Usay Panay Ki Chah by Ana Ilyas NovelR50582 Usay Panay Ki Chah (Episode 04)
Rate this Novel
Usay Panay Ki Chah (Episode 04)
Usay Panay Ki Chah by Ana Ilyas
رات ميں وہ چھت پر چہل قدمی کرنے کے ساتھ ساتھ آج والے واقعے کو سوچ رہی تھی کہ يکدم ہاتھ ميں تھاما موبائل بج اٹھا۔ جيسے ہی آن کيا غازان کے نام کا ميسج دکھائ ديا۔ جلدی سے اوپن کيا۔
“آپ شام ميں مجھے کال کررہی تھيں۔ خيريت تھی” نہ کوئ گلہ نہ شکوہ اب بھی اسے ابيشہ کی پرواہ تھی۔
کتنا عجيب شخص تھا۔ وہ حيران ہونے کے سوا اور کچھ نہيں کرسکتی تھی۔
“جی کيا ميں ابھی بھی آپکو کال کرسکتی ہوں” کچھ سوچ کر وہ جلدی سے ٹائپ کرنے لگی۔ ميسج سينڈ کرنے کے بعد ابھی وہ اسکے جوابی ميسج کا انتظار کرہی رہی تھی کہ يکدم غازان کی کال آنے لگی۔
ابيشہ نے گہرا سانس لے کر کال پک کی۔
“اسلام عليکم” فون اٹھاتے ساتھ ہی سلام کيا۔
“وعليکم سلام کيسی ہيں آپ” وہی دھيما اور ٹھہرا ہوا لہجہ۔
“الحمداللہ ٹھيک۔ مجھے آپ سے معذرت کرنی تھی۔ مجھے شديد غلط فہمی ہوگئ تھی۔ آپ جانتے ہيں ميں کتنی۔۔۔”
“محتاط ہيں۔ اور آپ کا يہی محتاط انداز مجھے بے حد پسند ہيں۔ لڑکيوں کو ايسا ہی ہونا چاہئيے تاکہ کوئ بھی ان سے کوئ غلط بات نہ کرسکے۔ اور يہی وجہ ہے کہ ميں اپنی عادتکے بر خلاف ہر بار آپ سے بات کرتا ہوں۔آپ معذرت مت کريں۔ شايد ميرا انداز غلط تھا۔ ان فيکٹ رات ميں ہی يہ ايڈ ديکھا اور شومئ قسمت يہ اخبار ميرے ايک دوست کے والد کا ہے۔ اسے فون کيا اور آپ کا بتايا۔ اس نے کہا اگر ٹيلنٹڈ ہيں تو جلد ہی بھيج دو۔ بس ايکسائيٹڈ زيادہ ہوگيا تھا اسی لئيے يہ خيال نہيں رہا کہ اخبار کا وہ صفحہ کسی اور طريقے سے آپ تک پہنچا ديتا۔ بہرحال غلطی ميری بھی تھی۔ مجھے آپکی عادت کے خلاف جاکر آپکو مجبور نہيں کرنا چاہئيے تھا” بڑے سبھاؤ سے اس نے اپنی غلطی کا بھی اعتراف کرکے ابيشہ کو مزيد شرمندہ کيا۔
“پليز آپکی غلطی نہيں تھی مجھے تحمل سے آپکی بات پہلے سننی چاہئيے تھی۔ سب جانتے ہيں کہ اب ميں يونی کے ميگزين ميں لکھتی ہوں۔ اور آپ وہاں کے رکن ہيں تو اس حوالے سے ہم بات کرہی سکتے ہيں۔ ميں اوور ری ايکٹ کرگئ۔ بہرحال آج يہ يقين تو پختہ ہوگيا کہ آپ ايک بے حد اچھے انسان ہيں۔ کتنے خلوص سے آپ نے ميرے لئيے اس جاب کو ديکھا اور ميں نے آپکے خلوص کے ساتھ کيا کيا۔ مجھے آج بے حد شرمندگی محسوس ہورہی ہے۔ پليز ميری معذرت قبول کرليں۔ نہيں تو گلٹ رہے گا” وہ اسے کيا بتاتا کہ معاملہ خلوص سے کہيں آگے کا ہے۔
“پتہ ہے ابيشہ کبھی کبھی کچھ رشتے آپکو بہت آزمائش سے دوچار کرتے ہيں” اس کا آنچ ديتا لہجہ ابيشہ کو گنگ کرنے کے لئيے بہت تھا۔
“جی” وہ بس يہی کہہ سکی۔
“ہاں نا آپ کا اور ميرا رشتہ۔۔۔۔۔۔”اتنا کہہ کر غازان نے تھوڑا سا پوز ليا۔ مسکراہٹ دباۓ وہ جيسے موبائل کے اس پار اسے ششدر ديکھ رہا تھا اور محظوظ ہورہا تھا۔
“استاد اور شاگرد کا۔۔بھول گئيں آپ” اب کی بار اسکی شرارت ميں ڈوبی آواز سن کر ابيشہ نے اپنا رکا ہوا سانس بحال کيا۔
“آپ نے ہی تو يہ رشتہ بنايا تھا” وہ مسکراتے ہوۓ اسے پھر سے ياد کروانے لگا۔
“جی بالکل۔۔” وہ ابھی بھی اسکی پہلی بات کی معنی خیزی کے سحر ميں تھی۔
“شاگرد کبھی بھی استاد کی مخلصی کو جان نہيں سکتا وہ يہی سمجھتا ہے يہ ميرا سب سے بڑا دشمن ہے حقيقت ميں اس سے بہترين مخلص شاگرد کے لئيے کوئ اور ہو نہيں سکتا۔ کيونکہ استاد ہر قدم پر اپنے شاگرد کی بہتری کا خواہاں ہوتا ہے جس ميں اس کا اپنا کہيں کوئ فائدہ نہيں ہوتا۔”
“يہ تو ہے۔ بہرحال شکريہ مگر آپ نے دو تين مرتبہ میری کال کيوں کاٹی تھی” وہ عام سے لہجے ميں پوچھنے لگی۔
“پہلے جب يونی ميں ہی آپ نے کال کی تھی تب ميں مصروف تھا کچھ دوستوں کے ساتھ پھر جب دوپہر ميں گھر پر آيا تب مہمان آۓ ہوۓ تھے اسی لئيے تب بھی آپکی کال اٹينڈ نہيں کرسکا۔ ميں کبھی بھی آپ سے خفا نہيں ہو سکتا ابيشہ” گھمبير لہجے نے پھر سے ابيشہ کو گھبراہٹ سے دوچار کيا۔
“چليں اب آپ کل کے انٹرويو کی تياری کريں۔ باقی سب سوچوں کو اپنے ذہن سے نکال ديں۔بیسٹ آف لک” پرخلوص لہجے ميں اسے وش کرتا وہ فون بند کرگيا۔
اور وہ کتنی دير اسکی باتوں کو سوچتی رہی۔
______________________
“وہ جو ميری فرينڈ اس دن آئ تھی نا ابيشہ۔۔اف مما وہ اتنی ٹيلنٹڈ ہے۔ ہمارے يونی کے ميگزين کے لئيےآرٹیکل بھی لکھتی ہے۔ غازان کے ذريعے ہی اس نے بھيجے تھے” ندا اور اسکی مما اس وقت لاؤنج ميں بيٹھيں ٹی وی ديکھنے ميں مگن تھيں کہ يکدم ندا کچھ ياد آنے پر جوش ميں انہيں بتانے لگ گئ۔ پہلے تو وہ سرسری سا سنتی رہيں ليکن جيسے ہی غازان کا اس نے نام ليا انکے کان کھڑے ہوگۓ۔
“ہاں اور تم اسے داد و تحسين کے ٹوکرے دو۔ اسی طرح وہ غازان کو لے اڑے گی اور تم کھڑی منہ ديکھتی رہنا۔ يہ مڈل کلاس کی لڑکياں بہت تيز ہوتی ہيں۔ اميروں کا پھانسنا ان کے لئيے بہت آسان ہوتا ہے” وہ تلخی سے بوليں۔
“پليز مما اس دن بھی آپ نے اس کی اتنی انسلٹ کی تھی وہ ايسی نہيں ہے” ندا انکی بات جھٹلانے لگی۔
“تم تو ہميشہ بے وقوف ہی رہنا۔ اف ميں کيسے تمہيں سمجھاؤں۔۔کوشش کرو اسے دور رکھو غازان سے۔ ميں آج ہی شفق سے بھی يہ سب ڈسکس کرتی ہوں۔ ويسے تو وہ کسی کو منہ نہيں لگاتا اب اس لڑکی کے آرٹيکلز تک چھپوانے ميں مدد کی۔ کيا بات ہے بھئ” انہوں نے بری طرح ندا کو لتاڑا جو شرمندہ نظر آرہی تھی۔
ذکيہ نے فورا موبائل پر شفق کا نمبر ملايا۔
“ہيلو۔۔کيسی ہو شفق”
“ميں ٹھيک ہوں تم سناؤ بڑے دنوں بعد فون کيا” دوسری جانب شفق نے ہلکا سا شکوہ کيا۔
“ہاں بس مصروفيت تھی تھوڑی۔ آج بس ايک خاص بات کے لئيے فون کيا ہے۔ ذرا آج کل نظر رکھو غازان پر۔ ندا نے مجھے بتايا ہے کہ اسکی کوئ دوست بہت لٹو ہو رہی ہے غازان پر۔ ارے بھئ ہمارا لڑکا تو سيدھا سادھا ہے سنا ہے مڈل کلاس سے ہے۔ اور آرٹيکلز چھپوانے کے چکر ميں غازان کے آگے پيچھے پھر رہی ہے۔ ديکھو ميرا کام تھا تميں خبردار کرنا آگے تم بہتر جانو۔ چلو پھر بات ہوگی۔ مجھے کہيں جانا ہے۔ خداحافظ” اپنی بات ختم کرکے ذکيہ نے دوسری جانب کی بات سنے بنا فون بھی بند کرديا تھا۔ پتہ تو وہ پھينک چکی تھی اب اگلی چال کا انتظار کرنا تھا۔
“اب مزہ آۓ گا۔ ہمم ميری بيٹی کے حق پر ڈاکہ ڈالنے چلی تھی” وہ اپنی ہی دھن ميں نجانے ابيشہ کو غائبانہ کتنا کچھ برا کہہ رہی تھيں۔ جس کے فرشتے بھی اس بات سے انجان تھے کہ کوئ اسکے لئيے اس قدر شديد حسد دل ميں لئيے ہوۓ ہے۔
لوگ ايسے ہی تو ہوتے ہيں۔ حقيقت جانے بنا کسی کے راستے کھوٹے کرنے والے۔ اس پر الزام تراشی کرنے والے۔ ذکيہ اس وقت ايسے ہی لوگوں ميں سے تھيں۔
___________________
شفق تو دنگ رہ گئيں غازان کے بارے ميں يہ سب سن کر۔ وہ بيٹا جس نے اب تک کی زندگی لڑکيوں سے ايک فاصلے پر گزاری تھی وہ يوں اچانک کسی ميں انوالو ہو جاۓ گا۔ اور سب سے زيادہ وہ دکھی اس بات پر تھيں کہ غازان کے افئير کی خبر انہيں ذکيہ نے دی تھی۔ آخر غازان اگر کسی لڑکی کو پسند کرتا ہے تو اس نے انہيں کيوں نہيں بتايا۔
وہ اسکی واپسی کا انتظار کررہی تھيں۔ جو جم گيا ہوا تھا۔
پانچ بجے اسکی واپسی ہوئ۔
“ممی پليز زبردست سا جوس ريڈی کرديں” پسينے ميں شرابور وہ صوفے پر ان کے قريب بيٹھا جو آنکھوں ميں اشتعال لئیے اسے ديکھ رہی تھيں۔
“يہ ابيشہ کون ہے؟” وہ جو آنکھيں موندے سر صوفے کی پشت سے ٹکاۓ بيٹھا تھا ماں کی بات پر نہ صرف اسکی آنکھيں پوری طرح کھليں بلکہ ان ميں حيرت بھی سمٹی۔
“آپ کو اس کا کس نے بتايا” ابھی ابيشہ اتنی بھی مشہور جرنلسٹ نہيں بنی تھی کہ اسکی ماں کو ابيشہ کا پتہ ہوتا۔
“ذکيہ نے آج فون کرکے بتايا تھا کہ کوئ ابيشہ آجکل ميرے بيٹے کے آگے پيچھے پھر رہی ہے۔ پہلے تو ميں نے اس بات کو سنجيدگی سے نہيں لیا تھا مگر لگتا ہے واقعی کوئ معاملہ ہے” ان کی شک بھری نظريں اس کا دماغ گھمانے کے لئیے بہت تھيں۔
“بالکل بہت بڑا معاملہ ہے۔ انہوں نے آپکو يہ نہيں بتايا ميں تو شادی کرنے لگا ہوں اس لڑکی کے ساتھ” غصے ميں وہ چلايا نہيں تھا مگر لہجہ بہت تلخ تھا۔
“غازان” وہ تو اسکی بات سن کر دل تھام گئيں۔
“حد ہوگئ ہے ممی آپ ذکيہ آنٹی کی باتوں پر يقين کر رہی ہيں جنہيں ويسے ہی لگائ بجھائ کی عادت ہے۔ ابيشہ ندا کی ہی دوست ہے۔ اسے اپنے آرٹيکلز دينے تھے تو اس نے مجھ سے کہہ ديا۔ ميں نے صرف ايڈيٹر کو اسکے آرٹيکلز ميل کئے۔ کيا کسی لڑکی کی مدد کرنے کا مطلب يہ ہے کہ ميں اسکے ساتھ افئیر چلانے لگا ہوں۔ بات تو ميں ہزاروں لڑکيوں سے کرتا ہوں۔ بہت سوں کے کام آتا ہوں۔ اسکا مطلب ہے سب سے شادی کروں گا۔ حد ہوگئ ہے ممی۔ آپ کو مجھ پر کوئ اعتبار نہيں” وہ بری طرح جھنجھلايا۔
“اگر تم پر اعتبار نہ ہوتا تو پوچھتی نا” انہيں غازان کی باتوں سے تھوڑی تسلی ہوئ۔
“يہ پوچھ رہی ہيں کہ عدالت لگا رہی ہيں۔ اس ندا کو تو ميں بخشوں گا نہيں۔ ايک پاکباز لڑکی پر يوں الزام لگاتے ان لوگوں کو ذرا شرم نہيں آتی” غصے سے ہاتھ ميں پکڑا توليہ صوفے پر دے مارا اور اٹھ کھڑا ہوا۔
“افوہ جوس تو پی لو” وہ جو دھپ دھپ کرتا سيڑھيوں کی جانب بڑھا تھا شفق کی پکار پر بھی نہيں رکا۔
“بہت پی ليا ہے” تيز آواز ميں کہہ کر وہ تيزی سے سيڑھياں چڑھ گيا۔
____________________
رات ميں علی اسکے گھر آيا تب بھی غازان غائب دماغی سے اسکی باتيں سنتا رہا۔
“ميں کب سے تجھے اس پوائنٹ کو کلير کرنے کا کہہ رہا ہوں اور تو ہے کہ اپنی سوچوں ميں بيٹھا ہے۔ کمبائن اسٹڈی نہيں کرنی تھی تو مجھے منع کرديتا ميں نہين آتا۔” وہ برا منا چکا تھا۔
“سوری يار يہ بات نہيں ہے” وہ خفت زدہ ہوا۔
“تو پھر کيا بات ہے کيا ہوا ہے؟” بالآخر وہ بھانپ گيا کہ مسئلہ گھمبير ہے۔
غازان اسے وہ سب بتاتا چلا گيا جو وہ کسی سے شئير نہ کرنے کا عہد کئيے ہوۓ تھا۔
“بيٹا ميں نے کہا تھا نا کہ دال ميں کچھ کالا ہے” علی بے حد خوش تھا۔ اسے غازان ہميشہ سے بے حد عزيز تھا۔
“بيٹا کچھ نہيں يہاں پوری دال کالی ہے” ساتھ والے کمرے کا دروازہ کھول کر رومان اسکے کمرے ميں داخل ہوا۔ غازان اور رومان کے کمروں کے بيچ ديوار ميں ايک دروازہ بنايا گيا تھا جس سے وہ بآسانی ايک دوسرے کے کمروں ميں بے دھڑک آجاتے تھے۔ رومان نے اسی دروازے کے پار سے انکی گفتگو سن لی تھی۔
“ميں تجھے کہتا تھا نا کہ تجھے علی مجھ سے کہيں زيادہ پيارا ہے۔ آج بھی تو نے ثابت کرديا۔ اسے دل کی بات بتا دی مجھے نہيں بتائ” وہ منہ بسور کے کارپٹ پر غازان اور علی کے پاس بيٹھا وہ دونوں بھی وہيں آرام دہ حالت ميں بيٹھے کتابيں درميان ميں رکھے پڑھ رہے تھے۔
“تم ہر وقت وہاں بيٹھے ميرے کمرے کی کن سوئياں ليتے رہتے ہو” غازان نے بھنويں سکيڑ کر رومان کو ديکھا
“تو جلتا رہيں ہميشہ” علی نے اسے چھيڑا۔
جبکہ غازان سر پکڑ کر بيٹھا تھا وہ اپنا مسئلہ بيان کررہا تھا اور وہ دونوں اپنی ہی جنگ لے کر بيٹھ گۓ تھے۔
“تم دونوں نے مجھے کوئ مشورہ دينا ہے يا پھر ميں يہاں سے چلا جاؤں” غازان ذکيہ کی ساری گفتگو اور شفق کا شک بھی انہيں بتا چکا تھا۔
“بيٹا پہلی بات تو يہ کہ تو ساری زندگی گھامڑ ہی رہنا۔ ارے يار ايسی خاموش محبت تو آجکل کی لڑکياں نہيں کرتيں اور تو سولہويں صدی کی ہيروئن بنابيٹھا ہے۔ کيا يہ محبت يہيں تک رہے گی يا آگے بھی کچھ سوچا ہے” علی نے اب کی بار سنجيدگی سے پوچھا۔
“پتہ نہيں يار ابھی اتنا آگے کا سوچا نہيں کہ اسکے لئيے کوئ تگ و دو کرنی ہے ابھی تو صرف ہر ممکن طريقے سے اسکی زندگی کو سہل کرنے کی کوشش کررہا ہوں” غازان نے سچائ سے دل کی بات بتائ۔
“سب سے پہلے تو تم اس ندا کی طبيعت صاف کرو۔ زہر لگتی ہے مجھے” رومان نے چڑ کر کہا۔ غازان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئ۔
“بيٹا تيرے ابا جی اسے تيری بھابھی بنانے کے چکر ميں ہيں” علی نے اسے حقيقت بتائ۔
“غازان اگر تو نے اس سے شادی کی تو يقين کر ميں نے خودکشی کرلينی ہے” وہ غازان کو دھمکانے لگا۔
“بکواس نہيں کرو۔ ايسی فضول لڑکی سے تو ميں کبھی شادی نہ کروں۔ ڈيڈی کو پتہ نہيں اس ميں کيا گوہر جڑے نظر آتے ہيں۔ ايک نمبر کی فضول عورتيں ہيں دونوں ماں بيٹی” غازان تلملا کر بولا۔
“اور ميری مان تو ابيشہ سے اظہار کردے۔ آنٹی کو بھی اعتماد ميں لے”
“يار وہ آج مجھے اسکا طعنہ دے چکی ہيں۔ کل کو ميں جا کر کہوں ممی اسی لڑکی کے گھر رشتہ لے جائيں تو تمہارے خيال ميں وہ بڑی آسانی سے مان جائيں گی۔ نہيں يار ميں اس پر آنچ نہيں آنے دينا چاہتا۔ وہ خود اتنی محتاط رہتی ہے ميں کيسے اپنی ماں کے ہاتھوں اسکی انسلٹ کرواؤں” غازان نے اپنا خدشہ ظاہر کيا۔
“چلو ابھی ندا کو تو ٹھنڈا کرو پھر سوچتے ہيں۔ ميں تو اس لئيے کہہ رہا تھا کہ کہيں تمہاری اسی احتياط والی پاليسی کے چکر ميں وہ کسی اور کے مقدر کا ستارہ نہ بن جاۓ” علی نے حقيقت کا رخ دکھايا۔
“اور پھر وہ اگر تمہيں نہ ملی تو” رومان نے بھی سوال کيا۔
“ابھی اتنا کچھ نہيں سوچا۔ اور ویسے بھی اسکی بہن نے بتايا تھا کہ ابھی وہ اسٹيبلش ہونا چاہتی ہے۔ تو ظاہر ہے اس کے دوران وہ شادی کرنے سے تو رہی۔ خیر ابھی تو مجھے خود خبر نہيں کہ يہ سب محبت ہے یا کچھ اور۔۔۔” وہ خود ابھی کنفيوز تھا۔ ابھی تو اس سے کوئ واضح تعلق بنا ہی نہيں تھا تو وہ يکدم شادی کی بات کيسے سوچ سکتا تھا۔
“بيٹا اللہ ہی تيرے حال پر رحم کرے نہ تجھے يہ پتہ ہے نہ وہ۔۔۔۔تو بھی عجيب تيری محبت بھی عجيب” رومان اسکی باتوں پر بدمزہ ہوا۔
رومان کی بات پر وہ ہولے سے ہنسا۔ اسے کيا بتاتا کچھ محبتيں اور جذبے واقعی بہت عجيب ہوتی ہے عام سطحی محبت سے کہيں ہٹ کر۔ اور شايد وہی سچے اور دير پا ہوتے ہيں۔
_______________________
علی کے مشورے پر عمل کرتے ہوۓاس نے رات ميں ہی ندا کو فون کيا۔
رات گيارہ بجے غازان کا نمبر اپنے موبائل پر بلنک ہوتا ديکھ کر ندا کی حيرت اور خوشی کی انتہا نہ رہی۔
جلدی سے کال پک کی۔
“ہيلو”
“ہيلو خیريت رات کے اس وقت غازان سکندر نے مجھے کيسے کال کرلی” وہ اپنی طرف سے طنز کرتے ہوۓ بولی۔
“کال ميں نے يہ کہنے کے لئيے کی ہے کہ تم جو پروپيگنڈا کررہی ہو۔ بہتر ہے کہ اسے ختم کرو۔ تمہيں ذرا شرم نہيں آئی کسی کی ذات پر کيچڑ اچھالتے ہوۓ۔ ياد رکھنا جو کيچڑ آج تم دوسروں پر اچھال رہی ہو يہ نہ ہو کہ کل کو پلٹ کر تم پر بھی اسکے چھينٹے پڑيں۔ کيا سوچ کر تم نے مجھے اور ابيشہ کو اسکينڈلائز کيا ہے۔ وہ دوست ہے تمہاری اسی رشتے کا پاس کرليتيں۔
کيوں تم نے ميرے اور ابيشہ کے متعلق غلط بات ذکيہ آنٹی کو بتائ۔ انہيں سمجھا دينا کہ دوسروں کے بچوں کو بدکردار بنانے سے پہلے اپنے بيٹے کے کرتوتوں کی خبر ليں تو زيادہ بہتر ہے۔وہ اپنے ذاتی فليٹس پر جاکر کيا کچھ کرتا ہے ميں اچھی طرح واقف ہوں۔
آئندہ اگر انہوں نے ميری ممی کو ميرے متعلق کوئ غلط بات کی تو انکے بيٹے کے کرتوت بمع ثبوت ميں اس طرح کھولوں گا کہ تم لوگوں کا پورا خاندان کہيں منہ چھپانے کے قابل نہيں رہے گا۔ غازان سکندر کو اس نہج پر مت لاؤ کے اتنے سالوں کی دوستی کو مجھے دشمنی ميں بدلنا پڑے” اپنی بات کہہ کر اس نے دوسری جانب کی کوئ بھی بات سننا گوارا نہيں کی۔
ندا تو سانس روکے اسکی پھنکار سن رہی تھی کب اندازہ تھا کہ غازان اس طرح بات کرےگا۔ وہ تو نجانے خيالوں ميں کيا کيا منصوبے بناۓ ہوۓ تھی۔ يہ کيا ہوگيا تھا۔
_________________
ابيشہ کا انٹرويو بہت اچھا ہوا تھا۔ اسے پوری اميد تھی کہ اس کا سليکشن ہوجاۓگا۔ بلڈنگ سے باہر آتے ہی اس نے سب سے پہلے غازان کو ميسج کيا۔
“تھينک يو۔ مجھے اس جاب کے بارے ميں بتانے کے لئيے انٹرويو بہت اچھا ہوا ہے۔ مگر مجھے کہيں کہيں شک ہوا کہ آپ نے ميری سفارش کی ہے۔ وہ لوگ اتنے اچھے سے مجھ سے بات کررہے تھے۔ اور بالکل بھی گھمانے پھرانے والے سوال نہيں کئيے۔ وہ کيوں؟” وہ واقعی ورطہ حيرت ميں تھی کہ انٹرويو اتنا آسان بھی ہوتا ہے۔ رات ساری نجانے کيا کيا پڑھتی رہی تھی کہ شايد يہ پوچھ ليں يہ پوچھ ليں۔
مگر ويسا کچھ بھی نہيں ہوا تھا۔
غازان اس وقت جم ميں موجود تھا۔ شام کا وقت تھا وہ جانتا تھا کہ يونيورسٹی سے سيدھا ابيشہ نے انٹرويو کے لئيے جانا ہے۔ گيم کرتے بھی سارا وقت دھيان اسی ميں اٹکا ہوا تھا۔ اور ٹھيک گھنٹے بعد اس کا ميسج پڑھ کر يک گونہ سکون ملا۔
گيم روک کر ميسج پڑھا۔ انسٹرکٹر سے بريک لے کر ہال سے باہر آيا۔ ساتھ ہی فون بھی ملا چکا تھا۔
“اسلام عليکم مبارک مستقبل کی عظيم رپورٹر۔ مجھے آپ سے يہی اميد تھی ليکن سيريسلی ميں نے کوئ سفارش نہيں کی۔ کيا آپکو اپنی صلاحيتوں پر يقين نہيں” مسکراتے ہوۓ سامنے لگے آئینے ميں دیکھ خود کو رہا تھا تصور ميں وہ صبيح چہرہ تھا۔
“وعليکم سلام۔ ابھی جاب کہاں لگی ہے جب کنفرم ہوگا تب مبارک ديجئیے گا۔ مجھے واقعی اندازہ نہيں تھا کہ انٹرويو اتنے آسان بھی ہوتے ہيں ميں تو بہت گھبرائ ہوئ تھی۔ تو بس ايسے ہی شک ہوا کہ کہيں آپ نے نہ انہيں کہا ہو کہ مجھے سے مشکل سوال نہ پوچھيں” اسکی بات پر وہ قہقہہ لگاۓ بغير نہ رہ سکا۔
“جی بالکل ميں نے انہيں بتايا تھا کہ ميری ايک ڈرپوک شاگرد آرہی ہے۔ پليز اسے پريشان مت کرنا” وہ اسکی بات پر محظوظ ہورہا تھا۔ عجيب معصوميت تھی اس ميں۔
“اب آپ ميرا مذاق اڑا رہے ہيں” وہ برا منا گئ۔
“ارے بالکل بھی نہيں۔ آپ کو خود پر نہيں مگر مجھے آپ پر يقين تھا کہ آپ انہيں اپنی ذہانت سے مرعوب کر ليں گی۔ اور ان شاء اللہ اميد ہے آپ ہی اس سيٹ کی اہل ہوں گی” اس نے خلوص دل سے کہا۔
“شکريہ۔ چليں پھر بات ہوگی ميری بس آگئ ہے” کہتے ساتھ ہی اس نے فون بند کيا۔
غازان کا دل کيا اسے کہے وہيں رکو ميں لينے آجاتا ہوں۔ مگر کہہ نہ سکا۔
________________________
کچھ دن تو وہ ابيشہ سے کھچی کھچی رہی مگر پھر خود ہی ٹھيک ہوگئ۔ ابيشہ نے کبھی غازان کا ذکر تک نہيں کيا۔ اسی لئیے بھی اسے تسلی ہوئ کہ شايد اسکی ماں نے خوامخواہ کہ مفروضہ قائم کيا تھا۔
مگر اپنے شک پر يقين کی مہر ثبت کرنے کے لئیے اس نے ايسے ہی اس دن يونيورسٹی کے گراؤنڈ ميں بيٹھے ابيشہ کے سامنے غازان کا ذکر چھيڑا۔
“ہماری يونيورسٹی ميں بہت سے خوبصورت لڑکے ہيں۔ مگر جو بات غازان ميں ہے وہ کم ہی کسی ميں نظر آتی ہے۔ ہے نا ابيشہ” وہ جو نظريں جھکاۓ اخبار ميں موجود کچھ خبروں کو مارک کررہی تھی بے توجيہی سے اسکی بات پر سر ہلانے لگی۔ مگر بولی کچھ نہيں۔
“ميں تم سے کچھ کہہ رہی ہوں” اپنی بات کا يوں نظرانداز کئيے جانا ندا کو بری طرح کھلا۔
وہ اخبار پر دونوں ہاتھ رکھ کر سيدھی ہوتی ندا کی جانب پوری طرح متوجہ ہوئ۔
“تم جانتی ہو مجھے کبھی کسی لڑکے کے متعلق بات کرنے ميں دلچسپی محسوس نہيں ہوئ۔ وہ چاہے غازان ہو يا يونی کا کوئ اور حسين و جميل۔ يہ سب فضوليات اور وقت کا ضياں ہے۔ ميرے وقت اور ميری زندگی ميں ان سب فضول ٹاپکس کی کوئ گنجائش نہيں۔ يہ سب وہ لڑکياں سوچتی ہيں جنہيں يا تو يہاں پر لڑکوں سے دوستياں کرنے سے غرض ہوتا ہے۔ يا پھر انکے ماں باپ کے پاس اتنا پيسہ ہوتا ہے کہ انہيں اپنے کئرير کی فکر نہيں ہوتی۔ جبکہ ميں ان دونوں کی کيٹگری ميں نہيں آتی۔ مجھے اپنے مستقبل پر فوکس کرنا ہے جس ميں کسی لڑکے کا کوئ گزر نہيں ہوسکتا۔ ہاں ميں لڑکی اور لڑکے کے رشتے سے انکار نہيں کرتی محبت سے بھی انکاری نہيں مگر تب جب وہ خالص محرم رشتے ميں ہو۔ نہيں تو يہ خود کو دھوکہ دينے والی باتيں ہيں۔ اور ٹائم پاس ہے۔ جس کا نتيجہ گناہ اور دھوکہ دہی کے سوا کچھ نہيں۔” سہولت سے اپنا موقف اس پر واضح کرنے کے بعد وہ پھر سے اپنے سابقہ کام ميں مگن ہوگئ۔
جبکہ اسکی يہ باتيں ندا کو يک گونہ سکون دے گئيں۔ اس نے شکر کيا کہ اسکے وہم وگمان ميں بھی غازان کہيں نہيں ہے۔
