Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Usay Panay Ki Chah (Episode 14)

Usay Panay Ki Chah by Ana Ilyas

اگلے دن ناشتے سے فارغ ہوتے، اپنے کمرے ميں واپس آکر غازان نے سب سے پہلا کام نتاشا کو کال کرنے کا کيا۔

پچھلی رات اس نے جس مخمصے ميں گزاری تھی يہ صرف وہی جانتاتھا۔

“اسلام عليکم کيسی ہيں آپ معذرت ميں نے صبح ہی صبح آپ کو ڈسٹرب کيا” دوسری جانب فون اٹھا لئے جانے پر غازان نے گھڑی ديکھ کر کہا جو صبح کہ گيارہ بجا رہی تھی۔

“وعليکم سلام ارے نہيں اتنی صبح تو ہر گز نہيں بلکہ اب تو دوپہر کا وقت ہے” اس نے غازان کی خفت مٹانی چاہی۔

“ميں آج ہی آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔ جگہ اور وقت کا انتخاب آپ کرليں” غازان نے نہايت رسان سے اپنے کال کرنے کا مقصد بيان کيا۔

“شام چار بجے ميں آپکو ريسٹورينٹ کا ايڈريس ديتی ہوں آپ وہاں آجائيے گا” نتاشا نے سکون سے اسے وقت اور جگہ دونوں کا بتايا۔

جس شخص نے اسکی جان بچانے کے لئے اپنا سب کچھ تياگ ديا تھا اس سے اکيلے ملنے پر اسے کوئ ڈر اور خوف نہيں تھا۔ وہ جانتی تھی عزتوں کے رکھوالے کبھی بھی نقب نہيں لگاتے۔

غازان نے جگہ کے بارے ميں جاننے کے بعد فون بند کيا۔

محبت بھری نظريں اپنے موبائل کی اسکرين پر موجود ابيشہ کی تصوير پر جمائيں جو اس نے فئير ويل کی رات ليں تھيں۔

يہ تصوير اس نے دس سال سے اپنی موبائل کی اسکرين کی زينت بنا رکھی تھی۔

وہ ابيشہ کو بھولانا چاہتا بھی تو يہ تصوير غازان کو کبھی اسے بھولانے ہی نہ ديتی۔

کل رات بھی وہ ايسی ہی تھی اتنی ہی خوبصورت، اتنی ہی بے ريا جتنی دس سال پہلے تھی۔

اس رات گھر چھوڑتے وقت اس نے سوچا تھا کہ وہ سم کے ساتھ موبائل بھی يہيں چھوڑ جاۓ۔ مگر پھر اس ايک تصوير نے اسے مجبور کيا کہ وہ موبائل بھی ساتھ لے جاۓ۔ دس سال بعد بھی وہ اس موبائل کو کبھی خراب نہيں ہونے ديا تھا۔

موبائل ہاتھ ميں تھامے، کھڑکی ميں کھڑا وہ بس ابيشہ کو سوچے جارہا تھا۔

کل سے اب تک ايک لمحے کے لئے بھی وہ اسکے ذہن سے محو نہيں ہوئ تھی۔

___________________

پورے چار بجے شام ميں وہ نتاشا کے سامنے تھا۔ ايک ايک لمحہ اس سے گزارنا مشکل ہورہا تھا۔

وہ سب حقيقت جاننے کے لئے کے ليے بے حد بے چين تھا۔

ايسا کيا تھا کہ رومان نے اتنے سالوں تک اسے يہ خبر ہونے ہی نہ دی کہ وہ ابيشہ کو بے حد قريب سے جانتا ہے۔

کل رات کی انکی بے تکلفی وہ کسی طور بھلا نہيں پارہا تھا۔

آخر کيوں اس نے يہ سب غازان سے چھپايا۔

ان دونوں کو لے کر کوئ غلط خيال اسکے ذہن ميں نہيں تھا۔ اسے اپنے بھائ پر پورا بھروسہ تھا مگر پھر بھی وہ جاننا چاہتا تھا۔

“کيسی ہيں آپ” سلام دعا کے بعد وہ اخلاقاّّ نتاشا کی خيريت پوچھنے لگا۔

“ايکچولی ميں نہيں جانتا رات ميں آپ ابيشہ اور رومان کے متعلق کيا بات کر رہی تھيں۔ مجھے کسی بھی کيس کے بارے ميں کوئ انفارميشن نہيں۔

ميں يہ بھی نہيں جانتا تھا کہ اس رات جس کو ميں نے بچايا وہ آپ تھيں۔ ہاں اس واقع نے ميری زندگی کو تباہ ہ برباد کرديا مگر ميں پھر بھی مطمئن ہوں کہ کسی کی عزت بچا کر ميں کم از کم اللہ کے سامنے کسی بھی قسم کی شرمندگی سے بچ گيا۔

چار سال بعد مجھے معلوم ہوا کہ رستم کو پھانسی کی سزا سنائ گئ ہے۔ تب ميرے پيرنٹس نے اور اس ہر بندے نے مجھے کال کرکے معافی مانگی جس جس نے اس رات مجھ پر بے اعتباری کی تھی۔

مگر وہ سب کيسے ہوا ميرے بھائ اور ابيشہ نے آپ کی کس چيز کے لئے حوصلہ افزائ کی ميں کچھ نہيں جانتا۔ ميں رومان سے يہ سب اسی لئے نہيں پوچھ سکا کہ اگر مناسب ہوتا تو وہ ضرور بتاتا۔ مگر پھر بھی يہ سب جاننا چاہتا ہوں۔

شايد يہ انسانی فطرت ہے جس نے مجھے آپکو کال کرنے پر مجبور کيا کہ ميں اس سب کے بارے ميں جاننے کا خواہشمند ہوں جس کا ذکر آپ کل رات کر رہی تھيں۔ اگر مناسب سمجھيں تو مجھے بتا ديں۔ مجھے لگتا ہے کہ رستم کی پھانسی سے متعلق آپ بہت کچھ جانتی ہيں” غازان نے اپنی خواہش اور وہ سب اندازے اسے بتاۓ جنہيں وہ کل رات سے اب تک سوچ رہا تھا۔

“آپ بالکل صحيح کہہ رہے ہيں۔ ميرا اس سب سے بہت گہرا تعلق ہے۔ ان فيکٹ ميں اور ايک اور لڑکی زنيرہ جسے ابيشہ بہت اچھے سے جانتی تھی۔ ہم دونوں رستم کے ہاتھوں ذليل و رسوا ہوئ تھيں۔

ابيشہ۔۔۔۔۔” اور پھر نتاشا وہ سب غازان کو بتانا شروع ہوئ جس سے وہ بالکل انجان تھا۔

__________________

پورا سال گزر چکا تھا مگر رستم کا کہيں کچھ پتہ نہيں تھا۔

پچھلے چھ ماہ سے اس کا باپ بھی پوليس کی تحويل ميں تھا۔ بڑی مشکل سے صحيح مگر انہوں نے اسکے باپ کو اندر کروا ہی ديا تھا۔

بہت سے بڑے بڑوں کا پريشر آرہا تھا مگر نتاشا کے والد کا آرمی سے تعلق ہونے کے سبب وہ لوگ بڑی آسانی سے ابرار پر ہاتھ ڈالنے ميں کامياب ہوچکے تھے۔

کچھ دير پہلے ہی ابيشہ وکيل سے مل کر گھر آئ تھی۔ کہ اس کے موبائل پر انجان نمبر سے ميسج آيا۔

“بڑی جی دار ہو تم۔۔۔اب تو تمہيں قريب سے دیکھنے کی خواہش بڑھتی جارہی ہے۔” ابيشہ حيران سی پڑھ رہی تھی۔ کون تھا يہ شخص۔ اور اس سب بات کا کيا مقصد تھا۔

اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور سوچتی ايک اور ميسج موصول ہوا۔

“جلد ہی تم سے روبرو ہونے کا کچھ انتظام کرواتے ہيں۔” عجيب الجھے ميسجز تھے۔ کون تھا۔ کس بارے ميں بات کررہا تھا۔

ابيشہ نے کوئ بھی جواب دئيے بنا کچھ سوچ کر رومان کو فون ملايا۔

“ہيلو خيريت” ابھی تھوڑی دير پہلے ہی تو اس نے وکيل سے ہونے والی ملاقات اور گفتگو کا ايک ايک حرف رومان کو بتايا تھا کہ کچھ دير بعد پھر سے ابيشہ کی آتی کال کو ديکھ کر وہ پريشان ہوا۔

“رومان مجھے کچھ عجيب سے ميسجز آۓ ہيں” ابيشہ کی کچھ پريشان آواز رومان کو بھی پريشان کرگئ ۔

“کون ہے۔ کس نے کئے ہيں”

“يہ تو ميں نہيں جانتی کوئ انجان نمبر ہے۔ ميں ابھی تمہيں وہ ميسجز فارورڈ کرتی ہوں۔ ديکھ کر پھر مجھے کال کرنا”

“ٹھيک ہے بھيجو” رومان ابھی بھی آفس ميں ہی بيٹھا تھا۔

چند ہی سیکنڈز بعد وہ ميسجز رومان کے موبائل پر بلنک ہوۓ۔

انہيں پڑھتے کتنی ہی دير رومان خود پريشان ہوا۔

يہ ميسجز صاف دھمکی آميز تھے۔

اور يقيناّّ يہ رستم کے علاوہ اور کوئ بھی نہيں کرسکتا تھا۔

رومان نے ابيشہ کو فون کيا۔

“ہيلو۔۔۔ابيشہ تمہيں اب بہت احتياط کی ضرورت ہے” رومان کی بات پر وہ الجھ گئ۔

“کيا مطلب؟”

“مطلب يہ کہ ان ميسجز ميں واضح دھمکی دی گئ ہے۔ اور جہاں تک مجھے لگتا ہے وہ يہ کا يہ ميسجز رستم کے علاوہ اور کسی کے نہيں ہيں” رومان کی بات پر وہ چند لمحوں کے لئے خاموش رہی۔ شک تو اسکا بھی رستم کی جانب گيا تھا۔

“ميں احتياط کروں گی” ايک گہری سانس لے کر اس نے رومان کو تسلی دلائ۔

“کيا ہم اس نمبر کر پتہ نہ کروائيں۔ کيا پتہ يہی نمبر ہميں رستم تک پہنچانے کا سبب بنے” ابيشہ کی رومان کے بھی دل کو لگی۔

“ہاں تم صحيح کہہ رہی ہو۔ ميں اپنے ايک دوست کو يہ نمبر سينڈ کرکے پتہ کرواتا ہوں اور ہاں ميں ابھی تھوڑی دير بعد تمہارے گھر آرہا ہوں۔ اس کے بعد تمہاری حفاظت بہت ضروری ہے” رومان حقيقی معنوں ميں بے طرح پريشان ہوا تھا۔

“اوکے ميں انتظار کروں گی” ابيشہ نے فون بند کرديا۔

____________________

رومان نے اسی لمحے وہ نمبر اپنے ايک دوست کو بھيجا جو کہ موبائل کی کمپنی ميں ميں اعلی عہدے پر تھا۔

رومان جلدی جلدی کام سميٹ کر ابيشہ کی جانب جاننے کا ارادہ کرکے اٹھنے لگا۔

راستے ميں ہی اسکے دوست کا فون آگيا۔

“يار يہ نمبر اس وقت کسی دور دراز علاقے ميں موجود ہے۔ غالباّّ ايک فارے ہاؤس ميں ہے۔ آئ گيس وہ جو ايک بڑی مشہور پارٹی کا بندہ ہے نا ابرار اسکے فارم ہاؤس کے آس پاس ہے۔ اور صفدر نامی ايک لڑکے کے نام پر يہ سم ہے” اس نے تفصيل سے رومان کو بتايا۔

اب تو کسی شک کی گنجائش ہی نہيں تھی کہ يہ رستم کے علاوہ اور کسی کا کام نہيں۔

“تھينکس يار” رومان نے اسکا شکريہ ادا کرکے فون بند کرديا مگر تفکر کی پرچھائياں اسکے چہرے پر تھيں۔

کچھ دیر بعد ہی وہ ابيشہ کے گھر موجود تھا۔

شکر تھا کہ اس وقت فريد صاحب اور ابيشہ کے علاوہ اور کوئ گھر پر نہيں تھا۔

ابيشہ کی امی اور ورشہ کسی کے گھر گئ ہوئ تھيں۔

فريد صاحب بھی تھوڑی دير بعد کسی دوست کا فون آنے کی وجہ سے ڈرائنگ روم سے اٹھ کر جا چکے تھے۔

اب ڈرائنگ روم ميں صرف ابيشہ اور رومان تھے۔

رومان نے ابيشہ کو اس نمبر سے متعلق ساری بات بتائ۔

“اب کيا کيا جاۓ۔ نتاشا کے ابو کو کل کرکے سب بتانا چاہئے” ابيشہ نے اپنے طور پر مشورہ ديا۔

“ہاں وہ ميں ابھی گھر جاکر کرتا ہوں۔ تم اپنا فون لے کر آؤ” رومان کے کہنے پر ابيشہ تيزی سے اٹھ کر اپنے کمرے سے موبائل لے آئ۔

رومان نے ابيشہ کو ان لاکر کرنے کا کہا۔

پھر اس موبائل کا ٹريکر اپنے موبائل کے ساتھ کنيکٹ کيا۔

“يہ کيا کررہے ہو” ابيشہ اسکے ساتھ صوفے پر بيٹھی ساری کروائ ديکھ کر بولی۔

“تمہارے موبائل کا ٹريکر اپنے کے ساتھ کنيکٹ کيا ہے تاکہ يہ جہاں بھی جاۓ ميرے پاس شو ہوتا رہے۔ اس وقت تمہاری حفاظت کی بے حد ضرورت ہے۔ کيوںکہ يہ ميسجز واضح دھمکياں ہيں کہ وہ تمہيں کوئ نقصان پہنچانے کے چکروں ميں ہے۔ اور ميں اسکی ہر کوشش ناکام بنانا چاہتا ہوں۔ تم پر کوئ آنچ نہيں آنے دينا چاہتا۔” رومان نے محبت سے اسے ديکھتے ہوۓ کہا۔

اسکی دوستی اور اسکے خلوص پر تو ابيشہ کو کوئ شک تھا ہی نہيں۔

“ان شاء اللہ، کچھ نہيں ہوگا” ابيشہ نے تسلی آميز مسکراہٹ دی۔

“ان شاء اللہ” رومان کی پريشانی کم ہونے کا نام نہيں لے رہی تھی۔

تھوڑی دير بعد اس نے اجازت لی۔

____________________

رومان کا شک درست ثابت ہوا۔ اگلے دن آفس سے واپسی پر ابيشہ نے آفس سے نکل کر گھر واپس جانے کے لئے جس ٹيکسی کو روکا وہ رستم کا ہی کوئ بندہ تھا۔

ابيشہ رومان سے ہی موبائل پر ميسجز کا تبادلہ کررہی تھی۔ جو اسے بتا رہا تھا کہ نتاشا کے والد سے اسکی بات ہوگئ ہے اور آج رات ميں وہ اسی فارم ہاؤس ميں پھر سے ريڈ کريں گے۔

ابيشہ نے موبائل بيگ ميں رکھ کر جوں ہی سر اٹھا کر ديکھا ٹيکسی اجنبی راستوں پر رواں دواں تھی۔

“بھائ صاحب يہ آپ کس راستے سے جارہے ہيں؟” ابيشہ نے رستوں کو ديکھتے پوچھا۔

وہ شخص خاموش رہا۔

“آپ سے پوچھ رہی ہوں۔ آپکو اگر جگہ کا نہيں پتہ تو گاڑی روکيں ميں کوئ اور ٹيکسی لے ليتی ہوں” ابيشہ غصے سے روکھے لہجے ميں بولی۔

“جائيں گے تو تمہارے اچھے بھی۔” يکدم کہتے اس شخص نے پيچھے مڑ کر ايک انجکشن ابيشہ کے بازو ميں زور سے چبھو ڈالا۔

“کيا کررہے ہو” ابيشہ اس سب کے لئے تيار نہيں تھی اس نے مزاحمت کی مگر تب تک وہ انجکشن اسکے بازو ميں پيوست ہوچکا تھا۔

اس نے دروازہ کھولنا چاہا مگر وہ انجکشن اپنا اثر دکھا چکا تھا۔ نجانے کتنی اسٹرانگ بے ہوش کرنے والی دوائ اس ميں موجود تھی کہ چند منٹوں ميں اس نے اپنا اثر دکھا ديا تھا۔ ابيشہ کی آنکھيں بند ہونا شروع ہوگئيں اور تھوڑی ہی دير بعد اسکا سر ڈھلک کر سيٹ کی پشت سے جا لگا۔

گاڑی بڑے سکون سے ابرار کے فارم ہاؤس کی جانب روا دواں تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *