Usay Panay Ki Chah by Ana Ilyas NovelR50582 Usay Panay Ki Chah (Last Episode)
Rate this Novel
Usay Panay Ki Chah (Last Episode)
Usay Panay Ki Chah by Ana Ilyas
غازان کی نظر اس سے ہٹنے کو انکاری تھی۔ مگر اتنے سارے لوگوں کی موجودگی کا خيال بھی کرنا تھا۔
کچھ دقت سے وہ اس پر سے نظر ہٹانے ميں کامياب ہو ہی گيا۔
رخصتی کے وقت وہ جو نہ رونے کا ارادہ رکھے ہوۓ تھی۔
فريد صاحب کے گلے لگ کر خود پر قابو نہ پاسکی۔
غازان کے لئے اسے روتا ديکھنا بے حد مشکل تھا۔
لب بھينچ کر اس نے ابيشہ پر سے نگاہ ہٹائ۔
“کہيں تو بھی رونے تو نہيں لگا” رومان کو اس لمحے ميں بھی مذاق سوج رہا تھا۔
غازان کے چہرے پر بڑھنے والی سنجيدگی ديکھ کر اس نے قريب ہو کر سرگوشی کی۔
غازان نے خاموشی سے بس ايک گھوری ڈالنے پر اکتفا کيا۔
فروا نے ابيشہ فريد صاحب سے الگ کرکے باہر کی جانب قدم بڑھاۓ۔
گاڑی ميں بٹھا کر وہ خود بھی اسی گاڑی ميں ابيشہ کے ساتھ بيٹھ گئ۔
گاڑی رومان ڈرائيو کررہا تھا جبکہ اسکے ساتھ فرنٹ سيٹ پر غازان براجمان تھا۔
سکندر اور شفق دوسری گاڑی ميں آرہے تھے۔
ابيشہ کے چہرے پر چادر کی مدد سے بڑا سا گھونگھٹ نکالا گيا تھا۔
اسکی سسکياں بھی اب رک چکی تھيں۔
وہ ابھی زيادہ دور تک نہيں آۓ تھے کہ چھما چھم بارش برسنے لگی اور بارش بھی طوفانی بارش تھی۔
رومان کو اتنے اندھيرے اور تيز ہوا کے سبب ڈرائيو کرنے ميں مشکل پيش آرہی تھی۔
اس نے گاڑی کی اسپيڈ کم کردی۔
“رومان تيز چلائيں تاکہ جلدی گھر پہنچيں” فروا نے تفکر آميز لہجے ميں کہا۔
“يار اس قدر پانی ہے نظر ہی نہيں آرہا اسپيڈ بريکر يا کوئ گڑھا کہاں ہے۔ اسے لئے ميں نے گاڑی آہستہ کردی ہے” رومان نے مسئلہ بيان کيا اور در حقيقت اس قدر بارش تھی کہ سڑکيں يکايک پانی سے بھر رہی تھيں۔
گاڑی تھوڑا تھوڑا جھٹکا کھانے لگی۔
اور آخر شديد پانی پڑھنے کے سبب انجن بند ہوگيا۔
“يہ کيا ہوا ہے” غازان نے رومان کی جانب ديکھا۔
“انجن بند ہوگيا ہے بھائ” وہ دونوں ہاتھ اسٹيرنگ پر ہولے سے مار کر بولا۔
“تو چلے گا کب؟” اس نے جھنجھلا کر پوچھا۔
“بھائ نجومی تو ہوں نہيں۔ بارش بھی تيز ہے ذرا سی ہلکی ہوتی ہے تو نکل کر ديکھتا ہوں” رومان نے کندھے اچکا کر کہا۔
“بيٹا تيرا کوئ کام تاخير کے بغير کبھی نہيں ہوا۔ تو نے محبت کا يقين کرنے ميں دس سال لگاۓ۔ اور اب ديکھ لے۔۔۔۔ پھر سے تاخير۔۔۔۔” وہ برابر غازان کو تنگ کئے جارہا تھا جو يہ سوچنے ميں مگن تھا کہ يہاں سے نکلنے کی صورتحال کيسے کی جاۓ۔
رومان نے شيشہ اتار کر بارش کی تيزی کو چيک کيا۔
بارش ذرا سی ہلکی پڑ چکی تھی۔
“چل بھئ اب نکل کر ديکھتا ہوں” غازان سے مخاطب ہوتا وہ باہر نکلا۔
بونٹ اٹھا کر چيک کيا مگر ايسی خرابی ہوچکی تھی جو گاڑی کو چلانے ميں ناکام تھی۔
“يار مسئلہ زيادہ ہوگيا ہے۔ يہ تو اب آن نہيں ہوگی۔ لہذا دوسری گاڑی منگوانی پڑے گی۔ اور اسکے لئے اب تمہيں مزيد صبر سے کام لينا پڑے گا۔”رومان گھر فون کرتا ہوا بولا۔ تاکہ کوئ کزن گاڑی لے کر آۓ۔
“يار گاڑی بند ہوچکی ہے۔ تم آکر غازان، ابيشہ اور فروا کو تو لے جاؤ۔ ميں کسی کو بلوا کر چيک کرواتا ہوں” دوسری جانب فون اٹھانے کے بعد اس نے تفصيل بتائ۔
“کيا۔۔۔۔۔۔اچھا چلو ٹھيک ہے” مايوسی سے اس نے فون بند کيا۔
“کيا ہوا؟” فروا نے پوچھنے ميں پہل کی۔
“آدھے پونے گھنٹے تک کوئ لينے آۓ گا۔۔۔چل غازان تيری شادی کی خوشی ميں گانے ہی گا ليتے ہيں۔ اور تو کچھ کرنہيں سکتے” وہ شروع ہوتے بولا۔
غازان نے کوئ جواب نہيں ديا۔
موبائل نکالا اور ميسج کرکے موبائل پر ‘کريم’کی سروس آن کرکے اپنے قريب موجود کسی گاڑی کا اسٹيٹس ديکھنے لگا۔
ابيشہ کو موبائل ميں وائبريشن محسوس ہوئ۔
رومان اور فروا اپنی باتيں کرنے ميں مصروف تھے۔
“کيا آپکو مجھ پر اعتماد ہے؟” غازان کا ميسج پڑھ کر وہ الجھن کا شکار ہوئ۔
“آپ پر تو سب سے زيادہ اعتماد ہے” اس نے جوابی ميسج کيا۔
“جہاں بھی لے جاؤں جائيں گی؟” ايک اور سوال۔ کيا وہ اسکی محبت کو آزما رہا تھا۔
ايک دلکش مسکراہٹ اسکے چہرے پر بکھری۔
“اب آپ جہاں بھی لے جائيں آپ ہی کے ساتھ جانا ہے۔ پوچھنے کی ضرورت نہيں تھی” ابيشہ نے ميسج ٹائپ کرکے سينڈ کيا۔
تھوڑی دير بعد ايک اور گاڑی انکے قريب رکی۔
“تم دونوں آدھے پونے گھنٹے بعد جاتے رہنا۔ ميرا ابيشہ کو لے جارہا ہوں” غازان نے اپنی جانب کا دروازہ کھولتے ہوۓ کہا۔
فروا اور رومان تو ہکا بکا رہ گۓ۔ يہ اچانک کيا ہوا
“ارے کہاں جارہا ہے” وہ چلايا۔
“فی الحال کسی بھی ہوٹل ميں کہ اس سے زيادہ ميں يہاں ٹھہر نہيں سکتا۔” غازان کی بات پر ابيشہ کی دھڑکنيں تيز ہوئيں۔
“اور وہ سجاوٹ جو ميں نے جی جان سے تيرے کمرے کی کی ہے” رومان دہائ دينے لگا۔
غازان تب تک ابيشہ کی جانب آکر اسکی طرف کا دروازہ کھول چکا تھا۔
“اسے ہم کل سراہيں گے” ہنستے ہوۓ ابيشہ کا ہاتھ تھامتے وہ دوسری گاڑی ميں بيٹھ چکا تھا۔
“بھائ کہاں جانا ہے” گاڑی والے نے پوچھا۔
“پی سی”
_____________________
پندرہ منٹ بعد وہ دونوں پی سی کے ريسيپشن پر تھے۔
“ايک روم چاہئيے” وہ ريسيپشنسٹ سے مخاطب ہوا جو اسکے ساتھ ايک دلہن کے کپڑوں ميں ملبوس لڑکی کو ديکھ کر حيران ہوئ۔
بے شک ابيشہ کا چہرہ اب بھی گھونگھٹ کی اوٹ ميں تھا پھر بھی اسکے کپڑے اور ہاتھوں کی مہندی اور چوڑياں بتا رہے تھے کہ وہ دلہن ہے۔
ابيشہ کو اس بات کی کوئ پرواہ نہيں تھی کہ لوگ اس وقت اسے ديکھ کر کيا سوچيں گے۔
اسے پرواہ تھی تو صرف غازان کی جس نے اسکی آزمائش چاہی تھی۔
چابی ملنے کے بعد وہ خاموشی سے اس کا ہاتھ تھامے اسکے پيچھے چل رہی تھی۔
لفٹ کے ذريعے وہ دونوں تيسری منزل پر پہنچے۔
کاريڈور سے گزر کے ايک کمرے کے سامنے غازان رکا۔
چابی گھما کر اس نے دروازہ کھولا۔
اندر داخل ہوکر لائٹس آن کرنے کے بعد اس نے کوٹ اور ٹائ اتارکر سائيڈ پر رکھی۔
ابيشہ تب تک گھونگھٹ الٹ چادر بيڈ پر رکھ کر کمرے ميں موجود کھڑکی سے باہر بارش کو ديکھنے لگی۔ جس ميں پھر سے تيزی آچکی تھی۔
غازان خاموشی سے بازو سينے پر لپيٹے اسکے پيچھے جاکھڑا ہوا۔
وہ بے خبر تھی۔
“ميرے لئے يہ سب کيوں کيا؟” کچھ لمحے خاموشی کی نظر کرنے کے بعد غازان اس سے مخاطب ہوا۔
ابيشہ نے دھيرے سے مڑ کر رخ اسکی جانب کيا۔
جسکی نگاہيں اب اسے چہرے کی خوبصورتی کو خاموشی کی زبان ميں خراج بخش رہی تھيں۔
“آپ نے ايک مرتبہ کہا تھا جب اللہ نے کسی کی مدد کرنی ہوتی ہے تو وہ لوگوں کو چن کر انکی مدد پر مامور کرتا ہے۔ وہ چاہے کوئ بھی ہو اللہ نے اپنے بندے کی مدد کروانی ہی ہوتی ہے۔ تو آپکے معاملے ميں بھی اللہ نے مجھے چنا تھا۔ وہ پھر چاہے ميں ہوتی يا کوئ اور اللہ نے آپکی مدد کروانی ہی تھی” اسکے شرٹ کے بٹنز ديکھتے وہ دھيمے لہجے ميں گويا ہوئ۔
“کيا اس سب ميں محبت کہيں نہيں تھی؟” غازان کے سوال پر وہ ہولے سے مسکرائ۔
عجيب سا اضطراب تھااس سوال ميں۔
“غازان مجھے کبھی آپ سے محبت نہيں رہی” ابيشہ کے جواب پر وہ چند لمحوں کے لئے کچھ کہنے کے قابل نہيں رہا۔ اب کی بار اس نے نظر اٹھا کر غازان کے فق چہرے کو دیکھا۔
“مجھے تو آپ سے عشق تھا اور عشق کوئ تکليف، کوئ ناممکن اور وقت کے کوئ فرعون نہيں ديکھتا۔ وہ تو اپنے عاشق کے لئے بس ڈٹ جاتا ہے مر جاتا ہے” ابيشہ کا اعتراف اسکے اعصاب پر باہر ہونے والی پھوار کی طرح برسا۔
آہستگی سے ہاتھ اسکی کمر کے گرد مضبوط کرکے اپنے قريب کيا۔
“يہ ادراک کب ہوا؟” آج وہ سب اعتراف سننا چاہتا تھا۔
“جب آپ پر تہمت لگی۔ سب نے آپکو قصوروار سمجھا مگر نجانے کيوں مجھے آپ کے باکردار ہونے پر ہلکا سا بھی شبہہ نہيں ہوا۔ جس شخص نے ميرے نمبر کا کبھی غلط استعمال نہيں کيا، ميرے اس پر اندھا اعتماد کرلينے کو کبھی اپنے مفاد کے لئے استعمال نہيں کيا، جس نے مجھ سے رات کے پہر ميں فون پر کبھی کام کی بات کے علاوہ دونمبر دوستی اور جھوٹی محبت جيسی کوئ گفتگو نہيں کی، جس نے ميری تصوير فيرويل والی رات لينے کے بعد اسے سب سے چھپا کر رکھا۔ اور جو آج بھی اسکے موبائل کے وال پيپر کی زينت ہے۔ اس شخص پر ميں اعتبار کيسے نہ کرتی۔۔پھر دنيا کی کروڑوں شہادتيں بھی کوئ لے آتا ميں اس شخص کو کبھی بدکردار نہ جانتی۔ ” اسکے ماں باپ کی معافی، ہر اس بندے کی معافی جو اسے برے کردار کا جانتے تھے۔ وہ سب ايک غازان کو وہ سکون قلب نہ دے سکے جو ابيشہ کے الفاظ دے رہے تھے۔
کيسی محبت تھی اسکی سچ کہا تھا رومان نے اتنی شفاف محبت اس سے کبھی کوئ اور نہيں کرسکتا۔
“اور اگر جو ميں ان دس سالوں ميں کسی اور کا ہوجاتا؟” غازان نے اسے پھر مشکل ميں ڈالنا چاہا۔
نظريں اسکے ايک ايک نقش کو دل ميں اتار رہی تھيں۔
وہ پھر مسکرائ۔
“غازان محبت ميں جسم کی خواہش ہوتی ہے عشق تو صرف روح کا خواہشمند ہوتا ہے۔ ميں نے آپکو پانے کی کبھی چاہ نہيں کی ميں نے ہميشہ آپکی خوشی کی دعا کی ہے۔ اور وہ خوشی مجھ سے ملتی يا کسی اور سے ميرے لئے يہی بہت ہوتا کہ آپ پرسکون اور خوشيوں سے بھر پور زندگی گزار رہے ہيں۔ پتہ ہے غازان عشق ميں عاشق کی محبت کے ساتھ بھی محبت ہوجاتی ہے۔ وہ محبت پھر چاہے عاشق کے کسی بھی چاہے والی يا چاہے جانے والے سے ہو۔ آپکی بيوی کوئ بھی ہوتی مجھے اس سے بھی محبت ہوتی۔ عشق حاسد کرنا نہيں سکھاتا۔۔وہ تو بس خوشی کا خواہاں ہوتا ہے۔ يہ محبت ہے جس ميں قرب کی خواہش ہوتی ہے وصال کی خواش ہوتی ہے۔ اسی لئے يہ ہميشہ نہيں رہتی۔ اور مجھے آپ سے صرف عشق ہی کرنا تھا اور ہميشہ کرتے ہی رہنا تھا۔ يہ اللہ کی مہربانی ہے اسکا انعام ہے کہ اس نے مجھے آپکا قرب نصيب کيا۔
يہ مجھے نہ بھی ملتا ميں تب بھی خوش تھی کہ ميری روح آپکی ہے۔ ميری روح کا عشق آپکا ہے۔” غازان نے بے اختيار ہو کر اسے خود ميں بھينچا۔
اب وہ جان گيا تھا کہ دس سال بعد کون سی چيز اسے پاکستان کھينچ لائ ہے۔ يہ ابيشہ کا عشق تھا جس کا مزيد امتحان اللہ کو لينا مقصود نہيں تھا اسی لئے وہ غازان کو واپس لايا۔ اسے انکا عشق پسند آيا اور اس نے ان کا ملاپ کيا۔
غازان نے لب اسکے ماتھے پر رکھ دئيے۔
وہ اب تک يہی سمجھ رہا تھا کہ وہ ابيشہ سے بے حد محبت کرتا ہے مگر وہ واقعی مفتوح تھا اسکا عشق غازان سے جيت گيا تھا۔
“کيا کہوں” وہ واقعی بے بس تھا اس کا چہرہ ہاتھوں کے پيالے ميں لے کر بولا۔
“کچھ نہ کہيں بس ميری ايک خواہش پوری کرديں۔۔۔۔” ابيشہ نے اپنی بھنورہ آنکھيں اسکے محبت بھرے چہرے پر ٹکائيں۔
“خواہش سے ياد آيا آپکی رونمائ کا گفٹ بھی نہيں ہے۔ گھر ميں ہے اب کل ہی دے سکوں گا” کچھ ياد کرکے وہ شرمندگی سے بولا۔
“سمجھيں ميری خواہش پوری ہوگی تو يہی ميری رونمائ کا گفٹ ہے” اسکی بات پر غازان نے بھنويں سکيڑيں۔
پھر اس کا ہاتھ تھام کر اسے بيڈ پر بٹھايا۔ اس کے مقابل بيٹھ کر اسکے ہاتھ دونوں ہاتھوں ميں تھامے۔
“اب بتاؤ”
“مجھے رونمائ ميں آپکا سکون چاہئيے اور وہ تب تک نہيں آۓ گا جب تک آپ اپنی وہ تمام تکليف دہ فيلنگز مجھ سے شئير نہيں کريں گے جو اس سب معاملے کے بعد اپ نے محسوس کيں۔ غازان ميں آپکے ساتھ اپنی نئ زندگی کا آغاز تب کروں گی جب آپ ذہنی اور قلبی طور پر پرسکون ہوں گے” غازان اللہ کا جتنا شکر ادا کرتا کم تھا جس نے اتنا وفادار ساتھی اس کے نصيب ميں لکھا تھا۔
“ميں چاہتی ہوں کہ آپ اپنی وہ تکليف مجھ سے شئير کريں جو آپ نے اب تک کسی کے ساتھ شئير نہيں کی” اميد آنکھوں ميں لئے وہ غازان کو ديکھ رہی تھی۔
“سب حالات سے تو آپ واقف ہی ہو۔ ميں کيسے يہاں سے گيا اور پھر کيسے وہاں سروائيو کيا۔
بس ايک چيز ايسی تھی جس نے مجھے شديد تکليف پہنچائ اور وہ ميرے ماں باپ کی مجھ پر عدم اعتمادی تھی۔ ابيشہ ہم محبت تو بڑی آسانی سے کرليتے ہيں مگر وہ محبت ادا تب ہوتی ہے جب ہم اس رشتے پر اعتماد بھی اتنا ہی کريں۔ ہر رشتے ميں آزمائش ہے حتی کے ماں باپ کے لئے بھی۔ اولاد کو صرف محبت دے دينا کافی نہيں اسے اتنا ہی اعتماد بھی دينا زيادہ اہم ہے۔
جس ايک چيز نے مجھے پاش پاش کيا۔ ميری پوری ہستی کو تہس نہس کرديا وہ ميری ماں کی بے اعتباری تھی۔
مائيں تو ايسی اولاد کو بھی بے قصور گردانتی ہيں جوکسی کا قتل ہی کرکے آيا ہو۔ اور ميں نے تو کچھ کيا بھی نہيں تھا۔
بس يہ ايک چيز مجھے اندر تک توڑ گئ۔
يہ تکليف اب بھی کبھی کبھی ميرے اندر جاگتی ہے۔
اسی لئے ميں نے اٹل فيصلہ کيا ہے کہ ہم اپنی اولاد کو پہلے اعتماد ديں گے پھر محبت۔ کہ يہی ہر رشتے کی بنياد ہے تاکہ ان کی شخصيت کبھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہو” غازان کے چہرے سے اسکی اذيتيں ظاہر ہورہی تھيں۔
اور ابيشہ يہی چاہتی تھی کہ ايک مرتبہ وہ اندر کا غبار نکال باہر کرے۔
کيونکہ حبس کے بعد ہی خوشگوار جھونکے آتے ہيں۔ اور اب غازان کی زندگی ميں بھی خوشگوار لمحے آنے والے تھے۔
“تھينکس” وہ محبت سے اسے ايک نظر دیکھ کر بولی۔
“آپ يہاں رہيں گے يا مجھے بھی وہاں لے جائيں گے” ابيشہ نے کچھ تشويش سے پوچھا۔
“ابھی تو کہا تھا جہاں آپ لے جانا چاہيں ميں آپکے ساتھ ہوں۔ اتنی جلدی اپنی بات سے پھر بھی گئيں” غازان اب ريليکس انداز ميں کہنی کے بل نيم دراز اسے اپنی نظروں سے پگھلانے کا ارادہ کر رہا تھا۔
اسکے اس قدر انہماک نے ابيشہ کو گبھرانے پر مجبور کيا۔
“ويسے ابھی تو ہم کينيڈا جائيں گے۔ ہنی مون بھی ہوجاۓ گا اور ميں اپنا کام وائنڈ اپ کرکے ہميشہ کے لئے يہيں آجاؤں گا” اسکی بات پر ابيشہ کے چہرے پر خوشی جھلکی۔
“شکر”
“ويسے ايک بات ہے کرائم رپورٹر کيوں نہيں بنيں۔ آپ ميں گٹس تو بہت ہيں” غازان کے سوال پر اس نے خشمگيں نظروں سے اسے ديکھا۔
“ميں کرائم رپورٹر صرف آپکے لئے بنی تھيں۔ اور کسی کے معاملے ميں ميں اتنی ثابت قدمی کا مظاہرہ نہيں کرسکتی۔” آنکھيں جھکاۓ وہ سچ بولی۔
“ميں کسی اور کے لئے آپکا يہ جنون برداشت کر بھی نہيں سکتا۔ ابھی آپ سے صرف محبت ہے۔۔ عشق کے مراحل آپکی ہمراہی ميں طے کروں گا تو پھر شايد اتنا پوزيسو نہ رہوں۔ ابھی تو کسی کو آپکے پاس بھی برداشت نہيں کرسکتا” ابيشہ کے ہاتھوں پر محبت کی مہر ثبت کی۔
“ويسے رومان بيچارا اپنی سيٹنگ کے بے کار جانے پر ہميں گالياں دے رہا ہوگا” ابيشہ نے اسکا دھيان خود پر سے ہٹانا چاہا۔
“کيا آج رات ہم پوری دنيا پر تبصرہ کرنے کے لئے يہاں آۓ ہيں۔۔ نکاح نامے پر ستخط کئے تھے کہ وزير دفاع کی سيٹ کے لئے۔ جو ہر مسئلے پر روشنی ڈالی جارہی ہے۔ لگے ہاتھوں آج ہی مسئلہ کشمير بھی نہ حل کر ليں۔” اپنے جذبات کے يوں اگنور کئ جانے پر غازان جل کر بولا
“چليں يہ بھی کرليتے ہيں” وہ شرارت سے اسے ديکھ کر بولی۔
“چلو پھر بارش ختم ہوچکی ہے گھر ہی چليں۔ شايد وہاں پر موجود ہمارے کمرے کے ماحول کا آپکی طبيعت پر خاطر خواہ اثر پڑے” وہ بيڈ سے اٹھتے ہوۓ پھر سے جلے کٹے لہجے ميں بولا۔
“افوہ آپ نے کيا نکاح نامے پر سائن مجھے دلہن کے روپ ميں يہاں سے وہاں بھگانے کے لئے کئے تھے۔ لگے ہاتھوں آج ہی کسی ميراتھن ريس ميں بھی اسی لہنگے سميت حصہ نہ لے لوں” وہ کہاں غازان سے کم تھی۔ اسی کے لہجے ميں بولی۔
“ابھی بتاتا ہوں کہ نکاح نامے پر سائن ميں نے کيوں کئے تھے” اسکی جانب بڑھتے ہوۓ وہ معنی خيزی سے بولا۔
اسکی قربت ميں ابيشہ کی بولتی صحيح معنوں ميں بند ہوئ تھی۔
مگر محبت اور عشق نے اب بڑھتے چلے جانا تھا۔
