Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui NovelR50713 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 15
Rate this Novel
Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 01 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 02 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 03 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 04 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 05,06 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 07 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 08 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 09 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 10 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 11,12 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 13 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 14 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 15 (Watching)Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 16 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 17,18 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 19 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 20 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 21 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 22 Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Last Episode
Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 15
اس نے عشال کو دیکھا جو اس کے پاس کھڑی کانپ رہی تھی اور مسلسل رو رہی تھی.
اس کی حالت دیکھ کر کوئی بھی بتا سکتا تھا کہ وہ نازرشاہ سے محبت کرتی ہے.
عشال… عشال…
فراز نے اسے زور سے پکارا تو وہ اسے نم آنکھوں سے دیکھنے لگی.
آپ چاہتی ہیں کہ شاہ زندہ رہے تو مجھے آپ کی مدد چاہئیے. آپ کریں گی نا میری مدد..
عشال اس حالت میں صرف سر ہلا پائی.
گڈ… گھر میں جتنے بھی ٹاول ہیں وہ لے آؤ اور نیم گرم پانی بھی.
عشال نے اس کی بات سنی تو لیکن اس کا دماغ ساتھ نہیں دے رہا تھا.
وہ نازرشاہ کا سفید چہرہ دیکھنے لگی.
جلدی کرو.
فراز اس پہ چیخا تھا جس سے وہ واپس ہو میں آئی.
نازرشاہ کے وجود پر ایک نگاہ مزید ڈال کر وہ فراز کی کہی چیزیں لینے بھاگی.
فراز نے سب سے پہلے اس کا زخم صاف کیا اور مزید خون نا بہے اس کے لئے زخم پر دوائی لگائی.
پھر اس نے اس زخم سے گولی نکال لی.
قسمت سے گولی کسی اہم اعضاء پر نہیں لگی تھی لیکن زیادہ خون کا بہ جانا خطرناک تھا.
فراز نے سرنج کے ذریعے اس کا زخم صاف کیا تاکہ انفیکشن نا ہو اور پھر اس پہ پٹی لگا دی.
نازرشاہ کا بلڈ گروپ وہ اچھے سے جانتا تھا.
اس لیے بلڈ کا ایک پیکٹ بھی ساتھ لایا تھا.
ٹیبل کو کھڑا کر کے دھاگے کے ساتھ اس نے آئی.وی سٹینڈ بنا لیا اور نازرشاہ کو خون لگا دیا.
لیکن انہیں مزید خون کی ضرورت ہوتی اس لئے اس نے اپنے ایک اسسٹنڈ کو فون کر کے کہا.
وہ نازرشاہ اور اس کی بیوی کو اس حالت میں اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا.
پہلے ہی وہ لڑکی انجانے میں نازرشاہ کے لیے مشکل بنا چکی تھی.
اس سب کے دوران عشال نا چاہتے ہوئے بھی وہیں رہی تھی.
نازرشاہ جیسے طاقتور انسان کو یوں کمزور دیکھنا بہت تکلیف دہ تھا.
لیکن عشال کے لئے اسے اس حالت میں دیکھنا تو جان لیوا تھا.
وہ نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی.
اس نے نازرشاہ کا ہاتھ تھام رکھا تھا اور مسلسل اس کی سلامتی کے لئے دعا مانگ رہی تھی.
صبح ہونے میں صرف ایک گھنٹا ہی باقی تھا.
بھابھی آپ جائیں سو جائیں میں یہیں ہوں.
وہ عشال کو کئی بار آرام کرنے کا کہ چکا تھا لیکن اس نے ہر بار کی طرح انکار کر دیا.
عشال کو لگ رہا تھا کہ اگر نازرشاہ کو ہوش نا آیا تو اس کا دل بھی دھڑکنا بند کر دے گا.
گولی اسے لگی تھی لیکن اس کی تکلیف عشال اپنے اندر محسوس کر رہی تھی.
________
ابھی تک اسے چار بار خون لگ چکا تھا.
وہ پہلے کی طرح ٹھنڈا تو نہیں تھا لیکن بدستور اسی حالت میں تھا.
ہر گزرتا لمحہ عشال کو مار رہا تھا وہ اسے ہوسپٹل لے جانا چاہتی تھی اس کا ٹھیک سے علاج کرانا چاہتی تھی لیکن فراز نے ایسا نہیں کرنے دیا.
عشال کو ان کے قوانین کی کوئی پرواہ نہیں تھی وہ تو بس نازرشاہ کو اپنے ساتھ دیکھنا چاہتی تھی.
فراز بار بار ان کے پاس آ کر نازرشاہ کا ٹمپریچر چیک کرتا کہ کہیں اسے بخار تو نہیں ہو گیا.
وہ اپنے آپ کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتی لیکن پھر بکھر جاتی.
نازرشاہ پلیز میرے پاس آ جاؤ پلیز واپس آ جاؤ.
عشال شاہ آپ کے بغیر کچھ بھی نہیں.
ہر گزرتا لمحہ مجھے ذہر آلود کر رہا ہے پلیز.
میرا دل آپ کی جدائی نہیں سہہ پائے گا.
وہ اس سے باتیں کر رہی تھی.
وہ ساری رات اور دن ہوش میں نہیں آیا.
اب شام ہو رہی تھی.
عشال کو پو اپنا ہوش نا رہا تھا. اس کا دل تو کب کا نازرشاہ کا ہو چکا تھا.
وہ اس کے لئے کتنا قیمتی تھا اس کا احساس اسے خود اب ہو رہا تھا.
لیکن کاش وہ اپنے جذبات پہلے سمجھ پاتی.
فراز بھی اب پریشان لگ رہا تھا نازرشاہ کو اب تک ہوش آ جانی چاہئیے تھی.
عشال بھوکی پیاسی اس کے پاس ویسے ہی بیٹھی تھی.
اسے اس سب کا احساس ہی کہاں رہا تھا.
وہ اس کی پیشانی پہ ہاتھ پھیرتئ اس کے بال سہلاتی.
نازرشاہ اپنی عشال کے پاس واپس آ جاؤ پلیز.
وہ اپنی سسکیاں دباتی اس سے کہ رہی تھی جب عشال کو اس کے ہاتھ میں جنبش محسوس ہوئی.
وہ ایک دم اس کے ہاتھ کو دیکھنے لگی جو اس نے تھام رکھا تھا.
جب اس کے ہاتھ اور ہونٹوں لرزے تو عشال کو لگا اسے کل کائنات طحفے میں عطا کر دی گئی ہو.
نازرشاہ… نازرشاہ….
عشال خوشی سے اسے پکارنے لگی.
پچھلے چوبیس گھنٹوں کا دکھ اور تھکن غائب ہو گئی.
پاس ہی دوسرے صوفے پہ سوئے فراز کی آنکھ کھل گئی.
اور وہ فورأ ان کی طرف بھاگا.
نازرشاہ اپنئ آنکھیں کھولنے کی کوشش کر رہا تھا.
وہ عشال کی آواز سن سکتا تھا اور اندھیرے میں اس کی آواز کی طرف بڑھ رہا تھا.
فراز نے اس کی دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر چیک کیا جو کہ اچھی خبر دے رہے تھے.
عشال تو پاگلوں کی طرح اس کا نام بار بار پکار رہی تھی اس کی آنکھیں لگاتار نم رہی تھیں پر اب وہ خوشی کے آنسو تھے.
نازرشاہ جب ہوش میں آیا تو اس نے عشال اور فراز کو اپنے پاس پایا.
________
لیکن نازرشاہ کی نظر تو بس عشال پہ ٹھہر گئی تھی.
وہ نم آنکھوں میں محبت سجائے اس دیکھ رہی تھی.
عشال…. اس نے اپنے خشک ہونٹوں سے اس کا نام ادا کیا.
وہ اس کی دعا بھی تھی اور دوا بھی.
عشال کے چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا.
نازرشاہ شکر ہے شکر ہے کہ آپ کو ہوش آ گیا.
وہ بمشکل اپنے جذبات قابو کرتے ہوئے بولی.
نازرشاہ نے ہاتھ بڑھا کر اس آنکھوں سے گرتے آنسو اپنی انگلیوں پہ چن لئے.
وہ کچھ اور کہتا اس سے پہلے فراز بولا.
میں تو بھابھی کو کہ رہا تھا تم ٹھیک ہو جاؤ گے لیکن انھوں نے میری سنی ہی نہیں اور کل رات سے ایک لمحہ بھی تم سے دور نہیں ہوئیں.
فراز کی بات سن کر اس نے عشال کے سراپے پہ نظر دوڑائی اس کے بال بکھرے ہوئے تھے.
آنکھوں کے گرد گہرے ہلکے بن چکے تھے.
زیادہ رونے سے آنکھیں اور ناک سرخ تھا.
اس کا ڈوبٹہ خون سے بھرا ہوا تھا. اسے عشال کو اس حالت میں دیکھ کر بہت دکھ ہوا.
اسے عشال کی وہ سب باتیں اور اعتراف یاد آ رہے تھے جو اس نے پچھلے گھنٹوں میں کئے تھے.
عشال کبھی اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیتی اور کبھی اس کے بال سہلانے لگتی وہ اس بات پر مکمل یقین کر لینا چاہتی تھی کہ وہ واقعی ہوش میں آ گیا ہے.
عشال تمہیں خود کو اتنا ہلکان کرنے کی کیا ضرورت تھی.
اگر آپ اپنا خیال رکھتے تو میں ہلکان نہیں ہوتی.
بلکہ آپ ایسے اس حالت میں ہیں. مجھے لگا آپ کبھی ہوش میں نہیں آئیں گے.
مجھے بہت برے خیالات آ رہے تھے آپ نے آپ نے سوچا بھی کیسے میں یہ سب برداشت کر پاؤں گی ہاں… بولیں بتائیں مجھے..
وہ اپنی بات کہتے ہوئے پھر رونے لگی.
اس کے جذبات میں شدت تھی اور نازرشاہ وہ شدت آسانی سے پہچان گیا.
کیونکہ وہ بھی عشال کے لئے ایسے ہی جذبات رکھتا تھا.
مجھے معاف کر دو آئندہ ایسا نہیں ہوگا. اس نے عشال کی ہتھیلی کا بوسہ لیتے ہوئے کہا.
عشال ایک بھی لمحہ کے لئے اس سے دور نہیں ہونا چاہتی تھی
لیکن نازرشاہ کے اصرار پر آخر وہ فریش ہونے چلی ہی گئی.
فراز نازرشاہ کا چیک اپ کر رہا تھا اور ساتھ میں اس سے باتیں بھی.
تمہاری بیوی تمہیں بہت چاہتی ہے نازرشاہ تم بہت خوش قسمت ہو.
اس کی بات سے وہ مسکرانے لگا.
وہ ساری رات اور سارا دن تمہارے لئے دعا کرتی رہی.
جب میں یہاں پہنچا تو اس کی حالت بھی کافی خراب تھی.
کیا واقعی؟ اس نے پریشانی سے پوچھا.
ہاں…
________
لیکن اس نے تمہیں مارنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی.
فراز نے مسکراتے ہوئے کہا.
کیا مطلب؟ کیا کیا عشال نے؟
نازرشاہ نے پیشانی پہ بل ڈالتے ہوئے پوچھا
جب میں یہاں پہنچا تو تمہارا بہت سا خون بہہ چکا تھا.
جو کہ تمہارے زخم کے حساب سے کچھ زیادہ … نہیں…. اصل میں بہت زیادہ تھا.
تمہاری بیوی سے دریافت کرنے پہ پتا لگا کا تمہارے بیہوش ہونے پر اسے لگا کہ تمہیں پمپ کرنا چاہئیے.
اور وہ تمہیں پمپ کرتی رہی.
مجھے یقین ہے اس سے تمہارا خون فوارے کی صورت میں بہا ہو گا.
فراز نے ہنسی دباتے ہوئے کہا.
اس کی بات سے نازرشاہ بھی مسکرانے لگا.
ہاں… اس کی عشال ایسا کر سکتی تھی.
تم نے اسے کچھ کہا تو نہیں ؟
نہیں میں نے انہیں کہا کہ آپ نے بہت اچھا کام کیا.
نازرشاہ ایک دم ہسنے لگا پر پھر یکدم اٹھتی تکلیف سے خاموش ہو گیا.
عشال بھی فریش ہو کر واپس آ گئی تھی. تو فراز ان سے اجازت لینے لگا.
وہ بھی تھک چکا تھا. لیکن کچھ گھنٹے بعد واپس آنے کا کہ کر چل دیا.
اس کے جاتے ہی نازرشاہ صوفے کی پشت کا سہارا لیتے ہوئے اٹھنے لگا.
ارے ارے… یہ کیا کر رہے ہیں آپ.
عشال نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے روکنا چاہا.
بس عشال میں مزید ایسے نہیں رہ سکتا مجھے بھی فریش ہونا ہے.
کیا مطلب ہے اس کا .. آپ یہی لیٹے رہیں. ایسے تو دوبارہ خون بہنے لگے گا.
اس نے دوبارہ اٹھنا چاہا پر تکلیف زیادہ تھی اور کمزوری سے اس کے جسم نے بھی اس کا ساتھ نا دیا.
لیکن مجال تھی کہ وہ باز آتا.
رکیں میں کچھ کرتی ہوں.. اب ہلنا بھی نہیں.
عشال کے سختی سے کہنے پر اس نے اپنی کوششیں روک دیں.
وہ جلد از جلد عشال سے ان باتوں کے بارے میں پوچھنا چاہتا تھا جو اس نے نازرشاہ سے اس کی بیہوشی میں کہیں.
وہ جاننا چاہتا تھا کہ عشال واقعی اسے چاہتی ہے یا وہ سب صرف اس کی حالت کے سبب تھا.
عشال وہیں اس کے پاس پانی سے بھری بالٹی .. ٹاولز اور لوفا لے آئی.
ٹاولز دھیان سے نازرشاہ کے گرد بچھا کر وہ اس کو لوفا پانی سے تر کر کے صاف کرنے لگی اور پھر نئی شرٹ پہننے کو دے دی.
نازرشاہ ہر کام خود کرتا تھا. اسے لیٹے رہنے سے کوفت ہو رہی تھی. اور عشال اسے ہلنے بھی نہیں دے رہی تھی.
فراز اس کا دوبارہ چیک اپ کر کے چلا گیا تھا.
اب اسے صرف دوائی اور آرام کی ضرورت تھی.
وہ مزید اس صوفے پہ نہیں رہ سکتا تھا.
_________
وہ واویلا مچاتی عشال کو نظر انداز کرتا دھیرے دھیرے اٹھ کھڑا ہوا.
اسے کافی تکلیف محسوس ہو رہی تھی پر اس کا صبر ختم ہو گیا تھا
عشال کا جب اسے کوئی اثر نا ہوا تو وہ پھر اس کی چلنے میں مدد کرنے لگی.
وہ عشال اور دیوار کا سہارہ لے کر سیڑھیاں چڑھنے لگا.
کمرے میں آ کر اپنے آرام دہ بیڈ پر لیٹ گیا.
اور سکھ کا سانس لیا.
اس نے نیند کی دوائی لینے سے انکار کر دیا تھا.
رات بھر وہ بار بار جاگتا رہا. لیکن پھر عشال کو پاس پا کر پرسکون ہو جاتا.
وہ گہری نیند میں تھی. رات کے تاریک لمحوں میں وہ اس کے نقوش کو دل میں اتارتا رہا.
جب وہ جاگا تو عشال کہیں نہیں دکھی.
اس نے اسے پکارا پر وہ کچن میں تھی اس لئے سن نہیں پائی.
موقعہ کو غنیمت جان کر وہ اٹھا اور وارڈروب سے کپڑے نکال کر واشروم گھس گیا.
شاور لے کر وہ خود کو دوبارہ انسان محسوس کرنے لگا.
اب اسے پٹی کو بدلنا تھا اس لئے کمرے میں آ کر بیڈ پر بیٹھ گیا. اور پرانی گیلی ہو چکی پٹی اتارنے لگا.
عشال جو کہ اس کے لئے سوپ بنا کر لائی تھی.
اس کے گیلے بال دیکھ کر رک گئی. اسے نازرشاہ پہ غصہ آنے لگا تھا.
اس سے انفیکشن بھی ہو سکتا ہے.
ہمم… نہیں اتنے معمولی زخم سے کچھ نہیں ہوتا.
معمولی…
اگر یہ معمولی ہے تو غیر معمولی کیا ہے. وہ ایک دم جیخی تھی.
نازرشاہ اب زخم صاف کر رہا تھا جس پہ عشال شکل بنا رہی تھی.
نازرشاہ نے اس کے تاثرات دیکھے تو اپنے پاس بلا لیا.
ادھر آؤ
کون میں ؟
وہ خوفناک تاثرات لئے پوچھ رہی تھی.
کیا یہاں کوئی اور ہے. یہاں آؤ اور صاف کرو زخم.
مم… میں نہیں کر سکتی.
اس کی نظروں کے سامنے پرسوں رات کا منظر گھوم گیا.
تم میری بیوی ہو. کم از کم یہ تو کر سکتی ہو.
پلیز نازرشاہ یہ نہیں.
دیکھو مجھے درد ہو رہا ہے جلدی کرو.
آخر کار وہ اس کے سامنے گٹھنوں کے بل بیٹھ کر کانپتے ہاتھوں سے زخم صاف کرنے لگی.
اس نے جلدی کرنی چاہی جس سے اس نے زخم پر دباؤ دیا اور وہ کراہ کر رہ گیا.
سوری سوری.
آرام سے کرو لڑکی. نزاکت سے . جلاد نا بنو.
وہ معافی مانگتی اس بار بقول نازرشاہ کے نزاکت برتنے لگی. اور پھر ٹیڑھی میڑھی پٹی باندھ دی.
جسے اس نے دوبارہ کھلوا دیا.
اور عشال نے اس بار دھیان سے پٹی باندھی.
وہ کشن سے ٹیک لگائے بیڈ پر نیم دراز تھا.
_________
عشال اس کے لئے دوبارہ سوپ گرم کر کے لائی تھی.
یہ سوپ پی لیں آپ کر اچھا لگے گا.
اس نے بہت محنت اور محبت سے وہ سوپ بنایا تھا. اس لئے مسکراتے ہوئے کہنے لگی.
نازرشاہ کے پاس ڈش رکھ کر خود بھی بیڈ پہ بیٹھ گئی.
پی تو میں لوں گا لیکن کہیں تم نے اس میں کچھ ملایا ہوا تو نہیں ؟
اس کی بات سے عشال شرمندہ سی ہو گئی.
نہیں ایسا کچھ نہیں ہے آپ کو مجھ پہ یقین نہیں تو میں چکھ کر دکھا دیتی ہوں.
چکھ کر؟ آخری بار بھی تم نے مجھے ایسے ہی پھسایا تھا بیگم.
جو بھی ہے.
عشال اس کے مزید قریب ہو کر بیٹھ گئی اور سوپ پلانے لگی.
لیکن نازرشاہ اسے ابرو اچکا کر دیکھنے لگا.
جس پہ عشال آنکھیں گھما کر رہ گئی.
پہلے خود ایک سپ لیا اور پھر اس کی طرف بڑھا دیا.
نازرشاہ جانتا تھا کہ عشال بھی بھوکی ہے اس لئے وہ اس کے ہاتھ سے چمچ پکڑ کر اسے بھی سوپ پلانے لگا.
نازرشاہ گھر بیٹھے بیٹھے بے چین ہو رہا تھا.
ایک اجھی بیوی کی طرح عشال اس کا خیال رکھ رہی تھی.
وہ جان بوجھ کر اس پٹی تبدیل کرواتا. عشال جب اس کے قریب ہوتی وہ درد محسوس نہیں کرتا تھا.
عشال نے کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی نازرشاہ کی کیئر کرنے میں.
یہ اس کا محبت جتلانے کا انداز تھا.
وہ اس وقت نازرشاہ کے کپڑے پریس کر رہی تھی.
جیسے ہی اس نے کپڑے پریس کئے وہ واشروم چلا گیا.
اسے کچھ سوجھ نہیں رہا تھا کہ کیسے اپنی بےچینی ختم کرے.
نازرشاہ نے قینچی اٹھائی اور آئینہ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے بال کاٹنے لگا.
پھر فریش ہو کر باہر آ گیا.
عشال اسے دیکھ کر اپنی ہنسی روکنے لگی. اور اپنی نظروں کا زاویہ بدل کر رہ گئی.
یہاں آؤ چلو پٹی تبدیل کرو.
اب وہ ایک بار میں ہی ٹھیک سے پٹی باندھ دیتی تھی.
نازرشاہ اسے یک ٹک دیکھ رہا تھا.
وہ جیسے ہی کھڑی ہونے لگی نازرشاہ نے اس کا ہاتھ تھام کر روک لیا.
عشال میں تم سے کافی دیر سے ایک بات کرنا چاہتا ہوں.
اس کی نظروں میں تپش تھی.
اور جذبات میں شدت.
میں جاننا چاہتا ہوں جو کچھ تم نے میری بیہوشی میں کہا کیا وہ سچ تھا.
عشال اپنا گلہ خشک پڑتا محسوس کر رہی تھی.
اس کی دھڑکن میں تیزی آئی تھی.
نازرشاہ نے اپنے دونوں ہاتھوں میں اس کا چہرہ تھام لیا.
کیا تم مجھ سے واقعی محبت کرتی ہو. یا وہ سب صرف وقت کی نزاکت تھی.
عشال اپنی نظریں جھکا کر رہ گئی.
