Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Jo Nasoor Thehry by Rania Siddiqui Episode 22

اس کی انکھوں سے بہتے آنسو عشال کے چہرے پہ گرے تھے.
اور ان کے انسو اور درد ایک ہو گئے.
نازرشاہ نے بیڈ شیٹ اس کے گرد لپیٹ دی اور پھر اسے گود میں اٹھا لیا.
وہ اس کی طرف نہیں دیکھ رہی تھی.
نازرشاہ مسلسل اس سے معافی مانگ رہا تھا.
وہ اسے باہر گاڑی تک لے گیا.
تبھی ھاد اپنی گاڑی سے اترا تھا.
وہ جلد از جلد اسے ہوسپٹل لے جانا چاہتا تھا.
عشال اس کی آواز سن سکتی تھی.
وہ مسلسل اسے پکار رہا تھا.
اس کی آواز میں درد تھا.
وہ اسے پکارنا چاہتی تھی پر بول نہیں پا رہی تھی.
وہ اسے چھونا چاہتی تھی پر ہل نہیں پا رہی تھی.
وہ اسے دیکھنا چاہتی تھی.
لیکن آنکھیں ساتھ نہیں دے رہی تھیں.
اس کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری تھے.
عشال میری جان وہ اسے بار بار پکار رہا تھا.
اور وہ سکون میں تھی.
وہ موت سے پہلے اسے دیکھنا چاہتی تھی پانا چاہتی تھی.
کاش وہ اسے بتا پاتی کہ وہ اسے کتنا چاہتی تھی.
کاش وہ کہ پاتی کہ اس کا کوئی قصور نہیں تھا.
اس کے حواس ساتھ چھوڑنے لگے تھے.
اور وہ نیند کی گہرائیوں میں اتر گئی.
نازرشاہ کے لئے ہر لمحہ کرب کا لمحہ تھا.
اس کے بغیر کوئی زندگی نہیں تھی کچھ بھی نہیں.
وہ اب بھی اس کا ہاتھ تھامے بیٹھا تھا.
اس حالت میں اسے ایک مہینہ ہو چکا تھا. وہ پہلے سے بہتر تھی
پر اسے ابھی بات منزل طے کرنی تھی.
اتنے عرصے نشے میں رہنے سے اس کا بدن اس کا عادی ہو گیا تھا.
اور جب بھی اسے اس کی طلب ہوتی وہ چیخنے لگتی.
خود کو نوچنے لگتی.
ڈاکٹر پہلے پہل صرف کچھ منٹ اسے ہوش میں رکھتے اور پھر سلا دیتے.
پھر وہ وقت منٹوں سے گھنٹوں اور گھنٹوں سے دن پر آ گیا.
وہ اکثر نیند میں جھٹکے لینے لگتی تو نازرشاہ اس کا ہاتھ تھام لیتا اور باتیں کرنے لگتا جس سے وہ حالت سکون میں آ جاتی.
اس کی جسمانی حالت ذہنی کیفیت سے بہتر تھی.
ڈاکٹرز کے مطابق وہ پریگننٹ تھی لیکن نازرشاہ ابورشن نہیں کروانا چاہتا تھا.
وہ بچہ اس کی عشال کا حصہ تھا. اور اس کا بھی.
عشال کو اس سے انجان رکھا گیا تھا.
آج اسے تین دن بعد نیند کی دوائی کی ضرورت پڑی تھی.
وہ اس کی محبت میں دن بدن بہتر ہو رہی تھی.
نازرشاہ نے ھاد سے کہ کر وہاں کی سیکیورٹی سخت رکھی تھی.
اور احتشام نے عشال کی کلائی میں ٹریکنگ ڈوائس ڈال دی تھی.
وہ مزید کوئی چانس نہیں لینا چاہتا تھا.
_______
ﺣﻮﺭﯾﻦ ﺑﯿﻨﭻ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺊ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﭘﮑﮍﮮ
ﺯﺭﻟﭧ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺊ ﺗﮭﯽ.
ﻭﮦ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﻣﯿﺘﮫ ﻣﯿﮟ ﻓﯿﻞ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ
ﺗﮭﯽ.
ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﮈﺭﺍﭖ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ
ﺗﮭﺎ.
ﺍﺳﮯ ﮈﺭ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﭘﺎ ﺍﺳﮯ
ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮﺍﭼﯽ ﺁﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ.
ﺭﺑﺎﻁ ﮐﺐ ﺳﮯ ﺣﻮﺭﯾﻦ ﮐﻮ ﮈﮬﻮﻧﮉ ﺭﮨﺎ
ﺗﮭﺎ.
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮈﺭﺍﭖ ﺁﺅﭦ
ﺳﭩﻮﮈﻧﭩﺲ ﮐﯽ ﻟﺴﭧ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺎ
ﺗﮭﺎ.
ﺁﺧﺮ ﺍﺳﮯ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺑﯿﻨﭻ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺩﮐﮫ
ﮔﺌﯽ.
ﺍﺳﮯ ﺍﺩﺍﺱ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺭﺑﺎﻁ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ
ﭨﯿﺲ ﺍﭨﮭﯽ ﺗﮭﯽ.
ﻭﮦ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ.
ﺣﻮﺭﯾﻦ ﻓﻮﺭﺃ ﮨﯽ ﮐﮭﺴﮏ ﮐﺮ ﺩﻭﺭ ﮨﻮﺋﯽ
ﺗﮭﯽ.
ﻭﮦ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺭﺯﻟﭧ ﭼﮭﭙﺎﻧﮯ ﻟﮕﯽ.
ﺣﻮﺭﯾﻦ ﺍﺳﮯ ﺩﮐﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ
ﺗﮭﯽ.
ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺤﻨﺖ ﺳﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﺗﺎ ﺭﮨﺎ
ﺗﮭﺎ.
ﻟﯿﮑﻦ ﺳﻮﺍﻝ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ
ﺣﻮﺭﯾﻦ ﮐﺎ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ
ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﻏﻠﻄﯽ ﺳﮯ ﭼﮭﻮ ﻧﺎ ﻟﮯ.
ﺗﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﭘﺎﺋﯽ
ﻭﮦ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﺗﮭﯽ ﺗﺒﮭﯽ ﺑﯿﮓ
ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﯽ
ﺟﺐ ﺭﺑﺎﻁ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺭﻭﮐﺎ.
ﺭﮐﻮ ﺣﻮﺭﯾﻦ…
ﯾﺎﺭ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﺩﮐﮭﯽ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ
ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﻣﯿﮟ
ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ.
ﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻣﯿﺘﮫ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﮯ ﭘﺮ
ﺗﻢ ﮐﺘﻨﮯ ﺍﭼﮭﮯ ﺳﮑﯿﭻ ﺑﺘﺎﺗﯽ ﮨﻮ.
ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺳﮯ ﺍﺱ
ﻣﺎﯾﻮﺳﯽ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻟﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ.
ﻧﻦ…ﻧﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﻗﻖ…ﻗﺼﻮﺭ ﮨﮯ.
ﻭﮦ ﺍﺗﻨﮯ ﺩﻧﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﮯ
ﮨﻮﺋﮯ ﮨﮑﻼﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺴﮯ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ
ﺑﮩﺖ ﺩﮐﮫ ﮨﻮﺍ.
ﺍﻥ ﭼﮫ ﻣﮩﯿﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺐ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﭘﻨﭙﯽ ﺗﮭﯽ
ﺭﺑﺎﻁ ﮐﻮ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ.
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮭﮍﯼ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺳﯽ
ﻟﮍﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﮯ ﻻﺋﻖ.
ﻧﮩﯿﮟ ﺣﻮﺭﯾﻦ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﯿﮏ ﺳﮯ
ﺳﻤﺠﮭﺎ ﭘﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ.
ﺣﻮﺭﯾﻦ ﮐﭽﮫ ﺑﻮﻟﺘﯽ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺱ
ﮐﺎ ﻓﻮﻥ ﺑﺠﻨﮯ ﻟﮕﺎ.
ﮨﯽ..ﮨﯿﻠﻮ ﭘﺎﭘﺎ.
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮈﺭﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ.
ﺣﻮﺭﯾﻦ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﺠﮭﮯ
ﻣﺎﯾﻮﺱ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ.
ﻣﺮﺗﻀﯽٰ ﺻﺎﺣﺐ ﺳﯿﺪﮬﮯ ﭘﻮﺍﺋﻨﭧ ﭘﮧ ﺁﺋﮯ
ﺗﮭﮯ.
ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺎﺧﻦ ﮨﺘﮭﯿﻠﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﺒﮭﺎﻧﮯ
ﻟﮕﯽ.
ﺳﻮ..ﺳﻮﺭﯼ ﭘﺎﭘﺎ.
ﻭﮦ ﺭﻭﮨﺎﻧﺴﯽ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ.
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﭨﮑﭧ ﺑﮏ ﮐﺮﻭﺍ ﺩﯼ ﮨﮯ ﺗﻢ ﮐﻞ
ﮨﯽ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﺭﮨﯽ ﮨﻮ.
ﯾﮧ ﮐﮧ ﮐﺮ ﻓﻮﻥ ﮐﺎﭦ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ.
ﺍﺳﮯ ﻻﮨﻮﺭ ﺁﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ
ﺷﺮﻁ ﭘﮧ ﻣﻠﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﮐﻨﺎﻣﮑﺲ
ﻣﯿﮟ ﻣﺎﺳﭩﺮ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ.
ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮦ ﺳﻔﯿﺪ ﭘﮍ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ.
ﺭﺑﺎﻁ ﺍﺳﮯ ﺗﮭﺎﻣﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﭘﻨﮯ
ﺑﯿﮓ ﮐﯽ ﺳﭩﺮﯾﭗ ﮐﻮ ﻣﻀﺒﻮﻃﯽ ﺳﮯ
ﺗﮭﺎﻡ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﻟﮕﺎ.
ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ؟
ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻞ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮﺍﭼﯽ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ.
ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﮧ ﺧﻮﻑ ﻧﻤﺎﯾﺎﮞ ﺗﮭﺎ.
ﺭﺑﺎﻁ ﺳﻦ ﮐﺮ ﮨﻮﻧﭧ ﭼﺒﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ. ﻭﮦ ﺍﺱ
ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﭽﮫ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ.
ﺍﭼﮭﺎ ﮨﮯ ﻧﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮭﯽ ﮐﻞ ﮐﯽ ﻓﻼﺋﭧ
ﮨﮯ.
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﮭﻮﭦ ﺑﻮﻻ ﺗﮭﺎ.
ﮐﯿﻮﮞ
__________
وہ یونیورسٹی تو اب کچھ عرصے بند رہے گی تو سوجا میں بھی بھائی سے مل آؤں.
اس نے کھڑے کھڑے پلان مرتب کیا تھا.
حورین اس کی بات مسکرا اٹھی.
اس کی مسکراہٹ بہت خوبصورت تھی اور اس کے حسن کو مزید بڑھا دیتی تھی.
رباط کو اپنئ محبت کا تبھی احساس ہوا تھا جب اس نے اسے پہلی بار مسکراتا دیکھا تھا.
اسے ہوسپٹل سے ڈسجارج کر دیا کیا تھا.
لیکن وہ ہاں نا کے علاوہ کچھ بھی بولتی تھئ.
نازرشاہ کا دل اسے اس حالت میں دیکھ کر پھٹتا تھا.
وہ اس سے دور رہنے کے طریقے ڈھونڈتئ تھی
لیکن وہ اسے ایک لمحہ بھی اپنی نظروں سے دور نہیں ہونے دیتا تھا.
ابھی بھی وہ اسے خود کھانا کھلا رہا تھا.
زبردستئ دو تین نوالے لینے کے بعد عشال نے اس کا ہاتھ پرے ہٹا دیا.
جسے نازرشاہ نے فورأ تھام لیا.
وہ اکثر روتی تھی. رات بھر وہ اس کی سسکیاں سنتا تھا.
اسی وجہ سے وہ ابھی تک اسے یہ نہیں بتا پایا تھا کہ وہ ایکسپکٹ کر رہی ہے.
وہ اس بچے کو اپنا مانتا تھا.
لیکن اسے عشال کے لئے ڈر تھا.
کیا بات ہے عشال. ایسے تم ریکور کیسے کرو گی.
اس نے اپنی گھری آواز میں کہا.
میرا دل نہیں کرتا. وہ ہر چیز سے عاری ہوئی بیٹھی تھی.
کیا میرے لئے بھی نہیں عشال کے رخسار کو سہلاتے ہوئے ہو پوچھنے لگا.
اس کا لمس محسوس کرتے ہی وہ پھوٹ کر رونے لگی.
اتنے دنوں میں اس نے پہلی بار اسے چھوا تھا.
اور عشال کو لگتا تھا کہ وہ اسے نہیں چاہتا.
بس کرو عشال چھپ کر جاؤ. وہ وقت بیت گیا مت سوچو اس بارے میں.
نازرشاہ نے اسے اپنی بازوؤں میں بھرتے ہوئے کہا.
کک…کیسے.. نہیں سوچوں… کک…نن… نہیں.
الفاظ اس کے لبوں سے ٹوٹ کر ادا ہو رہے تھے.
نازرشاہ نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام لیا.
اور اس کی انکھوں میں دیکھنے لگا.
تم کس کی ہو عشال؟
اس کا سوال بے وقت تھا.
اور عشال اس کے جذبات اس کی آنکھوں میں دیکھ سکتی تھی.
بتاؤ تم کس کی ہو.
آ..آپ کی.
ہاں صرف میری.
تمہاری سوچ.. تمہاری روح… تمہارا دل صرف میری ملکیت ہے.
اس لئے تم صرف میرے بارے میں سوچو گی سمجھی تم.
اس نے اسے مضبوطی سے پکڑتے ہوئے کہا.
لل…لیکن آپ مجھے کیسے قبول کریں گگ…گے.
آخر اس نے اپنے ڈر کو آواز دی تھی.
تم غلط سوال کر رہئ ہو عشال.
آخر تم مجھے اپنی ماما کے قتل کے بعد کیسے قبول کرو گی.
اس کی آنکھوں شرمندگی تھی.
اور بےپناہ محبت.
__________
عشال کو اس کی بات سمجھ آ گئی تھی.
وہ اس کے لئے قصور وار نہیں تھی. بلکہ نازرشاہ تھا.
مراد نے اس کے ساتھ ایسا اس کی وجہ سے کیا تھا.
اور وہ اس لئے بےحد شرمندہ تھا.
عشال نے آنکھیں موندھ لیں اور سر اس کے سینے پہ ٹکا دیا.
ان کو ایک دوسرے کی ضرورت تھی.
کیا تم مجھے معاف کرو گی عشال.
میرے گناہوں کے لئے. میں وہ گناہ دوبارہ کبھی نہیں کروں گا.
پر مجھ سے دور مت ہونا .
اس کی آواز میں درد جھلک رہا تھا
اسے خود میں سماتا اس کے سر کو بوسہ دیتے
وہ اس سے معافی مانگ رہا تھا.
نازرشاہ…
وہ پھر سے رونے لگی تھی.
پر اس بار آنسوؤں کے ساتھ اس کے دل کا بہت بڑا بوجھ بہہ رہا تھا.
اسے یہاں کراچی آئے ایک ہفتہ ہو چلا تھا.
اور اس کے پاپا پھر سے سیاسی دوروں میں مصروف تھے.
ہمیشہ کی طرح وہ اسے نظر انداز کرتے اور اگر کبھی گھر ہوتے تو اس کی موجودگی سہنے کے لئے شراب کا سہارا لیتے.
وہ سمجھ نہیں پاتی تھی کہ اگر وہ انھیں برداشت نہیں تو کیوں بلایا واپس.
اس کی ماما بھی اپنے فلاحی کاموں میں مصروف رہتیں.
لیکن کم از کم انہیں اس کا برتھڈے تو یاد تھا.
اور اسے اس کی ماما نے ایک شاندار گاڑی دلوائی تھی.
رقیہ بیگم کو مامتا کا مطلب بھی نہیں پتا تھا.
ان کے خیال میں یہ ان کے سٹینڈرڈ کے خلاف تھا کہ وہ ٹیکسی وہ کہیں جائے.
وہ روز اپنی ماں کی تصویر دیکھ کے روتی.
رباط نے اسے اس وقت میں فل سپورٹ کیا تھا.
ان کی اکثر اس سے فون پہ بات ہوتی اور وہ اسے کہیں نا کہیں لے بھی جاتا.
وہ ایک اچھا دوست تھا.
ھاد رباط سے مل کر اس سے اس لڑکی کے بارے میں سب جاننا چاہتا تھا.
رباط نہیں چاہتا تھا کہ ھاد جیسا شخص اسے کوئی نقصان پہنچائے اور حورین میں اس کی دلچسپی خطرناک تھی.
اس لئے بہتر تھا وہ اسے مطمئن کر دے.
جب وہ اس کے آفس گیا تو وہ ٹیبل پر ٹانگیں ٹکائے سگریٹ کے کش لے رہا تھا.
اسے وہ ہمیشہ خوفزدہ کرتا تھا لیکن احتشام بھی ساتھ میں تھا.
وہ اپنے بھائی سے گلے ملا اور پھر ھاد کو اس کے بارے میں سب بتانے لگا.
تو تمہیں یقین ہے کہ عشال نے اسے کبھی نازرشاہ کے کام کے بارے میں کچھ نہیں بتایا؟
اس نے سب سننے کے بعد آخری اور پہلا سوال کیا.
ہاں مجھے یقین ہے.
ٹھیک ہے تم جا سکتے ہو.
جیسے ہی رباط وہاں سے گیا اس نے سکون کا سانس لیا.
تمہارا شک غلط نکلا.
_______
عشال… عشال اٹھو .
اٹھ جاؤ. تم بس خواب دیکھ رہی ہو.
عشال پھر سے سوتے میں رو رہی تھی
اور بار بار نازرشاہ کو پکار رہی تھی.
عشال میں یہی ہوں میری جان … وہ اس کا چہرہ تھپتھپا کر اسے ہوش میں لانے کی کوشش کر رہا تھا.
عشال..
وہ ایک دم ہوش میں آئی تھی.
ناز…نازرشاہ…
وہ اس کے گلے لگ کے رونے لگی.
آنسوؤں سے اس کا چہرہ تر تھا اور اب نازرشاہ کی شرٹ بھی تر تھی.
وہ اس کے سر پہ ہاتھ پھیرتا اسے تسلی دے رہا تھا.
کچھ نہیں ہو گا تمہیں.
میں یہیں ہوں.
لیکن وہ اس کے کندھے دبوچ کر لگاتار رو رہی تھی.
پلیز مجھے یہاں نہیں رہنا..
پلیز یہاں سے لے جاؤ مجھے پلیز.
مجھے ہر وہ ڈر رہتا ہے پلیز نازرشاہ.
ششش… ٹھیک ہے ہم یہاں نہیں رہیں گے اب خاموش .
وعدہ؟
وہ اندھیرے میں اسے نہیں دیکھ سکتی تھی لیکن پھر بھی اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا.
اس نے عشال کا کو ٹھوری سے تھام کر قریب کیا
وعدہ..
نازرشاہ ویسے بھی یہاں زیادہ دیر رہنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا.
پاکستان میں اس کے بہت دشمن تھے جو کہ کبھی نا کبھی اس تک پہنچ جاتے.
وہ پہلے سے ہی ملک چھوڑنے کے لئے ان دونوں کے کاغذات جمع کروا چکا تھا.
اب وہ چاہتا تھا کہ کام مزید تیزی سے ہو جائے.
عشال کو اور اسے نئئ زندگی شروع کرنی تھی جس کے لئے وہ نئی جگہ کا انتخاب کر چکے تھے.
ھاد کا گھر جو کہ کسی محل سے کم نہیں تھا سمندر کے قریب تھا.
وہ عشال کو کئی بار ساحل پر لے جاتا
وہاں وہ خود کو پرسکون محسوس کرتئ تھئ.
اور اسے بھی اس میں پرانی عشال دکھتی.
اسی وجہ سے انہوں نے مالدیپ میں رہائش کا فیصلہ کیا تھا.
ان کی فلائٹ عشال کے برتھڈے سے اگلے دن کی تھی.
اور وہ دونوں بےحد خوش تھے.
لیکن پھر بھی اسے لگ رہا تھا جیسے عشال اداس ہے.
کیا بات ہے تم اداس لگ رہی ہو.
اس نے عشال کے بال اس کے چہرے سے ہٹاتے ہوئے کہا.
کچھ تھی تو نہیں.
تم نے اب تک نہیں سیکھا کہ مجھ سے کوئی بات نہیں چھپا سکتی تم.
ہم دو بدن ایک جان ہیں عشال.
اس نے عشال کا ہاتھ تھام کر اپنے دل پہ رکھا.
تمہارا ہر درد میں یہاں محسوس کرتا ہوں.
ہر خوشی اور ہر غم ایک ہے.
مم… مجھے لگا تھا میں کبھی آپ کو نہیں دیکھ پاؤں گی.
اس نے نازرشاہ کی نظروں میں نظریں ملا کر کہا.
_______
مجھے افسوس تھا کہ میں دوبارہ کبھی آپ سے اپنی محبت کا اظہار نہیں کر پاؤں گی.
اگر ایسا ہے تو ہمیں اپنئ محبت کا بار بار اظہار کرنا چاہئیے.
نازرشاہ آپ صحیح کہتے ہو . میرا دل میری روح میری سوچ سب آپ پر محیط ہے.
میں جب گھر سے غصہ میں نکلی تب بھی آپ سے محبت کرتی تھی اور آج بھی کرتی ہوں.
اور ہمیشہ کروں گی.
اور تم عشال میری زندگی ہو. کیا مجھے نہیں بتاؤ گی کہ کیوں ہو اداس.
عشال اس کی بات پہ مسکرائی تھی.
اگر میرا کوئی رشتہ دار ہوتا تو میں جانے سے پہلے اس سے ملتی.
وہ جانتا تھا کہ عشال اپنے ماں باپ کو یاد کر رہی ہے.
پر اب جب ایسا نہیں ہے تو جانے سے پہلے میں حورین سے ملنا چاہتی ہوں.
بس اتنی سی بات.
وہ اس کی ہتھیلی کا بوسہ لیتے ہوئے کہنے لگا.
ہم اس سے ضرور ملیں گے.
حورین کو یقین نہیں ہو رہا تھا کہ وہ عشال سے بات کر رہی ہے.
اس نے بنا اٹکے ایک ہی سانس میں اس سے کئی سوال کئے تھے.
عشال اپی… کہاں ہیں آپ
کیسی ہیں آپ
اتنے عرصے سے کوئی رابطہ کیوں نہیں کیا.
ارے ارے… بتاتی ہوں میں ٹھیک ہوں اور نازرشاہ کے ساتھ کراچی میں ہوں.
کیا… کراچی میں ؟ میں بھی کراچی آئی ہوئی ہوں پاپا کے کہنے پر.
وہ اسے ڈراپ آؤٹ کے بارے میں نہیں بتانا چاہتی تھی.
یہ تو بہت اچھا ہے حورین… کیا تم مجھ سے مل سکتی ہو؟
عشال نے کچھ ہچکچا کر کہا.
بلکل میرا بھی آپ سے ملنے کا بہت دل ہے آپ بس جگہ بتائیں مجھے.
ایڈریس تو مجھے بھی نہیں پتا پر میں نازرشاہ سے پوچھ کر بتاؤں گی.
ٹھیک ہے میں انتظار کروں گی.
آج شام عشال اسے کسی کو لینے بھیجنے والی تھی.
اور وہ اس وقت مارکیٹ میں پہنچی تھی.
گاڑی سے اترتے ہی اسے کسی کی خود پہ نظروں کا احساس ہوا تھا
جسے اس نے جھٹک دیا.
وہ یہ اکثر محسوس کرتی تھی. اس لئے عادت ہو چکی تھی.
نہیں وہ یہاں نہیں ہو سکتا… اسے تو پتا بھی نہیں ہوگا کہ میں کراچی ہوں.
خود کو حوصلہ دیتے وہ گفٹ شاپ میں داخل ہو گئی.
اس کی نظر میں فورأ ہی وہ میوزیکل باکس آیا تھا.
انڈے کی شکل میں اسے بہت نفاست سے بنایا گیا تھا.
اس نے اسے جلدی سے خرید لیا جیسے کہیں وہ کوئی اور نا لے جائے.
شاپ میں بھی اسے کسی کی نظروں کا احساس ستا رہا تھا.
وہ واپس جانے لگی جب وہاں سے نکلتے ہی ہوا کے تیز جھونکے سے اس کے چہرے کو چھپاتے بال ہوا میں لہرائے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *