ سے پہلی بار یونیورسٹی کے باہر ٹکرائی تھی.
دیکھو نازرشاہ تم نے جو کہا میں نے وو… وہ کیا اب بس کرو یہ سب.
اپنے پیچھے راستہ روکتی دیوار کو دیکھ کر ایک دم اس نے بات بدلی تھی.
اس کی آنکھوں میں اترا خوف نازرشاہ کو اچھا نہیں لگا تھا.
ٹھیک ہے میں آج تمہیں مزید کچھ نہیں کہوں گا. اگر تم مجھے دوبارہ آپ کہ کر بلاو تو.
مجھے تمہارا یہ تم کہ کر بلانا پسند نہیں آیا.
عشال نے تو غور ہی نہیں کیا تھا کہ وہ کب آپ سے تم پر آئی تھی.
تم نے میرے ساتھ جو کچھ کیا وہ تمہیں برا نہیں لگا ہاں؟ بولو
اسے ایک بار پھر سے غصہ آیا تھا.
دوبارہ تم پکارے جانے پہ اس بار اس نے عشال کو غصہ سے دیکھا.
_________
شاید تم سمجھی نہیں میری بات.
ایک قدم سے اس نے عشال اور اپنے درمیان کا فاصلہ مٹایا تھا.
اسے اپنے اتنے قریب پا کر اس کی دھڑکن تیز ہوئی تھی.
ٹھ.. ٹھیک ہے تم جیسا … میرا مطلب آپ جیسا کہو گے.
خشک ہوتے حلق سے اس نے جلدی سے کہا.
نازرشاہ نے مسکرا کر اس کا ہاتھ اپنے لبوں کے قریب کیا اور اس کی ہتھیلی کو چوم لیا.
عشال کو لگا وہ بےہوش ہو جائے گی.
اس کے بعد اس کا ہاتھ چھوڑ کر وہ تیزی سے وہاں سے چلا گیا.
اور عشال کتنی ہی دیر تک وہاں کھڑی اپنی سانسوں کو درست کرتی رہی.
وہ اب اس کے آنے جانے پر کافی دھیان رکھنے لگی تھی.
کونسی چیز کہاں پر ہے اسے بھی دیکھنے لگی تھی.
نازرشاہ اس کی چور نگاہوں کو آرام سے پڑھ لیتا لیکن کبھی عشال کو اس بات کا احساس نہیں ہونے دیا.
نازرشاہ واقعی کسی پہ یقین نہیں کرتا تھا اور اپنا کھانا خود بنا کر کھاتا تھا.
عشال اس کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے اس کی مدد کرنے لگی.
وہ اب عشال کو کچھ وقت لان میں بھی ٹہلنے دیتا تھا لیکن اس پر ہر وقت نظر کڑی نظر رکھتا.
لیکن عشال کسی طرح اس سے نظریں بچا کر ایک درمیانہ پتھر اندرونی دروازے کے پیچھے چھپانے میں کامیاب ہو گئی.
کچھ دیر بعد نازرشاہ اسے لے کر گھر کے اندر چلا گیا.
عشال کو اب اس کے سونے کا انتظار تھا.
نازرشاہ چونکہ اس کے ساتھ والے کمرے میں رہ رہا تھا اس لئے وہ دبے پاؤں سیڑھیاں اترتی اس چھپائے ہوئے پتھر کے پاس چلی گئی.
پتھر اٹھا کر وہ واپس سیڑھیوں کی طرف آ رہی تھی جب کچھ سوچ کر کچن میں چلی گئی.
اب اس کے ایک ہاتھ میں پتھر اور دوسرے میں چھری تھی.
دھیرے دھیرے دبے پاؤں سے اس کے کمرے کی طرف بڑھنے لگی.
عشال کی دھڑکن بہت تیز ہو چکی تھی. سانسیں قابو میں کرتی دروازے کو کھولنے لگی.
قسمت سے وہ لاک نہیں تھا. وہ بستر میں لیٹا سو رہا تھا.
عشال کو لگا وہ ابھی اٹھ کر اسے پکڑ لے گا . اپنی کانپتی ہوئی ٹانگوں سے وہ کمرے میں داخل ہوئی اور اندھیرے میں ادھر ادھر دیکھنے لگی.
اس کا موبائل اور چابیاں سائیڈ ٹیبل پر پڑی تھیں.
وہ خوش ہوتی خاموشی سے اس کی طرف بڑھنے لگی اور بیچ راستے ایک دم رک کر اسے دیکھنے لگی.
پھر دبارہ قدم اٹھانے لگی.
سائیڈ ٹیبل پر چھری رکھ کے جیسے چابیاں اٹھا لیں.
اب اسے جلد از جلد یہاں سے نکلنا تھا.
________
وہ جیسے ہی پلٹی کسی نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنی طرف کھینچا.
عشال اس حملے کے لے تیار نہیں تھی اس لئے لڑکھڑا کر کھینچنے والے پہ جا گری.
نازرشاہ نے اس کا ہاتھ گھما کر اس سے پتھر چھین لیا اور دروازے کی طرف پھینک دیا.
عشال کے ساتھ سب اتنی تیزی سے ہوا کہ وہ کچھ سمجھ ہی نا پائی.
اس نے اٹھنے کی کوشش کی پر اب وہ نازرشاہ کی جگہ اوندھے منہ بیڈ پر تھی .
اور نازرشاہ اس کے اوپر اسے اٹھنے سے روک رکا تھا.
وہ اس کی سانسیں اپنے کان کے پاس محسوس کر سکتی تھی.
اس نے سائیڈ ٹیبل سے چھری اٹھانی چاہی پر اس بازو بھی نازرشاہ کے قابو میں تھے.
نہیں میری جان اس سے کسی کو چوٹ لگ سکتی ہے.
نازرشاہ نے اپنی بیڈ پر پڑی ہوئی شرٹ اٹھائی اور اس کے ہاتھ باندھنے شروع کئے.
یہ کیا کر رہے ہو چھوڑو مجھے.
تمہارے خطرناک ارادے دیکھ کر بھی چھوڑ دوں.
وہ اس کا انتظار ہی کر رہا تھا. عشال کو پتھر چھپاتے ہوئے اس نے دیکھ لیا تھا.
لیکن جس بات پر اسے غصہ آیا وہ یہ کہ عشال نے بھی اپنے باپ کی طرح اس وقت حملہ کیا جب وہ سو رہا تھا.
فرق صرف یہ تھا کہ اب وہ گھری نیند نہیں سوتا تھا.
عشال کے ہاتھ باندھ کر وہ اس سے ہٹ گیا اور اسے بھی کھینچ کر کھڑا کر دیا.
تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہئیے تھا عشال.
تو کیا لگا میں یہ سب سہتی رہوں گی. کبھی نہیں. میں یہاں سے چلی جاؤں گی اور تمہیں جیل پہنچا کر چھوڑوں گی.
اور کھولو مجھے . چھوڑو.
وہ خود کو اس کے دور کرنا چاہتی تھی اور غصے میں چلا رہی تھی.
نازرشاہ نے بنا کچھ کہے عشال کے گلے میں لپٹا ڈوبٹا اتارنا شروع کیا.
یہ کیا کر رہے ہو تم. مجھے ہاتھ مت لگانا.
اس نے عشال کا چہرہ اپنے ہاتھ میں دبوچ لیا.
تمہیں سبق سکھا رہا ہوں کہ نازرشاہ پہ حملے کا کیا انجام ہوتا ہے.
عشال کی سوچ کے برعکس اس نے جھک کر عشال کا ایک پاؤں پکڑا اور ڈوبٹے کا ایک سرا اس کی پنڈلی پہ باندھ دیا.
عشال دوبارہ توازن کھو کر اوندھے منہ بیڈ پہ پڑی چیخ رہی تھی.
نازرشاہ نے اسے دوبارہ کھڑا کیا اور اس کا دوبٹا بیڈ کے اوپر لگے بیم سے اچھال کر دوسرے سرے کا ایک پھندا بنا لیا.
بیم کے اوپر سے ڈوبٹا گزارنے سے عشال کو اپنی ٹانگ پچھلی طرف فولڈ کرنی پڑی.
اب وہ صرف ایک ٹانگ پہ کھڑی تھی.
اسے نازرشاہ کے ارادے پہ خوف آ رہا تھا.
_________
دوسرے سرے سے بنائے پھندےکو اس نے عشال کا سر پکڑ کر زبردستی اس کے گلے میں ڈال دیا اور پھر اسے کس دیا.
ایک قدم پیچھے ہٹ کر وہ اب اپنی کاریگری دیکھ رہا تھا.
عشال ایک پاؤں پر کھڑی تھی.
اس کا ایک پاؤں پیچھے کو فولڈ تھا جو کہ اس کے ڈوبٹے سے بندھا تھا.
دوسرا سرا پھندے کا کام کر رہا تھا.
بیم کے اوپر سے گزارنے سے اس نے ایک سی سا کی شکل اختیار کر لی تھی.
اگر وہ اپنا بندھا پاؤں ذرا بھی نیچے کرتی تو وہ پھندا اس کا گلہ گھوٹ دیتا.
اور اگر وہ توازن کھو کر لڑکھڑا جاتی تو یقینا اپنے ہی ڈوبٹے سے گلا گھٹنے سے مر جاتی.
اس کی حالت قابل رحم تھی. ہاتھ کمر پر بندھے تھے.
اس کا ذرا سا ہلنا بھی جان لیوا تھا.
نا نازرشاہ پلیز ایسا مت کرو میں مر جاؤں گی پلیز.
اپنے آنسو پیتی وہ اسے مخاطب کر رہی تھی.
وہ تو تمہیں پہلے سوچنا چاہئیے تھا.
آئندہ ایسا نہیں ہو گا پلیز مجھے کھول دو.
اس نے کبھی یوگا یا اکسرسائز نہیں کی تھی.
اور اس کی ٹانگ کانپنے لگی تھی.
اسے لگا وہ کسی بھی وقت گر جائے گا
_________
نازرشاہ پلیز ایسا ظلم نا کرو پلیز.
وہ عشال کی پرواہ کئے بغیر اسے وہاں چھوڑ کر کمرے سے باہر جانے لگا.
اسے باہر جاتے دیکھ کر عشال کے ضبط کا بندھ ٹوٹ گیا اور وہ رونے لگی.
نہیں مجھے یہاں ایسے چھوڑ کے مت جاؤ….
پلیز واپس آؤ میں دوبارہ ایسا کبھی نہیں کروں پلیز.
نازرشاہ نے اس کی چیخوں کو دروازہ بند کر کے دبا دیا.
اور خود اس سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا.
وہ عشال کو اس طرح سے چھوڑ کر زیادہ دور نہیں جا سکتا تھا.
اس کا طریقہ جانلیوا تھا لیکن عشال کی ہمت توڑنا لازمی تھا.
کیونکہ وہ جس جگہ کو قید گاہ سمجھ رہی تھی وہ دیواریں اصل میں اس کی حفاظت کے لئے تھیں.
وہ عشال کے رونے کی آواز سن سکتا تھا.
وہ بار بار اسے پکار رہی تھی.
اسے تکلیف میں دیکھ کر نازرشاہ کو دکھ ہوتا تھا لیکن پھر اسے یاد آ جاتا تھا کہ وہ کون ہے.
عشال کو لگ رہا تھا وہ کبھی واپس نہیں آئے گا.
وہ بری طرح تھک چکی تھی اور دو بار لڑکھڑائی تھی.
وہ پھندہ اس کے گلے میں مزید تنگ ہو چکا تھا.
اس کے گلے میں شدید درد تھی اور آکسیجن پوری نا ملنے کی وجہ سے وہ آہستہ آہستہ خود پر قابو کھو رہی تھی.
نازرشاہ کو جیسے ہی اس کی آواز سنائی دینا بند ہوئی وہ کمرے میں داخل ہو گیا.
عشال میں اس کی سوچ سے زیادہ قوت برداشت تھی.
وہ آدھے گھنٹے اسی حالت میں رہنے کے بعد اب اس پھندے سے جھول رہی تھی.
اور شاید اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی.
اس نے جلدی سے آگے بڑھ کر عشال کو تھام لیا اور اسے اس پھندے سے آزاد کیا.
لیکن وہ سانس نہیں لے رہی تھی.
نازرشاہ کو زندگی ایک بار پھر اپنے ہاتھوں سے پھسلتی ہوئی محسوس کی.
یہ احساس اس نے کئی سالوں بعد محسوس کیا تھا.
اسے لگا کہ عشال نہیں بلکہ وہ مر رہا ہے.
وہ اس کا چہرہ تھپ تھپانے لگا.
عشال ہوش میں آؤ. عشال … عشال.
عشال زندہ تھی لیکن اس کی نبض بہت آہستہ چل رہی تھی.
وہ اسے مصنوعی سانس دینے لگا.
کچھ دیر بعد اس نے عشال کے ٹھنڈے پڑتے بدن میں جنبش محسوس کی.
نازرشاہ کی آنکھوں میں شکر کے آنسو اترنے لگے.
وہ اس لڑکی سے محبت کر بیٹھا تھا جسے قتل کرنے کی قسم کھائی تھی.
عشال کی سانسیں اب متواتر ہونے لگی تھیں لیکن وہ ابھی بھی بیہوش تھی.
اس کے سامنے وہ ہار گیا تھا. اپنا سر تھامے وہ زور زور سے رونے لگا.
نہیں وہ پری سے اتنی بڑی خیانت کیسے کر سکتا تھا.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *