Usay Panay Ki Chah by Ana Ilyas NovelR50582 Usay Panay Ki Chah (Episode 09)
Rate this Novel
Usay Panay Ki Chah (Episode 09)
Usay Panay Ki Chah by Ana Ilyas
رات ميں جب سکندر صاحب گھر لوٹے کمرے ميں داخل ہوتے کسی کی سسکيوں کی آواز کانوں ميں پڑی۔ بيڈ کی جانب ديکھا تو شفق موجود نہيں تھيں۔ جوں ہی نگاہ دائيں جانب بک ريک کے پاس گئ جاء نماز پر بيٹھے دعا مانگتے روتے ہوۓ وہ يقيناّّ شفق کے علاوہ اور کوئ نہيں تھا۔
آج جب سے رومان انہيں ان خطوط کی حقيقت بتا کر گيا تھا تب سے وہ بھی کسی کام کو پوری توجہ سے نہيں کرپارہے تھے۔ دن کا کوئ حصہ ايسا نہيں گزرتا تھا جب انہيں غازان ياد نہيں آتا تھا۔
مگر اپنی انا کا بھرم رکھنے کی خاطر انہوں نے کبھی کسی کو يہ ظاہر نہيں ہونے ديا تھا کہ وہ اس کے جانے کے بعد کس بری طرح ٹوٹ کر بکھر چکے ہيں۔ اولاد واقعی آزمائش ہے۔ چاہے اچھی ہو چاہے بری اور اس بات کا اندازہ انہيں غازان کے جانے کے بعد ہوا تھا۔
وہ ان کا سب سے بڑا بيٹا تھا ہميشہ اسے بے حد محبت دی تھی ہاں مگر وہ اسے اعتبار نہيں دے سکے تھے۔ اپنے اردگرد موجود لوگوں ميں سے کسی کی اولاد کی غلط روش کا سن کر ہميشہ اپنے بچوں پر بھی شک رہا تھا کہ کہيں کسی موڑ پر بے راہ روی کا شکار نہ ہوجائيں۔
ماں باپ کی ذمہ داری ہر رشتہ سے کہيں زيادہ بڑی ہوتی ہے اور اتنی ہی کڑی بھی۔ کبھی کبھی لوگ اس رشتے ميں يا تو اپنی اولاد پر بے جاروک ٹوک سے اسے خود سے متنفر کرليتے ہيں يا پھر وہ اولاد انہيں چھوڑ جاتی ہے۔
انہوں نے کبھی اس پرروک ٹوک نہيں کی تھی ہاں مگر کبھی کبھی اپنی اس بے اعتباری کے سبب اسے غلط جانا تھا۔
اور اب کی بار جو انتہا انہوں نے کی تھی اس کے بعد وہ شايد غازان کی جدائ کے ہی حق دار تھے۔ بيڈ پر بيٹھے لامتناہی سوچوں نے انہيں اس بری طرح جکڑ رکھا تھا کہ انہيں پتہ ہی نہيں چلا کب شفق نے جاء نماز طے کی اور ان کے سامنے آکر بيٹھيں۔
“سکندر کھانا لاؤں” شفق کی آواز پر انہون نے چونک کر انہيں ديکھا۔ متورم آنکھيں۔ ان کی بے اعتباری نے نجانے کس کس کا نقصان کرديا۔انہيں آج اندازہ ہوا تھا۔
“نہيں بھوک نہيں” کہتے ساتھ ہی وہ اٹھ کر چينج کرنے چل دئيے۔
شفق نے دکھ سے انہيں ديکھا۔
کچھ دير بعد وہ بيڈ پرشفق کے برابر آکر ليٹے۔
“سکندر وہ کہاں ہوگا؟” ممتا سے بھرا روندا لہجہ انہيں کرب سے دوچار کرگيا۔
“جہاں ہوگا ان شاء اللہ خيريت سے ہوگا۔” سکندر کی بات پر شفق نے حيرت سے ان کی جانب ديکھا۔
اس سے پہلے بھی دو مرتبہ ان کے يہی سوال کرنے پر سکندر نے بہت بری طرح انہيں جھڑکا تھا۔ مگر آج۔
“سکندر” حيرت کی زيادتی کے باعث بس وہ يہی کہہ سکيں۔
“مجھے معاف کردو شفق ميں نے نہ صرف اپنی اولاد پر بلکہ تم پر بھی بہت ظلم کيا۔ بچوں کو ماں باپ کے اعتبار کی سب سے زيادہ ضرورت ہوتی ہے اور ہم بدقسمتی سے وہی نہ دے پاۓ۔ روپيہ پيسہ اور خالی خولی محبت سب کچھ نہيں ہوتی جب اس ميں اعتماد کے، اعتبار کے رنگ نہ ملے ہوں۔ ہر رشتے ميں اعتبار سب سے زيادہ اہم ہے۔ ورنہ ہر رشتہ کھوکھلا ہوتا ہے۔ اور يہ بات آج مجھے بہت اچھے سے سمجھ آئ ہے۔” ان کی ياسيت بھری آواز شفق کے رونے ميں اضافہ کرگئ۔ سکندر نے محبت سے انہيں خودميں سميٹ کر حوصلہ ديا۔ اور دل وہ تو لگتا تھا اب تبھی سنبھلے گا جب غازان کا پتہ چلے گا۔
____________________
“آپکے خيال ميں يہ سب کوئ بھی ٹی وی چينل چلا دے گا۔ يا پھر کوئ اخبار اس کی تشہير کرےگا۔ وہ بھی رستم کے خلاف” وہ دونوں اس وقت رومان کی گاڑی ميں تھے۔ رومان اسے علی کی اسی کزن نتاشا کے گھر چھوڑنے جارہا تھا۔ راستے ميں ابيشہ نے اسے وہ ريکارڈنگ سنائ جو اس نے زنيرہ والے معاملے کی اپنے موبائل ميں کی تھی۔ وہ ايک طرح کا زنيرہ کا رستم کے خلاف بيان تھا جسے ابيشہ نے اپنے موبائل ميں محفوظ کرليا تھا۔
نتاشا سے بات کرکے بھی وہ اس کا بيان لے کر پھر يہ دونوں ريکارڈنگز اپنے اخبار اور پھر وہاں سے ميڈيا پر چلانے کا ارادہ رکھتی تھی۔
“ميرا نہيں خيال کے وہ لوگ جو انسانيت کا دل ميں درد رکھتے ہيں وہ کبھی بھی اس کو چلانے يا ہماری مدد کرنے سے انکار کريں گے۔” اس نے وثوق سے کہا۔
“اللہ کرے ايسا ہی ہو” رومان نے صدق دل سے دعا کی۔
“آپ يہ سب کيوں کررہی ہيں؟” بہت مرتبہ کا پوچھا جانے والا سوال آج وہ پھر جان بوجھ کر دہرا رہاتھا۔
“تم جانتے ہو۔ رومان” نظريں چراتے وہ کچھ ضروری سوال اپنے نوٹ پيڈ ميں ترتيب دے رہی تھی جنہيں نتاشا سے پوچھنا تھا۔
رومان نے اس کے ہاتھ ميں تھامے پين کو اچک ليا۔
ابيشہ نے خفگی سے اسے ديکھا۔
“رومان يہ انسانيت ہے جس نے مجھے يہ سب کرنے پر مجبور کيا” سامنے ديکھتے سنجيدگی سے کہتے وہ دل ميں اٹھنے والے شور کو دبا رہی تھی۔
“صرف انسانيت” رومان نے بھنويں چڑھا کر اسکی جانب ديکھا۔
“ہاں اور ميرا پين واپس کرو۔ ميں جب کال کروں تو لينے آجانا۔ اور ہاں فضول کی باتوں کو اپنے چھوٹے سے دماغ ميں جگہ نہ ہی دو تو بہتر ہے” پين اسکے ہاتھ سے ليتی گاڑی رکنے پر نيچے اترتے ہوۓ وہ اسے چڑا کر بولی۔ بيگ مضبوطی سے تھاما گاڑی کا دروازہ بند کرکے اپنے سامنے اس محل نما گھر کو ديکھا۔
“اے اللہ مدد کرنا” دل ميں دعا کرتی کال بيل پر ہاتھ رکھا۔
تھوڑی دير بعد ايک چوکيدار برآمد ہوا
“جی کون” ابيشہ کو ديکھ کر اس نے پوچھا۔
“نتاشا گھر پر ہے۔ ميں اس کی يونيورسٹی ميں پڑھتی تھی۔ علی بھائ سے اس کا ايڈريس ليا ہے کچھ نوٹس اس سے لينے ہيں تو مہربانی کرکے آپ مجھے اس سے ملنے ديں” جو سوچ کر آئ تھی بڑے اعتماد سے وہی الفاظ بولے۔
“ميں پوچھ کر آتا ہوں” يہ جان کر شکر کيا کہ وہ گھر پر ہی موجود ہے۔
علی کا حوالہ اسی لئے ديا کہ نتاشا کو يقين ہوجاۓ کہ يونيورسٹی کی ہی کوئ لڑکی ہے۔
تھوڑی ہی دير بعد وہی چوکيدار پھر سے دروازے ميں نمودار ہوا۔
“آجائيں بی بی” اندر بلانے پر ابيشہ کا دل بليوں اچھلنے لگا۔ “ايک معرکہ تو سر ہوا۔” اس نے خوش ہوتے دل ميں سوچا۔
اس چوکيدار نے ڈرائنگ روم تک اسکی رہنمائ کی۔
“آپ اندر جاکر بيٹھيں بی بی آتی ہی ہوں گی” ابيشہ خاموشی سے ڈرائنگ روم ميں داخل ہوکر ايک صوفے پر بيٹھ گئ۔
کچھ ہی دير بعد لائٹ پنک کلر کے شلوار قيمض اور دوپٹے ميں گلے ميں اسکارف لئے نتاشا کمرے ميں داخل ہوئ۔
اس کے داخل ہوتے ہی ابيشہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئ۔
سامنے کھڑی لڑکی کو نتاشا نے اجنبيت سے دیکھا۔
خوبصورت اور کھڑے نقوش والی، سی گرين اور فيروزی ٹراؤزر شرٹ پر نفاست سے دوپٹہ لئے بالوں کا خوبصورت سا جوڑا بناۓ ميک اپ سے پاک چہرے والی ابيشہ کو وہ بالکل بھی نہيں جانتی تھی۔
“اسلام عليکم کيسی ہيں نتاشا۔ ميں ابيشہ ہوں آپکی يونيورسٹی فيلو” اس نے آگے بڑھ کر ہاتھ آگے کيا۔ اجنبيت کی ديوار بھی تو گرانی تھی نا۔
“وعليکم سلام۔پليز بيٹھيں” اس نے ہاتھ ملاتے ابيشہ کو بيٹھنے کا اشارہ کيا۔
“جی ميں آپکی کيا مدد کرسکتی ہوں” نتاشا نے سہولت سے پوچھا۔
“مجھے علی بھائ سے پتہ چلا تھا کہ آپ نے انگلش ميں ماسٹرز کيا ہے۔ ميں بھی کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں تو بس اس کے لئے اپکی مدد چاہئے آپکے پاس اگر کوئ نوٹس وغيرہ ہوں تو مہربانی کرکے اگر آپ دے ديں تو مجھے آسانی ہو جاۓ گی۔”ابيشہ نے ایسے کہا جيسے اس کے آنے کا واقعی يہی مقصد ہو۔
“نہيں ميرے پاس کوئ نوٹس نہيں ہيں۔ ميں سب جلا چکی ہوں” ابيشہ کی باتوں پر اسکے چہرے پر پھيلنے والے ساۓ سے ہی اسے ايسا لگا جيسے نتاشا يونيورسٹی کا ذکر سنتے ہی خوف کا شکار ہو رہی ہو۔
يکدم تلخ لہجے ميں اس کے الفاظ ابيشہ کو اپنی بات کرنے کے لئے بہترين موقع لگے۔
“کيوں کيا ہوا؟” ابيشہ نے جان بوجھ کر سوال داغا
“ميں آپ کو بتانا ضروری نہيں سمجھتی” اکھڑ لہجے ميں وہ ابيشہ سے مخاطب ہوئ۔
“معذرت کے ساتھ ميں آپکی کوئ مدد نہيں کرسکتی بہتر ہے کہ آپ کسی اکيڈمی سے پتہ کرليں۔ شکريہ” بے حد روڈ انداز ميں کہتے ساتھ ہی وہ جوں ہی اٹھ کر جانے لگی ابيشہ کی آواز نے اسکے قدم وہيں روک دئيۓ۔
“وہ تو ميں يقينا لے لوں گی۔ مگر آپکی ايک امانت آپکو لوٹانے آئ ہوں۔ افسوس آپ وہ نہيں جلاسکيں” ابيشہ نے کچھ جتاتی نظروں سے اسے ديکھتے اپنے بيگ سے وہی دوپٹہ اور بريسليٹ نکالا جو اس رات نجانے کس کس کی زندگی ميں کيا کيا حشر برپا کرگيا۔
نتاشا پھٹی پھٹی آنکھوں سے وہ دونوں چيزيں ديکھ رہی تھی۔
“کون ہو تم” خوف زدہ لہجے ميں پوچھے جانے سوال پر ايک مہربان مسکراہٹ ابيشہ کے چہرے پر آئ۔
” تمہاری مددگار” نتاشا مرے مرے قدمو ں سے واپس اسی جگہ آکر دھم سے صوفے پر بيٹھی۔ جيسے سب کچھ ہار آئ ہو ۔
