Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 03

عشال معاملے کی سنگینی سمجھ رہی تھی. اس کےساتھ کچھ بھی ہو سکتا تھا. لیکن کیا ضمانت تھی کہ یہ شخص اس کے ساتھ کچھ برا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا.
وہ یہاں پہ اس کی مرضی کی غلام تھی. اور وہ کچھ بھی کر سکتا تھا یہ سوچ ہی زہر تھی.
گھبراؤ نہیں. مجھے کسی لاچار سے زبردستی کا کوئی شوق نہیں.
یہ کہتے ہوئے وہ کھڑا ہو گیا. میں تمہارا انتظار کر رہا ہو جہاں تمہیں جانا ہو گا میں چھوڑ آؤں گا.
بند دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وہ کمرے سے باہر چلا گیا.
عشال اس بند دروازے کی طرف گئی تو وہ باتھروم نکلا.
اس نے جلدی سے ایک سرسری نگاہ شیشے پر ڈالی. اس سے زیادہ دیر وہ شیشے میں نہیں دیکھ پاتی تھی.
اس کا کاجل آنکھوں کے گرد پھیلا ہوا تھا.
کندھوں تک کٹے ہوے بال چاروں سمت اشارے کر رہے تھے.
کون لوگ آخر کون لوگ ہوتے ہیں وہ جاگنے کے بعد چڑیلوں جیسے نہیں لگتے بڑبڑاتی ہوئے اس نے منہ دھویا اور پھر انگلیوں سے بال سلجھاتی اس کی تلاش میں نکل گئی.
وہ ٹیبل پر بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا ٹیبل کے ایک سائیڈ پر اس کے لئے بھی آملیٹ اور چائے کا کپ رکھا تھا.
ناشتہ کر لو پھر میں تمہیں لے چلتا ہوں.
نہیں میں ایسے ہی ٹھیک ہوں ابھی جانا پسند کروں گی.
لیکن وہ اسے نظر انداز کرتا لقمے لینے میں مصروف ہو گیا.
عشال نے کہیں کوئی تصویر یا کوئی اور ذاتی چیز نہیں دیکھی. ہر جگہ صاف تھی.
فرنیچر اور ضرورت کی چیزیں بس. وہ گھر نہیں ایک مکان تھا. کوئی سجاوٹی سامان نہیں.
وہ یہاں سے جلد از جلد جانا چاہتی تھی.
جب خاموشی تنگ کرنے لگی تو بےاختیار پوچھ اٹھی.
آپ کی بیوی اور بچے نہیں دکھ رہے.
سامنے والے کی رگیں تن گئیں.
وہ کرسی کو یکدم پیچھے دھکیلتا اٹھ کھڑا ہوا.
عشال بھی ڈر کے کھڑی ہو گئی. اب ایسا بھی کیا کہ دیا میں نے.
چلو. اسے حکم دیتا وہ وہاں سے چل دیا.
عشال بھی اس کے پیچھے چل دی اور خاموشی اختیار کر لی
وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے اس کے ساتھ گاڑی میں تھی. اور ہوسٹل کا اڈریس بتانے کے علاوہ خاموش تھی.
میں نے آج خاموش رہنے کا ریکارڈ ہی بنا لیا . دل ہی دل میں سوچ رہئ تھی. جب اس نے گاڑی ہوسٹل کے سامنے روک دی.
شاید مجھے اس کا شکریہ ادا کرنا چاہئیے. بیگ سنبھالتے ہوئے سوچنے لگی.
وہ آپ کا بہت بہت شکریہ اگر آپ نا ہوتے تو میرے ساتھ پتا نہیں کیا ہوتا.
_______
تمہیں انجان لوگوں پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئیے.
عشال اسے دیکھنے لگی. اب تک اس نے پہلی بار اسے غور سے دیکھا تھا.
بلاشبہ وہ ایک وجیہہ مرد تھا.
آپ بھی تو انجان ہیں میرے لئے.
اور تمہیں مجھ پربھی یقین نہیں کرنا چاہئیے میں قاتل یا ریپسٹ ہو سکتا ہوں.
وہ اسے یقینا ڈرا رہا تھا لیکن کیوں.
آپ کا نام کیا ہے؟
میرا نام جان کر کیا کرو گی.
اگر آپ قاتل یا ریپسٹ ہیں تو مجھے پولیس میں رپورٹ بھی تو کرنی پڑے گی.
عشال کی بات پر وہ مسکرا پڑا.
میرا نام ناز ہے.
ناز؟ یہ کچھ عجیب نام نہیں.
تمہیں جانا چاہئیے. اس سے پہلے کہ تمہیں قتل نہ کرنے کے ارادے پہ مجھے افسوس ہو.
اس کی بات سے عشال ہنس پڑی. اور ناز عشال کو دیکھتا ہی رہ گیا.
تو پھر مجھے بچانے اور قتل نہ کرنے کے لئے آپ کا بہت شکریہ مسٹر ناز.
یہ کہ کر وہ گاڑی سے اتر گئی. اور ہوسٹل میں چلی گئی.
عشال کہاں تھیں آپ. میں کتنی پریشان تھی. آپ ساری رات واپس نہیں آئیں. اگر آج بھی نا آتی تو ہم پولیس جانے والے تھے.
حورین اسے دیکھتے ہی بولی. شاید وہ ساری رات روتی رہی تھی اس کی گرے رنگ کی آنکھیں سرخ تھیں.
عشال کو شرمندگی ہونے لگی.
مجھے معاف کر دو حورین.
عشال نے اسے ساری آپ بیتی سنا دی.
یہ تو بہت برا ہوا.
ہاں اگر ناز نہ ہوتا تو میں سوچ بھی نہیں سکتی کہ کیا ہوتا میرے ساتھ.
وہ دل سے اس کی عزت کرنے لگی تھی.
میں نے ہوسٹل انتظامیہ کو بتایا پر انہوں نے آج رات تک کا انتظار کرنے کو کہا.
آپ کے موبائل پر کال کی پر وہ بند تھا. میں بہت پریشان ہو گئی تھی.
میں وعدہ کرتی ہوں کہ آئند ایسے نہیں ڈراوں گی.
اور چلو اب یونیورسٹی کے لئے تیار بھی ہونا ہے.
آپ جائیں میں تو رات کی نیند پوری کروں گی.
عشال تیار ہوتی ناز کے بارے میں سوچتی وہاں سے چلی گئی. وہ عشال سے کافی بڑا تھا لیکن اسے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا.
جب وہ یونیورسٹی پہنچی تو اس نے دیکھا کہ اس کا شناختی کارڈ تو تھا ہی نہیں.
کہیں وہ ناز کے پاس تو نہیں رہ گیا . مجھے تو اس کے نام کے علاوہ کچھ پتا بھی نہیں. آخر میں نے تبھی کیوں نہ دیکھ لیا.
اپنے آپ پر افسوس کرتی وہ کلاس میں چلی گئی.
وہاں عدیل اور ستارہ کو دیکھ کر اسے کل رات واپس یاد آ گئی.
عدیل اسے مسلسل عجیب نگاہوں سے دیکھ رہا تھا. کہیں اس سب میں اسی کا ہاتھ تو نہیں.
________
کلاس کے بعد اسے پروفیسر عمر سے ملنے جانا تھا. کیونکہ اسے اسائنمنٹ میں کم مارکس دیے گئے تھے.
وہ اب ان کے آفس کے باہر کھڑی داخل ہونے کی اجازت مانگ رہی تھی.
سر کیا میں آپ سے کچھ بات کر سکتی ہوں.
عشال آ جائیں. کیا بات ہے.
عشال نے اسائنمنٹ ان کے ٹیبل پر رکھ دی.
مجھے اس اسائنمنٹ میں کم نمبر دئے گئے ہیں. جب کہ اس میں کوئی غلطی نہیں.
پروفیسر عمر اس کی اسائنمنٹ چیک کرنے لگے.
نمبر آپ کی کارکردگی کے مطابق دئے گئے ہیں.
لیکن سر اس میں تو کوئی غلطی نہیں.
یہ دیکھیں آپ نے یہاں پر غلط رول اپلائی کیا ہے.
وہ اسے بتانے لگے تو عشال کو شرمندگی ہونے لگی.
سوری سر .
کوئی بات نہیں آپ ایک اچھی سٹوڈنٹ ہیں لیکن ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے آپ کو.
شاہ اخر کار اتنے عرصے بعد تم نے اپنا دیدار کروا ہی دیا.
میں مصروف تھا. یہ بات آپ اچھے سے جانتے ہیں.
سنا ہے آج کل اس لڑکی کے پر نظر رکھ رہے ہو تم.
وہ لڑکی اس کی ماں تک پہنچنے کا زریعہ ہے.
اسے ختم کر دو تمہاری اس میں دلچسپی مجھے پسند نہیں. اس میں ماں خود بخود بل سے باہر نکلے گی.
مراد صاحب آپ کی پریشانی میں سمجھتا ہوں لیکن یہ مت بھولیں مجھے اچھے سے پتا ہے کہ کیا کرنا ہے.
اس کے باپ کی طرح ہی اس کی زندگی کا فیصلہ بھی میرا ہوگا. وہ میرے قرض دار ہیں.
اور یہ قرض اس کی نسل تک ختم کر کے وصول کروں گا.
ہمم… بہت اچھے مجھے ڈر تھا کہ کہیں تم اپنا مقصد تو نہیں بھول گئے.
کوئی اپنے زندہ رہنے کا مطلب نہیں بھولتا. کیا آپ نے مجھے اس بات کے لئے یہاں بلایا؟
مراد کا چہرہ جھریوں سے بھرا ہوا تھا لیکن عمر کے اس حصے میں بھی وہ ایک خوبصورت لڑکی کو پاس بٹھائے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر رہا تھا.
شاہ کو نہیں پسند تھا کہ کام کی بات کے وقت کوئی اور وہاں موجود ہو. لیکن مراد ان سب کا باس تھا اور اسے اس لڑکی سے کچھ زیادہ ہی انسیت ہو گئی تھی. وہ پچھلے دو سال سے ہر وقت مراد کے ساتھ ہوتی تھی.
کیا عمر عابدی نے رپورٹ واپس لے لی. عمر عابدی ایک نجی یونیورسٹی میں پروفیسر تھا اور اس نے ان کے ایک کلائنٹ کے خلاف رپورٹ درج کروائی تھی.
مراد چاہتا تھا اس کے بیوی بچوں کو اس کے لئے عبرت کا نشانہ بنا دیا جائے. لیکن یہ شاہ کا سٹائل نہیں تھا.
اسے ایسے لوگوں سے ذاتی طور پر ملنا پسند تھا.
ہاں وہ مسئلہ تبھی حل ہو گیا تھا.
__________
شاہ کو یاد تھا کیسے اسے دیکھتے ہی عمر کی حالت غیر ہو گئی تھی.
آج رات ایا ٹرک کراچی سے سامان لا رہا ہے. تمہیں خیال رکھنا ہے کہ کام میں کوئی رکاوٹ نا آئے.
یہ سب کچھ تو نوری دیکھتا ہے نا.
ہاں لیکن پولیس کی نظر ہم پر ہے اس لئے تمہیں بھی جانا ہو گا.
شاہ کو یہ سب کرنا پسند نہیں تھا. وہ تو ان لوگوں کو دنیا سے ہٹانا پسند کرتا تھا جو ان کے خلاف سر اٹھاتے تھے.
مراد کے ساتھ بیٹھی لڑکی اسے بغور دیکھ رہی تھی لیکن وہ اپنی اوقات سے واقف تھی.
شروع میں وہ بہت چلاتی تھی اور مراد نے اس کی زبان کاٹ دی. اس کے بعد سے مکمل خاموشی.
مجھے یہ کام اکتا دیتا ہے ایک جگہ کھڑے رہنا سامان کا انتظار کرنا اور پھر اسے منزل پہنچانا یہ سب بور کر دیتا ہے.
اس کی بات سن کر مراد زوردار قہقہہ لگانے لگا.
مائی بوائے مائی بوائے تم سے بہتر کوئی نہیں. جب تک تم میرے ساتھ ہو کوئی بھی ہمارے خلاف کچھ نہیں کر سکتا.لیکن یہ کام تو تمہیں کرنا ہی ہو گا.
ویسے تمہارا چرچہ کراچی تک پہنچ چکا ہے اور ھاد تم میں بہت دلچسپی لے رہا ہے.
وہ دونوں ہی ھاد کو کبھی نہیں ملے تھے اور نہ ہی جانتے تھے کہ وہ کیسا دکھتا ہے.
اس کا اصل نام بھی بہت کم لوگ جانتے تھے. جرم کی دنیا میں اور پولیس والے اسے بیسٹ‎(beast)‎
کے نام سے جانتے تھے.
ہمم… مشہور بییسٹ اسے مجھ میں کیا دلچسپی.
یہ تو صرف وہی بتا سکتا ہے.
ناز اس وقت تھکا ہوا سونے کے لئے لیٹا ہی تھا جب اسے عشال کے شناختی کارڈ کے بارے میں یاد آیا جو وہ یہیں بھول گئ تھی.
یا پھر یوں کہا جائے کہ ناز نے اسے جان بوجھ کر واپس نہیں کیا تھا کیونکہ اسے عشال سے دوبارہ ملنے کے لئے ایک بہانے کی ضرورت تھی.
وہ زندگی کے اس حصے میں تھا جہاں آپ ہر کسی کے لئے احساسات محسوس نہیں کرتے.
ایک لمبے عرصے کے بعد وہ کسی کے بارے میں ایسے سوچ رہا تھا.
حورین کل یونیورسٹی نہیں گئی تھی لیکن آج اس کے پاس کوئی بہانا نہیں تھا.
ہمیشہ کی طرح کالےگھنے بال اس کے چہرے کو چھپائے ہوئے تھے.
وہ سر جھکا کر آہستہ آہستہ محتاط انداز سے کلاس کی طرف بڑھ رہی تھی.
یہ وقت اس کے لئے مشکل ہوتا تھا کیونکہ اسے خیال رکھنا ہوتا تھا کہ کوئی اسے چھو نا پائے.
اس کی کلاس کے لڑکے اور لڑکیاں اس کی عادات پر اسے کبھی چڑیل پاگل اور کبھی کچھ تو کبھی کچھ کہتے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *